"اپنے سے کم نعمت والے کو دیکھو"

"اپنے سے کم نعمت والے کو دیکھو"

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

مسعود محبوب خان

اسد اللّٰہ خان انگلش اسکول کے روحِ رواں، عزیز رفیق اسد اللّٰہ خان صاحب کے شولاپور کے مکان کی گیلری میں بیٹھا سامنے کی سڑک پر آنے جانے والوں کو دیکھ رہا تھا۔ اسی درمیان اللّٰہ رب العالمین نے ایک منظر دیکھایا جس نے زندگی کی حقیقت کو ایک حدیث کی روشنی کے ذریعے آشکار کروایا، دیکھا کے ایک غریب شخص بڑی برق رفتاری سے اپنی سائیکل سامنے کی ایک مصروف سڑک پر دوڑائے اپنی منزل مقصود کی جانب جارہا ہے۔ اتنی تمازت کی گرمی میں بالکل حشاش و بشاش، خوش و خرّم چہرے کے ساتھ آگے بڑھتے اس شخص کے لئے دعا نکلی کے اللّٰہ اس کی پریشانی اور مشکلوں کو آسان کردے۔!
دوسرے روز عمارت کی اسی گیلری میں بیٹھا قدرت کے خوبصورت مناظر سے محظوظ ہورہا تھا کہ یکایک ایک غریب اور ضعیف شخص پر نظریں مرکوز ہوگئی۔ وہ شخص جس کی پیٹھ پر دو بوریاں تھی جسے وہ لادے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا اور اچانک سڑک کے کنارے چھوڑ کر دوبارہ تیز رفتاری کے ساتھ پیچھے کی جانب چل پڑا، دل میں تجسس و تشویش ہوئی کی شاید کچھ گڑبڑ تو نہیں ہے، نگاہوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا دور سڑک کے ایک چوراہے پر وہ شخص رکا اور وہاں سڑک پر رکھی ایک بوری اٹھائی اور اپنی پیٹھ پر لاد کر چل پڑا، جہاں اس نے پہلے دو بوریاں چھوڑی تھیں وہاں نہ رکتے ہوئے اور آگے بڑھ گیا اور کچھ دیر بعد واپس آکر ان دوبوریوں کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔ اس پر بھی مجھے یہ محسوس ہوا کہ وہ شخص خوش تھا، شاید اس کی نگاہیں اپنے سے نیچے والے کو دیکھ رہی تھی۔!!
ان واقعات کو جب تحریر شکل میں لانے کے لئے بیٹھا لکھ رہا تھا کہ مزید ایک منظر اور نظر آیا کی ایک بندہ لوہے کی سلاخوں کے ایک بنڈل کو دور سے دھوپ میں پیدل کھینچتا ہوا آرہا ہے۔ شاید اس کی نگاہ بھی اپنے سے نیچے والے بندہ پر ہو!!!
تمام واقعات ذہن میں گردشیں کرنے لگے اور یکایک زبان سے جذبہ تشکر کے یہ الفاظ نکلے کی اے اللّٰہ! تیرا شکر و احسان ہے کہ تو نے بہت کچھ عطاء کیا ہے۔ ان واقعات کے پیشِ نظر اللّٰہ کے رسولﷺ  کی حدیث دل و دماغ پر دستک دینے لگی کہ:
 "حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” اپنے سے کم حیثیت والے کو دیکھو اپنے  سے زیادہ حیثیت والے پر نظر نہ رکھو ، بے شک  یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتوں کو حقیر نہ جانو۔“
اور بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ  ” جب تم میں سے کوئی شخص  کسی  ایسے بندے کو دیکھے جسے مال اور خوبصورتی میں اس پر فضیلت دی گئی ہو تو  چاہیے کہ اپنے سے  کم درجے والے کی طرف نظر کرے  ۔ “
 اس حدیث مبارکہ میں جو نصیحت کی گئی ہے وہ دنیاوی معاملات سے تعلق رکھتی ہے۔۔۔۔یہ ایک نہایت زبردست نسخہ ہے دل کی ہولناک بیماریوں سے بچنے کا اور قناعت کے حصول کا۔ دل کی بیماریوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ انسان ان میں نہ چاہتے ہوئے ‘ لا شعوری طور پر بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔۔۔اس حدیث میں اسی کا علاج موجود ہے۔ جسے زندہ واقعات کی روشنی میں سمجھنے کا ایک پیارا موقع میسر ہوا۔
اگر کوئی شخص دنیاوی معاملات میں اپنا موازنہ ایسے لوگوں سے کرے جو بظاہر اس سے اس حوالے سے زیادہ خوشحال معلوم ہوتے ہوں تو اس کا دہرانقصان ہے۔

اس کے دل میں اپنے خالق و مالک سے شکوہ پیدا ہو جائے گا۔ متعلقہ شخص سے حسد میں مبتلا ہو جائے گا۔ حدیث میں اس کا یہ علاج بتایا گیا ہے کہ ایسی صورتحال درپیش ہو تو اپنے سے اوپر والے کو دیکھنے کی بجائے اس شخص کی طرف توجہ کرو جو دنیاوی طور پر تم سے زیادہ آزمایا گیا ہو ۔۔۔اس کا دہرا فائدہ ہے۔
اس کا یہ بھی فائدہ ہے کہ جس حال میں اللّٰہ تعالی انسان کو رکھتا ہے ، جب وہ اپنے سے کم کو دیکھتا ہے تو اسی پر راضی ہو جاتا ہے، اور اپنی زندگی کے اسی دائرے سے جدوجہد جاری رکھتا ہے، یہ روش انسان کو آزمائشوں سے مقابلہ کرنا سیکھاتی ہے۔
اسلامی تاریخ میں ایک واقع  ہے کہ ایک شخص مسجد اس حال میں جارہے تھے کہ ان کے پاؤں کا جوتا گھسا ہوا تھا۔۔ ان کے دل میں اپنی اس حالت کی وجہ سے اللّٰہ سے شکوہ پیدا ہوا۔۔ مسجد کے پاس پہنچ کر انہوں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو دونوں پاؤں سے معذور تھا۔۔۔حدیث کے مصداق انہوں نے فوراً اس شخص سے عبرت پکڑی اور اپنے گذشتہ خیالات پر نادم ہوتے ہوئے اللّٰہ کے حضور رجوع کیا۔

تنگدست کی حالت پر غورو فکر کرو :

حدیثِ مذکور میں شکر گزر اری و زُہد  وقناعت اختیار کرنے  اور ناشکری سے بچنے کا  بہترین نسخہ بیان کیا گیاہے کہ جب اِنسان دنیاوی لحاظ سے اپنے سے بہتر  کسی شخص  کو دیکھے توچاہیے کہ اپنے سے کم حیثیت والے پر نظر کرلے   کہ یہ عمل ناشکری سے بچانے اورمقدر پر راضی رہنے میں اس کا معاون ثابت ہوگا ۔
اِمَام طَبرِیْ کا اس حدیث کے بارے میں تبصرہ یہ کہ ”یہ حدیث تمام بھلائیوں کی جامع ہے کیونکہ کوئی تنگ دست شخص جب اپنے سے کم حیثیت والے شخص کو دیکھے گا اور اس کے بارے میں غور وفکر کرے گا تو اس پر اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتیں آشکار ہو جائیں گی اور اسے معلوم ہو جائے گا کہ اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اسے جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے بہت سے لوگ محروم ہیں۔ اس طرح غور و فکر کرنے سے وہ نعمتوں پر شکر ادا کرے گا اور ناشکری سے  بچے گا۔“ (اِمَام طَبرِیْ )

مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی نے حدیث مبارکہ کا مطلب یہ سمجھا کہ: ”کہ بندہ دُنیاوی اُمور میں اپنے سے کم درجے والے پر اور دینی اُمور میں اپنے سے اعلیٰ ، عبادت میں بہترین اور اِستقامت یافتہ شخص پرنظر رکھے۔ حدیث پاک میں ہے :”اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس بندے پر رحم فرماتا ہے جس نے دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو دیکھ کر اللّٰہ تعالیٰ کی حمد کی اور اُس کا شکر بجا لایا اور اُس آدمی پر بھی رحم فرماتا ہے جس نے دِین کے معاملے میں اپنے سے بلند کو دیکھا تو اللّٰہ تعالیٰ کی حمد کی اور عبادت میں بھرپور کوشش کی۔“

مُلَّا عَلِی قَارِی فرماتے ہیں :” حدیثِ مذکور اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ معاشرے کہ اکثر افراد معتدل حالت پر ہوتے ہیں، اگر انسان اپنے ارد گرد کے ماحول میں نظر دوڑائے اور اپنے سے نیچے طبقے والوں کی طرف دیکھے تو اسے اس بات کا احساس ہوگا کہ وہ بہت اچھی حالت میں ہے۔ اگر بالفرض کوئی ایسا انسان ہے جسے تمام لوگوں میں اپنے اوپر کوئی دکھائی نہیں دیتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے سے نیچے والوں کی طرف نہ دیکھے کہ اس صورت میں یہ غرور و تکبر ، خودپسندی اور فخر کرنے کے فعل بد میں مبتلا ہو سکتا ہے لہٰذا اس پر لازم ہے کہ یہ ہمیشہ ان نعمتوں پر اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر ادا کرے اور بالفرض اگر کوئی شخص یہ گمان کرے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ فقر و تنگدستی کا شکار ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر ادا کرے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اسے کثرت مال کے ذریعے دنیا کے فتنے میں مبتلا نہیں فرمایا ۔ اسی لیے علامہ شبلی جب کسی دنیادار کو دیکھتے تو مالِ دنیا کے وبال سے بچنے کے لیے فرماتے : ”اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْاَلُكَ الْعَفُوَّ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْعُقْبٰى" یعنی اے اللّٰہ!  میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں درگزر اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔“
اللّٰہ سے دعا ہے کہ اللّٰہ ہر وہ چیز سے بچائے جو دل میں تکبر اور ریاکاری کو پروان چڑھاتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam