مہنگائی
•مَہنگائی•
اب تو مَہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
•مَہنگائی•
اب تو مَہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
✿ مَہنگائی کا تاریخی پس منظر
✿ اِفْراطِ زَر اورمَہنگائی کیا ہے؟
✿ مَہنگائی کی اصل وجوہات
✿ کارٹیلائزیشن کیا ہے؟ Cartelization ✿ مَہنگائی میں ہندوستان کی صورتحال
✿ نجکاری کیا ہے؟
✿ مَہنگائی اور عالمی صورتحال
✿ سیاست و معیشت باطل پرستوں کے نرغے میں
✿ اسلام کے معاشی نظام کی خصوصیات ✿ مَہنگائی کے دیوہیکل بت کا سدِّباب کیسے ہو؟
✿ مَہنگائی کا تاریخی پس منظر:
عصرِ حاضر میں معیشت و تجارت اور مالیات کے مسائل نے وہی مقام حاصل کرلیا ہے، جو ستر سال قبل سیاست اور ریاست کے مسائل کو حاصل رہا ہے۔ بیسویں صدی کے آغازسے تقریبا نصف صدی تک کا زمانہ سیاست و ریاست کے نظریات و تصورات اور مسائل کی بحث کا زمانہ رہا ہے۔ دنیا بھر میں مختلف قسم کے سیاسی تصورات، ریاست کے بارے میں مختلف نظریات اور انسانی زندگی میں ریاست کے کردار پر گفتگو زیر بحث رہیں۔ شاید اسی وجہ سے اس دور میں ابھرنے والے مسلم مفکرین کی توجہ کا خاصا بڑا حصّہ سیاست و ریاست کے مسائل کے ارد گرد مرکوز رہا۔
بیسویں صدی کے وسط سے صورت حال تبدیل ہونا شروع ہوئی اور سیاست و ریاست کی جگہ اِقْتِصادیات و مَعِیشَت (economic) نے لینا شروع کر دی۔ بیسویں صدی کے اواخر تک افکار کی دنیا میں اِقْتِصادیات و مَعِیشَت کے مسائل اہل علم کی توجہ کا مرکز رہے۔ اب گذشتہ چند عشروں سے عالمگیریت(Globalization) اور بین الاقوامی تجارت (International trade) کے مسائل کی اہمیت روز افزوں محسوس ہوتی ہے۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں بھی بین الاقوامی تجارت اور عالمی اقتصادی نظام کے مسائل بہت اہمیت کے حامل ہیں۔معاشیات کیا ہے کہ معاشیات سماجی سائنس کا ایک حصّہ ہے جو خدمات اور اچھی چیزوں کی پیداوار، تقسیم اور استعمال سے وابستہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ قوانین بنانے والے لین دین اور دولت کی منتقلی پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ یہ مضمون اس بات کا مطالعہ کرتا ہے کہ کس طرح قومیں، حکومتیں، کاروبار اور افراد اپنی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لئے مختص وسائل پر انتخاب کرتے ہیں۔
دوسری جانب ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم آج بھی معاشیات کے نصاب میں ایڈم اسمتھ(سکاٹش ماہر معاشیات اور فلسفی) کی 1776ء میں لکھی ہوئی کتاب The Wealth of Nations (دی ویلتھ آف نیشنز) کا حوالہ پیش کرتے ہیں۔ ”دی ویلتھ آف نیشنز“ نے سیاستدانوں، رہنماؤں اور مفکرین کی نسلوں کو متاثر کیا۔ ناقدوں کا کہنا یہ ہے کہ اس نے معیشت دانوں میں کنفوژن پھیلایا۔ اس نے بینک نوٹ، کریڈٹ، ڈیبٹ اور بل آف ایکسچینج وغیرہ کو زیر گردش سرمایہ کہا، اس سے عام عوام کو کوئی سرکار ہی ہوتا، یہ تو بینکوں کو عطاء شدہ حقوق ہوتے ہیں۔ ایڈم اسمتھ نے محنت و مزدوری اور مہارت کو فکسڈ کیپیٹل بتایا جب کہ یہ تجارتی دولت میں شمار ہوتے ہیں۔ فکسڈ کیپیٹل اور فلوٹننگ کے بارے میں بھی اس نے ایسی ہی غلطیاں کیں۔ یہ وہی کتاب ہے جس سے سائنسی اشتراکیت (مارکسیت) کی تحریک نے جنم لیا۔ یہودی نسل کارل مارکس کی 1867ء میں لکھی گئی کتاب داس کیپیٹل (سرمایہ) میں آپ کو اسی کتاب کی جھلک نظر آئے گی۔ آپ سونچ رہے ہوں کہ مہنگائی کا ان باتوں سے کیا تعلق۔ مگر یہ وہی بنیادی روٹ کووز ہیں موجودہ نظام معشیات کے جنہوں نے عالم انسانیت کو سرمایہ داروں کا غلام بنا کر رکھ دیا ہے۔ بظاہر ی یہ لوجیکلی بہت خوشنما اور لبھاؤنے نظریات معلوم ہوتے ہیں مگر حقیقی دنیاسے ان کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ اس مضمون میں اس باتوں کا ذکر کرنا اس لئے مناسب لگا کہ ہمارے کالج کے دور میں economics subjectمیں ہمارے استاد ہمیشہ ایڈم اسمتھ کی فلاسفی کا ذکر کرتے رہتے، نصابی کتابوں میں بھی ایڈم اسمتھ کے ہی حوالے دیے جاتے، آج اس بات کا انکشاف ہورہا ہے کہ نئی نسل کو کیوں ایڈم اسمتھ کی تھیوری پڑھائی جارہی تھی۔
مَہنگائی کی حالیہ لہر نے عوام کی زندگی مشکل سے مشکل تر بنا دی ہے۔ جب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ موجودہ معاشی نظام کام کیسے کرتا ہے تو ہمیں مَہنگائی اور اس سرمایہ دارانہ نظام کے درمیان ایک مضبوط و گہرا اور لازمی رشتہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جمہوریت نواز حکومتوں کا مطمع نظر کبھی بھی معاشی و اقتصادی (economic) استحکام نہیں رہا۔ مَہنگائی کی وجہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ سب سے بنیادی وجہ حکومت کی بدانتظامی، بیڈگورننس، کرپشن اور سودی نظام ہے۔ جس کے نتیجے میں آج مَہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مگر حکمراں طبقہ ہے کہ ڈوبتے ہوئے سفینے کو دیکھ کر بھی بندر کی پھرتیاں دکھا رہے ہیں۔ عہدِ قدیم میں تجارتی اور سودی قرضے اس بات سے ہر سلیم الفطرت شخص واقف ہے کہ سود کی بنیاد ظلم پر ہے کہ مالدار شخص غریب کی حاجت سے فائدہ اٹھاتا ہے، اور اپنے لئے مقررہ نفع کی ضمانت ہر حال میں مشروط کرلیتاہے،چاہے معاملہ کی ابتداء میں ہو یا وقت ادائیگی میں مزید مہلت دیتے وقت ہو۔
اگر حکومتوں کے نزدیک واقعی مَعاشَی اِسْتِحْکام کا معاملہ ہوتا تو وہ اسلامی نظامِ معیشت کی جانب رجوع ہوتے۔ کیونکہ قرآن مجید نے Micro Economics کے مسائل کا بھی تذکرہ کیا ہے اور Macro Economics کے مسائل کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ قرآن مجید نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایک فرد کا معاشی رویہ کیا ہونا چاہیے، معاشرے اور ریاست کی ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیں۔
(جاری)
Comments
Post a Comment