اسماء الحسنٰی الموخر
•اسماء الحُسنیٰ۔۔ المؤخر•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
•اسماء الحُسنیٰ۔۔ المؤخر•
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
وَلِلّٰہِ الأَسْمَاء الْحُسْنَی فَادْعُوہُ بِہَا وَذَرُواْ الَّذِیْنَ یُلْحِدُونَ فِیْ أَسْمَآءِہِ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ۔ (سورہ الاعراف: 180)
(اللّٰہ اچھے ناموں کا مستحق ہے، اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور اُن لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہوجاتے ہیں۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے۔) (ترجمہ: فی ظلال القرآن)
انسانی فطرت اور لاشعور اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں، اسی لئے تہذیب و ادیان کے طلوع سے اب تک اس کو پکارنے، اس سے مدد مانگنے اور اس سے لطف و کرم کا سوال کرنے کے بے شمار انداز و اسالیب سرشتِ انسانی (styles of human nature) کی ”کاوش ندا“ کے طور پر سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن عقیدۂ توحید کے ذریعے حقیقی ”تصورِ الہٰ“ کو روشن اور واضح کرکے اسلام اور قرآن کریم نے قادرِ مطلق اور خالقِ حقیقی کو پکارنے کے جو آداب و اسماء سکھائے ہیں‘ ان سے بہتر کا تصور ممکن نہیں۔ اللّٰہ نے اپنے اسمائے گرامی کو خود ہی ”اسمائے حسنیٰ“ یعنی بہترین اور خوبصورت نام قرار دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اسماء الحسنیٰ.... جمال و زیبائی کا مرقع ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ جن صفات کے ساتھ متصف یا جن اسماء کے ساتھ موسوم ہے وہ سب کے سب ازلی و ابدی ہیں، یعنی وہ ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی ایسے نام کے ساتھ موسوم کیا جائے جس کے ساتھ پہلے موسوم نہیں تھا۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جس کسی نے انہیں حفظ کرلیا وہ جنّت میں داخل ہوگیا“۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث: 7392؛ سنن الترمذی، رقم الحدیث: 3518)۔
یہ ننانوے اسمائے الٰہی... توفیقی...ہیں، جن سے قرآن نے ہمیں واقف کیا ہے۔ توفیقی کا مطلب یہ ہے کہ کتاب اور سنّت کی نص کے علاوہ کسی اسم کا اللّٰہ تعالیٰ پر اطلاق جائز نہ ہو۔ ..... اللّٰہ...’. اسم ذات‘ ہے باقی... ’اسمائے صفات‘ ہیں۔
’لہُ الااسماء الحسنیٰ‘ نظروں کے سامنے سے گذرنے کے بعد ہر حسین و جمیل اور خوبصورت نام میں اللّٰہ کی ہی کبریائی نظر آتی ہے۔ جیسے اللّٰہ کی ذات لامحدود ہے اس کی صفات بھی لامحدود ہے۔ اسی لئے ہمیں اسماء الحسنی کے مفہوم، اس کے تقاضے اور اس کے حقائق کا شعوری مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے۔ الحمد اللّٰہ! اسماء الحسنیٰ کے شعوری مطالعہ کی ترغیب دلانے کے لئے ہمارے ذمہّ دار نے ہمیں ایک زریں موقع میّسر کروایا اور اسی ضمن میں مجھے بھی اسماء الحسنیٰ کے اوصاف میں سے ایک صفت ”المؤخر“ پر اظہارِ خیال کا موقع عنایت فرمایا۔
”المؤخر“ اللّٰہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ ”المؤخر“ کے معنی ہیں سب سے آخر/ جسے چاہے پیچھے کردینے والا / ٹالنے والا۔ ”المؤخر“ یہ صفت قرآن کریم میں موجود نہیں ہے، البتہ ان کے افعال مستعمل ہوئے ہیں۔ ”انت المقدم، وانت المؤخر“ (البخاری: 1120) سے یہ صفات لی گئی ہیں۔ قرآن میں سورہ ابراہیم: 10/ 42، سورہ نحل: 61، سورہ فاطر: 45 اور سورہ نوح: 4 میں ”ویوخر“ کا ذکر ہے۔
یَدْعُوکُمْ لِیَغْفِرَ لَکُم مِّن ذُنُوبِکُمْ وَیُؤَخِّرَکُمْ إِلَی أَجَلٍ مُّسَ مًّی.... (سورہ ابراھیم:10)
(وہ تمہیں بلا رہا ہے تاکہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدت مقرر تک مہلت دے۔)
إِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الأَبْصَارُ(سورہ ابراہیم: 42)
(اللّٰہ تو انہیں ٹال رہا ہے اس دن کے لئے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں۔)
یعنی یہ ہے وہ دن جب نظریں کھلی ہوں کی لیکن ان کے حواس مبہوت ہوجائیں گے اور ان کو کچھ نظر نہ آئے گا۔ یہ ہے وہ دن جس کی طرف اللّٰہ ان کو مؤخر کر رہا ہے۔ انتہائی خوفناک دن اسی لئے اللّٰہ اسے ٹال رہا ہے کہ اب اپنا محاسبہ کرلو اور راہِ راست پر آجاؤ۔یہاں بھی اللّٰہ یہ احساس دلا رہاہے کہ اس خوفناک دن کو مؤخر کرنے والا، اسے ٹالنے والا میں ہی ہوں۔
مَّا تَرَکَ عَلَیْْہَا مِن دَآبَّۃٍ وَلَکِن یُؤَخِّرُہُمْ إلَی أَجَلٍ مُّسَمًّی (سورہ النحل: 61)
(روئے زمین پر کسی متنفس کو نہ چھوڑتا، لیکن وہ سب کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے۔)
اللّٰہ نے یہ مہلت کیوں دی؟ اس لئے کے وہ مؤخرکرنے والا بھی ہے، وہ ظلم و فساد برپا کرنے والے کو مہلت دیتا ہے کہ وہ سدھر جائیں اور عدل و انصاف قائم کریں، لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب مہلت ملتی ہے تو وہ غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب مظالم کا سلسلہ دراز ہوتا ہے تو اللّٰہ ان کی مہلت کو ٹال کر ذلیل و رسوا کر کے سزائیں متعین کرتا ہے۔
مَا تَرَکَ عَلَی ظَہْرِہَا مِن دَابَّۃٍ وَلَکِن یُؤَخِّرُہُمْ إِلَی أَجَلٍ مُّسَمًّی۔ (سورہ الفاطر: 45)
(زمین پر کسی متنفس کو جیتا نہ چھوڑتا، مگر وہ انہیں ایک مقرر وقت تک کے لئے مہلت دے رہا ہے۔)
یعنی ہر فرد کو اس کی طبیعی موت تک مہلت دیتا ہے اور دنیا میں وہ فرد اپنی عمر پوری کرتا ہے۔ اللّٰہ ربّ العالمین! سوسائٹیوں اور ملتوں کو بھی اپنے وقت مقررہ تک مہلت دیتا ہے، یا تو وہ اپنی اصلاح کرلیں.... یا وہ نیست و نابود ہوکر دوسروں کے لئے جگہ خالی کریں۔ نعوذ باللّٰہ! اللّٰہ ظالم نہیں ہے کے وہ عذاب برپا کرکے، سزائیں دے کر لوگوں کا حساب کرے بلکہ پوری بنی نوع انسان کو وہ مہلت دیتا ہے۔ اسی لئے اپنے عذاب و سزاؤں کو مہلت دے کر ٹالتا رہتا ہے۔
یَغْفِرْ لَکُم مِّن ذُنُوبِکُمْ وَیُؤَخِّرْکُمْ إِلَی أَجَلٍ مُّسَمًّی (سورہ نوح: 4)
(اللّٰہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا۔)
یہ باقی رکھنا، اس بات کے عوض میں ہوگا کہ تم اللّٰہ کی بندگی کرو گے، اللّٰہ سے ڈرو گے اور رسول خدا کی اطاعت کرو گے اور اس کے بدلے اللّٰہ مزید یہ کرے گا کہ تمہارے سابقہ گناہ بھی معاف کردیگا اور تمہارا حساب و کتاب اس وقت تک مؤخر ہو جائے گا جو اللّٰہ نے مقرر کر رکھا ہے، یعنی یوم الآخرت تک۔ اور اس طرح دنیا میں تم پر جو تباہ کن عذاب آنے والا ہے، وہ مؤخر ہو جائے گا۔ یہاں اللّٰہ یہ بتا رہا ہے کہ مؤخر کرنے والی ذات و صفات بھی اسی کی ہی ہے۔
رسول اللّٰہﷺ درج ذیل الفاظ کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے۔ ترجمہ: اے اللّٰہ! میری مغفرت فرما۔ میں جو گناہ کر چکا ہوں اور جو گناہ ابھی نہیں کیے اور میں نے جو گناہ چھپ کر کئے اور میں نے جو گناہ علانیہ کئے اور میں نے (اپنی جان کے اوپر) جو اسراف و زیادتی کی ہے۔ اور جس کا مجھ سے زیادہ تجھے علم ہے تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں (مسلم شریف)۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے دوستوں میں سے جس کو آگے بڑھانا چاہے اور ان کے درجات بلند کرنا چاہے وہی کرسکتا ہے، جیسے انبیاء و شہداء و صدیقین وغیرہ۔ اور اپنے دشمنوں کو جب چاہتا ہے پیچھے کر دیتا ہے۔ یعنی ان کو شکست دیتا ہے۔ اس کے دشمن چاہے کافر ہوں یا فاسق و فاجر ہوں۔
دراصل اللّٰہ کے اوصاف میں سے ایک صفت ’المقدم‘ کے ساتھ ہی جوڑ کر دیکھا جائے تو ہمیں ’المؤخر‘ کے معنی و حقائق سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ شان و شرف میں، علم و عمل میں، دولت و عزت میں اپنے خاص بندوں کو قریب کرے اور دشمنوں کو دور کرے۔ جسے چاہے ہمیشہ کے لئے یا بالفعل آگے کرے اور جسے چاہے پیچھے کردے۔ ان سب باتوں میں اس کی حکمت کار فرما ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے جسے آگے کیا وہ ہمیشہ آگے اور جسے پیچھے کیا وہ ہمیشہ پیچھے رہے گا (الزجاج و الغزالی و البونی)۔
یعنی ہر شئے کی تقدیم و تاخیر اسی ”المقدم و الموخر“ کے ہاتھوں میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے مقدم کرتا اور جسے چاہتا ہے موخر کرتا ہے۔ اسی لئے اللّٰہ نے اپنے آپ کو مؤخر کہلوایا ہے یعنی ہر مخلوق کو زیادہ سے زیادہ مہلت دیتا ہے۔ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ: ”اور وہ اللّٰہ تعالیٰ ہی مقدم و مؤخر ہے، تو یہ دونوں صفتیں افعال کی تابع ہیں، او ریہ دونوں صفتیں ذاتی ہیں جو کہ ذات کے علاوہ کسی غیر کے ساتھ قائم نہیں۔“ یعنی مقدم و مؤخر یہ صفات اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں اور کسی غیر اللّٰہ پر ان کا اطلاق جائز نہیں۔
اللّٰہ نے اپنی مخلوقات میں سے کسی کو فضیلت و تقدیم دے کر آگے رکھا اور کسے متوسط رکھ کر موخر کرکے پیچھے کردیا۔ خلق خدا میں سے انسان کو مقدم رکھا، حیوانات/نباتات/ جمادات کو اپنے اپنے دائرہ میں رکھ کر ایک دوسرے کے مدارج قائم کرتے ہوئے پیچھے یا آخر میں رکھا۔ پھر ان میں بھی تقدیم و تاخیر کی بعض کو قوی اور نورانی روحیں عطاء کیں، بعض کو ضعیف و تاریک۔ کسی کی موت پہلے ہوتی ہے تو کسی کی موت کا وقت ٹال دیتا ہے۔ کسی کی رسی کھینچ کر تو کسی کی رسی دراز کرکے مقدم و مؤخر کرنا ثابت ہوتا ہے۔
مؤخر کے مفہوم میں افراد کی موت اور قوموں پر عذاب کی مہلت میں تاخیر کرنا بھی ہے۔ مناظرِ قیامت کے ہولناکی کے وقت کو ٹالنا بھی ہوسکتا ہے۔ اقوام عالم میں کسی قوم کو فضیلت عطا کرکے تقدیم نوازی جاتی ہے تو کسی قوم کو پیچھے پھینک کر ذلّت و رسوائی دی جاتی ہے، اس کے بعد دوبارہ مقدم اور مؤخر.... اور... مؤخر کو مقدم کرنے کی ساری صلاحیتیں صرف اور صرف اسی ”المقدم و المؤخر“ ربِّ زولجلال کے پاس ہی ہے۔ یہ تقدیم و تاخیر کا دائرہ تمام دنیا پر حاوی ہے، کسی کی موت کو مقدم کردیتا ہے اور عین جوانی میں اس کو لے لیتاہے اور کسی موت کو مؤخر کر دیتا ہے او راس کی رسّی دراز کرکے دوسروں کے لئے نشانۂ عبرت بنا دیتا ہے۔ کوئی پہلا ہی گناہ کرتا ہے اور پکڑا جاتا ہے اور کوئی لوگوں کا جینا حرام کر دیتا ہے اور پھر بھی نہیں پکڑے جاتے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہی ہے جو کہ... کسی چیز کو بھی... جس کا حکماً اور فعلاً مقدم کرنا ضروری ہو... جس طرح اور جیسے اسے پسند ہو مقدم کرتا ہے، اور جسے وہ مقدم کرے وہی مقدم اور جسے مؤخر کرے وہی مؤخر ہے، وہ اللّٰہ تعالیٰ جسے مؤخر کرنا ضروری ہو اسے مؤخر کرتاہے، پھر بھی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ جو بھی کرتا ہے اس میں.... اصلاح اور حکمت.... ہے اگرچہ ہم پر اس کی اصلاح اور حکمت واضح نہ بھی ہو۔ وہ اللّٰہ سبحانہ تعالیٰ ہی ہر ایک چیز کو اس کے منزل و مرتبہ پر اتارتا اور جو چاہے مقدم کرے اور جو چاہے مؤخر کرے، اس نے مخلوقات کو پیدا کرنے سے بھی پہلے اس کی تقدیر کو مقدم کیا، اور اپنے اولیاء میں سے جسے پسند فرمایا اسے اپنے دوسرے بندوں پر مقدم کردیا۔ اور مرتبہ و درجات کے اعتبار سے مخلوق کو ایک دوسرے سے بلندی عطاء کی، اور کچھ کو اپنی توفیق سے سابقین کے مقام و مرتبہ پر پہنچا دیا، اور جس کو چاہا اس کے مرتبہ میں کمی کردی اور اسے مؤخر کردیا کیونکہ اس کے علم میں اس کا انجام تھا اور اس میں کوئی حکمت پائی جاتی تھی۔ معلوم یہ ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ جسے مؤخر کردے اسے کوئی مقدم کرنے والا نہیں اور نہ ہی جسے اللّٰہ تعالیٰ مقدم کردے اسے کوئی مؤخر کرسکتا ہے۔ آج ہمارے نورِ بصیرت کو کہیں حقہ/سگریٹ کا دھواں کالا کر رہا ہے، کہیں پان کی پیک داغ دار کررہی ہے۔ کہیں تمباکو کی بدبو برباد کر رہی ہے۔ کہیں چائے وغیرہ کی لت اسے لت پت کررہی ہے۔ کبھی شہوتِ طعام کبھی اور دوسری شہوتیں، کبھی خواہش نام و نمود، کبھی جذبۂ شہرت، کبھی غرور ریاست، کبھی حرص مال و اولاد، کبھی ہماری بداخلاقیاں اور کبھی بے جا مصروفیتیں الغرض اس آئینے پر مختلف خرابیوں کا ہر وقت غلبہ رہتا ہے اور ہمارا نور بے نور ہوکر رہ جاتا ہے، تو خدا کیسے دکھائی دے گا، آئینہ دل کو جِلا دو تو وہ اس میں صاف جلوہ گر نظر آتا ہے، کیونکہ... قلب انسانی.... اللّٰہ کا گھر... ہے۔ اسے صاف و شفاف اور پاکیزہ رکھو۔ اسماء الحسنیٰ کے اس بحر بے کراں کو فہم و بیان کے انسانی ظروف میں سمیٹنا ناممکن ہے۔ اس لئے ”ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے“ کے مصداق دفتروں کے دفتر تمام ہوئے اور مدح کی میم کا بھی حق شاید ادا نہیں ہو پایا۔
یہ حقیقت ہے کہ اللّٰہ کے پیارے نام اور اس کی بابرکت صفات انسان کی ذہنی، جسمانی اور فکری تربیت کا ایک ٹھوس اور انقلاب آفریں وسیلہ ہیں۔ ماضی میں ہمارے بزرگوں نے اللّٰہ کے اسماء کے ذکر اور ان پر غور وفکر کے ذریعہ انسانوں کے دلوں کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا اور ان کی روزآنہ کی زندگی کو صاف ستھری متوازن اور پر سکون و باوقار بنا دیا۔ انسان کے اندر پوشیدہ جذبات و احساسات کی دنیا کو روشن بنایا اور انہیں تاریک راہوں میں بھٹکنے سے محفوظ رکھا۔ آج پھر ہم ان اسماء کے ذریعہ اپنی شخصیت کی ٹھوس تعمیر میں وہی قوت اور وہی حیات بخش توانائی حاصل کرسکتے ہیں جو ہمارے اسلاف کے حصہ میں آئی تھی۔ ؎
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللّٰہ کی برہان
(29.11.2020)
(شاہی مسجد، اورنگ آباد)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment