النَّبِيُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ أَنفُسِہِمْ

النَّبِيُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ أَنفُسِہِمْ

        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
        النَّبِيُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ أَنفُسِہِمْ
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040

  ارشادِ باری تعاليٰ ہے: ’النَّبِيُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ أَنفُسِہِمْ۔۔۔۔۔‘ (سورہ احزاب۔ ۶)
  "نبی مومنوں کے لئے ان کی جان سے زيادہ کے حق دار ہيں۔"

"کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بيٹے اور بھائی اور عورتيں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو اللّٰہ اور اُس کے رسول سے اور اللّٰہ کی راہ ميں جہاد کرنے سے زيادہ عزيز ہوں تو ٹھہرے رہو يہاں تک کہ اللّٰہ اپنا حکم (يعنی عذاب) بھيجے اور اللّٰہ نافرمان لوگوں کو ہدايت نہيں ديا کرتا۔" (سورۃ التوبہ۔۲۴)

  حضرت انسؓ سے روايت ہے کہ نبيﷺ نے فرمايا: جس ميں يہ تين باتيں ہوں اس نے ايمان کی حلاوت پالي۔ ايک يہ کہ اللّٰہ اور اس کا رسولﷺ اس کے نزديک تمام لوگوں سے زيادہ محبوب ہوں، وہ کسی شخص سے محبت کرے تو اللّٰہ ہی کے لئے کرے اور کفر کی طرف لوٹنے کو اسی طرح ناپسند کرے جس طرح آگ ميں ڈالے جانے کو نا پسند کرتا ہے۔ (بخاری کتاب الايمان)

  حديث ميں ايمان کی حلاوت کے تعلق سے جن تين باتوں کا ذکر ہوا ہے ان ميں سے پہلی بات تو اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کو تمام لوگوں سے زيادہ محبوب رکھنا ہے يعنی اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت تمام محبتوں پر غالب ہو۔ اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ سے تعلق کی نوعيت محض اطاعت کی نہيں بلکہ اس کے ساتھ گہرے لگاؤ اور شديد محبت کی ہونی چاہئے۔ اللّٰہ کی محبت مقدم ہے اس کے بعد اس کے رسولﷺ کی محبت کہ يہ بھی اللّٰہ سے محبت ہی کے تحت ہے اور اس کا تقاضا بھي۔

  حضرت انسؓ کہتے ہيں کہ نبيﷺ نے فرمايا: تم ميں سے کوئی شخص مؤمن نہيں ہوسکتا جب تک کہ ميں اس کے نزديک اس کے والد‘ اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زيادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ (بخاری کتاب الايمان)

  نبيﷺ کو سب سے زيادہ محبوب رکھنا ايمان کا تقاضہ ہے اور اس کے بغير ايمان معتبر نہيں۔ يہ محبت شعوری اور عقلی ہے اور اس کا مطلب يہ ہے کہ نبيﷺ کے لئے دل کی گہرائيوں ميں جگہ ہو‘ آپ سے صرف ضابطہ کا تعلق نہ ہو بلکہ قلبی وابستگی ہو اور وہ بھی ايسی کہ اپنے تمام عزيزوں کے مقابلہ ميں فوقيت رکھنے والي۔ ايسا شخص ہی رسول پر اپنی جان نثار کرنے کے لئے تيار ہو سکتا ہے اور رسولﷺ کی فرمانبرداری کو مقدم رکھ سکتا ہے۔

  اللّٰہ ربّ العالمين اپنے پيغمبرﷺ سے سورۃٔ آلِ عمران کی آيت نمبر ۳۱ ميں خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہيں ’آپ فرما ديجئے کہ اگر تم لوگ واقعی اللّٰہ سے محبت کرتے ہو تو ميری (يعنی محمدﷺ کي) اتباع کرو، اللّٰہ تم سے محبت کريگا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا اور اللّٰہ بہت بخشنے والا بے حد مہربان ہے‘۔

  حضرت سہيل بن عبداللّٰہ ؒ فرماتے ہيں کہ اللّٰہ کی محبت کی علامت قرآن کی محبت ہے اور قرآن کی محبت کی علامت نبيﷺ کی محبت ہے اور آپﷺ سے محبت کی علامت سنّت کی محبت ہے اور ان سب کی محبت کی علامت آخرت کی محبت ہے۔

اللّٰہ کے رسولﷺ کی محبت بندے کے ايمان کا بڑا اہم جزو ہے کہ اگر محبت ہے تو اس کا ايمان باقی ہے اور اگر محبت بالکل نہيں تو اس کا ايمان بھی بالکل نہيں۔ اس لئے کوئی انسان اس وقت تک نجات نہيں پاسکتا جب تک کہ اس کے دل ميں اللّٰہ کے رسولﷺ کی محبت اپنے مال و دولت اور اہل و عيال حتيٰ کہ دنيا کی ساری چيزوں سے بڑھ کر نہ ہو۔واضح رہے کہ اس محبت کے دو درجے ہيں۔ ايک درجہ وجوب کا ہے جس کے بغير ايمان مکمل نہيں ہے اور دوسرا درجہ استحباب کا ہے جس کے بغير ايمان نجات کا سبب بننے کے لئے تو کافی ہے‘ البتہ ايمانِ کامل کا حصول نہيں ہوگا اور نہ ہی بندہ لذتِ ايمانی سے سرفراز ہوگا۔

  اہلِ ايمان کے تحت الشعور ميں بھی کلمہ پاک کا دوسرا جز ’محمد رسول اللّٰہﷺ‘ پڑھتے ہی ذات محمديﷺ سے ايسا انس و محبت تکوينی طور پر سرايت ہو جاتا ہے کہ اس کا ظاہر کتنا ہی گندا ہوجائے، اس کے باطن ميں يہ پاکيزہ اور مبارک روشنی روح کی گہرائيوں ميں اتر کر لو ديتی رہتی ہے اور جيسے ہی اس چنگاری کو پھونک ماری جائے، يہ شعلہ بن کر بھڑک اُٹھتی ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے اس حقيقت کو بڑے خوبصورت انداز ميں اپنے شہاب نامے صفحہ نمبر:۱۲۱۷ ميں سمجھايا ہے۔ (طوالت سے بچنے کے لئے وہ تحرير نوٹ کرنے سے قاصر ہوں برائے مہربانی اس کا مطالعہ کر ليجئے)۔

  اے کاش! ہمارے اندر حضرت معاذؓ و حضرت معوذؓ اور امِّ عمارہؓ جيسی محبت اور محب صادق جانثار صحابی عبداللّٰہ بن انسؓ جيسا سمع و طاعت کا جذبہ پيدا ہوجائے۔۔۔۔۔ کيا ہميں ياد نہيں صديقِ اکبرؓ کے دور ميں يمن کے ايک شہر صنعا ميں دو گانے واليوں ميں سے ايک نے زبان سے گستاخئ رسول کا ارتکاب کيا تھا، وہاں کے حاکم مہاجر نامی صحابيؓ نے اس کے دانت توڑے اور دونوں ہاتھ کاٹ ديے۔ دوسری گلوگارہ بدبختی کی اس حد پر نہ پہنچی تھی بس عام مسلمانوں کو گالياں دے کر سوزش جگر کو ٹھنڈا کرتي۔ صحابئ رسول نے اسے بھی اس انجام سے دوچار کرديا۔ حضرت ابوبکر صديقؓ نے اس فيصلے کو غلط قرار ديتے ہوئے فرمايا: ’جس نے ذاتِ اقدسﷺ کے بارے ميں دريدہ دہنی کی اس کی گردن اْڑانی چاہئے تھی اور عام طور پہ گالياں بکنے والی کو زجر و تنبيہ کافی ہے‘۔

  اے اللّٰہ! ہميں زيد بن دثنہؓ کی کم از کم اتنی محبت عطاء فرما۔
  اے اللّٰہ! ہمارے دلوں ميں بھی نورالدين زنگی ؒ جيساعشقِ نبيﷺ پيدا کردے کہ خود نبی رحمت آقائے دو جہاںﷺ خواب ميں آکر ايک عظيم خدمت کے فريضے سے سرفراز کرتے ہيں، اے اللّٰہ! ہمارے اند ر بھی علم الدين شہيد جيسا غيور بہادر نوجوان ہوتا جس نے راجپال جيسے شاتمِ رسول کو اس برے انجام تک پہنچا ديا جہاں اس کو پہنچنا چاہيے تھا۔۔۔۔ ہالينڈ ميں قرآن کی توہين کرتے ہوئے ايک بدبخت اور بدنصيب فلم ساز نے جب ايک برہنہ عورت کے جسم پر ايک آيت لکھ دي۔ ايک حبّ رسول سے سرشار باغيرت مسلم نوجوان نے اس کو جہنم رسيد کرديا تھا۔ قتل کے بعد جب مقدمہ چلا تو اس نوجوان نے عدالت سے درخواست کي: ’مہربانی کرکے مجھے پھانسی کی سزا دے دی جائے کيونکہ اگر ميں زندہ رہا اور کسی دوسرے شخص نے ميرے سامنے گستاخی کی تو ميں اسے بھی قتل کردوں گا‘۔۔۔۔۔۔ ڈنمارک کے اخبار ’يولاند پوسٹن (Jyllands Posten)‘ کے ايک مردود کارٹونسٹ نے بدترين گستاخی کا ارتکاب کيا جس پر اس وقت پورا عالمِ اسلام سراپا احتجاج ہوا ايک ارب ۴۵ کروڑ مسلمانوں کے اندر آگ لگ گئي۔ اس وقت شيخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی جيسے ٹھنڈے مزاج کا شخص بھی اپنے جذبات و احساسات کا اظہار ان الفاظ ميں کرتے ہيں ’ناموسِ رسالت پہ ہاتھ ڈالنے والے باتوں سے نہيں جوتے سے مانيں گے اور ہميں بھی فيصلہ کرنا ہوگا کہ ہميں ڈنمارک کا مکھن عزيز ہے يا ناموسِ رسالت؟‘

  مجھے ياد آرہا ہے کہ جب مردود گستاخِ رسول سلمان رشدی نے کتاب لکھی تو اس کو ليکر ساری دنيا ميں احتجاج ہوا، علمائے کرام نے اسے واجب القتل قرار ديا ساری دنيا ميں جلسے جلوس کا انعقاد کيا گيا ہمارے شہر بمبئی ميں بھی ايک عظيم الشان ريلی کا اہتمام کيا گيا جس ميں پولس نے اپنے ظلم و بربريت کا ننگا کھيل کھيلا، اور کئی اہلِ ايمان کو شہادت کے نذرانے پيش کرنے کی سعادت نصيب ہوئي۔ شہداء کی ياد ميں ايک جلسہ رکھا گيا تھا جس ميں ايک باپ جس کا واحد سہارا اس کا بيٹا تھا اس باپ کے الفاظ ’عظيم الفاظ‘ جو آج بھی ميرے کانوں ميں رس گھولتے ہيں کہ ’اگر اللّٰہ نے مجھے اور بھی اولاد دی ہوتی تو ميں ناموسِ رسالت پر انہيں بھی قربان کرديتا‘۔ يہ الفاظ ہم مسلمانوں کی ذہنيت اور طرزِ فکر کی نمائندگی کرتے ہيں۔ ہم اپنے مذہب، نبی اکرمﷺ کی مقدس و مطہر شخصيت اور صحابۂ کرامؓ کی ذات پر کسی قسم کی مصالحت (Compromise) نہيں کرتے، چاہے اس کے لئے ہميں اپنی جانوں کے نذرانے ہی کيوں نہ پيش کرنا پڑے۔

  اخبارات ميں حضور اکرمﷺ کی توہين آميز اور شرانگيز کارٹونوں کی اشاعت ايک نفسياتی ايٹم بم سے کم نہيں جس سے دوبارہ تناؤ اور انتشار کی کيفيت پيدا ہونے کے پورے امکانات ہيں۔ حکومت کو چاہئے کہ شانِ رسالت ميں گستاخی کرنے والوں کو باز رکھنے کے لئے ان پر سخت قانون کا شنکجہ کسے اور ان کی مذمت کا بيان جاری کريں۔ کيونکہ گستاخانہ اقدامات سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہيں۔ دنيا ميں کئی ممالک ميں ايک عام بدکار ترين شخص کی توہين بھی جرم ہے۔ ليکن آزادئ اظہار کے تقاضے پورے کرنے کے لئے صرف اسلام ہی ان کا تختۂ مشق کيوں ہے؟ رحمتِ عالم‘ محسنِ انسانيت امام المعصومين‘ خاتم النبين محمد مصطفيﷺ جو دنيا کے سب سے عظيم انسان، جو صورت ميں اجمل‘ سيرت ميں اکمل نبيوں و رسولوں کے سردار، اتنے عظيم انسان کے بھونڈے خاکے بنا کر مسلمانوں کی عقيدت و عشقِ رسول کو مجروح کرتے ہوئے ناموسِ رسالت پر حملہ کيا گيا ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی نمائش اور کارٹونوں کے ذريعہ مسلمانوں کے جذبات سے کھيلا جانا، ان کے پيچھے وہ ذہن کام کر رہا ہے جو اسلام کے بارے ميں تعصب رکھتا ہے اور وہ مسلمانوں کے جذبات اور مسلمانوں کی جو اپنے مشاہير اور شعائر اللّٰہ و شعائرِ اسلام سے عقيدت ہے، اس عقيدت کو ناپنے کے لئے بھی اس طرح کی مذموم کوششيں جاری ہيں۔

  ايک نومسلم جو يورپ کے کسی چرچ کا پادری رہا ہے، اس نے اپنی کتاب ميں انکشاف کيا ’مسلمانوں کی مقدس ہستيوں کی توہين ايک سازش کے ذريعے کی جاتی ہے اور اس کا مقصد صرف يہ ديکھنا ہوتا ہے کہ مسلمان کس حد تک مغربی تہذيب ميں رنگے جاچکے ہيں اور ان کی برداشت کا ليول کيا ہے؟ يہ لوگ اس قسم کی توہين کے ذريعے مسلمانوں کی برداشت کا امتحان ليتے ہيں۔‘ يعنی کہ يہ تمام حرکتيں ايک تجربہ، ايک ٹيسٹ بھی ہوتی ہيں۔

  ناموسِ رسالت جو کہ ہمارا موضوعِ بحث ہے۔ جسے ہميں ايک بڑے وسيع پس منظر ميں ديکھنے کی ضرورت ہے۔ ناموسِ رسالت پر ضرب لگانے کے اسباب اور اس کے عوامل اور اس کا پس منظر کيا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے؟ اور اس کے پسِ پشت کيا مقاصد کار فرما ہيں اور ساتھ ہی ساتھ ہماری ايمانی کيفيت کا کيا حال ہے؟ ہميں ديکھنا ہوگا کہ کيا حضورﷺ کی توہين اس کا مقصد ہے يا اس کا مقصد اس سے بڑھ کر ہے؟ کيا يہ جارحيت کا مظاہرہ نہيں ہے؟ کيا کسی کے ايمان کے اوپر حملہ آور ہونا جارحيت کی بدترين شکل نہيں ہے؟ ہم سمجھتے ہيں يہ بڑی بامقصد اور بلند عزائم سے پر جارحيت ہے۔ جب آپ کی زمين کے اوپر حملہ کيا جاتا ہے تو وہ جارحيت اتنی شديد نہيں ہوتی جتنی آپ کی روح کے اوپر حملے کی شکل ميں ہوتی ہے۔ ہماری روحوں کے خلاف حملے ہورہے ہيں، يہ روحِ بدن ہمارے بدنوں سے نکالی جارہی ہے اور يقينا اس کے پسِ پشت ايک عظيم مقصد کارفرما ہے۔ يعنی مسلمانوں سے مسلمانوں کا رول ماڈل بھی چھينا جائے۔ہمارا آئيڈيل رول ماڈل جس کی جانب ہماری تمام محبت و نسبت ہے۔ يہ جو منظرنامہ ہے اس کی بہترين عکاسی علامہ اقبالؒ نے اپنی نظم ’ابليس کی مجلسِ شوريٰ‘ کے اندر کی ہے جب ابليس اپنے شورائيوں کو کہتا ہے کہ:

؎ افغانيوں کی غيرت دين کا ہے يہ علاج
     مُلّا کو اس کے کوہ و دمن سے نکال دو
     وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہيں ذرا
     روح محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو

  اگر سيموئل ہننگٹن کا نظريۂ ’تہذيبوں کے تصادم (Clashes of the Civilization) ‘کے پس منظر ميں ديکھيں تو يہ ايک جنگ ہے، کھلی جنگ ہے، اس جنگ کے اندر مقابلہ اُمّتِ مسلمہ ميں سے صرف کچھ لوگ کررہے ہيں جب کہ کرنا سب کو چاہيے۔ مغربی دنيا ميں توہينِ رسالت کی شرم ناک واردات کے ساتھ ہی تہذيبوں کا تصادم بہت آگے بڑھ گيا ہے۔ پوپ بينیڈکٹ کا اسلام اور حضور اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی پر حملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ وہ ايک جانب اپنے ليکچر ميں مغرب کے Godlessness اور Faithlessness کا ذکر کر رہا تھا اور دوسری جانب اسلام اور پيغمبرِ اسلام کی توہين کر رہا تھا۔ آخر اس ملغوبے کا اس کے سوا کيا جواز ہو سکتا ہے کہ مغرب کی مردہ مذہبی عصبيت کو اسلام کے حوالے سے تحريک دينے کی کوشش کی جائے!

  آج جب کہ باطل قوتيں اسلام اور اس کی زندہ تہذيب کو دنيا ميں غالب ہوتا ہوا ديکھ کر ہولناک احساسِ کمتری ميں مبتلا ہورہی ہيں، مگر وہ اس کا اعتراف کرنے کی بجائے اپنا احساس برتری ظاہر کرنے کيلئے غصّے‘ حقارت اور تذليل کی زبان ميں بات کررہی ہيں۔

  مسلمان ہونے کی نسبت سے ہم لوگوں کا ايمان اس وقت تک پختہ اور مکمل نہيں ہوتا جب تک نبی اکرمﷺ کی ذات ہماری ذات، جان اور مال سے قيمتی نہ ہوجائے۔ ہم لوگ دنيا کے ہر معاملے پر سمجھوتہ کرسکتے ہيں ليکن ہم نبی اکرمﷺ کی ذاتِ اقدس پر نہ کوئی سمجھوتہ کرسکتے ہيں اور نہ ہی اس سمجھوتے کے بارے ميں سوچ سکتے ہيں۔

؎
کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تيرے ہيں يہ جہاں چيز ہے کيا لوح و قلم تيرے ہيں

  اُمّتِ مسلمہ جس اللّٰہ کے آخری رسول محمدﷺ سے عشق کرتی ہے، جس کے لئے وہ اپنی جان ومال، عزّت و آبرو، والدين، بيوی و اولاد سب قربان کرنے کو تيار ہوجاتی ہے۔ لہٰذا جسدِ واحد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہاں کہيں بھی جس ملک ميں بھی مسلمان بستے ہوں انہيں چاہيے کہ توہين آميز کارٹون چھاپنے والوں کو وہاں کی عدالت ميں نفرت پھيلانے اور مذہبی جذبات کو ٹھيس پہنچانے کے جرم ميں گھسيٹے؟ جس طرح يہوديوں نے ڈيوڈ ارونگ اور ارنسٹ زينڈل کو ہولوکاسٹ پر مشتمل تحقيقی کتاب "Did Six Million Really Die" لکھنے کی پاداش ميں گھسيٹا تھا۔ يہ مقدمے مختلف ممالک ميں اس لئے چلائے گئے کہ کينيڈا ميں بيٹھا شخص ايک تحرير لکھتا ہے تو جہاں بھی وہ پڑھی جاتی ہے اور نفرت پھيلتی ہے تو وہ اس ملک کا بھی مجرم ہے۔

  الحمد اللّٰہ! ہمارے اندر بھی ہمارے اسلاف کا خون موجِ زن ہے اور جب تک يہ دنيا قائم ہے انشاء اللّٰہ اُمّتِ مسلمہ کی رگوں ميں عشقِ رسولﷺ کی حرارت موجود رہے گي۔ اُمّتِ مسلمہ کو چاہئے کی جس طرح ڈنمارک کے معاملے ميں ساری دنيا کے مسلمانوں نے باطل کے حواريوں کی بنائی ہوئی مصنوعات کا بائيکاٹ کيا تھا، اسی طرح ان کی تہذيب و ثقافت کا بھی بائيکاٹ کيا جائے اور اس سے اپنی کوفت کا اظہار بھی کيا جائے۔

  اُمّتِ مسلمہ کی محمد رسول اللّٰہﷺ سے محبت اور ان کی توہين کے مجرموں کو سزا وہ راستہ ہے جو دنيا بھر ميں ثابت کرسکتا ہے کہ ايک ارب ۴۵ کروڑ مسلمان جب اکھٹے ہوں تو اس طوفان کا مقابلہ کتنا مشکل ہوتاہے؟ يہ گھڑی ہے مسلمانوں سے نيل سے تابخاک کا شغر تک ايک ہونے کي۔ يہ عقيدت کے دعوے اس وقت سچ ثابت ہونگے جب تک ہم عالم کفر کو يہ نہ سمجھا دے کہ مسلمان اپنے پيغمبرﷺ کی شان ميں نہ کسی گستاخی کو برداشت کر سکتے ہيں اور نہ ہی اس مذموم فعل کی معافی کا کوئی سوال ہے۔
يہ حقيقت ہے کہ جو امّت اپنے قائد کا دفاع کرنے کی طاقت و قوت نہيں رکھتی وہ کبھی بھی اپنے دشمنوں پر فتح و نصرت اور غلبہ حاصل نہيں کر سکتي۔

؎ ايک نامِ محمد صلی اعليٰﷺ
    ماہر کے لئے تو سب کچھ ہے
٭٭٭٭
Feb, 2015
By مسعود محبوب خان
Read online @ http://wahdateislamihind.org/?p=3526
Shared via Wahdat Jadeed
Visit us @ http://wahdateislamihind.org/
Download Android App @ https://play.google.com/store/apps/details?id=com.NoorApps.WahdatJadeed

           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
      Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══ •••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

New World Order aur Alam e Islam

Munshiyat ke asraat insaani zindagi par