New World Order aur Alam e Islam

04 *••⊱نیُو ورلڈ آرڈر اور عالم اسلام⊰••*

          ┄┅════❁﷽❁════┅┄                

╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔

     *••⊱نیُو ورلڈ آرڈر اور عالم اسلام⊰••*

╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

     🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁

               📱09422724040

         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•

            ┄─═✧═✧═✧═✧═─┄


      وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ۔

     دنیا میں نیا عالمی نظام یعنی "نیُو ورلڈ آرڈر" یا "صَیہُونی نظام" بحث و مباحثہ کا ایک اہم موضوع بن گیا ہے۔ نیُو ورلڈ آرڈر کا مطلب ایک مطلق العنان عالمی حکومت ہے۔ نیُو ورلڈ آرڈر ایک کلیائی نظام ریاست کا نام ہے، جس میں فرد پر ریاست کا مکمل کنٹرول ہوگا۔ سودی نظام نیُو ورلڈ آرڈر کی شریعت کا اہم حصّہ ہے۔ دنیا بھر کے ڈیڑھ سو سے زائد بااثر خاندان جنہیں black nobility کہا جاتا ہے اور جو اپنے آپ کو blue blood کہتے ہیں، خاص طور سے نیُو ورلڈ آرڈر کے لیے کام کرتے ہیں۔


     لندن میں G20 ممالک کی کانفرنس کے شرکاء دنیا میں برپا مالیاتی بحران کو ختم کرنے کے لئے نیُو ورلڈ آرڈر پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب تو حکومتوں کے ایوانوں میں اس پر بحث و مباحثہ کا دور چل پڑا ہے۔ ملک کے وزیر اعظم نے یہ کھلے لفظوں میں واضح کردیا کہ کورونا کے بعد ایک نیُو ورلڈ آرڈر آئے گا اور یہ نیُو ورلڈ آرڈر تو آکر ہی رہے گا اور کون اور کیسے اس کو چلائے گا یہ تو وقت بتائے گا، لیکن خاص بات یہ کہی کہ، ہمارا ملک اس نیُو ورلڈ آرڈر کے ساتھ ہے، ہمارا ملک اس سے الگ کٹ کر نہیں رہ سکتا۔ وزیر اعظم نے بڑی بڑی طاقتیں کہہ کر دجالی صَیہُونی نظام کی طرف واضح طور پر اشارہ دیا ہے وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ 'کورونا بھی اسی دجالی نظام New World Order کا ہی حصّہ ہے'۔  میں یہ سمجھتا ہوں کہ حالات تو اس بات کا بھی اشارہ دے رہے ہیں کہ کورونا کے بعد آمریت اور استبدادی حکومتوں کو فروغ ملے گا۔ کورونا کے بعد کی دنیا میں عالم اسلام اور غریب و کمزور ممالک کو ایک مرتبہ پھر ایک نئی سرد جنگ کا سامنا ہو سکتا ہے۔


     اسی لئے میں ذمّہ داری کے ساتھ ببانگِ دہل کہتا ہوں کہ کورونا کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں ہے، یہ نیُو ورلڈ آرڈر کی ریہرسل ہے۔ اس نیُو ورلڈ آرڈر کو بحیثیت مسلمان ہمیں بھی سمجھنا ہوگا کہ آخر نیُو ورلڈ آرڈر کس بلاء یا کس دجالی فتنے کا نام ہے؟ اس نظامِ عنکبوت کے پیچھے کیا خفیہ سازشیں کارفرما ہیں؟ اور آخر کیوں اس نظامِ باطل کو صَیہُونیت نواز غالب کرکے دنیا میں ایک نئی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں کئی ممالک میں یہ نعرے بھی لگائے جارہے ہیں، جس میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں کہ 'تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آچکی ہے'۔ یہ امت مسلمہ کے لئے بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے۔


     عالم اسلام کے خطے روئے زمین پر قدرتی وسائل کے لحاظ سے زرخیز ترین علاقے تصور کئے جاتے ہیں۔ جنہیں صہیونی استعماری طاقتیں ہمیشہ حریص نگاہوں سے دیکھتی رہی ہے۔ اسی لئے یہ علاقے یا خطے عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز و محور بھی رہے ہیں۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد امریکہ سپر پاور بن گیا۔ اسی سپر پاور کے نشہ میں چور ہوکر امریکہ کے سابق صدر جارج بش(اول) کے پہلے دور صدارت میں ایک نیا نظام بنام نیُو ورلڈ آرڈر (New World Order) متعارف کروایا گیا۔ نیُو ورلڈ آرڈر تو محض خوبصورت عنوان ہے مگر اس کے پیچھے اسلام دشمنی کی فکر کار فرما ہے۔


     سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کیسنجر کے مطابق عالمگیر وباء کووڈ-19 کے بعد کی دنیا ایک ’مختلف‘ دنیا ہوگی اور موجودہ ’’ورلڈ آرڈر‘‘ تبدیل ہوجائے گا۔ اُن کا یہ بیان حقائق کی روشنی میں بالکل درست معلوم ہوتا ہے۔ اس نیُو ورلڈ آرڈر کا واضح خاکہ ڈاکٹر جان کولیمن نے اپنی کتاب 'کونسپیریٹر ہیرارکی' میں کھینچا ہے۔ ڈاکٹر کولمین کے اقتسابات پڑھ کر آپ کو احساس ہوگا کہ نیُو ورلڈ آرڈر محض اقتصادی صورتِ حال سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ مکمل ایک نظام اور ایک نیا مذہب ہے۔ ڈاکٹر جان لیمن لکھتے ہیں کہ ایک عالمی حکومت اور ایسا نظام جس کو ایک عالمی حکومت کنٹرول کر رہی ہو، مستقل غیر منتخب موروثی چند افراد کی حکومت کے تحت ہوگا۔


     نیُو ورلڈ آرڈر کے قیام کے لئے دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کو سب سے پہلے ختم کیا جانا چاہیے۔ جس کے لئے وار آن ٹیررازم (war on terrorism) کے نام سے عالم اسلام کی بڑی بڑی مملکتوں کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف بہت سی سازشیں کی جارہی ہیں اور نیُو ورلڈ آرڈر انہی سازشوں کی ایک کڑی ہے۔ نیُو ورلڈ آرڈر کی مخالفت کرنے والے افراد کو مذہبی جنونیت کے لبادے میں دکھایا جاتا ہے۔


     حکومتوں، قانون ساز اسمبلیوں، تجارتی مراکز، طبی مراکز، میڈیا ہاؤسز، تعلیمی اداروں وغیرہ میں اپنے آلہ کار اور کارندوں کو خفیہ طور پر depute کرکے عالمی معاملات کو اپنے زیر انتظام رکھنے کے لئے خفیہ سے خفیہ سازشیں رچی جارہی ہیں۔ ان ساری جدید سازشوں کے مفروضوں (conspiracy theory) اور سرگرمیوں کے پس پردہ ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ سیاسی اقتدار حاصل کرکے ایک نیا عالمی نظام (نیُو ورلڈ آرڈر) قائم کیا جائے۔ جس کا عالمگير ایجنڈا ایک مطلق العنان عالمی حکومت کے ساتھ معاہدہ ہے، جو عالمی اقتدار پر قابو پائے گا، جب کہ خود مختار قومی ریاستوں کی موجودہ صورتحال کو ختم کر دیا جائے گا۔  نیُو ورلڈ آرڈر کو کئی شکلوں میں مسلط کیا جارہا ہے۔ جس میں ایک شکل ون ورلڈ آرڈر اور دوسری شکل ون ورلڈ ریلیجن ہے۔ کبھی "عظیم تر مشرق وسطیٰ" تو کبھی ترمیم کرکے "مشرق وسطیٰ کی تشکیل نو" کا نعرہ دیا گیا۔ کبھی اپنے انہیں عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے "وار آن ٹیررازم" کا نام دیا گیا۔ لیکن یہ سب پگڈنڈیاں یا شاخیں تھیں "نیُو ورلڈ آرڈر" کے منصوبوں کو عملی شکل دینے کی ہیں۔ اسی سلسلے میں 1989ء میں 'نیُو ورلڈ آرڈر' نامی کتاب لکھی گئی۔ حالانکہ اس کا خاکہ تو ایک عرصے پہلے مرتب کیا جاچکا تھا۔


     نیا عالمی نظام یا نیا صہیونی نظام ان تبدیلیوں پر مشتمل ہوگا جو کہ پوری عالم انسانیت میں ترتیب دیا جائے گا اور اس کی چند شقوں کا مفہوم درج ذیل ہیں۔


     نظام اور مملکت کا انتظام بھی ایک ہی ایجنڈے پر چلنا چاہیے۔ اس کے لئے 'گلوبل ویلیج' کا نام دیا گیا۔


     ہر قسم یا دنیا کے تمام مذاہب کا خاتمہ کرکے ان کو غیر قانونی اور ناجائز قرار دے دیا جائے گا۔ اور مذاہب پر عمل پیرا ہونے والوں کو پابند سلاسل یا دار و رسن بھیج دیا جائیگا۔ تاکہ وہ کسی بھی صورت دجالی و شیطانی قوتوں کیلئے درد سر نہ بن سکیں۔ کیونکہ نیُو ورلڈ آرڈر کا ایک ہی صہیونی نواز مذہب ہوگا۔


     اسلام پسندوں کی حکومت (جس کو وہ بنیاد پرست اور اب دہشت گرد کہتے ہیں) قائم نہ ہو۔ جنہیں وہ اسلامی فنڈامنٹلشٹ یا اسلامی دہشتگرد کہتے ہیں ان کا خاتمہ کر دیا جائے۔


    اسی صہیونی ورلڈ آرڈر کے تحت مشرق وسطی میں عرب ممالک پر صہیونی اسرائیل کی بالادستی فوجی اور سیاسی دونوں اعتبار سے قائم کی جائے گی، جسے عرب ممالک کے حکمراں کو بٹھا کر ان سے تسلیم کروایا جائے۔ اسرائیل کی بالادستی اس طریقے سے قائم کر دی جائے کہ کوئی عرب ممالک اسرائیل کے سامنے سر نہ اٹھا سکیں۔


     عالم اسلام میں اس وقت جو دینی بیداری کی تحریکات ہیں جس کو وہ بنیاد پرست اور دہشت گرد تحریکات کہتے ہیں۔ جو خالص اسلام کی بنیاد پر، قرآن و سنت کی حکمرانی کی بنیاد پر، کسی آمیزش کے بغیر قرآن و سنت کے خالص نظام کو اپنے ممالک پر رائج کرنا چاہتے ہیں، وہ تحریکات اب بھی موجود ہیں، کہیں طاقتور ہیں اور کہیں کمزور ہیں۔ صیہونیت زدہ تمام ممالک متفق ہوچکے ہیں کہ ان تحریکات کو ہر قیمت پر دبانا ہے۔


    نیُو ورلڈ آرڈر کے تحت صہیونیت نواز اور ان کے حواری ممالک یہ چاہتے ہیں کہ دنیائے اسلام کا کوئی ملک بھی فوجی لحاظ سے اس قدر طاقتور نہ ہو کہ وہ کسی غیر مسلم ملک بالخصوص اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکے۔


    والدین کو اولاد کی پیدائش کے حق سے محروم کیا جائے گا۔ ریاستی قانون کے تحت انسان کی آنے والی نسلیں دنیا میں قدم رکھے گی۔ تمام عورتوں کو مردوں کے شانہ بہ شانہ گھروں کی حفاظتی اور عزت و عصمت کی ضمانت لینے والی حدوں کو توڑ کر کام کرنے کی آزادی دی جائے گی۔ ریاستیں، دجالی قانون کے تحت ان کی حفاظت کے نام پر انہیں رسوا ہی کریں گی۔ عورتوں کو بھی طلاقیں دینے کا قانونی حق میسر ہوگا۔


     آزادی نسواں کی تحریکوں اور نعروں کے ذریعے صنفِ نازک کو ذلیل و رسواء کیا جائے گا۔ صنفِ نازک کو گھروں سے نکال کر جنسی آزادی اور ان کے استحصال کو فروغ دیا جائے گا۔ اسلامی ممالک میں "عورت آزادی مارچ"، "میرا جسم میری مرضی" بھی اسی نیو آرڈر کے منصوبوں کی ایک کڑی ہیں۔ انہیں دلنشین نعرے میں عورتیں شہزادی سے اسیر زادی ہوگئی۔ جب کہ اللّٰہ کا ارشاد ہے "یعنی تم اپنے گھروں میں ٹھہرے رہو۔ اگر کبھی نکلنے کی ضرورت ہوئی تو اس طرح زیب و زینت کے ساتھ نمائش کرتی ہوئی نہ نکلو، جیسا جہالت کی عورتیں نکلا کرتی تھیں" (الاحزاب۔۳۳)

سورہ البقرہ آیت نمبر 187 میں مرد و زن سے مخاطب ہوکر اللّٰہ فرماتے ہیں کہ " وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو"۔


     مرد و زن کے درمیان تفریق کو ختم کردیا جائے گا۔ اس نظام میں ریاست طے کرے گی کہ فرد کو کون سا پیشہ اختیار کرنا چاہئے۔ شادی کب اور کس سے کی جائے، اولاد کی پیدائش کے لئے ریاست کی منظوری، آبادی کا پورا کنٹرول ریاست کے پاس ہوگا۔ اس کا پہلا تحریری تصور افلاطون نے اپنی کتاب میں پیش کیا تھا۔


     صدیوں سے قائم خاندانی نظام کو اس دجالی نظام سے کس قدر زک پہنچائی گئی ہے اس کا اندازہ ہر فرد کو اچھی طرح ہے۔ ڈراموں اور میڈیا کے ذریعے ایک یا دو بچے کا نعرہ اور مہمات کی حکومتی سطح پر پذیرائی اور ان کے لیے بیرونی فنڈنگز کا انبار بھی بلآخر اپنا رنگ دکھانے لگا ہے۔ 


     ہم جنس پرستی پر مبنی شادیاں قانونی طور پر جائز قرار دی جائیں گی، جس پر عمل پیرا ہونے کی مثال قانون ساز اسمبلیاں اور عدالتیں پیش کررہی ہیں۔ بعد میں دھیرے دھیرے ازدواجی شادیاں غیر قانونی قرار دے دی جائیں گی۔


     عاملیت اور پیداواری اشیاء کے تمام شعبے یعنی سیدھے الفاظ میں تمام صنعتیں اور فیکٹریاں کارخانے اور ادارے وغیرہ حکومت کی ملکییت ہوں گے اور ہر قسم کی نجی یا ذاتی جائیداد و ملکیت کو غیر قانونی قرار دے دیا جائے گا۔


     ورلڈ بینک ہیڈ کوارٹر میں ایک پیش کردہ بل کی عالمی کرنسی کی تصویر چسپاں ہے۔ یہ تصویر نیُو ورلڈ آرڈر کے ہمنواؤں کی نمائندگی کرتی ہے۔ جیسے "فیڈرل ریزرو نوٹ یا کرنسی" بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو بینک کی اس ایک عالمی کرنسی کی فراہمی میں مرکزی کردار ہوگا۔ یہ نیُو ورلڈ آرڈر کی سازش تھیوری کا ایک حصّہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمام ریاست کی ایک عالمی کرنسی ہوگی، ان کے مالیاتی ادارے بھی نیُو ورلڈ آرڈر کے نظام کے مرہونِ منّت ہوں گے۔


     نیُو ورلڈ آرڈر کی سازش کا نظریہ کچھ عرصہ سے جاری ہے ، لیکن حالیہ برسوں میں اس میں توجہ اور بڑھ گئی ہے۔ جب حکومت اپنے شہریوں کی زندگیوں میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کررہی ہے تو ، ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے خفیہ اشرافیہ کے ساتھ مل کر پوری دنیا پر قبضہ کرنے پر پابندی عائد کرنے کے تمام مذموم خیالات اتنے مضحکہ خیز نہیں ہوں گے جتنے ہم نے ایک بار سوچا تھا۔ پھر بھی ، نیُو ورلڈ آرڈر کا تصور صرف ان تبدیلیوں سے زیادہ ہے جو ریاستہائے متحدہ میں آئینی حقوق کے بارے میں تجویز کیا گیا ہے۔ دنیا میں جو بھی بگاڑ آپ کو نظر آ رہا ہے وہ سب ایک عالمی صہیونی منصوبے کا حصہ ہے اور منصوبہ یہ ہے۔


      کورونا تناطر میں عالمی میڈیا پر کچھ اس طرح کی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ معاشی بحران اور اس طرح کے تمام معاملات کے سدِ باب کیلئے اور عالمی طاقتوں نے اپنی طاقت اور دنیا پر اجارہ داری کو قائم رکھنے کیلئے ایک نئے عالمی نظام یا نیُو ورلڈ آردڑ کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ نیُو ورلڈ آرڈر کا بیانیہ ویسے تو بہت قدیم فکر ہے جس کے تحت پوری دنیا پر صہیونیوں کے تسلط کو قائم کرنا شامل ہے۔


     دجالی پالیسیوں کو مستحکم کرنے کے لئے دجال کے کارندوں نے خفیہ تحریکوں کا جال بچھا رکھا ہے، اور یہ لوگ باقاعدہ Synagogue of Satan کے پیروکار ہوتے ہیں۔ جس میں صہیونیت، The Protocols of the Elders of Zion، الومیناتی،  Round Table movement، فری میسن (ماسونیت)، The Open Conspiracy, اسکل اینڈ بون، Fourth Reich، راؤنڈ ہیڈ،  New Age movement اس کے علاؤہ NGOs کا ٹولہ وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام تحریکات شب و روز اس نیُو ورلڈ آرڈر کو قائم کرنے کے لئے مصروف عمل رہتے ہیں۔ دجال کے یہ پجاری عالم اسلام، عالم عیسائیت، عالم یہودیت اور دنیا کے تمام مذاہب میں نظر آئیں گے۔


     مندرجہ بالا اقتباسات کو پڑھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نیُو ورلڈ آرڈر ایک نیا نظام و مذہب ہے جس کو دجال کے پیروکار ساری دنیا پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ساتھ ہم عالمی منظرنامہ کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ معلوم ہوجائیگا کہ آج کس قدر نیُو ورلڈ آرڈر کا دجالی نظام کہیں کامیاب تر تو کہیں شکست خوردہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اسی نیُو ورلڈ آرڈر کے استحکام کے نام پر پوری دنیا میں جس طرح مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے اور جس طرح اقوام متحدہ جیسے اداروں نے اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، اس طرح یہ پتا چلتا ہے کہ تمام عالمی ادارے اس وقت نیُو ورلڈ آرڈر کے تحت کام کررہے ہیں اور مسلمانوں کا قتل عام اسی آرڈر کی ایک کڑی ہے۔ اس منظر نامے کے مثبت اثرات یہ ہیں کہ ایران، عراق، شام، ترکی، آذربائجان، بوسنیا، فلسطین اور لبنان میں اسلامی مزاحمت کی مسلسل کامیابیوں سے یہ دکھائی دیتا ہے کہ مشرق وسطی کا خطہ ایک نئے نقشے کی طرف گامزن ہے جس کا محور اسلامی مزاحمت ہے۔ جس کا ultimate goal اسلامی ورلڈ آرڈر ہی ہوگا۔ ان شاء اللّٰہ!!!


     کیا ہم نے اب تک یہ سوچا ہے کہ نیُو ورلڈ آرڈر کی ریہرسل "کورونا لہر" کے بعد کی دنیا میں ہماری جگہ کہاں ہوگی اور کیسے ہوگی؟ کیا کسی نے یہ سوچا ہے کہ قرضوں کے بوجھ تلے دبی معیشت، افراط زر سے ہلکان معاشرت، کورونا زدہ سیاست اور کمزور ہوتی ریاست کا مسقبل کیا ہوگا؟ ایسے میں ہم نیُو ورلڈ آرڈر کے اس دجالی و صہیونی نظام میں بحیثیتِ مسلمان خود کو کہاں فٹ کریں گے؟


     آج نیُو ورلڈ آرڈر کا ہمنوا و رہنما امریکہ شدید پریشانی کا شکار ہے، اتنی بڑی معیشت، جدید ٹیکنالوجی اور صحت عامہ کا بظاہر اتنا بڑا انفراسٹرکچر رکھنے کے باوجود دنیا میں امریکی صہیونی اجارہ داری کی گرفت کمزور ہوتی جارہی ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ کا طاقت کی بنیاد پر دنیا پر تسلط کا خواب ریزہ ریزہ ہوچکا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو دنیا میں جنگ غیر ملکی وسائل سے فائدہ حاصل کرنے کا ایک غیر اخلاقی طریقہ ہے اور امریکہ اس کام میں بہت ماہر نظر آتا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس کے ایک جھٹکے نے امریکہ کے یونی پولر نظام کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہے۔


     اخلاقیات و طاقت و اقتدار اور دینی اعتبار سے نیُو ورلڈ آرڈر کے راستے میں اگر کوئی واحد سد باب ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔ چنانچہ اسلام کی ان تعلیمات کو یکسر ختم کرنے پر زور دیا گیا جو اس نئے دجالی نظام کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔


     اگر دنیا کو ضرورت ہے ایک مبنی بر انصاف نیُو ورلڈ آرڈر کی۔ تو اب یہ نیُو ورلڈ آرڈر صیہونی ہمنواؤں نے نہیں بلکہ اسلام پسندوں کے ذریعے غالب کیا جانا ہے۔ مبنی بر انصاف نیُو ورلڈ آرڈر کی پہلی شق یہی ہوگی کہ طاقت سے خائف ہو کر اعلائے کلمة اللّٰہ کے پرچم کو سرنگوں نہ کیا جائے۔ کیونکہ تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔


     اللّٰہ کے رسولﷺ نے کائنات کے فنا ہونے تک کا ایک نیُو ورلڈ آرڈر پر عمل پیرا ہونے والا معاشرہ صرف 23 سالہ جدوجہد کے نتیجے میں عالم انسانیت کے سامنے پیش کیا۔ جس کا باضابطہ اور باقاعدہ اعلان 9 ذی الحجہ 10ہجری میں خطبہ حجتہ الوداع کے موقع سے کیا۔ جو دنیائے انسانیت اور اقوامِ عالم کے لئے پہلا باضابطہ Charter of Human Rights  پیش کیا گیا۔ اس موقع سے آپؐ نے فرمایا: لوگو! خبردار پچھلا عالمی نظام جو استحصال، ظلم و جبر، تشدد اور ناانصافی پر مبنی تھا آج وہ ختم ہو رہا ہے۔ اسے میں اپنے قدموں تلے روندتا ہوں اور عالم انسانیت کو نیا عالمی نظام عطاء کرتا ہوں۔


      خطبہ حجتہ الوداع کو انسانی تاریخ میں نیُو ورلڈ آرڈر کی حیثیت سے کیوں اختیار کیا جائے اس ضمن میں  آپؐ نے فرمایا کہ اللّٰہ رب العالمین نے ارض و سما کو یعنی نظامِ عالم کو جس حالت پر پیدا کیا تھا، زمانہ اپنے حالات و واقعات کا دائرہ مکمل کرنے کے بعد پھر اس مقام پر دوبارہ آگیا ہے۔' گویا زبان رسولﷺ اس امر کا اعلان کررہی تھی کہ نظامِ عالم کے ایک دور کا خاتمہ ہوچکا ہے اور نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ سابقہ تمام جاہلانہ اور ظالمانہ نظام اور غیر منصفانہ و مستبدانہ قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ آپؐ فرمایا: خبردار دور جاہلیت کے سارے نظام کو میں اپنے پیروں تلے روندتا ہوں۔ آج سے نظامِ جاہلیت کے سارے خون (قصاص، دیت اور انتقام) کالعدم قرار دئیے جاتے ہیں۔ آج سے نظامِ جاہلیت کے سارے سودی نظام ختم کئے جاتے ہیں۔ عالمی مساواتِ اِنسانی کا تصور (Equality of humanity)۔ حقوق کی ادائیگی کا حکم (Observance of rights)۔ نسلی تفاخر کا خاتمہ (Eradication of ethnicism)۔ زندگی کا حق (Right of life)۔ مال کے تحفظ کا حق (Right of property)۔ اَفرادِ معاشرہ کا حق (Right of society members)۔ زیردست اور افلاس زدہ انسانیت کے حقوق کا تحفظ۔ (Right of workers & servants)۔ لاقانونیت کا خاتمہ (No to lawlessness)۔ معاشی و اقتصادی اِستحصال سے تحفظ کا حق (Economic rights)۔ نومولود کے تحفظِ نسب کا حق (Newborn's right of anscestral sanctity)۔ معاشرتی شناخت کا حق (Right of social identity)۔ قرض کی وصولی کا حق (Right to recieve the debts)۔ ملکیت کا حق (Right of ownership)۔ خاوند اور بیوی کے باہمی حقوق (Rights of husbands & wives)۔ صنف نازک کے حقوق، اور عزت و احترام کا تحفظ (Women's rights)۔ قانون کی اِطاعت (Obedience of law)۔ قانون کی حکمرانی (Right of law observance)۔ اللّٰہ کے حقوق (Divine rights)۔ اِنصاف کا حق (Right of justice)، عالمی امن کے قیام کا اعلان۔ یہ تمام فرائض و حقوق کے عالمی منشور کو اللّٰہ نے اسلام کے ذریعے عالم انسانیت کو دے کر دنیا پر رحم و کرم کا معاملہ فرمایا۔


      اس اول عالمی منشور (new world order charter)  کے ذریعے نبی کریمؐ نے حجتہ الوداع کے ذریعے دنیائے انسانیت کو ایک زندہ و تابندہ نئے عالمی نظام سے متعارف کرایا۔ سیرت نبویﷺ میں حقوق انسانی اور عالمی نظام سے متعلق یہ واحد دستاویز نہیں ہے۔ بلکہ آپؐ کی پوری زندگی انسانیت نوازی اور تکریم انسانیت کی تعلیمات سے عبارت ہے۔ تاہم آپﷺ کی حیات مبارکہ میں انسانی حقوق کے تحفظ اور عملی نفاذ کے حوالے سے خطبہ فتح مکہ اور خطبہ حجۃ الوداع کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اس لئے بحیثیت امت مسلمہ کے فرد کی حیثیت سے نبی کریمؐ کے عطاء کردہ عالمی نظام کی موجودگی میں کسی اور نئے ورلڈ آرڈر کی ضرورت نہیں ہے۔


      دنیا میں اسلامک ورلڈ آرڈر کے نفاذ کے ذریعے دنیا میں پھیلی ہوئی بدامنی اور ظلم و جبر کا خاتمہ ہوا ہے۔ ایک ایسے بین الاقوامی معاشرے کو وجود بخشا گیا جہاں تعمیر، ارتقاء، خیر، نیکی اور عدل و انصاف کا دور دورہ تھا۔ ایک ایسا صالح نظام جہاں حقوقِ انسانیت کا ضامن تھا۔


     آپؐ نے فرائض اور حقوق کے تاریخ ساز و ہمہ گیر منشور (charter) کو عالم انسانیت کے سامنے پیش کرکے حجت تمام کردی ہے۔ اس منشور کو دنیا پر غالب کرنے کے لئے ہمیں کمربستہ ہونا پڑے گا۔ دنیا کے سامنے اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات کو اور خطبۂ حجتہ الوداع اور اس جیسے تمام منشور کو جو رسول اللّٰہﷺ اور ان کے اصحابؓ کی زندگی ملتے ہیں انہیں عالم انسانیت کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔


    ہمیں سب سے پہلے اسلام کے ساتھ، قرآن اور سنت کے ساتھ، اسلام کے نظام کے ساتھ شعوری وابستگی پیدا کرنی ہوگی، اس کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی، دنیا کے حالات کا مطالعہ کرنا ہوگا، اپنے جذبہ جہاد کو نیو ورلڈ آرڈر، جو عالم اسلام کے خلاف ایک سازش ہے، اجاگر کرنا ہوگا، اپنی دینی حمیت و غیرت کو بیدار کرنا ہوگا، اس میں وسعت پیدا کرنی ہوگی، ان شاء اللّٰہ! یہی ایک واحد حل ہے اس صہیونی نیُو ورلڈ آرڈر کے خاتمے کا!!!!

           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•

                     (06.06.2021)

       🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁

🏠 ال افشان، 7/4، شیلیش نگر، ممبرا،

       تھانہ- 400612، مہاراشٹر، الہند۔

📧masood.media4040@gmail.com

        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️

                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan