•بنت حوا پر سوشل میڈیا کے اثرات•
•بنت حوا پر سوشل میڈیا کے اثرات•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
بنت حوا پر سوشل میڈیا کے اثرات
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
+919422724040
اَلَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الۡمَغۡفِرَةِؕ (سورۃ النجم : 32)
(جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں۔ الایہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد ہوجائے۔ بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے۔)
دنیا کی تمام چیزوں میں شر و خیر کا پہلو چھپا ہوتا ہے۔ اب یہ ہماری ثواب دید اور استعداد پر منحصر ہے کہ ہم کون سا پہلو اختیار کرتے ہیں۔ اگر کسی چیز کا استعمال صحیح اور جائز کاموں کے لئے کیا جائے جس سے دنیائے انسانیت فیض یاب ہوتی ہو، تو ظاہر بات ہے کہ اس کے فیوض و برکات اور ثمرات بہت فائدے مند ہوں گے۔ یہی حال سوشل میڈیا کے استعمال کا بھی ہے۔ حالانکہ سوشل میڈیا کے موضوعات پر پہلے بھی میں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ اللّٰه انہیں بھی اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے نوازے۔
سوشل میڈیا ایک ایسی ایجاد ہے جس کی افادیت و نقصانات دونوں ہیں، یہ دو دھاری تلوار ہے۔ حقیقتاً اگر دیکھا جائے تو اس کے نقصانات اس کی افادیت سے زیادہ ہیں، چاہے وہ مذہبی ہوں، جسمانی ہوں یا معاشرتی و سماجی۔ میرے خیال سے تو اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں، پھر بھی اب یہ استفادہ کرنے والوں پر منحصر ہے کہ وہ اس سے کیسے مستفیض ہوتے ہیں؟ جب کہ حالات و واقعات شاہد ہیں کہ سوشل میڈیا کا جائز استعمال کرنے والے بھی ناجائز چیزوں سے اپنی حفاظت نہیں کرپاتے۔
آج سوسائٹی کا کوئی بھی فرد والدین ہو، اولاد ہو، گھر کے بڑے بزرگ ہوں سوشل میڈیا کے اثرات سے بالاتر نہیں. خواتین صنف نازک ہیں اور مردوں کی بہ نسبت سادہ لوح، جذباتی، کسی پر بھی جلد بھروسہ کرنے والی، کہا جاتا ہے کہ ناقص العقل اور کم سمجھ بھی ہوتیں ہیں، اس لیے ان کے متاثر ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ اور اسی کے نتیجے میں خاموشی سے ان معصوم نفوس کا استحصال شدت سے ہوتا ہے۔ یہاں الزام لگانا یا کسی کو کمزور دکھانا مقصود نہیں ہے، جو چیز فطرتاً ودیعت کی گئی ہے بس اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔۔ ؏
نکل کے خلد سے ان کو ملی خلافت ارض
نکالے جانے کی تہمت ہمارے سر آئی
جدید نیٹ ورک ٹیکلنالوجی اور سوشل میڈیا جیسے آزاد پلیٹ فارمز بڑی آسانی سے مہیہ ہوجاتے ہیں۔ فی زمانہ سوشل میڈیا ایک ایسی لت بن چکا ہے، جس میں بچوں سے لے کر بوڑھوں اور عورتوں تک سب گرفتار ہیں۔ ماہرین کے نزدیک لت کی تعریف یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا عمل، جس کو کرنے سے آپ کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آپ یہ بات جاننے کے باوجود اس عادت کو ترک کرنے سے قاصر ہوں۔ سماجی رابطے کے برقی صفحات email or digital pages اور ماڈرن devices کے اسکرین ٹائم کے ذریعے آن لائن access سے مسلسل رابطہ جوڑے رکھنے اور ان تمام ذرائع کے بغیر رہ نہ پانے کو لت کا نام دیا جاتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سماجی رابطے کے تمام ذرائع کا استعمال کرنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد کے لیے ان تمام ذرائع کا استعمال ایک نشہ بن چکا ہے، چاہے وہ مرد ہو یا زن۔
مصر کے دارالافتاء نے 2014 میں ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ "نامحرم مرد و خواتین کے درمیان آن لائن چیٹنگ خلافِ اسلام ہے۔ آن لائن چیٹ رومز برائی کا منبع اور شیطان کے لیے دروازہ کھولتے ہیں، بے راہ روی کا سبب اور فتنہ ہیں اور اس سے غیر اخلاقی کردار کی راہ ہموار ہوتی ہے''۔ تاہم اس فتوے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ناگزیر صورت میں خاتون کی کسی غیرمحرم مرد سے اس طرح کی گفتگوؤں کی اجازت ہے۔
جامعہ علوم اسلامیہ (بنوری ٹاؤن) کے فتویٰ کے مطابق "سوشل میڈیا پر نامحرم لڑکے لڑکیوں اور مرد و عورت کا ایک دوسرے کو ایڈ کرنا، ایک دوسرے کی پوسٹ وغیرہ کو لائک کرنا، اسے شیئر کرنا اور ایک دوسرے سے ٹائم لائن یا وال پر گفتگو کرنا کئی مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ اسی طرح نامحرم کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ چیٹ کرتے ہوئے سمائلیز یا ایموٹیکونز کا استعمال کرنا، ایک دوسرے سے چیٹ کے دوران ہنسی مزاح، لطیفے، قہقہے، ٹھٹھا لگانا بھی ناجائز ہے۔"۔
بعض علماء اور دانشورانِ امت کے نزدیک سوشل میڈیا کا استعمال فی نفسہ ایک مباح امر ہے، بشرط یہ کہ اس میں مشغولیت کی وجہ سے کسی واجب کا ترک یا حرام و ناجائز کا ارتکاب لازم نہ آئے۔ البتہ غلط اور ناجائز امور کے لیے استعمال ناجائز اور گناہ ہے۔ نیز چونکہ اس میں ناجائز امور کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے اس لیے بلاضرورت اس کے استعمال سے بچنا ہی بہتر ہے اور خواتین کے لیے بھی حدود و قیود کے اندر رہتے ہوئے سوشل میڈیا کا استعمال ہو۔
تاہم چونکہ خواتین زیادہ تر سادہ مزاج کی ہوتی ہیں اور شاطر لوگوں کے بہکاوے میں جلدی آجاتی ہیں اس لیے خواتین بلا ضرورت محض وقت گزاری اور تفریح کی خاطر سوشل میڈیا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
البتہ بوقت ضرورت تعلیمی مقاصد یا رشتہ داروں سے رابطہ کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔ لیکن ناجائز اور فحش کاموں سے بچنا بہر حال لازم ہے۔ سوشل میڈیا جہاں اپنے آپ میں مفید ہے وہیں حد درجہ مضر و خطرناک بھی ہے۔
زندگی میں جو کام سوشل میڈیا سے باہر کرنا مرد و زن پر حرام و ناجائز ہے وہ سوشل میڈیا پر کرنا بھی حرام و ناجائز ہی ہیں۔ اور جو کام جائز ہیں وہ سوشل میڈیا پر بھی جائز ہو جاتا ہے۔ چونکہ سوشل میڈیا کی اس لہر سے بچنا آج کل کے دور میں انتہائی مشکل ہے۔ تو ایسے حالات اس فتنہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں اور اگر بہت زیادہ ضرورت ہوتو سوشل میڈیا کے منفی استعمال سے گریز، اس کے مثبت استعمال کی طرف رہنمائی اور اصلاحی امور کی انجام دہی کے لیے اس کا استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ موجودہ دور میں اصلاحی کوششوں کی شدید ضرورت ہے۔
ان سب کے باوجود بعض دفعہ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ سوشل میڈیا میں ہماری اسلام پسند بہنیں اسلام کی تبلیغ و ترویج، دعوتی و تنظیمی کاموں اور اشاعت کے لئے اکائونٹ تو بناتی ہیں، مگر بعد میں مقصد صرف تفریح و تسخیر، کٹ پیسٹ کرکے پوسٹ شیئر کرنا اور فرینڈ لسٹ میں اضافہ کرنا رہ جاتا ہے۔ بعض اوقات میں نے آدھی آدھی رات تک ہماری اسلام پسند خواتین و بہنوں کو آن لائن غیر ضروری کام کرتے دیکھا ہے۔ اس سے ہماری دعوتی خدمات پر بہت برا اثر ہوگا اور لوگوں کا irritation کے ساتھ اعتماد بھی ختم ہوگا، لہٰذا ہمیں ایک ٹھوس و مضبوط فکر کے ساتھ صرف اور صرف رضائے الہٰی کو مقدم رکھتے ہوئے، گھر کے ذمّہ داران کو اعتماد میں لے کر ان کی موجودگی میں اسلام کی خدمات کا کام انجام دینا ہوگا۔ ورنہ مسائل کو دعوت دینے کے علاؤہ کچھ بھی ہاتھ نہیں لگے گا۔
عورتوں کے لیے کسی قسم کا کوئی گروپ بنانا کئی مفاسد کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے، لہذا اس سے اجتناب کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر خواتین کے گروپ بنانے سے احتراز کیا جائے، خواتین کو مسئلہ درپیش ہو تو وہ شوہر یا محرم کے ذریعے کسی عالم سے دریافت کروالیں، اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو تو اپنے پیش آمدہ مسئلہ کا کسی معتبر دارالافتاء سے رابطہ کرکے حل دریافت کرلیا جائے۔ اپنے قرب و جوار میں کسی مستند فاضلہ و عالمہ اور دین فہم و ادراک رکھنے والی خواتین سے قرآن اور حدیث کی روشنی میں اپنے مسئلہ کو حل کروائیں۔ اسی طرح دینی احکامات ومسائل بھی معتبر ومستند عالمہ و فاضلہ یا دین کا سہی شعور و فہم رکھنے والی خواتین سے سیکھیں۔ آج کے پرفتن دور میں ہر ایک سے دین سیکھنا خطرہ سے خالی نہیں ہوگا، اس لیے دین کے علم کے معاملے میں نہایت احتیاط ضروری ہے۔
سوشل میڈیا نے جہاں مردوں کو اپنا گرویدہ بنایا ہے وہیں خواتین بھی اس سے پوری طرح مستفید ہو رہی ہیں، ایک وقت تھا جب صرف مرد حضرات انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال کرتے نظر آتے تھے، مگر آج یہ صورتحال ہے کہ خواتین بھی اس دوڑ میں پوری طرح شامل ہو چکی ہیں۔ موجودہ دور میں یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ خواتین اپنا 68/فیصد وقت سوشل میڈیا پر زیادہ گزار رہی ہیں۔ جبکہ مردوں میں یہ تناسب 32/فیصد ہے۔ الغرض سوشل میڈیا سراسر دجالی نظام کی پھیلائی ہوئی وبا ء ہے اور آج کے دور میں ہر کوئی اس کی لپیٹ میں آرہا ہے۔ سوشل میڈیا کے فتنے نے عورتوں کو گھروں کے حفاظتی نظام سے نکال کر بے پردگی کے گہرے و تاریک کنویں میں پھینک دیا ہے۔ ؏
ان کو بھی ترے عشق نے بے پردہ پھرایا
جو پردہ نشیں عورتیں رسوا نہ ہوئیں تھیں
صورتحال یہ ہے کہ آج 80٪ فیصد گھروں کے ٹوٹنے میں سب سے اہم کردار اس سوشل میڈیا کا ہے جس نے میاں بیوی کے درمیان دوریاں پیدا کردی ہیں اور جس کی وجہ سے خاندان کے خاندان تباہ ہو رہے ہیں اور خانگی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے بچے متاثر ہو رہے ہیں۔ مرد و زن کی ہنستی مسکراتی زندگی میں ذہنی تناﺅ بڑھ رہا ہے۔
حالات و تجربات شاہد ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے امت کی بیٹیوں اور لڑکیوں میں بے شرمی، بے باکی، بے حجابی، بے حیائی، فحاشی و عریانیت وجود میں آرہی ہے اور غیرت و حمیت شرم و حیا کا جنازہ نکلتا جارہا ہے، یہاں تک دیکھنے میں آرہا ہے کہ ہمارے اپنے معاشرے میں تربیت حاصل کرنے والی ہماری نئی نسل کی بیٹیاں اپنے والدین کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔ جس کا ایک بڑا ذریعہ آن لائن پلیٹ فارمس ہیں۔ مسلمانوں کی بڑی بڑی بستیاں اپنی عفت و عصمت کو محفوظ نہیں پارہی ہیں۔
مسلم لڑکیوں کا سوشل میڈیا کے ذریعے غیرمسلم لڑکوں کے ساتھ عشق و محبت میں مبتلا ہوکر اپنے حُسن و عشق کی نمائش کرنا، ان کے ساتھ راہ فرار اختیار کرکے اپنی زندگی کو تباہ و برباد کرکے فتنہ ارتداد کا شکار ہونا، ان ساری فتنہ انگیزیوں کے پیچھے جو آلہ کار ہے وہ بھی سوشل میڈیا ہی ہے۔
خواتین کے خلاف آن لائن "تشدد و استحصال" فیس بک پر سب سے عام ہے- ایک حالیہ تحقیق میں دنیا کے 20 سے زیادہ ممالک میں لڑکیوں اور خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے آن لائن تشدد کے چونکانے والے اکاؤنٹس کا انکشاف ہوا ہے جس میں واضح رپورٹنگ ، فحش نگاری ، سائبر ہراساں کرنا اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی دیگر اقسام شامل ہیں۔ خواتین کو اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کبھی نہ کبھی گالم گلوچ، نازیبا الفاظ اور ٹرولنگ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
فیس بک جیسے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر خود پسندی اور ریاکاری کا شکار انسان پانچ ہزار دوستوں کی لسٹ میں بھی تنہائی کا شکار ہی رہتا ہے اور اس تنہائی کا احساس مردوں سے زیادہ خواتین شدت سے محسوس کرتی ہیں۔ سروے بتا رہے ہیں کہ فیس بُک کے ذریعے دوستی اور جنسی تشدد کا تناسب دُنیا میں 39 ٪ ،انسٹاگرام23 ٪، واٹس ایپ 14 ٪، اسنیپ چیٹ 10 ٪ ، ٹویٹویٹر 9 ٪ - واٹس ایپ ، فیس بک، ٹیلی گرام، ٹوئیٹر اور انسٹاگرام وغیرہ وغیرہ کے جیسے دیگر ٹولز، انسانی مواصلات کے لئے غیر معمولی چیزیں بن گئیں ہیں، ان کو مثبت مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن ساتھ ہی وہ سنگین خطرات کا اصل ذریعہ ہیں جو بعد میں دوسری خطرناک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق %34 خواتین مردوں کے ہاتھوں آن لائن ہراساں ہورہی ہیں۔ خواتین کی ویب اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق جملہ 150ملین انٹرنیٹ کے ذریعے سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں میں 60 ملین خواتین ہیں۔
سوشل میڈیا کی وجہ سے خواتین خاص کر نوجوان لڑکیوں میں خُودکُشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ لڑکیاں ڈپریشن کا شکار زیادہ ہورہی ہیں اس کے پیچھے بہت بڑی وجہ سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ کا بے جا اور غلط استعمال ہے۔ ویسے بھی ڈپریشن کا ratio اگر دیکھیں، تو آج دنیا کی 3/1 خواتین اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلہ میں ڈپریشن کا شکار ہوتی ہیں۔ ڈپریشن مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
ڈپریشن کی وجوہات میں ایک وجہ انٹرنیٹ بھی ہے۔ تیرہ سے انیس سال کی کمسن لڑکیاں سوشل میڈیا کے بے انتہا اور غیر ضروری استعمال کے باعث اپنے لیے مسائل کھڑے کر لیتی ہیں اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا ایک اور طرح سے بھی خواتین میں ڈپریشن اور خُودکُشی کے اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ اکثر خواتین سوشل میڈیا کے بے جا استعمال کی وجہ سے دوسری خواتین کی زندگی سے متاثر ہو جاتی ہیں اور بڑھتی خواہشات، اور کم آمدنی کے باعث انہیں نتیجتاً ڈپریشن سے گزرنا پڑتا ہے۔ خواتین میں ڈپریشن کے پھیلاؤ کے کئی عناصر ہیں۔ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کے نام سے سوشل میڈیا کے آنے کے باعث خواتین میں بھی سماجی میل جول کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔
ماہرینِ ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق جب کوئی شخص سوشل نیٹ ورکنگ کر رہا ہوتا ہے تو اس دوران اس کے دماغ کا ایک مخصوص حصہ nucleus accumbens متحرک ہوجاتا ہے۔ یہ دماغ کا وہ حصہ ہے جو کہ کوئی نشہ (جیسا کہ نشہ آور اشیاء، کوکین وغیرہ کا استعمال) کرتے ہوئے متحرک ہوتا ہے۔ لہذا سوشل میڈیا بھی ایک ایسا نشہ ہے، جو کہ اپنے صارفین کو اس طرح سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے کہ صارفین اس ذریعہ کو استعمال کرنے کے بجائے خود استعمال ہو جاتا ہے۔ یہ لت ہماری بھی خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کو کھا رہی ہیں اور انہیں خیالی دنیا کا مسافر بنا رہی ہیں۔
سیلفی لینے کا خبط بذات خود ایک سینڈروم بن چکا ہے۔ جس کا شکار خواتین بہت آسانی سے ہوجاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے آن لائن رہنے والی خواتین کا exploitation زیادہ ہوتا ہے۔ جب ایک لڑکی فیس بک، انسٹاگرام یا سوشل میڈیا پر اپنی کوئی بات، سوچ یا اپنی تصاویر پوسٹ کرتی ہے تو اسکی سوچ پر اس قدر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہو کر بعض اوقات خُودکُشی جیسے ناقابل معافی گناہ پر مجبور ہوجاتی ہے۔
بچپن میں ہمارے گھر کے قریب ایک چرچ تھا جہاں ایک confession box تھا، چرچ میں آنا جانا بہت تھا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ لوگ اپنے کئے ہوئے عمل، چاہے وہ بد ہو یا خیر والا عمل وہ آکر confession box میں فادر سے آکر شیئر کرتے تھے، جس میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوتی تھیں۔ دیکھنے میں آیا کہ کچھ کمینہ خصلت انسان یہاں پر بھی عورتوں کا زیادہ استحصال کرتے تھے۔ اسی لئے اسلام نے عورتوں کو اپنے معاملات اور مسائل حل کرنے کے بہت پیارے طریقے سیکھائے ہیں۔ چرچ جیسی مقدس جگہ پر عورتوں کے استحصال کے واقعات رونما ہوں تو سوشل میڈیا پر تو بنت حوا کی عصمتیں تار تار کرنے کے لئے عصمتوں کے سوداگروں کی خبیث ٹولی متحرک ہے۔
بعض لڑکیاں اپنی وہ باتیں جو وہ اپنے گھر والوں سے کرنے کے بجائے ان کا حل سوشل میڈیا پر ڈھونڈتی ہیں۔ اس کے لئے وہ سوشل میڈیا پر فرینڈز بنا کر اپنے پرابلمز حل کرنے کے لئے اپنی نجی زندگی کی ساری باتیں شیئر کرتی ہیں، بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ جس کے ساتھ رابطہ قائم تھا وہ تو لڑکا یا مرد تھا۔ کیونکہ عموماً یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ بسا اوقات مرد و لڑکے کسی مجہول یا فرضی نام سے اپنا اکاؤنٹ بنا کر معصوم نفوس کا استحصال کرتے ہیں۔
حالانکہ اسلامی تعلیمات کے پس منظر میں اگر ہم جعلی اور غلط شناخت والے اکاؤنٹ (Fake account) کو اسلامی اقدار کے پیرائے میں پرکھیں تو یہ عمل انتہائی قبیح اور قابل مذمت ہے۔ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک تم لوگوں میں سب سے برا اس کو پاؤ گے جس کے دو چہرے ہوں گے، ایک کے پاس ایک چہرے سے ملاقات کرے گا اور دوسرے کے پاس دوسرے چہرے سے۔‘‘
(صحیح بخاری ، ج۶، ص۲۶۲۶)۔
جس کے بعض اوقات منفی اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں لہذا یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیٹیوں کو اتنا وقت دیں کہ ان کی بیٹیاں ان کے ساتھ اپنی ہر بات کرسکیں تاکہ وہ اپنی قیمتی زندگیاں یوں سوشل میڈیا کے نام پر برباد نہ کرسکیں۔ جب یہی خواتین اگر اپنی گھر کی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر ایک طرف کرکے سوشل میڈیا پر اپنا وقت گزارے تو اسکا اثر نہ صرف اسکی ذات پر پڑے گا بلکہ سب سے زیادہ اثر اس کے خاندان اور اولاد کی تربیت پر بھی پڑے گا۔
آفسیس میں کام کرنے والی خواتین کے لئے بھی سوشل میڈیا مسائل و استحصال کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ خواتین اپنے کام کرنے کی جگہ کے علاوہ اب آن لائن سوشل میڈیا پر بھی مشکلات کا سامنا کررہی ہیں۔ صبح گھر کے کام کاج کرکے آفس آنا اور سارا دن وہاں کام کرکے جب فراغت میں خواتین اپنا کام پوسٹ کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا رخ کرتی ہیں‘ تو وہاں مشکلات کی الگ دنیا ان کیلئے موجود ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا ٹرولز خواتین کی کردارکشی کیلئے جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہیں اور ان کا سوشل میڈیا پر بات کرنا اور سوشل میڈیا کو یوز کرنا مشکل بنادیتے ہیں۔ آج ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جابز وغیرہ پر سوشل میڈیا استعمال کرنے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد نے عارضی طور پر اپنے ٹویٹر اور فیس بک بند کر دیئے ہیں۔ کیونکہ یہاں بھی ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ خواتین سوشل میڈیا پر محفوظ نہیں ہیں۔ بحالت مجبوری سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والی خواتین کے لئے ضروری ھے کہ سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور دلائل و احتیاط کے ساتھ گفتگو کریں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پہ کسی سے بھی بات کرتے ہوئے خواتین کو اپنی تصاویر و ویڈیوز، گھریلو معاملات اور شخصی معلومات شیئر نہیں کرنی چاہیے ، مختصر تعارف کے طور پر کنیت استعمال کی جاسکتی ہے۔ سوشل میڈیا کو زحمت بنتے دیر نہیں لگتی اس لئے فہم و ادراک کے ساتھ، احتیاطی تدابیر و اقدامات کے ساتھ، سوچ سمجھ کہ بولیں اور لکھیں کیونکہ سوشل میڈیا پہ تو سب کے لب آزاد ہیں۔۔ ؏
عورتیں کام پہ نکلی تھیں بدن گھر رکھ کر
جسم خالی جو نظر آئے تو مرد آ بیٹھے
غرض سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمس سے جہاں صنف نازک کو کچھ فائدہ ہورہا ہے وہیں بے انتہا اخلاقی اور معاشرتی برائیوں میں ملوث کرنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔ تجربات کے اعادے نے یہ بات ثابت کی ہے کہ ہمارے اس دور میں سوشل میڈیا پر آن لائن چیٹس وقت کا ضیاع اور وقت کا بے مقصد استعمال ہیں۔ لوگوں کی ازدواجی زندگی سے سکون ختم کرنے کا اہم سبب بھی بن رہا ہے۔ خواتین کو ہدایت دیں کہ وہ اپنے ذاتی تحفظ اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے کسی غیر محرم مرد کو تصویر و ویڈیوز نہ بھیجیں کیونکہ ایسی تصاویر و ویڈیوز کو منحرف کردار کے حامل لوگ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ صنف نازک اس کا استعمال اعتدال و احتیاطی تدابیر اور اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کرنا سیکھے اور خود کو ان چیزوں کا عادی بنانے کے بجائے صرف ضرورت کے تحت ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کریں، تو ہر قسم کی پریشانی اور مسئلے سے بچا جاسکتا ہے۔
خواتینِ اسلام سے میری مؤدبانہ و مخلصانہ درخواست ہیں کہ آپ لوگ، بحیثیت مسلمان سوشل میڈیا پر بنت حوا کی عفت و عظمت کو ختم کرنے والا اذیت آمیز ایندھن بننے سے اجتناب کریں۔ خود بھی محفوظ رہیں اور امت مسلمہ کی دیگر خواتین و بیٹیوں اور بہنوں کی عفت و عصمت کی حفاظت کا ذریعہ بنے۔ اللّٰہ تعالٰی! امت مسلمہ کی خواتین کو عفت و پاکدامنی کے ساتھ زندگی گذارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہیں اپنی عصمت و عزت کی حفاظت کرنے والا بنائے۔ (آمین ثم آمین یارب العالمین)۔ ؏
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اُسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
(24.05.2021)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment