"کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے"

"کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے"

مسعود محبوب خان (ممبئی)

ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ یہ دنیا بھر میں لوگوں کے لیے ایک مشکل وقت ہے۔ کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، انفیکشنز اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور کئی شہر یہاں تک کہ ممالک بھی بند ہو رہے ہیں اور لوگوں کو زبردستی تنہائی میں بھیجا جا رہا ہے۔
احتیاطی تدابیر و تدارک کے اہم ہتھیار کونسے ہوں؟ اور کورونا وائرس انسانی جسم کو کس طرح نقصان پہنچاتا ہے؟ اس طرح کے کئی سوالات پر غور و غوض نہ کرتے ہوئے، ساتھ ہی ساتھ اپنی نااہلی و منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے، اندھ وشواش کی مثال قائم کرتے ہوئے، کورونا وائرس جیسے مہلک و مضر وبائی مرض کا سامنا کرنے کے لئے تالی اور تھالیوں کے شور شرابے کو کرفیو جیسے ماحول میں پیدا کیا گیا، کیا واقعی اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ عمل سے حکومتیں چلتی ہیں؟ جب کہ ہمیں ان حکومتوں سے جہاں اس مضر وبا نے کہرام مچا دیا ہے ان سے سبق سیکھ کر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت تھی۔ لیکن ہم نے اپنی جہالت کا مظاہرہ کرنے میں زریں مواقع کو شاید ہاتھ سے گنوا دیا۔ حکومتی سطح پر جس جہالت کو ہوا دی گئی اس سے ساری عوام واقف ہوگئی ہے۔ حالانکہ حکومتوں کا کام عوام کے دل و دماغ سے ڈر و خوف کو نکال کر مسائل کے حل کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ہم نے اس احتجاجی کرفیو میں حکومتی کارندوں کے ذریعہ مزید ڈد و خوف کو پیدا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

جب کہ کرفیو والے دن بھی باطل قوتوں کی تنظیموں نے اپنے دفتر بند نہیں رکھے اور نہ ہی اپنی پریڈ ملتوی کروائی....دوران کرفیو محلوں و علاقوں میں ریلی کی شکل میں، گھروں کی چھتوں اور بالکنیوں میں ایک شور پیٹ کر ایک عجیب و غریب فضا بنائی گئی، ان ساری حرکتوں سے آخر پیغام کیا دیا جارہا ہے، یہ سمجھنے سے عقل تو بہت پیچھے رھ گئی۔ دوران کرفیو، ایک عجیب و غریب قسم کا رقص و سرور سر بازار و سر محلہ دیکھنے کو ملا، جسے دیکھ کر یہ احساس بیدار ہوا کہ یہ افسوس و رنج کے عالم میں تالی و تھالی بجائی جا رہی ہے یا کسی جشن کو منانے کے لئے۔ اس سے یہ بات تو عیاں ہوگئی کہ ایک بڑی اکثریت نظام باطل کی ہمنوائی کے لئے آنکھ بند کرکے پیروی کرنے کو تیار ہے۔ وبائی امراض سے نمٹنے کا اگر یہی طریقہ ہے تو ہمیں افسوس ہے ایسے طریقے پر!!!

ساتھ ہی ساتھ یہ مناظر بھی نظروں کے سامنے سے گزرے جسے دیکھ کر حکومت کا دوہرا معیار بھی سمجھ میں آیا۔ پنویل کی ایک مسجد کے امام و مؤذن کو مسجد میں نماز کی ادائیگی کے جرم میں پابند سلاسل کیا گیا۔ ملک کی راجدھانی دہلی میں کالے قانون کی مخالفت میں احتجاجی آئیکان شاہین باغ میں دوران کرفیو دو کیمیکل لوکل میڈ بموں سے حملہ، آخر کس بات کی علامت ہے۔ راویر کی ایک مسجد میں شب برات کی نماز کی ادائیگی کو لے کر ہنگامہ کھڑا کیا گیا اور مسجد و محلے کے کئی گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ کیا اب بھی ہمیں نہیں محسوس ہوتا کے ان پوری مکارانہ سازشوں اور شاطرانہ کوشیشوں کے پیچھے کوئی دماغ کارفرما ہے۔

حکومتی سطح پر بحث یہ بھی چل رہی ہے کہ شہروں کو لاک ڈاؤن کیا جانا چاہیے۔ کرفیو امپوز کرواکر اور لاک ڈاؤن کرواکر کس کا فائدہ ہوا ہے اس پر بھی غور و غوض کی ضرورت ہے؟ لوگوں کو لاک ڈاؤن کرکے گھروں میں محصور کردینا کوئی گہری شازش کا اشارہ ہی دیتی ہے؟ اگر لاک ڈاؤن کیا جاتا ہے تو اس صورتحال میں غریب لوگوں کا کیا ہوگا؟ لاک ڈاؤن کااعلان کر دیا جائے تو روزانہ محنت و مزدوری کرنے والے گھروں میں بند ہوجائیں گے، وہ اپنےگھروں میں بیوی بچوں کو کیسے اور کیا کھلائیں گے؟ لاک ڈاؤن سے پہلے ایسے وسائل پیدا کئے جائیں جس سے روزانہ محنت و مشقت کرنے والے تمام لوگوں کو گھروں میں خوراک پہنچا سکیں؟ ایک بڑی آبادی کا حصّہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ کل میں نے بھی اپنی آنکھوں سے شہر اورنگ آباد میں ایسے ہی کربناک مناظر دیکھیں ہیں جسے بیان کرنا مشکل ہورہا ہے۔ کیوں وبائی امراض کی آڑ میں غریبوں اور بے بسوں کی ہائے لے رہے ہو۔ خدارا اپنے سیاسی و جنونی اقتدار کے لئے کمزوروں، مجبوروں اور ناداروں کو تختہ مشق نہ بنائیں۔
ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:
’عجیب درد ہے جس کی دوا ہے تنہائی
بقائے شہر ہے اب شہر کے اجڑنے میں۔‘

یہ وائرس Severe Acute Respiratory Syndrone سے تعلق رکھنے والا کورونا وائرس ٹو ہے، جو کوویڈ 19 نامی بیماری کا سبب بنتا ہے،عرفِ عام میں لوگ جسے کورونا وائرس کے نام سے جانتے ہیں۔ کورونا وائرس ایک ایسا مرض ہے جو انہیں پر مؤثر ہوتا ہے جن کا مدافعتی نظام ( immunity system) مضبوط نہیں ہوتا ہے۔ اب عوام کو روزانہ کی بنیادی خوراکی سے دور کرکے کیا ہم اس کے جسم کو کمزور کرواکر بیماریوں کے لئے لقمہ تر تو نہیں بنا رہے ہیں۔ جس کا فائدہ ملٹی نیشنل دواساز کمپنیاں ہی اٹھائیں گی، حقیقت میں اس طبیعیاتی جنگ کا فائدہ بھی انہیں ہی ہورہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ادویات کے معاملے ہیں امریکیوں کی پیشکش حیران کن ہے، ہوسکتا ہے امریکا کی جانب سے مہیا کردہ دوائیں بیماری کو بڑھانے کا ذریعہ ہوں۔ دوسری جانب اس بارےمیں شبہ ہے کہ کوروناوائرس امریکا نے تخلیق کیا، ہم امریکا اور اس کی ہمنوا کمپنیوں پر اعتبار نہیں کرسکتے۔
ایسے ماحول میں یہ بات بھی بڑی خوش آئند ہے کہ ایک بڑی دواساز کمپنی Cipla جس کا مالک الحمدللّٰہ! مسلم ہے جس نے داوا کیا ہے کہ اس وبا کی دوا بنا کر مفت تقسیم کی جائے گی۔ لیکن عصبیت کی عینک لگا کر دیکھنے والوں کو یہ خبر نظر نہیں آتی۔

وبائی بیماری کے خاتمے کا سوال، اس کے شروع ہونے سے منسلک ہے۔ اگر وہ تیزی سے شروع ہوئے ہوں گے، تو، انجام برا ہوگا،اگر وہ معمولی رفتار سے شروع ہوئے ہوں گے، تو ٹھیک ہونے کے امکانات زیادہ ہیں اور اس دور میں،ہر طرح سے یہ سب کچھ اپنے طور پر ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔
23.03.2020
(اورنگ آباد)

   ‏•••═══ ༻✿༺═══ •••

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam