"فلسطین، اخوان المسلمون اور حماس"
"فلسطین، اخوان المسلمون اور حماس"
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
+919422724040
نبی کریمﷺ نے فرمایا: "میری امت کا ایک گروہ قیامت تک دین پر ثابت قدم اور دشمن پر غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، سوائے اس کے کہ انہیں کچھ معاشی تنگدستی کا سامنا کرنا پڑے، یہاں تک کہ اللّٰه تعالیٰ کا حکم آجائے گا اور وہ اسی حالت پر ہوں گے۔"صحابہ نے کہا: اے اللّٰه کے رسول! وہ کہاں ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:"وہ بیت المقدس اور اس کے گرد و نواح میں ہوں گے۔" (مسند احمد: 12494)
ارض مقدسہ..... فلسطین اور اہل ایمان:
اسلام کے تیسرے متبرک مقام قبلہ اول مسجد اقصٰی اور نبی کریمؐ کے مقام معراج کی مقدس سرزمین فلسطین آج تک جہاد و شہادت کے نذرانے پیش کررہی ہیں۔ قرآن میں سرزمین فلسطین کو ’’ارض مقدسہ‘‘ اور ’’ارض مبارکہ‘‘ کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ فلسطین متعدد پیغمبروں کی آمد و رفت کا مقام رہا ہے۔ یہاں بہت سے انبیائے کرام مدفون ہیں۔ فلسطین پیغمبر اسلام کی معراج کا مقام بھی ہے۔ مسجد الاقصیٰ حضرت محمدؐ کی آسمان کی جانب معراج کا مقام بھی ہے۔ عبد الملک بن مروان کے زمانہ حکومت میں اس پتھر کہ جہاں سے پیغمبر اسلام نبی کریمﷺ آسمان کی طرف گئے تھے اس مقام پر مسجد الصخرۃ یا قبۃ الصخرۃ کے نام سے ایک مسجد تعمیر کی گئی۔
خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیؓق کے دور میں اسلام فلسطین میں دوبارہ وارد ہوا۔ تاہم اس سرزمین کی فتح 13ھ میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کی خلافت کے دوران حضرت خالد بن ولیدؓ کی سربراہی میں ہونے والی 'جنگ اجنابین' کے بعد عملی ہوسکی۔ بنو امیہ، بنو عباس، فاطمیوں، عثمانیوں تک فلسطین مسلمانوں کے زیرِ اقتدار رہا۔ 493ھ میں یورپین عیسائیوں نے صلیبی جنگوں کے ذریعے تقریبا ستر ہزار مسلمانوں کو شہید کرکے فلسطین پر 88 سال تک قبضہ جمائے رکھا۔ صلاح الدین ایوبی کی زیر قیادت 'جنگ حَطّین' لڑنے کے بعد فلسطین مسلمانوں نے دوبارہ حاصل کیا۔ فلسطین پر عثمانیوں کی حکومت سنہ 1918ء تک قائم رہی۔ برطانیہ نے اپنے تسلط کو سنہ 1922ء میں سرپرستی کا عنوان دیا۔ سنہ 1936ء میں فلسطینی عوام نے حکومت برطانیہ کے خلاف ایک بڑے انقلاب کا آغاز کیا، لیکن برطانیہ اور صیہونیوں کی مکاری و بدعہدی کے باعث اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانیہ کی جانب سے فلسطین پر قبضہ سنہ 1948ء تک برقرار رہا۔
ارض مبارکہ میں اخوان کا کردار:
فلسطین میں اخوان المسلمون کا کردار سنہ 1948ء میں اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب ’’النكبة‘‘ کے موقع پر مصر، اردن، شام، یمن، عراق اور خلیج و دیگر ممالک سے اخوان کے رضاکار غاصب صہیونی اسرائیلیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہوگئے۔ فلسطینی سنہ 1948ء کی جبری بے دخلی کو ’جاری نکبہ‘ (عربی میں النكبة) کا نام دیتے ہیں کیونکہ سنہ 1947ء سے سنہ 1949ء کے درمیان فلسطین کی 80 فیصد مقامی آبادی کو ہٹانے اور جبری طور پر جلاوطن کرنے کا عمل شروع ہوا تھا۔ نکبہ کا مطلب تباہی ہے۔ مزید معلومات کے لیے میرے مضمون "جاری النكبة" کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
اسی اثناء میں فلسطین میں اخوان المسلمون کا قیام وجود میں آیا، اس دوران صہیونی منصوبے کے خلاف جہاد کے لیے زندگی کے ہر اہم شعبہ میں تنظیمی انفراسٹرکچر بھی قائم کیا گیا۔ اخوان المسلمون نے صہیونیوں کی جانب سے مسلمانوں میں پھیلائے گئے بے دینی کے ماحول کو اور غیر اسلامی افکار کو، اسلامی اصول و افکار کے ذریعے قدغن لگانا شروع کیا تاکہ اسرائیلی قبضے کے خلاف مضبوط بنیادوں پر جدوجہد برپا کی جائے-صہیونی یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ عظیم تر اسرائیل کے قیام اور منصوبے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ حماس اور اخوان المسلمون ہی ہیں۔ یہودیوں نے باضابطہ طور پر ایک طے شدہ سازش و منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو اسلام سے منحرف کرنے کی سازش انجام دی مگر اخوان و حماس کی غیور اور اسلام پسند قیادت و کارکنان نے مسلم معاشرے کو ایک بار پھر اسلامی خطوط پر استوار کیا-
غاصب صہیونیوں کا ظلم و جبر:
اسرائیلی قابض حکام اور صہیونی ریاست کے تمام ادارے مسجد اقصی اور پورے فلسطین پر حملوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ سنہ 1920ء سے پہلے تک اس علاقے میں 6 ہزار سے بھی کم یہودی آباد تھے۔ فلسطینی مسلمانوں کی زمینوں پر قبضے کےلیے 20 سال میں 22 ہزار سے زائد فلسطینیوں کا قتل عام کیا گیا، ان زمینوں پر یہودیوں کی نوآبادیاتی بستیاں قائم کی گئی۔ اور اس طرح سے برطانیہ اور امریکا کی مدد سے ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ دنیا بھر میں یہودی محض ایک کروڑ کے آس پاس ہیں، جن میں 60 لاکھ سے زائد غاصبانہ اسرائیل میں رہتے ہیں۔
غاصب صیہونیوں نے بارہا وقتاً فوقتاً فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی Ethnical cleansing کی۔ مسلمانوں کو جلاوطن اور بڑے پیمانے پر قتل عام کیا گیا۔ سنہ 1948ء میں اسرائیل نے 34 مرتبہ قتل عام کیا کہ جس میں سے زیادہ مشہور ’’دیر یاسین‘‘ کا قتل عام ہے۔ اس قتل عام میں 254 افراد کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اسرائیل کے دیگر جرائم میں سے سنہ 1956ء میں ’’خان یونس‘‘ کا قتل عام ہے۔ اس میں 250 فلسطینیوں کی جان لی گئی۔ تاریخ کے گھناؤنے جرائم میں سے ایک "صبرا و شتیلا" کا قتل عام ہے۔ یہ حادثہ سنہ 1982ء میں پیش آیا اور اس میں 3297 فلسطینی مسلمان عورتیں اور بچے شہید کیے گئے اور اس قتل و غارتگری و مسلمانوں کی نسل کشی Ethnical cleansing اور نکبہ کا سلسلہ آج تک قائم ہے۔
کچھ سال پہلے فلسطینی قیدیوں کے امور کی نگراں کمیٹی کا کہنا ہے کہ سنہ 2000ء کے بعد سے صہیونی فوج نے 16ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا ہے۔ یہ بھی کہا کہ دستاویزی اور ریکارڈ شدہ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ صہیونیوں نے حراست میں لیا گئے 65٪ سے زیادہ فلسطینی بچوں کو اس عرصے کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس وقت عوفر، مجدو اور متعدد دیگر صہیونی جیلوں میں 140 سے زائد فلسطینی بچوں کو انتہائی بدترین حالات میں رکھا گیا ہے۔ صیہونیوں کے اسی نوعیت کے گناہوں اور ظلم و جبر کی پاداش میں حماس جیسی تحریک کا وجود عمل میں آیا۔ انہیں مراحل کے دوران حماس کا "جہاد" کا جامع منصوبہ فکری اور تنظیمی طور پر متشکل ہوا۔
حماس کا قیام و قربانیاں:
حرکة المقاومة اسلامية یعنی حماس فلسطین کی سب سے بڑی اسلامی تحریک مزاحمت ہے۔ حماس اپنے عربی نام ’’حرکة المقاومة اسلامية‘‘ کے حروف کا مخفف ہے۔ اس نے اپنے قیام کا باقاعدہ اعلان 15 دسمبر سنہ 1987ء میں باقاعدہ تحریک انتفاضہ شروع ہونے کے بعد کیا، اس دن حماس کا مجموعی طور پر دوسرا انتفاضہ پھوٹا۔حماس نے اپنا منشور 18 اگست 1988ء جاری کیا۔ حماس کے منشور اور پروگرام کو 36 آرٹیکل اور اس کی ذیلی شقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حماس کے قیام و تاسیس کا بنیادی رول مجاہد شیخ احمد یاسین شہید جن کا تعلق اخوان المسلمون سے تھا اور غزہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر جلیل محمد صیام نے نامساعد حالات میں ادا کیا۔ روح رواں و بانی حماس اس معذور مرد مجاہد کو بزدل اسرائیلیوں نے نماز فجر کے وقت راکٹ داغ کر شہید کیا۔ ان کے بعد ان کے جانشین عبدالعزیز رنتسی شہید کو شہادت نصیب ہوئی۔ اسرائیل حماس کی قیادت سے اتنا خائف و ڈرا رہتا ہے کہ حماس کی اب تک کی تمام بڑی قیادت کو سازش و بزدلی کے تحت سب کو شہید کروا دیتا ہے۔
اپریل 1988ء کو حماس کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈائون کی ابتدا ہوئی۔ اس کریک ڈائون میں حماس کے مرکزی قیادت اور کارکنوں کی بڑی تعداد کو حراست میں لیا گیا۔ حماس کے خلاف دوسرا کریک ڈائون 1989ء میں شروع کیا گیا اور اس میں حماس کی مزید قیادت اور کارکنوں کی گرفتاریاں کرکے جیلوں میں ڈالا گیا۔ صہیونیوں کو محسوس ہوگیا کہ اب کریک ڈاؤن کے نتیجے میں حماس ختم ہوگی مگر اس کے کچھ ہی عرصے بعد صہیونیوں کو اس وقت کاری ضرب لگی جب غزہ سے تعلق رکھنے والے حماس راہنما ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے عمان میں حماس کے سیاسی دفتر کے قیام کا اعلان کیا۔ کریک ڈاؤن کے باوجود بھی ”حماس”کے پائے استقامت میں جنبش نہ آئی اور اپنے مخصوص علاقے”غزہ”میں یہ لوگ ثابت قدم رہے۔ حماس نے اپنے اعلی قیادت سے لے کر ایک عام کارکن تک کا خون مسجد اقصٰی کی بازیابی اور فلسطینی عوام کی آزادی پر قربان کیا اور قابض صہیونی استعمار کے تمام ہتھکنڈے ناکام بنا دیے۔
حماس کی کارکردگیاں:
آج حماس دنیا میں فلسطینی مسلمانوں کی ایک نمائندہ تحریک ہونے کا رول ادا کررہی ہے، جو فلسطینی منظرنامہ پر اسلام کے نظریاتی تشخص کی نمائندگی بھی کررہی ہے۔ حماس نے قرآن و حدیث پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسلامی اصولوں و افکار اور تعلیمات و نظریات کو اپنا شعار و طریقہ کار بنایا ہے-
فلسطین میں "اخوان المسلمون" کی فکری اور تحریکی جانشین کا رول 'حماس' نے ہی ادا کیا۔ یہی حماس فلسطین میں اخوان المسلمون کے تسلسل کا حق ادا کرتے ہوئے عوام کی نمایاں ترین جماعت بن گئی ہے۔حماس نے اپنی تشکیل کے تھوڑے ہی عرصے بعد اپنے آپ کو ’’اخوان المسلمون‘‘ کا حصہ قرار دیا‘ تہذیبی، تاریخی، نظریاتی اور تحریکی و تنظیمی تعلقات کو اخوان کے ساتھ ضروری قرار دیا- تحریک حماس نے اپنی سرگرمیوں میں افراد، خاندان اور معاشرے کی تربیت کو سرفہرست قرار دیا ہے تاکہ اسلامی حکومت کی تشکیل کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ حماس کا ابتدا میں فلسطین پر قابض صہیونی فوجوں سے مقابلے کا خیال نہ تھا۔ تاہم بعد میں اس نے مسلح جدوجہد کا آغاز غاصب صہیونیوں کے بڑھتے ہوئے مسلسل ظلم و ستم کے نتیجے میں کیا۔ حماس کے فکر و نظریات کی ابتدائی بنیادیں سنہ ۱۹۳۰ء اور سنہ ۱۹۴۰ء کے عشروں میں رکھی گئیں جب اخوان المسلمون کی شاخیں یافہ، حیفہ، مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ میں قائم کی گئیں۔ لیکن باضابطہ اعلان سنہ 1987ء میں کیا گیا۔ حماس عرب ممالک اور اسلام کی تحریکوں کے اثرات کا نتجہ ہے۔ سنہ 1936ء میں فلسطین میں عزالدین القسام نے برطانوی استبداد کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ حماس کے قیام کے پیچھے اخوان المسلمون، سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطین پر صہیونی یلغار کے اثرات اور سنہ 1968ء سے قبل ہونے والی جنگ اور اس کے بعد کے حالات کے نتیجے میں حماس کا قیام ناگزیر تھا۔
صہیونیوں کی احسان فراموشی:
قضیہ فلسطین کے واحد حل کے متعلق اخوان المسلمون اور حماس کا مشترکہ نظریہ یہی ہے کہ جلاوطن کئے گئے اصل فلسطینیوں کو دوبارہ فلسطین میں لاکر بسایا جائے اور دنیا بھر سے نکالے گئے یہودیوں کو، جنہیں امن و سکون کی زندگی مسلمانوں نے پناہ دے کر میسر کی، ان مکار اور احسان فراموش یہودیوں کو جنہیں دنیا بھر سے بڑی بڑی سازشیں کرکے ریاست اسرائیل کے نام پر جمع کرکے فلسطین کی سرزمین پر لاکر بسایا گیا، انہیں فلسطین کی مقدس سرزمین سے بےدخل کردیا جائے تب جاکر فلسطین میں امن و سکون کا ماحول سازگار ہوگا۔
حماس کا موقف:
حماس کا سب سے بنیادی موقف و مقصد صہیونی اسرائیلی فوج کو مقبوضہ فلسطین کی سرزمین سے بے دخل کرنا تھا۔ حماس کی منزل فلسطین کی آزادی ہے۔ آج بھی حماس کا موقف وہی ہے جو قیام کے وقت رہا۔ تحریک حماس کا بنیادی جُز عسکری مزاحمت ہی ہے۔ حماس کی تاریخ گواہ ہے کہ حماس نے کبھی عسکری مزاحمت ترک نہیں کی۔ حماس نے اتحادی بھی نہیں بدلے۔ حماس کے موجودہ رہنما فخر اسلام والمسلمین صہیونیوں کے دانت کھٹے کرنے والا مردحر اسمعیل ہانیہ نے اعلان کیا کہ " مسجد اقصیٰ ہمارا قبلہ اوّل، ہماری شناخت اور ہمارا ایمان ہے۔ ہم نے دشمن کو بارہا اپنے ناپاک ہاتھ مسجد اقصیٰ سے دُور رکھنے کی تنبیہ کی ہے"۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت ہماری اسٹریٹجک ترجیح ہے۔ موجودہ جدوجہد بیت المقدس، مسجد اقصیٰ، شیخ جراح اور مہاجرین کی واپسی کے حق کے لئے کی جا رہی ہے۔ القدس اور مسجد اقصیٰ صیہونیت کے خلاف جدوجہد کی بنیاد ہیں۔" صہیونیت پر مزید مطالعہ کے لئے میرے تفصیلی مضمون "صہیونیت" کا مطالعہ ضرور کریں۔
حماس نے اپنے موقف کے ذریعے پوری دنیا کو یہ باور کرایا کہ مسئلہ فلسطین، فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ امت مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ باہر سے آئے ہوئے غاصب صہیونیوں کا فلسطین کی سرزمین پر کوئی حق نہیں ہے- اور قبلہ اول مسجد اقصٰی، پر تمام عالم میں بسنے والے مسلمانوں کا حق ہے۔
حماس کے سابق سربراہ خالد مشعل کی تقریر محض تقریر نہیں بلکہ حماس کے وژن اور حماس کی سیاسی فکر کے حوالے سے اہم دستاویز بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس میں فلسطینی کاز کے حوالے سے حماس کی فکر اور اس کے اطلاق سے متعلق تصورات کا پتا چلتا ہے۔ خالد مشعل نے تقریر میں عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر کا تجزیہ کرتے ہوئے اس حوالے سے حماس کے ممکنہ کردار پر بحث کی ہے۔ آخر میں انہوں نے عرب بہار والے ممالک اور حماس کو درپیش چیلنجز کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ حماس غاصب اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی۔ حماس فلسطینی بستیوں میں بسائی گئی یہودی ریاست کے وجود سے بھی انکاری ہے۔ مگر دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے متعلق حماس کا موقف یہ ہے کہ "حماس کا ایمان ہے کہ اسلام اتحاد، مساوات، تحمل، بردباری اور آزادی کا مذہب ہے۔ یہ انسانی ہمدردی اور تہذیب کا مذہب ہے یہ کسی کا مخالف نہیں جب تک کہ کوئی امت مسلمہ کے خلاف معاندانہ رویہ اختیار نہ کرے۔ حماس عیسائیوں کو بھی اپنا ہم وطن اور فلسطینی عوام کا جزولاینفک سمجھتی ہے۔ انہیں سارے حقوق حاصل ہیں اوران پر بھی ساری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
حماس کے نظریات:
حماس کے مطابق فلسطین کی مکمل آزادی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک فلسطینی، عرب اور اسلامی حلقے مل کر جدوجہد نہیں کرتے۔ 'فلسطینی حلقہ' جو کہ صہیونیوں سے آزادی کی جنگ میں ہر اول دستہ ہے۔ اس کا کردار جہاد کے شعلے کو روشن رکھنا ہے تاکہ قومی پروگرام میں یہ مسئلہ زندہ رہے۔ 'عالم عرب حلقہ' اس کی وجہ یہ ہے کہ صہیونی منصوبہ پوری عرب امت کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ امت کے اندر عرب وہ قوت مضمر ہے جس پر آزادی کے کام کا انحصار ہے۔ 'عالم اسلامی حلقہ' مسئلہ فلسطین عرب کی طرح دنیا کے ہر مسلمان کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا فلسطینی عوام اور عرب امت فلسطین کو آزاد کرانے اور صہیونی ریاست کے خاتمے کے لیے جو کوششیں کریں امت مسلمہ کو اس کی مدد کرنی چاہیے۔ یعنی تحریک فلسطین یا مسئلہ فلسطین کے صف اول پر فلسطینی مسلمان ہوں گے اور صہیونیت نواز اسرائیل ان کا ہدف ہوگا، پس پشت پر عالم عرب اور عالم اسلام ہوگا۔ اس تحریک سے عالم عرب اور ملت اسلامیہ کے درمیان ایک وحدت قائم ہوگی- یہی حماس کا طریقہ کار اور اہم مقصد ہے-
حماس کی جہادی و عسکری مزاحمت:
آخر وہ کون سا نسخہ کیمیا یا پر اسرار قوت حماس میں در آئی جس کہ نتیجہ میں صہیونیت نواز اسرائیل اور ان کے ہمنواؤں کا ٹولہ دہشت زدہ ہوکر شکست تسلیم کرنے پر بار بار مجبور ہوجاتا ہے۔ یہ اللّٰه کے دین کی مدد "جہاد فی سبیل اللّٰہ" ہی ہے، جس کے نتیجے میں دوبارہ حق آرہا ہے اور باطل مٹ رہا ہے۔ یہی راستہ محمد عربیﷺ نے منتجب کیا، اور قیامت تک اسی راہ پر چلنے سے فتح و نصرت اہل ایمان کا مقدر ہوگی۔ اور آج حماس اس راستے پر گامزن ہے۔
تحریک حماس کی عسکری قوتوں (السواعد الرضیتہ) نے مشترک طور پر زمینی و میدانی جہاد کے طریقہ کار کو طئے کرتے ہوئے غاصب صہیونیوں کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں بار بار شکست قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔ حماس عسکریت پسند، اسلامی سیاسی جماعت اور سماجی تنظیم ہے۔ حماس کی سیاسی قیادت کا بار اسمعیل ہانیہ کے بازوؤں پر آیا۔ جبکہ ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق اور خلیل الحیہ کو حماس کے نائب سربراہ اور یحییٰ السنوار، صالح العاروی، خلیل الحیہ، محمد نزال، ماہر عبید، عزت الرشق اور فتحی حماد کو جماعت کے سیاسی شعبے کے رکن مقرر کیا گیا۔ حماس انتظامی طور پر دو بنیادی گروہوں میں منقسم ہے : اول "معاشرتی امور" جیسے کہ اسکولوں، ہسپتالوں اور مذہبی اداروں کی تعمیر وغیرہ۔ حماس نے مہاجرین کے کیمپوں اور گاؤں میں شفاخانے اور اسکول قائم کیے جہاں فلسطینیوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ دوم فلسطین اور مسجد اقصٰی کی حفاظت کے لیے عسکریت پسند کارروائی۔ اس قسم کی کاروائیاں زیادہ تر فلسطین کی زیر زمین "عِزُّالدّین القِسام بریگیڈ" سر انجام دیتی ہے۔
موجودہ صورتحال کا مقابلہ بھی روح جہاد فی سبیل اللّٰہ کو جاری رکھ کر کیا گیا۔ حالیہ معرکہ آرائیوں کے پیچھے بھی صہیونی افواج اور ان کی دہشت گرد تنظیموں کا ہاتھ ہے۔ غاصب اسرائیلی فوج نے مسجد اقصٰی پورا احاطہ سیل کرکے وہاں فوج تعینات کردی۔ جرائم پیشہ صیہونی دشمن کی جانب سے فلسطین کے نہتے عوام کے خلاف ہر طرح کے ممنوعہ ہتھیاروں کا دن و رات استعمال کیا جانا اور مختلف علاقوں منجملہ بیت المقدس، شیخ جراح اور غزہ سمیت تمام علاقوں میں ہر قسم کے وحشیانہ ترین جرائم کا ارتکاب کیا جانا۔ اسی موقع سے حماس نے اپنی موجودگی کا ثبوت دیتے ہوئے اسرائیل کو ایک گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے 3 مطالبات رکھے۔ اول شام کو 6 بجے سے پہلے اسرائیلی فوج کو مسجد اقصیٰ کے احاطے سے نکالا جائے۔ دوم گرفتار مسلمانوں کی فوری طور پر رہائی اور سوم شیخ الجراح میں جاری آپریشن فوری طور پر روکا جائے۔ حماس نے یہ بھی کہا کہ مطالبات نہ ماننے کی صورت میں حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ اسرائیل نے حماس کے جائز مطالبات کو منظور کرنے سے انکار کیا اور شیخ الجراح میں وحشیانہ طاقت کا اندھا استعمال کرتے ہوئے آپریشن کو مزید تیز کردیا۔ جس کے نتیجے میں شام کو 6 بجے کے بعد غزہ کے مختلف مقامات سے حماس نے ایک سو سے زائد راکٹس اسرائیل کی جانب یکے بعد دیگرے فائر کیے۔ ان میں سے 70 فیصد راکٹس کو اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم آئرن ڈوم نے فضا میں ہی تباہ کردیا۔ لیکن جو 30 فیصد راکٹس اسرائیل میں گرے اس سے اسرائیلیوں کے ہوش اڑ گئے۔ حماس اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ اسرائیل نے بدحواسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سویلین کی آبادی پر حملہ کیا۔ تاہم یہاں ایک خاص بات آئرن ڈوم کا فیل ہونا ہے۔ اس وقت جدید ترین آئرن ڈوم سنہ 2021ء میں مختلف تجربات کے بعد اسرائیلی فوج کے حوالے کیا گیا ہے اور ایسے 12 سسٹم اسرائیل کے مختلف مقامات پر نصب ہیں۔
حماس کئی برسوں سے ایران کے فراہم کردہ راکٹوں پر انحصار کرتی رہی ہے۔ غزہ میں ایرانی راکٹس سوڈان اور مصر کے ذریعے خرید کر سمگل کیے جاتے تھے۔ تاہم سنہ 2019ء میں سوڈان سے عمر البشیر کے اقتدار کے خاتمے کے بعد یہ کام مشکل ہوچکا ہے۔ کہا جاتا ہے حماس اب بیرونی تعاون کے ساتھ اپنے زیادہ تر میزائل غزہ پٹی ہی میں بنا رہی ہے۔
دوسری جانب حماس کے پاس دیسی ساختہ راکٹس ہوتے ہیں، جو کہ مقامی ورکشاپس میں کئی عشروں پرانی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے خام لوہے یا لوہے کے پائپوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ حماس نے ابتدا میں جب راکٹ حملے شروع کیے تو ان کی رینج ایک کلومیٹر تھی، جو کہ اب بہت بہتر ہوکر 250 کلومیٹر تک ہوچکی ہے، بلکہ اطلاعات کے مطابق حماس کے پاس اس وقت میڈیم اور لانگ رینج راکٹس بھی موجود ہیں۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ حماس کے پاس گائیڈڈ میزائل موجود ہیں۔ اس حوالے سے حماس نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو وہ اس گائیڈڈ میزائل سے اسرائیل کے نیوکلیئر ری ایکٹر کو نشانہ بنائے گا۔ لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ حماس دیسی ساختہ راکٹس سے آئرن ڈوم کا توڑ کرچکا ہے، تو یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر گائیڈڈ میزائل فائر ہوتا ہے تو اسرائیل میں کیسی تباہی آسکتی ہے۔ اسرائیل بھی اس خطرے کو سمجھتا ہے۔ اسی لئے اس نے امریکہ اور مصر کے ذریعے اپنی پرانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جنگ بندی کروائی۔ لیکن اسرائیل نے کب معاہدے کا پاس و لحاظ رکھا ہے۔ مسلمانوں پر اب بھی حملے کررہا ہے۔ اسلام کہتا ہے اگر معاہدین عہدشکنی کریں تو ان سے جنگ جائز ہوجاتی ہے۔ جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی عہدشکنی حماس کو جواز فراہم کررہی ہیں۔
روس کے نائب وزیر خارجہ اور صدر ولادےمیر پیوٹن کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے کے لیے خصوصی ایلچی میخائل بوگدانوف نے غزہ میں حماس اور اسرائیل کے مابین شدید لڑائی کے حوالے سے بیان میں کہا ہے کہ صہیونی فوج محصور علاقے غزہ میں بم باری کے دوران تحریک حماس کی عسکری صلاحیت کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکی اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی دفاعی صلاحیت حیران کن ہے، جنہوں نے راکٹوں سے اسرائیل کے نئے علاقوں کو نشانہ بنا کر اپنی دفاعی کار کردگی کا ثبوت پیش کیا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کا خیال تھا کہ وہ شدید بمباری سے غزہ میں حماس کی عسکری صلاحیت کو تباہ کردے گا، مگر اسرائیل اپنے اس مشن میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔
حماس کے سیاسی و سفارتی محاذ:
حماس اپنی جدو جہد کے لیے عسکری و جہادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ابلاغی، سیاسی اور سفارتی محاذوں پر بھی کامیابی کے ساتھ کام کررہی ہے۔ سنہ 2006ء جنوری اور مارچ کو فلسطین میں پارلیمانی انتخابات اور بلدیاتی انتخابات میں حماس کو بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل ہوئی۔ قطر حماس کا سب سے اہم اتحادی اور اسے سب سے زیادہ مالی معاونت فراہم کرنے والا ملک ہے۔ حماس کو ترکی کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ حماس کو کئی غیر ریاستی اداروں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ مصر، تیونس اور مراکش سے حماس کے تعلقات کو نئی جہت ملی ہے۔ خیال رہے کہ چند روز قبل روس کے نائب وزیر خارجہ نے بین الاقوامی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینی تنظیموں حماس اور تحریک الفتح کی قیادت مسئلہ فلسطین کے کچھ اہم پہلوؤں پر بات چیت کے لیے عن قریب ماسکو کا دورہ کرے گی۔
چند عشروں کے دوران حماس نے عرب دنیا کے بیشتر ممالک سے تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ حالانکہ عرب بہار نے ان تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے میں اہم کردار بھی ادا کیا ہے۔ عرب بہار اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات نے حماس کے روڈ میپ کو تبدیل کرنے کی ضرورت بھی بڑھا دی ہے۔ جس کے نتیجے میں حماس کی اس محاذ پر ذمّہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔
جب کہ عوامی بیداری کی لہر ’’عرب اسپرنگ‘‘ نے حماس اور دیگر فلسطینی تحاریک کو مل کر کام کرنے کا موقع فراہم کئے ہیں۔ ایک ایسے ماحول کی تیاری ضروری ہے جس میں عرب دنیا مجموعی طور پر عسکری مزاحمت کو اپنائے۔ اسی طور فلسطینی کاز کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
حماس اوروں کی عیاری کے نرغے میں:
حالانکہ صہیونی اسرائیلی اخبار "ہارٹس" کی شائع کردہ ایک خبر کے مطابق اسرائیلی فوج اور اسرائیلی انٹیلیجنس نے ایک تجویز پیش کی کہ حماس کو تباہ و برباد کرنے کے لئے تحریک حماس کی زیرِ نگرانی میں جاری و ساری تمام تعلیمی ادارے، ہیلتھ کلبس، رفاہی اداروں کو بند کردیا جائے، اور اس کی دیگر تنظیموں اور "الجمعیۃ الخیریتہ" جیسے اداروں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے۔ یعنی باطل کے دل میں مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی اجتماعیت کا کتنا خوف ہوتا ہے، جس کا اظہار موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی کیا ہے کہ جب تک خطے کے ممالک اسرائیل کے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر وجود کو تسلیم نہیں کرتے اس وقت تک دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔
تاریخ شاہد ہے کہ باطل کو حق ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اس کی مثال جو بائیڈن کا حالیہ بیان ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کا اعلان ہے کہ وہ غزہ میں بحالی اور تباہ شدہ ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے حماس کے بجائے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ خیال رہے کہ غزہ حماس کے زیرِ اثر ہے جب کہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کا اثر و رسوخ ہے۔
متحدہ عرب امارات (UAE) نے بھی طوطے کی رٹی رٹائی بولی کے ذریعے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم غزہ کو براہ راست امداد فراہم کرنے اور تعمیر نو میں مدد کرنے کی پیش کش کرتے ہیں بشرطیکہ حماس کا تعمیر نو میں کوئی کردار اور حصہ نہ ہو اور حماس مداخلت نہ کرے۔ یہ ساری باتیں اس بات کا ثبوت ہیں حماس سے باطل قوتوں کے ساتھ ہمارے اپنے بھی خائف ہیں۔
ہم دنیا میں ایک تبدیلی دیکھ رہے ہیں کہ ساری دنیا ایک global village بن گئی ہے تو یہ اسی نور توحید کے اتمام کی تیاری ہے جو مشیت خداوندی کے ذریعے کی جارہی ہے اور یہ نیا عالمی نظام New World Order کا نعرہ ہے ،یہ اصلاً صہیونی عالمی نظام (Zionist World Order) کا نعرہ ہے جس نے پوری دنیا کو بالعموم اور امت مسلمہ کو بالخصوص اپنے شیطانی نرغے میں لے رکھا ہے، مگر حقیقت میں اسلام کا منصفانہ نظام آنے والا ہے۔ ارشاد نبویؐ میں پوری انسانی تاریخ کو پانچ ادوار میں منقسم کیا گیا ہے جس کی ابتداء نبوت و رحمت اور جس کی انتہا خلافت علیٰ منہاج النبوہ ہے۔
اہل ایمان کے لئے غلبہ اسلام کی بشارت:
غلبہ دین کی بشارت کے ضمن میں واضح احادیث موجود ہیں۔ ایک تو وہ حدیث ہے جو مسند احمد میں موجود ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضورؐ اکرم نے فرمایا: ’’دنیا میں نہ کوئی مکان باقی رہے گا نہ کوئی خیمہ، جس میں اللّٰه اسلام کو داخل نہیں کرے گا‘‘۔ دورِ حاضر کے اس مرحلے پر غلبۂ دین کی بشارتوں کی تکمیل کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے والے خوش نصیب افراد کے بارے میں بھی نبی کریمﷺ سے بڑی خوش خبریاں منقول ہیں۔ مثلاً آپؐ نے فرمایا: ’’میری اُمت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت رکھنے والے لوگ میرے بعد ہوں گے ،ان میں سے کوئی تمنا کرے گا کہ کاش! اپنے اہل وعیال کے بدلے مجھے دیکھے‘‘۔ ایک موقع پر نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’کاش! میں اپنے بھائیوں کو دیکھ پاتا، انہیں میرا سلام پہونچا دو۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا، ہم آپؐ کے بھائی نہیں۔ آپؐ نے فرمایا ’انتم اصحابی‘ تم تو میرے دوست ہو، میرے بھائی تو وہ ہیں جو بعد کے زمانے میں آئیں گے۔‘‘ ایسے نامساعد حالات میں وہ لوگ غلبہ اسلام کی سعی و جہد کریں گے کہ اسلام پر چلنا ہاتھ پے انگارے لے کر چلنے کے مترادف ہوگا۔
بشارتوں کی تاریخ میں یہ پہلو بڑا عبرتناک ہے کہ مسلمانوں میں بعض گروہ صرف بشارتوں کو بیان کریں گے، ان اوصاف کو اپنے اندر پیدا نہیں کریں گے جو غلبۂ دین کے لئے مطلوب ہیں۔ ایک گروہ غلبہ اسلام کی عملی صورت کے ساتھ میدان جہاد میں حصہ لے گا اور لعن طعن کرنے والے کی پرواہ کئے اپنی مزاحمت و جہاد فی سبیل اللّٰہ کو جاری و ساری رکھے گا۔ سورہ المائدہ میں اللّٰه فرماتا ہے ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو۔ اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے تو پھر جائے، اللّٰه دوسرے بہت سے ایسے لوگوں کو پیدا کردے گا جو اللّٰه کو محبوب ہوں گے اور اللّٰه اُن کو محبوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللّٰه کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے، یہ اللّٰه کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔"
سادگی اپنوں کی تو دیکھ:
آج ہم اگر ہمارے مسلم معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ایک گروہ ہمیں نظر آئے گا جو عملی جہاد فی سبیل کرنے والوں پر لعن طعن کا سلسلہ جارہی رکھے ہوئے ہیں، انہیں قابلِ ملامت ٹھہرایا جارہا ہے۔ ان کی سرگرمیوں کو شک کی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے۔ ان کے عقیدے و ایمان کو مشکوک بنایا جارہا ہے۔ انہیں ہی باطل قوتوں کا آلہ کار بتایا جارہا ہے۔ خدارا! ان تحریکات کی داستان عزیمت کا کھولی آنکھوں سے جائزہ لو، ان شاء اللّٰہ! حقیقت آپ پر عیاں ہو جائے گی۔
ایئر لینڈ کے چیف ربی ڈیوڈ روزن اسرائیل کی چیف ربائیٹ یعنی مذہبی امور کے رکن ہیں اور امریکی جیوش کونسل (اے جے سی) کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، یہ واشنگٹن میں طاقتور ترین لابی ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حماس کا رویہ کسی بھی طرح امن مساعی میں رکاوٹ نہیں ہے۔
اللّٰه کے واسطے اب تو حماس کے عقیدے و ایمان اور خلوص و للہیت پر الزام نہ لگاؤ، کچھ تو اللّٰه کا خوف رکھو۔ پیٹرو ڈالر نے تو حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دینے کے قابل بھی نہ رکھا۔ کم از کم شعائر اللّٰه اور شعائر اسلام کی حرمت، اللّٰه کے معبود خانوں، لٹتی ہوئی عفت مآب ماؤں و بہنوں کی عصمت اور معصوم شہید ہونے والے بچوں کی حرمت کا تو پاس و لحاظ رکھو۔ اللّٰه کے لئے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاؤ۔ کیونکہ اللّٰه کا لشکر غالب ہونے کے لئے ہی آیا ہے۔ اسلام کے اعلیٰ مقاصد و عزائم کے لئے کام کرنے والی نظریاتی تحریکوں کو ابتلاء و آزمائش کے مرحلوں یعنی زندانوں، دار و رسن، آل و اولاد کی قربانیاں، رشتہ داروں کی قربانی، مال و دولت کی قربانیاں، حجرت کے مراحل، مفلسی و جلاوطنی، دشمنوں کی نفرتیں اور اپنوں کی طعن و تشنیع کی سعوبتوں کو انگیز کرنا ہی پڑتا ہے۔ میرے نزدیک آزمائش اپنی دعوت و جہاد کی کارکردگی کو ناپنے کا پیمانہ ہے۔ الحمد اللّٰہ! حماس نے عزیمتوں کی داستانیں رقم کرتے ہوئے ان سارے مراحل کو طے کرکے فتح و نصرت کے دروازے تک پہنچ گئی ہے۔ ان شاء اللّٰہ! فتح و نصرت اہل ایمان کا مقدر ہوگی۔
(30.05.2021)
©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
Comments
Post a Comment