"نوول کورونا (کووِڈ-۱۹)" (خوف و دہشت میں موت کا سفر)
"نوول کورونا (کووِڈ-۱۹)"
(خوف و دہشت میں موت کا سفر)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم
✍۔ مسعود محبوب خان
9422724040
واذا مرضتُ فَھُو یَشْفیْن۔ (الشعراء:81)
ترجمہ : اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی ہے جو مجھے شفا دیتا ہے۔
بحیثیتِ مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ نفع و نقصان پہنچانے والی، بیماری و شفاء دینے والی ذات صرف اور صرف اللّٰہ کی ہے۔ اگر اللّٰہ کسی کو نقصان پہچانا چاہے تو پوری دنیا مل کر اس کو نفع نہیں پہنچا سکتی ہے اور اگر اللّٰہ کسی کو نفع پہنچانا چاہے تو پوری دنیا مل کر اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے۔
آپ ﷺ کی یہ دعا ہے: اللھم لا مانع لما اعطیت و لا معطی لما منعت و لاینفع ذاا لجد منک الجد (صحیح البخاری ،حدیث نمبر ۸۴۴)
اے اللّٰہ! جس کو آپ کوئی نعمت دینا چاہیں تو کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے آپ روک دیں، تو کوئی اسے دے نہیں سکتا ہے اور مال والوں کی اس کی مال داری نفع نہیں پہنچاتی ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ بیماری اور دواء کے درمیان ایک پردہ حائل ہوتا ہے جب اللّٰہ کاحکم شفاء کا ہوتا ہے تو وہ درمیانی پردہ زائل ہوجاتا ہے اور دوا کارگر ہوجاتی ہے اور مریض شفاء پاجاتاہے۔ (مرقاۃ المفاتیح ،کتاب الطب والرقی۷/۶۱۲۸)۔
ہم امت مسلمہ کے فرد ہونے کی حیثیت سے اور عقیدے کی قوی طاقت کی بنیاد پر مسائل و مصائب سے خوف نہ کھاتے ہوئے ان تمام آفات و مشکلات کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ویسے آفات کا ایک بڑا سبب گناہ، ناانصافی اور ظلم و ستم بھی ہے۔ اس لئے ہمیں بھی اللّٰہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے، توبہ و استغفار کا سہارا لیتے ہوئے اپنے گناہوں اور خطاؤں کی معافی مانگنی ہوگی۔ روٹھے ہوئے رب کو راضی کرنا ہوگا۔
ایک مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ موت کا ایک وقت متعین ہے جس سے پہلے کسی کی موت نہیں ہوسکتی ہے اور اگر موت کا وقت آجائے تو کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا ہے۔ قرآن میں اللّٰہ تعالی نے اس کو بہت واضح اندازمیں بیان کیا ہے:
وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلۡمِهِمۡ مَّا تَرَكَ عَلَيۡهَا مِنۡ دَآبَّةٍ وَّلٰـكِنۡ يُّؤَخِّرُهُمۡ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّىۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَـاۡخِرُوۡنَ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ
اگر کہیں اللّٰہ لوگوں کو اُن کی زیادتی پر فوراً ہی پکڑ لیا کرتا تو روئے زمین پر کسی متنفس کو نہ چھوڑتا لیکن وہ سب کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے، پھر جب وہ وقت آجاتا ہے تو اس سے کوئی ایک گھڑی بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ (سورۃ النحل - آیت 61)
ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ایک کی بیماری یا مرض کا اُڑ کر دوسرے کو لگ جانا یا کسی مریض سے مرض تجاوُز کرکے صحیح سلامت تندرست آدمی میں منتقل ہوجانا! یہ بالکل باطل ہے۔ اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں لوگ یہ اعتقاد رکھتے تھے بیماری خود اُڑ کر دوسرے کو لگ جاتی ہے، خدا تعالیٰ کی تقدیر کا اس میں کوئی دخل نہیں بلکہ یہ خود ہی مؤثر ( یعنی بذاتِ خود اثر انداز ہونے والی) ہے۔ حدیثِ پاک میں اسی نظریے کو رد فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”لَاعَدْوَی“ یعنی بیماری کا اُڑ کر لگنا کچھ نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے مجذوم (جذام کے مریض) کے ساتھ کھانا بھی کھایا تاکہ لوگوں کو علم ہوجائے کہ مرض اڑ کر دوسرے کو نہیں لگتا۔ تعدیۂ جراثیم یعنی ”مرض کے جراثیم کا اُڑ کر دوسرے کو لگنا“ کھلی حقیقت ہے، جراثیم خود مرض نہیں بلکہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کی چھوٹی سی مخلوق ہے جو صرف خردبین یا الٹرا مائکرو اسکوپ (Ultra-Microscope) کے ذریعے ہی نظر آتی ہے اور یہ جراثیم مرض کا سبب بنتے ہیں۔ پہلے زمانے کے لوگ ان جراثیم سے واقف نہ تھے تو انہوں نے یہی نظریہ بنا لیا کہ مرض مُتَعَدِّی ہوا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اسلام نے اس کی نفی فرمائی کہ کوئی مرض مُتَعَدِّی نہیں ہوتا اسلام کے تعدیہ مرض کی نفی کرنے سے جراثیم کے مُتَعَدِّی ہونے کی نفی قطعاً نہیں ہوتی۔ فتح الباری میں ہے:تعدیہ کی نفی سے مراد یہ ہے کہ کوئی شے اپنی طبیعت کے اعتبار سے دوسری چیز کو نہیں لگتی، چونکہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ اعتقاد رکھتے تھے کہ امراض اپنی طبیعت کے اعتبار سے مُتَعَدِّی ہوتے ہیں اور وہ ان کی نسبت اللّٰہ تعالٰی کی طرف نہیں کرتے تھے، لہذا اس اعتقاد کی نفی کی گئی اور نبیِّ کریم صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم نے ان کے اعتقاد کو باطل فرمایا اور مجذوم کے ساتھ کھانا کھایا تا کہ آپ انہیں بیان کردیں کہ اللّٰہ ہی بیمار کرتا ہے اور شفا دیتا ہے۔(فتح الباری لابن حجر،ج11،ص136،تحت الحدیث: 5707)
کورونا وائرس ڈیزیز 19 (کووِڈ-۱۹) ایک غیر متوقع وبائی حملہ ہے، لہذٰا عصر حاضر میں سسکتی ہوئی انسانیت ’نوول کووڈ 19‘ جیسی موذی وباء کے نرغے میں ہے۔ جسے پہلے وبا (epidemic) کہا گیا اور بعد میں عالمی وبا (pandemic) ڈیکلیئر کیا گیا۔
آج یہ کورونا کا مرضِ رذیلہ ہی ہے جو اپنے پیاروں سے دور رہنے پر مجبور کررہا ہے۔ جو مسلمان حالت اسلام میں اس کرونا وائرس کووڈ-19سے دنیا سے چلا جائے وہ مرتبہ شہادت پر فائز ہے۔ اس کے بارے میں ہلکی گفتگو کرنا دراصل اسلامی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ وباء سے شہید ہونے والے افراد کی تجہیز و تکفین اور تدفین کے دوران انسانی اقدار کی پامالی کے افسوس ناک واقعات پیش آئے ہیں، جو خاندان اپنے کسی پیارے کو کھو دینے کے صدمے سے دوچار ہیں انھیں یہ اذیت بھی برداشت کرنی پڑ رہی کہ وہ اس وبا سے مرنے والوں کی آخری رسومات بھی ادا نہیں کر سکتے۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے، جس کا کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا ہے، کسی بھی انسان کو بعد از مرگ شرعی و احترام و آبرومند طریقہ سے تجہیز و تکفین لازم و ملزوم ہے۔
بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ضرور گردش کررہی ہوگی کہ کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کے کفن دفن، غسل اور جنازے کی مذہبی رسومات کیسے ادا کی جائیں گی۔
موجودہ وبائی بیماری کورونا وائرس (کووِڈ-۱۹) سے وفات پانے والے شخص کے بارے میں عالمی اِدارہ صحت (WHO) نے جو ہدایات وبائی امراض سے متاثر میت کے لئے جاری کی ہیں، اُن میں بھی یہ صراحت ہے کہ احتیاط کے ساتھ میت کو غسل دیا جاسکتا ہے اور محتاط طریقے پر دفنانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، اِس سے مرض دوسروں تک منتقل نہیں ہوتا۔ اِس لئے جہاں بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آئے تو وہاں کے مسلمانوں کا شرعی طور پر یہ فرض بنتا ہے کہ وہ میت کی تجہیز وتکفین کے لئے حتی الوسع سعی کریں، اور اِس میں ہرگز کوتاہی نہ کریں، ورنہ سخت گنہگار ہوں گے۔ (الا یہ کہ مجبوری کی صورت ہو)۔
امریکہ میں بیماریوں کے پھیلاؤ کے انسداد کے ادارے Centre for diseases control & prevention کی ہدایات کے مطابق کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے کسی شخص کی میت کو ہاتھ نہ لگایا جائے۔ ان ہدایات میں مزید درج ہے کہ میت کو چھونے کے کچھ طریقوں سے وائرس لگنے کے امکانات کم ہیں مثلاً ہاتھ پکڑنے، یا میت سے لپٹنے لیکن وہ بھی اس وقت جب میت کو تدفین کے لیے تیار کر لیا گیا ہو لیکن دیگر حرکات مثلاً میت کو چومنے سے اجتناب کرنا انتہائی ضروری ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کے سماجی اور مذہبی وقار کا خیال رکھنا چاہیے اور ان کی خاندان کی عزت اور شناخت کو اس سارے عمل میں چھپایا جانا چاہیے۔ اسی لئے یورپین ممالک میں کوئی کرونا وائرس کا شکار ہوتا ہے تو اسے چھپایا جاتا ہے اور میتوں کے لواحقین بھی ان کی شناخت عام نہیں کرنا چاہتے۔
ڈبلیو ایچ او کی ان گائیڈلائنز میں یہ بھی درج ہے کہ مسلمان افراد کی میت کو جب قبر میں اتار دیا جائے تو ان کے عزیزواقارب کو اجازت ہوگی کہ وہ قبر پر پہلے کچھ بیلچے مٹی ڈال دیں کیونکہ یہ مسلمانوں کے کلچر کا حصہ ہے اور اس عمل کی اجازت دینی چاہیے۔
ان ہدایات میں مزید درج ہے کہ میت کو چھونے کے کچھ طریقوں سے وائرس لگنے کے امکانات کم ہیں مثلاً ہاتھ پکڑنے، یا میت سے لپٹنے لیکن وہ بھی اس وقت جب میت کو تدفین کے لیے تیار کر لیا گیا ہو لیکن دیگر حرکات مثلاً میت کو چومنے سے اجتناب کرنا انتہائی ضروری ہے۔
ہدایات کے مطابق ’اگر میت کو غسل دینا اور اس کو کفن پہنانا مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے بہت اہم رسومات ہیں تو فیملیز کو اپنی کمیونٹی اور مذہبی رہنماؤں سے رجوع کرنا چاہیے اور جنازہ گاہوں کے عملے سے بات کریں کہ کس طرح میت کو کم سے کم چھونا پڑے۔‘
بھارت کی ایک جماعت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "اِسلام کی نظر میں وفات کے بعد بھی اِنسان کا جسم اِسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ زندگی میں۔ اسی لئے مسلمان کے اِنتقال کے بعد اُسے اچھی طرح نہلا دھلا کر تجہیز وتکفین کرنا اور عزت کے ساتھ دفنانا فرضِ کفایہ ہے، یعنی اگر کچھ لوگ اِس فرض کو بجالائیں تو سب کی طرف سے فرض اَدا ہوجاتا ہے، لیکن اگر کوئی بھی اُسے انجام نہ دے، تو مسلم معاشرہ بالخصوص اہل محلہ گنہگار ہوتے ہیں۔"
کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جسم انسانی جو اللّٰہ رب العالمین نے ہر انسان کو عطا فرمایا ہے انسان خود اس کا مالک نہیں ہے، بلکہ جسم اس کے پاس اللّٰہ کی طرف سے ایک امانت ہے، کسی بھی انسان کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ بلا ضرورت کسی دوسرے جسم کو نقصان پہنچائے یا اسے کسی بھی قسم سے ضائع کرے، اور اس میں کسی بھی قسم کا کتر بیونت کرے یا کسی کے جسم کو ہلاک کرے، بس یہ اللّٰہ کے اختیار میں ہے جب تک چاہے انسان کو زندہ رکھے اور جب چاہے اس کو موت دیدے۔
ہمارے ایک قریبی مربی مولانا عبدالرحیم فلاحی نے ایک نقظہ کی جانب نشاندہی کی کہ "انسان اشرف المخلوقات ھے، اس کی کرامت، شرافت اور انسانیت کا تقاضا بھی یہ ھے کہ اس کے آخری سفر کو احسن طریقہ سے انجام تک پہوچایا جائے۔
دنیا کے پہلے قتل پر مقتول کی لاش کو دفنانے کے لیے ایک کوا کے ڈیمو سے قرآن مجید نے واضح کیا ھے۔"
لیکن اس برعکس مسلم ملک میں ہی ایسے مناظر بھی دیکھائی دیے جہاں کورونا وائرس سے متاثر میت کی ڈر اور خوف کی بنیاد پہ نمازِ جنازہ پڑھانے سے مولانا نے انکار کیا تو ڈاکٹروں نے محکمہ صحت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے خود میت کو غسل دیا، نماز جنازہ پڑھائی اور اس کی تجہیز و تدفین کی۔
آخر اتنا ڈر اور خوف کس کا؟ کورونا وائرس کا یا پھر اس سے ہونے والی موت کا؟؟
کورونا وائرس سے متعلق اس طرح کی خبریں پڑھ کر مجھے نجانے کیوں ابولہب کی موت کا واقعہ یاد آجاتا ہے۔ روایت ہے کہ دشمنِ اسلام ابولہب، عدسہ نامی ایک بیماری میں مبتلا ہوکر مرا تھا۔ (عدسہ کو کچھ طاعون اور کچھ چیچک سے مشابہ قرار دیتے ہیں) اس بیماری سے اس کا تمام بدن سڑنے لگا تھا۔ عرب کے لوگ عدسہ سے بہت ڈرتے تھے اور اس بیماری میں مرنے والے کو بہت منحوس سمجھتے تھـے۔ اس بیماری کا خوف اس قدر زیادہ تھا کہ ابولہب کے بیٹے بھی اس سے دور بھاگتے تھے، حتیٰ کہ کھانا وغیرہ اس تک پہنچانے کی ذمے داری بھی کچھ غلاموں کو سونپی گئی تھی۔ ابولہب جب مرگیا تو کسی کو خبر ہی نہ ہوسکی اور تین دن تک لاش گھر میں ہی پڑی رہی۔ پورا گھر جب بدبو سے بھر گیا تو علم ہوا کہ ابولہب مرچکا ہے مگر تب بھی اس کے بیٹے اسے دفنانے سے گریزاں رہے۔ بالآخر قریش کے ایک آدمی نے اس کے بیٹوں کو شرم دلائی کہ تمہارا باپ گھر میں پڑا سڑ رہا ہے اور تم ہو کہ اسے دفن نہیں کرتے۔ اس پر بیٹوں نے جواب دیا کہ ہمیں ڈر ہے کہ اس کی بیماری کہیں ہمارے گلے نہ پڑ جائے۔
اِس شخص نے اس کے بیٹوں کو مدد کا یقین دلایا اور یوں ابولہب کو دفنانے کی تیاری شروع ہوئی، مگر تب بھی کوئی خود آگے نہیں بڑھا بلکہ ان سب نے مل کر کچھ سوڈانی غلام بلائے جنہوں نے لکڑی کے بانسوں کی مدد سے لاش کو گھسیٹے ہوئے گھر سے باہر نکالا، دور سے گلی سڑی لاش پر پانی پھینکا اور پھر ایک گڑھا کھود کر لکڑیوں سے دھکیلتے ہوئے لاش کو وہاں تک لے گئے اور اس گڑھے میں لاش کو گرا کر کچھ مٹی اس میں ڈال دی، پھر لوگوں نے دور دور سے ہی اس گڑھے میں اس قدر پتھر پھینکے کہ ان پتھروں سے اس کی لاش چھپ گئی۔ (بحوالہ زرقانی ج1، دلائل النبوۃ للبیہقی)۔
کسی بھی قسم کے موذی وبائی امراض سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر لازماً اختیار کی جائے، شرعی حکم و دلائل اس ضمن میں ثابت بھی ہیں، تاہم اس سے خوف اور دہشت میں آنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ خوف و دہشت سے بڑا کوئی مرض یا وائرس نہیں ہے۔ بہت سے لوگ جو اس بیماری میں مبتلا نہیں ہیں، لیکن خوف نے اس پر اس قدر دبیز چادر تان لی ہے کہ وہ کرونا سے زائد مہلک بیماری میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ بعض مرتبہ نفسیاتی خوف ایک مہلک بیماری بن جاتا ہے، یہاں ایک واقعہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک مجرم کو پھانسی کی سزا طے ہوئی لوگوں نے یہ طے کیا کہ اس کو تو مرنا ہی ہے اس لیے اس کو پھانسی نہ دی جائے؛ بلکہ سانپ کے کاٹنے سے موت واقع کی جائے چنانچہ اس کو ایک کرسی پر آنکھ پر پٹی ڈال کر بٹھادیا گیا اور اس کو دو سوئی چبھوئی گئی اور تھوڑی دیر میں دیکھا گیا ہے وہ مرگیا ہے اور جب اس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی تو اس میں پتہ چلا کہ اس کی موت سانپ کے کاٹنے سے ہوئی ہے ،یہ صرف دہشت کا نتیجہ تھا اس مجرم نے سمجھ لیا کہ مجھے سانپ نے کانٹا ہے اورسانپ کا کاٹا نہیں بچتا ہے اس طرح اس کی موت ہوگئی، جب کہ اس کو صرف سوئی چبھوئی گئی تھی ۔اس لیے خوف و ہراس سے بڑا کوئی مہلک مرض نہیں ہے۔
کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی میت کو اسپتال سے ایک پلاسٹک بیگ میں پیک کرکے دیا جاتا ہے۔ اسے کھولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ وہ اس میت کو فیونرل ہوم لاتے ہیں جہاں اسے غسل نہیں دیا جاسکتا۔ پلاسٹک کے اوپر کفن ڈال کر تابوت میں رکھ کر یا بنا تابوت میت دی جاتی ہے۔ اس میت یا تابوت کو قبرستان روانہ کیا جاتا ہے۔ کرونا وائرس سے مرنے والوں کا ان کے اہلِ خانہ دیدار نہیں کرسکتے۔ آخر اتنی مجبوری و بے بسی کا شکار اس مرض کے لئے، جس کی حیثیت و حجم نانو میٹر میں ہیں۔
جسے ہم موجودہ دور میں وائرس سے تعبیر کرتے ہیں۔ دراصل وائرس جراثیم germs کی ایک شکل ہے، جن کا حجم 20-200 نانو میٹر (ایک میٹر کا ایک کروڑواں حصہ) ہوتا ہے، یہ وائرس submicroscopic ہوتا ہے یعنی کہ یہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ مائیکروسکوپ سے بھی نظر نہیں آتا، اور نہ یہ مکمل سیل cell پر مشتمل ہوتا ہے۔ بلکہ یہ بیکٹیریا سے بھی چھوٹا ہوتا ہے اور انسانی خلیوں کے اندر پہنچ کر بڑی تباہی مچاتا ہے۔ کہاں DNA کی sequencing اور Gene mapping کے نہایت باریک تجربے اور پھر کہاں Clonning کی کچھ کامیاب تجربات انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں ۔لیکن اس باریک ترین تجربات کی کامیابی کے باوجود ابھی تک انسان اس باریک سے RNA کے ٹکرڑے کے خلاف کوئی ایسی effective ویکسین تیار نہیں کر سکا کہ جو اس عالمی وائرل دہشت(Viral Terror ) کو کم کرنے میں کارآمد ثابت ہوتی۔
یہ اس لئے کہ آج ترقی کے نام پر یہ انسان! جسے اللّٰہ نے سڑھے ہوئے نطفے کی بوند سے پیدا کیا اور وہ اپنی حقیقت کو بھول کر نعوذ بااللّٰہ خود خدا بن بیٹھا ہے۔
آخر عالمی اور ملکی میڈیا کورونا وائرس کو اتنا کوریج کیوں دے رہا ہے؟ کیا دیگر تمام ایشوز دنیا سے فنا ہوگئے ہیں؟
لوگوں کا یہ بھی اعتراض ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں، کروڑوں لوگ دیگر بیماریوں سے بھی تو مر جاتے ہیں، حتیٰ کہ ہر سال بھوک کئی لاکھ لوگوں کو نگل جاتی ہے، پھر ان باقی چیزوں کو اتنی ترجیح کیوں نہیں دی جاتی؟ کرونا سے مرنے کا ڈر لوگوں میں نفسیاتی بےچینی پیدا کررہا ہے؟ یہ اعتراضات بالکل بجا کہ ان سے انکار ممکن نہیں۔
ایسی دنیا جہاں ہر سال کم و بیش 4 کروڑ زندگیاں اسقاطِ حمل کے ذریعے چھین لی جاتی ہیں، جسے باقاعدہ طور پر ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ کے تحت انسانی حق تسلیم کیا گیا ہے، وہاں اگر ایک آدھ لاکھ بندہ کورونا سے مر بھی جائے تو اتنا ڈرنے گھبرانے اور پوری دنیا کو لاک ڈاؤن کرنے اور کرفیو لگانے کی کیا ضرورت ہے؟
ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں متعدد بیماریاں ایسی ہے جس کا mortality ratio کورونا سے کئی گناہ زیادہ ہے۔
کورونا سے اموات کی شرح دیگر وبائی امراض سے کم ہے۔ حالیہ تاریخ کے وبائی امراض کی نسبت کورونا وائرس سے شرحِ اموات کا جائزہ لیا جائے تو بہت ہی کم شرحِ اموات ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں متعدد بیماریاں ایسی ہے جس کا mortality ratio کورونا سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے ایک اچھی خبر یہ بھی پہے کہ اس میں ارتقائی تبدیلی کی رفتار دیگر وائرسز جیسے فلو وائرس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو متواتر وبائی امراض یا متعدی بیماریاں سر اٹھاتی رہی ہیں۔
ہر سال ایڈز جیسی لاعلاج بیماری کے مریضوں کی تعداد میں بھی تو 9 کروڑ کا اضافہ ہو رہا ہے۔
ملیریا سے اب بھی سالانہ 40 لاکھ تک ہلاکتیں ہوتی ہیں۔
طاعون جس سے کروڑوں اموات واقع ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ لوگوں نے وبا سے مرنے والے افراد کی لاشوں کو کھانا شروع کردیا تھا۔ یہ بحران شاید بوبونک طاعون اور ملیریا کے امتزاج کی وجہ سے ہوا تھا۔
ہیضہ لاکھوں انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا۔
اسپینش فلو اسے بدترین عالمی وبا بھی کہتے ہیں۔ یہ بیماری انفلوئنزا کی ایک شکل تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اسپینش فلو کی وجہ سے پانچ کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے۔
چیچک (ماتا) کے مرض نے تین کروڑ سے زائد انسانوں کو متاثر کیا۔
خسرہ نے 2018 اس بیماری نے افریقا اور ایشیا میں ایک لاکھ 40 ہزار انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔
پولیو وائرس اس بیماری سے دنیا میں لاکھوں افراد معذور ہوئے۔
جذام (کوڑھ) کی وجہ سے لاکھوں انسان متاثر ہوئے۔
ٹی بی (تپ دق) اس مرض سے دنیا بھر میں لگ بھگ 13 لاکھ افراد موت کا شکار ہو گئے۔
اسی طرح ایبولا، سارس وائرس، سوائن فلو، برڈ فلو، ایشیا فلو کے علاوہ اکثر متعدد وائرس ایسے ہیں جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتے رہے ہیں۔
ہر سال 30 لاکھ سے زائد افراد سگریٹ اور 20 لاکھ سے زائد الکوحل کے باعث موت کے گھاٹ اتر جاتے ہوں، ٹریفک حادثات کے باعث 10 لاکھ سالانہ اموات ہوتی ہوں اور تقریباً اتنے ہی افراد خود اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہوں، وہاں کورونا کس فہرست میں شمار کیا جانا چاہیے؟ یہ یقیناً کوئی بڑی سازش ہے، یہ دنیا کو کسی نیو ورلڈ آرڈر کا حصہ بنانے کا مکر و فریب سے پر ایک بزدلانہ طریقہ ہے۔ ورنہ یہ بیماری اتنی بڑی نہیں، یہ محض خوف و حراس کا کاروبار ہے کہ اسے اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔ اور اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی بنیادیں رکھی جارہی ہیں۔
اس پس منظر میں کیا ہم نے کبھی غور و فکر کیا کہ یہ تمام وائرس عالم اسلام سے نہیں پھیلے ہیں؟ بلکہ ان کا epicenter غیر اسلامی ممالک ہی ہوتے رہے ہیں۔ کیونکہ اسلام نے وبائی امراض سے احتیاطی تدابیر و اقدامات کے ضمن میں وہ سارے precaution measures ہمیں سیکھائے ہیں جس سے وبائیں پھیلنے کے اندیشے ہوتے ہیں اور ان کا تدارک کیسے ہو یہ طریقہ کار سے بھی ہمیں روشناس کروایا گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کو دیکھیں اور پھر اسلامی نظام طہارت ، پانچ وقت وضو اور حلال غذا کے تصور کو دیکھیں تو پھر آپ کو اندازہ ہوگا کہ اسلام کتنی بڑی نعمت اورعظیم دین ہے اور اس پر عمل کرکے ہم کتنی بڑی مصیبتوں سے بچ سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں آج تک جتنے بھی وائرس اور جراثیم سامنے آئے جن کی وجہ سے خطرناک وبائیں پھیلیں ان میں سے کوئی بھی مسلمان ملک سے نہیں نکلا۔ اس کی وجہ اسلام کا نظام طہارت اور حلال وحرام کا پاکیزہ تصور ہے۔
مندرجہ ذیل دُعا پڑھیں :
اَللّٰہُمَّ اِنّیِ اَعُُوذُبِکَ مِنَ البَرَصِ وَالجنونِ وَالجُذَامِ وَ مِن سَیِئی الا سقَام (آمین)
”ا ے اللّٰہ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں برص سے، دماغی خرابی سے، کوڑھ سے اور ہر قسم کی بُری بیماریوں سے۔
رسول اللہ ؐنے فرمایا: جو شخص کسی مصیبت زدہ کو دیکھے اوریہ دعا پڑھے :
”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِی مِمَّا ابْتَلاَکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیلاً“
ترجمہ: ”سب تعریف اللّٰہ کے لیے ہے جس نے مجھے اس مصیبت سے بچایا جس میں تجھے مبتلا کیا اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی“، تو وہ زندگی بھر اس وبا سے محفوظ رہے گا۔
آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بعض ایسی دعائیں سکھلائی ہیں جو ایسے موذی امراض سے حفاظت کا کام دیتی ہیں۔
شفاء کا نظام اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ پس ہمیں احتیاط اور علاج معالجہ کے ساتھ رجوع الی اللّٰہ و توکل علی اللّٰہ، توبہ و استغفار اور عاجزی و انکساری سے دعاؤں کے ذریعہ معافی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ توکل ترک عمل اور ترک تدابیر کا نام نہیں، بلکہ عمل وتدابیر کے ساتھ توکل کرنا مسلمانوں کی کامیابی کا اہم راز ہے۔ متفقہ لائحہ عمل سے اس موذی وبائی مرض کا راستہ نہ روکا گیا تو یہ پوری انسانیت کی شکست ہوگی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک سوالیہ نشان بن جائیگا۔
اللّٰہ تعالیٰ سے خصوصی دْعاء کریں کہ وہ امت مسلمہ اور دنیائے انسانیت کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھیں۔ (آمین)
(masoodkhan.media@gmail.com)
©•••═══ ༻م✿خ༺═══ •••©
Comments
Post a Comment