طبقاتی نظام (وہ آگ جس نے مرے گلستاں کو پھونک دیا)

                     طبقاتی نظام
(وہ آگ جس نے مرے گلستاں کو پھونک دیا)

              بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

            ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
               09422724040

     لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللّٰہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزّت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقیناً اللّٰہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔ (الحجرات: 13)

     غیر مساواتی اور غیر طبقاتی اسلامی نظامِ معاشرت کے نتیجے میں لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوتے گئے۔ اسی فکر و نظر کی عکاسی کرتے ہوئے پنڈت سندر لال نے اصل حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھا ہے: "بنگال میں کپڑا بننے والے ہندو ذلیل اور ناپاک سمجھے جاتے تھے، اس وجہ سے ان لوگوں نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کرکے اپنی تمدنی سطح کو بلند کیا"۔ کیونکہ اسلام وہ مذہب ہے جہاں محمود و ایاز، غلام اور آقا ایک ہی صف میں صف بستہ ہوکر اپنی جبین نیاز اللّٰہ کے حضور پیش کرتے ہیں۔   ؏

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

     اسلام مساوات کا درس دیتا ہے۔ اسلام کے مطابق تمام انسانوں کے حقوق برابر ہیں، ان کا اپنا مقام و مرتبہ ہے اور ان کے لیے یکساں مواقع فراہم ہیں، کوئی شخص اپنے خاندان، رنگ و نسل، قبیلہ، زبان وغیرہ کی وجہ سے الگ نہیں ہے بلکہ سارے لوگ ایک ہی ہیں، اسلام لوگوں کے درمیان ان کی نسل، رنگ، لباس، زبان کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں کرتا، اگر فرق کرتا ہے تو بس ان کے تقوی اور پرہیزگاری کے اعتبار سے۔

     خطبہ حجتہ الوداع میں اللّٰہ کے رسولﷺ نے فرمایا "لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، آگاہ ہو جاؤ! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ، جیسا کہ ارشاد باری تعالىٰ ہے: "اللّٰہ تعالىٰ کے ہاں تم میں سے وہ شخص سب سے زیادہ معزز ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے"۔
؏۔
تہذیب کی شمعیں روشن کیں، اونٹوں کے چرانے والوں نے
کانٹوں کو گلوں کی قسمت دی، ذروں کے مقدر چمکائے

     اس کے برعکس آریہ ورت منووادی تحریکات کی بنیاد کا اصل محرک ہی برہمنوں کا ظلم و جبر پر مبنی ورن ویوستھا (वर्ण व्यवस्था) کا نظام و اقتدار قائم کرنا ہی رہا ہے۔ منووادیوں کا اصل مقصد بھارت کو ورن ویوستھا کے نظام میں تبدیل کرکے یہاں منوسمرتی (मनुस्मृति) کا قانون نافذ کرنا ہے۔ منوسمرتی اس لئے کہ ان کے پاس اس کے علاوہ باقاعدہ کوئی ضابطۂ حیات موجود ہی نہیں ہے۔ منوسمرتی کے قانون کی انفرادی اور معاشرتی زندگی کا یہ پورا نظام ورن آشرم یا ورن ویوستھا پر مبنی ہے۔ اس لیے ہندو قانون سے متعارف ہونے کے لیے سب سے پہلے ورن ویوستھا کے متعلق جاننا ضروری ہے۔ قدیم آریوں کے سناتن دھرم  (सनातन धर्म) یا ویدک دھرم (वैदिक धर्म) جسے آج ہندوازم کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔ جب کے ہندوستان میں 23 سے زیادہ مختلف زبانیں، 13 الگ الگ اسکرپٹ اور 720 سے زیادہ بولیاں (dialects) بولی جاتی ہیں۔

     آریہ ورت برہمنوں نے اقلیت میں ہوتے ہوئے ہندوستان کی بڑی اکثریت کو سازش، دھوکہ اور فریب کے ذریعے اپنے زیر تسلط رکھنے کے لئے ورن ویوستھا کا نظام کمزوروں پر مسلط کیا۔ برہمن سماج میں خود کو اعلیٰ، مقتدر اور مقدس مانتے ہیں۔ انہوں نے ہی مول نواسیوں اور بہوجن سماج کو ورن ویوستھا کے طبقاتی نظام میں مثلاً چھتریہ، ویشیہ، شودر، اتی شودر کئی ذاتوں میں تقسیم کر دیا۔ بھارت میں ’’مول نواسی‘‘ کل آبادی کا 70 فیصد ہیں اسی لیے وہ خود کو ’’بہوجن‘‘ کہلانا پسند کرتے ہیں۔ بہو یعنی بہت اور جن یعنی آبادی، مطلب ہے آبادی کا ایک وسیع حصہ۔ ورن آشرم یا ورن ویوستھا کی بنیاد منوسمرتی پر رکھی گئی۔ ورن کے لغوی معنی رنگ کے ہیں۔ اسی لئے معاشرے کو رنگ و نسل کی بنیاد پر چار طبقاتی نظام میں تقسیم کیا گیا ہے۔    

     دھارمک گرنتھوں، پوتھیوں، پستکوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہر شخص کو اپنی خوبی اور صلاحیت و اعمال کے مطابق خاص ورن میں جنم ملا ہے۔ ورن کے ساتھ چار آشرموں کو بھی جوڑا گیا ہے۔ یعنی فرد کی زندگی کو چار حصوں میں۔ برہم چریہ، گرہستھ، وان پرستھ اور سنیاس۔ ورن اور آشرم دونوں کو ملا کر ورن آشرم دھرم بھی کہا گیا ہے۔

     کہا یہ جاتا ہے کہ ورن ویوستھا کو پرجاپتی وِشو کرما نے وجود بخشا۔ ورن ویوستھا کی تخلیق وید کے ذریعہ ہوئی ہے۔ کیونکہ اسمرتیوں میں درج قوانین اور اصول و افکار ویدک تعلیمات کے عین مطابق ہیں۔ چنانچہ رگ وید باب 10: 90 میں ہے: "پرجاپتی (برہما) کے منھ سے برہمن پیدا ہوئے۔ اس کے ہاتھوں سے چھتری راجہ اور اس کی ٹانگوں سے عام آدمی یعنی ویش پیدا ہوا جو کاروبار میں مشغول رہتا ہے اور کم حیثیت شودروں نے اس کے پیروں سے جنم لیا"۔ اسی تدریج سے ان کے فرائض بھی متعین کیے ہیں۔ اس طرح قدرتی اور خدائی طور پر وجود میں آنے والی ورن ویوستھا میں ہر آدمی کو اپنے متعین فرائض و اعمال کو ہی کرنا ہے، یہی ایشور کا حکم ہے۔ ہر شخص کو اپنی خوبی اور صلاحیت و اعمال کے مطابق خاص ورن میں جنم ملا ہے۔

     منوسمرتی آخر ہے کیا؟ "منو" کا ترتیب دیا ہوا مجموعہ قوانین یا دھرم شاستر کو "منوسمرتی" کہا جاتا ہے۔ "سمرتی" (स्मृति) کے معنی محفوظ کے آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے "جسے یاد کیا گیا"۔ اسمرتیاں کل 18 ہیں، جس میں مشہور منو، یاگیہ، المیہ اور پراشر ہیں۔ اسمرتیوں کا زمانہ تصنیف و تدوین 100 ق م تا 500 ق م کے درمیان ہے ہندو فقہی مسائل کی کتابوں میں یہ سب سے زیادہ منظم طور پر مرتب کیا گیا ہے اس لیے ہندو قانون کی کتابوں میں اسمرتیوں کو سب سے زیادہ بنیادی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ وہ حقائق یا وہ یادیں جن کا ذکر رشیوں، مُنیوں اور علمائے ہنود نے شروتیوں (الہامی کتابوں) سے علوم مستنبط کرکے کیا۔ "شروتی" ہندو عقائد اور اعمال کی بنیادی کتابیں اور اس کے مستند مصادر ہیں۔ شروتی (مسموع) (श्रुति) کے معنیٰ "جو کچھ سنا گیا" ہے۔ منوسمرتی 3 ہزار سال پرانی کتاب ہے، جسے ہندو قوانین کا سب سے اہم ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ منو کے بنائے ہوئے اس اصول کو دوبارہ نافذ العمل کرنے کے لئے منووادی تحریکات ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ جس کے نفاذ میں ہی ان کی حیات پنہاں ہیں۔

     براہمنوں کے عقیدے کے مطابق برہما نے منو دھرم شاستر کو تخلیق کیا اور اسے بڑے بزرگوں بشمول منو پر ظاہر کیا۔ (منوسمرتی: باب1، شلوک 59)۔ منو نے منوسمرتی میں دھرم کے اصول درج کئے ہیں۔ دوسری تصنیف اس کی 'منو منگتا' ہے۔ منوسمرتی کو قدیم سمرتی مانا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے جب منو نے منوسمرتی تصنیف کی تو اس میں 1/ لاکھ اشلوک تھے۔ اب اس میں صرف 4 ہزار اشلوک رہے گئے ہیں۔ مگر جو منوسمرتی لوگوں کے پاس ہے اس میں صرف 2684 اشلوک ہیں۔ اس کے علاوہ یجر وید کا سوتر ایک گرنتھ کلپ سوتروں کا اور گریہہ سوتر بھی اس تصانیف بتائے جاتے ہیں۔

     ورن ویوستھا کے نظام میں تین اسمرتیوں کا ذکر ملتا ہے۔ یعنی یہ نظام تین حصّوں پر مشتمل ہیں۔ پہلا حصّہ "آچار" اس میں اخلاقیات اور معاملات سے متعلق بحث ہے۔ دوسرا حصّہ "ویوہار" اس میں انسانی معاشرتی اور ان میں پیش آنے والے مسائل جیسے جزاء و سزا کے قوانین مرتب کئے گئے ہیں۔ تیسرا حصّہ "پرائشچت" اس میں گناہوں سے توبہ و کفارہ سے متعلق مسائل کو مرتب کیا گیا ہے۔

      ہندو سماج کے ارتقاء کے ابتدائی دور یعنی ویدک عہد یا ماقبل آریہ ورت کے دوران نسل اور رنگ کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی۔ لیکن تکمیل شدہ ارتقائی شکل میں یہ محض ایک واہمہ تھا۔ ہندوستان پر مکمل قبضہ ہو جانے کے بعد آریوں نے یہاں کے باشندوں سے اپنے کو اعلیٰ و ارفع اور ممتاز رکھنے کے لیے طبقاتی نظام کو وجود بخشا۔ آریوں کے ہاں ورن آشرم کو اسی تمیز نے جنم دیا جس کی رو سے برہمنوں کی برتری قائم کی گئی، اعلیٰ ذات والوں کے مقابلے میں تمام انسان نیچ اور ناپاک ٹھہرائے گئے، اور شودروں کو انتہائی ذلت کے گڑھے میں پھینک دیا گیا۔

       گپت دور میں منوسمرتی کے قوانین کو تقویت ملی۔ گپت دور میں منوسمرتی کو اس معاشرے کے قوانین کا سب سے اہم ماخذ سمجھا جاتا تھا، طبقاتی نظام کو معاشرے میں تنظیم اور ترتیب کی بنیاد پر تسلیم کیا گیا ہے اور اس کے حق میں دلائل دیئے گئے ہیں۔ رفتہ رفتہ جب ہندو مت میں نئی نئی چیزیں در آئیں اور ذات پات کا نظام اس حد تک بڑھ گیا کہ شودروں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جانے لگا اور مذہبی عبادات اس حد تک پیچیدگی کا شکار ہوگئے کہ غریب کے لیے ان تمام پوجا پاٹ اور یگیہ وغیرہ کو انجام دینا مشکل ہوگیا تو لوگوں میں ہندومت سے بغاوت کی چنگاریاں اٹھنے لگیں اور دھیرے دھیرے لوگ برہمنوں کے خلاف اپنی زبانیں کھولنے لگے اور یہیں سے فرقہ بندی کی ابتداء ہوتی ہے۔

     براہمنوں کے ظلم و جبر پر مبنی ورن ویوستھا کے نظام سے بغاوت کے نتیجے میں ہندومت میں آجیوکا، نگنتھا، چاراواک وغیرہ جیسے کئی فرقے وجود میں آئے۔ چنانچہ ان فرقوں کی مخالفت میں برہمن یعنی آستک فلسفہ کو ماننے والوں کے چھ مکاتب فکر پیدا ہوئے، جن میں (1)سانکھیا (2) یوگ (3) ویدانت (4) ممانسا (5) نیائے (6) ویشیشکا ہیں۔

     کیا وجہ تھی جس کی بنیاد پر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر صاحب نے لائبریری کی ہزاروں کتابوں میں سے صرف اس ایک کتاب منوسمرتی کو جلایا تھا؟ آج بھی ملک میں بہوجن سماج اور مول نواسیوں کی جانب سے منوسمرتی کے قوانین کے خلاف احتجاج کئے جاتے ہیں۔

     مطالعہ بتاتا ہے کہ شودروں کے بارے میں منوسمرتی میں جو قانون بنایا گیا ہے وہ انتہائی شرمناک، گندا اور انسانیت سوز ہے۔ منوسمرتی کے ذریعے انسانیت کو طبقاتی سسٹم، اعلیٰ و ادنیٰ، بھید بھاؤ اور اونچ نیچ میں تقسیم کیا گیا۔ آئیے! منوسمرتی کی چند تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں دیکھتے ہیں کہ منو مہاراج نے شودروں کے موضوع پر کیا واعظ و نصیحت اور سخت تنبیہ و سزا کے طور پر قانون مرتب کئے ہیں۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

एकमेव तु शूद्रस्य प्रभुः कर्म समादिशत्।
एतेषामेव वर्णानां शुश्रूषामनसूयया ।। 93/01 ।।
خداوند نے شودر کا صرف ایک فرض کہا ہے کہ وہ خلوص نیت سے ان چاروں طبقات کی خدمت کرے۔

मण्डल्यं ब्राहाम्णस्य स्यात्क्षत्रियस्य बलान्वितम्।
वैश्यस्य धनसंयुक्त शूद्रस्य तु जुगुप्सितम् ।। 33/2 ।।
برہمنوں کو اچھی طرح سے برتاؤ کرنا چاہئے ، کشتریوں کو مضبوط ہونا چاہئے ، وشیشوں کو مالدار ہونا چاہئے اور شودروں کی مذمت کی جانی چاہئے۔

न शूद्र राज्ये निवसेन्नाधार्मिकजनावृते।
न पाषाण्डिगणाकान्ते, वोपसृष्टेऽन्त्यजैमिः ।। 61/4 ।।
جہاں 'شودرا' کی بادشاہی ہے، وہاں نہ ٹھہرو۔  ناجائز لوگوں کے گھیراؤ میں نہ رہو۔ عقائد کے گرد گھیر مت رکھیں۔ دوسرے لوگوں سے بھی دور رہیں۔

न शूद्राय मतिं दद्यान्नोच्छिष्टं न हविष्कृतम्।
न चास्योपदिशेद्धम न चास्य व्रतमादिशेत् ।। 80/4||
کسی شودرا کو ذہانت نہ دو، نہ اس کو اخراج دو اور نہ ہی اسے نذرانے کا حصہ دو۔ اس سے دین کی تبلیغ نہ کرو اور نہ ہی اسے روزہ رکھنے کا حکم دے۔

राजान्नं तेज आदत्ते, शूद्राननं ब्रह्मवर्चसम्।
आयु सुवर्णकारान्नं यशश्चमीवकर्तिनः ।। 218/4 ।।
بادشاہ کا کھانا کھا کر، اس کا اثر ختم ہوجاتا ہے، کسی شودرا کا کھانا کھا کر، برہمہ تیج ختم ہوجاتا ہے۔ سنار کا کھانا کھانے سے زندگی تباہ ہوجاتی ہے اور چمار کا کھانا کھانے سے شہرت ختم ہوجاتی ہے۔

दातन्यं सर्वचणेभ्यो राज्ञा चौरैर्हत धनम्।
राजा तदुपयुन्जानश्चौरस्याप्नोति किल्बिषम्।। 40/8।।

धर्मोपदेशं दर्पण विप्राणामस्य कुर्वतः ।
तप्तमासेचयेत्तैलं वक्त्रे श्रोत्रे च पार्थियः ।। 271/8।।
اگر کوئی فخر سے برہمنوں کو واعظ و نصیحت کی تبلیغ کرنے کی جرات کرتا ہے تو بادشاہ کو چاہئے کہ وہ اس کے منہ اور کانوں میں ابلتے ہوئے تیل ڈال دے۔

सहासनमभिप्रेप्सुरूत्कृष्टस्यापकृष्टजः ।
कटघां कृताकड़ों निस्यिः स्फिचं वास्यावकर्तयेत्।। 280/8||
اگر کوئی شودرا برہمنوں کے ساتھ ایک آسن  پر بیٹھنا چاہتا ہے، تو بادشاہ اس کی کمر پر داغ لگا کر اسے ملک سے باہر کردے، یا اس کے چوتر (سرین) کتروا لیں۔

بازاری و محافظت میں رہنے والی برہمن عورت سے صحبت کرنے والے شودر کا آلہ تناسل کاٹ دیا جائے، اس شودر کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں اور اس کی دولت ضبط کر لی جائیں۔ (8: /375 ,374)

विस्रब्धं ब्राह्मणः शूद्राद्रव्योपादानमाचरेत्।
नहितस्यास्ति किन्चित्स्वं भर्तहार्यधनोहि सः ।। 417/8 ||
اگر برہمنوں کو اس کی ضرورت ہو تو، وہ شودر کی مال و دولت بلا روک ٹوک چھین لیں، کیونکہ اس کے پاس اپنا مال و دولت نہیں ہوسکتا ہے۔ اس کا سارا مال و دولت اس کے مالک کا ہے۔

اگر شودر برہمن کی نشانیاں زیب تن کرے مثلاً جنئیو یعنی زنار (Sacred thread)، تو بادشاہ کو چاہئے کہ اس کے جسم کو کاٹ کر عیب دار کردے۔ (9: 223)

اگر شودر کسی براہمن پر لاٹھی سے یا ہاتھ سے حملہ کرے تو اس کے جسم کے ان حصوں کو کاٹ دینا چاہیے۔ (9: 280)

पौण्ड्रकाश्चौड्रद्रविडाः काम्बोजा यवनाः शकाः ।
पारदापहवाश्चीनाः किराता दरदाः खशाः ।। 43/10।।
پونڈرک، اوڈر، ڈریوڈا، کمبوجا، یاوانا، شکا، پاراد، پب، چین، کیریت، دراد اور خص فعل کی کمی یا غائب ہونے کی وجہ سے آہستہ آہستہ شودر بن گئے۔

اگر کوئی شودر کسی طرح کام کرکے یا لالچ و لوبھ کے ذریعے دولت جمع کرتا ہے تو بادشاہ کو چاہئے کہ اس شودر کی دولت چھین کر اس کو ملک بدر کیا جائے۔ (10: 95)

स्वर्गार्थमुमयार्थ वा विप्रानाराधयेतु सः ।
जातब्राम्हणषब्दस्य सा हचास्य कृतकृत्यता।। 119/1011
विप्रसेषैव शूद्रसय विशिष्टं कर्म कौर्त्यते।
यदतोऽन्यद्धि कुरुते तद्भवत्तस्य निष्फलम्।। 120/1011
شودروں کو صرف جنت کی خاطر یا سکون و آرام اور ذاتی مفاد کے لئے برہمنوں کی خدمت کرنی چاہئے۔ اس طرح کا شودرا برہمن کا محتاج ہے۔ اس کے علاؤہ وہ جو بھی کام کرے گا وہ سب اس کے لئے اکارت جائے گا۔

उच्छिष्टमन्नं दानव्यं जीर्णानि वसनानि च।
पलाकाश्चैव धान्यांना जीर्णाश्चैव परिच्छदाऽ।। 122/1011
شودر کو بچا ہوا کھانا دیا جائے، پرانے لباس پہننے کے لئے دیئے جائیں، بے کار اناج دئیے جائیں اور پھٹے پرانے کپڑے اوڑھنے اور بچھانے کے لئے دیئے جائیں۔

शक्तेनापि हि शूद्रेण न कार्यों धतसंचयः।
शूद्रो हि धनमासाद्य बाम्हणानव बाधते।। 126/10।।
یہاں تک کہ اگر کوئی شودرا اہل ہے تو بھی اسے دولت جمع کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اگر کسی شودرا کو دولت مل جاتی ہے، تو وہ شودرا صرف برہمنوں کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔

مالدار شودر کو کو بزور قوت مال و دولت سے محروم کیا جاسکتا ہے۔ (11: 13)

مذکورہ منوسمرتی کے علاوہ دیگر برہمن مذہبی کتابوں میں شودروں کے لئے دیئے گئے حکم، ہدایات، تنبیہات، سزائیں اور انتظامات کا بھی مختصر طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

دیو یگیا اور شرادھ میں شودرا کو بلانے کی  سزا 100 پن (اس وقت کا مروجہ سکہ) ہے۔ (وشنو اسمرتی: 5/115)

     ہندوﺅں میں مقبول عام بھگوت گیتا نے بھی ورن ویوستھاکی تصدیق اور تائید کی ہے۔ گیتا کا باب 4، شلوک 13 بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ، "برہمنوں، کشتریوں، وشیشوں اور شودروں کی یہ تقسیم یا ویوستھا صفات اور عمل کے فرق سے میرے ذریعہ پیدا ہوئی ہے"۔ (بھگوت گیتا: 4-13)

     گیتا نے اسی ویوستھا کو اپنا دھرم کہا اور یہ طے کیا کہ اس میں جس شخص کی عقیدت نہیں ہوگی، وہ ایشور کی بھکتی کا حق دار نہیں ہوسکتا۔گیتا کے ماہرین علم نے اس گرنتھ کا سہارا لے کر ہندو بنیاد پرست نظامِ معاشرت کو، جس میں اونچ نیچ کا خیال جم گیا مبنی بر انصاف ٹھہرایا ہے۔ (رام شرن شرما: شودروں کا پراچین اتہاس، ص۶۷۱،۷۷۱)۔

آگے مزید فرمایا گیا، میری پناہ لینے سے، عورتیں، ویشیہ اور شودرا، جن کی پیدائش گناہ اندام نہانی سے ہوئی ہے، حتمی طور پر انتہائی تیز رفتار حاصل ہوجاتی ہے۔ (بھگوت گیتا: 9۔32)

شودرا کا بنیادی کام تینوں طبقات کی خدمت کرنا ہے۔ (مہابھارت: 4/50/6)

شودرا کو جمع دولت سے سوامی کی حفاظت کرنی چاہیے۔ (مہابھارت: 12/60/36)

اگر کوئی شودرا تپسیا کرے تو ریاست غربت میں ڈوب جائے گی۔ (والمیکی رامائن: 7/30774)

ڈول، گنوار، شودرا، جانور، عورت۔ سراسر عذاب کے افسران۔ (رام چرت مانس: 59/5)

पूजिये विप्र सील गुन हीना, शूद्र न गुण गन ग्यान प्रविना। (रामचरितमानस 63-1)

شودرا جو برہمن کے پاؤں دھو کر جھوٹا پیتا ہے، بادشاہ کو اس سے ٹیکس وصول نہیں کرنا چاہئے۔ (آپسٹمبھ دھرم سوترا: 1/2/5/16)

برہمن کو کان تک جھکنا چاہئے، سینے تک کشتریا، کمر کو وشنیا اور شودرا ہاتھ جوڑ کر جھکائیں یا جھک کر سلام کریں۔ (آپسٹمبہ دھرم سوترا: 1،2،5 / 16)

اگر کوئی شودرا وید سنتا ہے تو اس کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ، لاکھ ڈالنا چاہئے۔ اگر وہ وید کا تلفظ کرتا ہے تو اس کی زبان کاٹ دی جائے۔ اگر وہ وید کو یاد کرتا ہے تو اسے مار ڈالنا چاہئے۔  (گوتم دھرم سترا: 12/6)

اگر کوئی شودر پوجاپاٹ، ذکر و فکر، دھیان گیان اور ہوم (آگ کی پوجا کرے) تو بادشاہ اسے سزا دے سکتا ہے۔ (گوتم دھرم سترا: 12/4/9)

شودرا کو اس گائے کو ہاتھ نہیں لگانا چاہئے جس کا دودھ اگنیہوتر کے لئے استعمال ہوتا ہے۔  (کتھک سمہیتہ: 3/1/2)

شودرا صرف دوسروں کا خادم ہے، اس کے علاوہ اسے کوئی حق نہیں ہے۔ (ایتریہ براہمنہ: 2129/4)

برہمنوں کی ابتدا دیوتاؤں سے ہوئی ہے، شودروں کی تخلیق راکشیش (شیاطین) سے ہوئی ہے۔ (تیتریہ براہمنہ: 1/2/6/7)

یگیا کرتے ہوئے کسی کو شودرا سے بات نہیں کرنی چاہئے۔ (ستپت براہمنہ: 3: 1/10)

اگر کوئی برہمن کسی شودرا کو تعلیم دیتا ہے، تو اس برہمن کو چانڈال کی طرح ترک کردینا چاہئے۔ (اسکند پرانا: 10/19)

جو شودرا اپنی زندگی، دولت اور اپنی بیوی کو برہمن کے حوالے کردے، اس شودرا کا کھانا قابل قبول ہے۔ (وشنو پرانا: 5/11)

      مہابھارت کے نزدیک شودرا کو راجہ بننے کا اختیار نہیں ہے۔ گیتا کے مطابق شودرا کو براہمن، شتریہ اور ویشیہ کی غلامی کرنی چاہیے۔ رامائن کی تعلیمات کے مطابق علم حاصل کرنے کے لئے شودرا کو سزائے موت ملنی چاہئے۔ وید میں ہے کہ شودرا برہما کے پاؤں سے پیدا ہوا ہے، لہذا وہ کمتر ہے۔
شودرا کا مقام مندرجہ بالا تین ورنوں کے قدموں میں ہے۔ پران میں ہے کہ شودر صرف غلامی (خدمت) کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔
رام چرت مانس لکھتے ہیں شودرا کو پیٹنا دھرم ہے۔ حجری کتبات میں بھی اس بات کے ٹھوس ثبوت ملتے ہیں کہ ورن ویوستھا بنائے رکھنا راجا کی ذمہ داری تھی۔ قدیم سمرتی مصنفین میں منو نے راجا کے ذریعہ ورن ویوستھا بنائے رکھنے پر پورا زور دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت اسی وقت تک ترقی کر سکتی ہے جب تک ورنوں کی پاکیزگی بنی رہتی ہے۔ (رام شرن شرما:پراچین بھارت میں راجنیتک وچار ایوم سنستھائیں،ص۷۶)۔ اسی طبقاتی نظام کی ترجمانی کرتے ہوئے کانچی کاماکوٹی پیٹھ کے آچاریہ نے مہاراشٹر کے شہر ناسک میں 1980ء میں اخباری نمائندوں کے سامنے یہ کہا کہ 'ورن آشرم ہندو دھرم کا بنیادی پتھر ہے اور اگر ذات پات کا نظام ختم کردیا گیا تو وہ تباہ ہو جائے گا'۔ (مانو اور سنسکرتی، شیام چرن دوبے)۔

     مذکورہ بالاطبقاتی نظام کے وجود میں آجانے کے بعد معاشرہ میں ان کے کام اور ان کی ذمہ داریاں بھی تقسیم کردی گئیں چنانچہ ذیل میں ہم منوسمرتی سے ایک اقتباس نقل کرتے ہیں جہاں ہر ورن اور ہر طبقہ کی ذمہ داریاں اور ان کے کام بتائے گئے ہیں۔
  "دوسروں کو تعلیم دینا، خود تعلیم حاصل کرنا، مذہبی رسموں کو سر انجام دینا اور دوسروں کی اس سلسلے میں رہنمائی کرنا، صدقات، عطیات دینا، وصول کرنا، یہ ساری ذمہ داریاں اس نے "برہمنوں" کو سونپیں۔

  لوگوں کی حفاظت کرنا، صدقہ وخیرات کرنا، مذہبی رسومات کو سر انجام دینا، تعلیم حاصل کرنا اور خواہشات پر قابو رکھنا، یہ مختصراً ایک "چھتریہ" کی ذمہ داریاں ہیں ۔

  تعلیم حاصل کرنا، تجارت اور سوداگری کرنا، سود کا کاروبار کرنا، کھیتی کرنا، مویشی پالنا ،مذہبی رسومات ادا کرنا اور صدقہ وخیرات کرنا یہ سب ایک "ویشیہ" کی ذمہ داریاں ہیں۔

  "شودر" کے لیے مالک نے صرف ایک ہی کام تجویز کیا ہے اور وہ یہ کہ وہ پورے خلوص سے تینوں اعلیٰ ذاتوں کی خدمت کرے"۔(منوسمرتی: باب 1 اشلوک 87۔89)

     نیوٹرل اور لبرل لوگوں کا کہنا ہے کہ کیوں گڑے مردے اکھاڑ رہے ہو، منوسمرتی کا طبقاتی نظام تو کب کا دم توڑ چکا ہے۔ لیکن انہیں ملک کے ان حصوں میں نظریں دوڑانی ہوگی جہاں دھرم شاستر کے نام پر منوسمرتی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ آج بھی منوسمرتی کے اصول و ضوابط کو عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس پر عمل پیرا ہونے کے شرمناک و دردناک واقعات حالیہ دنوں میں بھی رونما ہورہے ہیں۔ جسے سن کر، پڑھ کر انسانیت شرمسار ہوجائے۔ جب تک اس طرح کے قوانین و ضوابط پر قدغن نہیں لگے گا، انسانیت یوں ہی سیسک سیسک کر دم توڑ دے گی۔ ظالم کا ہاتھ پکڑنا ہوگا تبھی انسانوں کے مہذب معاشرے میں زندگی کی رمق نظر آئے گی۔ ظالم کو ظلم سے روکنا حسب وسعت ضروری ہے۔ آپﷺ نے فرمایا، "اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم"۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللّٰہﷺ! مظلوم کی مدد تو سمجھ میں آتی ہے مگر ظالم کی مدد سے کیا مراد ہے؟
خاتم النبینؐ نے فرمایا: "اسے ظلم سے روکو"۔

     منوسمرتی کے قوانین و ضوابط، تعلیمات و تنبیہات کسی بھی تہذیب و تمدن یافتہ معاشرے کے لئے سم قاتل کے سوا کچھ نہیں!!
ایک عام قاعدے کی رو سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک پاک اور عالی مرتبہ پیشہ کسی ذات کو اعلیٰ رسمی اور سماجی مرتبہ عطا کرتا ہے اور ایک ادنیٰ اور ناپاک پیشہ کسی ذات کو گھٹیا مقام دیتا ہے۔ علمیت اور اکتساب، مذہبی رسومات کی ادائیگی، درس و تدریس اور پروہتوں کے کام کاج کو پاک اور خالص اور برتر مانا گیا ہے۔

      پیشوں اور جنموں (پیدائش) کے نتیجے میں ایک طبقہ اعلیٰ و ارفع، اور غلیظ و ناپاک کام کرنے والا ادنیٰ و ذلیل۔ چمڑے کا کام، کوڑا کرکٹ و انسانی فضلہ وغیرہ کا کام کرنے والا شودر، ملیچھ، ناپاک یہ کہاں کی انسانیت ہے؟

     آج بھی ملک عزیز میں اعلیٰ اور پاک ذاتوں اور ادنیٰ ذاتوں کے درمیان جسمانی طور پر ملاپ سے احتراز کیا جاتا ہے۔ طبقاتی نظام اور چھوت چھات کی شدید انسانیت سوز مثالیں جنوبی ہندوستان میں ملتی ہیں۔ ادنیٰ ذات کے کسی فرد کی محض ایک جھلک کو بھی آلودگی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ کیرالہ کے ٹیان نمبودری برہمنوں سے 36 قدموں کا اور پلیانوں سے 96 قدموں کا فاصلہ رکھتے ہیں۔ ادنیٰ درجے کے لوگوں کے گھر جانے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ انہیں مندروں و عبادت گاہوں میں داخل ہونے نہیں دیا جاتا۔ گاؤں کے مشترکہ کنوؤں سے پانی لینے پر ممانعت ہے۔ ان کے رہائشی بستیوں کو گاؤں سے باہر بسایا جاتا ہے۔ تعلیم گاہوں میں آج بھی علیحدگی کا ماحول نظر آتا ہے۔ کھانوں اور چائے کی ہوٹلوں میں ان کے لئے الگ برتن و گلاس اور کپ استعمال کئے جاتے ہیں۔ کچھ جگہوں پر تو انہیں استعمال کرنے بعد لازماً دھوکر رکھنا ہوتا ہے۔ تاہم آج بھی غیر منصفانہ تفریحات اور ان کی لطیف صورتیں برقرار ہیں۔ ادنیٰ ذات کی بیٹیوں کی عصمتیں محفوظ نہیں ہیں، اعلیٰ ذات کے افراد بعض اوقات تو اجتماعی زنا بالجبر کرکے قتل کردیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے نے، اس کے اقتصادی نظام اور نظامِ سیاست نے اونچی ذات کے دباؤ میں کمزور، جراحت پزیر اور ذلیل طبقوں سے محض زبانی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

     قانون کے غیر مؤثر نفاذ اور منوسمرتی کی تعلیمات و اصول نے انصاف کا ہمیشہ گلہ ہی گھونٹا ہے۔ آج بھی ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں شودر/ دلت غیر انسانی اور غیر قانونی طور پر غلاظت اٹھانے کے طریق کار سے اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔

     کچھ حد تک اگر منوسمرتی کے اصول و قوانین کو ناچاہتے ہوئے تسلیم بھی کرلیا جائے تو، مطالعے اور تجزیے کی روشنی میں اس بات کا اندازہ لگانا کافی مشکل ہوجاتا ہے کہ ایک بڑی آبادی کس طرح اس نوع کی درجہ بندی کی متحمل ہوسکتی ہے۔

      یوگا کی جڑیں بھی برہمن واد کی تعلیمات سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منووادیوں کی دھارمک شخصیتیں و مذہبی پیشوا اور ہندو احیا پسند تحریکات دراصل یوگا کے توسط سے ورن آشرم کو دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں، وہ ہندوازم کو قومی و عالمی سطح پر ایک عظیم کامیاب نظام زندگی کے طور پر غالب کرنے کی کوشش میں ہیں۔

     ایک ایسے ملک میں جہاں ورن ویوستھا کے نظام کی بنیاد پر، جو شخص دوسرے کی محنت کا سامان مفت میں کھاتا ہے، وہ ایک پیدائشی اعلی طبقہ سمجھا جاتا ہے، دوسری طرف، اپنے ہی مذہب کے محنتی افراد کو شودر کہا جاتا ہے، جنہیں اچھوت اور ذہنی مریض سمجھا جاتا ہے، جنہیں مذہب کے نام پر کمتر مخلوق شمار کیا جاتا ہے۔ وہ ملک عالمی رہنما کیسے بن سکتا ہے؟

     شودر طبقہ ہمیشہ سے اعلیٰ اور برتر طبقہ کے سماجی بے انصافی اور غیر انسانی ظلم و ستم کا شکار ہوتا رہا ہے۔ ان کی بے بسی، مجبوری، سادہ لوحی اور مظلومیت کو نظمیہ اشعار کے پیکر میں ڈھال کر عوام کے سامنے ان کی حقیقی الم انگیز انسانی صورتِ حال کو جینت پرمار نے نہایت ہی فنّی اور جمالیاتی لطافت کے ساتھ پیش کیا ہے۔

منو
کبھی گردن پہ کلڑی
پیٹھ پہ جھاڑو لٹکا کر نکلا ہے کہیں ؟
کانوں نے چکھا ہے کبھی کیا
ذائقہ جلتے سیسہ کا !
تیری ماں کو سرِ عام ننگا کرکے
چابک سے اس کی رانوں کو
لہو لہان کیا ہے کسی نے ؟
منو
تو سوتا ہے پھولوں کے بستر پر
میرے نصیب میں لکھا نہیں
سمشان گھاٹ کا سنّاٹا
تو تو نہاتا ہے مندر میں
دودھ اور گنگا جل سے
جب کہ مجھے مرنے کے لیے بھی
چلّو بھر پانی نہ ملا !
منو تری قسمت ہے کالی
دُکھ کا بھی احساس نہیں ہوتا تجھ کو
تری رگوں میں گرم خون ہے !
یا پانی !!
(نظم ’منو تری قسمت ہے کالی‘ سے)

بھوکا برہمن، بھوکا کھشتریہ، بھوکا ویشیہ
لڑتاہے روٹی کے لیے،
چاند سی اک روٹی کے لئے
اس کا سپنا روٹی ہے
اچھوت ہوں مَیں
میرے سائے سے بھی تم کتراتے ہو
مَیں ہوں تمہاری بستی باہر
جہاں تم ہگتے ہو وہاں پر
ٹاٹ کی میری جھُگّی ہے
کنویں سے لے کر مندر تک
تم نے بنائی ہیں دیواریں
منو کی اونچی دیواریں !
میرے حصّے میں تو ملا ہے
اپنے لوگوں کا ایمان !
اور نفرت کی آگ !!
مری جنگ اُس کے خلاف
جو روٹی سے بڑھ کر ہے
میری جنگ روٹی کی نہیں !
(نظم ’میری جنگ روٹی کی نہیں‘ سے)

عمر نہیں تھی
پہاڑ دُکھ کے
پیٹھ پہ اپنے ڈھونے کی
منوو کی ورن ویوستھا کا
اِک بار گراں
پیٹھ پہ ڈھوتی ہے پھر بھی
اس پر بھی تم، رعب جماتے ہو چابک کا
اُف تک منھ سے نکلی نہیں
اور چابک کے غصّے میں
سرخ ہو گئی میری پیٹھ
جس پر سینکتے ہو تم روٹی
اپنے بھرے پیٹوں کے لیے!
(نظم ’پیٹھ‘ سے)

       ©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam