عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

دوم
عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
                عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ
                            اور
                        اہل اقتدار
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════

      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
                09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✦ علماء دین کا مقام و اہمیت
✦ علمائے حق و علمائے رُشد
✦ فتنہ پرداز عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا دور
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی تعریف
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی پہچان احادیث کی روشنی میں
✦ اللّٰہ سے بغاوت اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اَلْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ
✦ گمراہ علماء دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہیں
✦ قربِ قیامت کے نزدیک علماء حق کا قحط اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا سر اُٹھانا
✦ نافرمان و باغی اور ظالم اہل اقتدار سے تعلق و خاموشی
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا انجام
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
                        (قسط دوم)

علم و فہم کے نتیجے میں علماء رُشد یا علماء حق پیدا ہوتے ہیں اور ایسے علماء حق کا کردار ہی ان کے علم و عمل کی گواہی ہوگا اور ان کی شخصیت و کردار سے نمودار ہوتا ہوا امن و آشتی کا دریا ہی معاشرے کو ان کی پہچان کروانے کو کافی ہوتا رہا ہے۔جنت کی بشارتیں اور اللّٰہ و رسولﷺ کی محبتیں ایسے علماء حق کا مقدر ہیں اللّٰہ کے ہاں، لیکن اس برعکس علماء سوء کی بات کریں تو وہ علماء حق کا بالکل الٹ چہرہ پیش کرتے ہوئے نظر آئیں گے دنیا میں۔

کسی شخص نے نبیﷺ سے شر کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے شر کے بارے میں مت پوچھو۔ مجھ سے خیر کے بارے میں پوچھو۔“ آپ نے تین مرتبہ ایسے فرمایا: پھر آپﷺ نے فرمایا: ”سن لو! سب سے بڑا شر علمائے سوء ہیں، اور سب سے بڑی خیر علمائے خیر ہیں۔“ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔ (مشکوۃ المصابیح، کِتَاب الْعِلْمِ)

الدارمی کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللّٰہﷺ سے شر کے بارے میں سوال کیا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ سے شر کے بارے میں سوال مت کرو بلکہ خیر کے بارے میں سوال کرو۔ آپ نے یہ تین مرتبہ فرمایا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا خبردار! بدترین شر علماء کا شر ہے اور سب سے اعلیٰ درجہ کی بھلائی علماء کی خیر ہے۔

علمائے کرام مسلمانوں کے معاملات زندگی کا بہت ہی اہم حصّہ ہیں۔ علماء کے راہِ حق سے لغزش کھانے اور علمائے حق کے زمرے سے نکل کر علماء سوء کی فہرست میں داخل ہونے کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ”حکمرانوں سے قریبی مراسم“ ہے۔

فتنہ پرداز عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا دور:

علماء کرام اور فقہاء کی موت درحقیقت دنیاکے لئے بڑا نقصاندہ ثابت ہوتی ہیں۔احادیث سے بھی واضح ہوتا ہے کہ علماء کرام کی موت اُمّت کے لئے گمراہی اور ضلالت کا پیش خیمہ ہے۔ سیدنا حسنؓ فرماتے ہیں کہ ایک عالم کی وفات اسلام میں ایک بڑے شگاف کی مانند ہے جس کا خلاء عرصہ دراز تک پر نہیں کیا جا سکتا۔

حضرت عبداللّٰہؓ ہی فرمایا کرتے تھے عالم مرتے چلے جائیں گے اور ان کے ساتھ حق کے نشان بھی مٹتے چلے جائیں گے، یہاں تک کہ جب جاہل زیادہ ہو جائیں گے اور اہل علم فنا ہو چکیں گے تو لوگ جہل پر عمل اور باطل پر یقین کرنے لگیں گے اس طرح گمراہی مکمل ہو جائے گی۔ ابن شہاب زہری کہا کرتے تھے ہم نے علماء سے سنا ہے کہ سنت نبویﷺ پر استواری میں ہی نجات ہے‘ علم بڑی تیزی سے سلب ہو جاتا ہے‘ علمائے حق کے وجود سے دین اور دنیا کا استحکام ہے اور علم کی تباہی، دین و دنیا کی تباہی ہے۔

امام مسلم ؒ نے صحیح مسلم میں حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺنے فرمایا: ”مجھ سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ نے جس اُمّت میں کسی نبی کو مبعوث فرمایا توا س کی اُمّت میں اس کے حواری اور اصحاب ہوتے تھے۔ وہ اپنے نبی کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھتے تھے اور نبی علیہ السلام کا جو بھی حکم ہوتا تھا اس کی پیروی کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ان کے ایسے جانشین (وارثین) آتے تھے جو نالائق اور ناخلف ہوتے تھے۔

آج کے اس پر فتن دور میں ضمیر فروش، اصول فروش، اخلاق فروش اور بعض ایمان فروش علمائے سوء کی تعداد بہت نظر آرہی ہے۔ حضرت علیؓ مرتضیٰ فرماتے ہیں کہ اللّٰہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں صرف اِسلام کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے صرف نقوش باقی رہیں گے۔ اُن کی مسجدیں بظاہر آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ اُس زمانہ کے علماء آسمان کے نیچے سب سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ خود اُن ہی میں سے فتنہ پھوٹے گا اور اُنہی میں جاکر ٹھہرے گا۔ (رواۃ البیھقی فی شعب الایمان، بحوالہ مشکوٰۃ: ۱/۳۸)

روحِ اسلام سے عاری اور رُشد وہدایت سے خالی جس زمانہ کے آنے کی آپﷺ اِس حدیث میں پیشین گوئی فرما رہے ہیں اُس کے بارے میں جو خاص بات آپﷺ نے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ اُس زمانہ میں سب سے بُرا کردار اور رول علماء کا ہوگا۔ اس آسمان کے نیچے سب سے بدترین مخلوق علماء ہوجائیں گے۔ وہ فتنہ فساد کا سرچشمہ اور منبع ہوجائیں گے۔ یعنی اُن کی نیتوں کا فطور، اُن کے دلوں کا بگاڑ، اُن کی بے عملی ودنیا طلبی، اُن کی شہرت وقیادت کی چھپی ہوئی خواہش اُن کو اِس بات پر آمادہ کرے گی کہ وہ سازشیں رچیں، گروہ بندیاں کریں، پھوٹ ڈالیں، اہلِ اقدار سے سازباز کریں اور قوم کو دھوکہ میں رکھیں، اُن کو مشتعل کرکے آپس میں لڑا دیں اور اِس طرح کے مختلف قسم کے فتنوں کو ہوا دیں۔ اِس طرح ہر فتنہ وفساد کی جڑ علماء ہوجائیں گے۔ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ کا یہی مفہوم ہے۔ لیکن وَتَعُوْدُ فِیْھِمْ فرماکر آپﷺ نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ وہ علماء اپنی جلائی ہوئی آگ میں خود بھی جھلسیں گے اور اپنے کھودے ہوئے گڑھوں میں خود بھی گریں گے۔

اللّٰہ کے رسولﷺ کی ایسی کئی احادیث اور عصرِ حاضر کے فتنے ہمیں سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ حقیقت میں کہیں وہ دورتو نہیں آگیا جس صادق و امین نبیﷺ نے پیشن گوئی کی تھی؟ کیا ہمیں نظر نہیں آرہا ہے کہ دینی و ملی اداروں، جماعتوں، تنظیموں اورتعلیم گاہوں یعنی مدارس و مکاتیب میں عہدے و مناصب کے لئے رسہ کشی کے دور کا آغاز ہوگیا ہے؟ کیا مسجدوں میں ٹرسٹی شپ اور تولّیت کے تنازُعات، درگاہوں اورخانقاہوں میں سجّادہ نشینی کی لڑائیاں، مسلم سیاسی جماعتوں اور تنظیموں میں اقتدار کی رسّہ کشی اور علماء کے باہمی سخت ترین ذاتی اختلافات اِس بات کی طرف اشارہ نہیں کرتے کہ وہ زمانہ آگیا ہے۔ یہ صورتحال واقعی باعثِ افسوسناک ہوتی جارہی ہے۔ ڈر و خوف کی بات یہ ہے کہیں شعوری یا غیر شعوری طور پر عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی اِس فہرست میں ہمارا شمار تو نہیں۔

ایک حدیث میں عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی علامت بھی مذکور ہے، جس سے علماءِ حق و عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کے مابین حد فاصل بھی سمجھ میں آجاتی ہے، وہ حدیث یہ ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ نے فرمایا کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایاکہ علماء کرام اللّٰہ کے بندوں پر رسولوں کے امین (اور حفاظت دین کے ذمہ دار) ہیں، بشرطیکہ وہ اقتدار سے گھل مل نہ جائیں اور (دینی تقاضوں کوپس پشت ڈالتے ہوئے) دنیا میں نہ گھس پڑیں؛ لیکن جب وہ حکمرانوں سے شیر وشکر ہوگئے اوردنیا میں گھس گئے، تو انہوں نے رسولوں سے خیانت کی، پھر ان سے بچو اور ان سے الگ رہو۔ (کنز العمال:۲۸۹۵۲)

عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی تعریف:

عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ انہیں کہا جاتا ہے جنہیں علم حاصل ہونے کے بعد بھی وہ اپنے حاصل کردہ علم پر قرآن و حدیث کی بنیاد پر عمل پیرا نہیں ہوتے ہیں، بلکہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے یا دوسروں کے غیر اسلامی مفاد کے لئے عمل کرتے ہیں۔ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ روئے زمین کی بدترین مخلوق اور فتنوں کا سرچشمہ ہوں گے۔ جیسے یہودی لوگ دوسروں سے رشوت لے کر ان کے مفاد کے مطابق شریعت کا حکم بتاتے تھے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرؓ اور ابوہریرہؓ کی روایتوں میں جس طرح ختنہ کرنے کا حکم ہے اسی طرح تورات کے سفر احبار کے اٹھارویں باب میں بھی ختنہ کرنے کا حکم ہے اس حکم کی تعمیل میں حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنا ختنہ جو کرایا اس کا عیسائیوں کو اقرار ہے مگر حضرت عیسیٰ اور حواریوں کے زمانہ کے بعد بعضے عیسائی علماء کی عقلی وجوہات کی بنا پر اس حکم کی تعمیل عیسائیوں میں باقی نہیں رہی۔ ایک بھوکے حواری کے خواب پر حرام خنزیر بھی حلال ہو گیا۔ تورات میں بدکار مرد اور عورت کے سنگسار کرنے کا حکم آیا ہے لیکن علماء یہودنے تورات کے برخلاف ایسے مرد اور عورت کا منہ کالا کرنے اور کچھ کوڑے مار دینے کا فتویٰ دے رکھا تھا جس پر موجودہ یہودی لوگ عمل کرتے تھے۔ اس سنگین گناہوں کا بوجھ توعلماء یہود بھی اٹھائیں گے اور ان کے حواری بھی؟؟؟

علماء یہود و نصاریٰ نے اپنے فرائض سے غفلت کی اور گمراہی کا راستہ اختیار کیا جسے قران نے بیان کیا ہے، آج بعض مسلمان علماء بھی اہلِ باطل کی ایسی ہی پیروی کررہے ہیں۔"ان لوگوں نے اللّٰہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو ربّ بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللّٰہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے"۔  (9:31)

حضرت عدی بن حاتمؒ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ سے یہ آیت سن کر عرض کیا کہ یہود و نصاریٰ نے تو اپنے علماء کی کبھی عبادت نہیں کی، پھر یہ کیوں کہا گیا کہ انہوں نے ان کو ربّ بنا لیا؟ آپﷺ نے فرمایا ' یہ ٹھیک ہے کہ انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی لیکن یہ بات تو ہے نا، کہ ان کے علماء نے جس کو حلال قرار دے دیا، اس کو انہوں نے حلال اور جس چیز کو حرام کر دیا اس کو حرام ہی سمجھا۔ یہی ان کی عبادت کرنا ہے'۔ (صحیح ترمذی)

عرب ممالک میں توریت کے معانی و مطالب جاننے والے یہودی پیشواؤں، علماء و زاہدان یہود کو "احبار یہود" کے لقب سے پکارا جاتاہے۔ احبار یہود وہ علماء تھے جنہوں نے اللّٰہ کے نازل کئے اصول و دستور کو اپنے حافظے میں محفوظ کیا تھا تاکہ اس میں کوئی تبدیلی اور تحریف نہ ہوسکے۔ لیکن ان احبار یہود نے چند دنیاوی مفادات کے پیش مذہبی احکامات و اصولوں میں تحریفات کئی۔ رہبان نصاریٰ کے علماء کے متعلق اسلامی اور عیسائی قدیمی تاریخوں میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ دنیا سے جانے کے بعد جب بولس یہودی اور عیسائیوں کی معرکۂ آرائی ہوئی اور اس معرکہ میں یہودیوں نے غلبہ حاصل کیا تو نصاریٰ کے علماء نے ترک دنیا کا راستہ اختیار کرکے رہبانیت کا راستہ اختیار کیا۔یہودو نصاریٰ کے علماء نے تورات و انجیل کی تعلیمات سے ہٹ کر اپنے فتوؤں کو جاری کیا، جس کے نتیجے میں آسمانی کتابوں کا وقار مجروح ہوتا گیا اور لوگوں نے ان آسمانی کتابوں سے دھیرے دھیرے دوری اختیار کی۔

امام ترمذیؒ نے ’جامع ترمذی‘ میں حسن روایت میں حضرت عبد اللّٰہ بن مسعودؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوگئے تو ان کے علما نے انہیں روکا، لیکن وہ با زنہ آئے (لیکن اس کے باوجود ان علما نے) ان نافرمانوں کی ہم نشینی اور ان کے ساتھ باہم کھانا پینا جاری رکھا، تو (اس کے نتیجے میں) اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو بھی باہم مشابہ کردیا اور ان پر حضرت داؤدؑ اور حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ کی زبانی لعنت فرمائی، یہ اس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی روش اختیار اور وہ حد سے تجاوز کرتے رہے۔ اس کے بعد رسول اللّٰہﷺ اُٹھ کر بیٹھ گئے جب کہ اس سے پہلے آپﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے، اور فرمایا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جب تک تم انہیں زبردستی حق کی طرف نہ موڑ دو!“

عوام کا حال یہ ہوگیا تھا کہ وہ کتاب اللّٰہ کو دیکھتے تک نہ تھے بس جو کچھ ان کے علماء و مشائخ کہہ دیتے اسے اللّٰہ کا حکم سمجھ لیتے تھے جبکہ ان کے علماء و مشائخ کا یہ حال تھا کہ تھوڑی سی رقم لے کر بھی فتوے ان کی مرضی کے مطابق دے دیا کرتے تھے۔اسی وجہ سے فرمایا گیا کہ جب ان لوگوں نے اللّٰہ کے حکموں کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور پادریوں کے حکموں کو مانا تھا وہی عالم اور پادری گویا ان کے خدا ہیں۔

علامہ نوویؒ نے شرح صحیح مسلم میں کہا '' وہ پیشوا مراد ہیں جن کی اتباع کی جاتی ہے اور لوگوں کو راہ حق سے گم راہ کرتے ہیں تو اس میں بدکار حکمران، علماء سوء اور جاہل عبادت گزار سبھی شامل ہیں جیسا کہ کتاب اللّٰہ میں زیر آیت" اِنَّ کَثِیرًا مِّنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّہْبَانِ لَیَأْکُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّونَ عَن سَبِیلِ اللَّہِ '' میں علماء سوء کا تذکرہ موجود ہیکہ لوگوں کو اللّٰہ کے راستے سے روکتے ہیں اور انہیں گم راہ کرتے ہیں ہے (التوبۃ آیت 34) اس آیت اور ما قبل حدیث کے پس منظر میں سفیان بن عیینہ کہتے ہیں ہماری امت کے ''علماء سوء ''یہود کے احبارکے مثل ہیں اور ہمارے جاہل عبادت گزار نصاریٰ کے راہب کی طرح ہیں (کیونکہ ایک میں بدعملی تو دوسرے میں جہالت اس لئے دونوں ہی خطرہ ہیں) اور بعض لوگوں نے کہا علمائے سؤء اور جاہل عبادت گزار کے فتنے سے بچو کیوں کہ ان دونوں کا فتنہ تمام فتنوں کا سر چشمہ ہے۔

جس طرح اسلامی تعلیمات و احکامات میں ”علمائے حق“ کے غیر معمولی منصب و مقام کو بیان کیا گیا ہے۔ ٹھیک ویسے ہی ”علمائے سوء“ کے بارے میں بھی واضح طور احادیث و اسلامی تعلیمات میں بتایا گیا ہے۔
(جاری••••• 2-6)

Comments

Popular posts from this blog

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam