••کلمۂ توحید: دیوار نہیں، پل••
*••کلمۂ توحید: دیوار نہیں، پل••*
*Kalima of Tawḥīd: Not a Wall, but a Bridge*
●🕯️༻حِکمتِ༺﷽༻نوری༺🕯️●
کلمۂ توحید: دیوار نہیں، پل
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
یہ اعتراض کہ اسلام میں داخل ہوتے ہی مسلمان دیگر معبودوں کا انکار کر دیتے ہیں، اور یوں کلمۂ توحید بذاتِ خود دوسرے مذاہب کی نفی اور لازماً سماجی تناؤ یا تشدّد کو جنم دیتا ہے۔ بظاہر ایک فکری نکتہ معلوم ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ اعتراض توحید کے مفہوم، مذہبی اختلاف کی فطرت اور انسانی تاریخ کے مزاج سے ناواقفیت کا مظہر ہے۔
اسلام کا کلمۂ توحید کسی جذباتی یا جارحانہ ردِّعمل کا نام نہیں، بلکہ ایک شعوری، اخلاقی اور فکری اعلان ہے۔ لا اِلٰہ کہنا محض انکار نہیں، بلکہ ہر اس جھوٹے اقتدار، ہر اس خود ساختہ تقدیس اور ہر اس انسان ساز خدائی کے خلاف ایک اصولی موقف ہے جو انسانی آزادی، ضمیر اور وقار کو پامال کرتی ہے؛ اور اِلَّا اللّٰہ کہنا اس واحد ہستی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے جو عدل، رحمت اور اخلاق کا سر چشمہ ہے۔ یہ اعلان تصادم نہیں، تطہیرِ فکر ہے؛ تشدّد نہیں، تہذیبِ شعور ہے۔
منطقی اعتبار سے دیکھا جائے تو ہر نظریہ، ہر فلسفہ اور ہر مذہب اپنی شناخت کے لیے کسی نہ کسی درجے میں دوسرے تصورات سے امتیاز رکھتا ہے۔ اگر محض اختلافِ عقیدہ کو تشدّد کی جڑ قرار دیا جائے تو دنیا کی کوئی فکری روایت محفوظ نہیں رہ سکتی۔ سوال اختلاف کا نہیں، اختلاف کے ساتھ برتاؤ کا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام تاریخ کے کٹہرے میں سرخرو نظر آتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی معاشروں میں مختلف مذاہب کے ماننے والے صدیوں تک اپنی شناخت، عبادت گاہوں اور سماجی وجود کے ساتھ زندہ رہے۔ نہ کلمۂ توحید نے ان کی جان لی، نہ ان کے عقیدے چھینے؛ بلکہ اکثر مواقع پر انہیں وہ مذہبی آزادی عطا کی گئی جو خود ان کے ہم مذہب حکمران بھی فراہم نہ کر سکے۔ اگر توحید بذاتِ خود تشدّد کی محرک ہوتی تو اندلس، بغداد، قاہرہ اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبیں کبھی وجود میں نہ آتیں۔
اخلاقی سطح پر اسلام واضح کرتا ہے کہ عقیدے کا تعلق ضمیر سے ہے، اور ضمیر پر جبر نہ کبھی پائیدار ہوتا ہے، نہ معتبر۔ قرآن کا یہ اعلان— لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ— محض ایک جملہ نہیں بلکہ اسلامی اخلاقیات کا بنیادی ستون ہے۔ اسلام انسان کو حق ماننے کی دعوت دیتا ہے، حق مسلّط کرنے کا حکم نہیں دیتا۔ عملی رہنمائی کے طور پر اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ اپنے ایمان میں مضبوط ہوں، مگر اپنے رویّوں میں منصف؛ اپنے عقیدے میں واضح ہوں، مگر اپنے اخلاق میں نرم؛ اور اپنی شناخت میں غیر متزلزل ہوں، مگر انسانی احترام میں فراخ دل۔ یہی توازن توحید کا حقیقی حسن ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جو دنیا کے مذہبی اختلافات کو تصادم نہیں بلکہ مکالمہ بنا سکتا ہے۔
ایسا مکالمہ جو نفی کے بجائے فہم پر قائم ہو، غلبے کے بجائے دلیل سے آگے بڑھے، اور تشدّد کے بجائے اخلاق و انصاف کو اپنا رہنما بنائے۔ توحید انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ حق پر قائم رہتے ہوئے بھی انسانیت کے احترام سے دستبردار نہ ہو، اختلاف کے باوجود عدل کا دامن نہ چھوڑے، اور اپنے ایمان کی مضبوطی کو دوسروں کی تحقیر کا ذریعہ نہ بنائے۔ یہی وہ فکری و اخلاقی بلندی ہے جہاں عقیدہ دیوار نہیں بنتا بلکہ پل بن جاتا ہے، اور جہاں وحدانیتِ الٰہی انسانوں کے درمیان نفرت نہیں بلکہ ذمّہ دارانہ ہم زیستی اور باوقار بقائے باہمی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
دینی و عقلی بنیاد
1- کلمۂ توحید کا مفہوم
کلمۂ شہادت محض ایک منفی اعلان نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر اور مثبت اقرارِ حقیقت ہے:
"أشهد أن لا إله إلا اللّٰہ، وأشهد أن محمداً رسول اللّٰہ"۔ یہ اقرار اس بنیادی سچائی کی گواہی ہے کہ الوہیت ایک ہے، کامل ہے، اور عبادت کا مطلق حق صرف اسی ذاتِ واحد کو حاصل ہے۔ کلمۂ توحید انسان کے باطن میں ایک فکری و اعتقادی انقلاب برپا کرتا ہے؛ وہ خدائی شان، اختیار اور حقیقت کے بارے میں تصور کو درست سمت عطاء کرتا ہے، اور انسان کو ہر طرح کی مصنوعی، خود ساختہ اور مسلّط کردہ خدائی سے نجات دلاتا ہے۔
یہ نفی کسی فرد، قوم یا مذہب کی تحقیر یا تنسیخ نہیں، بلکہ ایک داخلی اور نظریاتی تطہیر ہے۔ اس کا دائرہ ایمان اور شعور کی سرحدوں تک محدود رہتا ہے، نہ کہ انسانی وجود، وقار یا حقوق پر دست درازی تک پھیلتا ہے۔ چنانچہ کلمۂ توحید انسان کو عقیدے میں واضح، فکر میں آزاد اور اخلاق میں ذمّہ دار بناتا ہے۔ ایسا انسان جو حق کو مانتا ہے، مگر انسان کو مٹاتا نہیں۔
2- دین اور شناخت (Identity) میں امتیاز
اسلام اس بنیادی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ مذہبی نفی اور انسانی نفی دو بالکل جدا دائرے ہیں۔ مذہبی نفی سے مراد باطل تصورات، خود ساختہ خداؤں اور گمراہ کن افکار کا علمی و فکری ردّ ہے۔ ایک ایسا عمل جو دلیل، دعوت اور شعور کے دائرے میں رہتا ہے۔ اس کے برعکس انسانی نفی وہ طرزِ عمل ہے جو کسی فرد یا گروہ کو اس کی انسانیت سے محروم کرے، اس پر تشدّد کو روا رکھے یا ظلم اور جبر کو جواز فراہم کرے؛ اور اسلام اس دوسری نفی کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔
اسلام نے اگر توحید کو ایمان کی اساس بنایا ہے تو اسی کے ساتھ انسانی حرمت، جان کے احترام اور اخلاقی عدل کو بھی ناقابلِ تنسیخ اصول قرار دیا ہے۔ نہ ہتکِ ناموس کی اجازت دی گئی، نہ خونِ ناحق کو کبھی مباح ٹھہرایا گیا، اور نہ ہی مذہبی آزادی کے منافی کسی رویّے کو دین کا حصّہ مانا گیا۔ قرآنِ مجید کا دوٹوک اعلان— "لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ"— اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ ایمان جبر سے نہیں، بصیرت سے پیدا ہوتا ہے، اور دین کا رشتہ ضمیر کی آزادی کے بغیر قائم ہی نہیں رہ سکتا۔
3- تاریخی پس منظر اور اسلوبِ دعوت
سیرتِ نبویﷺ اس حقیقت کی زندہ اور ناقابلِ تردید شہادت ہے کہ دعوتِ توحید کبھی جبر، ہیجان یا تشدّد کے سہارے آگے نہیں بڑھی، بلکہ اس کی بنیاد ہمیشہ عقل کی روشنی، حکمت کی پختگی، صبر کی وسعت اور حسنِ سلوک کی دل نوازی پر رکھی گئی۔ مکّہ کے سخت اور سنگین حالات میں بھی رسولِ اکرمﷺ نے توحید کی حقیقت کو دلیل اور خیر خواہی کے ساتھ پیش کیا، انسانوں کے دلوں سے بات کی، نہ کہ ان کی گردنوں پر ہاتھ رکھا۔
جب مخالفت نے اذیت، سماجی مقاطعہ اور جسمانی تشدّد کی صورت اختیار کی، تب بھی دعوت کا سب سے مضبوط ہتھیار اقتدار یا انتقام نہیں، بلکہ استقامت، اخلاقی برتری اور باطنی وقار ہی رہا۔ وحی کا اسلوب دلوں کو جوڑنے والا، شعور کو بیدار کرنے والا اور انسانیت کو محفوظ رکھنے والا تھا۔ وہ اس بات کی تعلیم دیتا رہا کہ حق کی دعوت انسان کی نفی نہیں، اس کی اصلاح ہے؛ اور توحید کا پیغام تنسیخِ انسانیت نہیں بلکہ تکمیلِ انسانیت کا اعلان ہے۔
4- ایمان کی نفی اور اقدار کی بقاء
ایمان کی نفی کبھی اقدار کی نفی نہیں ہوتی۔ جب کوئی دانشور، فلسفی یا فکری مکتب دوسرے خداؤں یا تصورات کا رد کرتا ہے تو یہ تصادم نہیں، بلکہ علمی مکالمے کی فطری صورت ہوتی ہے۔ تاریخِ فکر اس حقیقت کی شاہد ہے کہ ہر زندہ علمی روایت انکار و اثبات کے مرحلوں سے گزرتی ہے؛ سوال اٹھانا، دلیل پیش کرنا اور سچ کی تلاش میں مختلف آراء کا تنقیدی جائزہ لینا ہی فہم و دانش کی علامت ہے۔
ایک سچے اور باوقار علمی مکالمے کا مقصد فرد یا گروہ سے مخاصمت نہیں، بلکہ حقیقت تک رسائی ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں مسلمانوں کا دیگر معبودوں یا نظریات کا انکار محض ایک فلسفیانہ اور مذہبی موقف ہے۔ ایسا موقف جو دلیل، شعور اور ایمان کے دائرے میں قائم ہے۔ یہ انکار نہ تشدّد کو جنم دیتا ہے، نہ اخلاقی برتری کا دعویٰ بناتا ہے؛ بلکہ اختلاف کے ساتھ احترام، اور یقین کے ساتھ انصاف کی راہ ہموار کرتا ہے۔
5- عقیدۂ توحید اور سماجی ہم آہنگی
عقیدۂ توحید انسان کے باطن ہی کو نہیں سنوارتا، بلکہ اس کے سماجی شعور کو بھی ایک ہمہ گیر اخلاقی سمت عطاء کرتا ہے۔ توحید یہ سکھاتی ہے کہ تمام انسان ایک ہی خالق کی مخلوق ہیں؛ اسی نسبتِ تخلیق سے انسانی برابری، وقار اور احترام کی وہ بنیاد قائم ہوتی ہے جس پر اسلام نے حقوقِ انسانی، عدلِ اجتماعی اور رواداری کی عمارت استوار کی ہے۔ اس زاویۂ نظر سے دیکھا جائے تو توحید کا اخلاقی ثمر دشمنی یا نفرت نہیں، بلکہ ہمدردی، انصاف اور مساوات ہے۔ ایسا نظامِ فکر جو انسان کو انسان کے مقابل نہیں، انسان کے ساتھ کھڑا کرتا ہے۔
البتہ اسلام اس حقیقت سے بھی غافل نہیں کہ محض جذباتی مذہبی جوش اگر علمی رہنمائی اور اخلاقی ضبط سے محروم ہو جائے تو انتہاء پسندی کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اسی لیے دین نے فقہ کی بصیرت، اخلاق کی تہذیب اور ریاستی قوانین کی حکمت کو ناگزیر قرار دیا، تاکہ ایمان کی حرارت عدل کی حدوں میں رہے اور توحید کا پیغام سماج میں انتشار نہیں بلکہ ہم آہنگی اور امن کا ذریعہ بنے۔
تاریخی اعتراف: اکثریت بمقابلہ اقلیت
6- اقلیتی تناظر میں اسلامیت کا اظہار
جہاں مسلمان عددی اعتبار سے اقلیت میں ہوں، وہاں یہ اندیشہ فطری طور پر بڑھ جاتا ہے کہ ان کے عقائد اور اقدار اکثریتی سماجی رویّوں سے تصادم کی صورت اختیار کر لیں۔ مگر اسلامی شریعت اور سیرتِ نبویﷺ کی رہنمائی اس موقع پر تصادم نہیں، بلکہ تعمیرِ کردار کا راستہ دکھاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نے اقلیت کی حالت میں بھی اپنے ماننے والوں کو حسنِ اخلاق، پختہ کردار اور کامل دیانت داری کے ذریعے دلوں تک رسائی کا ہنر سکھایا۔
رسولِ اکرمﷺ اور آپؐ کے تربیت یافتہ صحابہؓ نے ثابت کیا کہ اخلاقی برتری طاقت کے اظہار سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ اسلام کے نزدیک بہترین انسان وہ نہیں جو محض اپنے عقیدے کا اعلان کرے، بلکہ وہ ہے جو اپنی موجودگی سے دوسروں کے لیے خیر اور فائدے کا سبب بنے۔ قرآن کا عمومی اخلاقی پیغام اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ انسانوں کے درمیان قربت کا سب سے مضبوط پل خوش خُلقی، خدمت اور دیانت ہے اور یہی اقلیتی معاشروں میں اسلامیت کا سب سے باوقار اور پائیدار اظہار ہے۔
7- تشدّد کی ہر صورت کی اصولی مذمت
اسلام کی بنیادی دعوت زورِ بازو یا جبرِ اقتدار سے نہیں، بلکہ کلام کی قوت، حسنِ سلوک کی دل نوازی اور حکمت کی بصیرت سے وابستہ ہے۔ دین انسانوں کے ضمیر سے مخاطب ہوتا ہے، اس لیے اس کا راستہ دلیل، خیر خواہی اور اخلاقی اثر پذیری سے ہو کر گزرتا ہے۔ تاریخ کے بعض ادوار میں اگر طاقت یا سیاسی مفاد نے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر ظلم کو جواز دینے کی کوشش کی، تو وہ اسلام کا حقیقی چہرہ نہیں، بلکہ اس کی صریح تحریف تھی۔
دینِ محمدیﷺ کا اصل مزاج انسان کو امن، عدل اور رحمت کی طرف بلاتا ہے، نہ کہ جارحیت، انتقام یا جبر کی طرف۔ اسی بنا پر مسلمانوں کی طرف سے کسی بھی نوع کا تشدّد، خواہ وہ مذہب کے نام پر ہو یا کسی اور عنوان سے، اسلامی تعلیمات کی روح سے ہم آہنگ نہیں۔ اسلام کی پہچان تلوار نہیں، اخلاق ہے؛ اس کی طاقت خوف نہیں، اعتماد ہے؛ اور اس کی دعوت تصادم نہیں، بلکہ امن اور اصلاحِ انسانیت کا پیغام ہے۔
عملی و اخلاقی رہنمائی
(مساویّت، حکمت اور ذمّہ دارانہ عمل کی روشنی میں)
اسلام محض عقائد کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ اخلاقی نظام ہے جو انسان کو ہر سماجی صورتِ حال میں باوقار، منصف اور حکیمانہ طرزِ عمل کی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ بالخصوص وہاں جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں اور ان کے وجود، شناخت یا حقوق کو چیلنج درپیش ہو۔ ایسے حالات میں اسلام جذباتی ردِّعمل نہیں، بلکہ شعوری توازن، اخلاقی استقامت اور قانونی بصیرت کا راستہ دکھاتا ہے۔
1۔ تعلیم اور مہذب گفت و شنید
اقلیتی تناظر میں سب سے پہلا اور مؤثر ہتھیار علمی اور شائستہ مکالمہ ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنے عقائد کو نہ تو معذرت خواہانہ انداز میں چھپائیں، اور نہ ہی جارحانہ لہجے میں مسلّط کریں، بلکہ وضاحت، تہذیب اور معقولیت کے ساتھ پیش کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے فریق کے خدشات کو سننا، ان کے احساسات کا احترام کرنا اور اختلاف کے باوجود انسانی وقار کو ملحوظ رکھنا دعوت کے حسن کو دوبالا کر دیتا ہے۔ یہی طرزِ گفتگو اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے فہم کے دروازے کھولتا ہے۔
2۔ عملی نمونہ بننا
اسلامی دعوت کا سب سے طاقتور اور دیرپا ذریعہ عمل ہے۔ کردار کی سچائی، امانت داری، عدل پسندی اور حسنِ سلوک وہ خاموش زبان ہیں جو دلوں میں راستہ بناتی ہیں۔ جب مسلمان اپنی روزمرّہ زندگی میں دیانت، ذمّہ داری اور خیر خواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو نظریاتی اختلافات کی شدت خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔ عمل کی یہ گواہی کسی مناظرے سے زیادہ مؤثر اور کسی تحریر سے زیادہ بلیغ ہوتی ہے۔
3۔ قانونی اور سماجی حقوق کا شعوری حصول
اسلام مظلوم کو خاموشی کا درس نہیں دیتا، بلکہ انصاف کے حصول کی ترغیب دیتا ہے۔ البتہ امن، قانون اور عقل کے دائرے میں۔ اپنے حقوق کو آئینی اور قانونی ذرائع سے تسلیم کروانا، ضروری دستاویزات محفوظ رکھنا، اور عدالتی یا مقامی انتظامی شکایات بروقت درج کرانا ایک ذمّہ دار شہری اور باخبر مسلمان ہونے کی علامت ہے۔ اسی طرح ظلم کے خلاف پُرامن، مہذب اور قانونی احتجاج نہ صرف جائز بلکہ بعض حالات میں ضروری بھی ہے، تاکہ ناانصافی معمول نہ بن جائے۔
4۔ بین المذاہب مکالمہ اور سماجی روابط
غلط فہمیوں کا سب سے مؤثر علاج مسلسل رابطہ اور مکالمہ ہے۔ مقامی کمیونٹی لیڈروں، مذہبی شخصیات، دانشوروں اور غیر مسلم رہنماؤں کے ساتھ بامقصد اور احترام پر مبنی روابط قائم رکھنا سماجی اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔ بین المذاہب مکالمہ اختلافات کو مٹاتا نہیں، مگر انہیں سمجھنے اور سنبھالنے کی صلاحیت ضرور پیدا کرتا ہے، اور یہی صلاحیت پُرامن بقائے باہمی کی بنیاد بنتی ہے۔
5۔ حلم، صبر اور عدل کا توازن
اسلام صبر کو کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی قوت قرار دیتا ہے۔ سخت حالات میں حلم، حکمت اور دعا ایمان کا تقاضا ہیں؛ مگر صبر کا مطلب یہ نہیں کہ ظلم کو مقدر سمجھ کر قبول کر لیا جائے۔ اسلام ایک طرف انتقامی جذبات سے روکتا ہے، تو دوسری طرف انصاف کی حدوں میں رہتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کی اجازت بھی دیتا ہے۔ اصل مطلوب یہ ہے کہ صبر بے حسی میں نہ بدلے، اور مزاحمت جارحیت میں نہ ڈھلے بلکہ دونوں عدل اور حکمت کے تابع رہیں۔
اسلامی تعلیمات اقلیت میں رہنے والے مسلمانوں کو نہ تصادم کا راستہ دکھاتی ہیں، نہ خاموش مصلحت کا؛ بلکہ شعور، کردار، قانون اور مکالمے کے ذریعے عزّت، انصاف اور امن کے ساتھ جینے کا ہنر سکھاتی ہیں۔ یہی وہ عملی حکمت ہے جو توحید کے پیغام کو سماج میں خوف نہیں، اعتماد اور خیر خواہی کی صورت میں جلوہ گر کرتی ہے۔ کلمۂ توحید محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی روشنی ہے جو انسان کے باطن کو حقیقتِ وجود سے آشنا کرتی ہے اور اسے اس وحدانیت کا شعور عطا کرتی ہے جس میں کائنات، انسان اور اخلاق سب ایک ہم آہنگ ربط میں بندھے ہوئے ہیں۔ یہ روشنی انسان کو خود پسندی، جبر اور برتری کے اندھیروں سے نکال کر ذمّہ داری، انکسار اور جواب دہی کے احساس تک لے جاتی ہے۔ اسی لیے توحید کی یہ کرن کبھی شخصیات کو جلانے، کسی انسان کی عزّت پامال کرنے یا انسانی وقار کو مٹانے کا ذریعہ نہیں بن سکتی؛ کیونکہ جو نور خالق سے جڑتا ہے وہ مخلوق کے احترام کو لازماً جنم دیتا ہے۔
اگر کبھی کسی نے دین کا نام لے کر ظلم کیا، طاقت کو تقدیس کا لباس پہنایا یا تشدّد کو ایمان کا ہم معنی بنانے کی کوشش کی، تو وہ درحقیقت دین کا وارث نہیں بلکہ اس کے نام کا بدترین بدعنوان استعمال کرنے والا ہے۔ دینِ اسلام کی نسبت ایسے افعال سے وہی ہے جو شفا کی نسبت زہر سے—نام ایک ہو سکتا ہے، حقیقت ہرگز نہیں۔ اسلام نہ ظلم کی اجازت دیتا ہے، نہ جبر کو تقدّس بخشتا ہے، اور نہ ہی انسانی جان و آبرو کو کسی عقیدے کی بھینٹ چڑھانے کو قبول کرتا ہے۔ عقلِ سلیم اور شریعتِ مطہرہ دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ دعوتِ دین کا راستہ محبت، حلم اور علم سے ہو کر گزرتا ہے۔ دلوں تک رسائی کے لیے زبان کی نرمی، رویّے کی شائستگی اور دلیل کی پاکیزگی شرطِ اوّل ہے۔ جہاں سماج میں خلفشار، کشاکش یا عسکری تشدّد کی فضا پیدا ہو جائے، وہاں فرد یا گروہ کے ہاتھ میں فیصلہ نہیں بلکہ قانون اور انصاف کے منصفانہ ضابطے ہونے چاہئیں کیونکہ عدل کے بغیر امن محض ایک سراب رہ جاتا ہے۔
تاریخ کی طویل شاہراہ پر نگاہ دوڑائی جائے تو یہی حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ وہی قومیں باقی رہیں، باوقار سمجھی گئیں اور انسانیت کے حافظے میں محفوظ ہوئیں جنہوں نے اپنے اصولوں کو سختی نہیں بلکہ نرم دلی کے ساتھ، طاقت نہیں بلکہ انصاف کے ساتھ، اور غلبے کے بجائے اخلاقی برتری کے ذریعے پیش کیا۔ جو قومیں اصولوں کے نام پر جبر کا راستہ اختیار کر گئیں، وہ خود اپنے ہی دعوؤں کے بوجھ تلے دب کر رہ گئیں۔ یہی وہ اخلاقی میراث ہے جس کا اسلام داعی ہے، اور یہی وہ سرمایہ ہے جسے مسلمان بطورِ اُمّت پورے اعتماد اور فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ ایمان میں استقامت، عمل میں عدل، اختلاف میں وقار، اور انسانیت کے ساتھ غیر مشروط احترام۔ یہی کلمۂ توحید کا حقیقی پیغام ہے، اور یہی اس کا زندہ اور روشن چہرہ۔
🗓 (10.01.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment