والد محترم
والد محترم
(وہ آشنا میرے ہر کرب سے رہا ہر دم)
┄┅════❁﷽❁════┅┄
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیَانِيْ صَغِیْرًا۔
اے میرے ربّ! ان دونوں (میرے والدین) پر رحم فرما، جیسے انہوں نے مجھے بچپن میں پالا اور تربیت کی۔
اس بات کا علم ہونے کے بعد بھی کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ اس کے باوجود بروز بدھ بتاریخ 22 دسمبر 2021ء نماز مغرب کے کچھ دیر بعد جب یہ خبر بمبئی سے اورنگ آباد ہم تک پہنچی کہ والد محترم محبوب فرید خان صاحب کی روح، قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کرکے دار فانی سے دار بقاء کی طرف رحلت فرما گئیں ہیں۔ میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی تھی، آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا ہورہا تھا، میرے ہوش و حواس کمزور پڑھ گئے اور بےبسی اپنی انتہا پر پہنچ چکی تھی۔ اورنگ آباد سے بمبئی کا سفر واقعی بے چینی اور اضطراب میں گذرا، آنسوؤں نے سفر میں ساتھ نبھایا۔ گھر پہنچ کر ان کے چہرۂ مبارک پر نظر پڑی الحمداللّٰہ! اطمینان، سکون اور معصومیت ان کے چہرے کا نور بنی ہوئی تھی۔
والدین کا رشتہ عظیم نعمت خداوندی ہے۔ کائنات کا سب سے خوبصورت ترین رشتہ والدین کا ہے۔ میرے نزدیک والدین میں "باپ" درجہ اول کا حامل ہے۔ وہ اس لئے کہ بنی نوع انسان کی ابتداء مرد سے ہی ہوئی تھی والد کی عظمت و فضیلت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ بنی نوع انسان کی ابتداء والد سے ہوئی۔ اور والد انسان کو عدم سے وجود میں لانے والی واحد ذات ہے۔ ماں جنّت ہے اور باپ جنّت میں داخل ہونے کا دروازہ ہے۔ رسولِ اکرم نے کا فرمان ہے:
"والد جنّت کے دروازوں میں سے بیچ کا دروازہ ہے، اب تُو چاہے تو اس دروازے کو اپنے ہاتھ سے کھو دے یا حفاظت کرے۔ (ترمذی)
باپ دنیا میں اولاد کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے اور سہارا بھی۔ باپ بچوں کی نشوونما کے ساتھ ساتھ ان کے زیب و آرائش کے ناز نخروں کا بھی خیال رکھتا ہے۔ حالانکہ بچوں کی پرورش و پرداخت کرنا آسان کام نہیں ہے بلکہ ایک مشکل ذمّہ داری ہے جس کو نبھاتے نبھاتے باپ کی جوانی سلگ کر بڑھاپے کی راکھ میں بدل جاتی ہے۔ باپ کے تھپڑ میں جو پیار ہوتا ہے وہ دنیا میں کسی کے پیار میں نہیں ہوتا ہے اور نہ ہوگا۔
دنیا میں قدم رکھنے کے بعد وہ والد محترم ہی ہیں، جنہوں نے ہماری ابتدائی زندگی کے پہلے اٹھتے قدموں کو اپنے مضبوط و قوی پیروں پر رکھ کر ہمارے معصوم و ننھے ہاتھوں کی انگلیوں کو تھام کر یوں چلنا سکھایا کہ زندگی میں اعتماد سے چلنے کا حوصلہ مل گیا۔ باپ حقیقت میں حوصلہ ہوتا ہے ایک ایسا حوصلہ، جو باپ کی حیات تک ہی محدود رہتا ہے۔ ایک ایسا شجر ہائے سایۂ دار اور ایسی انمول نعمت جو باپ کے روپ میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ہمیں ملتی ہیں۔ ہمارے والد چاہے کتنے ہی تیزی سے بڑھاپے کی جانب قدم بڑھا رہے تھے مگر گھر کا سب سے مضبوط و بنیادی ستون آخر تک وہی رہے۔
والد محترم ہی ہیں جنہوں نے ڈگمگاتے قدموں کو ایک بہترین سمت سفر کی راہ سجھائی۔ جنہوں نے اسکول کے پہلے دن اداس آنکھوں اور مسکراتے ہونٹوں کے ساتھ اسکول کے گیٹ پر سرگوشی کی تھی کہ "رونا نہیں اور گھبرانا نہیں، میں اسکول کے باہر بیٹھا ہوں، تمہیں ساتھ گھر لے جاؤں گا۔ زندگی میں ایسی ہی باتیں میری ہمتوں کو ڈھارس دینے کے لئے کئی بار کی ہیں۔ مگر حالات و عمر کے تقاضوں نے اسے بھلا دیا ہے۔ (مجھے کیا میرے بیٹے کو بھی پہلی بار اسکول چھوڑنے وہی ساتھ آئے تھے)
والد کی ایسی سرگوشی مجھے اس وقت بھی شدت سے یاد آئی، جب تحریک اسلامی کا ایک کارکن ہونے کی پاداش میں پابند سلاسل کیا گیا، وہاں جب والد صاحب کا پہلی مرتبہ ملاقات کے لئے آنا ہوا اور حوصلوں و ہمتوں کو بندھاتے ہوئے یہ کہنا کہ، "بیٹا فکر نہ کرنا، پریشان بلکل نہ ہونا، تم نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے، اپنے موقف پر ڈٹے رہنا، اللّٰہ ہمارے ساتھ!! مسبب الاسباب اللّٰہ کی ہی ذات ہے، ان شاء اللّٰہ! وہی کوئی نہ کوئی راستہ نکال لے گا۔" پابند سلاسل ہونے کے بعد جب زنداں خانہ میں ملنے کے لئے آتے، وہاں بھی ہمت و حوصلوں کو جلا بخشنے کا کام کرتے رہے۔ حقیقتاً میں والد محترم میرے لئے شجر ہائے سایہ دار رہے ہیں۔ ؎
عمر بھر تو نے رکھا سایۂ پدری میں ہمیں
مجھے یاد آتا ہے کہ ایک وہ وقت تھا جب والد صاحب میری دینی و تنظیمی سرگرمیوں سے بدظنی کا اظہار کرتے رہے، مجھے اس سے بعض آنے کے لئے واعظ و نصیحت کرتے رہے۔ وہ شراب نوشی کے شدت سے عادی تھے، میں اور گھر کے تمام افراد انہیں ہمیشہ سمجھاتے شراب نوشی ترک کردیں، اپنے آپ کو سدھار لیں، تو وہ ہمیشہ کاؤنٹر اٹیک میں یہی کہتے کہ تو سب سے پہلے تیری تنظیمی سرگرمیاں چھوڑ دے، اس کے بعد ہی میں شراب پینا چھوڑ دونگا۔
لیکن جب اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت سے سرفراز کیا، انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر اپنی جہالت والی زندگی کی طرف نہ دیکھا۔ کہتے ہیں ناکہ انسان کے انتقال کرجانے کے بعد اس کی اچھائیاں بیان کرنی چاہیے، لیکن ہمارے والد ان لوگوں کے لئے ایک بڑا نمونہ رہے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ شراب و جوے کی لت ایسی ہے کہ کبھی چھوٹ نہیں سکتی۔ جب کہ میرے والد اس دلدل میں اس حد تک ڈوبے ہوئے تھے کہ Siemens جیسی کمپنی میں ملازمت کی وجہ سے ان کی تنخواہ بہت اچھی تھی، مگر اس کے باوجود ہم نے تنگ دستی و غریبی کے ساتھ زندگی کا ایک لمبا عرصہ گذارا۔ چونکہ کمپنی لاک آؤٹ ہونے کی وجہ سے اور والد صاحب کے یونین لیڈر ہونے کی حیثیت سے کم از کم دو سال سے زائد عرصے تک اپنا بڑا وقت ملازمین کے ساتھ ہی گذارا جہاں انہیں شراب نوشی جیسی بری لتوں نے گھیر لیا۔ تنخواہ کے بعد بعض اوقات والد صاحب اس وقت تک گھر نہیں پہنچتے جب تک ساری رقم جوے اور شراب میں ہار نہیں آتے۔ اس وقت سے لے کر آج تک ہماری والدہ نے اپنی زندگی کے زریں لمحات ہمارے لئے وقف کردئے تھے۔
والد صاحب کی اس گناہگارانہ زندگی کے ان اوراق کو پلٹنا اور اس کا تذکرہ کرنا اس لئے مقصود تھا کہ جب اس دلدل اور کھائی نما رذیل زندگی سے انسان self intiative اور اپنے wheel power پر توبہ کا دامن تھامے تبدیل ہوسکتا ہے، تو دوسرے لوگ بھی جو اس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ بھی اگر کوشش کریں تو کچھ بھی مشکل نہ ہوگا میرے والد صاحب نے یہ کرکے بتایا کہ اس قسم کی مثال قائم کیں جاسکتی ہیں۔ الحمدللّٰہ! صوم و صلوٰۃ، ذکر و اذکار اور تلاوتِ قرآن کے پابند ہوگئے تھے۔ ہمیں ان کی اس ادا پر رشک آتا تھا۔ نمازِ باجماعت کا اہتمام کرتے رہے، انتقال سے کچھ دیر پہلے نمازِ مغرب ادا کرکے آئے۔
والد ایک ایسا مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی اولاد کی نگہبانی کرتا ہے۔ اللّٰہ ربّ العزّت! نے یہ صفت بھی والد محترم میں رکھی تھی۔ انہوں نے میری محافظت و شیلٹر دینا والا کردار ادا کیا۔ جب بھی کوئی کارندے گھر پر آتے یا مجھے بلوایا جاتا ہمیشہ والد صاحب نے سب سے پہلے اپنے آپ کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند پیش کیا۔ نڈر و بےباک مسلمان کی حیثیت سے انہوں نے آگے بڑھ کر ایک رول پلے کیا۔ اسی لئے ان کے جانے کے بعد میں اپنے آپ کو بہت کمزور سمجھنے لگا ہوں۔ ہر قسم کے معاملات اور فیصلوں میں ان کی یاد شدت سے ستاتی ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ حوصلہ اور بہادری کا درس دینے والا کوئی اور نہیں ہوتا، وہ صرف اور صرف ہمارا "باپ" ہی ہوتا ہے۔
مجھے ان کی وہ ادا یاد آرہی کہ جب بچپن میں راستے میں چلتے وقت بڑھ کر اس خیال سے ہمیں گود میں اٹھا لینا کہ کہیں ہم لوگ سفر کی مسافت سے تھک نہ جائیں۔ ٹھیک اسی طرح انہوں نے زندگی کے تمام معاملات میں اپنی رہنمائی کا دست شفقت ہمارے کمزور و نحیف بازوؤں پر رکھا اور ہمیں آگے بڑھاتے رہے۔
آج یہ جو تحریر لکھ رہا ہوں یہ فن بھی انہیں کی مرہونِ منّت ہیں۔ انہیں ادب و ثقافت اور شاعری کا ذوق و شوق رہا ہے۔ ماشاء اللّٰہ! اُردو ان کی بہترین تھی، اس زبان پر اپنا اچھا دسترس رکھتے تھے۔ چونکہ ان کا بچپن ناگپاڑہ میں گذرا، ان کی تعلیم اسکول سے کالج تک سابو صدیق انجینئرنگ کالج (ممبئی) سے ہوئی۔ پیدائش تاریخی شہر اورنگ آباد میں ہوئی۔ انہوں نے ٹیوشنز لے کر اور کافی محنت و مشقت کرکے اپنے تعلیمی سفر کو مکمل کیا۔ بمبئی کے ناگپاڑہ جیسے علاقے میں بزم شاہین کی بنا ڈالنے میں انہوں نے ایک بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ جس نے محلہ کی سطح پر اسلامی و اصلاحی پروگرام کا آغاز کیا تھا۔
جب نماز کے لیے کالونی کی مسجد جانا ہوتا ہے تو سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے، جب لوگ حسین و جمیل اور شاندار الفاظ میں میرے والد کی خدمات، جانفشانی، شفقتوں اور محبتوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ملاقات کرتے ہیں۔
آج کے موجودہ مادہ پرست اور نفسہ نفسی میں ڈوبے معاشرے میں اپنی عمر بھر کی خوشیوں اور خواہشات کو بچوں کی خوشیوں اور خواہشات کی تکمیل کے لئے قربان کرکے جینے والا "باپ" جب بڑھاپے میں اپنے بچوں کی شفقت اور حُسنِ سلوک کا طلبگار ہوتا ہے تو اسے جواب میں بے رُخی، طعنے اور پھر دارالضعفا (Old Age Home) کا تحفہ ملتا ہے۔ ؎
وہ وقت اور تھے کہ بزرگوں کی قدر تھی
اب ایک بوڑھا باپ بھرے گھر پہ بار ہے
جب کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا:
"اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔" (ترمذی شریف)
"باپ" محبت و شفقت، چاہت و عافیت، صبر و خلوص، ایثار و بردباری کا پیکر ہے۔ ہم جس طرح دریا کو کوزے میں قید نہیں کر سکتے اس طرح باپ کی محبت و شفقت، عنایات و خدمات، محنت، حوصلہ و ہمت کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے۔ باپ ایک عظیم ہستی ہے ماں اگر بنیاد ہے تو باپ اس بنیاد کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔
"باپ" کے متعلق شاعر طاہر شہیر نے کیا خوب کہا ہے،
عزیز تر مجھے رکھتا تھا وہ رگ جاں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہ تھا ماں سے
وہ آشنا میرے ہر کرب سے رہا ہر دم
جو کھل کے رو نہیں پایا مگر سسکتا تھا
جڑی تھی اسکی ہر اک ہاں فقط میری ہاں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہ تھا ماں سے
واقعی باپ کی جدائی ایک عظیم سانحہ سے کم نہیں ہے۔ جن کے والد حیات ہیں ان سے میری یہ فریاد ہےکہ وہ خُوش دِلی کے ساتھ اپنے والد کی خِدمت کریں اور ان کا ادب و احترام کرکے جنّت کے حقدار بنیں، اللّٰہ سے دعاء کرتے رہیں کہ ان کا دست شفقت اور سایۂ عاطفت تادیر قائم و سلامت رہے۔ اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں والدین کا مقام و مرتبہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان کی خدمت کرنے کا جذبہ اور ان کی فرمانبرداری کی توفیق عطا فرمائے۔ دست بہ دعا ہوں کہ پروردگار میری مغفرت فرما اور میرے والدین کی اور سب ایمان والوں کو اس روز معاف فرما دے جب کہ حساب قائم ہوگا۔ (آمین)
بے نور سی لگتی ہے اس سے بچھڑ کے یہ زندگی
زید اب چراغ تو جلتے ہیں مگر اجالا نہیں کرتے
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
+919422724040
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══ •••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment