•بوسنیا ہرزیگووینا •
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
+919422724040
وَمَا لَـكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ هٰذِهِ الۡـقَرۡيَةِ الظَّالِمِ اَهۡلُهَا ۚ وَاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ۙۚ وَّاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ نَصِيۡرًا
(آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللّٰہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے۔ (القرآن - سورۃ 4 - النساء - آیت 75))
ہندوستان کی پہلی اسلام پسند آزاد طلبہ تنظیم اور امت مسلمہ کا ہر اول دستہ کہلائی جانے والی طلبہ تحریک سے وابستگی کے نتیجہ میں ہمارے شہر ممبئی (بمبئی) میں بوسنیا ہرزیگوینا میں مسلمانوں پر ہورہے ظلم و ستم اور جبر و تشدد پر ایک احتجاجی دھرنے میں شرکت کا موقع میسر ہوا۔ اس وقت ہمارے کالج کے نئے نئے دور کا آغاز تھا۔ دھرنے کے فورا بعد کچھ قریبی رفقاء، جس میں شہید عزیز دوست جرنلسٹ و ایڈووکیٹ شاہد اعظمی کے ساتھ گرفتاری ہوئی۔ اللّٰہ اس کی شہادت کو قبول فرمائے اور درجات بلند فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
جہاں تک یاد آتا کہ فی سبیل اللّٰہ میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ دھرنے میں شرکت کرنے اور پابند سلاسل ہونے کے بعد یہ احساس ہوا کہ اس عنوان پر مزید مطالعہ کرنا چاہئے۔ اس پر محنت بھی شروع کی مگر اس وقت دنیا ایک گلوبل ویلیج نہیں بنی تھی اس لئے مختصر سے مطالعہ پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ لیکن چند سالوں کے دوران اخبارات و رسائل، جرائد اور خصوصاََ طلبہ تنظیم کے mouth organ میں کچھ مضامین نظروں کے سامنے گذرتے رہے جس نے علم میں اضافہ کیا اور آج اسی علم کی یاداشتیں آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔ طبیعت ناساز ہونے کی بنیاد پر دوران تحریر لغزشیں بھی ہوئی ہونگی، اس کے لئے معافی کا خواستگار ہوں۔
جی ہاں! 11 جولائی آتے ہی 25 سال پرانے کربناک واقعات ذہن میں دستک دینے لگے ہیں۔ اس قتلِ عام و نسل کشی Genocide کے اثرات آج بھی اضطراب و ارتعاش پیدا کرتے ہیں۔ یہ اجتماعی نسل کشی عالمی جنگ کے بعد سے یورپ کی سرزمین پر، امت مسلمہ کی منظم انداز میں بدترین اجتماعی قتل و غارتگری کا نمونہ تھیں۔
ہم جانتے ہیں یوگوسلاویہ مشرقی یورپ میں واقع 6 جمہوریتوں کے اتحاد کا نام تھا۔ سربیا، کروایتا، بوسنیا، مقدونیا، سوفینیا اور جبل الاسود ان 6 جمہوریتوں میں 20 سے زائد اقوام آباد تھیں۔ بوسنیا میں تقریبا 60 فیصد سے زائد مسلمان بستے تھے۔ 1985ء میں یوگوسلاویہ کی کل آبادی 2 کروڑ 25 لاکھ کے قریب تھی، جس میں 45 لاکھ سے زائد مسلمان آباد تھے۔
یوگوسلاویہ میں اسلام دو ابھرے ہوئے ذرائع سے پھیلا اول تجارت اور دوم خلافت عثمانیہ کے اسلامی لشکروں کے ذریعے۔ 1353ء میں اسلامی فوجوں نے یورپ میں دستکیں دینا شروع کردی تھیں۔ غالباً 1388ء میں اسلامی لشکر نے 'کوسوفو' اور 1453ء میں بلغراد فتح کیا۔ 1463ء میں سلطان محمد فاتح کی قیادت میں بوسنیا کے بیشتر علاقوں پر عالم اسلام قابض ہوگیا تھا۔ مشہور سیاح اولیا چلپی نے 11ویں صدی کے وسط میں بوسنیا کا یہ حال لکھا تھا: "اس میں 170 مسجدیں، جن میں 70 سے زائد مساجد میں صلوتہ جمعہ کا اہتمام ہوتا تھا۔"
26 جنوری 1699ء میں کارلووٹز کے مقام پر ایک کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ایک صلح نامہ مرتب کیا گیا، جسے "صلح نامہ کارلووٹز" دیا گیا۔ دولت عثمانیہ کے زوال کا سبب ہی یہ صلح نامہ بنا۔ 25 فروری 1711ء میں ماسکو کے سب سے بڑے کلیسا میں ترکوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا گیا اور اس جنگ کو مذہبی جنگ قرار دے کر ترکوں کو یوروپ کی سرزمین سے نکالنے کا فیصلہ لیا گیا۔ جس کا سلوگن تھا "خدا اور مسیحیت کے لئے"۔
1737ء میں آسٹریا اور روس کے درمیان خفیہ معاہدے ہوئے۔ جس میں یہ طے پایا گیا کہ دونوں ملک متحد ہوکر دفعتہً ترکی پر حملہ کریں گے۔ صلح کا فریب دیتے ہوئے اور اپنے آئندہ کے خفیہ عزائم کو پورا کرنے کیلئے روس اور آسٹریا نے سلطنتِ عثمانیہ سے صلح کی گفتگو کا آغاز کیا۔ شرائط صلح میں صلح کی قیمت بوسنیا اور سرویا کے سارے علاقوں کو قرار دیا گیا، جسے تسلیم کرنا سلطنتِ عثمانیہ کے لئے قطعاً محال تھا۔ صلح کی کوششوں کے درمیان دونوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے علاقوں پر حملہ شروع کر دیا جس میں انہیں ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی۔ سرویا اور بوسنیا کے غیور عوام نے ان کا مقابلہ بڑی جرآت مندی سے کیا۔
1782ء میں روس کی ملکہ کیتھرائن اور شاہ آسٹریا جوزف ثانی کے درمیان تجدید معاہدہ ہوا۔ کیتھرائن نے جوزف کے سامنے سلطنتِ عثمانیہ کی تقسیم کا ایک منصوبہ رکھا، جس کی رو سے آسٹریا کا سرویا، بوسنیا، ہرزیگووینا اور ڈالماچیا کے علاقوں پر قبضہ رہے گا۔ آسٹریا جس نے بوسنیا ہرزیگوینا میں بغاوت کی فضاء بپا کرواکر وہاں کے باغیوں کو جنگی ساز و سامان مہیا کروایا۔ جس کے نتیجے میں یہ علاقہ شورش زدہ علاقہ بن گیا۔
دوسری جانب 1 ستمبر 1876 سلطان عبد الحمید ثانی کا سلطنتِ عثمانیہ کا خلیفہ مقرر ہونا اور ترکی کے دستورِ اساسی کا اعلان کرنا۔ 23 دسمبر 1876ء کو دستورِ اساسی کے اعلان کے روز ہی قسطنطنیہ میں کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں یہ طے پایہ کہ ایک قومی فوج قائم کی جائے اور ترکی فوجیں صرف چند قلعوں تک محدود ہوجائے اور بوسنیا ہرزیگووینا کے سلسلے میں بھی انہیں شرائط پر عمل درآمد کیا جائے۔ 24 اپریل 1877 میں سلطنتِ عثمانیہ کے غلاف باضابطہ جنگ کا اعلان کیا گیا۔ روس اور سلطنتِ عثمانیہ کے درمیان 1 سال تک جنگ جاری رہی۔
1878ء میں ایک معاہدہ "سان اسٹیفانو" کے نام سے ہوا۔ اس کے بعد 12 جولائی 1878 کو ایک جدید معاہدہ ہوا جس کا نام "معاہدہ برلن" رکھا گیا۔ معاہدہ برلن نے یورپ میں سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہی کردیا۔
آسٹریا 1878ء میں پہ در پہ یوگوسلاویہ پر حملے کرکے اس کے کئی علاقوں پر قابض ہوگیا، عالم اسلام کی مرکزی حکومت خلافت عثمانیہ دم توڑنے کے قریب پہنچ چکی تھیں، ظلم و ستم اور عرصہ حیات تنگ کرنے کے نتیجے میں بوسنیا کے 15 لاکھ سے زائد مسلمان دیگر اسلامی ممالک اور قریب میں ترکی ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ 2.5 لاکھ سے زائد افراد عقوبت خانوں یا اذیت خانوں میں محصور ہیں۔
مسلمانوں کی تباہی و غارتگری کا ایسا کھیل کھیلا گیا کہ صرف بلغراد میں 270 مساجد، بوسنیا میں 1700 مساجد مسمار کردی گئی۔ تقریباً 2.5 لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، صرف ایک ہی علاقہ کے 8 ہزار مسلمانوں کو ایک ہی روز شہید کردیا گیا۔ مسلم نوجوانوں کے نازک اعضاء کو کاٹ کر جسموں پر صلیب کا نشان لگا کر تڑپا تڑپا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی جاتی رہی۔
ایک بڑی تعداد میں باپ اور بیٹوں کو برہنہ کرکے ایک دوسرے کے آلہ تناسل کو کاٹنے پر مجبور کیا گیا۔ بھوکے اور خونخوار جانوروں کی غذا مسلمانوں کو بنایا گیا۔ کئی افراد پر مشتمل مسلمان خاندان کو آگ میں جلا دیا گیا۔ زہریلی کیمیکل گیس سے کئی ہزار مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ بڑی بڑی تندوروں میں مسلمانوں کو جلایا گیا، ان کے سروں کو ہتھوڑوں کی ضرب سے پھوڑا گیا۔
ظالم سرب افواج اقوام متحدہ کے بنائے گئے پناہ گزینی کے کیمپوں میں آتے تو مسلمانوں کے سر ہتھوڑوں سے پھوڑ دیتے اور معصوم بچوں کی کھوپڑیوں کو بندوق کے بٹوں سے پھوڑ دیتے۔
مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے سرب باشندے آپس میں بھی لڑلیتے، سربوں نے جن مسلمانوں کو مارا، یہ جنگی قیدی نہیں تھے بلکہ شہروں، دیہاتوں، گھروں اور بازاروں سے گرفتار کئے ہوئے سول قیدی تھے۔ اطلاعات کے مطابق بعض افراد کو تو زندہ ہی دفن کر دیا گیا تھا۔
8 تا 75 سال کی 75 ہزار مسلم عفت مآب خواتین کی عصمت دری کی گئی، جس کے لئے اجتماعی آبرو ریزی کے کیمپ بنائے گئے تھے۔ 25 ہزار مسلم خواتین کے جسم کے مخصوص اعضاء کاٹ کر انہیں اذیت دے کر ظلم و جبر کا ایک ننگا ناچ کھیلا گیا۔ امت مسلمہ کی 12 سالہ معصوم سی بیٹی کی 9 دنوں تک مسلسل اجتماعی عصمت دری کرتے رہے۔ مردہ ماں سے بدفعلی نہ کرنے کی پاداش میں کم عمر بیٹے کو گولیوں سے چھلنی کر کے شہید کردیا گیا۔ درندوں نے مسلمان عورتوں کے پیٹ چاک کرکے وہاں کتے اور بلی کے بچے رکھ کر عورتوں کے پیٹوں کو دوبارہ سی دیا۔ (15 مارچ 1993ء کا ٹائم)
مسلم خواتین کی عصمت دری اور جنسی غلامی کا مقصد صرف اور صرف ایک تھا اور وہ مسلمان خواتین کی تذلیل کرکے عالم اسلام کے مورال کو ڈاؤن کرنا۔ اتنے پرآشوب اور کربناک لمحات میں بھی مسلمان خواتین کے پایہ استقلال میں لغزش نہ آسکی۔ اسی کا جیتا جاگتا ثبوت تھا کی بوسنیا کی مسلم دوشیزاہ نے عالم اسلام کے منہ پر تھپڑ رسیدتے ہوئے پیغام بھیجا تھا کہ میرے بھائیوں اگر تم میں تھوڑی بھی غیرت باقی ہے تو ہمارے لئے کم از کم ایک جہاز مانع حمل ادویات بھیج دو تاکہ ہم عیسائی سربوں کے بچے نہ جنیں۔
بوسنیا میں قتل و غارتگری اور باقاعدہ ایذارسانی کے دستاویزی حقائق سے پر واقعات کے ساتھ ساتھ اجتماعی کربناک آبرو ریزی کا بھی ہے۔ یہ ایک پری پلانڈ منصوبے کے تحت بدترین جنسی مظالم کی انتہائیں ہیں جسے اس وقت کے باطل میڈیا نے نشر کرکے دنیا کو بتایا ہے۔
آج بھی یوگوسلاویہ کے علاقوں میں ایسی ایسی تہہ در تہہ اجتماعی قبریں دریافت ہورہی ہیں جس سے کئی ہزار مسلمانوں کی لاشیں نکالی جارہی ہیں، جنگی جرائم کے بین الاقوامی ٹریبونل نے اس وقت لاشیں نکالنے کے کام کے بارے میں کہا تھا کہ کم از کم یہ کام تین ماہ تک جاری رہے گا۔
1992ء میں سرب فوجیوں نے سربرینیکا پر قبضہ کر لیا تھا مگر فوراً بعد ہی اسے بوسنیائی فوج نے دوبارہ حاصل کرلیا۔ فریقوں کے درمیان جھڑپوں کے ساتھ شہر محاصرے میں چلا گیا۔ اپریل 1993ء میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس علاقے کو ’کسی بھی مسلح حملے یا کسی دیگر دشمنانہ کارروائی سے محفوظ علاقہ‘ قرار دے دیا۔ مگر محاصرہ جاری رہا۔ شہریوں اور اقوامِ متحدہ کے امن فوجیوں کے طور پر کام کر رہے ڈچ فوجیوں کی چھوٹی سی فورس کے لیے رسد ختم ہونی شروع ہوگئی۔
چھ جولائی 1995ء کو سرب فورسز نے شدومد کے ساتھ حملہ کیا۔ اقوام متحدہ کی افواج نے ہتھیار ڈال دیے یا پھر شہر میں پیچھے ہٹ گئی اور جب نیٹو کی افواج کو فضائی حملے کے لیے بلایا گیا تو اس نے سرب فورسز کی پیش رفت کو روکنے میں کوئی مدد نہیں کی۔
2002ء کی ایک رپورٹ میں نیدرلینڈز کی حکومت اور فوجی عہدیداروں پر ان ہلاکتوں کو روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ 2019ء میں ملک کی عدالت عظمی نے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔
2017ء میں ہیگ میں اقوام متحدہ کے ایک عالمی فوجداری ٹربیونل نے سرب فوجی کمانڈر ملادچ کو نسل کشی اور دیگر مظالم و جرائم کا مرتکب مجرم و ملزم قرار دیا۔ بوسنیائی قصاب ملادچ 1995ء میں جنگ کے خاتمے کے بعد روپوش ہوگیا۔ فرار مجرم 2011ء میں شمالی سربیا میں اپنے رشتہ دار کے گھر نظر آیا۔ یہ باطل کی مکاری و عیاری کا بہت بڑا حربہ ہے کہ جہاں مسلمانوں کی بات آتی ہے تو پوری قوم کو مجرم قرار دے کر کٹہرے میں لاکر کھڑا کیا جاتا ہے اور جہاں اپنے مفادات و مقاصد کی بات آتی ہے تو وہاں صرف کمانڈر ملادچ جیسے ظالم و جابر افراد ہی نظر آتے ہیں۔ حالانکہ اس قسم کی کاروائیوں میں افراد، جماعتیں، ادارے، تنظیمیں اور حکومتیں ملوث ہوتی ہیں۔ یہاں ان کی بینائی سلب ہو جاتی اور عقل و فکر ماؤف ہو جاتی ہیں۔
بوسنیا ہرزیگوینا مسلم اکثریتی علاقہ تھا، جن کا مذہبی تعلق و عقیدہ اسلام سے گہرا اور والہانہ تھا۔ اسی لئے باطل طاقتوں کو اس بات کا خطرہ لاحق تھا کہ کہیں یہ مشرقی یورپ میں مسلمانوں کی ریاست نہ بن جائے۔ اس کے سد باب کے لئے عیسائی سربوں کو بغاوت پر آمادہ کیا گیا۔ پھر ان سربوں کی حمایت و حفاظت کے لئے سربیا کو تیار کرواکے سربیئن افواج کے ذریعے باقاعدہ طور پر فوجی کاروائی کی گئی، اور اس کے ذریعے مسلمانوں پر ظلم و جبر، حیوانیت و درندگی قتل و غارتگری اور منظم انداز میں نسل کشی کا ننگا کھیل کھیلا گیا۔ ایسے وحشیانہ مظالم جنہیں سن کر انسانیت شرمسار ہوجائے۔
بوسنیا کے پہلے مسلمان صدر اور جنگ کے دوران مسلمانوں کے قائد عالیاہ عزت بیگوویچ کی وفات کی چودہویں برسی کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسلمانوں کی حالت زار اور ان کے تئیں یورپ کی بےحسی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بتایا کہ ’’یورپ بوسنیا میں مر گیا اور شام میں دفن ہو گیا-‘‘ مسلمانوں کی نسل کشی ختم ہونے کے بعد بھی بوسنیائی مسلمانوں کے ساتھ سرب، کرویٹ، یورپ کا امتیازی سلوک بدستور جاری ہے- جہاں ایک طرف ان کے تاریخی اور ثقافتی مقامات، مساجد اور ذاتی پراپرٹی کو واگزار یا اس کی مرمت کیلئے سرکاری سطح پر جان بوجھ کر طرح طرح کی مشکلات پیدا کی جاتی ہیں وہیں انہیں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جاتی جبکہ سرب اور کرویٹ ایسی قدغنوں سے مبرا ہیں- تاریخ گواہ ہے کہ باطل بزدل ہوتا جس کی وجہ سے وہ انصاف پسند کبھی بھی نہیں ہوسکتا۔ اللّٰہ تعالیٰ امت مسلمہ کو وہ ہمت و حوصلہ اور بصیرت و نظر دے جس سے اسے اپنا کھویا ہوا وقار حاصل ہوجائے۔ اے اللّٰہ امت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق کی فضاء پیدا کردے۔
©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment