"دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دیکھلا دے"
"دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دیکھلا دے"
مسعود محبوب خان (بمبئی)
عالمی انسانی ساختہ وباء کووڈ 19 کے پیش نظر ساری دنیا میں اضطراب و بے چینی، خوف و دہشت کی فضا پیدا کردی گئی ہے۔ اس وباء کے پیش نظر مذہبی و اخلاقی معاملات کے ساتھ ساتھ، معیشت سے لے کر تعلیمی نظام تک بے بس و مجبور بنا دئے گئے ہیں۔ مادہ پرستی، عافیت کوشی، ملکی و علاقائی عصبیت، وطن پرستی کے عفریت نے حلق میں آوازوں کو محصور کر دیا ہے۔ حق بات کو حق بات کہنا بھی جرم ہوگیا ہے۔
خوف و دہشت کی ایسی فضاء بنا دی گئی ہے کہ وبا کا حووا کھڑا کرکے بندوں کے مراسم عبودیت و تعبدی یہلووں کو فنا کیا جارہا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی بھی عروج پر ہے۔ فیزیکل ڈسٹینس کو سوشیل ڈسٹینسینگ کا نام دے کر دلوں میں نفرتوں کے بیج کو بویا جارہا ہے۔ لوگ تجہیز و تکفین (یا دیگر مذہب کے لوگ جو لاشوں کو نظر آتش کرتے ہیں)، کے معاملات احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے نام پر ان فرائض سے پہلو تہی کرنے لگے ہیں۔ نئی نسل کے تعلیمی معاملات کو بھی بند بستے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اسی وباء کے پیشِ نظر دینی تعلیمی اداروں کو فی الحال مقفل کرکے طلبہ و طالبات کو ان کے گھر پہنچایا جارہا ہے۔ کہنے کو تو مختلف مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا انبار ہے۔ اسی لئے لمبی تمہید نہ باندھتے ہوئے کئی مسائل میں سے ایک مسئلہ پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ جوکہ بحیثیتِ امت مسلمہ ہمارے لئے ایک سنگین مسئلہ ہے۔
ایک اچھی خبر نظروں سے گزری کہ 450 طلبہ کو جس میں بہت چھوٹی چھوٹی ملت کی عفت مآب معصوم بیٹیاں بھی تھیں۔ اللّٰہ جزائے خیر عطاء فرمائے شہر اورنگ آباد کے ایم پی، امتیاز جلیل صاحب کو جن کی انتہک کوششوں کے نتیجے میں یہ طلبہ اورنگ آباد سے ارریا (بہار) اپنے گھر جاکر عزیز و اقارب کے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں گے۔ دعائیہ کلمات اس لئے ادا کررہا ہوں کہ ذاتی طور پر اس درد کو محسوس کرسکتا ہوں، جو شاید امتیاز جلیل صاحب کے دل میں بھی کروٹیں بدلتا رہا ہوگا!! جو لوگ کسی بھی طرح کے دینی و تعلیمی اداروں سے وابستہ رہ کر، اپنی خدمات پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، انہیں لازماً اس قسم کے مرحلوں سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔
لیکن یہاں ایک سوال ذہن میں گردش کرتا رہا ہے کہ بہار و یوپی، جہاں دینی و عصری تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اکثر لوگوں کی خواہش بھی یہ ہوتی ہے کہ ہمیں وہاں کے اداروں میں داخلہ مل جائے، کیونکہ معیاری تعلیم کے متعلق ان کا شمار سرفہرست ہوتا ہے۔ تو پھر آخر کیا وجہ ہوتی ہے کہ یوپی، بہار کے لوگ ہزاروں کلومیٹر کا سفر طئے کرکے، وہاں کے اداروں کو چھوڑ کر یہاں آکر داخلہ کس بنیاد پر اور کیسے کروا لیتے ہیں؟ جب کہ طلبہ کے والدین یا سرپرست کبھی بھی ان اداروں میں قدم نہیں رکھتے؟ ہمیں اس میکانزم کو بھی سمجھنا ہوگا جب جاکر ہم کسی بڑے نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں! ورنہ افسوس کے علاوہ کچھ بھی باقی نہیں بچے گا! اللّٰہ اس ضمن میں ہم سے بھی ضرور سوال کرےگا؟ کہ امت مسلمہ کی گاڑی کمائی جسے کافی محنت و مشقت اور جانفشانی کے بعد حاصل کیا جاتا ہے، اس کا بڑا حصّہ کہاں کہاں صرف ہورہا ہے اس پر نگاہ رکھنا اشد ضروری ہوگیا ہے! کیا ایسے تعاون سے ایک ایسا تعمیری کام (constructive work) ٹھوس بنیادوں پر ہم انجام نہیں دے سکتے؟ ہمیں اس بات کا بھی احتساب کرنا ہوگا کہ result oriented constructive work کتنا ہوا ہے آج تک؟ جو امت مسلمہ کے لئے سرمایہ حیات بن جائے! کیا ہم انہیں تعاون سے مقامی سطح پر مقامی مرکزی نوعیت کی دینی و عصری تعلیم گاہیں مخلص افراد پر مشتمل حضرات کے ذریعے نہیں چلا سکتے۔ جو طلبہ و طالبات کے چند فاصلوں پر ہو۔ جس میں مقامی و قریبی طلبہ زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہوں۔ چھوٹے چھوٹے معصوم طلبہ کو لمبے لمبے سفر کی اذیتیں نہ جھیلنی پڑتی ہوں۔
ایک دفعہ تو ذاتی گاڑی میں 9 بچیوں کو 500 کلومیٹر کا سفر طئے کرکے ان کے گھر چھوڑ کر آیا ہوں، ملت کی ان بیٹیوں کے ساتھ اتنا لمبا سفر طئے کرنا واقعی ایک آزمائش کا مرحلہ ہوتا ہے۔ دوران سفر مختلف اقسام کی پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں۔
سفر کے بارے میں آتا ہے کہ وہ عذاب کا ٹکڑا ہے، تو پھر ملت اسلامیہ کی ان معصوم و ننھی پری سی بیٹیوں کو کیوں عذاب میں جھونکا جاتا ہے؟ جب کہ وہاں اداروں کی کمی نہیں ہے؟ لیکن جب اس نظم کو قریب جاکر دیکھا تو ایک بہت بڑا ریکیٹ! نیچے سے اوپر تک نظر آیا، دور دراز علاقوں سے طلبہ کو اداروں میں داخلہ دلوانے کے کمیشن یا طئے شدہ رقوم ہوتی ہیں، جسے والدین و سرپرستوں سے اور اداروں سے وصولیں جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بہار کے دلال نما انسان، جسے لوگ حافظ راشد کہتے تھے، جسے آیت الکرسی اور دیگر چھوٹی چھوٹی سورتیں بھی یاد نہیں تھی، اس کا کاروبار ہی یہی تھا، بہار سے طلبہ و طالبات کو مدرسوں میں لاکر ڈاکنا۔ اس سے بزور پوچھنے پر معلوم ہوا کہ صرف مہاراشٹر میں ہی اس بندے نے 680 طالبات کا commission basis پر داخلہ کروایا تھا۔ اسے رقم کیسے وصول ہوتی تھی؟ کن کن اداروں میں اس نے کتنے طلبہ لاکر چھوڑے تھے؟ ساری باتوں کا خلاصہ اس نے کیا؟ جب کی والدین و سرپرستوں کو کبھی اداروں کو دیکھنے کی توفیق نہیں ہوئی؟ جب ہم نے انکوائری کی تو معلوم ہوا کی کچھ طالبات کو تو اذیتیں بھی دی گئی۔
کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ ان اداروں کو چلانے کے لئے کمیشن طئے ہوتے ہیں! چندہ کرنے والا 40 سے 60 فیصد پر اپنی خدمات پیش کرتا ہے اور یہ بھی سب دین و ایمان کے نام پر۔ کیا ان تعاون کی بندر بانٹھ روکی نہیں جاسکتی؟ کیا یہ زکوٰۃ، صدقات اور فی سبیل اللّٰہ کا تعاون سیدھے سیدھے مستحق طلبہ تک نہیں پہنچایا جاسکتا۔
ہمارے علاقے میں ایک دینی ادارے کی بیٹیوں کو دیکھا، جن کی بڑی تعداد بہار کے کسی چھوٹے سے قصبے سے تھی، وہ بیٹیاں نہ ہماری زبان سے واقف تھیں، نہ ہمیں ان کی زبان سمجھ میں آرہی تھیں۔ اور افسوسناک پہلو تو یہ تھا کہ، یہ ان اداروں کی طالبات تھیں، جنہیں ملت کی زبوں حالی کی عکاسی کرکے، ملت کی تربت و غربت کا احساس دلا کر شاید دلوں کو تسکین پہنچتی ہو، جو امت سے یتیم، یسیر، دریتم اور مستحق و نادار کے نام پر تعاون حاصل کرکے ملت کو دھوکہ دیتے ہیں۔ 26 بہار کی طالبات میں سے 25 طالبات کے والدین حیات تھے۔ کیوں امت کا مذاق بنایا جارہا ہے یہ سمجھ میں ہی نہیں آتا ہے؟ خدارا ملت اسلامیہ کی بیٹیوں کو تو کم از کم بخشا جائے!!!
والدین اور سرپرستوں سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ جہاں بچوں کی تعلیم و تدریس اور تربیت ضروری ہے وہاں انہیں نگاہوں کے سامنے ہی زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ضروری ہے۔ موجودہ دور میں حالات دن بدن نازک و کشیدہ اور ناسازگار ہوتے جارہے ہیں۔ جہاں خود کے دین و ایمان اور جان و مال کی حفاظت سوالیہ نشان بن گئی ہیں، وہاں ہم کیوں ان طلبہ کے مستقبل سے؟ کیوں ان کی عفت و عصمت اور پاکدامنی سے کھلواڑ کررہے ہیں؟ آخر کیوں؟ بہت نپے تلے اور دبے ہوئے الفاظ میں اپنی بات رکھ رہا ہوں۔ کیونکہ جو کچھ دیکھا ہے، جو کچھ ہمارے مشاہدے میں آیا ہے، جس کی تحقیق بھی ہم لوگوں نے کی ہیں، اسے یہاں بیان کرنا شاید مناسب نہ ہوگا، کیونکہ یہ میری ہی امت کے کچھ مفاد و مادہ پرست اور نااہل افراد کا رستا ہوا ناسور ہے، بدنامی بھی میری امت کی ہی ہوگی۔ میں نہیں چاہتا کی یہ امت، باطل پرستوں کے لئے تختہ مشق نہ بنے۔ لہذٰا مستقبل کے ان نونہالوں کی دین و دنیا، عفت و عصمت اور جان و مالکی حفاظت بھی امت کے ہی کاندھوں پر ہی ہے۔ ہمیں اس ضمن میں ایک لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔
میں یہ باتیں اتنے درد کے ساتھ اس لئے بیان کررہا ہوں کیونکہ اللّٰہ نے اس طرح کے معاملات میں مداخلت کروا کر ان گناہ گار آنکھوں کو ایک کڑوا سچ بتایا ہے۔ بڑے بڑے blunders اور scandals ہماری نظروں کے سامنے آئے ہیں۔ 9 سالوں سے کچھ تلخ حقائق کو سینوں میں پال کر چل رہا ہوں، حالات جس رخ پر جارہے ہیں اس میں کچھ باتیں آپ سے شئیر کرنے کی جسارت ضرور کروں گا۔ اس لئے کہ یہ ہمارا اجتماعی معاملہ ہے۔ جب تک ہم ان اداروں میں شفافیت پیدا نہیں کریں گے امت کی نسلیں یوں ہی داؤ پر لگتی رہے گی. زکوٰۃ، صدقات اور فی سبیل اللّٰہ کی مدوں میں امانتیں دینے والوں سے مؤدبانہ التماس ہے کہ وہ اپنی ان امانتوں کو اپنی کھلی نگاہوں سے دیکھ دیکھا کر صحیح اداروں کو دیں تاکہ جب اللّٰہ کے حضور حاضر ہوں تو ندامت و شرمندگی محسوس نہ ہوں۔ اللّٰہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
(masoodkhan.media@gmail.com)
©•••═══ ༻م✿خ༺═══ •••©
Comments
Post a Comment