رحمت اللعالمینﷺ اور شاتم رسول
"رحمت اللعالمینﷺ اور شاتم رسول"
┄┅════❁﷽❁════┅┄
╗═════•❁ا۩۩ا❁•═════╔
رحمت اللعالمینﷺ اور شاتم رسول
╝═════•○ ا۩۩ا ○•═════╚
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
جن کا شمار منکرینِ حدیث میں ہوتا ہے وہ لوگ احکامِ شریعت کے لئے صرف قرآن حکیم کو ہی دلیل مانتے ہیں۔ اسلام میں قرآن کے احکامات کے ساتھ، رسول اللّٰہﷺ کی سنت و حدیث بھی شرعی دلیل و برہان رکھتی ہیں۔ قرآن کو سنت و حدیث سے علیحدہ کرکے سمجھنا اہل باطل اور صراطِ مستقیم سے گمراہ لوگوں کا شیوہ رہا ہے۔
نمازوں کی ادائیگی کا طریقہ، مسافر، مریض، بچوں اور عورتوں کے نماز کے حوالے سے احکام، غسل، کفن و دفن اور نمازِ جنازہ کے احکام، زکوٰۃ کا حکم، احکامِ حج وغیرہ کا قرآن میں صراحت کے ساتھ ذکر نہیں ہے۔ تو کیا نعوذبااللّٰہ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: ''عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو تمہارے ساتھ قرآنِ حکیم کے شبہات کے ساتھ جدال کریں گے، تو ان کو سنت کے ساتھ پکڑ کرنا، اس لئے کہ سنن والے اللّٰہ کی کتاب کو سب سے زیادہ جانتے ہیں۔''
ہمارے لئے لازم ہےکہ رسالتمآبﷺ کی جانب سے جو کچھ بھی آئے، اُسے محفوظ کرلیں اس لئے کہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: ''اور جو کچھ رسولﷺ تمہیں دے دیں، اسے لےلو اور جس چیز سے وہ تمہیں منع کردیں، اس سےباز آجاؤ۔'' تو (اللّٰہ کے رسولﷺ کی احادیث و سنن) ہمارے نزدیک قرآن کی منزلت پر ہیں۔
اس مختصر سی توضیح سے یہ بات عیاں ہوگئی کہ بعض دانشورانِ سوء، نام نہاد مفکرین و متجددین اور چند جدیدیت کے قائل مفکرین کا درس و تدریس اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ذریعے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم وغیرہ پر اس بات کا شور و غل مچانا کہ شاتم رسول کی سزا کے احکامات قرآن کریم میں نہیں ہے، واضح طور پر سنت اور حدیث کی مخالفت کی دلیل ہے۔ ایسے منکرین کو مسلمانوں کا نمائندہ ظاہر کرنا اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ زیادتی اور ظلم ہے۔ جب کہ یہ مسلمہ امر ہے کہ قرآن و سنت اور اجماع صحابۂ کرامؓ ہی اُمت ِمسلمہ کے تمام مسائل کے لئے بنیادی اصول ہیں۔
ایسے ہی لبرل قبائل میں سے ایک قبیلے کا نام فکر غامدی ہے۔ جو اپنے ابلیسی تلبیسی استدلال اور چرب زبانی سے امت مسلمہ کو گمراہ کرنے کے لیئے کافی مشہور ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کو میڈیا پر باقاعدہ منصوبہ کے تحت امت مسلمہ کو اپنی ماضی سے کاٹنے اور دین کے تعبیرات تبدیل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور آج اسی سحر غامدی میں تحریکِ اسلامی کا بڑا طبقہ اپنی خدمات پیش کررہا ہے۔
دشمنانِ دین و باطل پرستوں کے الفاظ کی لب کشائی کرنا ان کا شیوہ بن گیا ہے۔ باطل قوتوں کے لئے راستہ ہموار کرنا ان کا طریقہ کار ہوگیا ہے۔ بے موقع کا راگ الاپنے والوں کو کہاں قرآن کی آیات میں شاتم رسول اور گستاخ رسول کی سزا نظر آئے گی؟ جب کہ واضح طور پر قرآن کہتا ہے:
"اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کر دیں تو کُفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ پھر تلوار ہی کے زور سے وہ باز آئیں گے۔
کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسُول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو اللّٰہ اِس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔
ان سے لڑو، اللّٰہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا۔" (سورۃ التوبة: 12 تا 14)
مندرجہ بالا آیاتِ بینات میں اللّٰہ نے نقضِ عہد کے مرتکبین اور دین اسلام میں طعن کرنے والے جیسے، اللّٰہ کی گستاخی یا اللّٰہ کے رسول کی گستاخی یا اسلام کے کسی بھی مسئلے پر طعن و تشنیع سے کام لینے والے اور اللّٰہ کے رسولﷺ کو مکہ مکرمہ سے نکالنے کا پروگرام بنانے والے لوگوں سے قتل و قتال کا حکم دیا ہے۔
جو بھی دل عشقِ نبیﷺ سے سرشار ہو، جس دل میں حب رسولﷺ کی تڑپ موجزن ہو، انہیں قرآن مجید کی یہ آیات صدا لگا رہی کہ اخراج الرسول، قتل الرسول اور اثبات الرسول کا ارادہ رکھنے والے شاتمین کے ساتھ اللّٰہ نے قتال کا حکم صادر فرمایا ہے۔ ایمان والے لوگوں کے ہاتھوں اللّٰہ تعالیٰ اُن گستاخوں کو عذاب دینا اور رسوا کرنا چاہتا ہے اور جو لوگ ان گستاخوں کے خلاف صف بستہ ہو جائیں گے، ان کی نصرت و مدد اللّٰہ تعالیٰ خود فرمائے گا اور ان کے قتل پر اللّٰہ ایمان والوں کے سینوں کو شفاء اور ٹھنڈک پہنچائے گا اور ان کے دلوں کا غیض و غضب دور کرے گا، کیونکہ گستاخانِ رسول کو قلع قمع کرنے سے اہل ایمان کو سکون و اطمینان ملتا ہے اور دلوں کا غصہ اُترتا ہے۔
"وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب کہ منکرینِ حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کر دیں۔ وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللّٰہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللّٰہ سب سے بہترین چال چلنے والا ہے۔" (سورۃ الأنفال: 30)
جن لوگوں نے آنکھوں پر معاونت ہنود اور حب یہود و نصاری کی پٹی باندھ رکھی ہو، اُنہیں قرآن حکیم میں کہاں گستاخِ رسول کی سزا نظر آئے گی؟
"جو لوگ اللّٰہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللّٰہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔" (سورۃ الأحزاب: 57)
قرآن کی اس آیت میں رسول اللّٰہﷺ کو اذیت دینے والے گستاخِ رسول کو ملعون قرار دیا گیا ہے اور اس کے لئے رسوا کن اور ذلت آمیز عذاب و سزا کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس آیت کے ذریعے گستاخانِ رسول پر دنیا اور آخرت کی جن لعنت کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہی ہے کہ قتل اور جلاوطنی اور آخرت میں دہکتی ہوئی آگ کا ایندھن بنیں گے۔ امام ابن جوزیؒ اور دیگر علمائے حق کے نزدیک دنیا میں لعنت سے مراد قتل اور جلاوطنی کی سزا اور آخرت میں آگ کی سزا ہے۔
ایذائے رسول کی یہی سزا نبی کریمﷺ نے متعین فرمائی ہے اور قرآن پاک کا سیاق و سباق اسی کی تائید کرتا ہے۔ ایک اور مقام پر قرآن کہتا ہے: "ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بُری طرح مارے جائیں گے۔" (سورۃ الأحزاب: 61)
توہین و تنقیص رسالت کے ضمن میں قانونِ الٰہی یہی ہے کہ ایسے ناپاک ملعون لوگ بُری سزا کے حقدار اور واجب القتل ٹھہرائے جائیں۔
بعض احادیثِ صحیحہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسے گستاخوں کے قتل و ذبح کا حکم آپﷺ کو مکہ میں ہی معلوم ہوچکا تھا، لیکن اس کی باقاعدہ تنفیذ مدینہ طیبہ میں آکر ہوئی۔
سورہ البقرہ اور سورہ آلِ عمران کی آیت کریمہ کا عفو و درگزر اور معافی کا حکم، قتال فی سبیل اللّٰہ کا حکم آنے سے قبل کا معاملہ تھا جب جہاد و قتال والا حکم آگیا، تو پھر گستاخانِ اللّٰہ اور رسولﷺ کی معافی والا معاملہ منسوخ ہوگیا اور ان کے قتل و قتال کا حکم وارد ہوگیا۔
عبداللّٰہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینا کی اُمّ ولد تھی جو نبی کریمﷺ کو گالیاں بکتی اور آپ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتی تھی۔ وہ نابینا صحابی اسے منع کرتے، وہ باز نہ آتی تھی۔ اسے ڈانٹتے تھے وہ سمجھتی نہ تھی۔ ایک رات جب وہ نبی کریمﷺ کی بدگوئی کرنے لگی تو اُنہوں نے برچھا پکڑا تو اسے اس کے پیٹ پر رکھ دیا اور اُس پر اپنا بوجھ ڈالا اور اسےقتل کردیا۔ جب یہ بات نبی کریمﷺ کو معلوم ہوئی تو آپﷺ نے فرمایا: خبردار، گواہ ہو جاؤ اس لونڈی کا خون ضائع و رائیگاں ہے۔ (سنن ابو داؤد: 4361)
ايك يہودى عورت نبى كريمﷺ كى توہين اور آپ پر سب و شتم كرتى تھى، تو ايك شخص نے اس كا گلا گھونٹ ديا حتى كہ وہ مر گئى، تو رسول كريمﷺ نے اس كا خون باطل قرار ديا۔ (سنن ابو داؤد اور مصنف ابن ابی شیبہ)
سکے کے دو پہلو ہوتے ہیں، کوئی انسان کو سکے کا ایک پہلو سمجھ میں آتا ہے، تو کسی دوسرے انسان کو دوسرا پہلو سمجھ میں آتا ہے۔ اس حدیث سے موجودہ نام نہاد دانشوروں کو عفو و درگزر کا پہلو سمجھ میں آیا اور ہمیں کچھ اور سمجھ میں آیا۔ ہمیں جو پہلو سمجھ میں آیا وہ یہ کہ اگر رسول اللّٰہ کی ذاتِ گرامی کو سب و شتم کرنے والی عورت بھی ہو تو اسے معافی نہیں دی جائے گی اس کو قتل کیا جائے گا اور اس کا خون رائیگاں اور بے کار ہوگا، کوئی قصاص و بدلہ نہیں اور نہ ہی دیت ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ موجودہ نام نہاد دانشورانِ ملت کو ہدایت و رہنمائی سے سرفراز کریں۔
موجودہ مفاد پرست اسکالروں کی باتیں سن کر یہ کہہ دینا کہ قرآن مجید و حدیث طیبہ میں کہیں بھی گستاخ رسول کو قتل کرنے کا ذکر نہیں ملتا یہ بہت بڑی نادانی اور ناقص العقلی کا مظاہرہ ہے۔ عہدِ نبوی کی بے شمار مثالوں کو بھی ایک نظر دیکھ لینا چاہیے کہ کس طرح ناموسِ رسالت کی دریدہ دہنوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔
مدینہ منورہ میں ابو عفک نامی ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں ایک ہجو آمیز نظم لکھی۔ حضرت سالم بن عمیرؓ نے حضور ﷺکے حکم پر اس مردود کو واصلِ جہنم کیا۔ (سیرۃ ابن ہشام:4/282)
یہودیوں کا سرغنہ کعب بن اشرف کو صرف نقضِ عہد کی سزا نہیں دی گئی بلکہ وہ گستاخِ رسول تھا اور مذمتی اَشعار میں آپﷺ کو گالیاں بکتا اور ہذیان گوئی کرتا تھا اور ویسے بھی رسول اللّٰہﷺ کی توہین سے نقضِ عہد ہو جاتا ہے۔ حضورﷺ کی خواہش پر حضرت محمد بن مسلمہ نے اس کے ناپاک وجود سے زمین کو پاک کردیا۔ (صحیح بخاری، کتاب المغازی)
فتحِ مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان کردیا گیا تھا، لیکن شاتمِ رسول ابن خطل کو معافی نہیں دی گئی، اس نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑ رکھا تھا اور اسی حالت میں اسے واصلِ جہنم کیا گیا، ابن خطل کی دو لونڈیوں کا خون بھی حضورﷺ نے رائیگاں قرار دیا تھا، کیوں کہ وہ بھی حضورﷺ کی شان میں ہجو آلود اشعار گایا کرتی تھیں۔
(صحیح بخاری، کتاب المغازی)
اس طرح کے واقعات سے اسلامی تاریخ بھری پڑی ہیں۔ موجودہ دور میں اس کا مطالعہ بےحد ضروری ہے۔
شانِ رسالت میں جب ادنیٰ سى بے ادبی کو حبط اعمال کا سبب قرار دیا گیا ہے تو گستاخی شدید ترین جرم ہے۔ گستاخ رسول کی سزا صحابۂ کرام، تابعین، تبع تابعین، فقہائے امت، اولیائے امت، محدثین کبار اور مفسرین عظام نے لکھی ہے کہ اس کو بطور حد کے قتل کردیا جائے گا اور توبہ کرنے پر بھی یہ سزا اس سے معاف نہیں ہوگی۔
مذکورہ بالا اسلامی احکامات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ شاتم رسول اور دشنام طرازی کرنے والے گستاخ رسول کا ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے قتل۔
انہی بنیاد پر جس خطہ میں بھی مسلمان اہل اقتدار رہے وہاں کی عدالتوں نے اسلامی قانون کی رو سے شاتمانِ رسول کے لئے سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ جہاں اقتدار نہیں رہا وہاں جانثارانِ رسولِ اکرمﷺ نے رائج الوقت قانون کی پرواہ کئے بغیر گستاخانِ رسول و شاتم رسول کو کیفرِ کردار تک پہنچاتے ہوئے، چہرۂ منور پر مسکراہٹوں کے ساتھ پابند سلاسل ہوئے یا تختۂ دار کو چومتے ہوئے جام شہادت نوش فرماتے ہوئے، اپنے ربّ حقیقی سے جاملے۔ رہتی دنیا تک وہ لوگ زندہ ہوگئے۔ جانثارانِ تَحَفُّظ نامُوسِ رِسالَت سے تاریخ اسلام بھری پڑی ہیں۔ وہیں شاتم رسول کا انجام دنیا کے لئے نشان عبرت ہوچکا ہے۔
جو قوم اپنے نبی کریمﷺ کی عصمت و عفت کی محافظت نہیں کرسکتی ان کا دنیا میں وجود کسی کام کا نہیں! اللّٰہ کے رسول کے تقدس و حرمت پر ایسی کئی جماعتیں و ادارے قربان! يہ حقيقت ہے کہ جو امّت اپنے قائد کا دفاع کرنے کی طاقت و قوت نہيں رکھتی وہ کبھی بھی اپنے دشمنوں پر فتح و نصرت اور غلبہ حاصل نہيں کر سکتی۔
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
(03.07.2022)
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══ •••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment