"خُودکُشی---- ایک طائرانہ جائزہ"

         "خُودکُشی---- ایک طائرانہ جائزہ"

               بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
                 
              ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
              09422724040

اک بار کی ہی ہار ہے اس کو نہ دل سے تو لگا

یوں زندگی سے ہار کر پھر خُودکُشی اچھی نہیں

خُودکُشی کہتے کسے ہیں؟ خودکشی ایک قبیح اور ناپسندیدہ عمل ہے، کسی شخص کا اپنے آپ کو قصداً اور غیر قدرتی طریقے سے ہلاک کرنے کا عمل "خُودکُشی" کہلاتا ہے۔
(the act of killing yourself intentionally is called suicide۔)
جرمن فلاسفر شوپنہار سے جب ایک طالب علم نے پوچھا کہ لوگ خُودکُشی کیوں کرتے ہیں تو فلاسفر نے فرمایا جب زندہ رہنا مرنے سے زیادہ تکلیف دہ ہوجائے تو انسان خُودکُشی کرلیتے ہیں۔
(When horrors of living outweigh the horrors of dying people commit suicide. Arthur Schopenhauer)

عالم انسانیت میں آئے دن خُودکُشی کے واقعات رونما ہورہے ہیں، جن کی خبریں آپ کو پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے دیکھنے اور سننے ملتی ہیں۔ حالاں کہ اس نامناسب اقدام اور ناپسندیدہ فعل کو کسی بھی سماج اور معاشرے میں اچھی نگاہ سے بالکل بھی نہیں دیکھا جاتا رہا ہے۔ خُودکُشی کی خبر سنتے ہی جہاں ایک طرف ہر حساس دل درد و غم کی کیفیات سے دوچار ہوتا ہے وہیں دوسری طرف ایک عام فہم انسان بھی خُودکُشی کے اسباب اور وجوہات پر غور کرنے سے خود کو نہیں روک پاتاـ اور ذہن ایک ہی نکتے کے اردگرد گردش کرنے لگ جاتا ہے کہ آخر وہ کون سے محرکات و مسائل ہیں جو خُودکُشی کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اور وہ ہے ڈپریشن (Depression)،   اسٹریس (Stress) اور اینزائٹی  (Anxiety) کچھ ایسے نفسیاتی مسائل ہیں جنہیں ٹینشن بھی کہا جاتا ہے۔

ڈپریشن کے شکار افراد کثرت سے خُودکُشی جیسے قبیح فعل کے مرتکب ہوتے ہیں۔ خُودکُشی کا تعلق ذہنی دباؤ یا ڈپریشن سے ہے اور ڈپریشن کی ایک بڑی علامت خُودکُشی کے خیالات کا آنا ہے۔ ذہنی دباؤ یا ڈپریشن ہی خُودکُشی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

ڈپریشن ایک ذہنی بیماری ہے جو فرد کو رنج و الم اور درد و کرب میں مبتلا کرتی ہے۔ جس کے نتیجے میں فرد کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی گویا جہنم بن گئی ہے۔ وہ زندگی کی رعنائیوں اور حسن وجمال سے  محظوظ نہیں ہو پاتا۔  ڈپریشن دنیا کی سب سے عام بیماری ہے اور لوگوں کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کرنے کی سب سے بڑی وجہ بھی ہے۔

خُودکُشی ڈپریشن کا آخری مرحلہ ہے۔ یہ ایسی بیماری ہے جو آہستہ آہستہ انسان کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیتی ہے۔ ہمارے سامنے بہت سے ایسے واقعات ہوچکے ہیں جن میں خُودکُشی کرنے والے کی جانب سے کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔ ڈیپریشن کے مرض میں عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔

ماہرین نفسیات کے نزدیک جس طرح انسان دیگر جسمانی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح ڈپریشن ایک ایسا ذہنی روگ ہے جو رنج و غم، مسلسل اداسی اور مایوسی کی کوکھ سے جنم لیتا ہےـ وقتاً فوقتاً ہم سبھی ناامیدی، اداسی، مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہوتے ہیں اور ہماری زندگیوں میں ان سے بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ لیکن طبّی اعتبار سے اداسی اس وقت ڈپریشن کی بیماری کہلانے لگتی ہے جب اداسی کا احساس دیرپا رہے اور ختم ہی نہ ہوـ اداسی کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ زندگی کے روز مرہ کے معمولات اس سے متاثر ہونے لگیں۔

ڈپریشن میں بہت سے خیالات کو انسان اپنے ذہن سے نہیں نکال پاتا۔ اسے بہتری اور بحالی کے لیے دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا دل مضطرب ہوتا ہے۔ اس کے خیالات میں تسلسل باقی نہیں رہتا اورکیفیت میں تبدیلیاں بھی آتی رہتی ہیں۔

علامتیں:-
تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں
سمجھ لو سانس لینا خُودکُشی کرنا سمجھتے ہیں
نفسیاتی بیماری میں مبتلا افراد کی اکثریت ہی خُودکُشی کا شکار ہوتے ہیں۔‏ آخر ہم کیسے پہچان سکتے ہیں کہ ایک فرد خُودکُشی کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے؟‏ درجہ ذیل فہرست میں ایسی علامات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے، جن میں سے اگر کم از کم چار علامات کسی فرد میں پائی جائیں تو سمجھ جائیں کہ وہ خُودکُشی کرنے کی جانب پیش قدمی کرنے کی سوچ رہا ہے:‏

▪ ہر وقت یا زیادہ تر وقت اداس اور افسردہ  رہنا۔ جسمانی یا ذہنی کمزوری محسوس کرنا، بہت زیادہ تھکا تھکا محسوس کرنا۔
▪ خاندان اور دوست و احباب سے دوریاں پیدا کرنا۔
▪ مستقبل سے مایوس ہو جانا۔ اپنے آپ کو اوروں سے کمتر سمجھنے لگنا، خود اعتمادی کم ہو جانا۔
▪ کھانے اور سونے کی عادات میں نمایاں تبدیلیاں محسوس ہونا۔ بھوک اور نیند کا معاملہ خراب ہو جانا۔
▪ مزاج میں اضطرابی کیفیت کا پیدا ہونا۔
▪ جن چیزوں اور کاموں میں پہلے دلچسپی ہو ان میں دل نہ لگنا، کسی چیز میں مزا نہ آنا یعنی اُسے جن مشغلوں میں دلچسپی تھی اب  اُن میں بالکل دلچسپی نہیں لینا۔
▪ شخصیت میں نمایاں تبدیلیوں کا آجانا ۔
▪ منشیات، شراب و نشہ آور چیزوں کا استعمال کرنا۔
▪ دوسروں میں اپنی وہ چیزیں بانٹنے لگا ہے جو اُسے بہت پیاری ہیں۔
▪ موت یا اِس سے منسلک موضوعات کے بارے میں بات کرنا۔ خُودکُشی کے خیالات آنا یا خُودکُشی کی کوشش کرنا۔
▪ ماضی کی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے اپنے آپ کو الزام دیتے رہنا، اپنے آپ کو فضول اور ناکارہ سمجھنا۔
▪ روز مرہ کے کاموں یا باتوں پہ توجہ نہ دے پانا۔
▪ ماہرین کے مطابق کسی بھی شخص میں خُودکُشی کے رجحان کی ابتدائی علامات زندگی کے بارے میں اُس کے رویے میں تبدیلی کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ ایسا شخص یا تو ضرورت سے زیادہ پُرجوش نظٌر آنے لگتا ہے یا پھر خطرناک حد تک مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق اگر کسی شخص میں خُودکُشی کی انتباہی علامات موجود ہیں اور وہ کہہ رہا ہے کہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہے یا اُسے اپنی زندگی کا فائدہ نظر نہیں آتا تو اِن باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

خُودکُشی کی وجوہات:-

ایک شخص اپنی ہی جان لینے!!! یا خُودکُشی کرنے کے بارے میں سوچنے پر کیوں مجبور ہوجاتا ہے؟؟؟؟ اِس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ناامیدی خُودکُشی کی جانب لے جانے والے نفیساتی مسائل میں سے ایک ہے جس میں انسان کو کچھ نظر نہیں آتا اور خود کو ایک بیکار شئے سمجھنے لگتا ہے۔

خُودکُشی یا خُودکُشی کی کوشش کرنے والے افراد میں اکثر خود اعتمادی کی کمی بھی ہوتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو حقیر سمجھتے ہیں اور اپنی شخصیت کے بارے میں احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بحیثیت معاشرہ ہم لوگوں کو سراہتے نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے کی کوتاہیوں اور ناکامیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ فرد اپنے آپ کو معاشرے اور خاندان سے لاتعلق کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
خُودکُشی کی کئی وجوہات ہوتی ہیں ان میں سے کچھ وجوہات کا ذکر کیا جانا یہاں ضروری ہوگا:
گھریلو ماحول یا گھریلو مسائل، ازدواجی تعلقات میں کشیدگی، خاندانی جھگڑے، غربت اور تنگ حال زندگی، عشق و محبت میں ناکامی یا دھوکہ، عدم برداشت اور حوصلہ ہار جانا، نفسیاتی الجھن اور نفسیاتی مرض، ویڈیو گیمز میں ذہنی دباؤ، اور ڈراموں کا اثر، آگاہی اور جدید علاج کا نہ ہونا۔
وہ لوگ بھی ڈپریشن اور بعد میں خُودکُشی کا شکار ہوتے ہیں جو کسی trauma سے گزرے ہوں ـ یعنی معاشی نقصانات، financial crises ، ہتک عزت، نوکری کا چلے جانا، آبروریزی، امتحان میں نمبر کم آنا یا فیل ہو جانا، کسی عزیز کی اچانک موت، ازدواجی زندگی میں مسائل کا شکار ہوجانا، زرعی خودکشیاں،  emotional and mental abuse غرض اس طرح کی بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں۔

کوئی عاشق کوئی میکش کوئی مفلس ہے یہاں
ہر کسی کی خُودکُشی کی اپنی اک رفتار ہے

خُودکُشی اور حقائق:-

اعداد و شمار کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک انسان خُودکُشی کرکے اپنی جان لے لیتا ہے۔ ہر سال خُودکُشی کی وجہ سے تقریباً دس لاکھ افراد موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں۔ عالمی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے یہ تعداد ایک لاکھ میں سے 16 بنتی ہے۔ خُودکُشی سے موت دنیا میں ہونے والی اموات کا 1.8 فیصد ہے۔ گزشتہ 45 برسوں میں خُودکُشی سے ہلاکتوں کی تعداد میں 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ خُودکُشی 15 سے 29 سال کے جوانوں میں اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں روزانہ 381 لوگ خُودکُشی کر رہے ہیں، ملک میں دن بہ دن خُودکُشی کرنے والوں کا گراف بڑھتا ہی جارہا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ خُودکُشیوں کی شرح سویڈن اور ساؤتھ کوریا میں ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہیں۔ اسلامی ممالک میں خُودکُشی کی شرح دنیا کے باقی ممالک سے قدرے کم پائی گئی ہے۔ یہ اسلام کی برکت ہے۔

اسلام اور دیگر الہامی مذاہب میں خُودکُشی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی ممالک میں خُودکُشی کے واقعات میں کمی کی ایک وجہ دین و مذہب ہے۔ لیکن اب یہاں بھی خُودکُشی کے واقعات میں کچھ حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جو ہمارے لئے تشویشناک ہیں۔ جس کے روک تھام اور تدارک کے لئے ہمیں بحیثیت امت مسلمہ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اسلام میں خُودکُشی کی حیثیت:-

درحقیقت انسان کا اپنی زندگی و موت اور جسم کے کسی بھی اعضاء پر اپنا اختیار و مرضی نہیں ہے، بلکہ یہ تمام چیز اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہیں۔ اور ہمیں امانت میں خیانت کرنے کے لئے منع کیا گیا ہے۔ زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی ایسی عظیم نعمت ہے جو بقیہ تمام نعمتوں کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افرادِ معاشرہ کو اس امر کا پابند کیا ہے کہ وہ بہرصورت زندگی کی حفاظت کریں۔ اسلام نے ان اسباب اور موانعات کے تدارک پر مبنی تعلیمات بھی اسی لیے دی ہیں تاکہ انسانی زندگی پوری حفاظت و توانائی کے ساتھ کارخانہِ قدرت کے لیے کار آمد رہے۔ یہی وجہ ہے اسلام نے خُودکُشی کو حرام قرار دیا ہے۔ اسلام کسی انسان کو خود اپنی جان تلف کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔

اسلام جسم و جان کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے معاشرے کے تمام افراد کو اس امر کا پابند کرتا ہے کہ وہ بہرصورت زندگی کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ انسانی جان و مال کی حرمت اللّٰہ رب العزت کے پاس کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے دوران طواف کعبہ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ”اے کعبے! تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے،تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے،(تیری ان تمام عظمتوں کے باوجود)قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے مومن کی جان و مال کی حرمت اللّٰہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے۔“ (ابن ماجہ)

زندگی اور موت کا مالکِ حقیقی اللّٰہ ہے۔ اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلاوجہ تلف کرنا اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔ خُودکُشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے۔ اِس کا مرتکب اللّٰہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ خُودکُشی كبيرہ گناہ ميں شمار ہوتى ہے۔ ایک مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًاo وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللّهِ يَسِيرًاo

’’اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اللّٰہ تم پر مہربان ہےo اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اللّٰہ پر بالکل آسان ہےo‘‘۔  (النساء، 4: 29، 30)

امام بغوی نے ’’معالم التنزيل (1: 418)‘‘ میں، حافظ ابن کثیر نے ’’تفسير القرآن العظيم (1: 481)‘‘ میں اور ثعالبی نے ’’الجواهر الحسان في تفسير القرآن (3: 293)‘‘ میں سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیات کے تحت خُودکُشی کی حرمت پر مبنی احادیث درج کی ہیں۔

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی کو بھی موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے، اس لیے کہ اگر وہ نیک ہے تو امید ہے کہ اس سے اس کی نیکی میں اضافہ ہوگا اور اگر بُرا ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ تائب ہوجائے۔‘‘

قرآن پاک و حدیث نبویؐ میں متعدد مقامات میں وارد ہوا ہے کہ اہل ایمان کو موت کی دعا نہیں کرنی چاہیے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ مصائب و مشکلات اور بیماری سے دوچار ہونے کے بعد اسلام، انسان کو خُودکُشی کی اجازت دے۔

اسلام نے کسی بھی حال میں خُودکُشی کی اجازت نہیں دی۔ جس نے انسان کو پیدا کیا، ماں کے شکم سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک اس کی حفاظت و نگرانی فرمائی اور سکون کی نعمت سے سرفراز کیا، وہی اپنے بندوں کو مصائب میں مبتلا کرتا ہے اور وہی انہیں مشکلات سے نکالتا بھی ہے۔

عشق کی صداقت پر جبکہ میرا ایماں ہے
کیسے خُودکُشی کرلوں کیوں بکھر بکھر جاؤں

ہمیں اس بات کا بھی علم ہے کہ خُودکُشی کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج تو نہیں ہوتا، بلكہ يہ تو كبيرہ گناہ ہے جو اللّٰہ تعالى كى مشئيت پر ہے قيامت كے روز اگر اللّٰہ تعالى چاہے تو اسے معاف كر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے، اس ليے آپ اس كے ليے دعا كرنے ميں سستى اور كاہلى سے كام مت ليں، بلكہ اس كے ليے پورے اخلاص كے ساتھ مغفرت اور رحمت كى دعا كريں، ہو سكتا ہے يہ اس كى مغفرت اور بخشش كا سبب بن جائے.

خُودکُشی کا علاج:-
  سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ خُودکُشی کے ارادے کی جانب مائل لوگوں کی زندگیاں بچانا ممکن ہے۔ تفصیلات کے مطابق سائنسدانوں نے ایسے تجربات میں کامیابی حاصل کی ہے جس کے مطابق ایسے افراد جو خودکشی کا پختہ ارادہ کرچکے ہوں انہیں اس مذموم مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے سے پہلے روکا جا سکتا ہے اور سائنسدانوں کے مطابق ایسا صرف سات دنوں میں ممکن ہے۔

اندازے کے مطابق دنیا میں 35 کروڑ افراد ڈیپریشن کا شکار ہیں۔ اس بیماری کے پیدا ہونے کی دو وجوہات ہیں جو ایک دوسرے سے منسلک بھی ہو سکتی ہیں۔ ایک ماحول اور دوسرا جسم یا دماغ میں کیمیائی تبدیلیاں۔ اس بیماری کا علاج تھراپی سے بھی ہوتا ہے اور ادویات سے بھی۔

ڈپریشن کے مریضوں کا صرف حال دل سن لیا جائے تو ان کا مرض آدھا وہیں کم ہوجاتا ہے۔
ڈپریشن کوئی لاعلاج مرض نہیں بلکہ دیگر امراض کی طرح یہ بھی قابل علاج بیماری ہےـ ماہرین نفسیات کے نزدیک ڈپریشن کا سب سے بہترین اور آسان علاج سائیکوتھراپی (یعنی گفتگو کے ذریعے علاج) ہےـ اپنے جذبات و احساسات اور ذہنی دباؤ کو کسی عزیز کے ساتھا شئیر کرکے ذہن کا بوجھ ہلکا کرنا سائکوتھراپی کہلاتا ہےـ ڈپریشن چونکہ گھٹن زدہ ماحول کی دین ہے چنانچہ سائیکوتھراپی کے ذریعے ذہنی انتشار کو دوستوں، رشتےداروں یا کسی عزیز سے ساجھا کرکے انسانی ذہن کی اتھل پتھل اور گھٹن کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن سائیکو تھراپی کی یہ تشریح انتہائی ناقص ہے کیونکہ عزیز و اقارب کے ساتھ مسائل ساجھا کرکے ذہنی دباؤ کم تو کیا جا سکتا ہے ختم نہیں۔ چنانچہ سائیکو تھراپی کا تقاضہ یہ ہے کہ مکمل ماحول سازگار بنایا جائے جو علاج میں مثبت کردار ادا کر سکےـ اور ماحول کو سازگار بنانے کی ذمےداری فقط کسی سائیکولوجسٹ پر ہی عائد نہیں ہوتی بلکہ یہ ہر فرد کا سماجی فریضہ ہےـ ہمارا چلنا، پھرنا، اٹھنا، بیٹھنا حتی کہ لکھنا پڑھنا اور ہمارا پیشہ بھی کسی کی زندگی میں مثبت یا منفی کردار ادا کر سکتا ہےـ

دوائیوں کے استعمال سے دماغ میں کیمیائی عمل شروع ہونے سے مریض کی زندگی میں خوشی واپس لوٹنے لگتی ہے اور وہ پھر سے روزمرہ کے کاموں میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔ اس بیماری میں موروثی، نفسیاتی، ذہنی، سماجی اور تمدنی عوامل شامل ہیں۔ مریض کے نزدیکی رشتہ داروں کو چاہئے کہ نفسیاتی صلاحیتوں کو بڑھاوا دینے میں اس کی ہر ممکن مدد کریں تاکہ وہ حالات کا مقابلہ کر سکے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماریوں کے بارے میں بات کرنا اب بھی معیوب سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنی تکلیف کا اظہار نہیں کر پاتے۔ آج جب کہ دنیا بھر میں دماغی امراض میں اضافہ ہوا ہے تاہم ماہرِ نفسیات کہتے ہیں کہ 'معاشرے میں اب بھی ذہنی بیماری کو بیماری تصور نہیں کیا جاتا'۔ اگر ڈیپریشن کی ابتدا میں ہی تشخیص ہو جائے اور علاج کرالیا جائے تو بات خُودکُشی تک پہنچے ہی نہیں- اِس طرح خُودکُشیوں کی روک تھام میں بڑی حد تک مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ضرورت ہے ”Psychological autopsy” یعنی نفسیاتی پوسٹ مارٹم کے نظریہ پر عمل کرنے کی۔ جس پرعمل کرکے خُودکُشی کرنے والے افراد کی پوری نفسیاتی پروفائل بنائی جاسکتی ہے اور اس کے لیے خُودکُشی کا شکار افراد کے اہل خانہ، دوست احباب اور طبی عملے سے تفصیلی انٹرویو کیا جائے لیکن یہ ایک مشکل عمل ہے لیکن ناممکن نہیں، کیونکہ خُودکُشی ایک خاموش چوغے کی طرح ہے۔

جسم کے دیگر حصوں کی طرح دماغ بھی ایک عضو ہے جس سے متعلق کسی بھی مرض کی تشخیص اور علاج ضروری ہے۔ اکثر لوگوں کو غلط فہمی ہوتی ہے کہ دماغی بیماریاں خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہیں۔

'سوسائڈ واچ' بھی خُودکُشی کی روک تھام کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ اگر مریض میں خُودکُشی کی علامات نظر آئیں تو گھر کے افراد اور دوست احباب نگرانی کا نظام تشکیل دیتے ہیں تاکہ ایسے شخص کو تنہا نا چھوڑا جائے اور ہر وقت نظر رکھی جائے۔ اس نظام کے ذریعے یہ بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص کے پاس ایسے وسائل یا ساز و سامان موجود نا ہوں جن کے ذریعے خُودکُشی کی کوشش کی جا سکے۔

خُودکُشی کا انسداد اور تدارک پر اسلامی علاج:-

چودہ سو سال قبل ہمارے پیارے نبی رسول اللّٰہ ﷺ نے دنیائے انسانیت کو ڈپریشن اور دماغی امراض کا علاج بتایا۔
▪ رسول اللّٰہ ﷺ نے انسانی شخصیت میں مایوسی، ناامیدی، اور منفی سوچ کے خاتمہ کرنے کی تدبیر فرمائی۔
▪ خطبہ حجتہ الوداع میں احساس کمتری ختم کرنے کا طریقہ بتایا گیا۔
▪ آج جہاں نکاح کے نام پر رسم و رواج اور جہیز کے نام پر موجودہ فقیروں کی وجہ سے  لڑکیاں خُودکُشی جیسے قبیح فعل کی انتہا کو پہنچ جاتی ہیں، اس کا حل ہمارے نبی کریمؐ نے دنیا کو بتایا۔
▪ معاشی مسائل کی وجہ سے ہونے والی خُودکُشیوں پر قدغن لگایا۔ فرمایا رزق دینے والی ذات اللّٰہ کی ہے۔ جو اللّٰہ پتھروں کی چٹانوں کے درمیان میں واقع کیڑوں مکوڑوں کو رزق دے سکتا ہے کیا وہ اشرف المخلوقات کو بھوکا پیاسا مارسکتا ہے۔
▪ انسان ناامیدی اور مایوسی کی آخری حد پر پہنچ کر خُودکُشی کرتا ہے اور مایوسی کو رسول اللّٰہ ﷺ نے کفر قرار دیا گیا ہے۔
▪ جو چیز ہمیں دوسرے معاشروں سے ممتاز کرتی ہے وہ ہمارا سماجی نظام ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں گھر کا کوئی نا کوئی فرد ایسا ضرور ہوگا جو آپ کی بات سنے گا اور اس کا حل نکالنے کی کوشش کرے گا۔

▪ اسلام مایوسی سے حوصلوں کی طرف لے جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں بندہ خداوند کریم سے قریب ہوجاتا ہے، اللّٰہ سے قربت آپ کے اندر امید کی ایک کرن نمودار کرتی ہے کہ نہیں کوئی نہ کوئی ہے جو مسئلے کا حل نکال دے گا، آپ میں مثبت خیالات پیدا ہوتے ہیں کہ برا وقت جلد ختم ہوگا اور اچھا وقت بھی اللّٰہ تعالیٰ ضرور لائے گا‘۔

حیرانی ہے کہ اسلام میں خُودکُشی کے بارے میں اتنی واضح تصریحات کے باوجود آج ہمارے معاشرے میں بھی یہ بہت حد تک سرایت کررہی ہے۔ معاشرے میں مسائل اور پریشانیاں ضرور بڑھ گئی ہیں لیکن ایک مسلمان کو اللّٰہ سے مدد طلب کرتے ہوئے ہمت و حوصلے سے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے نہ کہ ہمت ہار کہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرلے اور پس ماندگان کو مزید پریشانیوں کا شکار بنادے۔

خود کشو ! تم مرے نہیں تنہا
تم نے جانیں بھی لے لی ماؤں کی

آج معاشرے میں اگر اسلامی تعلیمات عام ہوں تو خُودکُشی کے رجحان کو کم کیا جاسکتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ انتشار کا شکار ہے اور ہر طرف نفسانفسی کا عالم ہے، جس کی وجہ سے دنیا کے پریشان حال لوگ مایوس ہوکر خُودکُشی جیسے گناہ کا ارتکاب کرنے لگے ہیں۔ ہمیں اللّٰہ کی رحمت سے بالکل مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے خُودکُشی کا راستہ اختیار کرنا انتہائی بڑی حماقت کا مظاہرہ ہوگا، کیوں کہ اپنے ہاتھوں اپنی جان لینا اللّٰہ رب العزت نے حرام کیا ہے، اور رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس قبیح عمل پر سخت وعیدیں سنائی ہیں۔ اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے خُودکُشی کرنا عقلاً بھی غلط ہے؛ کیوں کہ دنیا کی پریشانی وقتی ہے جب کہ خُودکُشی کی صورت میں حاصل ہونے والی پریشانی دائمی ہے۔

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

01-03-2021
(masoodkhan.media@gmail.com)

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam