اسلاموفوبیا ___ اسباب اور سدباب
اسلاموفوبیا ___ اسباب اور سدباب
(Islamophobia ___ Causes and prevention)
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
اسلاموفوبیا ___ اسباب اور سدباب
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✦ تعارف اسلاموفوبیا
✦ اسلاموفوبیا کے تخلیقی اسباب
✦ اسلاموفوبیا یورپ و مغرب میں
✦ مغرب میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا
✦ اسلاموفوبیا کی تاریخی حیثیت
✦ اسلاموفوبیا اور امت مسلمہ
✦ بھارت میں اسلاموفوبیا
✦ ادب اور اسلاموفوبیا
✦ ذرائع ابلاغ اور اسلاموفوبیا
✦ اسلاموفوبیا کا سدباب
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
• تعارف اسلاموفوبیا:
اسلاموفوبیا ایک ذہنی اختراع اور نفسیاتی مرض ہے، اس مرض میں مبتلا مریض ہر مخصوص چیز یا صورتحال یا اجنبی چیز کو دیکھ کر ڈر اور خوف محسوس کرتا ہے۔ ماہرین کی رائے یہ بھی ہے کہ اس بیماری میں مبتلا ہونے والا ذہنی طور پر مریض، نفسیاتی طور پر انتقام پسند، اخلاقی طور پر بزدل، جذباتی طور پر درندہ صفت، نظریاتی طور پر متعصب اور جنونی ہوتا ہے۔ اسلاموفوبیا مسلمانوں سے نفرت کرنے، تعصب برتنے کا نام ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلاموفوبیا تعصب کی ایک قابل قبول شکل ہے۔ اکثر غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اسلام کا خوف داخل ہوتا ہے اس کو "اسلاموفوبیا" کہا جاتا ہے۔
'اسلاموفوبیا' دو مختلف زبانوں کے لفظوں کا مرکب ہے، "اسلام" عربی لفظ سَلم سے ماخوذ ہے، جس کے معنی امن و سلامتی، اطاعت و صلح کے آتے ہیں اور ’’فوبیا‘‘ (یعنی خوف زدہ ہونا) یونانی لفظ ہے، جس کے معانی خوف اور اندیشہ کے ہیں۔ فوبیا یونانی اصلیت کا ہے فونوس جس کا مطلب ہے "گھبراہٹ"۔ اس اصطلاح سے باطل طاقتیں ’اسلامی تہذیب سے خوف زدہ ہونا‘ اور ’ مسلمانوں سے ڈرنا‘ مطلب لیتے ہیں۔ لیکن اسلاموفوبیا کا جو اصل مفہوم سمجھ میں آتا ہے وہ ہے 'اسلام سے عداوت'۔
آکسفورڈ لغت کے مطابق، اسلاموفوبیا لفظ کا مطلب ہے "اسلام سے شدید ناپسندیدگی یا خوف، ایک سیاسی قوت کے طور پر مسلمانوں کے ساتھ عداوت یا تعصب"۔ وکی پیڈیا پر اسلاموفوبیا کی تعریف کچھ اس انداز میں ہے:
Islamophobia is the fear of, hatred of, or prejudice against the religion of Islam or Muslims in general, especially when seen as a geopolitical force or the source of terrorism.
• اسلاموفوبیا کے تخلیقی اسباب:
اسلاموفوبیا کی تخلیق ایک خاص مقصد کے تحت کی گئی ہے۔ یہ نسبتاً ایک جدید لفظ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کیونکہ لاکھ مخالفتوں کے بعد اسلام جس تیز رفتاری کے ساتھ دنیا میں پھیل رہا ہے اور لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں پناہ لے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں باطل قوتوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں وہ اسلام سے خوف زدہ ہوگئے ہیں۔ باطل طاقتیں چاہے وہ دنیا کے کسی حصے میں ہو، اِس خوف کا شکار ہے کہ بہت جلد اِسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بننے والا ہے۔
یہی صورتحال رہی تو ان شاء اللّٰہ! مستقبل اسلام کا ہی ہوگا۔ باطل قوتوں نے اپنے اسی خوف کو دور کرنے کے لئے اسلاموفوبیا کا حوا کھڑا کیا۔ اسلاموفوبیا کے علم برداروں یا تھینک ٹینکس نے دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی کہ اسلام، مسلمان، حجاب، داڑھی، مسجد اور مدرسہ خوف و دہشت کی علامتیں ہیں۔ اسلامی تہذیب مغربی تہذیب کی حریف اور دہشت گردی و خوف کی علامت ہے۔
• اسلاموفوبیا یورپ و مغرب میں:
مغرب میں عام طور پر اسلام سے خوف اور مسلمانوں سے کراہت کے لئے اسلاموفوبیا کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ فوبیا لفظ (xenophobia) سے ماخوذ ہے، یورپ میں زینوفوبیا اصطلاح غیر ملکیوں کے خلاف نفرت کے لئے استعمال کی جاتی ہے، جو ایک قدیم اصطلاح neologism کی جدید شکل ہے اس کے عربی معنی "الاِرھاب" یعنی 'ہر چیز سے خوف' ہے۔
اس وقت اسلاموفوبیا یعنی اسلام سے خوف اور گبھراہٹ کی سوچ نے مغرب میں خاص طور پر اور دنیا کے بیشتر غیر اسلامی ممالک میں عمومی طور پر خطرناک شکل اختیار کی ہوئی ہے۔ خدشہ یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یورپ و مغرب اس معاشرے کو ایک مثبت معاشرے کی بجائے ایک متعصب معاشرے کی طرف لے جائے گا۔ اسلاموفوبیا جس طرح پھیلتا دکھائی دے رہا ہے اس پر پوری سنجیدگی، تندہی اور وسیع تر انداز میں جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ زہر پھیلتا رہا تو سب سے زیادہ مغربی معاشروں کے لئے خطرہ پیدا کردے گا۔
مختلف اوقات میں آئرش، چینی، اطالوی، میکسیکن اور جاپانیوں کو اس نسلی اور ثقافتی تعصب کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ موجودہ حالات میں مسلمان اور اسلام اس مہم کا خاص ہدف ہیں۔ مغربی ممالک میں عام شہریوں کے ذہنوں میں یہ خوف پیدا کیا جا رہا ہے کہ اسلام کے پھیلنے سے ان کی ثقافت اور مذہبی اقدار کو سخت خطرہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اسلام سے خوف میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
برطانیہ کے ایک ادارہ Runnymede Trust نے ۱۹۹۷ء میں ایک دستاویز “Islamophobia: A Challenge for All” (اسلاموفوبیا: سب کے لیے ایک چیلنج) کے عنوان سے جاری کیا تھا جس میں اسلاموفوبیا کی تعریف متعین کرتے ہوئے اس کے چند نکات بتائے گئے۔ اس تعریف کو آج وسیع پیمانے پر بشمول European Monitoring Centre on Racism and Xenophobia میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس نے ۲۰۰۴ء میں ایک فالواپ رپورٹ بعنوان ’’اسلاموفوبیا، ایشوز، چیلنجز اور ایکشن‘‘ شائع کیا۔ اس تعریف کے بھی جو اجزا ہیں اس کا ہمیں مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس رپورٹ میں اسلاموفوبیا کی وجہ سے مسلمانوں کو درپیش مشکل اور حقیقی مسائل کا احاطہ مبسوط انداز میں کیا گیا ہے۔ یوروپین مانیٹرنگ سنٹر برائے نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کی رپورٹ کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ رپورٹ میں مسلمانوں کی زندگی کے مختلف شعبوں بشمول روزگار اور تعلیم کے میدان میں مذہب یا عقیدہ کی بنیاد پر امتیازات و تعصبات سے پڑنے والے منفی اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
• مغرب میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا:
اسلاموفوبیا نظامِ باطل کے میڈیا اور قوت مقتدرہ( اسٹیبلشمنٹ) کی پیداوار ہے، مغربی معاشرے کا قدر بن گئی ہے جو یقیناً ایک خطرناک چیز ہے۔ مغربی اخبار گارجین 20؍جون 2016ء ایک رپورٹ میں انکشاف کرتا ہے :’’امریکہ میں ایسے 74؍ منظم گروپس لوگوں میں مسلمانوں کا خوف پیدا کرتے ہیں اور مسلمانوں سے نفرت کے جذبات کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ انسان دشمنانہ کام کرنے کے لئے ان پریشر گروپوں کو 206 ملین ڈالر ادا کئے گئے ہیں‘‘۔
ایک رپورٹ زیر عنوان ’’آسٹریلیا میں اسلام بیچا گیا؟‘‘ سے یہ بات آشکارا ہوئی کہ 2017ء میں آسٹریلیا بھر میں اسلام کے خلاف پورے ایک سال تک منفی پروپگنڈا کیا گیا۔ آسٹریلیا کے پانچ بڑے اخبارات میں اس سال اسلامی دہشت گردی، اسلامی شدت پسندی اور اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے والے عنوانات سے تین ہزار مضامین شائع کئے گئے۔ اوسطاً ہر روز اس سال آسٹریلیائی عوام نے آٹھ اسلام مخالف مضامین پڑھے جن میں صرف یہ تاثر اُبھارا گیا کہ مسلمان بنیادی طور پر دہشت گرد ہیں۔ ان میں سے 152؍ مضامین اخبارات کے سرورق پر شائع کئے گئے تاکہ سب کی نظر میں آجائیں۔
اسلام کے خوف اور اس کے خلاف نفرت پھیلانے کی مہم اب ایک طرح کی پوری صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس منافع بخش صنعت کو مسلمانوں کے مخالف ادارے اور افراد فراخدلی سے مالی امداد دیتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق صرف 2013ء میں اس سلسلے میں امریکہ میں 205 ملین ڈالرز کے عطیات اسلام مخالف تحقیقی اداروں کو دیے گئے۔ یہ ادارے اپنی ساکھ بڑھانے کے لیے عموماً تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور لکھاریوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ ان اداروں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 2010ء میں ایسے اداروں کی تعداد تقریباً پانچ تھی جو 2018ء میں تیزی سے بڑھتے ہوئے 114 کے قریب پہنچ گئی ہے۔
اسلاموفوبیا میں اہلیانِ مغرب و یورپ اتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ انہیں نہتے مسلمانوں پر ہونے والا ظلم و ستم نظر نہیں آتا۔ اسلاموفوبیا کا شکار شخص اس واہمے کا اسیر ہوجاتا ہے کہ تمام یا بیش تر مسلمان مذہبی جنون کی وجہ سے غیر مسلموں کے خلاف جارحانہ رویہ رکھتے ہیں۔ بعض ماہرینِ سماجیات کے نزدیک اہلیان مغرب و یورپ کے اسلاموفوبیا کے مرض میں جکڑے رہنے کا عمل اور عالمی اداروں کی غفلت تہذیبوں کے تصادم کے طور پر سامنے آسکتی ہے۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کو ان کی عبادت گاہوں کے حوالے سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ طرزِ عمل اسلام مخالف رویہ پر مبنی ہے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے حالانکہ تمام حکومتیں بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنے کی پابند ہے۔
اسلاموفوبیا کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ یہ ایک عرصہ سے چلا آرہا ہے۔ تاہم نائن الیون کے واقعہ کے بعد اس میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اسلاموفوبیا کی مختلف تعریفیں پیش کی گئی ہیں۔ اس سے مراد اسلام، مسلمانوں یا اسلامی تہذیب سے نفرت یا خوف کرنا ہے۔ جس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ اسلام ایک متعصب دین ہے جس کا رویہ دیگر مذاہب کے ساتھ متشددانہ ہے نیز یہ کہ مسلمان ہر اس چیز کو ردّ کر دیتے ہیں جو اسلام کے خلاف ہو۔ اسلاموفوبیا کا شکار شخص اس واہمہ کا اسیر ہو جاتا ہے کہ تمام مسلمان یا بیشتر مسلمان مذہبی جنونی ہیں، وہ غیر مسلموں کے تئیں جارحانہ رویہ رکھتے ہیں۔ اسلاموفوبیا میں ملوث افراد یہ یقین رکھتے ہیں کہ اسلام رواداری، مساوات اور مغربی نظریہ جمہوریت کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ اسلاموفوبیا کو نسل پرستی کی نئی شکل قرار دیا جاتا ہے۔
• اسلاموفوبیا کی تاریخی حیثیت:
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ: ’’یہ اصطلاح 1991ء میں امریکی رسالہ Insight میں معرض وجود میں آئی‘‘۔ فرانس میں یہ اصطلاح 1925ء میں منظرِ عام پر آئی۔ جب کہا گیاکہ: occes detive Islamophobia۔
اسلاموفوبیا اصطلاح کا استعمال 1976ء کے آغاز سے ہوا لیکن 80 اور 90 کی دہائیوں میں اس کا استعمال بہت کم رہا۔ یہ اصطلاح 1990ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔ 11 ستمبر 2011 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر تحقیق طلب دہشت گردانہ ڈرامائی حادثہ کے بعد اس لفظ کا استعمال کثرت سے مسلمانوں کے خلاف کیا گیا۔ ویسے اسلاموفوبیا کا ایک منفی نظریہ
اسلام کے خلاف عداوت و دشمنی رسول اللّٰہ کے دور سے ہی چلی آرہی ہے اور بیسوی صدی کے آخری دہائی میں اپنے شباب تک گئی۔
عیسائی اور یہودی دنیا اسلام کو ایک خوف زدہ اور نا قابل قبول مذہب تصور کرتے ہیں۔ اسی لئے آئے دن نئے نئے حربوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو ذلیل و رسواء کرنے کے طریقے ایجاد کئے جاتے ہیں۔ ’اسلاموفوبیا‘ منظم طریقے سے صلیبی جنگوں سے شروع ہوا، کیونکہ عیسائی دنیا کو فوج کی کثرت اور بے شمار وسائل کے باوجود کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوا۔
مشہور مصنفہ اور راہبہ کیرن آرم سٹرانگ نے اعتراف کیا کہ: ’’اسلاموفوبیا کی تاریخ صلیبی جنگوں سے ملتی ہے‘‘۔ کیرن آرم سٹرانگ لکھتی ہیں کہ: ’’نائن الیون کی پانچویں برسی کے موقعے پر پاپائے اعظم بینیڈکٹ نے جرمنی میں جو متنازع بیان دیا، اس نے ’اسلاموفوبیا‘ کی لہر کو اور بڑھا دیا۔ اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ ’اسلاموفوبیا‘ کی تحریک کو فروغ مل رہا ہے اور مغرب ایک نئی صلیبی جنگ کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔ جس کی تازہ مثال عیسائی پیشواؤں کا حالیہ اجلاس ہے جو ویٹیکن شہر میں منعقد کیا گیا، دوران اجلاس ایک ایسی ڈاکیومنٹری فلم دکھائی گئی جس میں من گھڑت اعداد شمار کے حوالے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ اگر مسلمانوں کو روکا نہیں گیا تو مغرب میں مسلمان اکثریت میں آجائیں گے۔
• اسلاموفوبیا اور امت مسلمہ:
اگر ہم دنیا کے حالات کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ پوری دنیا میں مسلمانوں اور اسلامی تہذیب کے بارے میں خوف، عناد، تعصب، منفی طرزِ فکر اور شکوک و شبہات کی فضاء کو فیبریکیٹ کیا گیا ہے۔ ان اسلاموفوبیک تعصبات میں نسل پرستانہ ذہنیت بھی شامل ہو جاتی ہے، جس کی زد میں امت مسلمہ کو لایا جارہا ہے۔
اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ دیا جاتا ہے، اسلاموفوبیا کی وجہ سے دنیا کو اسلام کی حقیقت سے دور کیا جارہا ہے۔ اسلاموفوبیا کے تحت تہذیبی و ثقافتی، مذہبی و سیاسی اور علمی و ادبی ہر اعتبار سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا جارہا ہے، اسی لیے تمام سیاسی حالات، بحران، تشدد و تعصب، انسانی حقوق کی پامالی، قتل و غارت گری وغیرہ اسلاموفوبیا کی عکاسی کرتے آرہے ہیں۔
اسلاموفوبیا کو بیدار کرتے ہوئے کئی ممالک میں امت مسلمہ کے افراد کو بے خوف و خطر حملوں کے ذریعے تختہ مشق بنایا جارہا ہے۔ شعائر اللّٰہ اور شعائر اسلام محفوظ نہیں رہے ہیں، ان کی مسلسل بے حرمتی اور ان پر حملے کئے جارہے ہیں۔ قرآن کریم کو اظہار رائے کی آزادی کے نام پر سر بازار جلایا جارہا ہے۔ رحمت اللعالمین، خاتم النبیین ﷺ کی توہین کی جا رہی ہے، چارلی ہیبڈو کی طرف سے توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت، باطل ذرائع ابلاغ مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز کارٹون شائع کرنا اپنا بہترین مشغلہ سمجھتی ہے اور مغربی میڈیا تو اس معاملہ میں سر فہرست ہے۔ نیوزی لینڈ میں جمعہ کے روز مسجد میں داخل ہوکر نمازیوں پر اندھا دھند گولیاں چلا کر 51 نمازیوں کو شہید کرنا، جرمنی میں نقاب پہننے کے سبب عدالت کے اندر قتل کرنا، اسی طرح گوانتا ناموبے اور ابوغریب جیلوں میں قرآن پاک کے ساتھ نامناسب سلوک٬ ناروے اور سویڈن میں ایک مجمع میں قرآن پاک کو جلانے کا دلسوز واقعہ٬ ڈنمارک میں بعض روزناموں خاص طور پر جیلنڈر پوسٹن میں رسول اکرمﷺ کے خاکے شائع کرنا٬ فرانس میں ایک استاد کا طالب علموں کو پیغمبر اسلامﷺ کے خاکے دکھانا، بیشتر یورپی باشندے کسی مسلمان خاندان کو اپنا ہمسایہ بنانا پسند نہیں کرتے۔ یہ اور اس طرح کے تمام واقعات حالیہ دور کی تازہ مثالیں ہیں۔ اسی طرح کے بہت سارے واقعات اسلاموفوبیا کے چند عملی مظاہر ہیں جن کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
حال ہی میں کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو میں دہشتگردی، نفرت اور مذہبی تعصب پر مبنی جو خوفناک واقعہ رونما ہوا۔ یہ خوفناک حادثہ درحقیقت حادثہ نہیں بلکہ ایک 20 سالہ کینیڈین نوجوان کے اسلاموفوبیا، مسلمانوں سے حد درجہ نفرت کا شاخسانہ تھا۔ اسلاموفوبیا کا شکار نوجوان ہر جگہ مطمئن نظر آیا۔
واضح رہے کہ ستمبر 2017ء میں بھی اسی شہر میں ایک پال مور نامی شقی القلب درندے شخص نے فٹ پاتھ پر چلنے والی پاکستانی خاتون اور اسکول جاتی ایک آٹھ سالہ اسکارف پہنے بچی کو وین سے کچل ڈالا۔ پال مور نے بھی اعتراف کیا کہ اس کو مسلمانوں سے شدید تفرت ہے اس لئے اس نے یہ سب کچھ کیا۔ اس درندے کے چہرے پر بھی کسی پشیمانی کے آثار نہیں تھے۔ اسلاموفوبیا ہی کے نتیجے میں ایک عیسائی اسلاموفوبک کا شکار Andrew Barmalik نے اوسلو میں 90 نہتے مسلمانوں کا قتل کیا۔
اسلاموفوبیا کے ضمن میں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے تاثرات یہ کہ "جب آپ ایک ایسی مسلمان خاتون سے بات کرتے ہیں جو کہ ایک بس اسٹاپ پر کھڑی اس فکر میں ہوتی ہے کہ کوئی اس کے سر سے حجاب کھینچے گا یا اس کو نقصان پہنچائے گا تو وہ آپ کو یہی بتائے گی کہ اسلاموفوبیا حقیقت ہے"۔
• بھارت میں اسلاموفوبیا:
مغرب کے تخلیق شدہ اس ناجائز لفظ کی آڑ لے کر دنیا بھر میں مذہب اسلام کو بدنام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک، تشدد اور قتل کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ مسلمانوں کو جسمانی و روحانی اذیت دی جارہی ہے۔ اس فہرست میں ہمارا ملک بھی پیش پیش ہے۔ اسی اسلاموفوبیا کے نام پر ہمارے ملک میں بھی ریاستی سرپرستی میں اسلام مخالف سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
’بھارت میں اسلاموفوبیا‘ کا لفظ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں، محسوس ہوتا کہ انسانی قدریں فنا ہوگئی ہیں۔
ملک میں مآب لینچینگ کے نام پر، گئوہتیا کے نام پر، جے شری رام کے جبراً نعروں کے نام پر، مساجد کی بے حرمتی کے نام پر، ناموسِ رسالت میں گستاخی کے نام پر آئے دن مسلمانوں کے جانوں کو ٹارگیٹ بنایا جارہا ہے۔ کورونا جہاد کا نام دے کر مسلمانوں کو حراساں کرنا، رہائشی بستیوں میں مسلمانوں کے آنے پر پابندی لگانا۔ ایک مسلمان ڈیلوری بوائے کو مسلمان ہونے کی بنیاد پر دروازے سے لوٹانا۔ ہسپتال میں مسلم مریضوں کے لیے الگ وارڈ بنانا۔ جامیہ ملیہ کے طلبا کو غداری، قتل اور شر پسندی کے الزامات لگا کر گرفتار کیا جانا۔ مسلمانوں کے مال و املاک کو برباد کیا جانا۔ یہ سب واقعات اسلاموفوبیا کے زہریلے مواد کے خطرناک اثرات کے نتیجے میں ہی پنپتے ہیں۔
اسلاموفوبیا کے نتیجے میں ہمارے ملک میں مسلمانوں کو مزید پولرائزیشن اور پسماندگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اسکارف یا نقاب جیسے مسلمانوں کے مذہبی و روایتی لباس استعمال کرنے کی پاداش میں مسلم طالبات کو اسکول اور کالجز کی کلاسوں میں بیٹھنے نہیں دیا جارہا ہے کیونکہ وہ اسلام کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ہمارے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ روزگار اور تعلیم کے میدانوں میں علانیہ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔
ملک میں مسلم و اسلام دشمنی اور نفرت و تعصب کی خطرناک ذہنیت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، آر ایس ایس کی ہندوتوا وادی پالیسی پر عمل پیرا بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور حکومت میں مسلمانوں کو مختلف حیلے بہانوں کی آڑ میں نفرت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جب کہ کسی مذہب کے ماننے والوں کا احترام اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔
سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف کورونا سے متعلق فیک نیوز یعنی غلط معلومات کی ایک لہر چل پڑی تھی۔ بھارتی ویب سائٹ ’اسکرول ان‘ نے اپنی رپورٹ میں مسلمان مخالف ایسی 69 جھوٹی وڈیوز کی نشاندہی کی ہے، جس میں مسلمانوں کو بھارت میں کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی گئی ہے، جس کا میڈیا اسکینر نامی تنظیم نے سراغ لگایا۔
ملک کی مودی سرکار کو اسلاموفوبیا کے حوالے سے اپنے نامناسب عزائم پر غور و فکر کرنا چاہیے اور ملکی و عالمی امن کو داؤ پر نہیں لگانا چاہئے۔ مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں پر ظلم کی حوصلہ افزائی کے ساتھ مودی سرکار نے امن کو سنگین صورتحال سے دوچار کیا ہے۔ اسلاموفوبیا ذہنوں میں کس طرح سرائیت کرگیا ہے اس کی چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں، بی جے پی کے ترجمان اکثر ٹی وی چینلوں اور عوامی جلسوں میں فیض احمد فیض کی نظم کے ایک مصرعے پر بحث و مباحثہ میں اس بات کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ’’بس نام رہے گا اللّٰہ کا‘ کی جگہ پر رام، کرشن یا ہندو دیوی دیوتاؤں کا نام کیوں نہیں۔ یہ ہیں خطرناک اثرات جو اسلاموفوبیا کے نتیجے میں ذہنوں میں مرتب ہورہے ہیں۔ پوری دنیا میں مسلمانوں پر حملوں کا اصل محرک اسلاموفوبیا ہی ہے۔
• ادب اور اسلاموفوبیا:
اس کے علاوہ بعض اسلام دشمن عناصر نے اپنی تصانیف کے ذریعہ بھی اسلاموفوبیا کو کافی حد تک فروغ دیا ہے۔ مغربی مفکرین، اسکالرس اور ادیبوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو اسلاموفوبیا کی تشہیر بڑی تیزی سے کررہے ہیں۔ حتی کہ مغربی ادیبوں نے جو ادب تحریر کیا ہے وہ بھی مسلمانوں کے خلاف ہے۔ مغربی و یورپی ممالک اور پوری دنیا کے تقریباً تمام عصبیت کے شکار ممالک میں لاتعداد کتابیں و کتابچے، پیمپلیٹ و فولڈرس، ویب سائٹس، سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز، بلاگس، مختلف ایپلیکیشنز، تصاویر اور عوام کے ذاتی پبلیکیشنز ہیں جو اسلاموفوبیا کے ذمہ دار ہیں۔
مسلمانوں کو اپنے تشخص کو صحیح طور پر اجاگر کرنے کے لیے ایثار و قربانی کے جذبے کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ اپنے عمومی مفہوم میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے منفی تاثرات کا حامل ہے جو بعض مغربی عناصر کے ادب و ابلاغ کے ذریعے شدت کے ساتھ آشکار ہوا ہے جیسا کہ کئی کتب اور ابلاغ کے مواد میں قرآن پاک کی تضحیک کی گئی اور نامناسب الفاظ میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض مستشرقین افراد نے تحریروں کے ذریعہ شعائر اللّٰہ و شعائر اسلام٬ اسلامی قوانین٬ رحمت العالمین خاتم النبیینﷺ کی صاف و پاک اور شفاف زندگی٬ اسوہ حسنہﷺ، صحابہ کرامؓ اور دیگر مقدس ہستیوں کا مذاق اڑایا ہے۔
باطل قوتیں اسلام اور اس کے پیروکاروں کو شک کی نگاہوں سے دیکھتی ہے۔ ان کو اپنے مدمقابل سمجھتی ہے، اپنے آپ کو اعلی اور دوسروں کو بدتر اور کم تر سمجھنا اسلاموفوبیا کا اہم حصہ ہے۔ اسلاموفوبیا ہی کے نتیجے میں ادب اور آزادئ اظہارِ رائے کے نام پر تحقیر آمیز خاکے اور تہمت آمیز فلمیں، رسول اللّٰہﷺ اور مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا کر اسلام کی شبیہ کو مسلسل اور منصوبہ بند پلان کے تحت بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ڈیٹ الگاری اپنی اسلام مخالف شاعری کے ذریعے اٹلی میں بہت مشہور ہوا۔ متنازعہ پینٹنگ "آخری فیصلہ" کو گوئٹے نے اٹلی میں 15/ صدی میں متعارف کروایا۔ اس پینٹنگ میں اس خبیث نے حضور کے کردار کو بھرپور بگاڑنے کی کوشش کی۔ 20/صدی میں جے آلسی نے اسلام اور قرآن کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے۔ امریکہ میں رابرٹ سپنسر (Robert Sponsor) کی کتابیں بڑے پیمانے پر پڑھی جارہی ہیں، کیونکہ اس کی کتابوں میں اسلام، قرآن اور محمدﷺ کی سیرت کو انتہائی ہتک آمیز اور بداخلاقی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سر مانٹگمری اور ٹائن بی اور دیگر مصنفوں و ادیبوں نے بھی اسی طرح کے کام کئے ہیں۔ اسلاموفوبیا کا شکار ٹائن بی نے تو یہاں تک کہہ دیا :
"Muhammad (PBUH) failed as a prophet but succeeded as statesman.
اسلاموفوبیا کی وباء میں مبتلا ہونے والوں کے نزدیک اصل ہدف اسلامی تہذیب، اسلامی شناخت اور اسلامی ادب ہی رہا ہے۔ جس کا اظہار مارکو پپیرولینی نے کیا، کہتا ہے کہ ’’یورپ کے متعدد ملکوں میں یہ رائے تیزی سے بن رہی ہے کہ اگر مسلمان اپنی تہذیب و شناخت کو نمایاں کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو انہیں اسلام اور مسلمانوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے‘‘۔
• ذرائع ابلاغ اور اسلاموفوبیا:
ذرائع ابلاغ اسلاموفوبیا کو شہ اور تقویت دینے میں اپنا اہم رول ادا کر رہا ہے۔ 9/11 کے بعد میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مواد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کے بڑے اخباری اداروں اے بی سی اور سی بی ایس میں یہ اضافہ 80 فیصد کے قریب ہے، جب کہ فاکس ٹی وی میں یہ اضافہ 60 فیصد کے قریب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جو مسلمانوں کو بنیاد پرست، جنونی، انتہاپسند، دہشتگرد اور وحشی کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ہمیں معلوم ہے کہ ذرائع ابلاغ کو باطل کے مذہبی، سیاسی و معاشی ایجنڈا کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے اس لیے اسلاموفوبیا کو فروغ دینے کا کام ذرائع ابلاغ کو سونپ دیا گیا۔ حکومتوں کے ہمقدم ذرائع ابلاغ اسلاموفوبیا کو پھیلانے اور فروغ دینے میں سرگرم عمل ہیں۔ سرگرم عمل کیا ایک اہم کردار ادا کررہا ہے۔
ذرائع ابلاغ اسلاموفوبیا کو فروغ دینے کے لیے صرف منفی پروپیگنڈہ پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جانبدارانہ اور نازیبا زبان بھی استعمال کرتا ہے۔ یہ سب کچھ مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ دراصل ذرائع ابلاغ خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا یا سوشل میڈیا ہو، سب کے سب اس طریقہ پر نفرت اور تنگ نظری کی ایک عمارت تعمیر کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے سے دنیا میں اسلاموفوبیا کو تقویت پہنچتی ہے۔
ذرائع ابلاغ نے اسلام کے خلاف واقعات کو پھیلانے میں بہت اہم اور منفی کردار ادا کیا۔ اسلاموفوبیا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے اور جس طرح لوہا لوہے کو کاٹتا ہے بالکل اسی طرح ذرائع ابلاغ ہی اسلام کے خوف کو دور کرنے کے لیے اور مسلمانوں کے اعزاز کو برقرار رکھنے کے لیے بہت مفید ہتھیار ثابت ہوسکتا ہے۔ چونکہ میڈیا لوگوں کی رائے بناتا ہے اور ہر قسم کے حالات و واقعات سے آگاہ کرتا ہے۔ لہذا میڈیا اسلاموفوبیا کے خلاف لڑنے میں بہت مفید ہتھیار کا کام کرسکتا ہے۔
ذرائع ابلاغ نے اسلاموفوبیا کے نام پر معاشرہ کو مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضاء بنانے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ 2012ء میں تحقیر آمیز فلم Innocence of Muslims کو بنانا اور پھر براڈ کاسٹ کرانا اسلاموفوبیا ہی کی ایک شکل ہے۔
اسلاموفوبیا لاکھوں کروڑوں افراد کے رویوں میں تبدیلی لاچکا ہے۔ اب وہ مسلمانوں کو دشمن کی نظر سے دیکھتا ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب بھی دنیا کے ایک دور دراز کونے میں کوئی معمولی سا واقعہ پیش آتا ہے تو ذرائع ابلاغ دنیا کے باشندوں میں اسلاموفوبیا کے جذبات اُبھارنے کے لیے ان واقعات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس سلسلے میں رد عمل کے طور پر اُن مسلمان خواتین پر ہاتھ اُٹھایا جاتاہے جنہوں نے حجاب پہنا ہو۔ مسلمان مردوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مساجد پر حملوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان سب واقعات کا ذمہ دار یقیناً پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا ہے۔ اسلاموفوبیا کو غذا فراہم کرانے کے لئے اسلام کے خلاف نفرت و جھوٹ کو ہؤا دینا قومی اور بین الاقوامی میڈیا کا وطیرہ بن گیا ہے۔ بہرحال میڈیا کی ان زہر افشانیوں کا سدباب و تدارک کرنے کے لیے ایک مضبوط لائحہ عمل ہی اس عفریت کا سر کچل سکتا ہے۔
• اسلاموفوبیا کا سدباب:
اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے سدباب کے لیے موثر اقدام کرنے ہونگے۔ کیونکہ اسلاموفوبیا کی عالمی وباء اپنی انتہا پر پہنچ گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل گٹیرس نے دورہ سعودی عرب کے موقع پر اسلاموفوبیا کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ اسلاموفوبیا کے باعث دنیا بھر میں مسلم اقلیتیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ اسلاموفوبیا کے باعث پرامن اور بردبار دنیا کا مستقبل خطرے میں ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ متعدد ملکوں میں مسلمانوں اور اسلامی تہذیب کے بارے میں خوف، عناد، تعصب، منفی طرزِ فکر اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ ان کے سدباب کے لئے ایک مضبوط لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔
عالم انسانیت کو قدرے سنجیدگی اور غیر جانبداری کھلے ذہن کے ساتھ اسلام، اسلامی تعلیمات اور عظیم پیغمبر محمدﷺ کی سیرت طیبہ کا جائزہ لینا ہوگا۔ اس کے لئے عالمی سطح سے ملکی سطح تک راہیں ہموار کرنی ہوگی۔
شعائر اللّٰہ اور شعائر اسلام کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے کبھی کبھی مسلمان اُن چیزوں کے خلاف اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ رد عمل پُر تشدد بھی ہوتا ہے جس کو بہانہ بنا کر کہا جاتا ہیں کہ ہمارے معاشرے اور تہذیب کو مسلمانوں اور ان کے عقائد سے خطرہ ہے۔ یہ طرز عمل اسلاموفوبیا کو فروغ دینے کا سبب بنتا ہے۔
پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی وجہ سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور اس کے خلاف مسلمانوں کے ردعمل کو ان کی انتہا پسندی سمجھا جاتا ہے۔ مغرب میں بعض لوگ قصداً رسول پاکﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں لیکن اکثریت اس سے لاعلم ہے٬ ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ حضرت محمدﷺ ہمارے لیے کتنے عزت اور تکریم والے پیغمبر ہیں۔
گزشتہ برس امریکہ میں ایک معروف غیر سرکاری تنظیم نے امریکہ میں 3000 افراد سے سروے کیا اور پوچھا کہ اسلاموفوبیا کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس کے جواب میں 57 فیصد امریکیوں نے کہا، اس پر ہماری کوئی رائے نہیں ہے جب کہ 36 فیصد کی رائے میں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے، جبکہ باقی نے منفی جواب دیئے۔ اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی ذہن یا تو پروپیگنڈہ کے زیر اثر یا سیاسی انتہا پسند عناصر کے نعروں کے زیر اثر فیصلہ کررہا ہے اس کو اپنی ذہنی روش بدلنا ہوگی۔ اگر مغرب منفی سوچ لے کر آگے بڑھے گا تو جواب میں منفی رجحان ہی سامنے آئے گا۔ اسلام کے متعلق مثبت فکر و نظر کو استوار کرنا ہوگا۔ اس کے لئے اسلام پسندوں کو اپنی ذمہ داری بحسن و خوبی انجام دینی ہوگی۔
26 ستمبر 2018ء کو یورپی پارلیمان نے برسلز میں انسداد اسلاموفوبیا ٹول کٹ کا اجرا کیا اور مختلف حکومتوں، سماجی تنظیموں، میڈیا اور دیگر قانون بنانے والوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس قدم کا مقصد اسلامو فوبیا سے لڑنا اور اسے بڑھتے اثرات کو ختم کرنا تھا۔
سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ایک مثبت انداز میں پریشر کریئٹ کیا جائے جس کی وجہ سے وہ مجبور ہو جائیں اور اسلاموفوبیا سے متعلق زہریلا مواد ہٹانے کی وہ ادارے پیش قدمی کریں۔
اسلاموفوبیا کے فروغ کے لئے باطل قوتوں کے پاس جو بھی ذرائع و وسائل ہیں اس پر کاری ضربیں لگانا امت مسلمہ کا اہم فریضہ ہے۔ اسلامی شعائر و اسلامی قوانین، اسلامی تہذیب و تمدن، اسلامی ثقافت و شناخت، نبی کریمﷺ کا اسوہ، صحابہ کرامؓ کی زندگی، حجاب و صنف نازک کا اسلام میں مقام و مرتبہ اور خصوصاً جہاد فی سبیل اللّٰہ اور قتال و قصاص سے آگاہی کے دروازے کھولنے ہونگے۔ اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کی بنیاد پر اسلاموفوبیا جیسی عالمی وباء کو پھیلنے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں ہمیں اس کی بیج کنی کرنا ہوگی۔ اسلام کے محبت ٬ برداشت٬ امن ٬ بھائی چارہ اور صلح و جہاد کا آفاقی پیغام دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کیلئے صحابہ کرامؓ کی فکری اور عملی جدوجہد کو زندہ کرنا ہوگا۔
(20.06.2021)
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment