عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (چہارم)

چہارم
عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
                عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ
                            اور
                        اہل اقتدار
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════

      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
                09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✦ علماء دین کا مقام و اہمیت
✦ علمائے حق و علمائے رُشد
✦ فتنہ پرداز عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا دور
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی تعریف
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی پہچان احادیث کی روشنی میں
✦ اللّٰہ سے بغاوت اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اَلْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ
✦ گمراہ علماء دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہیں
✦ قربِ قیامت کے نزدیک علماء حق کا قحط اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا سر اُٹھانا
✦ نافرمان و باغی اور ظالم اہل اقتدار سے تعلق و خاموشی
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا انجام
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
                        (قسط چہارم)

"حضرت مسروقؓ سے روایت ہے تم پرایک زمانہ آئے گا اور وہ پہلے والے سے بھی بدتر ہوگا میں یہ نہیں کہتا کہ اس میں ایک سردار دوسرے سردار سے بہتر ہوگا اور ایک عام آدمی دوسرے عام آدمی سے بہتر ہوگا بلکہ میری مراد یہ ہے کہ تمہارے فقہاء کرام تم سے رخصت ہوجائیں گے اور تم ان کا نائب نہیں پاوگے اوران کی جگہ ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن و حدیث سے (ہٹ کر اپنی رائے کے ذریعے)  فتوی دیں گے "۔ کیا اسلام پسندوں پر دہشت گردی کالیبل لگا کر انہیں پابند کرنے فتویٰ ہماری سماعت و بصارت سے نہیں گذررہے ہیں۔

امام صالح الطالب کو سزا دراصل خطبہ کے دوران ان کے مبینہ طور پر مخلوط عوامی اجتماعات پر تنقید کرنے پر سنائی گئی۔ انہوں نے کنسرٹس اور تقریبات کی مذمت کی جو سعودی کے مذہبی اور ثقافتی اصولوں سے انحراف کرتے ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں ممتاز اسلامی مبلغ سلمان العودہ، عواد القرنی، فرحان المالکی، مصطفی حسن اور صفر الحوالی شامل ہیں۔

موجودہ صورتحال پر جب نظر دوڑتی ہیں تو نبی اکرمﷺ کا یہ ارشادِ گرامی بھی یاد آجاتا ہے، جسے حضرت عبداللّٰہ ابن مسعودؓ نے روایت کیا ہے کہ ''عنقریب تمھارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جن کو ان کے چاپلوس لوگوں نے گھیر رکھا ہوگا، وہ ظلم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے۔ پس جو شخص ان کے پاس جائے، ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اور جو آدمی ان کے پاس نہ جائے (یعنی ان کی طرفداری نہ کرے) اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں ''۔ (مسند احمد بن حنبل، صحیح ابنِ حبان)

ظالم حکمرانوں اور ان کے حامیوں کی توصیف میں کچھ زبان و قلم کا استعمال تو بہت دور کی بات ہے۔ نبیٔ رحمتﷺ نے تو محبت بھری نظروں کے ساتھ ان کی طرف دیکھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ حضرت سعید بن مسیبؓ فرماتے ہیں: ''اپنی آنکھوں کو ظالموں کے مددگاروں سے نہ بھرو (یعنی ان کی طرف نہ دیکھو) مگر اس حال میں کہ تمھارے دل ان کا انکار کر رہے ہوں، ورنہ تمھارے نیک اعمال ضائع ہو جائیں گے''۔ اگر تم نے ظالموں اور ان کے حامیوں کو نفرت اور قلبی انکار کی نظر سے نہ دیکھا تو تمھارے اعمال ضائع کر دیے جائیں گے۔

''حضرت سفیان ثوریؒ کے پاس ایک درزی آیا اور اس نے کہا کہ میں بادشاہ کا لباس تیار کرتا ہوں، کیا میرا شمار بھی ظالموں کے مدد گاروں میں ہوگا؟ حضرت سفیان ثوریؒ نے فرمایا کہ تو خود بھی ظالموں میں سے ہے۔ ظالموں کے مدد گار تو وہ ہیں جو تجھے سوئی اور دھاگہ بیچتے ہیں ''۔ (کتاب الکبائر از امام ذھبیؒ)۔ کتنی باریک بینی کا مظاہرہ ہے یہ!!!

رسولِ رحمتﷺ فرماتے ہیں کہ ''ایک شخص کو قبر میں اس وجہ سے عذاب دیا گیا کہ اس نے ایک مظلوم کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کی مدد نہیں کی تھی۔ ظالم ہونا، ظلم کرنا یا ظالم کی طرفداری کرنا تو دور کی بات ہے۔ محض مظلوم کو دیکھ کر اس کی مدد نہ کرنا بھی باعثِ عذاب ہے۔ اس لیے قوم کو اب اٹھنا ہوگا''۔ کیا اس طرح کی احادیث علماء بھول گئے ہیں۔ بھولے ہوئے سبق کی تجدید کیجئے اور اپنے اصل مناسب پر اپنے آپ کو پیش کیجئے۔ اس اُمّت کو اب بھی علماء رشد و ہدایت کی ہی ضرورت ہے جو دین کا علم و فہم رکھتے ہیں۔

عصرِ حاضر میں ظالموں کو عزت و وقار کے مناصب پر بیٹھایا جا رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ظالم کے ظلم کی سراہنا کی جارہی ہے، اس طرح کی حرکتیں آج کے معاشرے کا بہت بڑا المیہ بن گیا ہے۔ غلبہ و اقتدار اور طاقت کا نشہ ایسا نشہ ہے کہ اس میں حق و باطل، سچ اور جھوٹ کا امتیاز ختم ہو جاتا ہے، حاکم وقت پر صرف اپنی حکمرانی کا نشہ سوار رہتا ہے حکمرانی کسی کی ہمیشہ نہیں رہی نہ رہے گی، ربّ العالمین ہی احکم الحاکمین ہے، حکم صرف اور صرف ایک ہی حاکم کا ہوگا۔

بعض علماء ایسے ہیں جنہوں نے اپنے علم سے دنیا کی زیب و زینت کے حصول کو بنیادی مقصد بنا رکھا ہے، جبکہ بعض ایسے شدید ترین دنیادار ہیں جو مقبول انام بننے کے لئے اور قوم پر اپنی حاکمیت مسلط کرنے کے لئے اپنی باتوں کو دین بنا کر پیش کرتے ہیں، جبکہ اپنے مخالفین یا جن کی آراء ان سے متصادم ہوتی ہیں یا جو ان کے مقاصد کے حصول میں سپر ہوتے ہیں، ان پر بلا تحقیق فسق و فجور، گمرہی و تذبذب حتی کہ ارتداد تک کا حکم لگانے میں دریغ نہیں کرتے۔ (العیاذ باللّٰہ)۔ سعودی عرب میں حکومت کی طرف سے قائم کبار سعودی علماء پر مشتمل کمیٹی نے اخوان المسلمین کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے کر اس پر پابندی عائد کر دی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں وہاں کے معاشرے میں بیزاری اور ریڈیکلائزیشن ہی پیدا کرے گا۔

فتنہ پرداز علماء اپنا علم تو خوب خوب رکھتے ہوں گے مگر میدانِ عمل سے عاری فقط گفتار کے غازی ہوں گے۔ ان کا کردار و عمل خود ایک چلتا پھرتا فتنہ ہوگا۔ تفرقہ بازی اور بدعات و اختراعات کے دھنی عالم ہوں گے۔فساد اور جہاد کا فرق نہیں جانتے ہوں گے۔الغرض علماء حق والی ایک خوبی کے بھی مالک نہیں ہوں گے۔ اور ان کی دنیا میں ان حرکتوں پر نبیﷺ کی طرف سے بیان کی گئی آخرت کی وعیدیں بھی بہت سخت ہیں۔یہاں چند ایک بیان کر رہا ہوں تاکہ آپ قارئین علماء حق اور علماء سوء کے مابین فرق اور ان کے کردار کو سمجھ لیں۔

علم اور اہل علم کے لئے ان لوگوں سے زیادہ کوئی خطرناک نہیں جو ان کہ گروہ میں تو شامل ہو جاتے ہیں پر ان سے نہیں ہوتے۔ یہ جاہل ہوتے ہیں لیکن آپنے آپ کو اہل علم میں سے سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ صرف خرابی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اصلاح کر رہے ہیں۔ (ابن ابی الدنیا، التوبہ مضمون 62)۔ شیخ صالح الفوذان حفظہ اللّٰہ نے کہا: موجودہ وقت میں اس اُمت کو درپیش سب سے زیادہ خطرناک معاملہ ان جاہل مبلغین کا ہے جو اپنے آپ کو اہل علم میں سے سمجھتے ہیں، اور لوگوں کو (اپنے دین کی طرف) جہالت اور گمراہی کے ساتھ بلاتے ہیں۔

یہ علماء وہ ہیں جو ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے نظام مصطفیٰ کو ٹھکرایا ہے۔ کیا اس آواز میں فرعونیت اور اللّٰہ کے دین سے باغیت نظر نہیں آتی۔ انہیں مسلمانوں اور ان کی اجتماعیتوں سے کس بات کا بیر ہے اسے سمجھنا تو مشکل نہیں ہے مگر ایسے کم علم علماء کی وجہ ہم نہیں چاہتے کہ علماء کا وقار مجروح ہو۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ علماء حق آگے آئیں اور ایسی بھیڑ کی کھالوں میں چپھے دین کے دشمنوں کو منظر عام پر لائیں۔

موجودہ دور کے ہی علماء کی صفوں میں سے کوئی پرُفتن دور میں جبکہ کلماتِ اذان نے باطل پرستوں کی نیندیں اڑا دی ہیں، ان حالات میں اُمّت مسلمہ کو مشورہ دے رہیں کہ اذان پہلے مقامی زبان میں دی جائے، اس کے بعد اسے مسجد کی چار دیواری میں بغیر مائک پر دی جائے۔ کوئی مشورہ دے رہا ہے کہ ناموسِ رسالت پر لب کشائی کرنے والے شاتم رسول کو معاف کردیا جانا چاہیے۔ آخر یہ علماء کس اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ آخر کیوں اُمّت کے اجتماعی معاملات میں غلط مشورے دینے کی جسارت کی جارہی ہے۔ اللّٰہ ایسی فکر و نظر رکھنے والے علماء کو ہدایت سے سرفراز کرے یا ان کی فکر سے پیدا ہونے والے فتنے سے اُمّت کی حفاظت فرمائے۔ آمین

گمراہ علماء دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہیں:

سیدنا کعب بن مالک انصاریؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑئیے، بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور عہدہ کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دہ ہے۔ (ترمذی)

ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ''کیا حال ہوگا تمہارا جب تم کو فتنہ اس طرح گھیر لے گا کہ ایک جوان اس کے ساتھ بوڑھا ہوجائیگا، اور بچوں کی تربیت اسی پر ہوگی، اور لوگ اسے بطور سنّت لیں گے۔ توجب کبھی بھی اس کا کچھ حصہ لوگ چھوڑ دینگے، تو کہا جائے گا: ''کیا تم نے سنّت کو چھوڑ دیا؟ صحابہؓ نے پوچھا: ''ایسا کب ہوگا؟'' آپﷺ نے فرمایا: جب تمہارے علماء فوت ہوگئے ہونگے، قرآت کرنے والے کثرت میں ہونگے، تمہارے فقہاء چند ایک ہونگے، تمہارے سردار کثرت میں ہونگے، ایسے لوگ کم ہونگے جن پر اعتبار کیا جا سکے، آخرت کے کام صرف لوگ دنیوی زندگی کے حصول کے لئے کرینگے، اور حصول علم کی وجہ دین کی بجائے کچھ اور ہوگا-''

ابن مسعودؓ اس کی تشریح کچھ کرتے ہیں: ''قیامت کے دن تک ہر آنے والا دن گزرنے والے دن سے بدتر ہوگا۔ اس سے میری مراد دولت میں اضافہ یا بے کر معاملات نہیں ہیں۔ بلکہ میرا مطلب علم کی کمی ہے۔ جب علماء فوت ہو جایں گے اور لوگ برابر ہو جائیں گے، وہ نا برائی سے روکیں گے اور نہ نیکی کی طرف بلائیں گے اور یہی ان کو تباہی کی طرف لے جائیگی۔(سنن دارمی، نسائی،فتح الباری)

عمر بن الخطابؓ نے زیادؓ سے کہا: کیا آپ جانتے ہے اسلام کن چیزوں سے تباہ ہوگا؟ میں نے کہا نہیں۔ عمرؓ نے کہا: اسلام تباہ ہوگا، علماء کے غلطیوں سے، اللّٰہ کی کتاب کے بارے میں منافقین کے بحث و دلائل سے، اور گمراہ ائمہ کے رائے سے۔ (مشکوۃ ألمصابیح، الدارمی)

الفضیل بن عیاضؒ نے فرمایا: کیا ہوگا جب آپ پر ایسا زمانہ آئے کہ جب لوگ حق اور باطل، مومن اور کافر، امین اور غدار، جاہل اور عالم اور نہ ہی صحیح اور غلط میں تمیز کر سکیں گے؟

آج ہم اس وقت میں پہنچ چکے ہیں، جو ہم نے اس کے بارے میں سنا اور جانا ہے، اس کا بیشتر وقوع پذیر ہوچکا ہے۔

قربِ قیامت کے نزدیک علماء حق کا قحط اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا سر اُٹھانا:

آخری زمانے میں علمائے سوء کے حوالے سے رسول اللّٰہﷺ نے بھی کئی لرزا دینے والی پیشین گوئیاں کی ہیں، جنہیں پڑھ کرہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ امام ترمذی ؒ ”نوادر الاصول“ میں یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں ایک وحشت ناک واقعہ ہوگا، پس جب لوگ (گھبرا کر) اپنے علما کی طرف پلٹیں گے تو دیکھے گے کہ وہ بندر اور خنزیر (بن چکے) ہوں گے“۔

جس نے احکام الٰہی کی پابندی سے بچنے کے لیے حیلے بہانے کے ذریعہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا دیا تھا۔ اور جس گروہ نے اس کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ذریعہ حدود اللّٰہ سے تجاوز کرنے پر روکنے کی کوشش کی، اس کی بات بھی نہیں مانی، تو پھر اس طرح وہ احکام الٰہی کو مسخ کرنے کے مرتکب ہوگیا اور اللّٰہ تعالیٰ نے اس کی اس نافرمانی کی پاداش میں اس کو بندر بنا کر رسوا کن عذاب سے دوچار کردیا۔ اور اس عبرت ناک سزا کو اس زمانے کے لوگوں کے لیے اور بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے نصیحت وعبرت کا سامان بنادیا۔ کیا اللّٰہ تعالیٰ کے لئے آج یہ مشکل ہے!!!

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ''قرب قیامت ایسا وقت آئے گا کہ ایک شخص صبح مومن ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کافر ہو جائے گا۔ آدمی اپنے دین کو پیسوں کے بدلے بیچ دے گا''۔ (صحیح مسلم: 118)

سیدنا عمر بن خطابؓ نے ایک خطبہ میں فرمایا ربِّ کعبہ کی قسم، میں جانتا ہوں کہ عرب (سے اسلام) کب ختم ہوگا توایک مسلمان مرد نے کہا وہ لوگ کب ہلاک ہونگے(عرب سے اسلام کب ختم ہوگا) اے امیر المومنین؟ فرمایا جس وقت ان کے معاملات میں وہ شخص سرداری کریگا جو امور جہالت کامعالج نہیں (ناواقف، جاہل) ہوگا اور جب صحابۂ کرامؓ اُن کے امورکے والی نہیں ہونگے''۔ (أخرجہ ابن أبی شیبۃ، والحاکم فی المستدرک، والبیہقی فی الشعب)

نافرمان و باغی اور ظالم اہل اقتدار سے تعلق و خاموشی:

”تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ کلام فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک و صاف کرے گا اور ابو معاویہ فرماتے ہیں کہ اور نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔(1) بوڑھا زانی (2) جھوٹا بادشاہ (3) تکبر کرنے والامفلس۔“

(جاری••••• 4-6)

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

New World Order aur Alam e Islam

Munshiyat ke asraat insaani zindagi par