اِسْتِقْبالِ رمضانُ المُقَدَّس__جنّت کا حُصُول

••اِسْتِقْبالِ رمضانُ المُقَدَّس__جنّت کا حُصُول••
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
⊱اِسْتِقْبالِ رمضانُ المُقَدَّس _ جنّت کا حُصُول⊰
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════
      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
      شعبان کی آخری شب میں اِسْتِقْبالِ رمضان کے ضمن میں رسول کریمﷺ نے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا: "لوگو تم پر ایک ایسا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، جس کی ابتداء رحمت، جس کا وسط مغفرت اور جس کا اختتام نار جہنم سے آزادی کا ضامن ہے"۔ رحمت، مغفرت اور نیکیوں کے فروغ اور حصول سعادت کے موسم بہار یعنی رمضانُ المقدّس عنقریب ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ حقیقت میں خوش نصیب ہے وہ جسے ماہِ مقدس کی مبارک ساعتیں میسر ہوں۔ اس پر مسرت ماہِ مبارک کی عنقریب آمد پر نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

     موسلا دھار بارش کی آمد سے پہلے جس طرح ہلکی بوندوں کی پھوار پڑتی ہے اور موسم سوندھی سوندھی خوشبو سے خوشگوار ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح رمضانُ المبارک سے پہلے رجب اور شعبان میں ہی اللّٰہ کی رحمت کے خوشگوار جھونکے آنے لگتے ہیں۔ نبی کریمﷺ ماہِ شعبان بلکہ رجب سے ہی رمضان کے اِسْتِقْبال کے ساتھ اس کے برکات و حسنات حاصل کرنے کے لیے تیار ہو جاتے اور شدت سے اس کی آمد کا انتظار فرماتے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو حضور اکرمﷺ یہ دعاء مانگا کرتے تھے: "اے اللّٰہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطاء فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا دیجیے"۔ رمضان المبارک کا اِسْتِقْبال کرنے کے لیے طبیعتوں کو جس طرح آمادہ ہونا چاہیے، اس دعاء میں اس کا احاطہ نظر آتا ہے۔

     تعظیماً کِسی کو لینے کے لئے آگے بڑھنے یا کسی عزیز و اقارب مہمان کے لئے آگے بڑھ کر خوش آمدید کہنے اور قدم بڑھا کر قریب پہنچنے کے عمل کو "اِسْتِقْبال" کہتے ہیں۔ سفر حج پر نکلا ہوا عازمینِ حج اللّٰہ کے گھر کا مہمان ہوتا ہے، اس مہمان کی عبادت و ریاضت و مجاہدات ان کی سہولت و آسانی اور اِسْتِقْبال کے لئے خادمین الحرمین الشریفین اور سعودی انتظامیہ جس طرح کئی مہینوں سے تیاری کرتی ہے، ٹھیک ہمیں بھی اس ماہِ مبارک کے اِسْتِقْبال کے لئے پیش پیش ہونے کی ضرورت ہے۔

     اِسْتِقْبالِ رمضان حدیث سے ثابت ہے اور اس کی حکمت بھی سمجھ میں آتی ہے کہ رمضان المبارک کی برکات کو اپنے دامنِ ایمان و عمل میں سمیٹنے کا ایک مزاج اور ماحول پیدا ہو، کیونکہ جب دل و دماغ کی زمیں زرخیز ہوگی، قبولِ حق کے لیے اس میں نرمی اور لطافت پیدا ہوگی تو ایمان دل میں جڑ پکڑے گا‘ اعمالِ خیر کی طرف رغبت ہوگی اور شجرِ ایمان ثمرآور اور بارآور ہوگا۔

