بے روزگاری، تَنگئِ معیشت اور خُودکُشی
بے روزگاری، تَنگئِ معیشت اور خُودکُشی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
+919422724040
✿ اعلیٰ تعلیم یافتہ ملک کی بیٹی کا اقدام خُودکُشی
✿ بے روزگاری کیا ہے؟
✿ نئی نسل اور بےروزگاری
✿ شرحِ بے روزگاری
✿ بےروزگاری اور اہل حکمراں
✿ بےروزگاری کا تدارک
✿ اسلامی نقطۂ نظر
○○○○○○○○○
✿ اعلیٰ تعلیم یافتہ ملک کی بیٹی کا اقدام خُودکُشی
ہندوستان میں مدھیہ پردیش کے علاقہ بیتول کے سونگھاٹی کی ایک لڑکی نے MBA کیا تھا۔ ذریعۂ معاش میسر نہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ پریشانی و مایوسی کا شکار تھی۔ ؏
شکم کی آگ سے بڑھ کر کوئی وبال ہے کیا
ہمیں خبر ہی نہیں ہجر کیا، وصال کیا
نوکری نہ ملنے اور مایوسی ہاتھ لگنے کے نتیجے میں قریباً دن کے 11:15 منٹ پر، ریلوے لائن کے پھاٹک پر جاکر بیتول سے اٹارسی کی جانب جارہی تیز رفتار ٹرین کے سامنے جاکر خودکشی کرنے کے ارادے سے ریلوے ٹریک پر کھڑی ہوگئی، زندگی سے دل برداشتہ ہوکر خُودکُشی کے لئے تیز رفتار ٹرین کے سامنے آکر کھڑے ہونا، ارباب اختیار اس بات کی اذیت کو محسوس کرسکتے ہیں جو دکھ اور تکلیف اس لڑکی نے اقدام خُودکُشی سے پہلے محسوس کی ہوگی۔ یہ فیصلہ اس نے ایک دن میں تو نہ کیا ہوگا، کئی اذیت ناک دن گزارے ہوں گے تب اس فیصلے پر پہنچ پائی ہوگی۔
وہاں موجود ایک رکشا ڈرائیور جس کا نام محسن خان تھا، الحمد اللّٰہ! اس نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے اس پریشان حال لڑکی کی جان بچانے کے لئے اس کے قریب پہنچ کر کھینچ لیا اور ٹرین کراس ہونے تک روتی ہوئی مجبور و مایوس لڑکی کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ حالانکہ وہاں ایک اچھی تعداد موجود تھی، مگر افسوس وہ صرف تصاویر و ویڈیو بنا کر تماشا دیکھ رہی تھیں۔ کسی نے آگے بڑھ کر اسے بچانے کی ہمت نہیں کی۔
ہمیں محسن خان آٹو ڈرائیور پر بحیثیت مسلمان فخر بھی ہوا۔ اس نے اسلام و مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ اسلام ہمیں کبھی یہ نہیں سکھاتا کہ ناحق کسی کی جان لی جائے، اور کوئی خود اپنی جان کے لینے کے درپے ہو تو اس مدد کی جائے۔ ساتھ ہی ساتھ دوسروں کی جان بچانا سکھاتا ہے۔ جب کہ ہمارے یہاں معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے، لوگ محض مسلمان ہونے کی بنیاد پر انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی شکل میں مسلمانوں کی جان کے درپے ہیں۔ اور یہ قتل و غارتگری اور فتنہ و فساد کا کام مذہب کے نام پر ہورہا ہے۔ نفرت کی فضاء اب اتنی عام ہوگئی ہے کہ اس نے ملک کی ایک بڑی متعصب اجتماعیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ہمارے ملک میں حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ اب highly educated نئی نسل mental pressure، ڈیپریشن، بےروزگاری اور تنگی معیشت کے نتیجے میں، زندگی کی زبوں حالی اور خاندان و معاشرے کے بوجھ سے تنگ آکر خُودکُشی جیسے سنگین اقدامات پر اتر آئے ہیں۔ لوگ خُودکُشی جیسا انتہائی تکلیف دہ قدم اس لئے اٹھا لیتے ہیں کیونکہ وہ اپنی زندگی کو بے معنی و بے مطلب سمجھنے لگتے ہیں اور موت کے علاوہ انہیں دوسرا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ جب کہ اسلام میں خُودکُشی ایک بڑا گناہ ہے۔
میں نے اپنے ایک مضمون "خُودکُشی---- ایک طائرانہ جائزہ" میں ایک جرمن فلاسفر شوپنہار کا جملہ نقل کیا ہے، شوپنہار سے جب ایک طالب علم نے پوچھا کہ لوگ خُودکُشی کیوں کرتے ہیں تو فلاسفر نے کہا "جب زندہ رہنا مرنے سے زیادہ تکلیف دہ ہوجائے تو انسان خُودکُشی کرلیتے ہیں۔"
نوجوان طبقے کو جب اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں روزگار نہ ملے تو وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں اور پھر یا تو جرائم کے پیشہ سے منسلک ہو جاتے ہیں یا کچھ خُودکُشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ غربت تنگدستی اور بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر موت کو گلے لگانے کے واقعات ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ خُودکُشی کے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ معاشرے میں غربت، بے روزگاری اور بے حسی اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے۔
✿ بے روزگاری کیا ہے؟
بے روزگاری، روز گار کا نہ ہونا، روزی کے ذرائع کا نہ ملنا، کام نہ ملنا، بے کاری کا نام ہے۔ بے روزگاری کو جرائم کی ماں کہنا درست ہوگا۔ ماہرین کے نزدیک بے روزگاری ایسی کیفیت ہے، جس میں کام کرنے کے قابل اور خواہش مند افراد کو ان کی تعلیمی قابلیت، صلاحیت اور کارکردگی کے معیار کے مطابق کام نہ ملے۔
قرآن مجید میں بے روزگار کے لیے ’’محروم‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مفسّرین نے محروم کی تشریح بے روزگار سے کی ہے۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباسؓ اور مجاہدؓ کا قول ہے: ’’محروم وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو، خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو، صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر)
’’ترجمان القرآن‘‘ میں مولانا ابوالکلام آزاد کے مطابق ’’قوم کے تمام ایسے افراد جن پر وسائل معیشت کی تنگی کی وجہ سے معیشت کے دروازے بند ہو رہے ہوں اور اگرچہ وہ خود پوری طرح سعی (کوشش کرنے والے) ہوں لیکن نہ تو نوکری ملتی ہو نہ کوئی اور راہ معیشت نکلتی ہو یقینا مساکین میں داخل ہیں۔‘‘
ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں قسم کے ملک میں بے روزگاری کا مسئلہ ہمیشہ رہتا ہے۔ مگر الگ الگ ملکوں میں بےروزگاری کے پیمانے الگ الگ ہیں۔ یورپی ممالک میں بے روزگار اسے کہتے ہیں جسے اسکی تعلیم یا ہنر کے مطابق جاب نہ ملی ہو۔ ہم اپنے ملک میں بےروزگار اسے کہتے ہیں جو بازار میں رائج اجرت ہے اس سے بھی کم اجرت پہ کام کرنے کو رضامند ہو مگر پھر بھی اسے کام نہ ملے۔
مقابلہ محض کورونا وائرس سے ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ غربت اور بے روزگاری سے بھی ہے۔
✿ نئی نسل اور بےروزگاری
بےروزگاری ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو معاشرے کے امن و سکون کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ نئی نسل یا نوجوان طبقہ جو کسی بھی قوم کی ترقی و خوش حالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے وہ بےروزگاری کے مسئلہ سے دوچار ہے۔ اس مسئلہ سے نوجوان طبقہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو رہا اور ذہنی تناؤ انہیں نشہ خوری اور جرائم کی جانب دھکیل رہا ہے، جس سے اخلاقی و سماجی برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ اگر وہ گھر میں رہیں تو سب سے بڑا مسئلہ بھوک ہے۔ اگر باہر نکلیں تو کورونا وائرس کا خطرہ اور بے روزگاری کا سامنا ہوتا ہے۔ بقول شاعر: ؏
کالج کے سب بچے چپ ہیں کاغذ کی اک ناؤ لئے
چاروں طرف دریا کی صورت پھیلی ہوئی بے کاری ہے
نئی نسل کا ایک بڑا طبقہ بےروزگار ہے۔ تعلیم مکمل کرکے ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی انہیں نوکری حاصل کرنا ایک چیلینج بھرا کام ہے۔ بے روزگاری سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نئی نسل مایوسی کا شکار ہیں۔ تعلیم یافتہ افراد کی بے روزگاری کا مسئلہ بھی بہت سنگین ہوگیا ہے۔ ؏
اسلمؔ بڑے وقار سے ڈگری وصول کی
اور اس کے بعد شہر میں خوانچہ لگا لیا
موجودہ وبائی صورتحال میں کئی فیکٹریوں نے اپنے آدھے سے زیادہ مزدوروں کو نوکریوں سے نکال دیا ہے یا پھر ان کی تنخواہیں روک دی ہیں جس سے لوگوں کی زندگی پر گہرا اثر ہوا ہے اور انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 12 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو اپنے کام سے ہاتھ دھونا پڑا ہیں۔ ان میں پھیری ریہڑی والے، سڑک کنارے سامان بیچنے والے، رکشہ ڈرائیور اور ٹھیلا چلانے والے شامل ہیں۔
✿ شرحِ بے روزگاری
ملک میں بےروزگاری کی شرح لگاتار بڑھتی جارہی ہے۔ سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (سی ایم آئی ای)نے اپنی سروے رپورٹ میں کہا کہ کووڈ 19 بحران کی وجہ سے ملک میں بےروزگاری کی شرح بڑھ کر 27.11 فیصد ہوگئی۔ حالیہ دنوں میں بڑی صنعتوں سے وابستہ لاکھوں مزدوروں کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ صورت حال تشویش ناک حد تک خراب ہوئی ہے۔
ہندوستان میں بےروزگاری کی شرح میں خطرناک حد تک تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ چند سالوں سے کوئی سرکاری ڈیٹا جاری نہیں کیا گیا لیکن حال ہی میں ایک رپورٹ منظر عام پر لائی گئی، رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں بے روزگاری کی شرح پچھلے 48 سالوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، یعنی 9.1 فیصد۔ بےروزگاروں کی اتنی بڑی تعداد فکرمندی کی بات ہے۔ ماہ دسمبر 2020ء میں تازہ موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق نئی نسل میں بے روزگاری کی شرح فلحال 9.1 فیصد ہوگئی ہے۔
اگر محنت و روزگار بیورو کی رپورٹ دیکھی جائے تو اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان دنیا کے سب سے زیادہ بے روزگاروں کا ملک بن گیا ہے۔ این سی آر بی کے مطابق 2019ء میں بے روزگاری کی وجہ سے 2،851 افراد خُودکُشی سے مرگئے۔ یہ تعداد 2016ء میں خُودکُشی کرنے والے 2،298 سے بڑھ گئی ہے۔ گذشتہ ایک سروے کے مطابق 2017ء - 2018ء کے دوران ملک میں بے روزگاری کی شرح میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ شہری علاقوں میں یہ شرح 7.3 جبکہ دیہی علاقوں میں 5.3 فیصد نوٹ کی گئی ہے۔ اب اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ موجودہ سال میں اس میں کتنا اضافہ ہوا ہوگا۔ 'انڈیا ٹوڈے کنکلیو' کے دوران ماہر معاشیات موہن گوسوامی نے ایک ٹوئٹ کیا تھا کہ ہندوستان میں 2016ء کی رپورٹ کے مطابق 11 کروڑ 70 لاکھ بے روزگار تھے۔ ملک میں صرف اپریل 2021ء کے مہینے میں ہی 75 لاکھ سے زائد افراد روزگار سے محروم ہوگئے۔
ترقی یافتہ ممالک میں روزگار کے سب سے زیادہ مواقع انڈسٹری میں ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے ملک میں پھیلی ہوئی تعصب و انارکی کی صورتحال کی وجہ سے مختلف انڈسٹریز کے بند ہونے کی خبریں آتی رہی ہیں۔ عہد حاضر میں اگر ہم عصمت فروشی، چوری، ڈاکہ زنی، بے ایمانی، نشہ خوری، خُودکُشی اور دیگر جرائم کا جائزہ لیں تو اس میں سب سے بڑا کردار بے روزگاری کا ہے۔ اگر نئی نسل کو تعلیم کے ساتھ ہنرمندی و فنی مہارت کے ساتھ، روزگار بھی فراہم کیا جائے تو جرائم کی شرح میں کمی آسکتی ہے۔ کیونکہ بیروزگاری ایسا زہر ہے جو کسی فرد کو نہیں بلکہ پورے سماج کو متاثر کرتا ہے اور تواتر کے ساتھ بڑھتی ہوئی بیروزگاری سماجی انتشار اور فسطائیت کو جنم دے رہی ہے۔ ؏
دیکھ لینا ایک دن بے روزگاری کا عذاب
چھین کر چہروں کی ساری دل کشی لے جائے گا
✿ بےروزگاری اور اہل حکمراں
حکومت بے روزگار اعلیٰ تعلیم یافتہ نئی نسل اور عوام کو زہر کا پیالہ پینے سے پہلے ہی ان کے مسائل حل کر دے تو یہ عوام اور حکومت دونوں کے حق میں بہتر ہوسکتا ہے۔ اہل اقتدار و عوامی ذمہ داران کو چاہئے کہ بے روزگاروں کو روزگار کے مواقع فراہم کرے۔ کیونکہ ؏
بھوک پھرتی ہے میرے ملک میں ننگے پاؤں
رزق ظالم کی تجوری میں چھپا بیٹھا ہے
ملک میں جس تیز رفتاری سے کووڈ 19 بحران کو پھیلایا جارہا ہے، اس سے زیادہ تناسب میں مہنگائی اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ معیشت میں بہتری کے حکومتی دعوؤں کی مکمل نفی کرتا ہے۔ بےروزگاری اور مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام اس کالے لمحات کو کوس رہے ہیں جب موجودہ سرکار نے اقتدار سنبھالا تھا۔ ؏
ووٹ دینے جب گیا میں کاش اتنا جانتا
چند لمحوں کی خدائی قوم بھگتے کے برس
ملک کے دانشوران و سیاستدان بےروزگاری کی صورتحال کے اسباب و وجہ ناقص حکومتی پالیسیوں کو قرار دے رہے ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے۔ بیروزگاری کو کم کرنے کے لئے ہمیں اپنی حکومتی پالیسیوں میں لازماً تبدیلی لانی ہوگی۔ دوسری جانب حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اپنے مفادات کے لئے عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر بنا دی ہے۔ اگر انہوں نے کچھ کیا ہوتا، تو وباء اور لاک ڈاؤن کے باوجود شاید حالات ایسے نہ ہوتے جیسے ہیں، بلکہ کچھ تو بہتر ہوتے۔
جب تک مالیاتی اور اقتصادی منصوبہ بندی کا محور عوامی بہبود و فلاح کو نہیں بنایا جائے گا، کوئی مثبت تبدیلی کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومت ترقیاتی بجٹ کم کررہی ہیں اور دفاعی بجٹ بڑھا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے ملک کبھی ترقی کر نہیں پائے گا۔
حکومتی یا انفرادی سطح پر بے روزگاری کے خاتمے کے لیے چھوٹے چھوٹے کاروبار قائم کرنا آج کی اہم ضرورت بن گئی ہے۔ حکومت کو روزگار کی فراہمی کیلئے پالیسی بنانی چاہیے جو ملازمت کی گارنٹی دے اور ملک میں روزگار کو فروغ دینے کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں۔ حکومت کو نئی نسل اور عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی پر غور و خوض کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
ہمارے ملک میں حکومتِ وقت اور گذشتہ حکومتوں پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک سرکاری سطح پر کوئی بھی خاطر خواہ اقدامات نہ کیے گئے جو بے روزگاری کے عفریت کا قلع قمع کرسکیں۔ ملک کے ایک مرکزی وزیر نے بڑھتی بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے ایک نادر اور انوکھا نسخہ پیش کیا ہے۔ وزیر نے بیروزگاروں کو گائے کا گوبر اور پیشاب فروخت کرنے کا مشورہ دیاہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی ترجیحات میں معاشی بہتری کی بجائے اپنے مخالفین کو نت نئے طریقوں سے پابند سلاسل رکھنا مقصود لگتا ہے۔ حکومت کی سیاسی انتقام پر مبنی پالیسیوں سے ایسا لگتا ہے جیسے عوام نے انہیں مخالفین سے انتقام لینے کے لیے منصبِ اقتدار پر بیٹھایا ہے۔ روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ 'ہنر مند افرادی قوت' کی موجودگی بھی اچھی تعداد میں ہو، جو کسی بھی ملک کی ترقی میں ایک مؤثر ترغیب کا کام دیتی ہے۔
✿ بےروزگاری کا تدارک
ہمارے ملک کیا دنیا کے بےشمار ممالک میں رائج کردہ نظام تعلیم میں صبر وتحمل اور توکُّل کا سبق تو نصاب میں پڑھایا ہی نہیں جاتا کہ وہ اس پر عمل کرتے، جب کئی مرتبہ کوشش کے باوجود بھی کامیابی نہیں ملتی تو اعلیٰ تعلیم یافتہ طلباء بھی مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پھر کئی عاقِبت نااندیش (انجام کی فکر سے لاپرواہ) خودکُشی کو تمام مسائل کا حل سمجھتے ہوئے اس کارِ حرام کے مُرتَکِب ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
بے روزگاری ہمارے ملک کا ایسا رَوگ ہے جو بےشمار برائیوں اور طرح طرح کے جرائم پھیلنے کا سبب بن رہا ہے اگر نئی نسل کو اچھی تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہنر و فنی شعبوں سے بھی واقف کرایا جائے تو بہتر روزگار حاصل کرنے کے بھی مواقع فراہم ہونگے۔ جس سے مایوسی و جرائم کی شرح میں بھی کافی حد تک کمی آسکتی ہے مگر افسوس کہ بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آج کل جس طرف دیکھئے بےروزگاری کا رونا رویا جارہا ہے حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ کئی نوجوان تو نامور تعلیمی اداروں سے پڑھ کر بھی چہرے پر بے یقینی اور ناکامی کا تمغہ سجائے باہر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف کتابی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کیلئے مواقع بہت محدود ہوتے ہیں، جب کہ کوئی ہنر جاننے والوں کیلئے لامحدود مواقع ہیں۔ نظام تعلیم میں سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہ کتابی تعلیم دے کر گریجویٹ بنانے پر زور دیتا ہے جب کہ ہنرمند افراد پیدا کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔
مشہور ماہر معاشیات کینس بے روزگاری کو دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر کسی ملک میں بے روزگاروں کو دینے کرنے کے لیے کوئی کام نہ ہو تو سرکار کو چاہئے کہ ان سے گڈھے کھدوا کر اس پہ دوبارہ مٹی بھریں۔ اس سے بھلے ہی کوئی منافع بخش کام یا پیداوار نہ ہو مگر انہیں بے روزگاری سے نجات ملے گی اور وہ کسی فالتو قسم کے کام میں ملوث نہیں ہونگے۔
✿ اسلامی نقطۂ نظر
آپؐ نے بھیک مانگنے کی مذمّت فرمائی ہے۔ بھیک مانگنے کے بجائے محنت کرکے روزی کمانے کی تعلیم دی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "وہ شخص جو لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے، چاہے وہ اسے کچھ دے یا نہ دے۔ (صحیح بخاری)
ایک حدیث میں بھیک مانگنے اور سوال کرنے پر عذاب اخروی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا، مفہوم: "آدمی ہمیشہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس طرح اٹھے گا کہ اس کے چہرے پر ذرا بھی گوشت نہ ہوگا۔
آپؐ نے تجارت کرنے والوں کے لئے دعا کے ساتھ حوصلہ افزائی بھی فرمائی ہے۔ آپؐ نے ہاتھ پھیلانے اور بھیک مانگنے کے بجائے محنت اور تجارت کرنے کو ترجیح دی اور ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔
اسلامی نظام میں خلیفہ/ گورنر/ یا مقامی ذمّہ دار کے لئے لازمی ہے کہ وہ اپنی عوام کی پانچ چیزوں کی حفاظت کرنے کیلئے تمام تر توانائی صرف کردے۔"1- دین، 2-جان، 3- عقل، 4- عزت آبرو، 5- مال۔"
حضرت عمر بن خطابؓ لوگوں کے اَحوال جاننے کے لئے راتوں کو آبادی کا گشت کرتے اور لوگوں کی مدد فرماتے، زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ ایک رات مدینہ کی گلیوں میں گشت کررہے تھے کہ ایک جگہ دیکھا کہ ایک عورت گھر میں بیٹھی ہے اور اُس کے گرد بچے بیٹھے رو رہے ہیں اور پانی سے بھری دیگچی آگ پر رکھی ہوئی ہے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ یہ دیگچی آگ پر کیوں رکھی ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ بچوں کو بہلانے کے لیے تاکہ یہ سمجھیں کہ کھانا پک رہا ہے اور انتظار کرتے کرتے سوجائیں۔
حضرت عمر بن خطابؓ یہ سن کر رونے لگے اور بیت المال سے آٹا، گھی، کھجوریں، چربی، کپڑے اور درہم لے کر ایک بوری میں ڈالے، اپنے غلام اسلم سے کہا کہ یہ بوری مجھ پر لاد دو، غلام نے عرض کی: امیر المومنینؓ اس بوری کو میں اٹھا لیتا ہوں، آپؓ نے فرمایا آخرت میں اس کے متعلق مجھ ہی سے سوال ہوگا، اس لیے یہ بوری مجھے ہی اٹھانے دو، حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ اُن کے گھر گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے کھانا بناکر اُن کو کھلایا۔ (اُسدالغابہ: جلد 4، ص:48)۔
حضرت عمر بن خطابؓ خلافت سنبھالنے کے بعد بیت المال میں آئے تو لوگوں سے پوچھا کہ حضرت ابوبکر ؓ کیا کیا کرتے تھے، تو لوگوں نے بتایا کہ وہ نماز سے فارغ ہو کر کھانے کا تھوڑا سا سامان لے کر ایک طرف کو نکل جایا کرتے تھے۔ آپؓ نے پوچھا کہ کہاں جاتے تھے، لوگوں نے بتایا کہ یہ نہیں پتہ بس اس طرف کو نکل جاتے تھے۔ آپؓ نے کھانے کا سامان لیا اور اس طرف کو نکل گے لوگوں سے پوچھتے ہوئے کہ حضرت ابوبکر ؓ کس جگہ جاتے تھے پتہ چلتے چلتے ایک جھونپڑی تک پہنچ گئے وہاں جا کر دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی دونوں آنکھوں سے آندھا ہے اور اس کے منہ پر پھالکے بنے ہوئے ہیں اس نے جب کسی کے آنے کی آواز سنی تو بڑے غصے میں بولا کہ پچھلے تین دن سے کہاں چلے گئے تھے تم؟
آپؓ خاموش رہے اور اس کو کھانا کھلانا شروع کیا تو اس نے غصے سے کہا کہ، کیا بات ہے ایک تو تین دن بعد آئے ہو اور کھانا کھلانے کا طریقہ بھی بھول گئے ہو؟
آپؓ نے جب یہ سنا تو رونے لگے اور اسے بتایا کہ میں عمرؓ ہوں اور وہ جو آپ کو کھانا کھلاتے تھے، وہ مسلمانوں کے خلیفہ ابوبکر ؓ تھے اور وہ وفات پاچکے ہیں۔ جب اس بوڑھے نے یہ بات سنی تو کھڑا ہو گیا اور کہا کہ اے عمرؓ! مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان کرلیں۔ پچھلے دو سال سے وہ آدمی روز میرے پاس آتا اور کھانا کھلاتا رہا، ایک دن بھی اس نے مجھے نہیں بتایا کہ میں کون ہوں؟ یہ عمل تھا اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے والے حکمرانوں کا، اور آج کے اہل اقتدار کو دیکھیں وہ عوام کا لقمہ چھین کر اپنی تجوریاں بھرنے میں مگن ہیں۔
حضرت عمر بن خطابؓ رعایا کی خبر گیری کے معاملے میں اتنے حساس نظر آتے ہیں کہ داؤد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا: "اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی (پیاس سے) مرگیا تو مجھے ڈر ہے کہ اللّٰہ مجھ سے اس کے متعلق سوال کرے گا"۔
اسلام خودداری کا درس دیتا ہے اور خودداری کہتی ہے کہ خاندان چلانے اور اپنا خرچ خود اٹھانے کے لئے چھوٹی ملازمت بھی بہت ہے۔ اس وقت معاشرے میں ڈگری یافتہ نوجوانوں کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے۔ اگر تعلیم یافتہ نسل چھوٹی ملازمتوں کو اختیار کرنے میں شرم اور جھجک محسوس نہ کریں تو بے روزگاری بڑی حد تک ختم ہو جائے گی۔ کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، رزق حلال کے حصول کی خاطر اٹھنے والا ہر قدم بڑا ہوتا ہے اور مزدور کا ہاتھ اللّٰہ کا ہاتھ بن جاتا ہے اس لیے کام میں چھپی عظمت کو جان کر آگے بڑھنا ہی معاشرے کو تنگ نظری سے نکال کر خوش حالی کی جانب لیجا سکتا ہے۔
کچھ دن قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلیپ نظروں سے گذری، اس کلیپ نے واقعی میرے بھی دل میں جگہ کرگئی۔ اس نے میرے احساس کو دوبارہ زندہ کرتے ہوئے مضبوط پیوست کیا کہ مسبب الاسباب اللّٰہ کی ذات ہے کیسے وہ مصائب و پریشانی کے ایام میں بھی اپنے بندوں کی پردۂ غیب سے مدد و رہنمائی کرتا ہے۔
"میں گذشتہ چار برس سے بیروزگار تھا اور لوگوں سے مدد مانگ رہا تھا کہ مجھے ملازمت یا کنسلٹنسی دے دو، پھر میں نے اللّٰہ کے ساتھ اپنا تعلق ٹھیک کیا اور کہا کہ اللّٰہ جی! میں اب تھک گیا ہوں، پھر اللّٰہ تعالیٰ نے میرے دل میں خیال ڈالا کہ کیوں نہ اپنا کام کیا جائے تاکہ لوگوں پر سے میرا انحصار ختم ہو جائے"۔ یہ الفاظ ہیں، فنڈ ریزنگ پر 15 سال ریسرچ کرکے اس موضوع پر کتاب تحریر کرنے والے فنڈ ریزنگ ایکسپرٹ عمر کمال کے۔ عمر کمال نے یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) اور کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی سے انٹرپرائز مینجمنٹ کی ٹریننگ حاصل کر رکھی ہے اور پیشے کے اعتبار سے وہ ڈویلپمنٹ پروفیشنل ہیں، فلحال بےروزگاری نے انہیں گھر کی بنی بریانی آواز لگا کر فروخت کرنے پر آمادہ کردیا۔ اللّٰہ نے اسے صبر و محنت اور توکل کے نتیجے میں خود کفیل بنا دیا آج وہ دوسروں کی مدد کا ذریعے بنے ہیں۔
عمر ایوب نامی نوجوان نے یونیورسٹی سے 2019ء میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی لیکن انہیں ملازمت حاصل کرنے میں مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، معاشی حالات اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا تو جناب نے بھارتی اسٹریٹ فوڈ ’ایم بی اے وڑا پاؤ‘ کے نام سے بیچنا شروع کیا۔
سرورِ دوعالمﷺ نے جہاں طلبِ حلال کی اہمیت اور مانگنے کی مذمت بیان فرمائی، وہیں آپﷺ نے کئی مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روزگار کے مواقع کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے۔ اس سلسلے میں ایک روایت کے مطابق ایک صحابی نے اپنی کسی حاجت کے لیے سوال کیا تو آپﷺ نے ان سے فرمایا کہ تمہارے گھر میں کچھ موجود ہے؟انہوں نے عرض کیا کہ ہاں، ایک چادر اور ایک پیالہ ہے۔ آپﷺ نے دونوں چیزیں منگوا کر مجلس میں دو درہم کے عوض فروخت کرکے فرمایا کہ ایک درہم سے گھر والوں کے لیے کھانا لے لو اور دوسرے سے کلہاڑ خرید لو، آپﷺ نے خود ہی کلہاڑی کا دستہ لگایا اور صحابی کو لکڑیاں کاٹنے کے کام کا حکم دیا۔ جب وہ پندرہ دنوں کے بعد آئے تو دس درہم کما چکا تھے۔ اللّٰہ اکبر ؏
مظلوموں کی فریاد سنی، مجبوروں کی غم خواری کی
زخموں پہ خنک مرہم رکھے، بے چین دلوں کے کام آئے
اسلامی تعلیمات سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ اسلامی حکومت یا مسلمانوں کے ذمّہ داران کو چاہیے کہ وہ زکٰوۃ اور خراج کا نظام درست کرے اور اس سے مستحق لوگوں کی امداد اور بے روزگاروں کے لیے روزگار فراہم کریں۔
حضرت عمر بن خطابؓ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے بیت المال سے عراق کے کسانوں کو زمینیں آباد کرنے اور غلہ اور پیداوار اُگانے کے لیے مالی تعاون فراہم کیا تھا۔
دنیا میں انسانوں کے پیدا کردہ مصائب و مشکلات کا بہترین حل صرف اور صرف اسلام کے پاس ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اس نظامِ مصطفوی کو دنیا میں قائم و دائم کرنے والا بنائے۔ صحیح اسلام کی نمائندگی کرنے والا بنائے۔ (آمین)
(01.10.2021)
https://alhilalmedia.com/unemployment-struggling-economy-suicide/
©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment