جنّت نظیر وادیٔ کشمیر ، جہنم زار

         جنّت نظیر وادیٔ کشمیر ، جہنم زار 
                      (حصہ اوّل)

             بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

          ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
                +919422724040

 وادیٔ کشمیر جنّت نظیر، جہنم زار میں تبدیل ہوچکی ہے، جہاں فوجی محاصرہ یا لاک ڈاؤن کو 56؍ دن سے زیادہ گذر گئے ہیں، 5؍اگست کے آئینی ترمیم کے اقدام سے قبل جو سخت کرفیو علاقے میں نافذ کیا گیا تھا وہ اب تک مسلسل مسلط ہے۔ جموں کشمیر میں گذشتہ کئی دہائیوں سے 7؍ لاکھ سے زائد فوج کی موجودگی کے باوجود مزید10؍ ہزار سے زیادہ فورس بھجوائی گئی ہے، جوکہ ایک تشویش ناک عمل ہے۔ 
  پوری کشمیری قیادت کے ساتھ ایک بڑی تعداد عام کشمیریوںکی جیلوں میں یا پھر گھروں میں نظر بند ہیں۔ بے بس کشمیری مسلمانوں کونہ عید کی نماز ادا کرنے دی گئی ، نہ سنت ابراہیمی پر عمل پیرا ہونے دیا گیا۔ عام نمازوں کی باجماعت ادائیگی تو ایک جانب نمازِ جمعہ تک کی ادائیگی کے لئے گھروں سے نکلنے نہیں دیا جارہا ہے۔ پوری وادی حراستی مرکز میں بدل دی گئی ہے۔ گھروں میں نظر بند شہری سنگین غذائی بحران سے دوچار ہیں، اشیائے ضروریہ کی شدید قلّت ہے۔ ہزاروں ایسے بیمار ہیں جن کے لئے دوائیاں دستیاب ہیں، نہ طبیب و معالج تک رسائی ممکن ہے۔ ذرائع ابلاغ، مواصلات کا نظام ،انٹرنیٹ ، ٹیلی فون اور بجلی و گیس تک کے کنکشن منقطع کیے جاچکے ہیں۔اس طویل عرصے میں کرفیو کے باعث گھر میں نظر بند بے بس وبے کس کشمیری باشندے جس اذیت ناک صورتِ حال سے دوچار ہیںاس صورتحال کو یہاں دور بیٹھ کر کا اندازہ لگانا آسان نہیں ۔ ؎
اُڑالی طوطیوں نے، قمریوں نے، عندلیبوں نے
چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میری
  بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہر دس نہتے کشمیری باشندوں پر ایک مسلح سنگین بردار فوجی، well sophisticated arms and amunitionکے ساتھ مسلط ہے۔ کئی ہزارسے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ کئی ہزار سے زائد نامعلوم اور اجتماعی قبریں دریافت ہوچکی ہیں، جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان میں وہ بدنصیب دفن ہیں جنہیں فوج نے گھروں میں سے اٹھا کر غائب کردیا تھا۔ ان کے علاوہ کئی ہزار بچے یتیم ہوچکے ہیں۔ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں پر کلسٹر بم پھینکا گیا۔ مسلسل ظلم و ستم ، کشیدگی اور تناؤ کے سبب 49؍ فیصد بالغ کشمیری شہری دماغی امراض کے شکار ہوچکے ہیں۔ بے گناہ کشمیریوں پر مظالم کی فہرست بہت طویل ہے۔ عزت مآب ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی آبروریزی اور بے حرمتی اور نوجوانوں کو پیلٹ گنوں کے ذریعے بینائی سے محروم کرنا اور حراستی مراکز میں اذیت کوشی روز مرہ کے معمولات میں شامل ہیں۔ خواتین کی ایک سماجی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ جموں کشمیر کے حالات بے حد خراب ہیں، 51؍ دنوں میں 13؍ ہزار بچے غائب ہیں۔ ظلم کی یہ سیاہ رات طویل سے طویل تر ہوتی جارہی ہے۔
 عورتوں ، بچوں، بچیوں اور بوڑھوں کے حوالے سے انسانیت سوز مظالم کی جو تصاویر سامنے آرہی ہیں وہ لوگوں میں مزید غصّے اور نفرت کوجنم دینے کا سبب بن رہی ہیں، اور لوگوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ کشمیر میں مودی حکومت واقعی ظلم و زیادتی کا ننگا ناچ کر رہی ہے۔صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ کشمیر کے ممتاز رہنما سیّد علی شاہ گیلانی جیسا صابر و شاکر اور جرأت مندانسان بھی چیخ چیخ کر ظلم و ستم کی انتہا اور دنیا کی بے حسی کا نوحہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ انہوں نے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ مودی حکومت وادی میں نسل کش آپریشن شروع کرنے والی ہے۔آج جب کہ کشمیر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے مگر مجال ہے ہمارے نام نہاد مسلم قائدین و رہنما اور ملّی جماعتوں کی کہ اس مسئلہ پر کچھ لب کشائی کریں۔کسی کو ملک کی سا لمیت کی فکر ہے، کسی کو قومی اتحاد ویک جہتی اور امن و امان کی، کسی کو اپنے دعوتی کام میں ضرب لگنے کی۔
 عربی کی ایک برمحل رباعی اور اس کااردو ترجمہ درجِ ذیل ہے۔
واذا ترکت وأخاک تأکلہُ ألذئاب
فاعلم بأنک یا أخاہُ سِّتستطاب
ویحییٔ دَورُکَ بعدہُ فیْ لخظۃٍ
ان لم یجئکَ ألذئب تنھشک الکلاب
ترجمہ : اگر تم اپنے بھائی کو اس حال میں چھوڑ دو کہ اس کو بھیڑیے کھا جائیں، تو یقین کرو کہ بھیڑیے جلد ہی تمہیں بھی کھا جائیں گے۔اس کے بعد ایک لمحہ میں تمہاری باری آنے والی ہے، اگر تمہارے پاس بھیڑیا نہیں آیا تو کتّے ہی تمہیں نوچ کھائیں گے۔

آرٹیکل 370اور 35۔اے کیا ہے؟ 
 5؍اگست کی صبح وزیر داخلہ امیت شاہ نے راجیہ سبھا میں جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کا بل پیش کر دیا اور اس پر بحث مکمل ہونے سے پہلے ہی صدر جمہوریہ ’’رام ناتھ کووند ‘‘نے جموں و کشمیر حکومت کی ’’رضا مندی‘‘ سے صدارتی آرڈیننس جاری کرکے بھارتی آئین کے دفعہ 370 کو بیک جنبش قلم کالعدم قرار دے دیا۔محبوبہ مفتی جیسی بول اٹھیں کہ’’ 1947ء میں دو قومی نظریہ مسترد کرکے کشمیری قیادت نے بھارت سے الحاق کا جو فیصلہ کیا تھا وہ آج غلط ثابت ہوا۔‘‘
 بھارت کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ کشمیر کو بھارتی آئین میں دیئے جانے والے خصوصی درجے اور اختیارات کو ختم کر رہی ہے، صدارتی حکم نامے کے ذریعے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا گیا ہے جس کے تحت جموں و کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گی۔ ریاست جموں و کشمیر کی جگہ مرکز کے زیرِ انتظام دو علاقے بن جائیںگے جن میں سے ایک کا نام جموں و کشمیر اور دوسرے کا لداخ ہوگا اور ان دونوں علاقوں کا انتظام و انصرام لیفٹینٹ گورنر چلائیں گے۔جموں کشمیر میں قانون ساز اسمبلی ہوگی تاہم لداخ میں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔ آخر یہ دفعہ 370 ہے کیا؟؟؟
 اقوام متحدہ کی قرار داد پر عمل درآمد کا تاثر دینے کے لئے دستاویز وابستگی یا Instrument of Accession کے حوالے سے ایک صدارتی حکم کے ذریعے ہندوستانی آئین کے باب 21میں دفعہ 370 کااندراج ہوا، جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت اور اس کی اسمبلی کو مکمل خود مختاری عطاء کی گئی۔ یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے دستاویزِ وابستگی پر دستخط کے ساتھ اس وقت یعنی 1927ءسے 1932ء کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو 1954ء میں ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کر لیا گیا تھا۔ اس آئینی شق کے تحت جموں و کشمیر کے قدیم باشندوں کے لئے خصوصی حقوق اور استحقاق کا تعین کرنے کا اختیار ریاستی قانون ساز اسمبلی کو حاصل ہوا۔
 حالات کے بدلتے جموں کے پنڈتوں نے ہندوؤں کو کشمیر آنے کی دعوت دی تاکہ ریفرنڈم سے پہلے یہاں ہندوؤں کے تناسب کو بڑھایا جاسکے۔ اس مقصد کے لئے باہر سے کشمیر آنے والوں کو ریاستی ملازمتیں اور سیاحتی صنعت میں سرمایہ کاری کے لئے پر کشش مراعات دی گئیں۔ جس کے نتیجہ میں کشمیر میں فسادات پھوٹ پڑے ، فوج نے کشمیریوں کی مزاحمت کو کچلنے کے لئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ۔ لیکن وحشیانہ تشدد کشمیریوں کو دبانے میں ناکام رہا۔ جس کی وجہ سے ’’کشمیر چلو‘‘ تحریک معطل ہوگئی۔ حالات کا رخ دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نہروکی سفارش پر ہندوستان کے صدر راجند ر پرشاد نے 14؍ مئی 1954ء کو ایک صدارتی فرمان کے ذریعے ہندوستانی آئین کی دفعہ 370 میں ترمیم کرکے ایک ذیلی شق دفعہ 35-A کے اندراج کا حکم دیا، جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو مزید مستحکم کردیاگیا۔ 
  آئین کے آرٹیکل 35-Aکے تحت بھارت کشمیر میں زمین اور دوسری غیر منقولہ جائیداد خریدنے، سرکاری نوکریوں اور وظائف، ریاستی اسمبلی کے لئے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق صرف اس کے مستقل باشندوں کو حاصل رہے گا۔ یہ شق روزِ اوّل سے متعصب قوم پرستوں کو کھٹک رہی تھی اور کئی مرتبہ اسے منسوخ کرانے کی کوشش کی گئی، لیکن ہر بار کشمیریوں کے شدید رد عمل کی بنا پر اس کی تنسیخ معطل کر دی گئی۔اب آرٹیکل 35-Aکو ختم کرکے لاکھوں ہندوؤں کو کشمیر میں آباد کرنے اور مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کے منصوبے کا آغاز کر دیاگیا ہے۔کشمیریوں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر بھارت کے آئین میں موجود آرٹیکل 35-A اور 370کی حفاظتی دیوار گر گئی تو وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہو جائیں گے کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیر مسلم آباد کار یہاں بس جائیں گے جو ان کی زمینوں ، وسائل اور روزگار پر قابض ہو جائیں گے۔
  بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما پی چدم برم نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کی منسوخی کو تاریخی غلطی قرار دیا ہے۔اور کہا کہ ’’بھارت کی آنے والی نسلیں اس غلطی کو محسوس کریں گی جو آج پارلیمان میں کی جارہی ہے۔ ‘‘
 اے جی نورانی کا کہنا تھا کہ ’’حکومت نے کشمیر کو تقسیم کر دیا ہے جو کہ جن سنگھ کے بانی سیاما پرساد مکھرجی کا خواب تھا۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’’جموں اور کشمیر کو ایک ساتھ رکھنے کا مقصدچند لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنا ہے دراصل ان کی نیت شروع ہی سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنا تھی۔‘‘ آرٹیکل35-A کو ختم کیے جانے پر انہوںنے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس کے کشمیر پر برے اثرات مرتب ہوںگے کیونکہ یہ کشمیر کی خاص شناخت کو مکمل طورپر تباہ کر دے گا۔‘‘
 بھارتی مؤقف کی ہمنوا جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے تو برملا یہ اعلان بھی کردیا کہ ’’ان کے بڑوں نے بھارت کے مؤقف کی حمایت کرکے اور ان سے خیر کی توقع باندھ کر غلطی کی تھی‘‘۔سری نگر کے میئر جنید عظیم مٹو یہ ٹویٹ کرنے پر کیوں مجبور ہوئے کہ’ کیا ہم سب محصور ہیں؟ کیا میئر بھی سکیوریٹی کے لئے خطرہ ہے؟ کیا ہم پوری طرح سے پولس ریاست میںتبدیل ہوچکے ہیں؟ اس پس منظر میں ہمیں محبوبہ مفتی ، ششی تھرور، غلام نبی آزاد اور اس طرح کے لوگوں کے بیانوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ کشمیر کی سرکار نواز قیادت کی گرفتاری نے بھی بھارت کے حکمرانوںکو مزید بے نقاب کردیا ہے کہ جو ملک اپنے حامیوں کو بھی مخالفین کی طرح ایک ہی لاٹھی سے ہانک رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ خرابی دوسرے میں نہیں خود اس ملک کی پالیسیوں میں ہے۔
 آپ کے علم ہوگا کہ کشمیر کو خصوصی شناخت دینے کی کھل کر مخالفت کرنے والوں میں سب سے نمایاں نام جن سنگھ کے بانی اور بنگال سے تعلق رکھنے والے کانگریسی لیڈر سیاما پرساد مکھرجی کا تھا۔ سیاما پرساد نے اعلان کیا تھاکہ ’’ایک دیش میںدو پردھان( دو وزیر اعظم ) ، دو وھان (دو دستور)، دو نشان (دو پرچم) نہیں چلیںگے‘‘۔ متعصب ہندتوا وادی آج اسی بوئے ہوئے بیج کی فصلیں کاٹ رہی ہیں۔ (جاری ہے)

         جنّت نظیر وادیٔ کشمیر ، جہنم زار 
                      (حصہ دوم)

             بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

          ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
                +919422724040

میڈیا اور مسئلہ کشمیر!
  بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن اور ایمنسٹی انٹر نیشنل جیسے عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق انسانی حقوق کے مسلمہ چارٹر کی ایک ایک شق کی صریحاً خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ مگر مودی سرکار کسی بھی قسم کی مذمت و ملامت کی پروا کئے بغیر پوری ڈھٹائی سے انسانی حقوق کے اداروں کو وادی میں جانے کی اجازت دینے سے انکاری ہے، پھر بھی پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور عالمی ضمیر گہری نیند سویا ہوا ہے۔سوشل میڈیا کی اس نئی دنیا نے لوگوں کے سامنے اپنے مؤقف کو پیش کرنے کے لئے بہت سے نئے مواقع کو پیدا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں نوجوان نسل اپنا مقدمہ اس سوشل میڈیا کی مدد سے دنیا میں اجاگر کرنے میں پوری طرح کامیاب نظر آرہی ہیں۔ 
 کشمیر میںاس وقت کرفیو نافذ ہے اور کرفیو کے خاتمے کے لئے عالمی دباؤ بھی ہے، مگر مودی اور اس کے حواریوں کو ڈر اس بات کا ہے کہ کرفیو کے خاتمے کے بعد وہاں جو صورتِ حال پنپے گی اس کو کیسے کنٹرول کیا جاسکے گا! کشمیریوں پر جاری مظالم پر پردہ ڈالنے کی حکومتی کوششیں ناکام ہورہی ہیں،اوراس ناکامی کی ایک وجہ عالمی میڈیا بھی ہے ۔ ہمیں عالمی میڈیا کو داد دینی ہوگی کہ اس نے 5؍ اگست کے بعد سے کشمیر کی جو صورتحال دکھائی ہے اس نے دنیا کے ضمیر کو یقینی طورپر جھنجوڑاہے۔ عالمی میڈیا حقائق سے پردہ اُٹھا رہاہے۔ امریکی نشریاتی ادارے CNNنے اپنی رپورٹ میں جھوٹے دعووں کا پول کھولتے ہوئے بتایا ہے کہ’’ بھارت ’سب اچھا ہے ‘کا راگ الاپ رہا ہے لیکن حقائق یکسر مختلف ہیں‘‘۔ جرمن میڈیا کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ’’ کشمیر کی خواتین کو بھارتی فوج کے ہاتھوں عصمت دری کا خدشہ ہے، خاص کر دیہی علاقوں میں یہ خطرات زیادہ ہیں‘‘۔
  بین الاقوامی میڈیا عالمی برادری کو باور کروارہا ہے کہ ان کی کشمیر کی صورتِ حال پر کمزور پالیسی یا خاموشی مجرمانہ غفلت سے کم نہیں۔اقوام متحدہ ہو، یورپی یونین ہو یا ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹیں تمام لوگ یہ صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں کررہاہے۔جس کی گونج اب پورے عالم میں سنائی دے رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان آوازوں کی گونج بھارت کے اہلِ دانش یا انسانی حقوق کے کارکنوں میں بھی سننے کو مل رہی ہے۔بھارت کی انسانی حقوق کی معروف عالمی راہنما صحافی و کالم نگار ارون دھتی رائے نے اپنے ایک مضمون میں کشمیر کی صورت حال پر چار اہم نکات اُٹھائے ہیں جو قابلِ غور ہیں:
 (اول) وادیٔ کشمیر کو بھارت کے ریاستی اقدامات نے جیل بنا دیا ہے اور اگر وادی سے تشدد پھوٹا، تو تشدد کی یہ لہر ملک کے چاروں اطراف پھیلے گی۔ 
(دوم) مودی حکومت کے حالیہ اقدامات نے بارود کے ڈھیر میں ایک ایسی چنگاری بھڑکادی ہے جو وہاں کے پر امن سیاسی حل کے خلاف ہے۔ 
(سوم) بی جے پی اور آر ایس ایس ہرگز رتے دن کے ساتھ اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کریں گی اور جلد ہی یہ اس مقام پر پہنچ جائیں گی جہاں یہ خود ریاست بن جائیں گی۔ 
(چہارم) بڑی تیزی سے بھارت میں ہندوتوا کی سیاست اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے نتیجے میں بھارتی ریاست پر گمبھیر اثرات پڑیں گے، اور بھارتی ریاستی پالیسیوں میںہندو انتہا پسندی سیکولر ریاست کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اورمودی حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنی انتہا پسند پالیسیوں کو بنیاد بنا کر معاشرے کے لبرل، سیکولر اور دانشور طبقے کو بے دخل کرکے دیوار سے لگائے۔
 امریکہ کے اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک ہندو مصنف کپل کومی ریڈی لکھتے ہیں ’’کشمیر کا بحران ’علاقے‘ سے متعلق نہیں۔ اس کا تعلق ’’اسلام‘‘ پر ہندوؤں کی ’’فتح‘‘ سے ہے--------کشمیر پر مودی کا کنٹرول اس نظریاتی بھوک یا اس نظریاتی تمنا کا اظہار ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست ’’ہندو ریاست‘‘ کے آگے ’’surrender ‘‘ کر دے-------- آگے لکھتے ہیں کہ مودی نے کشمیر کے ساتھ ظلم کوانضمام یا Integration قرار دیا ہے۔ اس غلطی کو درست نہ کیا گیا تو یہ بھارت کے اتحاد کے خاتمے کا آغاز ہوگا‘‘۔ (واشنگٹن پوسٹ۔ 16؍اگست 2019 ء)
 بھارت کی معروف صحافی برکھا دت نےTweetکیا ہے کہ’’ 80سال سے زیادہ عمر کے فاروق عبداللہ پر پی ایس اے لگانا مکمل طورپر احمقانہ ہے۔ وہ ایک مہینہ سے زیادہ عرصے سے بغیر کسی وضاحت کے نظر بند ہیں‘‘۔

عالمی سطح پر سفارتی محاذ کے سپاہی:
 حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے محصور عوام کے بعد اگر کوئی جرأت اور پامردی کے ساتھ میدان میں کھڑا ہوکر حالات کا مقابلہ کررہا ہے، تو یہ وہ برطانیہ و امریکہ اور دیگر یورپین ممالک میں رہنے والے کشمیر کے تارکینِ وطن اور وہاں کے انصاف پسند لوگ ہیں جو اس وقت اپنی تمام تر صلاحیتیں کشمیر کے کاز کے لئے وقف کیے ہوئے ہیں۔ ان شاء اللہ !تاریخ میں یہ کردار سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ یہی کشمیری تارکینِ وطن، مسئلہ کشمیر کے عالمی سطح پر سفارتی محاذ کے سپاہی ہیں۔ مغربی ملکوں میں غمِ روزگار میںمبتلا لوگوں کا یوں وقت نکال کر دور دراز سے شہروں تک پہنچنا اور وہاں گھنٹوں گزارنا بہت بڑا جہاد ہے۔
 اس قربانی اور ایثار کو وہی سمجھ سکتا ہے جو اس دنیا کی مصروف زندگی سے واقف ہو۔جنہوں نے ایک متعصب حکمراں کو ’’ٹیررسٹ ٹیررسٹ ، مودی ٹیررسٹ‘‘ کے نعروں سے مسئلہ کشمیر کو دوسرے ممالک میں زندہ کر دیا ہے۔مودی نے جس کشمیر کے حق کو غصب کرکے اپنی طاقت میںبدلنے کی کوشش کی ہے وہ کشمیر اس طرح کی جدوجہد کے نتیجے میں، اس کے لئے ایک عارضہ بن رہا ہے۔ 
 مسئلہ کشمیر کے معاملے میں مودی حکومت کی سب سے بڑی پسپائی یہی ہے کہ اس کا مقصد، بالخصوص انسانی حقوق کی پامالی، کے تناظر میں اب عالمی برادری سننے کو تیار نہیں ہے۔ دنیا کے چاروں اطراف سے بھارتی مظالم کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور عالمی رائے عامہ کی بیداری کے بعد اب لڑائی عالمی طاقتوں اور عالمی حکمران طبقے کے دلوں پر دستک دے رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی ایک ایسا بنیادی نکتہ ہے جس پر عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے، کیونکہ عالمی برادری اور اس سے جڑے ادارے اپنے آپ کو انسانی حقوق کے محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی رائے عامہ کا دباؤ عالمی طاقتوں پر بڑھ رہا ہے کہ وہ مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے کے بجائے کشمیر میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ بات بھی صحیح ثابت ہورہی ہے کہ حالیہ اقدامات نے مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت کو بہت زیادہ طاقت دی ہے اور ماضی میں جو ممالک خود کو کشمیر کی سیاست سے علیحدہ رکھتے تھے آج وہ بھی کشمیر کی صورتِ حال پر خاموش نہیں۔ بظاہر تو لگتا ہے کہ نریندر مودی کے اقدامات سے مسئلہ کشمیر حل ہوگیا ہے، لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ جو کچھ اب کشمیر میں ہورہا ہے اس پر عالمی برادری کی خاموشی یا محض بیان بازی کی سیاست لمبے عرصے تک نہیں رہ سکے گی۔ 
 واضح رہے کہ ان سار ی تگ و دو کے نتیجہ میں ایک امریکی عدالت نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کے دیگر ارکان کو کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر 21روزمیں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی تھی۔ امریکی ریاست ہیوسٹن، ٹیکساس کی ضلعی عدالت نے یہ اقدام کشمیرخالصتان ریفرنڈم فرنٹ کی جانب سے دائر درخواست پر اٹھایا۔مذکورہ تنظیم نے شکایت کی کہ مودی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر پر مودی مسلسل خاموش ہیں اور ان کی خاموشی نے اس بات کو تقویت دی ہے کہ وہ بھی اب مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اب مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت بڑھ رہی ہے اور چین ، روس، ترکی، ملائشیا، برطانیہ سبھی اس مسئلے کے حل پر زور دے رہے ہیں اور اگر عالمی طاقتیں اسی انداز میں مودی حکومت پر اپنا دباؤ بڑھاتی رہیں تو مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

کشمیر اور افغان کاتعلق اور تاریخ:
 جنوبی ایشیا میں کشمیر اور افغان امن عمل اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔کشمیر اور افغانستان ان دنوں سفارتی سرگرمیوں کا محور بنا ہوا ہے۔ جنوبی ایشیا میں اس وقت ایسا بحران سر اُٹھا چکا ہے جسے حل کیے بغیر دنیا میں امن ممکن نہیں رہے گا۔ کشمیر میں بھارت اور افغانستان میںامریکہ کی ہٹ دھرمی تیزی سے دنیا کے امن کے لئے خطرہ بن رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں بے ضرورت امریکی پڑاؤ کاخرچہ 19؍کروڑ 18؍ لاکھ ڈالر یومیہ یا 70؍ ارب سالانہ ہے۔بہرحال افغانستان پر زیادہ گفتگو نہ کرتے ہوئے ،مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہیں۔
 مسئلہ کشمیر کا بھی افغانستان کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے اور اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتاچلتاہے کہ افغانیوں اور برطانوی فوج کی پہلی لڑائی میں راجا گلاب سنگھ نے برطانیہ کی مد د کی۔ پھر جب سکھوں اور برطانوی فوج کی 1845ءمیں لڑائی ہوئی تو راجا گلاب سنگھ نے سکھوں کے ساتھ غداری کی اور اس کے انعام میں اگلے ہی سال برطانوی گورنر جنرل ہیری ہارڈنگز نے معاہدۂ امرتسر کے ذریعے ریاست جموں و کشمیر محض 75؍ لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض گلاب سنگھ کو فروخت کردی۔ گلاب سنگھ نے سری نگر پر قبضے کے لئے جموں سے فوج بھیجی تو شدید مزاحمت ہوئی، جس پر ہارڈنگز نے اس کی مدد کی۔ یہ کشمیر فروش انگریز گورنر جنرل بعد ازاں برطانوی فوج کا کمانڈر انچیف اور فیلڈ مارشل بنا دیا گیا۔
  1947ء میں ایک اور انگریز گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے گلاب سنگھ کے خاندان کے ساتھ ملی بھگت کرکے ریاست جموں و کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کروادیا۔ اس الحاق کے خلاف مسلح بغاوت ہوئی اور بھارت و پاکستان میں جنگ شروع ہوگئی۔ جب بھارت کو کشمیر ہاتھ سے نکلتا نظر آیا تو وہ بھاگم بھاگ کرکے اقوام متحدہ پہنچا اور سیز فائر کرادیا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ پر اعتماد کرکے کشمیر کی آزادی کا یہ پہلا موقع کھو دیا۔ اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے 13؍اگست 1948ء اور 5؍ جنوری 1949ء کی قرار دادیں منظور کیں، جن کے تحت کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق دیا گیا، لیکن جب بھارت کا جموں و کشمیر پر فوجی قبضہ مستحکم ہوگیا تو اس نے ان قرار دادوں کو فراموش کردیا۔ 
 1962ءمیں چین اور بھارت میں جنگ شروع ہوئی۔ چین نے ایوب خان کو پیغام بھیجا کہ بھارتی فوج چین کی سرحد پراکھٹی ہوگئی ہے، کشمیر خالی ہے اسے آزاد کرالو، لیکن امریکن صدر جان ایف کینیڈی اور برطانیہ کے وزیر اعظم ہیرلڈ میکملن نے ایوب خان کو کشمیر پر حملے سے باز رکھا۔ امریکی CIA کے ایک سابق افسر بروس ریڈل نے اپنی کتاب JFK's Forgotten Crises میں پوری تفصیل بیان کی ہے کہ کیسے پاکستان کو کشمیر پر حملے سے روکا گیا۔ اس دوران 22؍ دسمبر 1962ء کو پنڈت نہرو نے واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو میں کہاکہ سیز فائر لائن میں معمولی رد و بدل کرکے اسے سرحد تسلیم کر لیتے ہیں۔ جنوری 1963ءمیں اس تجویز پر پاکستان اور بھارت کے مذاکرات ہوئے، پاکستان نے کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا اور مذاکرات ناکام ہوگئے۔ اس کے بعد ایوب خان کے ذریعے آپریشن جبرالٹر کی منظوری۔ 
 1989ءمیں افغانستان سے روسی فوج کی واپسی کے بعد کشمیر میں بھی مسلح مزاحمت کا آغاز ہوا۔ 2007ء میں پرویز مشرف اور من موہن سنگھ مسئلہ کشمیر کے اس حل پر متفق ہوگئے جو پہلی دفعہ اوون ڈکسن نے پیش کیا تھا اور بعد ازاں نہرو نے بھی یہی فارمولا پیش کیاتھا کہ لائن آف کنٹرول کو مستقل بارڈر تسلیم کرلیا جائے۔ حریت رہنما علی شاہ گیلانی نے اس فارمولے کو کشمیریوں سے غداری قرار دے کر مسترد کردیا۔5؍ اگست 2019ء کے بعد سے بھارت کی حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں ان سے لگتا ہے کہ مشرف او رمن موہن سنگھ میں طے پانے والے فارمولے پر طاقت کے ذریعے عمل درآمد کیا جارہاہے۔ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا۔ راج ناتھ سنگھ کی دھمکی کو محض سیاسی بڑھک نہ سمجھا جائے۔ 
  مودی سرکار حالات پر اپنی گرفت قائم کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے مگر بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی اور کشمیر میں اسرائیل اسٹائل کے حکمت کار ’’اجیت ڈوول ‘‘کا یہ کہنا کہ کشمیر میں پابندیوں میں کمی پاکستان کے رویے پر منحصر ہے۔ اجیت ڈوول کے اس اندازِ فکر پر خود بھارت کے دانا و بینا حلقوں نے سوال اُٹھایا ہے کہ کیا اب بھارت کشمیر کو اپنی پالیسی کے بجائے پاکستان کے زاویے سے دیکھ رہا ہے؟
یہ حقیقت راز نہیں کہ بھارت اسرائیل تعلقات بہت گہرے ہوچکے ہیں اور اسرائیل بھارت کو یہ بتاتا رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا ’’آسان حل‘‘ یہ ہے کہ جس طرح ہم نے فلسطین میں فلسطینیوں کو اقلیت میں ڈھالا، تم بھی کشمیر کے مسلمانوں کو اقلیت میں ڈھال دو۔ جس طرح ہم نے فلسطینی علاقوں پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرکے وہاں یہودیوں کی ناجائز بستیاں آباد کیں اسی طرح تم بھی کشمیر میں زمین پر قبضے کرکے ہندوؤں کی ناجائز بستیاں تعمیر کرو۔ (جاری ہے)

         جنّت نظیر وادیٔ کشمیر ، جہنم زار 
              (حصہ سوم و آخری قسط)

             بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

          ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
                +919422724040

کیا مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات میں ہے؟
 مسئلہ کشمیر پر جنگیں بھی ہو چکی ہیں اور کئی مرتبہ مذاکرات بھی ہوئے ہیں، لیکن یہ مسئلہ آج تک حل نہ ہوسکا ہے! آج پوری دنیا بھارت اور پاکستان پر زور دے رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کیئے جائیں، تو کیا واقعی مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات میں پنہاں ہے؟ جب کہ ہمارے ملک کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ بڑے تکبرانہ انداز میں کہے چکے ہیں کہ ’ہاں مذاکرات ہوں گے لیکن آزاد کشمیر پر ہوں گے۔‘‘ 
 یہ حقیقت عیاں ہوگئی ہے کہ بھارت امریکہ کا اتحادی بن گیا ہے، مگر ڈونلڈ ٹرمپ کو آئندہ انتخابات میں فتح یاب ہونے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ افغانستان میں امریکہ کی ’’شکست‘‘ کو ’’فتح‘‘ میں بدلیں اور افغانستان سے امریکی فوجیوں کے اس انخلاء کو ممکن بنائیں جس کا وعدہ انہوں نے گذشتہ انتخابی مہم کے دوران امریکی عوام سے کیا تھا۔ چنانچہ منافقت کے طور پر پاکستان کی پیٹھ ٹھونکنے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر کے مسئلے کے حل کے حوالے سے ثالثی پر آمادگی کا اعلان کیا اور یہ انکشاف فرمایا کہ نریندر مودی ان سے خود کشمیر کے سلسلے میں ثالثانہ کردار ادا کرنے پر بات کرچکے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ کشمیر کے معاملے میں امریکہ کی نیت پاکستان سے صرف ’’متعہ‘‘ کرنے کی ہے، ’’نکاح‘‘ کرنے کی نہیں ہے۔
 جنوبی ایشیاء اور سرزمینِ کشمیر میں ایک نئے کھیل کی ابتداء ہوئی ہے۔ کشمکش، کشیدگی، شدت پسندی، رد عمل، انتقام، مزاحمت، پراکسی جنگوں کا ایک کھیل مودی نے نئی نسلوں کو منتقل کردیا ہے۔ مودی سرکار نے کشمیر کو ہضم کرنے کے لئے حتمی وار کرلیا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ مودی نواز سرکار اسے ہضم بھی کرپائے گی؟ ہرگزرتے دن کے ساتھ سرکار کشمیر پر کنٹرول کا اخلاقی جواز کھوتی چلی جارہی ہے۔ مودی سرکار اب ایک قابض قوت بن گئی ہے جس کے ساتھ کوئی آئینی ، قانونی اور تسلیم و رضا کا رشتہ باقی نہیں رہا ہے۔ دونوں کے درمیان اب طاقت کا رشتہ ہے اور اس تعلق کو قائم رکھنے کے لئے طاقت کو استعمال کیا جارہا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے ثالثی کی حیثیت کم نہیں ہوئی بلکہ ثالثی کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ آج کے دور میں عالمی تنازعات کو حل کرنے کا بہترین راستہ مذاکرات کو سمجھا جاتاہے، لیکن دوحہ میں سپر پاور امریکہ اور افغان طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات نے دنیا بھر کی محکوم اقوام کویہ سبق دیا ہے کہ مذاکرات اُسی وقت آگے بڑھتے ہیں جب کمزور کے ہاتھ میں بھی اسلحہ ہو اور وہ مرنے مارنے پر اتر آئے۔
اصل مسئلہ اسلام ہے!!!
 اس وقت کشمیری جن حالات سے دوچار ہیں اس میں اُن کے لئے بیرونی کمک کے صرف دو امکانات ہیں۔ اوّل یہ کہ کوئی پڑوسی ان کی عملی مدد کرے۔ دوئم یہ کہ اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے ساتھ کوئی امن فوج وہاں تعینات ہو۔ آخر الذکر بات کا تو سرِ دست امکان نہیں۔ مسبب الاسباب اللّٰہ کی ذات ہے وہ ایسے حالات پیدا کر رہاہے کہ ان شاء اللّٰہ ! روشنی کی کوئی کرن نمودار ہوگی، پڑوس میں افغانستان میں سیاسی اتھل پتھل ہورہی ہے وہ جدوجہد بھی کشمیری عوام کے لئے کارگر ثابت ہو۔ کیونکہ میں نے اسی مضمون کے مندرجہ بالا ستور میں افغان اور کشمیر کے تاریخی مراسم کی طرف اسی لئے توجہ دلائی تھی۔
 اس وقت زبردست ماحول ہے اور مسئلہ کشمیر کو دنیا میں انسانی حقوق کی ایک بڑی پامالی کے طور پر پیش کرنا چاہئے۔ اس کے لئے اسلامی ممالک کو رائے عامہ کو بیدار کرنا ہوگا اور ریاستوں پر دباؤ بڑھانے کے لئے ڈپلومیسی کی جنگ کو طاقت دینی ہوگی، تاکہ اس کارڈ کی مدد سے مودی سرکار کو سیاسی طور پر کشمیر کی صورت حال پر تنہا کیا جائے ارو دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ انتہا پسندی اور انسانی حقوق کی پامالی کے کھیل کو بندکرے۔
 مودی سرکار کی منافقت عروج پر ہے، مسئلہ کشمیر اندرونی معاملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی ایشو بن گیا ہے، یہ مسئلہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے تحت حل ہونا چاہیے تھا، سرکار کشمیر کو کبھی اندرونی اورکبھی بین الاقوامی مسئلہ قرار دے کر خود کے لئے بھی پریشانی پیدا کر رہی ہے اور ساری دنیا کو Confuse کررہی ہے۔ سرکارنے جو قدم اُٹھا چکی ہے اس سے وہ عالمی سطح پر پھنسی ہوئی ہے، خطے کی صورتحال اور کشمیریوں کے جذبات کے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا، کیونکہ مسئلہ کشمیر ایک ایونٹ نہیں -------- جدوجہد ہے۔
 لوگ کہہ رہے ہیں کہ ’’کیا واقعی مودی اور اس کے نظریات نے کشمیر کو ہڑپ لیا ہے؟‘‘۔ دراصل کشمیر میں ایک قومی نظریے پر حملہ کرکے اسے ایک قومی نظریے میں ڈھالنے کی سازش کی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے مضمون میں بھی یہی بات کہی گئی ہے کہ اصل مسئلہ جغرافیہ یا علاقہ فتح کرنے کا نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ کہ ہندوؤں نے کشمیر میں اسلام کو فتح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اندرا گاندھی کی طرح مودی بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے ایک ہزار سال کی غلامی کا بدلہ لینا ہے۔ 
 عالمی منظر نامہ بتاتا رہا ہے کہ مسلمان ہر جگہ ایک قومی نظریے اور دو قومی نظریے کی کشمکش کا حصہ ہیں۔ 1990ء کی دہائی میں سربوں نے بوسنیا کے تین لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا۔ بوسنیا کے مسلمانوں کا صرف ایک جرم تھا، وہ لا الہٰ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ پر ایمان رکھتے تھے اور یورپ کے قلب میں بین الاقوامی اصولوں کے تحت اسلامی ریاست کے قیام کے لئے کوشاں تھے۔
  روس نے چیچنیا میں ہزاروں چیچن مسلمانوں کو قتل کر ڈالا اور چیچنیا کے دارلحکومت گروزنی کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ چیچنیا کے مسلمانوں کا جرم بھی یہی تھا کہ وہ لا الہٰ الا اللّٰہ سے وابستہ تھے اور دو قومی نظریے کے تحت چیچنیا کو اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ چین کے صوبے سنکیانگ کے مسلمانوں کا جرم بھی یہی ہے کہ وہ اپنے اسلامی تشخص پر اصرار کررہے ہیں اور اسلامی اصولوں کے تحت زندگی بسر کرنے کا حق مانگ رہے ہیں اور چین انہیں یہ حق دینے کے لئے تیار نہیں۔
  برما میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ روہنگیا مسلمان اپنی اسلامی شناخت سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں اور برما کے بدھ انہیں اس حق سے محروم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یورپ میں برقعے اور اسکارف پر پابندی لگائی جارہی ہے اور برما کے بدھ انہیں اس حق سے محروم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یورپ میں برقعے اور اسکارف پر پابندی لگائی جارہی ہے اور مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ یورپ میں رہنا ہے تو ’’ایک قوم‘‘ بن کر رہنا ہوگا اور برقع کو ترک کرکے ’’بکنی کلچر‘‘ کو اختیار کرنا ہوگا۔ 
فلسطینیوں کو 75سال سے ان کے اسلامی تشخص کی وجہ سے ہلاک کیا جارہا ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور پاکستان کا آئین اسلامی بھی ہے، مگر پاکستان کے فوجی اورسول حکمرانوں نے اسلام کو اسی طرح آئین میں قید کیا ہوا ہے جس طرح مودی سرکار نے کشمیر میں کرفیو لگا کر کشمیریوں کو گھروں میں بند کیا ہوا ہے۔ پاکستان کے حکمران اسلام کو آئین سے نکلنے ہی نہیں دیتے۔
 ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اسی اسلام کی وجہ سے وقت کی سپر پاور کو شکست دینا مسلمانوں کی تاریخ کا ’’معمول‘‘ ہے۔ مسلمانوں نے دو سپر پاورز کو حضرت عمرؓ کے زمانے میں منہ کے بل گرایا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ تاریخ کبھی دہرائی نہ جاسکے گی۔ مگر اسلام زندہ تھا، چنانچہ مسلمانوں نے 20؍ ویں صدی میں وقت کی ایک سپر پاور سوویت یونین کو افغانستان میں شکست سے دوچار کیا۔ دوسری سپرپاور امریکہ 21؍ ویں صدی کے سینے پر افغانستان میں منہ کے بل گری ہوئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اللّٰہ آگے بھی بڑے بڑے کام انہیں افغانیوں سے ہی لے لے۔
  امت مسلمہ جس نے اللّٰہ کا ہی ہو کر رہتے ہوئے وقت کی بڑی بڑی طاقتوں کو زیر کیا ہے۔ آج بھی ہمیں ’’صبغتہ اللّٰہ ‘‘یعنی اللّٰہ کا رنگ اختیار کرنا ہوگا، اسی میں ہماری کامرانی و فتح کا راز پنہاں ہے۔ ہمارے سامنے یہ بات بھی تر و تازہ رہے کہ امتِ مسلمہ ایک جسم کی مانند ہے۔ ہمیں امت کے ہر درد کو محسوس کرنا ہوگا۔
 اللّٰہ امت مسلمہ کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مدد بھی فرمائے اور ہماری عفّت مآب ماؤں و بہنوں کی عصمتوں کی حفاظت فرمائیں۔ اللّٰہ ایسے اسباب پیدا کردے کہ ہم بھی اپنی اس امت کے لئے کچھ کر سکیں۔ (آمین) ؎ 
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
                        (ختم شد)


Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam