ایک نظریہ، ایک تحریک کی علامتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمرحوم ڈاکٹر محمد رفعت

ایک نظریہ، ایک تحریک کی علامت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرحوم ڈاکٹر محمد رفعت

یقیناً یہ خبر بے حد دکھ اور انتہائی افسوس کے ساتھ پڑھی و سنی جائیگی کہ تحریک اسلامی کے مربی و مذکی اور مشفق و فعال رہنما سابق صدر طلبہ تنظیم ایس آئی ایم، رکن مرکزی شوریٰ- جماعت اسلامی ہند، مدیر اعلیٰ "زندگی نو" اور پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی ڈاکٹر محمد رفعت صاحب دار فانی سے دار بقاء کی طرف بروز جمعہ بتاریخ 08 جنوری 2021 رات قریباً 10:30 بجے کے آس پاس رحلت فرما گئے۔

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

آج جب کہ خزاں میں درختوں کے پتے بھی اس رفتار سے نہیں جھڑتے ہونگے، وہاں اپنے اور پرائے سبھی اس تیز رفتاری سے زندگی کی بازی ہار کر اگلے جہاں سدھارتے جا رہے ہیں کہ بس اللّٰہ ہی خیر فرمائے۔ قلیل عرصے میں کثیر تعداد میں علماء و مشائخ اور قائدین و دانشورانِ ملت کا ہم سے رخصت ہونا انتہائی سنگین حالات کا عندیہ دے رہا ہے۔

کوئی روکے دست قضا کو
ہمارے لوگ اٹھتے جا رہے ہیں 

ڈاکٹر محمد رفعت صاحب کو ہندوستان کی پہلی طلبہ تنظیم کے دور میں سب سے پہلی بار ہماری اسکول انجمن اسلام (وی ٹی، بمبئی) میں ایک سمپوزیم میں سننے کا موقع ملا۔ جہاں انہیں شرکاء سمپوزیم سے سادگی اور اپنائیت کے ساتھ پرتپاک انداز میں ملتے ہوئے دیکھا، واقعی ان کی اس سادگی نے میرے فکر و نظر میں ان کا ایک اعلیٰ مقام بنا دیا جو اب تک برقرار ہے۔
رفعت صاحب قرآن کریم کی اس آیت کی زندہ تفسیر تھے جس میں اللّٰہ فرماتا کہ مومنین آپس میں نرم اور کفار پر سخت ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہوں میں بے انتہا وسعتوں کا سمندر نظر آتا تھا۔
جب بھی ان کی گفتگو سنی، گفتگو میں عموماً گہرائی اور سلاست محسوس ہوئی، سادہ زبان میں معاملے کی منفی و مثبت پہلوؤں کی تہہ تک پہنچا دیتے، معاملے سے متعلق تفصیلی آگاہی فرماتے۔ ہمارے تنظیمی دور میں جب بھی ان سے ملاقات ہوئی ہمیشہ شفقت و محبت سے پیش آتے دیکھا۔ ذرائع ابلاغ سے بھی ان کا رابطہ بہت مضبوط و گہرا تھا۔ میں سمجھتا ہوں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ڈاکٹر رفعت صاحب نے اپنی تمام عمر استقامت کے ساتھ اپنے رب کی خوشنودی و اطاعت اور تحریکِ اسلامی کی خدمت میں صرف کی۔ وہ طلبہ میں تحریک اسلامی کی بنیادی فکر کے روحِ رواں تھے۔ آپ طلباء تنظیم ایس آئی ایم کے دو بار کل ہند صدر رہے اور تاحیات جماعت اسلامی کے نظم سے وابستہ رہے۔ پہلے ایس آئی ایم اور اب وحدت اسلامی کے ضمن میں محترم سے کئی بار استفادہ کے زرین مواقع میسر ہوتے رہے آپ نے خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کیا، ہماری باتوں کو بغور سماعت فرمایا اور اپنے تذکیری کلمات سے ہماری حوصلہ افزائی بھی کی۔

مولانا محترم جلال الدین انصر عمری صاحب کی دختر آپ کی شریکِ حیات رہیں، آپ کو اللّٰہ تعالیٰ نے 3 بیٹوں اور 2 بیٹیوں سے نوازا۔ آپ قریباً 15 سے زائد کتابوں کے مصنف بھی رہے۔
اُردو ٹائمز کے جمعہ ایڈیشن میں قریباً 13 قسطوں میں شائع شدہ میرے مضامین "طاغوت کا انکار اللّٰہ پر ایمان کی شرط لازم" جو کہ 2008 یا 2009 میں قسط وار چھپا، اسی مضمون کو "زندگی نو" کی زینت بنانے کے لئے رفعت صاحب نے اعزازی مدیر اعلیٰ بننے کے بعد مجھ سے بذریعہ فون پر ربط قائم کیا، ایک ایسا مضمون جو موجودہ تحریک اسلامی کی فکر و نظر کو کہاں نہ کہاں ضرب لگاتا تھا اس مضمون کو دو یا تین قسطوں میں لگانا واقعی اس بات کی علامت تھی کہ رفعت صاحب نے اصل تحریک اسلامی کی بنیادی روح کو اپنے اندر زندہ اور بیدار رکھا تھا۔ مولانا صدر الدین اصلاحی کی تحریکی فکر کو زندہ رکھنے کے امین تھے۔ یہ منتشر یادوں کے خوبصورت گلدستے، زخمی دل اور غمگین آنکھوں کے ساتھ قلم برداشتہ کرنے کی جسارت کیا ہوں۔ یادیں تو بہت سی ہیں ان شاء اللّٰہ! پھر کبھی آپ کے ساتھ شئیر کرنے کی کوشش کروں گا۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبز نور دستہ اس گھر کی نگہبانی کرے 

آئیے ہم دعا کریں اللّٰہ تعالیٰ ہمارے اس مربی و مزکی رہنما کو اعلیٰ عیلین میں جگہ عطا فرمائے۔ اللّٰہ ان کی مغفرت فرمائے، درجات کو بلند فرمائے، اپنے جوارِ رحمت میں جگہ نصیب فرمائے اور تحریک اسلامی خصوصاً طلبہ تنظیموں کو ان کا نعم البدل عطاء فرمائے۔ آمین

اللهم اغفر لها و ادخلها الجنة۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔

(مسعود محبوب خان)

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam