رفیع الدین رفیق

                   رفیع الدین رفیق

              بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

                    ✍۔ مسعود محبوب خان
               09422724040

      وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا
      جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

اللّٰہ رب العالمین! نے ملک کی پہلی و ہر اول دستہ طلبہ تنظیم کو بنانے کے لئے جن  خوبصورت گلوں کو چن چن کر ایک نایاب گلدستہ کا انتخاب کیا تھا شاید وہ دھیرے دھیرے اپنی خوشبوؤں کو مختلف شعبوں میں بکھیر کر اپنے باغیچے کے مالک حقیقی سے جامل رہے ہیں۔ اسی گلدستہ کا ایک مہکتہ اور مسکراتا ہوا پھول برادر عزیز رفیع الدین رفیق بھی بہت جلد اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ خلوص، خوش مزاجی، ملنساری، جواں عزم جس کا شیوہ رہا، جس کو میں نے پہلے دن سے موت کی آغوش میں جانے تک فعال و متحرک دیکھا۔ وہ انتظامی امور میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا کرتے۔

برادر رفیع الدین رفیق کا سلسلہ مشائخ عظام، داعیان اسلام اور اولیاء اکرام کی سرزمین ہندوستان کا غرناطہ یعنی شہر اورنگ آباد سے قریب سرزمین خلدآباد کی مشہور و معروف درگاہ حضرت خواجہ سید زین الدین شیرازی سے رہا ہے، جہاں پر وقت کا ایک بڑا متقی و بہادر حکمراں مدفن ہے، جسے لوگ اورنگزیب عالمگیر کے نام سے جانتے ہیں۔

حدیث سے اس کا پتہ چلتا ہے کہ جمعہ کے دن مرنے والوں سے عذاب قبر کی تخفیف ہوجاتی ہے۔ اسی وجہ سے رمضان یا جمعہ کے دن وفات پانے والوں کو مبارک کہا جاتا ہے۔ اس حدیث کا علم تذکیری طور پر دو ہفتے قبل میری ہمشیرہ کے انتقال کے وقت ہوا۔ اور اللّٰہ سے دعاء مانگی کہ اللّٰہ اس حدیث کو ان لوگوں کے حق میں قبول فرما۔

بھائی رفیع الدین رفیق سے ملاقات اس وقت سے ہے جب وہ باندرہ میں رہتے تھے اور میں وکرولی میں رہتا تھا، طلبہ تنظیم کے دفتر میں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا اور پھر بعد میں وہ ممبرا میں قیام پذیر ہوگئے۔ بعد میں ہم لوگ بھی 1992/1993 کے فساد کے بعد 1995 میں ممبرا شفٹ ہوگئے۔ جہاں رہ کر ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع میسر ہوا۔ ان کے ساتھ ضلعی سطح کے کئی اسفار کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہمیشہ انہیں دینی سرگرمیوں میں مصروف، متحرک اور فعال پایا۔ جب بھی ملتے مطالعے کا اور مصروفیتوں کا احتساب لیتے۔ زاد راہ کے طور پر تذکیری کلمات ادا کرتے۔ وہ بہترین مقرر بھی تھے، اجتماعات میں موضوع کی تیاری کے ساتھ گفتگو کرتے اور اس کا پورا حق ادا کرتے۔ مضبوط اعتماد کے ساتھ اپنی بات کو پیش کرتے۔ قوت ارادی کے پکے تھے، جو کرنے کی ٹھان لیتے ضرور کرتے۔ اس وقت انہیں کے ذریعہ شاہ بلیغ الدین، خرم مراد، حافظ محمد ادریس اور اس طرح کے کئی بڑے بڑے علماء و مشائخ اور تحریکی شخصیات کو آڈیوز کی شکل میں سماعت کرنے کے زرین مواقع فراہم ہوئے۔ جیسے کہ اس کام کے لئے انہوں نے اپنے کو گھلا دیا تھا۔

ملی و دینی سرگرمیوں میں ہمیشہ ایمانداری کے ساتھ پیش پیش رہتے۔ ایک روز بمبئی کے انگلش روزنامہ "ایشین ایج" میں خبر شائع ہوئی "Madam from Mumbra " (میڈم فرام ممبرا)، جس میں ایک خاتون کا ذکر تھا جس کا ماضی میں کاروبار بہت گھناؤنا تھا، جو کسی زمانے میں عروس البلاد کی اس کاروبار کے ضمن میں کنگ مانی جاتی تھی۔ اس اخبار کے مطابق اس عورت نے اس غلیظ کاروبار کو خیرآباد کہہ کر ایک نئی اور صاف ستھری زندگی گذارنے کی حامی بھری تھی۔ اس وقت یکایک اللّٰہ سے دعاء مانگی کہ اے اللّٰہ! اس محترمہ سے ملنے کی کوئی سبیل نکال دے۔ کیونکہ اس کی خواہش تھی کہ اس کاروبار میں ملوث دیگر عورتوں کو بھی اس دلدل سے نکالا جائے۔ اس سے پہلی ملاقات بھی ہمارے قریبی دوست اور ان کی والدہ اور رفیع الدین رفیق بھائی کے ساتھ ہی ہوئی، اس نے اس کام پر اپنی آمادگی کا اظہار کیا اور عملاً اس کام میں ہمارا ساتھ بھی دیا۔ اور ہم نے اسے ایک عوامی تحریک بناکر اس کاروبار پر کاری ضربیں بھی لگائی۔ الحمد اللّٰہ! برادر رفیع الدین نے بھی بہت ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور ایک لمبے عرصے تک ڈٹے رہے۔

صحافتی خدمات:-
2002 میں برادر رفیع الدین نے ایک کتاب جس کا نام "تاریخ پیراہن مبارکﷺ و گلستان مشائخ چشتیہ" مرتب کی۔ اس کے بعد محترم نے ملفوظات ختم المشائخ حضرت خواجہ سید زین الدین شیرازی کے فارسی متن کے اردو ترجمہ کے ترتیب و تدوین کے فرائض انجام دیے۔ جس کا نام "ہدایت القلوب" تھا۔
برادر رفیع الدین نے ایک لمبے عرصے تک ایک اسلامی و معیاری صحافت کی بھی خدمات پیش کی۔ آپ نے ماہنامہ رسالہ "ترجمان ملت" میں مدیر کے فرائض بھی بحسن و بخوبی انجام دئے، جس کے مدیر اعلیٰ جناب ضیاء الدین صدیقی صاحب تھے۔ جو بعد میں معاشی مسائل کے نتیجے میں بند ہوگیا۔ آج بھی اس کے شمارے لوگوں کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔

برادر رفیع الدین نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز بمبئی سے ہی کیا، روزنامہ "اردو ٹائمز" میں اپنے صحافتی فرائض انجام دیتے رہے، ساتھ ہی ساتھ روزنامہ "اودھ نامہ" کے بھی ایک عرصے تک صحافی رہے۔

"سب کی آواز" کے نام سے انہوں نے الیکٹرانک میڈیا پر اپنا ایک چینل شروع کیا تھا، الحمد اللّٰہ! جس کے 25 ہزار سے زائد ویورز تھے۔ رفیع الدین رفیق کے انتقال کے بعد یہ سب کی آواز خاموش ہوگئی ہے۔ کیونکہ سب کی آوازوں کا نذرانہ لے کر وہ 01.04.2021 کو اللّٰہ کے حضور حاضر ہوگئے ہیں۔

الحمد اللّٰہ! شہر کے ایک بڑے روزنامہ کے ایڈیٹر کو صحافت کے اس منصب تک لاکر پہنچانے کا کام اور ان کی اس شعبے میں راہنمائی کا بھی انہیں کے سر بندھتا ہے۔ جنہیں وہ اس وقت بمبئی لاتے ملاقات کرواتے اور ہمتیں بندھواتے۔

اورنگ آباد میں ایک مسلم لڑکی کو کچھ غیر مسلم لڑکوں نے اغواء کرلیا، اس کے غریب والدین کئی دنوں تک پولس اسٹیشنز کی چکر کاٹتے رہے لیکن لڑکی کا کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا۔ اس وقت کے مقامی کارپوریٹر کے ساتھ ہم لوگ پولس اسٹیشن پہنچے، جہاں چلتے چلتے میں نے برادر رفیع الدین کو بلا لیا تھا، انہوں نے اپنے بے باک صحافتی تجربات کی بنیاد پر اس معاملے کو بہت جلد نمٹایا، جس کے نتیجے میں دوسرے روز ملت کی وہ بیٹی اپنے گھر پہنچ پائی۔ اللّٰہ اس کار خیر کو بھائی کے لئے نجات و بخشش کا سامان بنائے۔

تحفظ شریعت کانفرس و طلاقِ ثلاثہ کے ضمن میں انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلسِ عاملہ کی رکن بہن مونسہ بشریٰ عابدی کا انٹرویو اس کے بعد تعلمی میدان میں اپنی عملاً خدمات انجام دینے والے ماہر تعلیم جناب اسد اللّٰہ خان کا انٹرویو بھی اس خاکسار کے مکان پر ہی لیا تھا، ان کا تجزیہ پیش کرنے اور انٹرویو لینے کا فن واقعی قابلِ قدر رہا ہے۔ واقعی انہوں نے انمٹ نقوش اپنی یادوں کے چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

تعلمی سرگرمیاں:
برادر رفیع الدین کو میں نے ہمیشہ ملت کے طلبہ کی خدمت اور ان کے اسکولز و کالجز کے داخلوں کی تگ ودو میں پیش پیش پایا۔ ان کی خواہش تھی جس کا اظہار وہ ہمیشہ کرتے تھے کہ، "تعلیم ایک تحریک بن جائے اور ہر گھر میں یہ تحریک داخل ہوجائے ۔ مسلم سوسائٹی کا ہر فرد تعلیم یافتہ ہوجائے"۔

دور دراز سے طلبہ کے والدین کا ان کے پاس آنا اور برادر رفیع کی رہنمائی میں اپنے بچوں کا داخلہ کروا کر دعاؤں کا تحفہ ان کی خدمت میں حاضر کرکے رخصت ہونے کا عمل میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہاں تک میں گواہی دوں گا کہ ابتداء میں برادر رفیع الدین مہاراشٹر کے بڑے بڑے شہروں میں گھوم کر طلباء کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے مصروف رہتے تھے۔ جس کے لئے انہوں نے کچھ شہروں میں کاؤنٹرس بھی بنائے تھے۔ یونیک ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے نام سے انہوں نے ایک ادارے کا بھی قیام کیا۔ امت کے کئی طلبہ کو بنانے میں برادر رفیع الدین نے ایک بڑا رول ادا کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں لوگوں میں رفیع الدین رفیق "رفیق سر" کے نام سے مشہور ہوگئے۔ اللّٰہ تعالیٰ! تعلیم کے میدان میں کی گئی ان کی کاوشوں و محنتوں کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔ (آمین)

وہ مجھے ہمیشہ کہتے کہ خدمتِ خلق اور علم کی خدمت کی راہ میں اخلاص ضروری ہے۔ جس کا نمونہ خود ان کی اپنی ذات رہی ہے، کبھی بھی دوسروں کے جیسا اپنے تعلقات کو پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اس تعلقات کا استعمال ملت کے مثبت کاموں کے لئے کیا۔ اور ان کاموں میں اپنی خوداری اور مومنانہ صفت کو کبھی مجروح ہونے نہیں دیا۔ وہ کہتے تھے اگر والدین اور اساتذہ طلبہ کو ان کا مقصد حیات اور ذمّہ داریاں بتائیں اور ان کی نگرانی کرتے رہیں تو خراب ماحول میں بھی بہتر کردار کے مسلمان طلبہ پیدا ہوں گے جو ملک اور ملت دونوں کے لئے مفید ہوں گے۔

خدمتِ خلق:
"خدمتِ خلق میں اللّٰہ کی رضامندی پوشیدہ ہے"، اس کا چلتا پھرتا نمونہ میں نے ان میں پایا۔ کورونا کی خطرناک وباء سے ایک جانب انسان پریشان ہے، تو دوسری طرف ایسی مثالیں بھی دیکھنے کو ملیں جو انسانیت کو جلا بخشتی ہیں۔ ایسی ہی کئی مثالوں میں سے ایک مثال کورونا وائرس کی وجہ سے عائد جزوی لاک ڈاؤن کے دوران برادر رفیع الدین میں دیکھنے کو ملی۔ علاقے میں تمام چھوٹی بڑی کرانے کی دکانیں، ہوٹلیں بند ہوگئیں، چھوٹے بڑے بازار، آمد و رفت کے ذرائع سب بند ہوگئے، اس طرح ہر طرف حیرانی و پریشانی کا عالم چھا گیا۔ ان ایام میں انہوں نے آگے بڑھ کر اہل خیر ساتھیوں سے تعاون لےکر کئی دنوں تک روزانہ فوڈ پیکیٹ مستحق و متاثر افراد میں تقسیم کرنے کا ایک نظم قائم کیا اور اسے بھی بحسن وخوبی انجام دیا۔ اس وقت وہ وقتاً فوقتاً فون کرکے مستحق لوگوں کی پریشانی کا اظہار کرتے، اور انہیں کیسے بھی تعاون کرنے کے لئے فکرمند کا اظہار کرتے۔

ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں پر اپنے علماء کا احترام فرض ہے، کیونکہ یہ انبیاء کے وارث ہیں- ان کے عہدے، منصب، علم اور ان پر اسلام اور امت کی بہتری کی ذمہ داری کی وجہ سے مسلمانوں پر ان کا احترام فرض ہے-
اس لئے علماء کے وجود کو باعث خیر و برکت سمجھ کر ان سے حتی المقدور استفادہ کی ہر ایک کوشش کرنا چاہئے اور ان سے محبت رکھنے کو اپنے لئے سعادت خیال کرنا چاہئے۔ اس کا بہترین مظاہرہ برادر کی ذات میں نے دیکھا ہے، ایک مرتبہ مولانا محترم ابو ظفر حسان ندوی اظہری صاحب کو جو کچھ دنوں کے لئے گھر تشریف لائے تھے، اس وقت ہم نے مولانا کی اجازت کے بعد سیر و تفریح کے لئے خلدآباد جانے کا پروگرام ترتیب دیا، دوران سفر برادر  رفیع الدین رفیق کو فون کیا اور خلدآباد آنے کی خواہش کا اظہار کیا، لیکن پتہ چلا کی ان کی طبیعت ناساز ہے، پھر بھی انہوں نے کہا آپ لوگ تھوڑا وقت گذار کر پہنچیں میں بھی اورنگ آباد سے پہنچتا ہوں۔ ہم لوگوں کے پہلے ہی برادر مولانا محترم کے استقبال کے لئے منتظر کھڑے تھے۔ انہوں نے مولانا کو عزت و احترام کے ساتھ درگاہ کی زیارت و تاریخ سے آشنا کیا۔ ساتھ ہی ساتھ بہت ہی نایاب اور قیمتی قدیم فارسی میں لکھے ہوئے قرآن مجید کی زیارت بھی کروائی، جسے حضرت خواجہ سید زین الدین شیرازی نے خود اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ اس وقت سلسلہ درس قرآن کے لئے قرآن کے اس نایاب نسخہ سے مستفیض ہونے کا نظام تھا۔
نکلتے وقت میں نے ان سے کہا آپ طبیعت واقعی خراب ہے، نہیں بھی آتے تو مسئلہ نہیں تھا۔ انہوں نے یہی جواب دیا علماء کرام امت کا سرمایہ ہے، ان کی توقیر و عزت ہم پر فرض ہے۔ مولانا اتنے قریب آئیں اور میں اپنی طبیعت کو اوڑھنا بنالوں مجھے مناسب نہیں لگا اور میں نے ہمت کی اللّٰہ نے مجھے یہاں تک پہنچا دیا۔ (اللّٰہ اکبر)۔
اسی نوعیت کا ایک واقعہ معروف صحافی جناب عالم نقوی صاحب (سابق مدیر اردو ٹائمز، بمبئی) کا بھی نظر آتا، طوالت سے بچنے کے لئے پھر کبھی موقع ملا تو اس واقع کو بیان کروں گا۔

اللّٰہ تعالیٰ میرے اس مربی و مزکی اور مشفق و فعال دوست کی مغفرت فرمائے، درجات کو بلند فرمائے، اپنے جوارِ رحمت میں جگہ نصیب فرمائے۔ اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ قوم و ملت کو ان کا نعم البدل عطاء فرمائے۔ اللهم اغفر لها و ادخلها الجنة۔(آمین)

       جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجے مرا
       یاد کا سارا سر و ساماں جلاتے جائیے

(masood.media@gmail.com)
(02.04.2021)
      ©•••═══ ༻م✿خ༺═══ •••©

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam