رمضان المبارک اور غزوات المقدس

رمضان المبارک اور غزواتِ مقدس

        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
       •رمضان المبارک اور غزواتِ مقدس•
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════

      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
                📱09422724040

◆ شہر الصّیام
◆ ماہِ اسلامی انقلاب
◆ غزوات یا معجزات
◆ جنگِ بدر
◆ جنگِ اُحد
◆ غزوۂِ خندق
◆ فتح مکّہ
◆ وہ سرایا جو رمضان المبارک میں وقوع پذیر ہوئے
◆ غزوات اور مسائل کا استنباط
◆ عالمِ اسلام اور رمضان المبارک
◆ غزوات اور میدانِ جہاد کی دعائیں
◆ غزوات کے ثمرات اور اس سے جڑی عزیمت کی داستانیں
◆ جہاد فی سبیل اللّٰہ

◆ شہر الصّیام:
قرآن عظیم کی سالگرہ کا مقدس مہینہ، شہر الصیام یا ماہِ رمضان آپ تمام لوگوں کو مبارک ہو۔قرآنِ مجید میں ارشادِ ربّانی ہے:
”رمضان و ہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللّٰہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لئے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہاہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللّٰہ نے تمہیں سرفراز کیاہے، اس پر اللّٰہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔“ (سورۃ البقرہ: 185)

نبی اکرمﷺ کا معمول تھا جب رجب کا چاند دیکھتے تو یہ دعا فرماتے: ”اے اللّٰہ! ہمیں رجب اور شعبان میں برکت فرما، رمضان کا مہینہ نصیب فرما“۔ آپﷺ کی دعا میں ایک اشتیاق و بے قراری تھی اور دنیا والوں کے لئے ایک نصیحت کہ اس بابرکت مہینے کا انتظار کیا جائے اور اس کی برکتیں و رحمتیں سمیٹنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کیا جائے۔

حدیث میں آتا ہے کہ آپﷺ خطبہ دینے منبر پر چڑھنے گئے پہلی سیڑھی پر جب پاؤں رکھا تو کہا ”آمین“۔ جب دوسری سیٹرھی پر قدم رکھا تو پھر فرمایا ”آمین“۔ اسی طرح جب تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو کہا ”آمین“۔ صحابہ کرامؓ یہ سب سن رہے تھے‘ جب آپﷺ خطبہ فرماکر منبر سے نیچے اترے تو صحابہؓ نے عرض کیا ”یا رسول اللّٰہﷺ! آپؐ  نے آج منبر پر چڑھتے ہوئے تین بار آمین کا کلمہ فرمایا؟“ آپﷺ نے فرمایا ”حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا ہلاک ہو وہ شخص جو بوڑھے والدین کو اپنی زندگی میں پائے اور مغفرت نہ کروا سکے تو میں نے کہا آمین۔ دوسری مرتبہ انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے نبیﷺ کا نام لیا جائے تو وہ درود نہ بھیجے۔ تو میں نے کہا آمین۔ تیسری مرتبہ انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جو رمضان کا مہینہ پائے اور مغفرت نہ کروا سکے۔ میں نے کہا آمین“۔

سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بڑے ہی آسان جملے میں بڑی بات کہہ دی ہے، فرماتے ہیں رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے، مسلمانوں میں ایمان کی آخری علامت ہے۔ اور فرماتے ہیں کہ ”سکتے کے مریض کا آخری ٹیسٹ اس طرح کیا جاتاہے کہ اُس کی ناک کے نیچے شیشہ رکھ دیا جاتاہے، اگر مریض میں ذرا بھی جان ہوتی ہے تو شیشہ دھندلا جاتاہے، اسی طرح اگر رمضان میں مسلمانوں میں خیر نظر نہ آئے تو سمجھ لو کہ اُن میں ایمان کی آخری رمق بھی نہیں ہے“۔

◆ ماہِ اسلامی انقلاب:

رمضان المبارک اسلامی سال کا ایک عظیم اور جلیل القدر مہینہ ہے۔ نبی کریمﷺ نے اسے شہر عظیم اور شہر مبارک کہا ہے۔ اگر اس ماہِ مبارک کو اصول دین کے مطابق کامل شعور، جذبۂ اخلاص اور اللّٰہ کے رسولﷺ کی تعلیمات کے مطابق گذارا جائے تو یقیناً انسان کی زندگی کے لئے یہ ایک مہینہ بڑی تبدیلی اور انقلاب لانے کے لئے کافی ہے۔ عربی میں روزے کو صوم کہتے ہیں، صیام اس کی جمع ہے۔ صوم کے لغوی معنی ہیں ”رکنا“ اور ”چپ رہنا“۔

شریعت میں روزہ اس بات کا نام ہے کہ انسان روزے کی نیت کرکے طلوعِ فجر سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور بعض دوسری معیّنہ خواہشات کو پورا کرنے سے رُکا رہے۔ حالتِ روزہ میں دن بھر بندۂ خدا بھوک کی شدّت، پیاس کی تیزی اور جنسی خواہش کے ہیجان کو قابو میں رکھتے ہوئے خواہشات کو اعتدال پر لانے کی کوشش کرتا ہے اور افطار کے بعد جب تھکا ماندہ جسم آرام کا طالب ہوتا ہے تو اس وقت وہ مؤذّن کے بلانے پر نہ صرف یہ کہ نمازِ فرض و سنّت ادا کرتا ہے بلکہ تراویح کی طویل نماز بھی اسے ادا کرنا پڑتی ہے۔ اس طویل عبادت کے بعد انسان پھر آرام کے لئے لیٹتا ہے اور صبح تک راحت و سکون کی طلب اس میں پائی جاتی ہے۔ لیکن پورے 29 یا 30 دن اسے خلافِ معمول پر رات کے آخری حصّے میں سحری کے لئے اُٹھنا ہوتا ہے۔

اس طرح انسان کا جسم عیش و عشرت اور سکون و راحت کا دلدادہ ہونے کے بجائے مشقّت اور جفاکشی کا عادی ہو جاتا ہے۔

رمضان المبارک جس جفا کشی اور مشقّت سے انسان کو گذار کر جن بڑے مقاصد اور خصوصیات کی طرف لے جانا چاہتا ہے وہ تقویٰ کے ساتھ ساتھ جہاد فی سبیل اللّٰہ ہے اور یہی رمضان المبارک کا اصل مقصد ہے۔ اس کی تفصیل تو اس مضمون میں ناممکن ہے۔

رمضان کے روزے رکھنے کا حکم ہجرت کے دوسرے سال نازل ہوا اور رسول اللّٰہﷺ نے اس دنیا سے تشریف لے جانے سے قبل 9 /رمضانوں کے روزے رکھے۔ یہ ماہِ مبارک نزولِ قرآن کے ساتھ ساتھ، جہاد کا مہینہ بھی ہے‘ اسی مہینہ میں اسلام و کفر،حق و باطل کے کئی فیصلہ کن معرکہ وقوع پذیر ہوئے۔ غلبۂ حق کی مہم کا آغاز اسی ماہِ مبارک میں پیش آیا جسے ہم ”یوم الفرقان“ کے نام سے جانتے ہیں اور جس کا انجام عظیم الشان فتح مکّہ پر ہوا۔ اللّٰہ کے رسولﷺ نے اپنی 9/ سالہ جہاد سے پُر زندگی کے 8/ رمضان معرکوں میں یا پھر ان کی تیاریوں میں گذارے، صرف ایک رمضان ایسا گذرا جو امن وامان کے ساتھ گذرا۔ اللّٰہ کے رسولﷺ نے اسلامی تاریخ کا پہلا 30/ افراد کا گشتی دستہ حضرت امیر حمزہ ؓ کی قیادت میں ابوجہل اور اس کے 300/ افراد جو مدینہ کے خلاف روانہ ہوئے تھے، ان کی سرکوبی کے لئے بھیجا تھا، یہ گشتی دستہ بھی آپﷺ نے رمضان میں ہی روانہ کیا تھا۔ اس طرح کے لڑاکا گشتی دستے حضور اکرمﷺ اکثر روانہ کرتے رہے تاکہ دشمن کہیں مدینے کی نئی مملکت کو بے خبر پاکر اچانک حملہ نہ کردے۔

◆ غزوات یا معجزات:

اسلامی تاریخ، حسب و نسب، لسان و خون، قومی و لسانی عصبیت سے اوپر اُٹھ کر، ملکی و بین الاقوامی تمام جغرافیائی حدود کو فلانگ کر حق و صداقت پر مبنی ایک صالح افکار و نظریات کی تاریخ ہے۔ ان صالح افکار و نظریات کو دنیا پر رائج کرنے کے لئے اُمّتِ مسلمہ کو برسرِ پیکار رہنا پڑا۔ وہ باطل قوتیں جنہوں نے اس راہ میں مشکلات پیدا کرنے کے لئے سازشیں اور یلغار شروع کئیں، انہیں اس کام سے روکنے کے لئے مسلمانوں کو مسلح جدوجہد کرنی پڑی، باطل قوتوں کی یلغار سے اپنے آپ کو بچانے یا ان کے تسلط سے آزاد ہونے کے لئے مزاحمت اور تگ و دو کرنا پڑی۔ انہیں کوشیشوں کا نام اسلامی جنگیں ہیں۔ان جنگوں میں بلا شبہ کشت و خون بھی ہوا اور جنگ تو نام ہی کشت و خون کا ہی ہے۔ لیکن ان کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے جلو میں آنے والی فتوحات نوع انسان کے لئے جس طرح رحمت و برکت اور امن و سلامتی کا باعث بنی، مفتوحہ علاقوں کی زندگی میں جو انقلاب آیا، انسان کے فکر و نظر اور فہم و ادراک میں جو خوشگوار تبدیلی آئی اس کی نظیر اللّٰہ کی زمین پر قوموں اور ملکوں کے درمیان لڑی جانے والی کسی بھی جنگ میں نہیں ملتی۔

جن معرکوں میں رسول اللّٰہﷺ نبفسِ نفیس موجود تھے، اور اسلامی فوج کی قیادت فرمائی ایسے جہادوں کو مورّخین کی اصطلاح میں ”غزوہ“ کہتے ہیں اور جہاں خود تشریف نہ لے گئے ہوں بلکہ مجاہدین کو کسی صحابیؓ کی سرکردگی میں مخالفین کے مقابلہ کے لئے صرف لشکر بھیجا ہو، اسے سرایہ یا بعث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ امام المجاہدین، خاتم النبین آنحضرت محمدﷺ  اپنی زندگی کے دیگر پہلوؤں کے علاوہ اپنی عسکری زندگی میں بھی افضل و کامل تھے۔ ایک جنگی مدبّر‘ ایک کامیاب جرنیل اور بہترین فاتح کی حیثیت سے بھی اپنی نظیر آپ تھے، گو حضورﷺ کی زندگی کے اس پہلو کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے، سیرت نبوی کے لکھنے والے رسول اللّٰہﷺ کے جنگی کارناموں اور حربی معرکوں کو یا تو بہت اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں، یا اپنے بیان کو اس طرح الجھا کر لکھتے ہیں کہ حضورﷺ کی زندگی کے جنگی و حربی اور عسکری پہلوؤں کو سمجھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ بعض مورخین حضورﷺ کی جنگی و حربی فتوحات اور آپﷺ کے غزوات کو اس طرح پیش کرتے ہیں، گویا وہ معجزات کا نتیجہ تھے۔ اگر ہم رسول اللّٰہﷺ کی جنگی کامیابیاں اور حربی کارناموں کو معجزات کا نتیجہ مان لیں، تو ایک کامیاب جرنیل و فاتح کی حیثیت سے نعوذ باللّٰہ آپﷺ کی قدر و منزلت کم کر دیتے ہیں اور پھر وہ اسوۂ حسنہ جس کو اپنانے اور جس پر عمل کرنے کے لئے ہمیں ہدایت کی گئی ہے، وہ معجزات پر کیسے مبنی ہوسکتا ہے؟

حضورﷺ فطری طور پر ماہر جنگ و سپہ سالار تھے اور اس میدان میں بھی آپﷺ کی رہبر قرآنی تعلیمات تھیں۔ انسانیت کا علم اور اس سے دل چسپی، فتح کا عزم مصمم، شجاعت، حوصلہ مندی، خود اعتمادی اور دوسروں میں اعتماد پیدا کرنے کی قابلیت، ایسی شخصیت جو جوانوں کے لئے منبع فیض ہو، بلند خیالی اور فراخ دلی، ذہنی اور جسمانی تندرستی، انتظامی مہارت، اپنی اور دشمن کی فوجوں کی صلاحیت اور حالت کا وسیع علم، جذبۂ عفو، اپنے جوانوں کو فوجی تربیت دینے کی صلاحیت یہ تمام اوصاف جو ایک ماہر سپہ سالار میں ہونے چاہئے ان تمام اوصاف سے زیادہ اوصاف کا مظہر تھے، رسول اللّٰہﷺ۔ حضورﷺ نے جس طرح نہایت شدّت کی گرمیوں اور جاڑوں میں سرایا روانہ کیے اور جس انداز سے اپنی نوزائیدہ مملکت کی فوج کو تربیت دی، اس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ مسلمان مملکت کے سالارانِ لشکر اپنے اپنے زیر کمان لشکروں کو ایسے موسم میں تربیت دیں جس میں ذہنی و جسمانی محنت زیادہ سے زیادہ کرنی پڑے۔ اسی لئے ماہِ رمضان کو تو بالخصوص انتہائی مشقت آمیز تربیت کے لئے مختص کیا جاتا تھا۔

حضورﷺ کی عسکری زندگی کا آغاز مکّہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچنے پر ہوتا ہے، جہاں آپﷺ نے اسلامی نظامِ حکمرانی کی بنیاد رکھی اور مختلف طریقوں سے اسے مستحکم کیا۔ دفاعی انتظام کے علاوہ وادئ یثرب کے مختلف قبائل سے خاص کر یہودیوں سے عہد نامے کرکے اپنی ننھی سی ریاست کو اندرونی استحکام بخشا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسول اللّٰہﷺ اس امن کی فضاء میں وسائل عسکری فراہم کرنے اور اسلامی مملکت کا دفاع مضبوط کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

  اخلاقی تربیت تو مدتوں سے جاری تھی اب فن سپہ گری کی ٹریننگ دینے کا موقع بھی دستیاب ہوگیا۔ اسلامی اصول جنگ اور ان کے مقاصد بھی اچھی طرح ذہن نشین کرا دئے گئے۔ نظم و ضبط اور سالار کے تحت کام کرنے کی تربیت بھی دی گئی اور جلد ہی فنونِ سپہ گیری انفرادی و اجتماعی تربیت کے دور میں پہنچ گئی۔ شروع شروع کی اجتماعی تربیت جس کو آج کل کی زبان میں collective  یا  field training کہا جاتا ہے، اُن چھوٹی بڑی مہموں اور چھوٹے غزوات پر مشمل تھی، جو غزوۂِ بدر سے پہلے پیش آئے۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے اور اسے اتنا موقع نہ دیا جائے کہ وہ اس نئی ملّت کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ ساتھ ہی ساتھ اصلی جنگوں کے علاوہ اعصابی و معاشی جنگ بھی دشمن سے جاری و ساری رکھی جائے۔

رسول اللّٰہﷺ نے بذاتِ خود 28/ معرکوں کی قیادت فرمائی، اور یہ لڑائیاں ہجرت کے بعد کے سات سالوں میں ہوئیں۔ پہلا غزوہ ودّان جو 2/ہجری میں واقع ہوا اور آخر میں غزوۂِ تبوک 8ھ کو کفر و ایمان کی آویزش کا آخری حصّہ ثابت ہوا۔ مفتوحہ علاقوں کو دنوں میں تقسیم کیا جائے تو 274 مربع میل یومیہ بنتا ہے۔ اہلِ ایمان کا نقصان ایک جان ماہانہ، دشمن کا ڈیڑھ صد ماہانہ اور دس سال کے قلیل عرصے میں دس لاکھ مربع میل سے زیادہ علاقہ اسلام کے زیرِ نگیں تھا۔ یہ سب کچھ حضور اکرمﷺ کی بے مثال ذاتی شجاعت اور پُر حکمت جنگی و حربی اور عسکری منصوبہ بندی کا ہی نتیجہ ثابت ہوا۔

ان 28/ غزوات میں صرف نو ایسے ہیں جن میں باقاعدہ جنگ ہوئی۔ ان میں دو میں یعنی اُحد اور خندق کے علاوہ رسول اللّٰہﷺ نے خود پیش بندی کے طور پر حملہ کیا۔ باقی ان میں بھی دشمنوں کو لڑنے کا حوصلہ نہیں ہوا اور باوجود تیاریوں کے بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہاں نوٹ کر لینا ضروری ہے کہ ان تمام معرکوں میں اسلحہ، وسائل و ذرائع اور تعداد کی برتری ہمیشہ دشمن کی ہوتی تھی۔

غزواتِ مقدس کا مختصراً مطالعہ کرتے ہیں اور اس نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ صرف معجزات تھے یا پھر ایک ماہرِ جنگ و سپہ سالار کے جنگی و حربی کارناموں کا جیتا جاگتا ثبوت۔

جنگِ بدر کفر واسلام اور حق و باطل کاپہلا معرکہ تھا۔ یہ معرکہ رمضان المبارک  2/ ہجری میں بدر کے مقام پر پیش آیا۔ اس جنگ میں اللّٰہ نے اپنے بے سر و سامان اور کمزور بندوں کو طاقتور جتھوں کے مقابلے پر فیصلہ کن فتح سے سرفراز کیا تھا۔ غزوۂِ بدر میں نہتے مسلمانوں کو مسلح مشرکین کے مقابل کرنے کا مشیت ایزدی کا مقصد یہ تھا کہ چیونٹی سے ہاتھی کو مروا دیا جائے۔ اہلِ ایمان کی قلت کو کثرت پر غالب کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ اگر حق نہتا بھی ہو تو مسلح باطل پر حاوی ہوتاہے۔

  اللّٰہ کے رسولﷺ نے مقامِ بدر پر اللّٰہ کے حضور گڑگڑا کے دعا مانگی ”اے اللّٰہ! اگر آج یہ چھوٹی سی جماعت ختم ہوگئی تو پھر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔“ آپ دعا کے الفاظ پر غور کریں، آپﷺ نے فتح و نصرت کی دعا نہیں مانگی۔ آپﷺ کو نہ تو مملکت کی ضرورت و خواہش تھی اور نہ دولت و حشم کی۔ آپﷺ کے پیشِ نظر تو اللّٰہ کی ”عبادت“ تھی۔ عبد اپنے مالک کا حکم مانا کرتا ہے۔ اللّٰہ کی عبادت کے معنی اللّٰہ کے احکام ماننے اور اللّٰہ کے احکام کے مطابق معاشرہ قائم کرنے کے ہیں۔اس دعا کا مفہوم صرف یہ تھا کہ ”اے اللّٰہ! اگر آج یہ چھوٹی سی جماعت تادم آخر کے اصول پر لڑتے ہوئے ختم ہوگئی تو پھر تیرے نازل کردہ احکام کو مانتے ہوئے حکومت کرنے والا معاشرہ کہیں باقی نہ رہے گا۔“

اصل طاقت ایمان کی ہوتی ہے نہ کہ افراد کی جس کا عملی مظہر اللّٰہ ربّ العالمین نے اس جنگ کے ذریعے بتایا۔ بدر کے معرکے میں مسلمان شہداء کی تعداد 14 اور کفار و مشرکین کے مقتولین کی تعداد 70 اور اسیرانِ بدر کی تعداد جنہیں گرفتار کرکے جنگی قیدی بنایا گیا ان کی تعداد بھی 70رہی۔

اللّٰہ کا ارشاد ہے ”اور (اُس وقت کو) یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بے جان و مال نہ کر دیں) تو اُس نے تمہیں جگہ دی اور اپنی مدد سے تمہیں تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اسکا) شکر کرو۔“(سورۃ الانفال: 26)

جنگوں کی پوری تاریخ میں چشم فلک نے ایسے مد مقابل نہ دیکھے ہوں گے جو خون کے رشتوں میں منسلک ہوں۔ حسب، نسب اور رنگ و نسل ایک ہو۔ زبان ایک جیسی ہو مگر امتیاز خیر و شر نے خون کو خون سے جدا کردیا۔ رشتوں کی کوئی وقعت نہ رہی اور نہ ہی خون کی۔ اللّٰہ اور اس کے رسول اللّٰہﷺ کی نسبت تمام محبتوں اور نسبتوں پر حاوی ہوگئی۔ باپ بیٹا، بھائی بھائی اور خسر داماد آمنے سامنے آگئے۔ مقاصد نے اختلاف پیدا کیا اور تلوار نے حق و باطل کا فیصلہ کردیا۔

اس مختصر سے وقت میں حضورﷺ کے تمام معرکوں کا ذکر کرکے ان سب اوصاف کو اجاگر نہیں کیا جاسکتا جو بحیثیت سپہ سالار آپ میں تھے۔ کئی نمایاں اوصاف جو آپﷺ میں بحیثیت سپہ سالار موجود رہے ہیں ان میں سے کچھ اوصاف آپ پیشِ خدمت کرنے کی کوشش کروں گا۔ مثال کے طور پر آپﷺ کی دو خوبیوں کو دو ہی جنگوں کا حوالہ دے کر پیش کر دینا کافی سمجھتا ہوں جن کا تعلق بھی ماہِ رمضان المبارک سے ہی ہے۔ اوّل وصف......بے مثال و یکتا فوجی قیادت، دوّم وصف........حسنِ تدبّر۔

سب سے پہلے جنگ اُحد کو لیجئے۔ بدر میں شکست کھانے کے بعد کفّار مکّہ چین سے نہیں بیٹھے اور اپنی ہزیمت کا بدلہ لینے اور مسلمانوں کو ختم کرنے کی تیاری میں مصروف رہے۔ مسلمان بھی اپنے دفاع کی تیاری کرتے رہے۔ آخر کفّار قریش دوہزار کا لشکر لے کر جس میں دو سو گھوڑے شامل تھے، مدینے پرچڑھ آئے۔ حضورﷺ نے مدینے کے اندر مورچہ بنا کر لڑنے کے بجائے اُحد پہاڑ کے جنوبی دامن میں اپنے لیے میدان جنگ منتخب فرمایا۔ مدینہ کے گرد ونواح میں قریش کی اس فوج سے جنگ کرنے کے لئے اس سے بہتر جگہ اور نہ تھی۔ جو لوگ اُحد میں موجودہ عمارات بننے سے پہلے یہ میدان دیکھ چکے ہیں اور جو اس کے بعد بھی پہاڑ کے دامن تک گئے ہیں، انہوں نے دیکھا ہوگا کہ اُحد کے جنوبی دامن میں چھوٹے چھوٹے پتھر ہزاروں کی تعداد میں بکھرے پڑے ہیں۔ کفّار کی فوج میں فیصلہ کن ہتھیار ان کے دو سوشہوار تھے، جو اس میدان میں استعمال کیے جاسکتے تھے۔ جیتی ہوئی لڑائی کا پانسہ، بائیں بازو کی حفاظت کے لئے جو تیر انداز مقرر کئے ہوئے تھے ان کی فاش غلطی نے بدل ڈالا۔

حضرت خالد بن ولیدؓ، جو کفّار کے رسالے کے کمانڈر تھے، انہوں نے بھاگتے ہوئے اس کو بھانپا اور بازو سے جوابی حملہ کرکے جنگ کا نقشہ بدل ڈالا۔ جنگ کے اس نازک وقت میں، جب مسلمان اپنی ترتیب کھو بیٹھے تھے، ہر طرف افراتفری پھیلی ہوئی تھی، کفّار کے حوصلے انتہائی بلند تھے، اس نازک و سنگین حالت میں رسول اللّٰہﷺ کی بے مثال قیادت کا ہی کرشمہ تھا کہ آپﷺ نے مسلمانوں پر اپنا تسلط اور اقتدار و اختیار پورے طور پر قائم رکھا اور کفّار کا گھیرا توڑ کر پہاڑ پر مورچہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہاں آپﷺ نے پھر سے بکھری ہوئی فوج کو منظّم کیا اور اس میں بھی وہی جوش اور ولولہ پیدا کردیا، یہاں تک کہ دوسری صبح اسی فوج کے ساتھ دشمن کا تعاقب کیا۔ آپﷺ نے جس انداز سے فوج کو تنظیم نو بخشی وہ دشمن کے لئے باعثِ تشویش کا سامان بن گئی۔

دوسری جنگ غزوۂِ خندق کو لیجئے، جو حسن تدبر کا نادر نمونہ ہے۔ غزوۂِ خندق یا جنگِ احزاب........... یہ ملّتِ اسلامیہ کی زندگی کا سب سے بڑا خطرہ تھا۔ رسول اللّٰہﷺ سے بہتر عربی قبائل اور ان کے کردار کو دوسرا کون سمجھ سکتا تھا؟ اس سیلاب کو روکنے کا یہی طریقہ تھاکہ جنگ کو اتنا طول دیا جائے کہ دشمن کے مختلف قبائل جو ایک مقصد کے لئے خاص طور پر ایک دوسرے کے حلیف بنے تھے، عادت کے مطابق ایک دوسرے سے بدظن ہونے لگیں۔ طے یہ پایا کہ مدینے ہی میں رہ کر لڑائی لڑی جائے۔ اور شمال مشرق کی طرف، جہاں سے حملہ ہوسکتا تھا۔ دو پہاڑیوں کے درمیان اتنی بڑی خندق کھودی جائے کہ جس پر سے گھوڑ سوار بھی کود نہ پائیں۔ دفاعی خندق کا کھودنا عرب کی تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ تھا۔ خندق کی کل لمبائی کم از کم 3 کلومیٹر تھی، چوڑائی اوسطاً 2 میٹر اور گہرائی بھی اوسطاً اتنی ہی تھی۔ اس طرح ایک مسلم سپاہی کے حصّے میں کم از کم  4 مکعب میٹر زمین کی کھدائی آئی تھی، جسے چند دنوں میں مکمل کرنا تھا۔ نامناسب اور ناکافی اوزاروں، پتھریلی زمین اور فاقہ کش فوج کے ساتھ جس میں بوڑھے اور بیمار بھی شامل تھے، اس کام کی بروقت تکمیل بہت بڑی بات تھی۔  اس میں زمین کھودنا اور فی کس تقریباً 12 ٹن مٹّی کو خندق سے باہر نکالنا بھی شامل ہے۔

ایک نقطہ جس کی طرف آپ کی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کروں گا۔ اگر ہم سیرت کی تمام کتابوں کا مطالعہ کریں تو تقریباً سیرت نگار کہتے ہیں کہ عرب کے لئے خندق ایک نئی چیز تھی اور اس کا خیال ایک ایرانی غلام حضرت سلمان فارسی ؓ نے دیا تھا۔ لیکن اس مضمون کی تیاری کے سلسلے میں یہ دعویٰ بھی صحت سے قریب نظر نہ آیا، کیونکہ ڈاکٹر حمید اللّٰہ ؒ صاحب نے اپنی تحقیق میں دو خطوط بہم پہنچائے ہیں۔ ایک میں ابو سفیانؓ نے حضورﷺ خندق کی تیاری پر طعنہ دیا اور کہا کہ ”آپ تو یہ طریقہ نہیں جانتے تھے۔“ حضورﷺ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا کہ ”اور یہ جو تم نے لکھا کہ مجھے خندق کا طریقہ معلوم نہ تھا تو یہ طریقہ مجھے اللّٰہ تعالیٰ نے اس وقت القاء فرمایا جب تمہارے ہمراہیوں کا غیظ و غضب اس قدر بڑھ گیا کہ تم لوگ مدینے کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تل گئے۔“

اللّٰہ کے رسولﷺ جنگی زندگی کا باریکی سے مطالعہ کریں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ غزوۂِ خندق کی کھدائی عین وسط رمضان میں شروع ہوئی تھی۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ رمضان المبارک میں غزوۂِ خندق میں خندق کھودنا ایک کٹھن کام تھا۔ دشمنوں کا لشکر جرار اچانک حملہ آور ہوا تھا مگر تین ہزار مسلمانوں نے کمالِ جرأت سے بیس دن میں گہرا اور چوڑا نالا کھود ڈالا۔ صحابہ ؓ  مٹی کھودتے تھے، پیٹھ پر لاد کر باہر پھینکتے تھے اور مل کر یہ اشعار پڑھتے ”ہم ہیں جنہو ں نے محمد رسول اللّٰہﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے، جب تک جان میں جان ہے ہم اللٹ کی راہ میں لڑتے رہیں گے“۔

خندق نے قریش اور غطفان کے 600 گھڑ سواروں کی حربی اہمیت ختم کر دی تھی۔ آپ کفار و مشرکین کی حیرت کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب وہ اپنی طاقت کے نشے میں چور اور قتل و غارت اور لوٹ کھسوٹ کے خواب دیکھتے ہوئے اس خندق کے قریب پہنچے تو ان کے حوش و ہواس اُڑ گئے۔ آہستہ آہستہ طویل محاصرے سے دشمن قبائل میں جھگڑے اُٹھے اور ایک ایک کرکے واپس جانے لگے اور آخری دنوں میں طوفان آیا اور جو رہے سہے قبائل تھے، ان کا مورال بھی اتنا گرا کہ وہ بھی محاصرہ اُٹھانے پر مجبور ہوگئے اور مسلمانوں کو فاتح چھوڑ کر بھاگ اُٹھے۔

سورہ احزاب میں آیت 12 میں بیان کیا گیا ہے کہ تمہارے لئے رسول اللّٰہﷺ کی زندگی ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ جنگ کی ابتداء سے اختتام تک اللّٰہ کے رسولﷺ کا یہ حال تھا کہ ہر مشقّت جس کا آپﷺ نے دوسروں سے مطالبہ کیا اُسے برداشت کرنے میں آپﷺ خود سب کے ساتھ شریک رہے۔ بلکہ دوسروں سے بڑھ کر ہی آپﷺ نے حصّہ لیا۔ خندق کھودنے والوں میں آپﷺ خود شامل تھے (بلکہ رات میں بھی آپﷺ فیلڈ آفس میں ہی رہ جاتے تھے) رمضان کے روزوں اور بھوک و پیاس کی شدید تکلیفوں کو اُٹھانے میں ایک ادنیٰ مسلمان کے ساتھ آپﷺ کا حصّہ بالکل برابر کا تھا۔ جب ہمارے رہبر و رہنما اور آئیدیل (Ideal)کا یہ معاملہ تھا۔ لیکن اس کے بالکل برعکس آج ہماری ہی ملّت کے نوجوانوں، بڑھوں اور بوڑوھوں کا معاملہ دیکھئے مختلف حیلے بہانوں کے ذریعے روزے نہ رکھنے کا جواز نکال ہی لیتے ہیں، اور اس کام میں انہیں ذرا سی شرم بھی نہیں آتی۔

اس موقع سے رسول اللّٰہﷺ کے استقلال، عزم، توکل علی اللّٰہ اور صبر کا جو نمونہ سامنے آیا وہ قیامت تک اُن تمام بندگانِ خدا کے لئے تقلید نمونہ ہے جو اللّٰہ کے دین کو اس سر زمین پر غالب دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو خلافت علیٰ منہاج البنوہ کے قیام کے لئے مصروفِ عمل ہیں۔

اس جنگ کی تفصیلات سورۃ الاحزاب میں ہیں اور بھی چھوٹے چھوٹے واقعات پیش آئے حتی کہ 6/ہجری میں فتح مکّہ کا پیش خیمہ صلح حدیبیہ معرض وجود میں آئی۔ سورۃ الفتح میں اس صلح کی تفصیلات موجود ہیں، آخری رکوع میں آپ کے خواب کا ذکر ہے۔ جس میں مکّہ معظمہ میں داخلہ دیکھا گیا۔ یہی خواب سفر عمرہ کا باعث بنا لیکن اس میں وقت کا تعین نہ تھا۔ کفّار مزاحم ہوئے اور حدیبیہ میں قافلہ رک گیا۔ یہی وہ صلح ہوئی جس کی شرائط بظاہر نرم تھیں۔ لیکن دعوت اسلام اس کے بعد جس طرح پھیلی اور رکاوٹیں دور ہوئیں ان سے ”فتح مبین“ کی راہ ہموار ہوئی۔ اس موقع پر 14/ سو صحابہ اللّٰہ کے رسولﷺ کے ہمراہ گئے تھے۔ اہل مکّہ نے مسلمانوں کے ایک حلیف قبیلہ کے خلاف اپنے حلیف قبیلہ کی مدد کی۔ اب کوئی عذر نہ تھا۔ کفّار کا ایک وفد مدینہ طیبہ آیا تاکہ تجدید ہوسکے لیکن جس رب نے صلح کا حکم دیا ہے، اسی کی طرف سے خیانت و بد عہدی کے بعد معاہدہ سے دست برداری کی بھی اجازت دیدی گئی۔ اس لئے مسلمان ایک سوراخ سے دوسری مرتبہ ڈسے جانے کے لئے تیار نہ تھے۔ اگر ایسا ہو جاتا تو ان کی حکمت و سیاست شکست کھا جاتی۔

فتح مکّہ کے ضمن میں دس ہزار جانبازوں کا قافلہ حضور قائد اعظم ﷺ کی قیادت میں نکلا تو عرب کی زمین ہل گئی۔ لات و ہبل جن کی قسمیں،مکّہ میں کھائی تھیں سرنگوں ہوگئے۔ محض حضرت خالد بن ولیدؓ کے قافلے سے کفّار کے ایک دستہ کی ذرا سی مڈبھیڑ ہوئی ورنہ یہ عظیم انقلاب بغیر نکسیر پھوٹے تکمیل پذیر ہوگیا(جس کا احتساب بھی ہوا)۔ انقلاب کا ایک مرحلہ مکمل ہوگیا۔ اتفاق سے جنگِ بدر کے وقت بھی رمضان کا مہینہ تھا، اور فتح مکّہ کے وقت بھی رمضان المبارک کا ماہِ مبارک، لیکن اب 2/ہجری نہیں 8/ ہجری تھا۔ جب 17/ رمضان تھا اور فتح مکّہ کا دن 10/ رمضان تھا۔

دُشمن کو اصلی حقیقت پر پردہ ڈال کر بظاہر ایسا پیش کرنا کہ وہ مرعوب ہو جائے۔ آپﷺ نے فتح مکّہ کے وقت ایسا ہی حکم دیا کہ ہر مسلمان فوجی پڑاؤ پر الگ الگ آگ روشن کرے، لاتعداد الاؤ سے اہل مکّہ کو اچانک علم ہوا کہ مسلمانوں کا لشکر جرّار بہت ہی بڑی تعداد میں مکّہ کے قریب آپہنچا ہے۔ دور سے دس ہزار چولہوں کی آگ روشن دیکھ کر قریش کے ہوش اڑ گئے۔ فتح مکّہ کا ایک اور کارنامہ یہ ہے کہ خطاکار اور مجرم ایک عظیم فاتح کے سامنے ہیں مگر صرف اور صرف رضائے الٰہی کی خاطر عام معافی کا حکم صادر کردیا گیا۔

◆ وہ سرایا جو رمضان المبارک میں وقوع پذیر ہوئے:

رمضان المبارک، 1ھ، سریۂ سیف البحر، یہ سریۂ امیر حمزہؓ بن عبدالمطلب کی قیادت میں احوال مکّہ کے تجسّس کے لئے بھیجا گیا تھا، دشمن نے مسلمانوں کو باخبر پایا اور لوٹ گیا۔

2ھ رمضان المبارک میں سریۂ عمیر بن العدی الخطی پیش آیا۔
رمضان 6ھ سریۂ امّ قرفہ، بنو فزارہ نے امّ قرفہ کی تحریک سے زید بن حارثہ کے تاجرانہ قافلہ کو لوٹا تھا۔ اس ڈکیتی کی وجہ سے امّ قرفہ اور اس کی دختر بھی گرفتار ہوئی تھی، باقی تمام لوگ بھاگ گئے تھے۔ (صحیح بخاری)

رمضان 7ھ کو سریۂ مُنقعہ کے لئے 130 افراد کا سریہ غالب بن عبداللّٰہ کی قیادت میں روانہ کیا گیا۔

رمضان 7ھ کو سریۂ خربہ اسامہ بن زیدؓ کی قیادت میں پیش آیا۔

سریۂ ابی قتادہ رمضان المبارک 8ھ کو ابو قتادہ کی امارت میں بطن کی وادی کی طرف روانہ کیا گیا۔

سریۂ خالد بت خانہ عرسی واقع نخلہ بھی غالباً 25/رمضان المبارک 8ھ کو ہی پیش ہوا۔ جس میں عزی قبیلہ بنو کنانہ کا بت تھا اسے خالد بن ولیدؓ نے جاکر توڑا تھا۔

سریۂ عمرو بن العاص برائے ہدم بُت خانہ سواع قبیلہ بنو ہذیل کی تاریخ بھی رمضان المبارک 8ھ کو ہی ملتی ہے۔

سریۂ سعد اشہلی کا واقعہ بھی اسی ماہِ مبارک میں پیش آیا۔ منات قبیلہ اوس اور خزرج کا بت تھا جسے سعد اشہلی نے توڑا تھا۔

◆ غزوات اور مسائل کا استنباط:

عہدِ نبویﷺ کے ان تمام غزوات و سرایا سے کئی مسائل کا استنباط ہوتا ہے۔

(۱)  جب امیر سے ناجائز یا غیر واجب بات کے لئے پوچھا جائے اور وہ خاموش رہے تو اِس کی خاموشی رضا مندی نہیں بن سکتی۔ جیسے فتح مکّہ کے وقت ابو سفیان نے حضور ﷺ سے تجدیدِ عہد کی درخواست کی۔ آپﷺ خاموش رہے، تو آپﷺ کی خاموشی سے تجدیدِ عہد کا فائدہ نہ اٹھایا جاسکا۔
(۲)  جاسوس کے قتل کا جواز۔
(۳)  عورت کی تلاشی لی جاسکتی ہے۔
(۴)  کفّار کے قاصد قتل نہیں کیے جاسکتے۔
(۵)  معاہدین سے جنگ۔ اگر معاہدین عہد شکنی کریں تو ان سے جنگ کی جاسکتی ہے۔
(۶)  کفّار کے ملک میں شب گزارنا اور ان پر اچانک حملہ کرنا جائز ہے، جب کہ انہیں دعوتِ اسلام پہنچ چکی ہو۔
(۷)  جنگِ بدر و جنگ خندق کے وقت مشوروں کو مقدم رکھا گیا۔ وغیرہ وغیرہ

حضورﷺ کی سپہ سالاری کی ایک صفت جس کو اختراع (ایجاد)کہنا چاہئے یہ ہے کہ ہر جنگ میں دشمن کے لئے کوئی نہ کوئی غیر متوقع چیز پیدا کر دیتے تھے۔ ہم یہاں صرف ان ہی جنگوں کی Strategic Tectics کا ذکر کریں گے جو رمضان المبارک میں پیش آئی۔ ان ہی حربی تدابیر میں سے ایک بدر میں صفوں کی ترتیب، اُحد میں میدانِ جنگ کا چناؤ، غزوۂِ خندق میں خندق اور فتح مکّہ کے وقت ”کیموفلاگنگ  (Camouflaging)“ وغیرہ وغیرہ۔

◆ عالمِ اسلام اور رمضان المبارک:

اسی مبارک مہینہ میں 8/رمضان کو فتح مکّہ واقع ہوئی، معرکۂ بدر اور فتح مکّہ نے پوری دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔

10/ رمضان المبارک 93ھ کو راول اور روہڑی کے مقام پر راجا داہر کی شکست اور محمد بن قاسم ؒ کی شکل میں اسلام کی فتح نے برصغیر میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ محمد بن قاسم ؒ نے اس خطہ میں اسلام کے جو بیج بوئے ان سے آخر کار شجرِ طیبہ کی شکل میں ایک نئے دور کا ظہور ہوا۔

92ھ میں طارق بن زیاد ؒ کا اسپین کو فتح کرنے کا معرکہ بھی رمضان المبارک میں ہی پیش آیا۔

582ھ میں سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ کا یروشلم پر قبضہ بھی اسی ماہِ مبارک کی برکات و ثمرات کا تحفہ تھا۔

658ھ میں جنگِ عین جالوت کی تاریخی فتح بھی اسی رمضان المبارک میں ہوئی۔

اسی مہینہ میں مصر اور شام نے مل کر Sinai Peninsula کو اسرائیل کے قبضہ سے آزاد کروایا۔

1987ء تا 1993ء میں فلسطین کے پہلے انتفاضہ کا آغاز بھی اسی مہینے میں ہوا۔

اور بھی کئی بڑے معرکے اور جنگیں ہیں جو اسی مہینے میں شروع ہوئے۔

◆ غزوات اور میدانِ جہاد کی دعائیں:

غزوہِ خندق میں مسلمانوں کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایک دن وہ اللّٰہ کے رسولﷺ کی خدمت حاضر ہوئے اور فرمایا ”یا رسول اللّٰہﷺ! کیا ایسے وقت کے لئے بھی کوئی دعا ہے؟“ آپﷺ نے جواب دیا ہاں یہ دعا مانگو۔
”اے اللّٰہ! ہمارے کمزور پہلوؤں پر پردہ ڈال اور خطرات سے محفوظ رکھ۔“
”اے اللّٰہ! کتاب کو نازل فرمانے والے، جلد حساب لینے والے اللّٰہ! دشمن کے لشکروں کو شکست فاش دے، اللّٰہ انہیں شکست دے اور ان کے قدم اکھاڑ دے۔“
”پروردگار! ہم اپنے آپ کو دشمنوں کو مقابل لاتے ہیں اور ان کے شر و فساد سے تیری پناہ مانگے ہیں۔“
”پروردگار! میں پناہ طلب کرتا ہوں تیری نعمت کے زوال سے اور تیری عطاء کی ہوئی آسائش کے بدلنے سے (مصیبت میں) اور ناگہانی عتاب سے اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے!“
”کافی ہے مجھے اللّٰہ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں، وہی عرشِ عظیم کا رب ہے۔“
”کافی ہے مجھے اللّٰہ، بہت اچھا وکیل، بہت بہتر سر پرست اور سب سے بہتر مددگار۔“
”حالات کے بدلنے کی اور ہر قسم کی قوت صرف اللّٰہ ہی کے ہاتھ میں ہے، جو بہت ہی بڑی شان اور عظمتوں والا ہے۔“

◆ غزوات کے ثمرات اور اس سے جڑی عزیمت کی داستانیں:

◆ حرمتِ رسول اللّٰہﷺ:

فتح مکّہ کے ایّام تھے، قریش نے ابو سفیان کو مدینہ بھیجا کہ وہ دربارِ نبوی میں حاضر ہوکر معاہدۂ حدیبیہ کی مدت میں اضافہ کر آئے۔ ابو سفیان کی بیٹی اُمِ حبیبہؓ ازواجِ مطہرات اور امہات المومنین میں سے تھیں۔ اس لئے ابو سفیان پہلے اپنی بیٹی کے پاس گیا اور رسولِ اکرمﷺ کے بستر پر بیٹھنا چاہا، بیٹی نے بستر فوراً لپیٹ لیا۔ ابو سفیان نے پوچھا ”کیا تم نے اپنے باپ کو اس لائق بھی نہیں سمجھا کہ وہ بستر پر بیٹھ سکے“۔ اُمِ حبیبہ ؓ نے جواب دیا ”یہ رسول اللّٰہﷺ کا بستر ہے۔ آپ کفر کی نجاست سے ابھی پاک نہیں ہیں اس لئے آپ کے بیٹھنے سے اس کی پاگیزگی میں فرق آئے گا“۔ ابو سفیان غصّے سے بڑبڑاتے ہوئے باہر نکل گیا۔

◆ مملوکات سے دستبردار:

کفّارِ مکّہ نے تمام مہاجرین کے مکانات پر قبضہ کر لیا تھا، فتح مکّہ وہ وقت تھا کہ ان کو ان کے حقوق دلائے جاتے، لیکن آپﷺ نے مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ بھی اپنی مملوکات سے دست بردار ہو جائیں۔

◆ معمورین پر اعتماد:

جنگِ تبوک کے وقت حضرت ابوخیشمہ ؓ کا واقعہ

◆ جوشِ جہاد:

ابوجہل کی اسلام دشمنی سے سب آشنا تھے۔ جنگِ بدر میں عمرو کے دو نوجوان بیٹوں معوذؓ اور معاذؓ نے اسے ختم کرنے کا عہد کیا، مگر انہیں اس کی پہچان نہ تھی، اس لیے عبدالرحمن ؓ بن عوف سے پوچھا کہ ابوجہل کون ہے؟ انہوں نے اشارے سے بتایا تو دونوں بھائی باز کی طرح ابوجہل پر جھپٹے، ابوجہل نے معاذؓ پر زور دار تلوار سے وار کیا جس کے نتیجے میں ان کا شانہ کٹ گیا لٹکتے ہاتھ کو کھینچ کر توڑ دیا بازو علیحدہ ہوگیا۔ اور پھر دوبارہ مصروفِ جہاد ہوکر آن کی آن میں ابوجہل کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

◆ شوقِ شہادت:

جنگِ اُحد نے رسول اکرمﷺ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا ”کون مجھ پر جان دیتا ہے؟“۔ حضرت زیاد ابن سکن آگے بڑھے، ساتھ چار اصحاب بھی تھے۔ سب کے سب نہایت شجاعت سے ساتھ شہید ہوگئے۔ حضرت زیاد زخموں سے چور ہوکر گرے تو رسول پاکﷺ نے فرمایا ”ان کو میرے قریب لاؤ“۔ لوگ اٹھا لائے۔ ابھی کچھ جان باقی تھی۔ آنحضرتﷺ کے قدموں پر سر رکھ دیا اور اسی حالت میں جامِ شہادت نوش کیا۔

سبحان اللّٰہ! جنگِ اُحد میں حق و باطل کے معرکے ہو رہے تھے کہ ایک صحابیؓ نے بارگاہِ رسالت میں سوال کیا۔ ”یا رسول اللّٰہ! اگر میں قتل ہوگیا تو میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟“ آپﷺ نے فرمایا ”جنت میں“۔ صحابی رسولﷺ کے ہاتھوں میں کھجوریں تھیں۔ ارشادِ نبوی سن کر ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرتے ہوئے کھجوروں کو پھینک دیا۔ میدانِ جنگ میں پوری شدّت سے دشمن کو تہ تیغ کیا، دشمن کے وار کی ضرب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

◆ خواتین کی دلیری:

جنگِ خندق میں جب مدینہ کے یہودیوں نے قریش کا پلّہ بھاری دیکھا تو وہ مسلمانوں کے محلوں میں گھومنے لگے تاکہ خانہ نشینوں کو ہراساں کرسکیں۔ حضرت صفیہ بنت عبد المطلب آنحضرتﷺ کی پھوپھی، حسّان بن ثابتؓ کی حفاظت میں تھیں۔ ایک یہودی حضرت حسّان کی قیام گاہ کے گرد منڈلانے لگا۔ حضرت صفیہ اس کی مشکوک نگاہ کو تاڑ گئیں۔ آپ نے حضرت حسّان سے کہا کہ یہ یہودی جاسوسی کر رہا ہے اور ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کی خبریں یہودیوں تک پہنچائے اس لئے آپ نیچے جائیں اور اس کا کام تمام کر دیں۔ حضرت حسّان نے جواب دیا ”آپ کو معلوم ہے میں اس میدان کا نہیں ہوں“۔ اس پر حضرت صفیہ ؓ نے ایک مضبوط لاٹھی سنبھالی، نیچے اتریں اور اس زور سے یہودی کے سر پر ماری کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔

◆ جہاد فی سبیل اللّٰہ:

آخر وہ کونسا ’نسخۂ کیمیا‘ مسلمانوں کے ہاتھ آیا کہ تیرہ سال تک اسی جگہ میں مار کھانے والے صرف آٹھ سال بعد اتنے عظیم فاتح بن کر لوٹے ہیں کہ مقابل کوئی نہیں۔ کونسی پراسرار قوت مسلمانوں میں در آئی ہے کہ ان کو دیکھ کر کافر دہشت زدہ ہوئے جاتے ہیں۔ یہ اللّٰہ کے دین کی مدد ”جہاد فی سبیل اللّٰہ“ ہی ہے،جس کے نتیجے میں حق آیا اور باطل مٹ گیا۔۔ کیونکہ یہی جہاد و قتال کا راستہ خود محمد عربیﷺ نے منتخب کیا۔ اور قیامت تک اسی راہ پر چلنے والے لوگوں کے لیے فتح و نصرت کی خوشخبریاں پیش فرما دیں۔

  لفظ ’جہاد‘  جہد سے ماخوذ ہے، طاقت اور وسعت کو کہتے ہیں۔ چنانچہ جہاد کا لغوی معنی ہوا، کسی پسندیدہ چیز کے حصول کے لیے یا ناپسندیدہ چیز سے بچاؤ کے لیے انسانی قوت و طاقت کے مطابق ہر ممکن کوشش کرنا، (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو لسان العرب اور قاموس وغیرہ) شریعت کی اصطلاح میں جہاد کا معنی ہے نصرت اسلام کے لیے رضائے  الٰہی کی خاطر اپنی تمام تر کوشش صرف کرنا۔“

  اسلام میں جہاد فی سبیل اللّٰہ ہی جہاد کہلاتا ہے، فی سبیل اللّٰہ کی قید کے بغیر اگر قتال ہو تو اسے جہاد نہیں کہہ سکتے، جب کہ کفار کی جنگ فی سبیل الطاغوت ہوتی ہے۔ شیخ علامہ سید قطب شہید ؒ اپنی معروف تفسیر فی ظلال القرآن میں فرماتے ہیں کہ ”مسلمان کا پرچم جس کو گرنے سے بچانے کے لئے وہ جنگ کرتا ہے‘ وہ اس کا عقیدہ ہے! اور اس کا وطن جس کے لئے وہ جہاد کرتا ہے وہ سر زمین ہے‘ جہاں اللّٰہ کی شریعت قائم ہو اور اس کی سر زمین جِسے وہ دشمنوں سے بچاتا اور اس کی مدافعت کرتا ہے ”دارالاسلام“ ہے‘ جہاں اسلامی نظام‘ زندگی کے نظام کی حیثیت سے نافذ و غالب ہے!۔ وطن کا اس کے علاوہ جو بھی تصور ہے‘ غیر اسلامی ہے‘ جاہلیت کو اس سے غذا ملتی ہے اور اسلام اس سے آگاہ نہیں!“ (فی ظلال القرآن، صفحہ 404)

  کتاب و سنت کی متعدد نصوص میں اس کی صراحت کر دی گئی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
”اہل ایمان اللّٰہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کافر شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں۔“

اعلائے  کلمۃ اللّٰہ کے لیے قتال کو بھی شریعت اسلامی میں جہاد کہا گیا ہے، حدیث میں ہے۔
”رسول اللّٰہﷺ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص اظہار شجاعت کی خاطر لڑتا ہے اور ایک حمیت کی خاطر اور ایک ریاء کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے کس کی جنگ فی سبیل اللّٰہ ہے؟ آپﷺ نے فرمایا جو شخض اعلائے کلمۃ اللّٰہ کے لیے لڑے اس کی جنگ فی سبیل اللّٰہ ہے۔“

سیّد ابو الاعلیٰ مودودیؒ اسلام کا مقصود حقیقی کے متعلق فرماتے ہیں مختصر الفاظ میں تو صرف اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ وہ مقصد انسان پر سے انسان کی حکومت مٹا کر خدائے واحد کی حکومت قائم کرنا ہے اور اس مقصد کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دینے اور جان توڑ کوشش کرنے کا نام جہاد ہے، اور نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ سب کے سب اسی کام کی تیاری کے لئے ہیں۔“ (خطبات)

کلمۃ اللّٰہ سے مراد دین اسلام ہے اور اعلائے  کلمۃ اللّٰہ سے مراد نفاذ اسلام ہے۔ بلا شبہ نفاذ اسلام یعنی تمام شعبہ ہائے زندگی میں اسلامی احکام و ضوابط کو بطور نظام اور قانون عملاً جاری و ساری کرنا اور ہر طرح ان کی پابندی کرنا رضائے الٰہی کے حصول کا باعث ہے۔

امام المجاہدین آنحضرتﷺ نے مدینہ میں آتے ہی اس نسخہ کارگر کو آزمایا تو بہت اچھا پایا۔ قافلہ اسلام بدر و احد سے ہوتا ہوا، خندق و حدیبیہ اور دیگر غزوات و سرایہ سے جنوں کی منزلیں طے کرکے سیدھا اسی مکہ میں آپہنچا جہاں سے چند سال قبل یوں بے گھر کر دیا گیا تھا کہ جیسے وہ یہاں ناجائز قابض ہو کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے مال و املاک ایسے غضب کرلئے گئے تھے جیسے یہ چوری کے ہوں۔ ہجرت کے مناظر یوں تو بڑے دلدوز اور کربناک ہیں دل تو چاہتا ہے کہ ساری منظر کشی ہو جائے لیکن پیارے نبیﷺ کی اس بات سے آگے گزرتا ہوں جب نبیﷺ نے ہجرت کے وقت مکہ کی طرف منہ کرکے فرمایا تھا ”اے مکہ میرا دل تو چاہتا ہے میں تجھ میں رہوں کہ تو میرا وطن ہے لیکن تیرے باسی مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔“ اب یہ وہی بے سر و ساماں لشکر ہے کہ بڑی آن بان سے مکہ میں داخل ہورہا ہے۔ دس ہزار کا لشکر جرار ہے مکہ بھر میں کوئی آدمی تو کیا کسی لشکر اور صاحب لشکر کو بھی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہیں ہوئی۔

یعنی جہاد فی سبیل اللّٰہ کے نتیجے میں ہی عظیم الشان کامیابیاں امّت مسلمہ کی منتظر ہوئی۔ فتح و نصرت اُمّت کی قدم بوسی کرنے لگے۔ حکومت واقتدار اُمّت کے دروازے پر دستک دینے لگے۔ خوشخبری و خوش بختی فقط تمہارے لیے اور بدنصیبی و بدبختی تمہارے دشمنوں کی پیشانیوں پر لکھ دی گئی۔ اللّٰہ ربّ العالمین کا یہی دستور رہا ہے، سابقہ امتوں کے لیے بھی اور اب بھی یہی سنت ہے۔ سورہ البقرہ میں سیدنا طالوت علیہ السلام کا قصہ بیان فرمایا! ان کے ساتھ کمزور و نحیف مسلمانوں کا لشکر جہاد کا عزم لے کر نکل کھڑا ہوا۔ سامنے جالوت کا زور آور لشکر تھا۔ اہل کفر ہمہ قسم کے ہتھکنڈوں اور ہتھیاروں سے لیس ہو کر آئے لیکن اہل اسلام جذبۂ جہاد اور شوق شہادت سے سرشار ہوکر میدان میں پہنچے۔ نتیجہ یوں نکلا کہ بڑے لشکر نے بہت بڑی مار کھائی چھوٹے لشکر نے بہت چھوٹا نقصان اٹھایا اور بہت بڑی کامیابی پائی۔ اس تعجب خیز نتیجے کو دیکھ کر اللّٰہ ربّ العالمین نے اصول ہی مقرر کر دیا۔ ”کتنے ہی چھوٹے چھوٹے لشکر ایسے ہیں جو بڑے لشکروں کو پچھاڑ دیتے ہیں اللّٰہ کے حکم کے ساتھ۔“

”تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے‘ زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلے کے لئے مہیہ رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللّٰہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوف زدہ کر دو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللّٰہ جانتا ہے۔ اللّٰہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کروگے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹا یا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا۔“ (سورہ انفال:60)

یہ عروج و بام کی داستان تو اس ادنیٰ و حقیر سے بندے نے چند لفظوں اور کاغذوں سے آگے نہیں بڑھنے دی لیکن وقت نے اس ساری حکائیت کو صدیوں پہ بکھیرا ہے۔ تاریخِ اسلامی میں کئی اور ایسے یادگار واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جو رمضان المبارک میں ہی پیش آئے ہیں۔ ماہِ رمضان کے دوران جہاد اور مجاہدین سے مکمل وابستگی ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔ جہاد جاری ہے اور قیامت کے دن تک جاری رہے گا۔ جہاد کے خلاف آج داخلی و خارجی ہر محاذ پر انتہائی گھناؤنی سازشوں کا جال بچھا دیا گیا ہے مگر ہمیں بطورِ مسلمان اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کے حکم کے مطابق ان سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے اور جہاد میں حصہ لینا ہوگا۔ جو شخص خود عملاً جہاد میں شریک نہ ہوسکے وہ کسی مجاہد کو زادِ جہاد فراہم کردے یا اس کے پیچھے اس کے اہل و عیال کی خبر گیری میں لگ جائے یا شہداء کے خاندانوں کا کفیل بن جائے تو وہ بھی عملاً جہاد میں شریک شمار ہوتا ہے۔ ایسے شخص کا اجر حدیث پاک میں مجاہدین کے برابر قرار دیا گیاہے۔

  تاریخ اسلام میں غلبے اور حکومت کے ادوار میں امت مسلمہ کے مجاہدین فی سبیل اللّٰہ محاذوں پر سرگرم عمل رہے۔ دشمنان دین و ملت پر جھپٹنا پلٹنا ان کا محبوب ترین مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ اللّٰہ کے دین کی مدد کے لئے، سرحدوں کی حفاظت اور اسلام کی اشاعت کے لئے وہ جان ہتھیلیوں پر لئے پھرتے تھے۔ لیکن زوال کے ایام میں مسلمانوں کے ہاتھ سے تلوار گر چکی تھی۔ شوق شہادت اور جذبۂ جہاد کی جگہ ”وھن“ نے لے لی تھی۔ امت مسلمہ میں صالحین اور متقین بکثرت موجود تھے لیکن مجاہدین نہ تھے۔

  تاتاریوں نے جب بغداد کو تاراج کیا تھا تو اس وقت بھی لائبریریاں قرآن و حدیث کی نایاب کتب سے بھری پڑی تھیں علماء و فضلاء کثرت سے موجود تھے اور بڑے طمطراق کے ساتھ بحث و مناظرہ فرما رہے تھے کہ تاتاریوں کے خلاف جہاد کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ اسی اثناء میں تاتاریوں نے ہلہ بول دیا تو ان علماء نے عین مناظرے کے وقت حملے کو دخل در معقولات سمجھا۔ اندلس جب مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھنا تو وہ بھی علم و حکمت کے ستاروں سے گہنایا ہوا تھا۔ صالحین و متقین بھی اتنے اور ایسے موجود تھے کہ ان کے صلح و تقویٰ کے معیار و وقار نے عیسائیوں کے خلاف اپنی عصمت و آبرو کی حفاظت کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کو اصول صلح کے علی الرغم سمجھا اور چپ چاپ ذلت و مسکنت کو گلے لگانے کو عین آشتی قرار دیا۔

ایسی حالت میں جب ہم خود اپنی مدد چھوڑ بیٹھیں تو اللّٰہ کو کیا پڑی کہ ہماری مدد کرے۔ اللّٰہ تو ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اپنی بھی مدد کرتے ہیں اور اس کے دین کی مدد کے لیے بھی نکلتے ہیں۔ یاد رکھیے! نصرت و کامرانی ان لوگوں کا مقدر ہوا کرتی ہے جو زندگی سے زیادہ موت سے پیار کرتے ہیں۔ جو موت سے ڈرنے کی بجائے موت کو ڈراتے ہیں۔ جو موت میں اپنی زندگی سمجھتے ہیں۔
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہِ رب العالمین۔

{(۱۲/رمضان المبارک ۷۳۴۱ھ، 18.06.2016)
(نظرِ ثانی:۷۱/رمضان المبارک ۹۳۴۱ھ، 02.06.2018)
شاہی مسجد، اورنگ آباد}

                     (18.06.2016)
           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

New World Order aur Alam e Islam

Munshiyat ke asraat insaani zindagi par