     شاید اسی لئے اِسْتِقْبال رمضانُ المبارک کے لئے کئی خطوں خصوصاً عالم عرب میں ایک اہم جز کے طور پر فانوس رمضان سے ماہِ صیام کے اِسْتِقْبال کا اپنا ہی انداز نظر آتا ہے۔ فانوس کا مطلب چراغ یا روشنی کے ہوتے ہیں، رمضان کے مہینے میں فانوس و قمقموں کے ذریعے مسلم معاشرہ، علاقوں، سڑکوں اور عبادت گاہوں کو روشن و مزین کیا جاتا ہے۔ یہاں رمضان کا اِسْتِقْبال باقی اسلامی دنیا سے مختلف ایک خاص ماحول میں کیا جاتا ہے۔ رمضان کے ایام یہاں دنیا کے دیگر ممالک سے یکسر مختلف ہیں۔ ماہِ صیام میں پورا عرب معاشرہ رمضان میں ڈھل جاتا ہے۔ آج بھی وہاں مساہراتی فانوس اٹھا کر شہر کے مختلف علاقوں کے چکر لگاتا ہے، تاکہ اگر کوئی شخص آواز سے بیدار نہیں ہوتا تو وہ روشنی سے جاگ جائے۔ "مساہراتی" (منادی کرنے والے)، مکہ المکرمہ میں مساہراتی کو "زمزمی" بھی کہتے ہیں۔

     لفظ رمضان یہ رمض یا رمضاء سے مشتق ہے، رمض کے معنی جلنے کے ہیں اور رمضاء کے معنی موسم خریف کی بارش۔ اس مہینہ میں انسان کے گناہ اور اس کی کثافتیں جل جاتی ہیں اور رحمتوں کی ایسی بارش ہوتی ہے کہ دل کا گرد و غبار دھل جاتا ہے اور دنیا و آخرت کی کھیتیاں پک جاتی ہیں۔

     ماہِ رمضانُ مبارک حقیقت میں انسانی زندگی میں تبدیلی اور انقلاب کا ایک بہترین وسیلہ ہے اور یہ مہینہ اپنے دامن میں انسان کی کردار سازی کا پورا نظام لیکر آتا ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ اس عظیم مہینہ کا اِسْتِقْبال بہترین تیاری کیساتھ کریں تاکہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں محسوس تبدیلی کو برپا کرسکیں۔

     اِسْتِقْبال ماہِ رمضان کے فلسفہ کو مومنانہ فراست اور فہم و ادراک کی نگاہوں سے دیکھا جائے تبھی ہم اس ماہ کا پرتپاک اور والہانہ اِسْتِقْبال کرسکتے ہیں۔ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا۔ مسلمانوں کے لیے یہ روحانی تجدید، مہربانی و رجوع، غریبوں کے لیے دردمندی اور متنوع معاشروں میں ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ہے۔ یہ ماہِ رمضان انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تزکیۂ نفس حاصل کرنے کا درس دیتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ نفس اور روح کی پاکیزگی کا مہینہ ہے۔

     ہم جانتے ہیں کہ روزوں کا مقصد تقویٰ کی آبیاری اور رضائے الٰہی کا حصول ہے۔ اِسْتِقْبال ماہِ رمضان کا ایک اہم طریقہ توبہ و اِستغفار ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا کہ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا صلہ جنت ہے۔

     "جو شخص بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں"۔ (الصحيح بخاری)

     اس ماہِ مبارک میں تلاوتِ قرآن پاک اور ذکر کی کثرت ہوتی ہے، دل خوف خدا سے لرزتے ہیں اور رحمت کی اُمید لے کر اللّٰہ ربّ العالمین! کی جناب میں رجوع ہوتے ہے۔ یہ مہینہ آتا ہے تو دل و روح کی دنیا میں انقلاب آجاتا ہے، نوافل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70؍ درجہ بڑھ جاتا ہے۔ اس ماہ میں ہر مسلمان مرد و زن کو تراویح کا اہتمام اور قیام اللیل و تہجد کی عادت ڈالنا چاہئے۔

     ابھی سے اپنے روزوں کی فکر کیجئے اور مذکورہ مسائل کے متعلق معلومات حاصل کریں: روزہ کس پر فرض ہے؟ سحر و افطار کے دُرُست اوقات کیا ہیں؟ روزے کی نیّت کے متعلق کیا مسائل ہیں؟ رمضان میں انفاق فی سبیل اللّٰہ کی اہمیت کیا ہے؟ ماہِ صیام میں جہاد فی سبیل اللّٰہ کی بشارتیں کیا ہیں؟ کن چیزوں سے روزہ ٹوٹتا، کن کاموں سے مکروہ ہوتا اور کن مجبوریوں کی وجہ سے روزہ چھوڑا جاسکتا ہے؟ روزے میں عبادتوں کا معمول مرتب کریں۔ ماہِ رمضان سے بھرپور استفادہ کے لئے اپنا روزانہ کا معمول ترتیب دیں۔ روزوں کے متعلق ضَروری دِینی علم حاصل کریں۔ سحری و افطار، قیام لیل کی دعائیں و اذکار مسنونہ کو یاد کرلیں۔ تصیح تلاوتِ قرآنِ مجید پر خصوصی توجہ دیں۔ قیام اللیل کا اہتمام کریں۔

     رمضان کی علمی و فکری تیاری بھی پہلے سے طئے شدہ ہونا چاہیے۔ رمضان کے جملہ مسائل سے واقفیت ہونی چاہیے۔ رمضان کے مقاصد ابھی سے ذہن نشین کرلیے جانے چاہیے۔ قرآن مجید کا ترجمے کے ساتھ ساتھ دیگر تفاسیر کی مدد سے مطالعہ لازماً کریں، رمضان اور روزے سے متعلق قرآن و حدیث کی تعلیمات و احکامات پر غور فکر کرکے رمضان کی روح کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

     ہمیں رمضان کی فضیلت میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ "تمام آسمانی کتابیں اسی ماہ میں نازل ہوئی ہیں۔ صحفِ ابراہیمؑ رمضان کی 3 تاریخ میں، تورات 6؍ تاریخ میں، انجیل 13؍ تاریخ میں، زبور 18؍ تاریخ میں اور قرآن مجید 24؍ تاریخ میں نازل ہوا"۔ (مسند احمد ابن حنبلؒ)

     لہذا ابھی سے اپنا نظام الاوقات بنائیں اور عبادات و معمولات کی پابندی شروع کردیں تاکہ رمضان المبارک کے مہینے سے بھرپور استفادہ کیا جاسکے۔

      اس ماہِ مبارک کو ہم اپنی زندگی کا آخری رمضان سمجھ کر گزاریں گے۔ پتہ نہیں پھر یہ سنہری موقعہ دوبارہ ملے نہ ملے۔ یہ رمضان ہماری زندگی کا فیصلہ کن موڑ ہوگا۔ ہم اس بات کا عزم کریں کہ اس مرتبہ ہم پورے ایک ماہ کی مشق و تربیت کے ذریعہ اپنی زندگی کو بالکل بدل ڈالیں گے۔ اس ایک ماہی تربیتی کورس کے ذریعہ ہمارے جسم اور ہمارے دل و دماغ نیکیوں کے عادی اور برائیوں سے متنفر ہوجائیں گے۔

     اس مبارک فیصلے کے بعد آپ ذہن کو رمضانُ المبارک کی تیاری کے لیے یکسو کرلیں۔ جس طرح سالانہ امتحان سے پہلے ہی آپ کے دل و دماغ پر امتحان سوار ہو جاتا ہے رمضان آپ کی توجہ اور سوچ کا محور بن جائے۔ ابھی سے طے کیجیے کہ ماہِ رمضان کی کس طرح بھر پور انداز سے برکتیں سمیٹنی ہیں۔ اس عظیم سالانہ امتحان میں کس طرح انعام کا مستحق خود کو بنانا ہے۔

     اس کی مشق بھی اگر ابھی سے شروع کر دیں تو رمضان کی راتوں کا لطف دو بالا ہو جائے گا۔ کیوں کہ بغیر مشق کے رات اٹھنا اور اٹھ کر پھر عبادت کرنا طبیعت پر بہت شاق گزرتا ہے اور اگر پہلے سے کچھ مشق اور عادت ہو جائے تو یہ مشکل کام نہایت آسان ہو جاتا ہے۔

     روزوں کو نکاح کا تِرْیاق کہنا غلط نہ ہوگا۔ آج کے پرفتن دور میں معاشرتی فتنوں و فساد اور برائیوں پر قدغن لگانے کا ایک بڑا ذریعہ روزہ بھی ہے۔ روزوں کے ذریعے ہم اپنی نفسانی خواہشات کو قابو میں کرسکتے ہیں۔

     شعبان کا چاند نظر آتے ہی صحابۂ کرامؓ تلاوتِ قراٰنِ پاک کی طرف خوب متوجّہ ہوجاتے، اپنے اَموال کی زکوٰۃ نکالتے تاکہ غُرَبا و مَساکین مسلمان ماہِ رمضان کے روزوں کے لئے تیاری کرسکیں۔

     رسول اللّٰہﷺ نہایت سخی اور فیاض تھے، سخاوت و فیاضی کا معاملہ رمضان میں کئی گنا بڑھ جاتا تھا۔ دیگر مہینوں میں انفاق کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں، مگر رمضان المبارک میں انفاق فی سبیل اللّٰہ کی بڑی فضیلت و اہمیت ہے۔ ابھی سے ہم اپنے بےجا اسرافات نما فاضل اخراجات کم کرلیں تو ان شاء اللّٰہ! رمضان میں زیادہ سے زیادہ انفاق کے مواقع فراہم ہوں گے۔ معمول کے انفاق کے علاوہ کچھ رقم بچا کر رمضان میں انفاق کے لیے خود کو تیار کرنا بھی اِسْتِقْبالِ رمضان میں شامل ہے۔

     عوامی مقامات پر جہاں روزہ داروں کو مسائل درپیش ہوتے ہیں وہاں اجتماعی افطار و سحر کے لیے "رمضان خیمہ" کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ مثلاً ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ، دواخانوں و تعلیمی اداروں کے اطراف اس طرح کے خیموں کا لازماً قیام کرنا چاہئے۔ اس کام لئے ابھی سے کوششیں جاری کردینی چاہئے۔

     حدیث کے اندر ترغیب و تشویق اور تحریص کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔ اسی حدیث میں شوق، انتظار اور اشتیاق کا اظہار نظر آیا، آپﷺ مسجد میں تشریف لائے اور تین زینوں پر چڑھتے وقت "آمین" فرمایا۔ صحابہ کرامؓ نے تین مرتبہ آمین کہنے کی وجوہات دریافت کیں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ: جبرئیل ؑامینؑ تشریف لائے تھے۔ پہلی زینے پر فرمایا "ہلاک اور برباد ہو جائے وہ شخص جو اپنے بوڑھے ماں باپ کو یا ان میں سے کسی ایک کو اپنی زندگی میں پائے اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوسکے۔ دوسری پر فرمایا ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے نبی اکرمﷺ کا اسم گرامی لیا جائے اور پھر بھی وہ آپؐ پر درود نہ بھیجے۔ تیسرے زینے پر فرمایا ہلاک ہو جائے وہ شخص جو رمضان جیسا رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہوسکے تو میں نے کہا کہ آمین۔

     انتہائی بدنصیب ہوگا وہ جسے یہ ماہِ مبارک ملے اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ رمضان المبارک سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے سے ہی اس کی تیاری کی جائے۔ حضور اکرمﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے ماہِ شعبان میں رکھا کرتے تھے، اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ شعبان کا مہینہ جو رمضان المبارک سے بالکل متصل ہے تیاری کے لئے موزوں مہینہ ہے۔

     گذشتہ رمضان کو یاد کرکے اس میں ہونے والی کمیوں اور کوتاہیوں سے بچتے ہوئے موجودہ رمضان کو زندگی کا آخری رمضان سمجھتے ہوئے اسے خوب سے خوب تر اور پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

     یہ ضروری ہے کہ ہم آنے والے رمضان کے اِسْتِقْبال کی تیاری آج ہی سے شروع کر دیں۔ رمضان کا اِسْتِقْبال اس ارادے سے کریں کہ اب فوری طور پر تمام قسم کے گناہوں اور معصیت کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ رہے ہیں اور اس ارادہ کو سچی توبہ سے مزید تقویت پہنچائیں اور آئندہ تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے بچنے کا عزم کریں اس پر ثابت قدمی کے لئے اللّٰہ سے دعاء مانگیں۔

     اللّٰہ ربّ العزت سے دعاء گو ہوں کہ یہ پُر فیض، پُربہار موسم رمضانُ المقدّس امت مسلمہ کے لئے ایک نئی حیات، ایک نیا رخ، ایک نیا حوصلہ اور ایک نیا جذبہ پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ (آمین ثم آمین یا ربّ العالمین)
           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•
                     (04.03.2023)
        🍁༻مسعود محبوب خان༺🍁
       (masood.media4040@gmail.com)
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam