دفاعِ نامُوسِ رِسالَت__ بقائے اُمَّت

*دفاعِ نامُوسِ رِسالَت*

*بقائے اُمَّت*


*ازقلم:مسعود محبوب خان (ممبئی)*


09422724040


https://bit.ly/3zApkVM


"دفاعِ نامُوسِ رِسالَت__ بقائے اُمَّت"

        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
        دفاعِ نامُوسِ رِسالَت__ بقائے اُمَّت
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040

    عصر حاضر میں باطل قوتوں کی جانب سے نبوت و رسالت پر جو رکیک اور ناروا حملے کئے جارہے ہیں، دراصل اس قسم حرکتیں آج کی پیداوار نہیں ہیں بلکہ صدیوں سے اسلام دشمن قوتوں اور شیطان کے حواریوں کا یہی شیوہ رہا ہے۔ اللّٰہ کے رسولﷺ کی ذاتِ گرامی کو دُشْنام طَرازی اور تضحیک کا نشانہ بنانا دراصل یہ ان کی شکست خوردگی، بزدلی، تباہی و بربادی کے ایام کی کھلی نشانیاں ہیں۔

     مجھے اپنے کالج کے ابتدائی دور کا واقع یاد آرہا ہے، 24 فروری 1989ء کو دینی جماعتوں و علماء کرام، قائدین و دانشورانِ ملت کی جانب سے احتجاجی ریلی کا کال دیا گیا تھا، اس جلوس کی وجہ؛ ہند نژاد شاتم رسول بدنام زمانہ مردود و ملعون سلمان رشدی (shaitan rush die) نے باطل حواریوں اور اپنے شیطانی آقاؤں کی شئے پر ایک کتاب "سیٹینک ورسیس" ( Satanic Verses) لکھی تھی۔ جس میں اس ذلیل و ملعون، خبیث اولاد اور character less انسان نے رسول اللّٰہﷺ اور ازواجِ مطہراتؓ کی شان میں گستاخیاں کیں۔ اسی کی مخالفت میں قلبِ ممبئی کے مستان تالاب سے بریٹیش ہائی کمیشن کے دفتر تک ایک احتجاج منعقد کیا گیا تھا۔

     اس وقت ہم مہاراشٹر کالج میں FYJC کے طالب علم تھے۔ ہم کالج کے طلباء نے بھی اس احتجاج میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ مسلمانوں کے اس احتجاجی مظاہرے کے منتظمین و قیادت کو قبل از وقت گرفتار کرلیا گیا، لیکن عشقِ بلا خیز کا قافلہ کہاں رکتا؟ وہ بھی ایسی اجتماعیت جو نامُوسِ رِسالَت کی تَقَدُّس و حرمت کے لئے جمع ہوئی تھی۔

     بحیثیتِ مسلمان رسولِ کریمﷺ کی عفت و عظمت، عزت و حرمت اہل ایمان کا جزوِ لاینفک ہے۔ حبِ رسولﷺ وہ سدا بہار کیفیت ہے جو ایمان کے پہلے لمحے سے زندگی کے آخری سانس تک مومن کا سرمایۂ زیست ہے۔ حبِ رسولﷺ ایمانیات میں سے ہے اور آپ کی شانِ مبارک پر حملہ اسلام پر حملہ ہے۔ انہیں تعلیمات کے پیشِ نظر مسلمانان بمبئی نے اپنی دینی و ملی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلوس کرافورڈ مارکیٹ تک پہنچا ہی دیا، لیکن کرافورڈ مارکیٹ پہنچنے کے بعد ایک متعصب اعلیٰ پولیس افسر شنگارے نے اپنے سیاسی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نہتے مسلمانوں پر اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندھادھند گولیاں برسانی شروع کردیں، جس کے نتیجے میں 11 مسلم نوجوان شہید ہوئے اور کئی مسلمان زخمی ہوئے۔

      ٹھیک ایسی ہی مثال حال ہی میں قائم کی گئیں؛ نامُوسِ رِسالَت کی عزمت کے لئے جمع ہوئے مسلمانوں پر شرپسندوں کے ذریعے پتھراؤ کیا گیا اور بعد میں اپنے کارندوں کے ذریعے گولیاں چلائیں گئیں، جس کے نتیجے میں کئی مسلمان نوجوانوں کو جام شہادت نوش کرنا پڑا۔ واقعی مبارک باد کے مستحق ہیں شانِ اقدس میں شہادت کے گلہائے عقیدت پیش کرنے والے نہتے شہداء جانثاران رسولِ اکرمﷺ! جن کی شہادت نے ثابت کر دیا کہ اللّٰہ ربّ العالمین پر ایمان لانے کے بعد محمد مصطفیٰﷺ پر ایمان لاکر اپنی جان و مال کو نچھاور کرکے کیسے نامُوسِ رِسالَت کا تَحَفُّظ کیا جاتا ہے؟

     33 سال پہلے ایک باپ جس کا واحد سہارا اس کا بیٹا تھا، اس باپ نے نامُوسِ رِسالَت پر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہید بیٹے کے لئے شہداء کی ياد ميں ايک تعزیتی جلسہ میں ببانگِ دہل یہ کہا کہ "اگر اللّٰہ نے مجھے اور بھی اولاد دی ہوتی تو ميں نامُوسِ رِسالَت پر انہيں بھی قربان کرديتا۔" اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر

     ٹھیک 33 سال بعد ایسے ہی جملے ایک ماں کی زبان سے ان کانوں نے سنے، جس کے لخت جگر کو نامُوسِ رِسالَت کے احتجاج میں نہتے سر میں گولی مار کر شہید کیا گیا۔ اس ماں کے جملہ بھی کانوں میں رس گھول رہے ہیں۔ ماں نے کہا "میرے بیٹا! اسلام زندہ باد کے نعروں کی صدا بلند کرتے ہوئے شہید ہوا ہے، اسلام زندہ تھا، اسلام زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ میرا 16 سالہ بچہ اپنے اسلام کے لئے شہید ہوا ہے، اس ماں کو فخر ہے۔ حضورﷺ کے لئے اپنی جان کو دیا ہے، اس نے شہادت کا درجہ پایا ہے مجھے کوئی غم نہیں۔" سبحان اللّٰہ! اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر

     مظلوم ماں اور باپ کے يہ الفاظ ہم مسلمانوں کی ذہنيت اور طرزِ فکر و حیات کی عکاسی کرتے ہيں۔ ہم اپنے مذہب، نبی اکرمﷺ کی مقدس و مطہر شخصيت اور صحابۂ کرامؓ کی ذات پر کسی قسم کی مصالحت (Compromise) نہيں کرتے، چاہے اس کے لئے ہميں اپنی جانوں کے نذرانے ہی کيوں نہ پيش کرنا پڑے۔

  ہزار جدت طرازی کے لباس بدلا کرے زمانہ
  مگر یقیناََ رہے گا عامر مزاجِ باطل وہی پرانا

     مسلمان کے نزدیک اللّٰہ کے رسولﷺ کی محبت عین ایمان ہے، مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن اللّٰہ کے رسولﷺ کی شانِ اقدس میں ادنی سی گستاخی کبھی بھی برداشت نہیں کرسکتا ہے۔ حضور خاتم النبینﷺ اور امت مسلمہ کے مابین وہی ربط و تعلق ہے جو جسم و جان کا ہے۔ آپﷺ کی نامُوسِ و تَقَدُّس ملت اسلامیہ کا اہم فریضہ ہے۔ مسلمان آپﷺ کی توہین، تنقیص، بے ادبی برداشت نہیں کرسکتا، وہ اپنے نبی کریمﷺ کی عزّت و نامُوسِ پر شہید ہونے اور عِفَّت و تَقَدُّس کی خاطر دنیا کی ہر چیز قربان کرنے کو زندگی کا مقصد سمجھتا ہے۔ انہی بنیاد پر جس خطہ میں بھی مسلمان اہل اقتدار رہے وہاں کی عدالتوں نے اسلامی قانون کی رو سے شاتمانِ رسول کے لئے سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ جہاں اقتدار نہیں رہا وہاں جانثارانِ رسولِ اکرمﷺ نے رائج الوقت قانون کی پرواہ کئے بغیر گستاخانِ رسول و شاتم رسول کو کیفرِ کردار تک پہنچاتے ہوئے، چہرۂ منور پر مسکراہٹوں کے ساتھ پابند سلاسل ہوئے یا تختۂ دار کو چومتے ہوئے جام شہادت نوش فرماتے ہوئے، اپنے ربّ حقیقی سے جاملے۔ رہتی دنیا تک وہ لوگ زندہ ہوگئے۔ جانثارانِ تَحَفُّظ نامُوسِ رِسالَت سے تاریخ اسلام بھری پڑی ہیں۔ وہیں شاتم رسول کا انجام دنیا کے لئے نشان عبرت ہوچکا ہے۔

     نامُوسِ رِسالَت کی محافظت کے لئے ہمیں بحیثیت امت و فرد اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ اہل حق علمائے کرام، مخلص قائدین و دانشورانِ ملت اور جماعتوں و اداروں کو آگے آنا ہوگا۔ ورنہ اس سفینے کی حفاظت تو اللّٰہ ضرور کرے گا، مگر اس وقت افسوس ہائے۔ افسوس ہمارے ہاتھ مایوسی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگا۔

     موجودہ دور میں گستاخی کا ارتکاب کرنے والے بدبختوں نے یہ سوچا ہے کہ اب یہ امت مسلسل ظلم و جبر کے نتیجے میں کمزور ہوگئی ہے وہ اس طرح کے معاملات کو ہضم کرلے گی، لیکن غیرت مند مسلمانوں نے شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا، جس نتیجہ میں اذیتوں و شہادتوں کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

     ہم اجتماعی طور پر ایک دن کو مختص کریں جسے ہم "یوم تَحَفُّظ نامُوسِ رِسالَت" کے نام پر منائیں۔ اس دن ہم نامُوسِ رِسالَت پر مختلف قسم کے پروگرام ترتیب دیں۔ سیرتِ محمد مصطفیٰﷺ کا وسیع پیمانے پر مطالعہ کریں۔ چھوٹے بچوں میں سیرت لیکچر سیریز کا اہتمام کریں۔ غیر مسلموں میں بھی نبی کریمﷺ کی عزمت و عزت کو پروان چڑھانے کے لئے مقامی زبانوں میں سیرت طیبہ پر کتابیں ان تک پہنچائیں۔

     ساتھ ہی ساتھ ایکشن کمیٹی برائے تَحَفُّظ نامُوسِ رِسالَت کی بناء بھی ڈالیں۔ ملک کی تمام مذہبی و سیاسی تنظیمیں، تمام مکاتب فکر کے افراد متحد اور پرعزم ہوکر ایک اجلاس منعقد کرکے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کریں، جس میں تَحَفُّظ نامُوسِ رِسالَت کو یقینی بنانے کے لئے بحیثیت مسلمان ہماری کیا ذمہ داریاں ہوسکتی ہیں اس پر امت مسلمہ کی رہنمائی کریں۔ اگر ہمارے دانشورانِ ملت، جماعتیں اور ادارے اتنا بھی نہ کریں تو حیف ہے ہمیں ہماری اجتماعیت پر۔ جو قوم اپنے نبی کریمﷺ کی عصمت و عفت کی محافظت نہیں کرسکتی ان کا دنیا میں وجود کسی کام کا نہیں! اللّٰہ کے رسول کے تقدس و حرمت پر ایسی کئی جماعتیں و ادارے قربان! يہ حقيقت ہے کہ جو امّت اپنے قائد کا دفاع کرنے کی طاقت و قوت نہيں رکھتی وہ کبھی بھی اپنے دشمنوں پر فتح و نصرت اور غلبہ حاصل نہيں کر سکتي۔

     نامُوسِ رِسالَت امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ ہے اور اس انتہائی حساس مسئلے پر باطل قوتوں کی جانب سے انتشار اور تفرقہ پھیلانے کی سازشیں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔ باطل قوتوں کی شرارتوں اور شرانگیزیوں سے کیسے ہم اپنے معاملات کو محفوظ کرسکتے ہیں اس پر ہمیں کوئی کوئی نا کوئی خاکہ بنانا پڑے گا۔

     حکومتی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لئے کیا مستقل لائحہ عمل اور خطوط ترتیب دیے جاسکتے ہیں اس کے لئے سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔ اور اس سلسلے میں حجت تمام کرنی ہوگی۔ ان سب سعی و جہد کے بعد اگر مسائل مزید بڑھیں تو پھر آخر اس مسئلہ کا حل تو وہی ہے جس سے ہماری زریں تاریخ کے ابواب بھرے پرے ہیں۔

     آزادیِ اظہارِ رائے (freedom of expression) کے نام پر کسی کے جذبۂ ایمانی کو مجروح کرنے اور مقدس مذہبی شخصیات کی شان میں گستاخی کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں ہے! گستاخی کا ارتکاب کرنے والے بدبخت اور بدطینت افراد کو نشانِ عبرت بنانا ہی اس مسئلے کا حل ہوگیا ہے۔

           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
      Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══ •••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam