ستم کی آشنا تھی وہ سبھی کے دل دکھا گئی (بہن لبنیٰ خان)

 کی آشنا تھی وہ
         سبھی کے دل دکھا گئی
                    (بہن لبنیٰ خان)

               بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللّٰہ کا فرمان ہے کہ:
’’ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ‘‘(سورہ واقعہ)
(ہم نے تم میں موت مقرر کردی۔)
 دوسری جگہ ارشاد ہے:
’’كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِ- ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ‘‘ (سورہ عنکبوت)
(ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے پھر ہماری ہی طرف تم پھیرے جاؤگے۔)

موت نام ہے روح کا بدن سے تعلق ختم ہونے کا اور انسان کا دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرنے کا۔ یہ بات ہم سبھی جانتے ہیں کہ بھائی بہن کا رشتہ مضبوط اور انمول رشتہ ہے۔ بھائی بہن ایک دوسرے کی خوشی ہو یا غم، ایک دوسرے کا ساتھ دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔یہ ایک دوسرے کے راز دار ہوتے ہیں۔
 یہ رشتہ اللّٰہ تعالیٰ کا بخشا ہوا نایاب اور قیمتی تحفہ ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ بھائی بہن کے پیار میں صرف اتنا فرق ہے کی رولا کر جو منا لے وہ بھائی ہے اور رولا کر خود رو پڑے وہ بہن ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ بہن سے سب سے زیادہ لڑنے والا بھی بھائی ہی ہوتا ہے اور بہن کی رخصتی پر سب سے زیادہ رونے والا بھی بھائی ہی ہوتا ہے۔
 بھائی کو کچھ ہو جائے تو بہن رونے لگتی ہے جبکہ بہن پر کوئی آفت آجائے تو بھائی بے قرار ہوجاتا ہے۔ بچپن میں بھائی اور بہن آپس میں لڑتے اور جھگڑتے رہتے ہیں اور پھر کچھ دیر بعد دونوں گھل مل بھی جاتے ہیں۔ بچپن میں بھائی بہن کی لڑائیوں سے گھر کی رونق برقرار رہتی ہے ان بچپن کی لڑائیوں کو پیار ومحبت کی علامت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اس رشتے کا آغاز پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے اور زندگی کی سانسوں کے ساتھ جوڑ کر چلتے ہوئے تا حیات رہتا ہے۔ اس کی ڈور سانسوں کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ٹوٹتی ہے ۔

23 اپریل 1975 کو بمبئی میں پیدا ہوئی لبنیٰ خان نے اپنی ابتدائی تعلیم انجمن خیر الاسلام (وکرولی، بمبئی) سے حاصل کی۔ دسویں اور بارہویں میں میتھس سبجیکٹ میں مہاراشٹر میں نمایاں نمبرات حاصل کئے۔  کالج کے لئے مہاراشٹر کالج آف سائنس اور بعد میں مولانا آزاد کالج (اورنگ آباد) میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے M.Sc Mathematics میں پوسٹ گریجویشن کے امتحانات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔  خلافت کالج سے بی ایڈ کیا، اور ایم ایڈ اورنگ آباد سے کیا۔ 

الحمد اللّٰہ! Mathematics اور Science پڑھانے میں بہترین قابلیت و مہارت رکھتی تھی۔ اسکول میں پرنسپل کا کہنا تھا کہ لبنیٰ کی وجہ سے مجھے میتھس اور سائنس میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی۔ دنیا سے رحلت فرمانے والے روز ہی ہمیں اس بات کا علم ہوا کہ اس کا تقرر سپروائزر / پرنسپل کے عہدے کے لئے ہوا تھا، جو آئندہ academic year کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ اس نے معاشرے میں اپنی قابلیت کی بنیاد پر اپنی شخصیت کا لوہا منوایا۔ انتقال کے وقت ہر آنے والے طالب علم کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب تھا۔ ہر آنکھیں اشک بار تھیں، دعاؤں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ تھا۔

پرانی یادیں نظروں کے سامنے جب بیدار ہوتی ہیں تو مجھے یاد آتا ہے ہم لوگ ایک دوسرے کے آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتے تھے، وہ کبھی بیمار ہوتی تو ہمارا سکون برباد ہوجاتا تھا، اللّٰہ سے اس کے حق میں دعائیہ کلمات ادا ہوتے رہتے۔ کسی وجہ سے اگر میں اداس ہوجاتا تو اس کا بار بار جواب نا ملنے تک پوچھتے رہنا بھائی کیا ہوا ہے پریشان و اداس کیوں ہو؟ واقعی بچپن دن بہت عجیب و غریب ہوتے ہیں، ان لمحات کی کھٹی میٹھی یادیں آنکھوں میں کبھی آنسو لاتی تو کبھی چہرے پر مسکراہٹ۔

میں نے بچپن سے لے کر انتقال تک لبنیٰ کو ہمیشہ حق و انصاف کے ساتھ معاملات کو حل کرتا ہوا پایا۔ مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے تھے اس وقت جو بھی چیز لائی جاتی ہم اس کے آگے کردیتے تھے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ وہ کسی بھی چیز کی تقسیم ہمیشہ ایمانداری و انصاف سے کیا کرتی تھیں۔ ہر وقت کسی بھی معاملے میں حق و انصاف اور اعتدال پسندی کا مظاہرہ کیا کرتی تھیں۔ بہت محنتی اور جفاکش تھیں۔

اورنگ آباد میں ایک یتیم و یسیر طالبات کے مدرسے کی بنا ڈالنے میں اس نے بنیادی پتھر کا رول ادا کیا، مدرسہ میں عصری علوم کے نصاب کے لئے انتھک محنت کی جس کے نتیجے میں ایک معیاری نصاب تیار کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ وقتاً فوقتاً اپنی قیمتی آراء سے مدرسہ کے ذمّہ داران کو مشورہ دیتی رہی۔ 2010 سے 2014 تک جب بھی اورنگ آباد آتی مدرسہ میں ویزیٹ کرتی تھیں اور اپنے مفید مشوروں سے نوازتی تھیں۔
لبنیٰ نے عملاً یہ سمجھایا کہ کار معلمی، کار پیمبری ہی ہے۔ اس نے کبھی بھی اپنے اس عظیم پیشہ کو کمانے کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ جو کمایا اسے بھی فی سبیل اللّٰہ میں طلباء و طالبات کے لئے ہی خرچ کیا۔

گھر پر انتقال کے تیسرے روز بعد بھی جب مہمانوں کا ایک تانتا بندھا رہا اس روز ایک شخص اپنے ساتھ ایک طالب علم کو ساتھ لائے، اس کے والد نے کہا میرا بیٹا انجینئرنگ کررہا ہے اور اس کے تعلیمی اخراجات لبنیٰ ٹیچر ادا کرتی تھیں۔ جب کہ وہ طالب علم لبنیٰ کے اسکول سے نہیں تھا!!! ایسے کئی کام تھے جسے وہ مسلسل انجام دیتی رہیں۔ 

بہن لبنیٰ کی قبر کے قریب دو بچے ایک قبر پر مٹی لیپ رہے تھے، کچھ دیر کے بعد جب ان سے وضو خانے پر ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے سوال کیا کہ بیٹا قبر کس کی ہے؟ بچوں نے کہا والد صاحب کی ہے۔ میں نے ان کے والد صاحب کے حق میں دعائیہ کلمات ادا کئے۔ بچے نے کہا لبنیٰ مس کا بھی انتقال ہوگیا ہے، میں نے پوچھا تم لبنیٰ ٹیچر کو جانتے کیسے ہو؟ اس نے کہا کہ جب میں پانچویں میں تھا تو وہ ہماری اسکول میں حساب پڑھانے آیا کرتی تھی، میں نے پوچھا کون سی اسکول میں؟ کہا میونسپلٹی اسکول میں، میں نے بچے سے کہا وہ تو پہلے روز سے ہی پٹیل ہائی اسکول میں پڑھاتی تھی۔ میونسپلٹی میں تو کبھی پڑھایا ہی نہیں۔
بچے نے کہا وہ وہاں پانچویں سے دسویں کے بچوں کو پڑھاتی تھیں اور غریب بچوں کی تعلیمی امداد بھی کیا کرتی تھیں۔

مجھے اس وقت احساس ہوا کہ میری بہن لبنیٰ نے خاموشی میں فی سبیل اللّٰہ میں کیا جانے والے کاموں کا نذرانہ اپنے ساتھ سمیٹ کر لے گئی ہے۔ ایسے ایسے کام جس کے بارے میں گھر کے لوگ بھی لاعلم تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ لبنیٰ کے ان اعمال کو شرفِ قبولیت عطاء فرمائے۔

ایسے ہی کئی بچیوں اور بیٹیوں کی معاشی مسائل کو حل کرنے کے لئے وہ ہمیشہ پیش پیش رہتی تھیں۔ جس کا علم ہمیں ہمیشہ گھر سے باہر کے افراد سے ہوتا تھا۔
فِی الرِّقَابِ کی مد میں بھی ہمیشہ آگے بڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ اپنی آمدنی کا ایک اچھا حصہ وہ فِی الرِّقَابِ اور  فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ پر صرف کرتی تھیں۔

بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لئے ہمشہ فکر مند بھی رہتیں، جس کے لئے مقامی سطح کے دینی و ملی سرگرمیاں انجام دینے والی تنظیموں کے اسلامی تربیتی پروگرامز میں اپنی اولاد کو دلچسپی کے ساتھ روانہ کرتی۔ آنے کے بعد معمول کے مطابق feedback بھی لیتی۔ بچوں کی روزانہ کی کارکردگیوں کا احتساب بھی لیتی۔

5 مارچ 2021 کو لبنیٰ خان مرض کی پریشانیوں، تکلیفوں اور درد کو جھیلتی ہوئی، اس دارفانی سے داربقاء کی طرف شہادت کے منصب پر فائز ہوتے ہوئے اپنے ربّ حقیقی سے جاملیں۔ إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

 کیونکہ یہ دنیا کی حقیقت  ہے کہ "ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کو دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا، وہ صحیح معنیٰ میں کامیاب ہوگیا اور یہ دنیاوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔ (آل عمران:185)۔"

اللّٰہ ازوجل! سے دُعا ہے کہ بہن لبنیٰ خان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما اور جو ظاہری پریشانی اس پر آئی تھی اس کو اس کی بلندی درجات کا ذریعہ بنا اور اس عارضی دنیاوی تکلیف کو بلندی درجات کا سبب بنا۔ اللّٰہ اس کی بال بال مغفرت فرمائے، جوارِ رحمت میں جگہ نصیب فرمائے۔ حسنات کو قبول فرمائے سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائے، قبر کی منزل آسان فرمائے اور اہل خانہ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہم تمام پر موت کی سختیاں آسان فرمائے۔ اللهم اغفر لها و ادخلها الجنة
🤲🏻 آمین ثم آمین یارب العالمین 🤲🏻

        موت سے کس کو رستگاری ہے 
        آج وہ، کل ہماری باری ہے

                (مسعود محبوب خان)
      ©•••═══ ༻م✿خ༺═══ •••©
 






Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam