عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار
اول
عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ
اور
اہل اقتدار
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✦ علماء دین کا مقام و اہمیت
✦ علمائے حق و علمائے رُشد
✦ فتنہ پرداز عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا دور
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی تعریف
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی پہچان احادیث کی روشنی میں
✦ اللّٰہ سے بغاوت اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اَلْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ
✦ گمراہ علماء دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہیں
✦ قربِ قیامت کے نزدیک علماء حق کا قحط اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا سر اُٹھانا
✦ نافرمان و باغی اور ظالم اہل اقتدار سے تعلق و خاموشی
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا انجام
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
(قسط اول)
قرآن مجید میں اللّٰہ ربّ العالمین فرماتے ہیں، "حق یہ ہے کہ جو لوگ ان احکام کو چھپاتے ہیں جو اللّٰہ نے اپنی کتاب میں نازل کیے ہیں اور تھوڑے سے دنیوی فائدوں پر انہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں۔ قیامت کے روز اللّٰہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انھیں پاکیزہ ٹھیرائے گا، اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لے لیا کیسا عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں "۔ (سورۃ البقرۃ: 174 - 175)
اس آیت کی تفسیر میں صاحب تفسیر فرماتے ہیں "مطلب یہ ہے کہ عام لوگوں میں یہ جتنے غلط توہمات پھیلے ہیں اور باطل رسموں اور بے جا پابندیوں کی جو نئی نئی شریعتیں بن گئی ہیں ان سب کی ذمہ داری ان علماء پر ہے جن کے پاس کتاب الٰہی کا علم تھا مگر انہوں نے عامہ خلائق تک اس علم کو نہ پہنچایا۔ پھر جب لوگوں میں جہالت کی وجہ سے غلط طریقے رواج پانے لگے تو اس وقت بھی وہ ظالم منہ میں گُنگنیاں ڈالے بیٹھے رہے۔ بلکہ ان میں سے بہتوں نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا کہ کتاب اللّٰہ کے احکام پر پردہ ہی پڑا رہے"۔
علماء دین کا مقام و اہمیت:
لغوی معنی کے اعتبار سے ہر چیز کی معرفت کا نام علم ہے اور اس کو جاننے والا، دانا، خبر رکھنے والا عالم کہلاتا ہے اور اصطلاحی تعریف میں دینی امور کے جاننے والے کو عالم کہتے ہیں، علماء عالم کی جمع ہے۔ علماء کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جو دینی و مذہبی معلومات میں دسترس و مہارت رکھتے ہوں اور ساتھ ہی ساتھ اس پر عمل پیرا بھی ہوتے ہوں۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ عالم ہونے کے لئے کسی دینی مدارس سے فراغت حاصل کرنا ضروری نہیں۔ علمائے دین انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔ رسولﷺ کی عطا کردہ شریعت کے امین، علومِ دینیہ کے محافظ،اہل اسلام کے ہادی و رہنما اور امتِ مسلمہ کے سروں کے تاج ہیں۔حدیث پاک میں نبی اکرمﷺ نے علماء کو انبیاء کا نائب و خلیفہ قرار دیا ہے اور یہ نیابت ان تمام کاموں میں ہے جنہیں دے کر انبیاء کرام ؑکو مبعوث کیا گیا۔
علماء کرام انبیاء عظام کے وارث ہوتے ہیں انبیاء کے بعد علماء ہی کا مرتبہ نبیﷺ نے فرمایا: ”اِنَّ الْعُلَمَاءَ ورثَۃُ الانبیاءِ وانَّ الانبیاءَ لَمْ یورِّثو دِیْنَارًا ولاَ دِرْہَمًا وانَّمَا وَرَّثُوالْعِلْمَ فَمَنْ اخَذَہُ اَخْذَ بحظٍ وَافِرٍ“۔علماء دین انبیاء کرام کے وارث ہوتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انبیاء دینار و درہم کے وارث نہیں بناتے ہیں وہ تو علم کا وارث بناتے ہیں جس نے دین کا علم حاصل کرلیا اس نے پورا حصہ پالیا۔ (ترمذی: 2625)۔ علماء کرام معاشرے کی اصلاح کی ذمہ داری سر انجام دیتے ہیں اور اسلام کو اپنی اصل روح کے ساتھ دنیا میں نافذ کرنے کیلئے دنیاوی لذتوں سے ناآشنا ہوکر مسلسل دین حق کی سربلندی کا فریضہ سر انجام دیتے رہتے ہیں۔ علماء کرام کی مجالس میں روح کو تسکین حاصل ہوتی ہے اور دنیاوی چمک کی اصلیت آشکار ہوتی ہے۔
میں نے ذاتی طور پر اصل حکومت کی جھلک علمائے حق اور نیک و سعید نفوس کی حیات و موت میں محسوس کی ہیں۔ ان کی زندگی سے ایک نکتے کا انکشاف بھی ہوتا ہے وہ یہ کہ اہل علم حضرات تمام عمر اقتدار کے ایوانوں سے دور رہنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ ایسے کئی صالح علماء کی صحبتِ صالحین کا شرف حاصل ہوتا رہا ہے۔
امام عسکریؒ نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”علماء‘ رسولوں کے (ورثے کے) امین ہیں جب تک کہ وہ (دنیا کی آلائشوں) میں نہ گھسیں اور حاکم کے پیچھے پیچھے نہ چلیں۔ پس جب وہ ایسا کرنے لگیں تو ان سے بچو“۔
اللّٰہ کی جانب سے عطاء کردہ علم اس وقت تک ہی معزز ہوتا ہے جب تک علماء حق اسے حکمرانوں کی دہلیز تک نہ لے جائے۔ حضرت سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں کہ: ''فاجر علماء نے دنیا تک (رسائی کے لیے) ایک بہانہ ڈھونڈ لیا ہے اور کہتے ہیں: ہم حکمرانوں کے یہاں جائیں گے تاکہ مصیبت زدہ کو نجات دلائیں اور کسی قیدی کی سفارش کریں''۔ سفیان ثوریؒ نے مزید فرمایا: ''علم اس وقت تک معزز تھا جب تک اسے بادشاہوں کے دروازوں پر نہ لے جایا گیا اور اس پر لوگ اُجرت نہ لینے لگے۔ پس جب ایسا کیا گیا تو اللّٰہ نے ان کے (یعنی ایسے اہل علم کے) دلوں سے حلاوت ایمانی اٹھا لی اور انہیں اس پر عمل سے روک دیا''۔
جب بھی کوئی عالم اہل اقتدار و حکومت سے اپنے تعلقات کو استوار کرتا ہے۔ حاکم وقت، وزراء و نائبین اور اہل کاروں کی مجلسوں میں شریک ہوکر اس کی زینت بنتا ہے۔ ان کی دعوتوں کو قبول کرتا ہے، شریکِ محفل ہوکر اس کے طعام کو تناول فرماتا ہے۔ حکمرانوں کی دروازوں و چوکھٹ پر حاضری دیتا ہے۔ حکومتی مجالس و تقاریب اور کانفرنسوں میں شرکت فرمانا باعثِ فخر سمجھتا ہے۔ اپنے رزق کو سرکاری ٹکڑوں سے حاصل کرنے کی تگ و دو میں رہتا ہے۔ حکومتی مناصب پر فائز اہلکاروں کو مساجد و مدارس اور مکاتیب میں دعوت دیتا ہو۔ ایسے علماء کو اللّٰہ ربّ العزّت ضرور بالضرور حق گوئی کی صفت سے محروم کر دیتا ہے۔
علمِ حقیقی دراصل معرفت الٰہی اور حقیقت تک رسائی کا نام ہے اور ایسا علم انسانی بصیرت و فہم اور ادراک کو کھول دیتا ہے۔ اس طرح ایک عالم ان حقائق تک رسائی حاصل کرلیتا ہے جو اس کے وجود میں ہوتی ہے۔ علم ذہنی اختراع، آگاہی، لیاقت ومعلومات کا نام نہیں ہے جو کہ ذہن میں جمع ہو جائیں اور جن سے کوئی سچا اصول اور کوئی سچی حقیقت ذہن نشین نہ ہو۔ اور نہ محسوسات کے علاوہ کوئی حقیقت ذہن میں بیٹھی ہو۔ یہ ہے صحیح راستہ علم حقیقی اور اس حقیقت کا جو دل و دماغ کو منور کر دیتی ہے۔ یہی ہے اللّٰہ کا مطیع فرمان ہونا۔ دل کا حساس ہونا اور آخرت اور اللّٰہ کے فضل وکرم کی امیدواری، اللّٰہ کے خوف اور اللّٰہ کے سامنے ڈرے اور سہمے رہنا۔ علم اور حقیقی علم یہی ہے اور اس طرح عقلیت پیدا ہوتی ہے وہ دیکھنے والی اور سننے والی اور جس چیز کو وہ پاتی ہے اس سے فائدہ اٹھانے والی ہوتی ہے اور یوں اس قسم کا علم ان مشاہدات کے پیچھے حقیقت عظمیٰ تک پہنچ جاتا ہے۔ لوگ انفرادی تجربات کو علم کہتے ہیں اور صرف ان چیزوں کو معلومات کہتے ہیں جو نظر آتی ہیں۔ علم وہ ہے جو اللّٰہ کی معرفت کا ذریعہ ہو۔ ربّ کے نام کے ساتھ ہی حقیقی علم سے آگاہی ہوتی ہے۔
اہل علم یعنی علماء حضرات کو چاہیے کہ وہ اس اہم ایمانی معاملے کے حوالے سے اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرتے رہیں، تاکہ اللّٰہ کی طرف سے کسی محاسبہ میں شرمندگی اور عذاب سے بچ سکیں۔ امام ابن ماجہؒ اور امام بیہقیؒ نے روایت نقل کی ہے۔ حضرت عبد اللّٰہ بن مسعودؓ نے فرمایا: ”اگر اہل علم، علم کی قدر کرتے اور اسے اس کے اہل لوگوں کے سپرد کرتے تو وہ اپنے اہل زمانہ کے امام بن جاتے، لیکن انہوں نے اسے اہلِ دنیا پر خرچ کیا تاکہ اس سے اپنی دنیا بنائیں تو وہ ان کی نظروں میں بھی گر گئے۔
ایک موقع سے فرمایا گیا کہ ”جس شخص نے علم اس لیے حاصل کیا، تاکہ علماء سے مقابلہ کرے یا کم علم لوگوں سے جھگڑا کرے یا لوگوں کو علم کے ذریعہ اپنی طرف مائل کرے، اللّٰہ تعالیٰ ایسے شخص کو جہنم میں داخل کرے گا۔ (رواہ ابن ماجہؒ)۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا علم دو طرح کا ہے ایک علم باطن جو دل میں ہوتا ہے (ایسا علم جس پر عامل ہو اور وہ اس قلب پر اثر انداز ہو) اور وہی نافع ہے، دوسرا علم ظاہر (جو بغیر عمل کے ہو) جو زبان پر ہوتا ہے، وہ لوگوں پر اللّٰہ کی حجت ہے۔ (رواہ الدیلمیؒ فی مسند الفردوس من طریق أبی نعیم)
یہ بات مسلّم ہے کہ ہمارا زمانہ علم وعمل، تقوی و تدین اور اخلاص و للہیت ہر اعتبار سے قحط و افلاس کا زمانہ ہے، حرف علم سے آشنائی رکھنے والے تو بہت ہیں،مگر نسبت علم کی لاج رکھنے والے، حق تعالیٰ سے تعلق خاص رکھنے والے، اُمّت کے تئیں نصح و خیر خواہی کا جذبہ رکھنے والے اور اللّٰہ کے دین کو اس سر زمین پر نافذ کرنے والے معدودے چند ہی نظر آئیں گے۔ شاید ایسے ہی زمانے کی پیشینگوئی کرتے ہوئے نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: ''علم اٹھ جائے گا اور اللّٰہ تعالیٰ علم لوگوں کے سینوں سے کھینچ کر نہیں نکالے گا۔ بلکہ علماء کے چلے جانے کے ساتھ علم بھی چلا جائے گا۔ حتیٰ کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا اور لوگ جاہلوں کو اپنے رؤساء اور پیشوا بنالیں گے، ان سے مسائل پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے، یہ جہلاء خود بھی گمراہ ہونگے اور لوگوں کو بھی گمراہ کردیں گے''۔ (صحیح بخاری: 100، صحیح مسلم: 2673)
برصغیر ہند میں ماضی کی تاریخ پر طائرانہ نظر ڈالیں تو اس سر زمینِ صنم کدہ میں اسلام کا عَلم لہرانے والے محمد بن قاسمؒ و مالک بن دینارؒ سے شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ اور شاہ اسمعیل شہیدؒ تک علماء وصلحاء، مفسرین ومحدثین، مجاہدین ومبلغین اور فقہاء ومفتیین کی صورت میں ناموں اور کاموں کی ایک ایسی طویل فہرست نظر آئے گی جن کے ایمان و ایقان، اخلاص و للہیت، حریت فکر اور یقین محکم کی بدولت دنیا بھر میں سینکڑوں مسلمان آج بھی دین ومذہب سے جڑے ہوئے ہیں۔ عہد اکبری میں ”دین الٰہی“ کے عنوان سے اسلام کے خلاف جو عظیم فتنہ رونما ہوا تھا جس کی پشت پر اکبر جیسے مطلق العنان فرماں روا کی جبروتی طاقت بھی تھی، لیکن حضرت مجدد الف ثانیؒ اور ان کے ہمنوا علماء نے اپنے پایۂ استقامت سے اس فتنہ کے سرکو ہمیشہ کیلئے کچل دیا۔ یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ اہل علم اپنے اوپر عائد ہونے والی پیغمبرانہ نیابت کی ذمہ داریوں کا نہ صرف کما حقہ ادراک رکھتے ہیں بلکہ اپنی عملی، علمی اور فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر چراغ سے چراغ جلانے کا عمل پوری آب وتاب سے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ آج بھی فتنوں کی سرکوبی اور موجِ بلا خیز کے تھپیڑوں سے انسانیت کو بچانے کے لئے اپنا سب کچھ اس راہ میں لگا دے وہی علماء حق کی صف میں کھڑا ہوگا۔
جید بزرگ عالم دین حضرت مولانا ابوظفر حسان ندوی ازہری جن کی تربیت و تزکیہ نے آپ لوگوں سے ہم کلام ہونے کا شرف بخشاء، مولانا محترم نے علماء کو نصیحت کرتے ہوئے ایک تقریب میں فرمایا تھا کہ ''عالم دین کی ذمہ داری ہے کہ وہ دعوت دین کا فریضہ انجام دے اور جس مقصد کے تحت اللّٰہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھیجا ہے اس کو ادا کرنے کی کوشش کرے''۔
علمائے حق و علمائے رُشد:
ہم جانتے ہیں کہ علماء رُشد انہیں کہا جاتا ہے جو اپنے علم یعنی قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرتے ہیں اور صحیح طور پر محض اللّٰہ کی رضا کے لئے بلا کسی رُو رعایت کے لوگوں کو شریعت کا حکم بتاتے ہیں دنیا کے لالچ میں آکر اپنے مفاد کے لئے یا دوسروں کے مفاد کے لئے شریعت کا حکم نہیں بتاتے۔ علمائے حق کی خاصیت یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر استقامت کے ساتھ عمل پیرا ہوتے ہیں، حق بات کہنے میں تأمل سے کام نہیں لیتے، شرعی مسائل کی وضاحت میں کسی ملامت کو خاطر میں نہیں لاتے، قرآنی آیات اور اقوال رسولﷺ کو باطل کی ملمع سازی، جاہل کی بیجا تاویل اور غلو پسند حضرات کی تحریف سے بچاتے ہیں، ان کی ان حرکتوں کو بلا خوف وخطر لوگوں کے سامنے لاکر ان کے ناپاک عزائم کا قلع قمع کرتے ہیں۔
(جاری)
{1-6}
Comments
Post a Comment