افغان باقی! کہسار باقی! اَلْحُکْمُ لِلّٰہ! اَلْمُلْکُ لِلّٰہ!

              افغان باقی! کہسار باقی!
                اَلْحُکْمُ لِلّٰہ! اَلْمُلْکُ لِلّٰہ!

              بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

            ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
                   09422724040

     افغانستان کا پورا نام اسلامی جمہوریہ افغانستان ہے اور اس کی دفتری زبان پشتو اور داری فارسی ہیں۔ یہاں کی 99 فیصد آبادی اسلام کی ماننے والی ہے۔ لیکن یہاں مقیم لوگوں کی اکثریت پشتون ہے جو کہ 42 فیصد پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 27 فیصد تاجک، 9 فیصد ہزارہ، 9 فیصد ازبک و باقی ماندہ تعداد بلوچوں و دیگر اقلیتوں کی ہے۔

     افغانستان ایشیا میں اس کے دلکش محل وقوع و متنوع قومیتوں کی وجہ سے نہایت اہميت کا حامل ہے۔ وسط ایشیائی و جنوبی ایشیا کے وسط میں معدنیات سے مالا مال خطۂ ارض ہے، جو ایک طویل عرصۂ دراز سے عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کی ایک جانب وسط ایشیائی ریاستیں ہیں تو دوسرے جانب اسلامی جمہوریہ ایران و پاکستان ہے۔ یعنی پاکستان، چین، ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے ساتھ ملتی سرحدیں یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ افغانستان کو ایشیا میں وہی مقام حاصل ہے جو انسانی جسم میں دل کو۔ یہ برصغیر وسط ایشیا اور خلیج کے لئے تجارتی شاہراہوں کا بھی سنگم ہے۔ 3 کروڑ 20 لاکھ جنگجو نفوس پر مشتمل یہ کرہ ارض اپنی نظیر آپ ہے۔

  اپنی اس سماجی و سیاسی اہمیت کی بنیاد پر افغانستان تاریخ میں ہمیشہ سے بیرونی جارحیت کا شکار رہا ہے۔ کئی عالمی طاقتوں نے اپنی طاقت کو آزمانے کے لئے اس کوہستانی علاقے کو تختۂ مشق بنایا ہے۔ مگر آخر کار غیور افغانوں کے ناقابل شکست عزم سے شکست کھائی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اللّٰہ رب العالمین نے افغان مجاہدین سے وقت کی بڑی طاقتوں اور سپرپاور ممالک کو قدموں کی دھول چٹائی ہے اور نتیجے میں یہ سپرپاور طاقتیں شکست کھانے کے بعد خود ہی تقسیم ہوگئیں ہیں۔

سپرپاور کا صفر پاور تک کا سفر:

     19 ویں صدی میں برطانوی سلطنت، جو اس وقت دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی، اس نے اپنی پوری طاقت سے اسے فتح کرنے کی کوشش کی۔ لیکن سنہ 1919 میں برطانیہ کو بالآخر افغانستان چھوڑ کر جانا پڑا اور افغانوں کو آزادی دینی پڑی۔

     اس کے بعد سوویت یونین نے سنہ 1979 میں افغانستان پر حملہ کیا۔ اس کا ارادہ یہ تھا کہ سنہ 1978 میں بغاوت کے ذریعے قائم کی گئی کمیونسٹ حکومت کو گرنے سے بچایا جائے۔ لیکن انھیں یہ سمجھنے میں دس سال لگے کہ وہ یہ جنگ نہیں جیت پائیں گے۔

     امریکہ نے 9/11 کے حملوں کے بعد افغانستان میں اسلامی امارت کی حمایت اور القاعدہ کے خاتمے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا۔ لیکن وہ بھی انجام سے ناواقف تھا، اسے بھی کیا پتہ کہ طاقت و اقتدار کے نشے میں مست بڑی بڑی حکومتوں کو اہل ایمان کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہونا پڑا ہے۔ یہ محض اللّٰہ کی مدد ہے جس کی وجہ سے افغانستان کی کٹھ پتلی 3 لاکھ تربیت یافتہ فوج 60 ہزار طالبان کے سامنے سرنگوں ہوگئی۔ امریکہ کی دم چھلہ افغان نیشنل آرمی فی الحقیقت افغان طالبان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہُوئی ہے۔ تاریخ کے آئینے میں اگر دیکھیں تو افغانستان وقت کی بڑی بڑی سپرپاور طاقتوں کا قبرستان بنا ہوا ہے۔ مرحوم حمید گل نے کہا تھا ’’جب تاریخ رقم ہوگی تو لکھا جائے گا کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے روس کو شکست دی اور پھر لکھا جائے گا کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کے ذریعے ہی امریکہ کو شکست دیدی‘‘۔ آج دو دہائیوں بعد مرحوم کی پیشن گوئی درست ثابت ہوئی اور دنیا کی سپر پاور کہلوانے والا امریکہ افغان سرزمین سے دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہوگیا۔

     افغانوں کی تاریخ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اسلام افغانستان میں خلفائے راشدین کے دور میں ہی پہنچ گیا تھا۔ خلفائے راشدین کے دور میں ہی خراسان فتح ہوا۔ تاریخی لحاظ سے یہاں سے بہت سی اسلامی سلطنتوں نے عروج حاصل کیا جس میں غزنوی و غوری، خلجی، خوارزمی، لودھی اور مغل سر فہرست و نمایاں ہیں۔ غیاث الدین غوری(1163ء)، ظہیر الدین بابر، احمد شاہ ابدالی(1747ء)، اورنگزیب عالمگیر جیسے لوگ افغانستان کے حکمران رہے ہیں۔ یہاں کی سرزمین نے جفاکش و ایمان کی دولت سے لبریز مجاہد اسلام پیدا کئے ہیں۔ یہی "پہاڑوں کے بیٹے" جہادِ افغانستان کا آئینہ دار بھی ہیں۔

      لیکن افغانستان کا المیہ یہ رہا کہ یہاں اقتدار پر قابض نام نہاد مسلم حکمراں رہے ہیں۔ ہمیں افغانستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کرنا ہوگا جس سے یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ باطل قوتیں اور ان کا باطل میڈیا جو الزامات لگارہا ہے کہ مسلمان آپس میں ہی دست و گریباں ہوگئے ہیں، ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں۔ اقتدار کے لئے خونریزی کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان بےبنیاد الزامات کو سمجھنے کے لئے افغانستان کا تاریخی پس منظر نظروں کے سامنے پیش کرنا ہوگا تب جاکر کسی فیصلہ کن نتیجے پر پہنچا جاسکے گا۔

افغانستان کا تاریخی پس منظر:

      نادر خان (پیدائش: دہرادون، انتقال: کابل،  دورِ اقتدار: 1929ء۔ 1933ء) نے نادر شاہ کے نام سے 1929ء میں افغانستان کا تخت سنبھالا۔ مگر 1933ء میں کابل کے ایک طالب علم نے اسے قتل کر دیا جس کے بعد اس کا انیس سالہ بیٹا ظاہر شاہ بادشاہ بن گیا۔ ظاہر شاہ (پیدائش و انتقال: کابل، دورِ اقتدار: 1933ء۔ 1973ء ) 40 سال تک افغانستان پر حکمران رہا۔ وہ 1973ء میں علاج کی غرض سے اٹلی روانہ ہوئے۔ اس وقت ظاہر شاہ کے رشتے کے بھائی محمد داؤد خان نے اسے معزول کرنے کی سازش رچی۔ داؤد خان کو افغان فوج اور افغانستان کے کمیونسٹ عناصر کی طرف جھکاؤ رکھنے والی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت حاصل تھی۔ داؤد خان (پیدائش و ماورائے عدالت قتل: کابل، دورِ اقتدار: 1973ء- 1978ء) نے ایک کامیاب بغاوت کی اور اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ داؤد کی حکومت اور فورسز نے پختون زلمے اور نوجوان بلوچیوں کو پاکستان میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے لئے تربیت دینا بھی شروع کی۔

     افغان کمیونسٹ سیاست دان حفیظ اللّٰہ امین جو کہ داؤد کے حکم پر نظر بند تھا، اس نے اپریل 1978ء کے درمیان افغان فوج کے اندر کمیونسٹ سلیپر سیلز کو متحرک کیا۔ اس کے بعد "سؤور ریولیشن" نامی بغاوت میں داؤد خان اور اس کے خاندان کے بیشتر افراد کا قتل عام کروا دیا۔ حفیظ اللّٰہ امین (پیدائش: پیغمان نے باقاعدہ طور پر ایوان صدر کا اقتدار سنبھال لیا۔ لیکن وہ جلد ہی اپنے کے جی بی کے ہینڈلرز کا اعتماد کھو بیٹھا۔ 1979ء کے اوائل تک، افغانستان کے 28 میں سے 25 صوبے امین حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کی وجہ سے غیر مستحکم ہوچُکے تھے۔ 29 مارچ 1979ء کو ہرات کی بغاوت شروع ہوئی۔ اس بغاوت نے مجاہدین کی مزاحمت کو افغان حکومت کے خلاف کھلی جنگ میں تبدیل کردیا۔ 27 دسمبر 1979ء کو امین اور اس کے خاندان کے افراد کو کے جی بی اسپیٹسنز نے ایک آپریشن کے دوران قتل کر دیا۔

     کابل میں روس نواز کمیونسٹ حکومت جس کا سربراہ ببرک کارمل (پیدائش: کابل،  انتقال: ماسکو، دورِ اقتدار: 1979ء - 1986ء) تھا۔ اس نے روس کی حمایت سے 6 سال تک 1 لاکھ 20 ہزار، 40 ویں ریڈ آرمی فوجیوں کے ذریعے وحشیانہ و خونریز زمینی لڑائی میں 20 لاکھ (2 ملین) سے زیادہ افغانیوں کو ہلاک کیا اور 70 لاکھ سے زائد افراد کو بےگھر کیا گیا۔ افغان مجاہدین اپنے کمیونسٹ افغان فوجی اتحادیوں کے ساتھ  40 ویں ریڈ آرمی کو شکست دے کر گھٹنوں تک لے آئے۔ افغان مسلم قوم نے اپنے آباء و اجداد کی طرح اس غیر ملکی جارحیت کے خلاف زبردست ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جہادی سرگرمیوں کو مزید تیز کردیا۔ اس وقت کسی کو یقین نہیں تھا کہ غیر تربیت یافتہ اور معاشی طور پر کمزور افغان، اعلیٰ تربیت یافتہ، جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس پیشہ ور ریڈ آرمی کے خلاف میدان جہاد میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ریڈ آرمی کو ناقابلِ تسخیر فوج تصور کیا جاتا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ جنگ اور دباؤ میں بھی مسلمانوں نے ہمیشہ صرف اور صرف اللّٰہ پر اعتماد کو برقرار رکھا ہے، نہ کہ مادی اشیاء پر۔ اہل ایمان کے نزدیک مسبب الاسباب اللّٰہ کی ذات ہی ہے، وہ پردۂ غیب سے اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ مسلمانوں کے دل میں ایمان ایک ایسا ہتھیار ہے جو تمام ہتھیاروں پر بھاری ہے ریڈ آرمی نے مسلمانوں کے اس ہتھیار کو ختم کرنے کے لئے ہر طرح کے حربے آزمائے مگر ہمیشہ ناکام رہے۔ افغانوں کے جہاد کی دنیا بھر کے مسلمانوں نے حمایت کی اور اسی کی بدولت ریڈ آرمی کو ہزیمت اٹھا کر افغانستان سے نکلنا پڑا۔ روس کی یہ شکست کمیونزم اور ماسکو کے پنجوں سے کئی مشرقی یورپی ممالک کی بھی آزادی کا باعث بنی۔ اس کے بعد افغانستان کی انٹیلی جنس KHAD کے کمیونسٹ چیف میجر جنرل محمد نجیب اللّٰہ (پیدائش: گردیز، پھانسی: کابل، دورِ اقتدار: 1987ء - 1992ء) کو تک اقتدار سونپا گیا۔

     14 اپریل 1988ء کو افغان اور پاکستانی حکومتوں نے جنیوا کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت سوویت فوج کو 15 فروری 1989ء تک افغانستان سے نکلنا تھا، اور اسی درمیان سوویت یونین کا شیرازہ پاش پاش ہوگیا۔ اس طرح افغانستان میں ایک سفاکانہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔ اسی درمیان مجاہدین نے اپنے محاذ کی ابتداء کی اور دوبارہ افغانستان کے اہم علاقوں پر فتح نصیب کرنا شروع کی۔

      سوویت یونین کی تربیت یافتہ حکومت کے خلاف، کابل سے مجاہدین کی تحریک نے ابتداء کی۔ مجاہدین کی اس تحریک نے نہ صرف سوویت یونین کی افواج کو شکست دی، بلکہ بعد میں کابل کی حکومت اور اس کے ازبک اتحادیوں کے خلاف نو آبادیاتی خانہ جنگی کا مقابلہ کیا۔ مجاہدین کے مختلف گروپوں کے مابین ہونے والی لڑائی کے ردعمل میں ملا محمد عمر نے ایک امیر کی حیثیت سے مجاہدین کے اتحاد کی کوشش کی جسے تحریک طالبان کا نام دیا گیا۔ 1996ء میں طالبان نے کابل فتح کیا۔

ملا محمد عمر کون ہیں؟:

     1960ء میں افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں ملا محمد عمر ( اقتدار: 1996ء- 2001ء) کی پیدائش ہوئی۔ انھوں نے 1980ء کی دہائی میں افغان مجاہدین کے ساتھ سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی اور لڑائی کے دوران اپنی دائیں آنکھ سے محروم ہوگئے۔ 1989ء میں سوویت یونین کے جانے کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے میں واپس آگئے اور بطور موذن اور استاد فرائض انجام دینے شروع کیے، ان کے بہت سے طلبہ بعد میں طالبان بنے۔

     1996ء میں طالبان نے ملا محمد عمر کی قیادت میں کابل کا کنٹرول حاصل کیا، تاہم 2001ء میں امریکا کی اتحادی نیٹو فورسز نے طالبان کی حکومت کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2013ء میں ملا محمد عمر بیماری کے باعث وفات پاگئے۔

اسلامی امارت کا قیام:

      تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسلام پسندوں کی اجتماعیت جن کا شمار نام نہاد مہذب قوموں کے نزدیک جاہل، غیر تعلیم یافتہ اور اجڈ مسلمانوں میں ہوتا تھا، ان اسلام پسندوں کے ہاتھوں اللّٰہ نے اس وقت کی ایک بڑی سپر پاور طاقت سوویت یونین کا تکبر اور غرور خاک میں ملا دیا تھا۔

      روسی کمیونسٹوں کی فوجوں کی شکست و انخلاء کے بعد افغانستان میں جو کچھ ہوا وہ افغانستان کے اسلام پسندوں کی توقعات کے بالکل برعکس تھا جو افغانستان میں اسلامی نظام کے قیام کے خواہشمند تھے۔

      سابق کمیونسٹ حکومت سے تعلق رکھنے والے بعض گروہوں نے اسلام پسندوں کی صفوں میں اپنی جگہ بنالی اور ان کے نام پر ایسی سرگرمیاں شروع کردیں جن کا اسلام یا جہاد سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ساتھ ہی اسلام پسندوں کی آپس میں شدید چپقلش کے باعث خانہ جنگی کا ماحول گرم تھا۔ ہر کوئی اس افراتفری سے نکلنا چاہتا تھا۔ لیکن نہیں جانتا تھا کہ کون انہیں اس انتشار سے نجات دے گا اس نازک صورتحال میں افغانستان کی اسلامی امارت کی تحریک نے 1994ء میں نسلی و علاقائی، قومی و فرقہ وارانہ لڑائی اور انارکی سے افغانستان کو نکالنے، امن و استحکام قائم کرنے، علاقائی سلامتی کا تحفظ کرنے اور عوام کی زندگیوں کو نارمل سطح پر لانے کیلئے آگے بڑھی۔ افغانستان کے ٩٥ فیصد سے زیادہ رقبے پر اسلامی امارت افغانستان کا کنٹرول رہا اور یہاں اسلامی قوانین کا نفاذ جاری و ساری کیا گیا، اس تحریک سے جہاد جیسی مقدس چیز کے مقاصد و اہداف دنیا کے سامنے پیش کئے گئے۔ چند اسلام پسند طلباء کا گروہ جنہوں نے کم وقت میں دنیا کو  اسلامی خلافت کی کچھ جھلکیاں دکھائی۔

      یہ دور اسلامی امارت کا پہلا دور تھا۔ یہ دور اقتدار 1997ء سے 2001ء تک قائم رہا۔ اس دور میں پورے افغانستان میں اسلامی شریعت کا نفاذ تھا۔ اسلامی امارت نے افغانستان کی سب سے مؤثر جنگی و سیاسی قوت ہونے کا کردار دنیا کے سامنے پیش کیا۔

     امریکی الائنس فورسز نے اسلام پسندوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے خونریزی کا برہنا رقص جاری کیا۔ دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ 2011ء۔ 12ء میں افغانستان میں 1.5 لاکھ کے قریب غیر ملکی فوجی اسلام پسندوں کے خلاف جنگ کر رہے تھے۔ امریکہ اور نیٹو کی افواج کے پاس دنیا کا جدید ترین جنگی اسلحہ اور ساز و سامان موجود تھا۔

      امریکہ اکتوبر 2001 ء سے مارچ 2020ء تک افغانستان میں اپنی فوجی کاروائیوں پر 978 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔ اس درمیان تقریباً 20500 زخمی ہوئے اور تقریباً 3200 امریکی فوجی مارے گئے۔ نیٹو اور اتحادی ممالک کے بھی 1145 فوجی مارے گئے، اس وقت بھی 13000 امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں، یہ تعداد صرف فوجیوں کی ہے، جب کہ دیگر شعبوں میں کام کرنے والوں میں بھی بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے، اس دوران ہلاک ہونے والی افغانی فوجیوں کی تعداد 64124 بتائی گئی ہے۔ اپریل 2017ء کو امریکہ اور اس کے حواریوں کی جانب سے ننگرہار کے ضلع آچن پر انسانی تاریخ کا سب سے بڑا غیر جوہری بم گرایا گیا۔ اس دیوہیکل بم کا ٹیکنیکل نام موب تھا، لیکن ہلاکت خیزی کی بنا پر اسے 'بموں کی ماں' کہا گیا۔ 

      ان تمام کارروائیوں میں امریکہ کا غیر معمولی نقصان ہوا ہے۔ اس کا اثر امریکی معیشت پر بھی پڑا ہے، جس کی وجہ سے وہ اندرونی طور پر دیوالیہ کا شکار ہوگیا ہے، جن توقعات کے پیشِ نظر امریکہ نے 9/11 کو بہانا بنا کر ایک نہتہ ملک پر دنیا کے 36 دیگر ممالک کی اتحادی افواج کو لے کر ظلم و جبر کا کھیل کھیلا، آج وہ توقعات بھی پوری نہ ہوسکی۔ امریکہ اپنے تکبر و غرور کی جنگ ہار چکا ہے۔

      الحمداللّٰہ! تقریباً 20 سال بعد دوبارہ فتح حاصل کرنے کے بعد اسلامی امارت نے افغانستان کا اقتدار دوبارہ سنبھالا ہے۔ اور افغانستان کا نیا نام "اسلامی امارت افغانستان"  Islamic Emirate of Afghanistan رکھا ہے۔ اور لا الہ الا اللّٰہ، محمد رسول اللّٰہ کو اپنا Motto طئے کیا ہے۔
اسلامی امارت کو دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں ایک بہت بڑی مالی اور جیو پولیٹیکل برتری حاصل ہوئی ہے۔ اسلامی امارت 1 ٹریلین ڈالر قیمتی قدرتی معدنیات کی دولت کے رکھوالے بن گئے ہیں۔

      غالب گمان یہی ہے کہ افغانستان میں اب جو اسلامی امارت کی حکومت آئی ہے، وہ امریکہ یا روس کے خلاف محاظ کو زندہ رکھنے کی بجائے، ان شاء اللّٰہ!  ظالمانہ نظام کے خلاف نبردآزما ہوگی۔ موجودہ حکومت نے  وہ سارے منصوبے، ساری سازشیں اور سارے عزائم بھی ناکام کردیئے جو باطل قوتوں کے دل و دماغ میں موجزن تھا۔ ان شاء اللّٰہ! اب افغانستان جسد ِواحد بن کر اسلام کے لئے مضبوط قلعہ ثابت ہوگا۔ دیکھا جائے تو یہ نئی تبدیلی حقیقت میں باطل طاقتوں کا سقوط ہے۔ سپرپاور کے انخلاء اور اسلام پسندوں کی آمد کا اظہار افغانستان کی عوام اسلامی امارت کی افواج کو سرخ اور سفید گلاب دے کر استقبال کررہے تھے۔ جس کی تصویریں بھی منظر عام پر آئی ہیں۔ لیکن متعصب میڈیا کو کہاں اتنی توفیق کہ ان تصاویر کو دکھلائیں۔

      افغانستان کے سنگلاخ چٹانوں، پہاڑوں اور کہساروں میں اسلامی امارت امن کے علمبردار بن کے غالب ہوئے ہیں۔ جس۔ کی وجہ سے دنیا کو واضح پیغام ملا ہے کہ اسلامی جہاد امن کا ضامن ہوتا ہے۔ جہاد جارح اور ظالم کا ہاتھ روکنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ جہاد کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جہاد کو دہشت گردی سے منسلک کرنے کے لیے اسلام دشمن قوتوں نے اپنے گماشتوں کو استعمال کیا۔ اصل اسلامی امارت کا ظرف اور کردار دوحہ میں آشکار ہوا ہے۔

فتح مکّہ کی یاد تازہ ہوگئی:

      امارت اسلامی کی جانب سے افغانستان میں جبراً قبضہ نہ کرنے کے ساتھ خاص و عام کو عام معافی (General amnesty) و امن کا اعلان کیا گیا ہے۔ اتحادی افواج و سرکاری اہل کاروں کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کیا گیا۔ افغانستان میں اسلامی امارت کی افواج بغیر لڑائی لڑے کابل میں داخل ہوگئے۔ اس دور میں عام معافی کا اعلان جاری کرکے اور بغیر لڑے، "فتح مکّہ" کی یاد تازہ کردی ہے۔ فتح مکہ کے بعد دنیائے انسانیت میں ایسی نظیر قائم نہیں ہوئی تھی۔ دنیا میں جنگوں کا معائنہ کیا جائے تو عام معافی کی نظیر صرف اور صرف اسلامی تاریخ میں نظر آئے گی۔

      افغانستان میں اسلامی حکومت یعنی امارتِ اسلامی قائم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ فلحال جلد بڑی تبدیلی کے نتیجے میں افغانستان میں صورتحال غیر مستحکم اور غیر یقینی ہے اور عالمی برادری کی مدد اور حمایت استحکام لانے میں مددگار ہوگی۔ چین نے بھی عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ افغانستان پر دباؤ ڈالنے کے بجائے اس کی مدد و رہنمائی کرے۔ قطر کے وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا فریقین سمیت عالمی برداری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اسلاموفوبیا کے مریض:

      افغانستان اسلامی امارت پر دہشت گردی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی، عورتوں کے حقوق کی خلاف ورزی اور منشیات کی پیداوار و تجارت وغیرہ جیسے بے بنیاد الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں نئی حکومت کے کردار کو مشکوک بنانے کے لئے ان پر الزامات کی لمبی فہرست باطل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے چینخ چینخ کر پیش کی جارہی ہے۔ اسلامی دنیا کے میڈیا کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ بے بنیاد مغربی پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دینے کےلئے میدان میں آنا ہوگا۔

ملکی محاذ:

      اسلامی امارت اکثر علاقوں پر خونریزی کے بغیر قبضے کی کوششوں میں ہیں۔ ان کے دوحہ میں قائم سیاسی دفتر کے ترجمان محمد سہیل شاہین کی رائے طلب کی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ فوجی طاقت سے افغان مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتے بلکہ تمام افغان گروپوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کسی پرامن حل تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے بدامنی، انتشار اور افراتفری کے شکار افغانستان میں مسلح گروہوں اور جنگجو کمانڈروں کا اثر و رسوخ رہا ہے جو افغانستان میں آباد مختلف نسلی گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ افغانستان کے مختلف علاقوں میں اثر و رسوخ رکھنے والے یہ سردار پشتون، ازبک، ہزارہ اور تاجک النسل افغان شہریوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان گروپوں میں ابھرے ہوئے نام گلبدین حکمت یار، مارشل عبدالرشید دوستم، احمد مسعود، عطا محمد نور، محمد اسماعیل خان، عبدالرسول سیاف، عبد الغنی علی پور عرف کمانڈر شمشیر، امراللّٰہ صالح وغیرہم۔ ایک تازہ اطلاع کے مطابق سابق سی آئی اے ایجنٹ، وارلارڈ، قندھار اور ننگرہار صوبوں کے سابق گورنر گل آغا شیرزئی نے اتوار کو کابل میں اسلامی امارت کی ’بیعت‘ کی ہے۔

      اسی ضمن میں اسلامی امارت نے اعلان بھی جاری کیا ہے کہ کوئی بھی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ہم نے عام معافی کا اعلان کرکے آنکھیں بھی بند کر دی ہے۔ جو بھی کسی بھی طور پر بدامنی پھیلانے یا کسی بھی جرم میں ملوث ہوا تو کھڑی سزا دی جائے گی۔ مزید کہا کہ پنج شیر والے بھی ہمارے صبر کا امتحان نہ لیں، ہمیں مجبور نہ کریں کہ ہم آپ کے گریبان تک آجائیں۔ وادی پنجشیر میں امراللّٰہ صالح اور احمد مسعود کی قیادت میں اسلامی امارت مخالف مزاحمت جنم لے رہی ہے۔ احمد مسعود نے اسلامی امارت کے خلاف مزاحمتی تحریک شروع کرنے کیلئے امریکا سے مدد مانگ لی۔

      ہم نے یہ بھی دیکھا کہ دنیا بھر کی طرح افغانستان میں امن و سکون کے ساتھ یومِ عاشور کے جلوس اور عزاداری کی مجالس سجائی گئی۔ افغانستان کے مختلف شہروں میں نکالے جانے والے ان جلوسوں اور مجالس پر اسلامی امارت کے لوگوں کو پہرہ دیتے ہوئے دیکھا گیا۔ کیا یہ بات خوش آئند نظر نہیں آتی۔ جب کہ فکری اور مسلکی طور پر اسلامی امارت کو اس عمل سے اطمینان نہیں ہے۔ مگر لاکھ اختلاف کے باوجود انہوں نے اپنی محافظت میں امن و سکون کے ساتھ اہل تشیع بھائیوں کا ساتھ دیا۔

     اقتدار قائم ہونے کے بعد اسلامی امارت نے دیگر مذاھب کے لوگوں سے مثبت انداز میں اپیل کی ہے کہ انہیں اس نئی حکومت سے بالکل خطرہ نہیں رہے گا۔ افغانستان میں موجود سکھ چرن سنگھ نے اخبار 'ٹائمز آف انڈیا' کو بتایا کہ اسلامی امارت کے ایک گروپ نے گوردوارہ کرتے پروان میں سکھوں اور ہندوؤں کے نمائندوں سے ملاقات کرکے کہا ہے کہ جنگجوؤں سے خوفزدہ نہ ہوں اور ملک نہ چھوڑیں۔ چرن سنگھ کے بقول جنگجوؤں نے مذکورہ ہندوؤں اور سکھوں کو اپنے نمبرز بھی دیے ہیں کہ کسی بھی مشکل کی صورت میں اُن سے رابطہ کریں۔ چرن سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم لوگ چھ برس طالبان کی حکومت میں گزار چکے ہیں۔ ہمیں ان سے کوئی خوف نہیں ہے۔

     اسلامی امارت و امریکی معاہدے سے اسلام دشمنوں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ جب کہ اسلامی امارت بار بار یقین دہانیاں کرارہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی وہ آئندہ کسی گھناؤنے اور تخریبی عمل کے لئے کسی ملک کے آلہ کار بنے گیں۔

     اسلامی امارات کے اعلان کے مطابق وہ تمام ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات چاہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے کسی بھی ملک کے ساتھ تجارت نہ کرنے کی بات نہیں کی۔ ہم ان افواہوں کو مسترد کرتے ہیں جو سچ نہیں ہیں۔

      اسلامی امارت کے فوجی سربراہ نے منگل کے روز اپنی افواج کے لیے ایک آڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہیں حکم دیا گیا کہ وہ افغان فورسز اور سرکاری افسران کو ان علاقوں میں نقصان نہ پہنچائیں جو وہ فتح کرتے ہیں۔

      اسلامی امارت کی طرف سے واضح کر دیا گیا ہے کہ 11 ستمبر تک ملک سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد کسی بھی دوسرے ملک کی فوج کو وہ افغان سر زمین پر برداشت نہیں کریں گے۔

افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء:

      ادھر امریکہ کے صدر بائیڈن نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ ’’امریکہ کا اب افغانستان سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ 31 اگست تک امریکہ کی فوج مکمل طور پر افغانستان سے نکل جائے گی اور افغانستان کا دفاع خود اس کی اپنی فوج کرے گی، امریکہ اپنی نئی نسل کو افغانستان میں ضائع نہیں کراسکتا۔‘‘

       24 گھنٹوں کے دوران امریکہ اور دیگر ممالک نے 19 ہزار 200 افراد کو کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے نکالا ہے، جس کے بعد اب تک انخلا کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد 82 ہزار 300 ہوگئی ہے۔

      امریکی اخبار کے مطابق بدنام زمانہ نجی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے سربراہ، ارب پتی امریکی ملٹری کنٹریکٹر ایرک پرنس افغانستان سے نکلنے کے خواہشمند افراد کو چارٹر پرواز کا ٹکٹ 6500 ڈالر میں فروخت کر رہے ہیں، اتنی بڑی بےحسی اور ذاتی مفاد کی توقع انہیں مادہ پرست تہذیب سے ہی کی جاسکتی ہے۔ اس کے اس عمل پر تنقید کا ماحول بھی گرم ہے۔

منشیات کی تجارت:

    الحمد اللّٰہ! افغانستان میں اسلامی امارت  نے منشیات کی کاشت کے خاتمے میں عظیم پیش رفت کی ہے، ہم نے دیکھا کہ 2000ء میں پوست کی کاشت پر پابندی عائد کی گئی تھی، اسی طرح دوبارہ پوست کی کاشت پر پابندی نافذ کرکے اپنی دینی غیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ بنیادی طور پر پوست ہیروئن کی پیداوار کے لیے ایک بنیادی مرکب ہے جسے افغانستان میں بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے، اس دوران پوست سے افیون تیار کی جاتی ہے جو بعد میں ہیروئن میں تبدیل کی جاتی۔ یہ بھی اعلان کیا ہے کہ منشیات کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ ان کا اعلان ہے کہ افغانستان منشیات سے پاک ملک ہوگا۔ ان شاء اللّٰہ۔

      اسلامی امارت کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف کاروائیوں کے لئے انہیں عالمی تعاون کی ضرورت ہوگی، عالمی برادری کو بھی اس میں حصّہ لینا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس متبادل فصلیں ہیں اور ہم لوگوں کو متبادل فصلیں دیں گے اور بہت جلد ہم اس کا خاتمہ کریں گے۔

      لیکن منشیات کے خاتمے کی پیش رفت کے باوجود اقوام متحدہ نے ان اقدامات کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے اسلامی امارت افغانستان کی قیادت کی طرف سے منشیات کے خاتمے کے لئے جاری کردہ احکامات پر عملدرآمد کے لئے مکمل امداد فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔

      تعجب خیز بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ اسلامی امارت کے ساتھ منشیات کی کاشت کے خاتمے میں مدد دینے کی بجائے منشیات کے کاشت کے مسئلے کو اسلامی امارت افغانستان کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کررہی ہے اور اسی پر مطمئن ہے۔ اسلامی امارت نے اپنے طور پر اس مسئلے کے عملی اور مکمل حل کے لئے منشیات کی کاشت کے علاقوں میں کاشتکاروں کے لئے متبادل منصوبے تجویز کئے ہیں۔ تاہم افغانستان میں پوست اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف جو کچھ کیا جارہا ہے وہ اسلامی امارات کا ایک اہم فریضہ بھی ہے۔ اس فریضے کو پورا کرنے کے لئے وہ لوگ اس معاملے میں مخلص ہیں چاہے اقوام متحدہ یا بین الاقوامی برادری کی طرف سے کوئی مدد ملے یا نہ ملے۔

      تاریخی طور پر پوست یا منشیات کی کاشت افغانوں کی دستکاری نہیں ہے۔ لوگ جنگ افیون سے بخوبی واقف ہیں اور اس کے پس پردہ مقاصد سے بھی واقف ہیں حتیٰ کہ آج بھی ہیروئن تیار کرنے کی well equipped machines اور اسے نشیلا بنانے کے کیمیکلز یورپین ممالک اور اہل مغرب کے پاس ہی ہیں۔

      2017ء میں افغانستان میں پوست کی ریکارڈ پیداوار کے بعد اقوامِ متحدہ نے پیشنگوئی کی تھی کہ اب زیادہ معیاری اور کم قیمت والی ہیروئن برطانیہ سمیت عالمی بازار میں پہنچے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کو "نارکو اسٹیٹ" میں تبدیل کرنا 1980ء کی دہائی میں ملک پر سوویت قبضے کے خلاف سی آئی اے کی خفیہ جنگ سے شروع ہوا۔

      پچھلے سال افیون کی پیداوار کی کل قیمت 256 ملین ڈالر تھی۔ اتحادی افواج اور اقوام متحدہ کی طرف سے کئے گئے افغانستان افیون سروے کے مطابق 2020 میں تقریبا 224،000 ہیکٹر (55،3516 ایکڑ) کے ساتھ افیون کی پیداوار میں 2019 کے مقابلے میں 37 فیصد اضافہ ہوا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ دنیا میں برما سب سے زیادہ ہیروئن پیدا کرنے والا ملک ہے۔ لیکن بدنامی کا طوق تو مسلمانوں کے گلے باندھا جاتا ہے۔

     انصاف کی بات یہ ہے کہ افغانوں کا کردار منشیات کی تجارت کے معاملے میں دوسروں کی بہ نسبت کم ہے۔ اسلامی امارت نے اپنے طور پر عالمی برادری کے سامنے بارہا واضح کیا ہے کہ اگر وہ اس ممنوعہ چیز کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انہیں اسلامی امارت کے ساتھ عملی تعاون کرنا ہوگا۔ عالمی برادری کو پوست اور منشیات پر کی جانے والی دوہرے معیار سیاسی سازشیوں کو ختم کرنا ہوگا۔

ونی پر پابندی:

   افغانستان میں عورتوں پر ظالمانہ و وحشیانہ رسم "ونی یا سوارہ" کی بھی تھی، جو 3 سو سالوں سے جاری ہے۔ جس میں دو خاندانوں کے درمیان صلح کی خاطر یا اگر کسی فرد کے ہاتھوں کسی کا قتل ہو جاتا تو جرگہ یا پنچایت کے ذریعے جھگڑے کے تصفیہ کے لئے قاتل خاندان کی کسی لڑکی کو بطورِ جرمانہ مقتول خاندان میں بیاہ دیتا تھا۔ بعض اوقات تو کم سن لڑکیاں بڑی عمر کے لوگوں سے بیاہی جاتی ہیں۔ یعنی اس غیر اسلامی رسم کے تحت کسی تصادم یا خاندانی تنازع کو ختم کرنے کے لیے لڑکیوں یا خواتین کو مخالفین کے حوالے کردیا جاتا ہے۔

     اس فرسودہ اور مکروہ غیر اسلامی رسم پر بھی اسلامی امارت نے ایک فرمان کے ذریعہ پابندی لگا دی ہے۔ اب اس طرح کے جھگڑے کا فیصلہ شریعت کے اپنے قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔ ان فیصلوں پر متعصبانہ ذہنیت رکھنے والے میڈیا کی نگاہیں کیوں بند ہوجاتی ہیں۔ یہاں حقوقِ نسواں کے علمبردار اداروں اور انجمنوں کو کیوں سانپ سونگھ لیتا ہے۔ محض نعرہ بازی سے اجتناب کریں اور تعمیری کام کریں۔ عورتوں کی عصمت و عفت اور ان کی عظمت و وقار کا ضامن صرف اور صرف اسلام ہے۔

خواتین کی عظمت کی بحالی:

     اسلامی امارت کے ترجمان نے کہا کہ خواتین کا معاملہ بہت اہم ہے، ہم شریعت کے مطابق خواتین کے حقوق کے پابند ہیں، ہماری بہنیں اپنے حقوق سے مستفید ہوں گی، قوانین کے مطابق مختلف شعبوں اور اداروں میں ان کا کردار ہے۔ اگر عصبیت کی عینک اتار کر دیکھیں تو افغانستان میں عورتوں کی حالتِ زار سابقہ ظاہر شاہ، داؤد، رشید دوستم اور کمیونسٹ حکمرانوں کے دور میں سب سے زیادہ بدترین تھی۔ کابل اور دیگر شہروں میں لڑکیوں کی ایک محدود تعداد صرف 1 فیصد اسکول جاتی تھی۔ جب کمیونسٹ حکمران برسر اقتدار آئے تو صورتحال بد سے بدترین ہوگئی۔ انہوں نے وزارتوں اور دفاتر کو غیر اخلاقی مقامات میں تبدیل کردیا اور ایسا پھیلتا ہوا انتظامی ڈھانچا بنایا جس میں نیم تعلیم یافتہ عورتوں کو اپنی نفسانی خواہشات کی تسکین کے لئے ملازم رکھا جاتا تھا۔ کیا اسی کا نام حقوقِ نسواں ہے؟ بعد کی حکومتوں کے دور میں بھی خواتین کی عظمت کے خلاف سخت اقدامات کئے گئے۔ (اس دور میں) مسلح اہلکاروں نے خواتین کو سر بازار اغوا کیا، عصمت دریاں کیں اور قتل کیا، حتی کہ کچھ عورتوں نے رشید دو ستم کے محافظوں سے بچنے کے لئے اونچی عمارتوں کی چھتوں سے چھلانگ لگا دی۔

      اقتدار سنبھالتے ہی اسلامی امارت نے عورتوں کے خلاف ان مظالم کا خاتمہ کر دیا۔ عورتوں کو اب اپنے اغوا یا زیادتی کا کوئی خوف نہیں ہے وہ آزادانہ سفر کرسکتی ہیں۔ ہر کوئی کابل میں خواتین کی آزادانہ نقل و حرکت کو دیکھ سکتا ہے۔ یہ ایک ایسے ملک کی عظیم کامیابی ہے جو جنگ کے حالات سے گزرتا رہا ہے۔ اس کی تازہ مثال قریب کے ایک واقعہ سے ملتی ہے، جس میں اسلامی امارت کی خواتینِ اسلام کے لئے عزت و وقار کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ "کابل کی ایک لڑکی جو پرائیویٹ اسکول چلاتی ہے۔ بھاگتی ہوئی آئی اور کہا۔ میں روزانہ اپنے والد کے ساتھ اسکول جاتی تھی۔ لیکن اس کے باوجود بھی لوگ مختلف قسم کی باتیں کرتے، گھورتے، چھیڑتے اور سیٹی بجاتے تھے۔ لیکن جب سے آپ لوگ آئے ہیں بلکل سکون ہوگیا ہے ایسے لگتا ہے کہ جیسے فرشتوں کے زمانے میں ہم آگئے ہیں سارے فرشتے ہوگئے ہیں۔ اب کوئی۔ شرارتی لڑکے راستے میں نہیں کھڑے ہوتے اور نہ ہی کوئی تنگ کرتا ہے شہزاد کو کہا میں آپ کے پیر چومنا چاہتی ہوں۔ شہزاد نے منع کیا اور کہا بہن اب آپ  بے فکر ہو کے آئے اور جائیں۔آپ کے بھائی کھڑے ہیں آپ کی حفاظت کے لیے!!!

     روس کے افغانستان پر قبضہ کے دوران جہاد میں افغان خواتین کا کردار بڑا بے مثال رہا ہے۔ انہوں نے افغانستان کے اسلام پسندوں کی بھرپور معاونت و مدد کی۔ روایتی طور پر افغان اپنی خواتین کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی جنگ زدہ ملک میں خواتین کی تجارت واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے لیکن افغان بحران کے دوران اس طرح کے کسی ایک بھی واقعہ کا حوالہ نہیں دیا جاسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغان اپنے خون میں ملاوٹ کو کبھی بھی برداشت نہیں کرسکتے۔

     ایون ریڑلی(Yvone Ridley) برطانیہ کی ایک معروف تجزیہ نگار ،صحافی اور سماجی کارکن ہیں۔ 2001ء میں 10 دن تک طالبان کی قید میں گزارے لمحات اور طالبان کی عورت کے تئیں توقیر و عزت اور ان لوگوں کی اسلام پسند زندگی کو بہت نزدیک سے دیکھا، اسے وہ یوں بیان کرتی ہیں کہ "یہ لوگ (طالبان) مجسم انسانیت تھے، یہ حیران کن لوگ تھے، کالی داڑھیوں آور زمرد جیسی سبز آنکھوں والے جو خوبصورت سے خوبصورت یورپی عورت کو پگھلا کر راکھ کر دیں، حیرت ہیں، کہ ان کی آنکھوں میں شرم و حیا اس قدر تھی کہ میرے سامنے کسی مجرم کی طرح جھکی رہتی، بموں کی یلغار میں نماز کیلئے کھڑے ھو جاتے، خود بھوکے ھوتے، مجھے کھانا کھلاتے، یہ کیسے لوگ ہیں یہ تو اس جہاں کے لوگ ہی نہیں۔"
محترمہ نے رہائی کے بعد ایک کتاب In The Hands of Taliban کے نام سے لکھی جس میں یہ پوری روداد موجود ہے۔

خواتین کے وراثت کی حصول کی بحالی:

    اسلامی امارت نے عورتوں کو وراثت کا حق دلانے کے لئے فرمان جاری کیا ہے۔ ماضی میں خواتین کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔ والدین کی جائیداد کو خاندان کے مرد حضرات میں تقسیم کردیا جاتا تھا۔ اسلامی امارت کے فرمان کے بعد اب خواتین کو وراثت میں سے اپنا جائز حصہ مل رہا ہے۔

      افغانستان کی یہ ایک روایت تھی کہ اگر کسی افغان خاتون کے شوہر کی موت واقع ہوجاتی تھی تو اسے مجبور کردیا جاتا کہ وہ مرحوم شوہر کے کسی رشتہ دار یا تعلق واسطے کے فرد کے ساتھ نئے سرے سے شادی کرلے۔ اسلامی امارت کے فرمان کے بعد اس رسم پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے اب وہ بغیر کسی جبر کے اپنی مرضی سے خود شادی کرسکتی ہے۔

اسلامی امارت اور خواتین کی تعلیم:

     اسلامی امارت نے خواتین کو یونیورسٹی تک تعلیم کی اجازت کا اعلان کیا ہے۔ اس کی بھی وضاحت کی ہے کہ اسلام میں پردہ صرف برقع پہننا نہیں ہے خواتین سے حجاب پہننے کی توقع کی جائے گی، افغانستان میں خواتین کو کام کرنے اور یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ ایک حالیہ پریس کانفرنس میں اسلامی امارت نے یہاں تک کہا کہ خواتین کو ’اسلامی قانون کے دائرے میں‘ کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

    اسلامی امارت حکومت نے خواتین کی تعلیم کی کبھی بھی مخالفت نہیں کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں تو تعلیم ہر مرد و عورت پر فرض ہے۔ موجودہ حکومت ان احکامات کی پابند ہے تاہم مالی وسائل کی کمی اس میدان میں مشکلات پیدا کررہی ہے۔ خواتین کی تعلیم کا آغاز کرنے سے پہلے ہمیں انہیں الگ جگہ اور نصاب بھی فراہم کرنا ہوگا جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ ہمیں بے شمار مسائل کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود کابل مزار شریف اور ہرات کے میڈیکل کالجوں میں کئی ایک طالبات زیر تعلیم ہیں۔

اسلامی امارت اور خواتین کا ذریعہ معاش:

     اسلامی امارت نے کہا ہے کہ خواتین اسلامی حجاب پہن کر کام پر واپس آسکتی ہیں۔ اسلامی حجاب پہننے والی خواتین کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین چہرہ چھپائیں یا نہیں یہ ان کی مرضی ہوگی۔ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ حجاب خواتین کے لیے لازم ہے، برقع نہیں۔ ان کے تمام واجبات ادا کئے جائیں گے۔ خواتین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں خواتین ہمارے شانہ بشانہ کام کریں گی، عالمی برادری کے خدشات پر ہم یقین دلاتے ہیں کہ خواتین کے حوالے سے کوئی تفریق نہیں برتی جائے گی تاہم ہمارے قوانین کے مطابق ہوگا۔

     اسلامی امارت رہنما کے بقول وہ نہیں چاہتے کہ خواتین متاثر ہوں، شرعی قوانین کے مطابق انہیں حکومتی اسٹرکچر میں ہونا چاہیے۔ اسلامی امارت نےخواتین کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کی حکومت میں شامل ہوں۔ اس کے باوجود انہیں بدنام کرنے کے لئے احتجاج کیا گیا، حالانکہ احتجاج میں خواتین کی تعداد 10 کے اندر ہی تھی، جسے اسلامی امارت کے فوجیوں نے محافظت دی۔

     سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی فوٹیج میں کابل کے ایک چوراہے پر ہونے والے احتجاج کرنے والی خواتین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر خواتین کو سیاسی عمل کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ احتجاج کرنے والی خواتین نے برقعے پہنے ہوئے ہیں لیکن انہوں نے اپنے چہرے نہیں ڈھانپ رکھے تھے۔  نئی حکومت کے خلاف نعرے لگانے کے دوران اسلامی امارت کے فوجی بھی موجود تھے، جو اپنے خلاف احتجاج کے باوجود اِن خواتین کی حفاظت کر رہے تھے۔

      ایک gynaecologist جس کا کابل میں پرائیویٹ کلینک ہے اور ہسپتال میں کام بھی کرتی ہیں اس نے میڈیا کو بتایا کہ اسلامی امارت کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی زندگی پر اس کے کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں تین روز بعد کام پر آئی۔ اس وقت صورتحال معمول کے مطابق ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ طالبان نے اعلان کیا ہے کہ خواتین ڈاکٹر ہسپتالوں اور پرائیویٹ کلینک میں کام جاری رکھ سکیں گی۔ انھوں نے کہا کہ کچھ جگہوں پر طالبان لوگوں سے ڈیوٹی پر واپس آنے کا کہہ رہے ہیں۔

       دوسری جانب اسلامی امارت کا کہنا ہے کہ وہ ماضی سے سبق حاصل کر چکے ہیں اور وہ خواتین کے روزگار اور تعلیم کے حصول پر قدغن نہیں لگائیں گے۔ تاہم وہ یہ بھی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ اسلامی دائرہ کار میں ہوگا۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اسلامی امارت ترجمان ذبیح اللّٰه مجاہد کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے کہیں بھی کسی بھی قسم کے پوسٹرز نہیں لگائے گئے۔ وہ ایسی کارروائیوں کو اپنے مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اسلامی امارت حکومت کا نیا ورژن بننے والا ہے۔ پہلے ہمیں حکومت چلانے کا تجربہ نہیں تھا  لیکن 20-25 سال کے بعد ہمیں حکومت چلانے اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا تجربہ ہے۔ ہم اپنے ملک کی تعمیر نو اور قومی انضمام پر بھی توجہ دیں گے۔

      اسلامی امارت نے کابل کے شہریوں اور خواتین کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ تعلیمی سلسلہ جاری رکھیں، دفاتر کا رخ کریں اور بلا کسی خوف و خطر اپنی روزمرہ زندگی کا آغاز کریں۔ تاہم سوشل میڈیا پر اسلامی امارت کی جانب سے خواتین کے کام کرنے کے حوالے سے بیانات اور منگل کو کابل کی سڑکوں پر افغان خواتین صحافیوں کو دیکھ کر خواتین کا کچھ حوصلہ بڑھا ہے۔

     کیا اتنے واضح احکامات و اعلانات کے بعد بھی اگر کوئی اپنی عصبیت اور اسلاموفوبیا کی عینک کو اتار کر نہیں دیکھتا تو ایسے لوگوں کے لئے قرآن کریم سورۃ الفرقان آیت 63 میں ہے۔
وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا۔
(جب انہیں جاہل لوگ مخاطب ہوتے ہیں تو وہ سلام کہہ (کر گزر جاتے) ہیں۔)
اللّٰہ سے دعا ہے کہ انہیں ہدایت کی راہ میسر ہو۔

افغان کی موجودہ صورتحال اور ہندوستان:

      ہندوستان کے افغانستان سے تقریباً تین دہائیوں سے اسٹریٹجک مفادات کے پیشِ نظر قریبی مراسم رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نئی حکومت کی اقتدار میں واپسی ہندوستان کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہے، ہندوستان کے سبکدوش ہونے والی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات استوار تھے۔ تعلقات اتنے گہرے ہوئے ہیں کہ کابل میں ہندوستان کی ایمبسی اور ہرات، قندھار، جلال آباد و مزار شریف میں قونصل خانے قائم کیے گئے۔ اسی لئے افغانستان کی نئی حکومت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہم اپنے تجارتی، اقتصادی اور سیاسی روابط میں ہندوستان کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات بحال رہیں۔ لیکن بدلی ہوئی صورتحال کے پیش نظر، میڈیا میں اس بات پر بھی غور و فکر جاری ہے کہ امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد کی صورتحال میں ہندوستان کا کیا موقف ہونا چاہیے؟

      افغانستان میں تقریباً 19 سو سے زائد ہندوستانی شہری رہتے ہیں۔ انڈین ورلڈ فورم کے مطابق مجموعی طور پر صرف 1300 افغان سکھ اور 600 افغان ہندو وہاں پر ہیں۔   ہندوؤں اور سکھوں کے ایک وفد نے طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور طالبان نے ان کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

     2011ء میں ہندوستان نے افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک پارٹنر شپ سے متعلق معاہدہ کیا جس میں وعدہ کیا کہ وہ ہر طرح سے افغانستان کی حمایت کرے گا۔ گذشتہ چند برسوں میں ہندوستانی حکومت نے افغانستان میں تعمیر نو کے منصوبوں میں تقریباً حجم 4.2 بلین ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔

      پارلیمان کی عمارت سے لے کر شاہراؤں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں، بجلی، تجارتی بنیادی ڈھانچہ trade infrastructure اور ڈیم بنانے تک کے کئی منصوبوں میں سینکڑوں ہندوستانی ملازمین کام کر رہے ہیں۔ صرف افغان پارلیمان کی تعمیرِ نو پر ہندوستان نے 90 ملین ڈالر (6 ارب 69 کروڑ 17 لاکھ 25 ہزار) صرف کئے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں افغانستان میں ملک کی سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آرہی ہے۔ افغانستان سے پاکستان کے راستے ہونے والی درآمدات کو افغانستان کی نئی حکومت نے فلحال روک لگا دیا ہے۔ جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں خشک میوہ جات کی قیمتوں میں بھرپور اضافہ ہونے کے امکانات ہیں۔ ہندوستان میں 85 فیصد خشک میوے افغانستان سے درآمد کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاؤہ تجارتی سطح پر بھی اس کے بڑے اثرات رونما ہوسکتے ہیں۔

     افغانستان میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتِ حال، امریکہ اور نیٹو کی افواج کے اچانک انخلا اور اسلامی امارت کی پیش قدمی کے باعث ہندوستان کی ممکنہ افغان پالیسی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس پر بحث و مباحثے کا سلسلہ جاری ہے۔

      ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان نے حالات کی نزاکت کو سمجھنے میں تاخیر سے کام لیا، کیونکہ ایران، امریکہ اور روس جیسے ممالک جن کی طالبان سے کبھی بھی نہیں بنی انہوں نے بھی طالبان کے ساتھ نہ صرف کامیاب مذاکرات کیے بلکہ سفارتی تعلقات بھی قائم کیے۔ دریں اثنا ہندوستان کے سابق وزیرِ خارجہ نٹور سنگھ نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے سے قبل ہی بھارت کو ان سے مذاکرات کرنے چاہیے تھے۔

    علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کی پروفیسر سواستی راؤ کا کہنا ہے کہ 'حکومت ہند نے حکومت افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے اور ان تعلقات کے نتیجے میں لمبی سرمایہ کاری کی۔ امریکی انخلاء کے بعد وہاں ایک قسم کا خلاء پیدا ہورہا ہے جو ہندوستان کے مفادات کو متاثر کرسکتی ہے، جس کے تحفظ کے لیے غالباً ہندوستان روس اور ایران سے مذاکرات کررہا ہے۔

      ہندوستان کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بھارت افغانستان کی صورتِ حال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے تہران میں نو منتخب صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات بھی کی۔ تاہم جس دن وزیرِ خارجہ تہران میں تھے اسی دن افغان حکومت اور اسلامی امارت کا ایک وفد بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب وزیرِ خارجہ روس پہنچے تو وہاں بھی اسلامی امارت کے نمائندے موجود تھے۔

      ہمارے ملک کے پالیسی ساز افغانستان کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر اسلامی امارت کا قبضہ ہونے کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔ وزیراعظم کی رہائش گاہ پر بلائی گئی سکیورٹی امور کی کابینی کمیٹی کی میٹنگ میں وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ شریک ہوئے۔ قومی سلامتی کے مشیر، خارجہ سکریٹری اور افغانستان میں سفیر بھی میٹنگ میں موجود تھے۔ واضح رہے کہ میٹنگ میں افغانستان کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔ کیونکہ شاید اس وسطی ایشیائی ملک میں ملک کے اسٹریٹیجک مفادات کو خطرات لاحق ہوچکا ہے۔ ہماری حکومت نے قندھار میں سیکورٹی کے پیش نظر وہاں قائم اپنے قونصل خانے سے قریباً 50 سفارت کاروں اور اسٹاف کے دیگر عملے کو بھی بلا لیا تھا۔

      گزشتہ ماہ کی کچھ رپورٹوں کے مطابق حکومت نے اسلامی امارت کے لوگوں کے ساتھ رابطوں کی کوشش کی ہے اور وہ اسلامی امارت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ یہ حکومت کی افغان پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دی جارہی ہے۔ متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ اسلامی امارت کے ساتھ حکومت کے رابطے ایک درست فیصلہ ہے۔

     تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہندوستان، افغانستان میں سرگرم ہے اور ٹھوس اقدامات اٹھا رہا ہے۔ ایک مذاکرات کے دوران ہندوستان نے واضح طور پر کہا تھا کہ خواہ امن کے لیے کوئی بھی عمل اپنایا جائے لیکن افغانستان کے عام لوگوں کو اس کے مرکز میں ہونا چاہیے۔ ہندوستان نے کہا کہ یہ عمل 'افغان لیڈ، افغان اونڈ، اینڈ افغان کنٹرولڈ' یعنی افغان کی سربراہی میں افغان کی ملکیت اور افغان کے کنٹرول کے فارمولے پر مبنی ہونا چاہیے۔

      ذرائع ابلاغ میں یہ بحث عروج پر ہے کہ سقوط کابل کے دیگر شورش زدہ ممالک پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اور اس سوال کے جواب کے لئے ماضی کے آئینوں کو کھنگالا جارہا ہے، جب سوویت افواج کے انخلا کے بعد جنگجوؤں نے افغانستان کا زیادہ علاقہ کنٹرول میں لیا تھا اور افغانستان سے فارغ ہونے والے جنگجوؤں نے دیگر شورش زدہ ممالک کا رخ کیا تھا۔

     ایک دفاعی تجزیہ نگار پراوین سوامی نے کہا ہے کہ بھارت کو بدلی ہوئی صورت حال میں چین، پاکستان اور طالبان کے مشترکہ محاذ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سقوط کابل کے کشمیر میں یقینی اثرات دیکھ رہے ہیں۔

      ایک ریسرچ انالیسٹ اکنکشا نرائن نے اس صورت حال کا تجزیہ یوں کیا تھا کہ افغانستان کی صورت حال پھر اسی مقام کی طرف جارہی ہے جب سوویت افواج کا انخلا ہوا تھا اور وہاں سے فارغ ہونے والے عسکری کشمیر سے چیچنیا اور مشرق وسطیٰ تک پھیل گئے تھے۔ اس لئے ہندوستان کے دروازے پر دوبارہ پرانا خطرہ نئے انداز سے دستک دے رہا ہے۔ ایک اور تجزیہ نگار راہول بیدی کا کہنا ہے کہ گو کہ حالات اب 90 کی دہائی سے بدل چکے ہیں اس وقت کشمیر میں عسکریت کا سیلاب اچانک تھا ہندوستانی فوج اور کشمیر پولیس کے پاس اس صورت حال سے نمٹنے کا تجربہ نہیں تھا مگر 3 عشرے تک عسکریت کے مقابلے نے بھارتی فوج اور پولیس کو تجربہ کار بنا دیا ہے۔

      افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل بھی ہمارے اہل اقتدار اور میڈیا کے لیے دُودھ دھونے والی گائے لگ رہا ہے اور وہ اسے دُوہنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ اسی پس منظر میں متنازعہ شہریت ترمیمی بل (CAA) پھر موضوع بحث بن چکا ہے۔

      وائس آف امریکہ کے مطابق آل انڈیا ہندو مہا سبھا کے صدر سوامی چکرپانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان نے بزور طاقت اقتدار پر قبضہ کیا ہے۔ کوئی بھی جمہوری ملک ایسے لوگوں سے ہاتھ نہیں ملا سکتا اور بھارت کو بھی ان سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہیے۔

    راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ایک اعلیٰ عہدے دار رام مادھو کا کہنا ہے کہ بھارت کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ طالبان کی آمد کے بعد افغانستان میں اس کے مفادات متاثر نہ ہوں۔

      اسٹریٹیجک اور خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سچ ہے کہ انڈیا کو طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات نہیں رکھنا چاہیے لیکن افغانستان کی صورتحال اس طرح کی بننے لگی ہے کہ 2018ء میں جب روس نے افغانستان اور طالبان کے حوالے سے ماسکو میں بات چیت کی تھی تو ہندوستان نے اس میں اپنا وفد بھیجا تھا۔

      ہندوستان کے مؤقر اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق افغان طالبان سے بات چیت کا آغاز قطر میں بھارتی سفیر دیپک متل نے کیا ہے۔ ہندوستانی میڈیا کے مطابق انہوں نے دوحہ میں موجود اسلامی امارت رہنما شیر محمد عباس سے ملاقات کی ہے، جس میں سیکیورٹی سمیت دیگر متعلقہ امور زیر غور آئے ہیں۔

      اس نئی تبدیل شدہ صورتحال سے مشرق وسطیٰ میں ایک اضطراب کی کیفیت رونما ہوگئی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ امت مسلمہ کے ذریعے اس لیل و نہار، نشیب و فراز، عروج و زوال کی کشتی کو بھنور سے نکالے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ مسبب الاسباب اللّٰہ ہی کی ذات ہے۔

     وَتِلْکَ الأیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللّہُ الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَیَتَّخِذَ مِنکُمْ شُہَدَاء وَاللّہُ لاَ یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(آل عمران: 140)
      ’’یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ تُم پر یہ وقت اس لیے لایا جاتا ہے کہ اللّٰه دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا ہے جو واقعی گواہ ہوں۔ باقی رہے ظالم تو اللّٰه انہیں پسند ہی نہیں کرتا‘‘۔

     سید قطب شہید ؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’کشادگی کے بعد سختی اور سختی کے بعد کشادگی وہ حالات ہیں جو نفس انسانی کی خفیہ صلاحیتوں کو اُبھارتے ہیں۔ اس سے لوگوں کے مزاج معلوم ہوجاتے ہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون نظریاتی لحاظ سے پاک ہو چکا ہے؟ اور کس میں نظریاتی میل کچیل موجود ہے؟ کون ہے جو جلد باز ہے؟ اور کون ہے جو ثابت قدم ہے؟ کون ہے جو مایوسی کا شکار ہے؟ اور کون ہے جسے اللّٰه پر مکمل بھروسہ ہے‘‘۔

     ان آیات کے پس منظر میں مستقبل کے ایام اسلامی امارت کے لئے پرخطر اور سخت آزمائش کے ہونگے۔ کیونکہ اللّٰه تعالیٰ انہیں اقتدار دے کر آزما رہا کہ وہ کتنا حق و انصاف، اعتدال و توازن کو برقرار رکھیں گے۔ اللّٰہ اقتدار دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی آزماتا ہے۔ دنیا کے مظلوم و کمزور مسلمانوں اور مستضعفین کی نگاہیں بھی، جنہیں کمزور پاکر دبا لیا گیا ہے، انہیں ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی ہیں، ان سے امیدیں وابستہ رکھی ہیں۔

      اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیشن گوئیاں شاید اپنے اختتام کی جانب گامزن ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ دنیائے انسانیت کو جلد از جلد امن و سکون کا وہ دور دیکھائے جس کا وعدہ اس نے کیا ہے۔

                     (24.08.2021)
       ©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam