آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد (لبرل ازم - Liberalism)
آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد
(لبرل ازم - Liberalism)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
+919422724040
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِى السِّلۡمِ کَآفَّةً ۖ وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِؕ
اے ایمان لانے والوں! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو۔ (البقرة: 208)
مکمّل نظامِ حیات صرف اور صرف اسلام ہے۔ اسلام عدالتی، سیاسی، معاشی، اقتصادی، معاشرتی، تعلیمی، تربیتی غرض ہر شعبہ زندگی میں قوانین کو انسانی معاشرے میں جاری و ساری رکھتا ہے۔ یہ قوانین چودہ سو سال پہلے واضح کیے جاچکے ہیں اور عملاً ان قوانین کو دنیا میں نافذ کرکے ایک فلاحی و اصلاحی، "اسلامی ریاست" کی تشکیل کی جاچکی ہے۔ جس کے ثمرات و برکات سے دنیائے انسانیت بخوبی واقف ہیں۔
تحریروں، تقریروں اور گستاخانہ خاکوں و فلموں کے ذریعے سیدنا آدم سے لے کر خاتم النبیینﷺ، سیرتِ صحابہ کرامؓ سے ازواج مطہرات کی حرمت، شعائر اللّٰہ و شعائر اسلام٬ اسلامی قوانین، اکابرین دین و دیگر مقدس ہستیوں تک کا مذاق اڑانا اور اسلامی اقدار کے بارے میں جس گستاخانہ انداز میں طعن و تشنیع کے ناکام حربے استعمال کئے جاتے ہیں، اس طرح کی تمام سازشوں کے پیچھے لبرل ازم کے لبادے میں چھپی صیہونیت نواز یہودیت و عیسائیت اور براہمنیت کا پردا چاک ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ ان تمام افکار و نظریات کا اصل ہدف تو اسلام و اسلامی تہذیب ہی ہے۔
• لبرل ازم کا نظریاتی پس منظر:
لبرل ازم سے مراد تہذیب و اخلاق سے بغاوت اور روئے زمین پر انسانی قتل و غارت کی مکمل آزادی ہے؟ لبرل ازم اور اسلام دو الگ الگ نظریات ہیں۔ اسلام چونکہ ایک دین (بمعنی مکمّل نظامِ زندگی) ہونے اور انسانوں کے تمام دُنیاوی اُمور میں اللّٰہ کی حاکمیت کا قائل اور علَم بردار ہے، اور لبرل ازم کی تو بنا ہی اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہیں، اللّٰہ ربّ العالمین، مذہب اور حیات بعد الموت کا سرے سے انکار کرتی ہے، اس لیے اسلام کے اصل دُشمن لبرل ازم ہیں۔
بطور سیاسی اور دانشورانہ روایت، لبرل ازم کو 17/ویں صدی میں عروج ملا جب کہ کچھ لبرل فلسفیانہ نظریات قدیم یونانی اور چینی فلسفہ میں بھی پیش رو رہے ہیں۔ لبرل ازم کے بانیوں میں برطانوی فلسفی جان لاک (1620ء ۔ 1704ء) پہلا شخص ہے جس نے لبرلزم کو باقاعدہ ایک فلسفہ اور طرزِ فکر کی شکل دی۔ جس نے فطری انفرادی حقوق اور شہریوں اور ریاست کے مابین عمرانی معاہدہ (Social Contract) پر مبنی سیاسی اقتدار کا نظریہ پیش کیا، ورنہ اس سے پہلے لفظ لبرل صرف لبرل آرٹ میں استعمال ہوتا تھا۔ جان لاک ایک مفکر، فزیشن اور سیاسیات کا طالبعلم ہونے کے ساتھ ساتھ ٹھیٹھ لبرل مفکر تھا۔ لبرل ازم کی یہ اصطلاح بعد میں اسپین میں 1812ء میں سامنے آئی تھی جہاں لبرلز کو لوگوں کی انجمن کہا جاتا تھا جو آئین کا متن تیار کررہے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ویسے بھی 1790ء سے 1860ء کا دور نام نہاد روشن خیالی کا دور رہا ہے، اسی دور میں پہلی مرتبہ تحریک حقوق نسواں کی واضح نشاندہی ہوئی۔
کمیونزم اور سوشلزم نظریات اپنی نوع کے اعتبار سے اصل نظریات نہیں ہیں، بلکہ لبرلزم اور سیکولرزم کے محض فروع ہیں۔ اسلامی ممالک میں اللّٰہ ربّ العالمین، حیات بعد الموت اور دینِ اسلام کی دُنیاوی اُمور سے متعلق تعلیمات کے بارے میں آج جو بے اطمینانی پائی جاتی ہے، اس کا سرچشمہ یہی یورپ کی اللّٰہ ربّ العزّت اور اس کے آخری رسولﷺ سے برگشتہ فکر ہے جس کی ذرا سخت قسم لبرلزم اور کچھ نرم قسم سیکولرزم کہلاتی ہے۔ یعنی ایک درخت کی دو شاخیں ہیں سیکولرازم اور لبرل ازم یہاں لبرل ازم، فرد کے خیالات و افکار کا ترجمان ہوتا ہے اور سیکولرازم ریاست کا تصور ہے۔ مغربی ممالک چونکہ رسمی طور پر عیسائی اور خدا کے قائل ہیں، اس لیے ان ممالک میں حکومت، معاشرت اور معیشت کی سطح پر لبرل ازم کے غلبے کو اہلِ اسلام نے عام طور پر کمیونزم اور سوشلزم کی طرح کا فوری خطرہ نہیں سمجھا۔
• لبرل ازم کا تعارف:
قدیم روم کی لاطینی زبان کے لفظ ’لائیبر‘ (Liber) سے لبرل ازم وجود میں آیا، جس سے ’لائبرالس‘ (Liberalis) ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے”آزاد، جو غلام نہ ہو”۔ یہ دو لفظوں پر بنیاد رکھتا ہے، آزادی Liberty اور مساوات Equality ۔ اس سے مراد Equality before the Law یعنی ریاست میں ہر شہری برابری کی بنیاد پر قانونی اور سیاسی حق رکھتا ہو (بلا مذہب و خاندانی پس منظر کے) اور Liberty کی تعریف یہاں مراد لی جاتی ہے کہ ہر فرد قانون کے دائرہ کار میں رہ کر اپنے فکری افعال میں آزاد ہو۔ اسی کو انفرادی آزادی ( Individual Liberty ) بھی کہا جاتا ہے۔
8/صدی عیسوی تک اس لفظ کے معنی ایک آزاد آدمی ہی تھا۔ بعد میں یہ لفظ ایک ایسے شخص کے لیے بولا جانے لگا جو فکری طور پر آزاد، تعلیم یافتہ اور کشادہ ذہن کا مالک ہو۔ یہ تبدیلی یورپ سے چودھویں صدی عیسوی میں شروع ہونے والی تحریکِ احیاے علوم (Revival sciences) کے اثرات یورپ میں پھیلنے سے آئی۔ ’لبرل ازم‘ اور 'سیکولرازم' نے بیک وقت آغاز کیا، اگر لبرل تحریک کا جائزہ لیا جائے تو ابتدائی دور میں یہ اس وقت کے جاگیردارانہ معاشرہ، بادشاہت اور موروثیت اور پاپائیت کے خلاف تھی۔ اسی طرح مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت پر نئے افکار و نظریات نے تبدیلیوں کے راستے کھولے۔ آغاز سے ہی مذہب کو چونکہ مذکورہ بالا اداروں کے تحفظ کے لیے ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور چرچ نے ہمیشہ ان اداروں کا تحفظ کیا تھا اس لئے عموماً اکثر لبرل ازم کے ناقدین اس کو مذہب کے خلاف ایک تحریک مانتے ہیں۔
18/صدی عیسوی اور اس کے بعد اس کے معنوں میں خدا یا کسی اور مافوق الفطرت ہستی یا مافوق الفطرت ذرائع سے حاصل ہونے والی تعلیمات سے آزادی بھی شامل کرلی گئی، یعنی اب لبرل سے مراد ایسا شخص لیا جانے لگا جو اللّٰہ اور پیغمبروں کی تعلیمات اور مذہبی اقدار کی پابندی سے خود کو آزاد سمجھتا ہو اور لبرلزم سے مُراد اسی آزاد روش پر مبنی وہ فلسفہ اور نظامِ اخلاق و سیاست ہوا جس پر کوئی گروہ یا معاشرہ عمل کرے۔
آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق لبرل ازم (Liberalism) ایک ایسی سوچ ہے جس میں ہر فرد اپنے نظام زندگی کو وضع کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس سوچ کے حامل افراد میں انسان کی بحیثیت فرد آزادی، ذاتی مصروفیات کے اظہار اور ترقی میں کسی بیرونی مداخلت کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ خواہ یہ مداخلت مذہب کی طرف سے ہو یا ریاست کی طرف سے ہو۔ فرد اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں بالکل آزاد ہے۔ مذہب کے نام پر بےجا پابندیوں کے خلاف ردعمل کے طور پر اٹھنے والی تحریکات میں لبرل ازم بھی شامل ہے۔ جس کا بنیادی فلسفہ ہی انسان کی ہر طرح سے کلی آزادی ہے۔ بنیادی طور پر لبرل ازم کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان کا جو جی چاہے کرے لیکن اس حد تک جہاں آپ دوسروں کی آزادی میں مخل نہ ہوں۔ گویا لبرل شخص مذہب اور سیاست میں آزاد خیال ہوتا ہے اور مذہبی و سیاسی معاملات میں قدامت پسندی اور روایت پسندی کا پابند نہیں ہوتا۔ (آکسفورڈ انگلش اردو ڈکشنری، مرتب از شان الحق حقی، ص917)
ایک دعوی ہم نے بارہا سنا ہے کہ لبرل ازم ایک طرز زندگی ہے جسے ایک مسلمان بھی اپنا سکتا ہے اور ایک ملحد بھی۔ معاشرے میں لبرل ازم کی ناکامی کی وجوہات انہی دو غلط فہمیوں میں پوشیدہ ہیں۔ لبرل ازم اپنی نظریاتی اور تہذیبی اساس میں اسلامی فکر سے اسقدر متصادم ہے کہ ایک ہی معاشرے میں بیک وقت دونوں رائج نہیں ہوسکتے۔ جنگل کا بھی ایک قانون ایک ضابطہ ہوتا ہے مگر کیا وجہ ہے کہ مغرب مذہب سے آزاد ہوکر جنگل سے بھی بدتر معاشرے کی مثال بن گیا ہے۔ "میں ایک لبرل" کہہ کر دین مذہب کی بندش سے آزاد ہوا جاسکتا ہے مگر یہ آپ کو انسانیت سے بھی دور کر دینے والا باطل نظریہ کیسے اصولِ زندگی یا ضابطہ اخلاق بن سکتا ہے۔ صرف اللّٰہ اور اس کے انبیاء و الہامی کتب کا انکار اور شدید مخالفت انسانی ترقی اور مثبت ارتقاء کے لئے کافی ہے؟ اگر برصغیر اور وسطی ایشائی مسلم ممالک کو نشانہ بنانا ہی لبرل ازم ہے اور عیسائیت و یہودیت اور ہندومت کو انسانی مذاہب گرداننا ہی انسانیت ہے تو صاحبان آپ کو تکلیف اور مصیبت مذاہب سے نہیں بلکہ دین اسلام سے ہے جو کہ ایک مکمل ضابطہ اخلاق اور اصول زندگی کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ اسی لئے بحیثیت مسلمان لبرل ازم کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں کہ یہ صرف منتشر خیالات کا مجموعہ اور ہر اس چیز جس کی خود انسانیت نفی کرتی ہے کا پرچارک نظریہ ہے۔ مطلب انسانیت سے بھی متصادم جو نظریہ ہے وہ لبرل ازم ہے۔
• لبرل ازم کی بنیادیں:
لبرل ازم اپنی خالص نظریاتی بنیادوں میں اس اصول پر قائم ہے کہ انسان کو اپنی ذات پر کلی اختیار حاصل ہے۔ اگر آپ کی ذات کسی دوسرے فرد کو نقصان نہیں پہنچاتی تو آپ اپنی ذات کے ساتھ جو چاہیں کرسکتے ہیں۔ اسی لئے مغرب میں شراب نوشی کے نقصانات کے باوجود اس کی اجازت موجود ہے۔ اسی طرح اگر مرد مرد سے شادی کرنا چاہتا ہے تو کوئی اسے منع نہیں کر سکتا کیونکہ ہر شخص اپنے جسم کا مالک ہے۔ اسی کے چلتے لبرل ممالک میں خودکشی کی کوشش بھی قابل سزا جرم نہیں سمجھی جاتی۔
لبرل ازم کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے نظام میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ ریاستی نظام کے قوانین مکمل طور سے انسانی مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں تشکیل دئیے جائیں گے۔ مثلاً ریاست اگر عوام کو شراب پینے کی اجازت دیتی ہے تو، کسی مذہب کو اجازت نہیں کہ اس قانون کو چیلنج کرسکے۔ انفرادی طور پہ ہر شخص کو ہر قسم کی آزادی ہوگی۔ خواہ وہ کسی مذہب پہ عمل کرے یا نہ کرے۔ مندر جائے، چرچ جائے، یا مسجد جائے، یا کسی بھی مذہب پہ عمل نہ کرے۔ لبرل ریاست میں زنا، سود، شراب نوشی جائز ہے، تو مذہبی طور پہ اس پہ کوئی سزا نہیں ہوگی۔ یہ شخصی آزادی کے زمرے میں آئے گا۔ مذہب کے متعین کردہ جرائم کا اطلاق ریاستی نظام میں نہیں ہوگا۔
آپ جوا خانے، کیسینو کھولیں، آپ شراب خانے بنائیں، زنا خانے بناکر جسم فروشی کریں، یا فحش و عریاں ویب سائٹس یا فلمیں بنائیں، یہ تمام عمل نظامِ لبرل ازم میں کاروبار کے زمرے میں آئیں گے۔ لبرل نظامِ ریاست میں یہ کوئی گناہ (جرم) تصور نہیں ہوگا۔ میرا جسم میری مرضی کے نعرے آخر کس منظر میں لگائیں جارہے ہیں؟ کچھ اس کی بھی تو وضاحت ہو؟ تمام ترقی یافتہ لبرل ممالک، تمام جرائم میں سرِ فہرست کیوں ہیں؟ انسانی جانوں کا قتل، چوری، ڈاکہ زنی، زنا، زنا بالجبر، اجتماعی زنا بالجبر، معصوم بچوں کا زنا بالجبر اور اس کی ویڈیو ریکارڈنگ، غرض ہر جرم میں یہی لبرل ممالک ٹاپ پہ ہیں۔ ایک بھی مسلم ملک اس فہرست میں سوویں نمبر پہ بھی نہیں ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی آزادی اور لبرلائزیشن کے نعرے ایک ایسا تعفن زدہ معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔
لبرل ازم کی بنیاد پر وجود میں آنے والا معاشرہ اس سے یکسر مختلف ہوگا جو اسلامی بنیادوں پر وجود میں آئے گا۔ اس لئے یہ کہنا کہ ایک مسلمان بھی لبرل ہوسکتا ہے، ایک شدید قسم کی غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ جو شخص ایسی زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے گا، اس کی فکری اور عملی زندگی ایک دوسرے سے مختلف ہوں گی۔ سیکولرازم کا معاملہ بھی اسی سے ہی مماثلت رکھتا ہے۔
• لبرل ازم کے آلہ کار:
عالم اسلام کے سیکولر حکمران بیشتر self proclaimed and so called سیاست دان اور دانشورانِ ملت اپنے مفادات کی خاطر باطل طاقتوں کے حواری، بلکہ آلۂ کار بنے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کا ایک طبقہ لبرلزم اور سیکولرزم کو نہ سمجھنے کے باعث اس لڑائی کو ٹُک ٹُک دیدم، دم نہ کشیدم کی حالت میں محوِ تماشا ہے۔ لبرلزم اور سیکولرزم کے وہ علَم بردار جو اسلامی ممالک اور غیر اسلامی ممالک کے شہری ہیں عوام الناس کو ایک سحر آمیز گفتگو اور تحریروں کے ذریعے ایک دھوکے میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اللّٰہ، رسولﷺ، قرآن اور اسلام کا نام لیتے ہیں مگر عملی زندگی میں اسلامی تعلیمات کے نفاذ سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔ یہ لوگ سیاسی، ادبی، صحافتی اور ثقافتی حلقوں میں اثر و نفوذ رکھتے ہیں اور ذرائع ابلاغ اور حکومتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے نہایت آہستگی اور خاموشی کے ساتھ معاشرے کے تمام شعبوں سے اللّٰہ اور اسلام کو بے دخل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک آدمی بیک وقت مسلمان اور سیکولر یا لبرل ہو سکتا ہے۔
سیکولرزم کی ساخت کے عین مطابق یہ سیکولر حکمران یا دانش ور مسلمانوں کے عقائد، مراسمِ عبودیت اور رسوم و رواج کی نہ صرف یہ کہ مخالفت نہیں کرتے بلکہ خود بھی ان کو اختیار کرکے عوام کو اپنے متعلق پکّے مسلمان ہونے کا تأثّر دیتے ہیں اور مسلم عوام اس سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔ ؏
قرآن کو بازیچہ تاویل بناکر!!!
چاہے تو خود اک تازہ شریعت کرے ایجاد
ہے مملکت ہند میں اک طرفہ تماشا
اسلام ہے محبوس، مسلمان ہے آزاد
جاوید احمد غامدی نے اسلام کے دائرے کو وسیع کرکے لبرل ازم کو اس میں سمونے کی کوشش کی ہے۔ وہ ایسے دو نظاموں کو ملانے کی سعی لاحاصل میں مصروف ہیں جو اپنی اساس میں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ وحید الدین خان کی خدمات روس جیسے سابق سپرپاور ممالک لیتے ہیں۔ جنہیں کمیونسٹ و سیکولر اور منووادی سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ جن کے انتقال پر تعزیتی پیغامات ارسال کئے جاتے ہیں۔ میں طوالت سے بچنے کے لئے صرف اشاروں سے کام لے رہا ہوں۔
بڑی بڑی جماعتوں اور تحریکات کے ذمہ داران اپنی تحریروں اور تقریروں میں لبرل ازم کے باطل نظریہ کو پرموٹ کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسی شخصیات کو بھی دیکھا ہے جو امت مسلمہ کے دینی مدارس میں امت کے پیسوں پر تعلیم حاصل کرتے ہیں اور بعد میں اپنے مفادات کے لئے مسلمانوں پر عفریت بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جس جماعت سے وابستہ رہتے ہیں اسی کی قبر شعوری یا غیر شعوری طور پر کھودنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے!
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تحریر کردہ فکر اسلامی کی مضبوط فکر انگیز انقلابی تحریروں کو رد کرنے کے لئے جماعت کے اندر ہی ایسے نام نہاد دانشور حضرات پیدا ہورہے ہیں کہ وہ اپنے لبرل اسلام کو پیش کرنے کے لئے مولانا کی بہترین تحریروں کو ہدف بنا رہے ہیں۔ مولانا کے تصورِ دین، تصورِ سنت و حدیث اور تصورِ قوانین کی بیج کنی کرنے میں منظم طریقے سے مصروف عمل ہیں اور افسوس اور لمحہ فکریہ! اس بات کا ہے کہ مکاتیب جماعت پر ان شرانگیز مواد کو بیچا بھی جارہا ہے۔
• لبرل اکنامک سسٹم:
لبرل ازم کا سب سے بڑا نقصان معاشی نظام پر ہوتا ہے۔ لبرل ازم کا سرمایہ دارانہ نظام صرف سرمایہ داروں اور اہل ثروت لوگوں کو پرموٹ کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انہی سرمایہ داروں کو تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔ اس نظام میں بھی غریب مزید غریب ہوتا جاتا ہے۔ جیسے لبرل ازم میں ایلیٹ کلاس، بزنس کلاس، اپر کلاس، مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس، لوئر کلاس، جیسی اصطلاحیں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ طبقاتی تقسیم احساس کمتری، عوامی روابط کا فقدان اور جرائم کو جنم دیتی ہے۔ ہم جسے تعلیم یافتہ مہذہب معاشرہ سمجھ رہے ہیں، وہاں جرائم کی شرح ٹاپ پہ کیوں ہے۔ کیا ایک امیر بندہ چوری, ڈکیٹی کرے گا؟ یا کوئی پڑھا لکھا قتل کیوں کرے گا؟ یا مہذہب معاشرے کی عورت کسی جانور سے شادی کیوں کرے گی؟ اگر لبرل ازم معاشرے کو متوازن کرتا اور عوام کو دماغی سکون مہیا کرتا تو یہ جرائم پیدا ہی کیوں ہوتے؟
لبرل ازم کے معاشی فلسفے کو سمجھنے کے لیے، ہم پاکستان اور انڈیا کی مثال سامنے رکھتے ہیں۔ دونوں ایک ساتھ آزاد ہوئے۔ انڈیا لیکن شرح غربت انڈیا میں 60% سے زیادہ ہے۔ اور پاکستان میں 49% ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ وہاں شرح غربت کیوں کم ہے؟ اس کی اصل وجہ نچلے لیول پہ اسلامی اصولوں کی پابندی ہے۔ یعنی لوگ زکوٰۃ جو اسلامی ٹیکس سسٹم ہے، اس پہ انفرادی طور پہ عمل کرتے ہیں۔ اس ایک اسلامی سسٹم کی وجہ سے پیسہ معاشرے میں نچلے لیول تک فلو کرتا ہے، جو غربت کو کم سطح پہ رکھنے میں مدد گار ہے۔
• لبرل نظام اخلاقی:
دوسرا بڑا نقصان جو لبرل نظام میں ہوتا ہے، وہ اخلاقیات کی تباہی ہے۔ لبرل نظام اخلاقی تربیت پہ کوئی قوانین اور تعلیمات واضح نہیں کرتا، بلکہ شخصی آزادی کو پرموٹ کرتا ہے۔ یعنی آپ شراب پیئں، زنا کریں، ننگے گھومیں، حرام ہلال جو مرضی کھائیں، ریاست آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتی۔ بوڑھے افراد کی کوئی عزت نہیں انہیں اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عورتوں بچوں کا ریپ دنیا میں سب سے زیادہ لبرل ممالک میں ہوتا ہے۔ عورتوں کی عورتوں سے شادی اور مردوں کی مردوں شادی کے قوانین بنے ہوئے ہیں۔ عورتیں جانوروں سے جنسی فعل کرتی ہیں اور شادیاں کرتی ہیں۔ طلاق کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ہر قسم کے جرائم میں لبرل ممالک سرِ فہرست ہیں۔ دنیا بھر میں تمام لبرل ممالک میں پروسٹیٹیوشن، پورن، اپنے عروج پہ ہے!!!
• لبرل ازم اور تہذیبی اقدار:
اگر ہم تہذیبی سطح پر دیکھیں تو یہاں بھی اسلام اور لبرل ازم ایک دوسرے کے متضاد خانوں میں نظر آئیں گے۔ لبرل ازم میں معاشرے یا تہذیب کی بنیادی اکائی فرد ہے جب کہ اسلام میں یہ اکائی خاندان ہے۔ یہ اتنا بڑا فرق ہے کہ جسے کسی صورت بھی دور نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے برعکس ایک اسلامی معاشرے میں صورتحال بالکل مختلف ہوتی ہے۔ کیونکہ اسلامی معاشرے میں خاندان ہی بنیادی اکائی ہوتا ہے اس لئے شادی کا ادارہ کلیدی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں اگر کوئی لڑکی کسی مرد کے ساتھ بغیر شادی کے رہنا چاہتی ہے تو نہ ہی خاندان اس کی اجازت دے گا اور نہ ہی معاشرہ اس حوالے سے فرد کو تحفظ فراہم کرے گا۔ اس کے برعکس پہلے مرحلے پر اس لڑکی کا خاندان اور بعد ازاں معاشرہ رکاوٹ بنے گا۔ اس کی کیا صورت ہونی چاہئے یہ ایک الگ بحث ہے مگر مزاحمت لازماً ہوگی۔ اگر یہ دونوں ناکام ہو جائیں تو پھر ریاست اس معاملے میں مداخلت کرے گی اور اپنے قوانین کے تحت سزا نافذ کرے گی۔ اسلام میں مرد و زن کے آزادانہ اختلاط کی حوصلہ شکنی بھی اسی لئے کی جاتی ہے کہ اس کی وجہ سے شادی کے بغیر عورت اور مرد کے درمیان تعلق قائم ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے جس سے خاندان کا ادارہ متاثر ہوتا ہے۔
دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد مسلمان کا متمع نظر صرف اور صرف رضائے الٰہی ہوتا ہے، اپنی مرضی، اپنے تقاضوں سے دستبردار ہوکر اسے اللّٰہ کے بنائے ہوئے قوانین و ضوابط کے تابع ہونا ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں جتنے بھی فقہی گروہ موجود ہیں ان میں سے ہر کسی کا بنیادی طور پر یہی دعویٰ ہے کہ وہ اللّٰہ کی مرضی واضح کرنے کا ترجمان ہے۔ یہ لبرل ازم اور اسلام کا صریح قسم کا نظریاتی تضاد ہے جس سے لبرل طبقہ آگاہ ہے۔ مذہب کو انسان کا ذاتی معاملہ قرار دینے کے پیچھے بھی اسی تضاد سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کار فرما ہوتی ہے۔ چونکہ بنیادی تضاد جوں کا توں موجود رہتا ہے اس لئے اس طرز فکر کو آج تک کامرانی نصیب نہیں ہوسکی۔
لبرل ازم کی نظریاتی بنیادیں ہیں ہی نہیں۔ اگر تخلیق و تحقیق کے حوالے سے لبرل ازم کے ہمنواؤں کے پاس پختہ نظریات ہیں تو اسے دلائل و براہین کی روشنی میں پیش کریں۔ بزدلوں کے جیسے مسلمانوں کی اجتماعیت اور معاشرے میں سرایت کرکے سم قاتل کا کردار ادا نہ کریں۔ ہمیں اپنی تاریخ اور تہذیب و تمدن کو ہی ہدایت و رہنمائی کا منبع بنانا ہوگا۔ ایک یکسر مختلف نظریات کے اوزار ہمارے اسلامی معاشرے کے خدوخال تشکیل نہیں دے سکتے۔ ان سے صرف ہمارا تشخص مسخ ہوسکتا ہے اور چہرے اسقدر داغدار ہو سکتے ہیں کہ ہم اپنی شناخت ہی بھول جائیں۔ بے دین ہونے سے بچیں کیونکہ جو نظریہ اللّٰہ کو نظر انداز کرے وہی لادینیت کا ٹھکانہ ہے۔ اور لبرل ازم بھی ایک لادینی نظریہ ہے۔ ؏
گو فکر خداداد سے روشن ہے زمانہ
آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد
(24.06.2021)
©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment