••نئی عالمی جنگیں اور مسلم خطے: طاقت، بیانیہ اور اُمَّت کا امتحان••

*••نئی عالمی جنگیں اور مسلم خطے: طاقت، بیانیہ اور اُمَّت کا امتحان••*
*New Global Wars and Muslim Regions: Power, Narrative, and the Ummah’s Trial*
  ●🕯️༻حِکمتِ༺﷽༻نوری༺🕯️●

        نئی عالمی جنگیں اور مسلم خطے
        طاقت، بیانیہ اور اُمَّت کا امتحان

         ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
                    09422724040
            ┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

تاریخِ انسانی اس حقیقت پر شاہد ہے کہ دنیا میں برپا ہونے والی ہر بڑی کشمکش کے پس منظر میں صرف طاقت کی خواہش ہی نہیں، بلکہ فکر، نظریہ اور تہذیب کی بالادستی کی جدوجہد بھی کارفرما رہی ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ زمین میں فساد کا ظہور اچانک نہیں ہوتا، بلکہ وہ انسانی حرص، ظلم اور حدودِ الٰہی سے انحراف کا منطقی نتیجہ ہوتا ہے: "ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ" (الروم: 41)

اسلام جنگ کو نہ مقصد بناتا ہے اور نہ طاقت کے اظہار کا ذریعہ، بلکہ اسے ایک آخری ناگزیر صورت کے طور پر دیکھتا ہے، وہ بھی عدل، اخلاق اور انسانی حرمت کی سخت پابندی کے ساتھ۔ اس کے برخلاف عصرِ حاضر کی نئی عالمی جنگیں اخلاقی حدود سے آزاد، انسانی اقدار سے بے نیاز اور مفاد پرستی کے اندھے جنون کی عکاس نظر آتی ہیں۔ یہ جنگیں اب صرف میدانِ قتال تک محدود نہیں رہیں، بلکہ فکری یلغار، تہذیبی غلبہ، معاشی شکنجے اور میڈیا کے ذریعے ذہنوں کی تسخیر تک پھیل چکی ہیں۔

اسلامی نقطۂ نظر سے یہ ایک نہایت معنی خیز اور تشویش ناک امر ہے کہ ان عالمی کشمکشوں کا مرکز و محور عموماً وہ خطے بن رہے ہیں جہاں کلمۂ توحید کی صدا بلند ہوئی، جہاں انبیاء کے قدموں کے نشان ہیں، اور جہاں اُمَّتِ مسلمہ صدیوں تک علم، عدل اور تہذیب کی علمبردار رہی ہے۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اہلِ ایمان کا اصل سرمایہ ان کی تعداد یا اسلحہ نہیں، بلکہ ان کا اخلاقی وقار، فکری استقامت اور ربّ سے وابستگی ہے: "إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ" (الرعد: 11)

نئی عالمی جنگوں کے تناظر میں مسلم خطوں کی صورتِ حال محض ایک سیاسی یا عسکری مسئلہ نہیں، بلکہ یہ اُمَّت کے فکری زوال، داخلی انتشار اور دعوتی غفلت کا آئینہ بھی ہے۔ جب اُمَّت اپنے اصل پیغام عدل، رحمت اور شہادتِ حق سے دور ہو جاتی ہے تو وہ تاریخ کے دھارے میں فاعل کے بجائے مفعول بن جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسلامی فکر ہمیں محض حالات پر نوحہ کرنے کے بجائے خود احتسابی، بیداری اور اصلاح کی دعوت دیتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون اسی اسلامی شعور کے ساتھ نئی عالمی جنگوں اور مسلم خطوں کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کی ایک کوشش ہے۔ ایسی کوشش جو محض شکوہ نہیں، بلکہ فہمِ حقیقت، ادراکِ اسباب اور تلاشِ راستۂ نجات کا داعیہ رکھتی ہے۔ کیونکہ اسلام کی نگاہ میں تاریخ کا ہر بحران امتحان بھی ہے اور موقع بھی؛ زوال کا بھی اور احیاء کا بھی۔

ایک فکری، سیاسی اور تہذیبی مطالعہ

اکیسویں صدی انسانی تاریخ کے اُس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ترقی کے دعوے سب سے بلند اور تباہی کے مناظر سب سے زیادہ گہرے ہو چکے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے زندگی کو بظاہر سہل بنا دیا ہے، عالمگیریت نے دنیا کو ایک گاؤں میں سمیٹ دیا ہے، اور جدید ذرائع ابلاغ نے لمحوں میں خبر کو سرحدوں کے پار پہنچا دینے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ مگر اسی روشن اور پرکشش منظرنامے کے عقب میں جنگوں کی ایسی آگ سلگ رہی ہے جو نہ صرف جغرافیائی سرحدوں کو نگل رہی ہے بلکہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر کو بھی بے حس اور راکھ آلود بناتی جا رہی ہے۔ یہ آگ اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی؛ یہ معیشت کے نظام میں، تہذیب کے تصورات میں، فکر کے سانچوں میں اور شناخت کے سوال میں سرایت کر چکی ہے۔

نئی عالمی جنگوں کی سب سے الم ناک حقیقت یہ ہے کہ ان کا سب سے بڑا میدانِ کارزار اکثر و بیشتر وہ خطے بنائے جا رہے ہیں جہاں اسلام نے کبھی امن، علم اور تہذیب کی بنیادیں رکھی تھیں۔ مسلم دنیا آج عسکری یلغار، معاشی محاصرے، سفارتی دباؤ اور فکری حملوں کے ایسے چوکور حصار میں گھری ہوئی ہے جس سے نکلنے کی راہیں روز بروز تنگ ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم عالمی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جس میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے مسلم خطوں کو مسلسل عدم استحکام کا شکار رکھا جاتا ہے۔

جنگ کا نیا چہرہ: بندوق سے بیانیے تک

اگر ماضی کی جنگیں فوجوں کے تصادم، محاذوں کی پیش قدمی اور اسلحے کی برتری پر لڑی جاتی تھیں تو آج کی جنگیں ذہنوں، تصورات اور بیانیوں کے میدان میں برپا ہوتی ہیں۔ اب دشمن وردی پہن کر سامنے نہیں آتا، بلکہ خبر بن کر اسکرین پر نمودار ہوتا ہے، تجزیہ بن کر شعور میں سرایت کرتا ہے اور خوف بن کر دلوں میں مستقل قیام کر لیتا ہے۔ جدید جنگ میں سب سے پہلے حقیقت کو نشانہ بنایا جاتا ہے، پھر زبان کو، اور آخر میں اخلاق کو۔

"دہشت گردی کے خلاف جنگ"، "جمہوریت کا فروغ" اور "انسانی حقوق کا تحفّظ" جیسے دل فریب نعروں نے اس نئے اسلوبِ جنگ کو ایک اخلاقی لبادہ فراہم کر دیا ہے۔ ان اصطلاحات کے پردے میں ریاستوں کو تباہ کیا گیا، معاشروں کو ٹکڑوں میں بانٹا گیا اور قوموں کو عدم استحکام کے ایسے دائرے میں قید کر دیا گیا جس سے نکلنے کے لیے دہائیاں درکار ہوتی ہیں۔ عراق کی ویران گلیاں، افغانستان کی مسلسل بے یقینی، لیبیا کی بکھری ہوئی ریاست اور شام کے اجڑے ہوئے شہر اس حقیقت کے زندہ شواہد ہیں کہ نئی عالمی جنگیں فوری فتح نہیں، بلکہ طویل المیعاد تباہی کو ہدف بناتی ہیں۔

یہ جنگیں اس لیے بھی زیادہ مہلک ہیں کہ ان میں گولی چلنے سے پہلے ذہن شکست کھا جاتا ہے۔ جب کسی قوم کو بار بار یہ باور کرایا جائے کہ وہ مسئلہ ہے، خطرہ ہے یا دنیا کے امن کے لیے رکاوٹ ہے، تو اس کی اخلاقی قوت خود بخود کمزور ہونے لگتی ہے۔ یوں بندوق کے شور سے پہلے بیانیے کی گونج سنائی دیتی ہے، اور شکست میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ شعور کی سطح پر رقم ہو جاتی ہے۔

مسلم جغرافیہ: وسائل کی نعمت یا آزمائش؟

یہ کوئی محض تاریخی اتفاق نہیں کہ دنیا کے بیشتر جنگی شعلے انہی خطوں میں بھڑکتے نظر آتے ہیں جہاں زمین نے اپنے خزانے بے دریغ لٹا رکھے ہیں۔ جہاں تیل کے چشمے پھوٹتے ہیں، گیس کے ذخائر سانس لیتے ہیں، معدنی وسائل کی تہیں گہرائی میں چمکتی ہیں اور جہاں سمندری گذرگاہیں عالمی تجارت کی شہ رگ بن کر دھڑکتی ہیں۔ مسلم دنیا کا جغرافیہ اسی لیے قدرت کی عظیم نعمت بھی ہے اور عالمی طاقتوں کے لیے ایک دائمی کشش اور آزمائش بھی۔ اس جغرافیے نے اُمَّتِ مسلمہ کو تاریخ میں غیر معمولی امکانات عطاء کیے، مگر اسی نے اسے عصرِ حاضر کی عالمی کشمکش کا مرکزی میدان بھی بنا دیا۔

عالمی معیشت کی رفتار بڑی حد تک انہی خطوں سے وابستہ ہے۔ توانائی کے بغیر صنعت چلتی ہے نہ جنگ، اور یہ توانائی مسلم خطوں کے دامن میں محفوظ ہے۔ چنانچہ نئی عالمی جنگوں کا مقصد محض سرحدوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ ان وسائل پر براہِ راست یا بالواسطہ غلبہ حاصل کرنا ہے جو عالمی طاقت کے ایوانوں میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ کبھی یہ کنٹرول عسکری یلغار کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، کبھی معاشی پابندیوں کے ذریعے، اور کبھی مقامی حکمرانوں یا گروہوں کو باہم دست و گریباں کر کے پسِ پردہ مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس پورے کھیل میں نقصان ہمیشہ مقامی آبادی، تہذیب اور مستقبل کا ہوتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ مسلم دنیا اکثر ان وسائل کو نعمت کے بجائے آزمائش میں بدلنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ خود ان وسائل کی حفاظت، منصفانہ تقسیم اور اجتماعی مفاد کے لیے استعمال کا شعور کمزور پڑ جائے تو یہی خزانے بیرونی قوتوں کے لیے لالچ اور سازش کا سامان بن جاتے ہیں۔ یوں قدرت کی عطاء کردہ دولت اُمَّت کے ہاتھوں میں طاقت بننے کے بجائے اس کی کمزوری کی علامت بن جاتی ہے۔

داخلی انتشار: بیرونی مداخلت کا دروازہ

تاریخ کا ایک مستقل اصول ہے کہ جہاں جسم کمزور ہو، وہاں زخم گہرے لگتے ہیں۔ اُمَّتِ مسلمہ کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ فرقہ واریت، نسلی و لسانی تعصبات، سیاسی ناپختگی اور فکری انتشار نے مسلم معاشروں کو اندر سے اس حد تک کمزور کر دیا ہے کہ بیرونی مداخلت کو نہ صرف جواز مل جاتا ہے بلکہ اسے بعض اوقات "مدد" یا "استحکام" کا نام بھی دے دیا جاتا ہے۔ جب قومیں آپس میں الجھی ہوں تو دشمن کو حملہ آور ہونے کی ضرورت نہیں رہتی؛ وہ محض تماشائی بن کر بھی اپنے مقاصد حاصل کر لیتا ہے۔

نئی عالمی جنگوں کی اصل حکمتِ عملی یہی ہے کہ میزائلوں سے پہلے ذہنوں کو نشانہ بنایا جائے اور سرحدوں سے پہلے دلوں میں دراڑیں ڈالی جائیں۔ داخلی خلفشار کو ہوا دی جاتی ہے، اختلافات کو شناخت کی جنگ بنا دیا جاتا ہے، اور چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کو بڑے تصادم میں بدل دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومیں اپنی توانائی دشمن کے مقابلے میں نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف صرف کر دیتی ہیں، جب کہ اصل منصوبہ ساز پردے کے پیچھے مسکراتا ہوا اپنے اہداف سمیٹ لیتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مسلم دنیا کو سب سے زیادہ فکری بیداری کی ضرورت ہے۔ جب تک امت داخلی اتحاد، سیاسی بصیرت اور اخلاقی استقامت کو اپنا شعار نہیں بناتی، اس کا جغرافیہ نعمت کے بجائے آزمائش اور اس کی کثرتِ وسائل طاقت کے بجائے کمزوری بنی رہے گی۔

میڈیا اور پروپیگنڈا: خاموش ہتھیار

نئی عالمی جنگوں میں اگر کسی ہتھیار نے بندوق اور بم سے زیادہ گہرا اور دیرپا اثر چھوڑا ہے تو وہ میڈیا ہے۔ یہ وہ خاموش ہتھیار ہے جو شور کے بغیر نشانہ لیتا ہے، اور جس کی ضرب جسم پر نہیں بلکہ شعور پر پڑتی ہے۔ اب جنگ میدانوں میں نہیں، خبروں کے کمروں، تجزیاتی نشستوں اور اسکرینوں کی چمک دمک میں لڑی جا رہی ہے۔ خبر کو اس مہارت سے تراشا جاتا ہے کہ ظلم، واقعہ نہیں بلکہ "تناظر" بن جاتا ہے، اور مظلوم اپنی مظلومیت کے ثبوت پیش کرنے پر مجبور دکھائی دیتا ہے۔

میڈیا کی زبان میں لفظوں کا انتخاب محض اظہار نہیں، فیصلہ ہوتا ہے۔ مسلم خطوں میں ہونے والی تباہی کو "کولیٹرل ڈیمیج" کہہ کر اس کے انسانی المیے کو عددی نقصان میں بدل دیا جاتا ہے، جب کہ اسی تباہی کے خلاف فطری ردِعمل کو فوراً "دہشت گردی" کے خانے میں بند کر دیا جاتا ہے۔ یوں جارح محافظ اور مظلوم مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ فکری یلغار اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ یہ عالمی رائے عامہ کو اس حد تک مسخ کر دیتی ہے کہ ظلم پر سوال اٹھانا بھی "متعصبانہ" اور انصاف کی بات کرنا "غیر حقیقت پسندانہ" قرار پاتا ہے۔

اس پروپیگنڈا جنگ کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ اس کے اثرات نسلوں تک پھیلتے ہیں۔ جب مسلسل یہی بیانیہ سنایا جائے کہ ایک قوم مسئلہ ہے، خطرہ ہے یا تہذیبی بوجھ ہے، تو آہستہ آہستہ اس کے اپنے نوجوان بھی احساسِ جرم، احساسِ کمتری اور مایوسی کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ یوں بندوقوں سے پہلے ذہنوں کو شکست دی جاتی ہے، اور بموں سے پہلے امیدوں کو ملبے تلے دبا دیا جاتا ہے۔

فلسطین، شام اور یمن: ضمیر کا امتحان

نئی عالمی جنگوں کا سب سے دلخراش اور بے نقاب کرنے والا پہلو یہ ہے کہ بعض تنازعات کو جان بوجھ کر زندہ رکھا جاتا ہے، تاکہ عالمی طاقتوں کا توازن برقرار رہے اور اسلحہ، سیاست اور مفادات کی منڈیاں آباد رہیں۔ فلسطین کی مقدّس زمین ہو، شام کے اجڑے ہوئے شہر ہوں یا یمن کے بھوکے اور بیمار بچّے یہ سب محض جغرافیائی یا سیاسی نقشوں پر نشان نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کے سامنے رکھے گئے سوالات ہیں، جن کے جواب دنیا مسلسل مؤخر کرتی جا رہی ہے۔ فلسطین میں نسل در نسل جاری ظلم کو "تنازع" کہہ کر معمول کا واقعہ بنا دیا گیا، شام میں انسانی المیے کو طاقتوں کی آزمائش گاہ میں بدل دیا گیا، اور یمن میں بھوک اور بیماری کو سفارتی مجبوریوں کے پردے میں چھپا دیا گیا۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں عالمی اصولوں کی حقیقت عیاں ہو جاتی ہے اور انسانی حقوق کی زبان مفادات کے سامنے گونگی ہو جاتی ہے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ وہ عالمی ادارے، جن کا قیام انصاف، امن اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے عمل میں آیا تھا، اکثر طاقتور ریاستوں کے مفاد کے سامنے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ ان کی قراردادیں کاغذوں میں دفن ہو جاتی ہیں اور ان کے ضمیر طاقت کے ایوانوں میں یرغمال بن جاتے ہیں۔ یوں مظلوم کی آہ سنائی دیتی ہے، مگر انصاف کی دستک بے جواب رہتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ محض توازنِ طاقت کی محافظ بن کر رہے گی یا انسانیت کے وقار کی گواہ بھی بنے گی۔ کیونکہ تاریخ آخرکار یہی پوچھے گی کہ جب انسانیت آزمائش میں تھی، تب خاموشی اختیار کرنے والوں کا شمار کس صف میں کیا جائے گا۔

اُمَّتِ مسلمہ کے لیے فکری چیلنج

نئی عالمی جنگوں کا سب سے گہرا اور کم محسوس ہونے والا محاذ وہ ہے جو ذہنوں کے اندر قائم کیا گیا ہے۔ یہ جنگیں ہمیں صرف سرحدوں، وسائل یا اقتدار سے محروم کرنے پر اکتفا نہیں کرتیں، بلکہ ہماری فکر، ہماری یادداشت اور ہماری شناخت کو نشانہ بناتی ہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ مسلمان اپنی تاریخ کو بوجھ سمجھے، اپنی تہذیب کو فرسودہ جانے اور اپنے نصب العین کو غیر متعلق سمجھنے لگے۔ جب کسی قوم کو اس کے فکری سرچشموں قرآن، سیرت، علمی روایت اور تہذیبی شعور سے کاٹ دیا جائے تو اسے شکست دینے کے لیے توپ و تفنگ کی حاجت نہیں رہتی۔

یہی وجہ ہے کہ نئی عالمی جنگوں میں سب سے خطرناک شکست وہ ہے جو بغیر کسی گولی کے ذہنوں میں رقم کر دی جاتی ہے۔ جب بیانیہ بدل دیا جائے، اصطلاحات کا مفہوم مسخ کر دیا جائے اور اقدار کی ترتیب الٹ دی جائے تو قومیں اپنے ہی وجود سے شرمندہ محسوس کرنے لگتی ہیں۔ اس فکری غلامی میں مبتلا معاشرے رفتہ رفتہ دوسروں کے تصورات، ترجیحات اور فیصلوں کو اپنا مقدر سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں شکست میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، میڈیا کے مباحث اور سماجی گفتگوؤں میں طے ہو جاتی ہے۔ اُمَّتِ مسلمہ کے لیے یہ چیلنج اس لیے بھی سنگین ہے کہ اس کی شناخت محض جغرافیہ یا نسل پر نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر اخلاقی اور فکری پیغام پر قائم ہے۔ اگر یہ پیغام کمزور پڑ جائے تو اُمَّت ایک عددی ہجوم میں بدل جاتی ہے، جسے آسانی سے تقسیم، الجھایا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بیداری اور راستۂ نجات

اس تاریک اور پیچیدہ منظرنامے میں بھی نااُمیدی اسلام کا مزاج نہیں۔ تاریخِ اسلام ہمیں بتاتی ہے کہ زوال کے ہر دور میں احیاء کے امکانات پوشیدہ رہے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ اُمَّت اپنی اجتماعی ذمّہ داری کو سمجھے اور محض شکوہ یا ردِ عمل کی نفسیات سے باہر نکلے۔ فکری بیداری وہ پہلی اینٹ ہے جس پر مستقبل کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے ایسی بیداری جو سوال اٹھانے کی جرأت بھی دے اور خود احتسابی کی قوت بھی۔

علمی خود اعتمادی کے بغیر کوئی قوم اپنے بیانیے کا دفاع نہیں کر سکتی۔ مسلم دنیا کو اپنی تعلیمی ترجیحات، تحقیقی سمت اور فکری پیداوار پر ازسرِنو غور کرنا ہوگا۔ داخلی اتحاد محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ضرورت ہے، کیونکہ منقسم معاشرے ہمیشہ بیرونی طاقتوں کے لیے آسان شکار ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح اخلاقی قوت سچائی، عدل، امانت اور استقامت وہ سرمایہ ہے جو طاقت کے ہر عارضی نظام سے بالاتر رہتا ہے۔

مسلم دنیا کو اب محض ردِ عمل کی سیاست سے نکل کر ایک اصولی، باوقار اور متحد موقف اختیار کرنا ہوگا۔ جذباتی نعروں کے بجائے فکری استدلال، وقتی مفادات کے بجائے طویل المیعاد وژن، اور وقتی اتحاد کے بجائے مستقل ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت ہے۔ تعلیم، تحقیق، میڈیا اور سفارت کاری کے میدانوں میں مضبوط اور منظم قدم رکھے بغیر اس نئی جنگ کا مقابلہ ممکن نہیں، کیونکہ آج کی دنیا میں وہی قوم مؤثر ہے جو اپنے موقف کو دلیل، اخلاق اور حکمت کے ساتھ پیش کر سکے۔ سوال یہ نہیں کہ حالات کتنے سنگین ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اُمَّتِ مسلمہ ان حالات کو اپنے حق میں موڑنے کے لیے کتنی سنجیدگی، بصیرت اور اتحاد کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اگر فکری بیداری زندہ ہو جائے تو یہی چیلنج مستقبل کی تعمیر کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے، اور یہی بحران اُمَّت کے لیے نئی توانائی اور نئی سمت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

نئی عالمی جنگیں محض ہتھیاروں کی گھن گرج یا فوجی محاذ آرائی کا نام نہیں رہیں، بلکہ وہ طاقت کی اُس ہمہ گیر کشمکش کی علامت بن چکی ہیں جس میں اصول، اخلاق اور انسانیت بتدریج ثانوی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ آج جنگ کا جواز مفاد ہے، اس کی زبان طاقت ہے اور اس کا معیار فائدہ چاہے اس کے نتیجے میں شہر ملبے میں بدل جائیں، تہذیبیں اجڑ جائیں اور انسان اعداد و شمار میں سمٹ کر رہ جائیں۔ اس ماحول میں انصاف ایک نعرہ بن چکا ہے اور انسانیت ایک ایسی قدر جسے حالات کے مطابق استعمال یا نظر انداز کیا جاتا ہے۔

مسلم خطے اس عالمی کشمکش کا مرکز اس لیے نہیں بنائے گئے کہ وہ کمزور ہیں یا اپنی بقا کے اہل نہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ غیر معمولی طور پر قیمتی ہیں وسائل کے اعتبار سے بھی اور معنویت کے لحاظ سے بھی۔ ان خطوں کی زمین میں وہ دولت پوشیدہ ہے جو جدید دنیا کی معیشت کو حرکت دیتی ہے، اور ان کے دل میں وہ پیغام محفوظ ہے جو انسان کو خدا سے، انسان کو انسان سے اور طاقت کو اخلاق سے جوڑتا ہے۔ یہی دوہری اہمیت مادی بھی اور اخلاقی بھی انہیں طاقت کے موجودہ کھیل میں سب سے زیادہ حساس اور سب سے زیادہ مطلوب بنا دیتی ہے۔

اصل المیہ یہ ہے کہ اس کشمکش میں مسلم دنیا کو اکثر محض ایک میدانِ جنگ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ایک ایسا خطہ جہاں طاقتیں اپنے ہتھیار آزماتی ہیں، اپنے نظریات مسلط کرتی ہیں اور اپنے مفادات کا حساب چکاتی ہیں۔ لیکن تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ میدانوں سے نہیں، کرداروں سے ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں لڑی جا رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس جنگ کے دوران کون اپنے اصول پر قائم رہتا ہے اور کون طاقت کے نشے میں انہیں قربان کر دیتا ہے۔

یہی وہ نازک موڑ ہے جہاں اُمَّتِ مسلمہ کے سامنے ایک فیصلہ کن سوال کھڑا ہے: کیا وہ محض حالات کا شکار بنی رہے گی، یا اپنے فکری، اخلاقی اور تہذیبی کردار کو ازسرِنو دریافت کر کے تاریخ کے دھارے کو بدلنے کی جرأت کرے گی؟ کیا وہ اپنی شناخت کو محض دفاعی ردِعمل تک محدود رکھے گی، یا عدل، حکمت اور انسانیت کے عالمگیر پیغام کو ایک بار پھر عملی صورت میں پیش کرے گی؟ اس سوال کا جواب آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ اگر اُمَّت نے اس لمحے کو پہچان لیا تو یہی بحران اس کے لیے احیاء، وقار اور قیادت کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔ اور اگر یہ موقع بھی غفلت کی نذر ہو گیا تو تاریخ کی عدالت میں عذر کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ کیونکہ تاریخ صرف طاقتوروں کو نہیں، بلکہ باشعور اور باکردار قوموں کو یاد رکھتی ہے۔

اسلام کی نگاہ میں تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ اقوام کے اعمال کا آئینہ اور اللّٰہ کی سنتوں کا مظہر ہے۔ قرآن ہمیں بار بار متوجہ کرتا ہے کہ طاقت، غلبہ اور زوال سب اللّٰہ کی مقرر کردہ اخلاقی و فکری قدروں کے تابع ہیں، نہ کہ محض عسکری قوت یا معاشی برتری کے۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے نظر انداز کر کے آج کی نئی عالمی جنگیں دنیا کو ایک ایسے اندھے موڑ پر لے آئی ہیں جہاں تباہی کے اسباب تو واضح ہیں، مگر اصلاح کی سنجیدہ کوشش ناپید دکھائی دیتی ہے۔

مسلم خطوں پر مسلّط یہ جنگیں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ آیا ہم محض عالمی طاقتوں کے ظلم کا شکار ہیں، یا ہم نے اپنی ذمّہ داریوں سے غفلت برت کر خود کو اس انجام کے قریب پہنچایا ہے۔ اسلام ہمیں خارجی سازشوں کے انکار کے ساتھ ساتھ داخلی احتساب کا بھی حکم دیتا ہے، کیونکہ قرآن کا اصول اٹل ہے کہ قوموں کی تقدیر باہر سے نہیں، اندر سے بدلتی ہے۔ جب اُمَّت عدل، علم، اتحاد اور اخلاقی جرأت سے محروم ہو جاتی ہے تو وہ تاریخ کے میدان میں اپنا فعال کردار کھو بیٹھتی ہے۔

یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اُمَّتِ مسلمہ کی آزمائش صرف جنگوں اور محاصروں تک محدود نہیں، بلکہ فکری انتشار، مقصدِ حیات سے دوری اور دینی شعور کی کمزوری بھی اس آزمائش کا حصّہ ہے۔ نئی عالمی جنگوں کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ وہ مسلمان کو اپنی شناخت پر شرمندہ، اپنے ماضی سے کٹا ہوا اور اپنے مستقبل سے مایوس دیکھنا چاہتی ہیں۔ اسلام اس ذہنی غلامی کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیتا ہے، کیونکہ جب دل شکستہ ہو جائیں تو تلواریں خود بخود نیام میں رہ جاتی ہیں۔

تاہم اسلامی تاریخ ہمیں مایوسی نہیں، امید سکھاتی ہے۔ ہر زوال کے بعد احیاء، اور ہر اندھیری رات کے بعد سحر کا وعدہ قرآن و سنت میں محفوظ ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اُمَّت اپنی اصل کی طرف لوٹے؛ اپنے ربّ سے تعلق مضبوط کرے، اپنے اندر اتحاد اور عدل کو زندہ کرے، علم و حکمت کو اپنا ہتھیار بنائے اور ظلم کے مقابلے میں اخلاقی استقامت کے ساتھ کھڑی ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو میدانِ جنگ کو میدانِ دعوت میں بدل سکتا ہے۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ نئی عالمی جنگیں کب ختم ہوں گی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اُمَّتِ مسلمہ ان جنگوں کے درمیان اپنے فکری، اخلاقی اور تہذیبی وجود کو پہچان پائے گی یا نہیں۔ اگر وہ بیدار ہو گئی، تو یہی بحران اس کے لیے نئے عزم، نئی قیادت اور نئے مستقبل کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔ اور اگر غفلت باقی رہی، تو تاریخ کا پہیہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ اسلام ہمیں یہی یاد دہانی کراتا ہے کہ اصل فتح سرحدوں کی نہیں، دلوں کی ہوتی ہے؛ اور وہی قوم سرخرو ہوتی ہے جو آزمائش کے لمحے میں بھی حق، عدل اور انسانیت کی شہادت دینے سے پیچھے نہ ہٹے۔

🗓 (12.01.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

New World Order aur Alam e Islam

Munshiyat ke asraat insaani zindagi par