وریدھاآشرم اور اسلام
وریدھاآشرم اور اسلام
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
+919422724040
ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان (نیک سلوک) کا حکم دیا ہے۔ (العنکبوت:۸)۔ رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا " اللّٰہ کی رضامندی والدین کی رضامندی میں ہے اور اللّٰہ کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے۔
اسلام نے والدین کے مقام اور احترام پر واضح احکامات جاری کئے ہیں۔ اسلام میں والدین سے حسن سلوک جہاد سے بھی افضل اور نافرمانی قتل سے بھی بڑا جرم ہے۔ اسلام نے بڑی سختی کے ساتھ ان کی نافرمانی سے ڈرایا ہے اور والدین کی نافرمانی کو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ (گناہ کبیرہ) قرار دیا ہے۔
نبیﷺ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اللّٰہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی (بے گناہ) انسان کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ (البخاری:۲۶۵۳، مسلم:۸۸)
والدین کےساتھ حسنِ سلوک اور معروف میں ان کی اطاعت فرض ہے۔ اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے اپنے والدین سے محبت کریں۔
والدین کی خدمت کو اللّٰہ کی راہ میں جہاد سے بھی افضل قرار دیا ہے جو اسلام کی سب سے بلند چوٹی ہے۔ ایک آدمی نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے جہاد میں جانے کی اجازت طلب کی۔ آپﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تیرے والدین حیات ہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں! آپﷺ نے فرمایا: تو ان کے حق میں جہاد کر"۔ (بخاری و مسلم)
والدین، اولاد کے لئے دنیا کی سب سے بڑی نعمت اور عظیم تحفہ ہیں۔ والدین کی جس قدر عزت و توقیر کی جائے گی اسی قدر اولاد سعادت و خوشبختی سے سرفراز ہوگی۔ اللّٰہ جلَّ شانہُ نے دنیا میں ہمارے وجود کا ذریعہ بھی ہمارے والدین کو بنایا ہے۔ اللّٰہ تعالی نے انسان کو وجود بخشا اور والدین کو اس کے وجود کا ظاہری ذریعہ بنایا۔
اللّٰہ و رسول اللّٰہﷺ کی انہیں تعلیمات کے پیشِ نظر، محسن انسانیتﷺ کی تعلیمات کو اجاگر کرنے کی غرض سے ملک کی بڑی اجتماعیت وحدت اسلامی کی اورنگ آباد شاخ کے ساتھ ہندوستان کے تاریخی شہر اورنگ آباد سے قریب "وریدھاآشرم" "old age home" (ضعیف و کمزور بزرگ والدین کی قیام گاہ) میں جانے کا زریں موقع عنایت ہوا۔ ملک کے کئی بڑے شہروں میں معمر بزرگ و ضعیف عمر رسیدہ افراد کے لیے وریدھاآشرم، اولڈ ایج ہومز یا کیئر سنٹر کافی عرصہ سے موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک اس اصطلاح کا کوئی ترجمہ نہیں ہے، مگر اس سے ملتا جلتا کوئی لغوی معنی دیکھا جائے تو ہمیں "دارالضعفا" نظر آتا ہے۔ وریدھاآشرم میں ملاقات و طعام کا نظم رکھا گیا تھا۔ جس کے ذریعے ان کے دکھ درد کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اولڈ ایج ہوم میں آئے ہر بزرگ و معمر مرد و عورت کی داستان ایک جیسی ہی نظر آئی۔ ان سے گفتگو کے ذریعے ان کے چہروں پر مسکراہٹ و خوشیوں کو محسوس کیا، واقعی ان لمحوں کو الفاظ میں بیان کرنا بےحد مشکل ہوگا۔ اولڈ ایج ہومز میں آنے والے ماں باپ اپنی اولادوں اور ان کے بچوں کے چہرے دیکھنے کو ترس جاتے ہیں۔
ہمارے ملک میں مغربی مادی ترقی و تہذیب کی پیروی دیکھ کر دل خون کے آنسو رو پڑا۔ مغربی مادی تہذیب کے لوگ اپنے والدین کو اولڈ ایج ہومز میں چھوڑ آتے ہیں، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں کے والدین بچوں کی ذمّہ داری نہیں اٹھاتے اور بچے وقت سے پہلے ہی خود مختار ہوجاتے ہیں۔ جہاں والدین کو بوجھ سمجھ کے اولڈ ایج ہومز میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور بےحسی کا یہ عالم یہ ہوتا ہے کہ اولاد پلٹ کے ماں باپ کا حال احوال تک پوچھنے نہیں آتی۔ معلوم ہے درندہ صفت جانور بھیڑیے کو عربی زبان میں "ابن البار" جس کے معنی ہوتے ہیں 'نیک بیٹا' کیوں کہا جاتا ہے، وہ اس لئے کہ بھیڑیا اپنے بوڑھے والدین کا انتہائی فرمانبردار ہوتا ہے۔ ان کی عزت و احترام سے خدمت کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ لیکن آج کی سنگ دل و سفاک اور ناخلف اولاد تو بھیڑیے سے بھی زیادہ درندہ صفت ہوگئیں ہیں۔ بڑھاپے میں وہ اولاد کی محبت اور توجہ کے پیاسے ہوتے ہیں۔ والدین جو کبھی رول ماڈل ہوتے تھے آج وہی بےکار ماڈل نظر آنے لگتے ہیں۔ جن والدین نے بچپن میں انگلیاں پکڑ کر چلنا سکھایا، کبھی گرنے نہیں دیا آج انہیں ہی نظروں سے اتنا گرا دیا کہ انہیں دوسروں کے دست کرم پر جینے کے لئے مجبور کردیا۔
موجودہ دور میں جو اولاد اپنے والدین کے ساتھ کررہے ہیں وہ نہ تو دیکھنے کے قابل ہیں اور نہ برداشت کے۔ ایسی کتنی ہی مثالیں ہمارے معاشرے میں بھری پڑی ہیں کہ اولاد نے بڑھاپے میں ماں باپ کو گھروں سے نکال دیا، بے سہارا چھوڑ دیا، اُن کے ساتھ ناروا سلوک کیا، اولڈ ایج ہوم میں جانے کے لئے مجبور کردیا۔
آج بوڑھے والدین کے ساتھ نوجوان جو کچھ کرتے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اکثر میڈیا میں یہ خبر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے کہ چند روپیوں یا جائیداد کی خاطر بزرگ والدین کو قتل کردیا۔ بچے، نوجوان والدین کو بات بات پر ڈانٹنے، جھڑکنے اور بلند آواز سے بات کرنے میں تھوڑی بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ جب کہ والدین اس جہاں میں نہایت بیش بہا قیمتی جوہر اور سرمایہ حیات ہیں، ساتھ ہی ساتھ جنت میں داخل ہونے کے اسباب بھی ہیں۔ انسان نے ترقی اور معاشی خوشحالی کے پیچھے اپنی جنّت کو ہی بھلا دیا ہے!!!
اولڈ ایج ہومز اس بات کی علامت ہیں کہ اب مقدس اور سب سے مضبوط رشتوں میں بھی بہت دوریاں پیدا ہوچکی ہیں۔ کیا ہر سال یکم جون کو عالمی سطح پر علامتی طور پر والدین کا عالمی دن منا لینا ان کے حقوق ادا کرنے مترادف ہوگا۔ اس دن کو منانے کا مقصد والدین کو خراج تحسین پیش کرنا ہوتا ہے۔ کیا سال میں ایک دن منا کر ان کے دکھوں کا مداوا ہوسکتا ہے۔
میں نے اولڈ ایج ہوم میں بہت قریب سے ان ضعیف و بوڑھے والدین کی پرنم و جھلکتی آنکھوں میں ان کا دکھ درد، بے بسی اور تنہائی کو دیکھا ہے۔ واقعی ان ضعیف بزرگوں کے زندہ تلخ حقائق و تجربات، تاثرات و انکشافات دل دہلانے والے تھے۔ اس قدر دل سوز کہ سُن کر کلیجہ منہ کو آجائے، دل اُچھل کر حلق میں آجائے۔ ان کی آنکھیں کئی ماہ اور سال گزر جانے کے باوجود اولاد کو دیکھنے کے لیے ترس رہی تھیں۔ وہاں ہر ایک غمزدہ بوڑھے والدین کی دکھ و درد کی لمبی داستان بھری پڑی ہیں۔ ان سے ملاقات کے بعد محسوس ہوا کہ انسانی معاشرے میں ایسے سنگدل اور سفاک لوگ موجود ہیں جو جوانی میں پیر رکھتے ہی اپنے بوڑھے والدین جنہوں نے انہیں طرح طرح کی مشقتیں اور اذیتیں جھیل کر پالا ہوتا ہے کو اولڈ ایج ہومز میں چھوڑ آتے ہیں۔ کئی بزرگ والدین اپنی آخری سانسوں تک اپنی ناخلف اولاد کی راہ تکتے دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ بے رحم اولاد اپنے والدین کو وریدھاآشرم میں چھوڑتے وقت یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وقت کو پلٹنے میں دیر نہیں لگتی، یہی عمل ان کے ساتھ بھی دہرایا جاسکتا ہے، کیا ان کی اولاد ان کے ساتھ یہ عمل نہیں کرسکتی؟ نجانے وہ اولاد جو اپنے گھر کے بزرگوں کو وریدھاآشرم میں چھوڑتے ہوئے ایک لمحہ نہیں لگاتے، آخر وہ اپنے انجام سے اتنے غافل و بے خبر کیسے ہوسکتے ہیں؟؟ ؏
بچے میری انگلی تھامے دھیرے دھیرے چلتے تھے
پھر وہ آگے دوڑ گئے میں تنہا پیچھے چھوٹ گیا
الحمدُللّٰہ! پورے وریدھاآشرم میں ایک بھی مسلمان ضعیف نظر نہ آیا۔ مسرت بھی ہوئی کہ اسلامی تعلیمات کی رمق و حس امت مسلمہ میں آج بھی زندہ ہے۔ آج بھی ہماری خاندانی روایات میں والدین کو گھروں سے بے دخل کرنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ والدین کے حقوق اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ زندہ ہے، جس کے نتیجے میں وہ بوڑھے والدین کو گھر سے بے گھر کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتے۔ جب کے وہاں صرف غیر مسلم نحیف و ضعیف والدین ہی نظر آئے۔ آشرم میں کئی لوگوں سے ملاقات اور ان سے گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ امت مسلمہ کے ایک فرد ہونے کی حیثیت سے واقعی ہم جیسوں کے لئے اس طرح کے مقامات عبرت کا مقام ہیں۔ اگر ان اداروں میں جاکر ان لوگوں کے ساتھ وقت گزارا جائے تو ان کے دکھوں کا کچھ مداوا ہو سکتا ہے۔
ہمارے مسلم معاشرے، مضبوط خاندانی نظام، اور مذہبی تعلیمات کے نتیجے میں زندہ ہے، ہماری اپنی مذہبی قدریں مضبوط و مستحکم ہیں۔ والدین اگر بوڑھے ہوجائیں تو اولاد انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے، ہماری تو بنیادی تعلیمات میں شامل ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے اور اللّٰہ کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے تمام مسلمانوں کو والدین کی خدمت کی غیر معمولی تاکید کی ہے۔ والدین کو وریدھاآشرم بھیجنا یا ان کی نگہداشت میں کمی کرنا ان کے ساتھ ظلم اور بڑا گناہ ہے۔ یہ غیر اسلامی طرز عمل ہے۔ اسلام میں وریدھاآشرم، اولڈ ایج ہوم، شیلٹر ہاؤس یا دارالضعفا بنانا اور ضعیف والدین کو وہاں چھوڑنا ناجائز اور حرام ہے۔
وریدھاآشرم کی موجودگی تو کیا اس کا تصور بھی ہمارے معاشرے میں نہیں ہے۔ خدارا اپنے حقوق و فرائض سے پہلو تہی نہ کریں، اگر والدین خفا ہیں تو انہیں منالیں، اگر اولڈ ایج ہومز میں ہیں تو معافی مانگ کے گھر واپس لانے کے اسباب بنائیں۔ دنیا میں ہر رشتے کا نعم البدل موجود ہے سوائے والدین کے۔ والدین کی زندگی میں ہی ان کی قدر کریں ورنہ بعد میں پشیمانی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئیگا- دنیا میں بیوی، بچوں کا نعم البدل ہے مگر والدین کا کوئی نعم البدل نہیں!!!
اولڈ ایج ہوم کا کلچر بڑھتا ہوا نظر آنے لگا ہے۔ اس کے کئی اسباب سامنے آرہے ہیں۔ ایک عام وجہ وہاں کے معمر بزرگوں سے گفتگو کے ذریعے سمجھ میں آئی وہ یہ ہے کہ بہوئیں اپنی مرضی چلانے کی عادی ہوتی ہیں، ساس سسر کا وجود برداشت نہیں کرتیں یا ان کی خدمت کرنا اپنا فرض نہیں سمجھتیں ان حالات میں زن مرید اولاد اپنے ضعیف والدین کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آتی ہیں۔ گھر کے امن و سکون کی سلامتی کے لئے والدین یہ کڑواہ گھونٹ پی لیتے ہیں۔ ایک اور وجہ جو سامنے آئی کہ شہروں میں گھر چھوٹے ہوتے ہیں اور کرایہ زیادہ لہٰذا والدین کو ساتھ رکھنا اولاد کو مشکل لگتا ہے۔
ایک وجہ روزگار کے مسائل ہیں۔ معاشی استحکام کی وجہ سے اولاد کو گاؤں، شہر یا ملک سے باہر بیرون ملک ذریعہ معاش کے سلسلے میں جانا پڑتا ہے اور ظاہر ہے کہ والدین کو ساتھ لے کر جانا ممکن نہیں ہوتاـ ایسی صورتحال میں والدین اکیلے رہ جاتے ہیں۔ ایسے میں بھی دو صورتحال سامنے آتی ہیں ایک یہ کہ جو لوگ مالی لحاظ سے بہتر ہوتے ہیں اور ان کے اپنے گھر ہوتے ہیں وہ اپنے گھروں میں رہ جاتے ہیں اور بچے باہر سے خرچہ بھیجتے ہیں اور گزر بسر بہتر ہوجاتی ہے، لیکن اس میں بھی اکیلے والدین کا رہنا مشکل ہوتا ہے اور اگر ماں یا باپ میں سے کوئی ایک رہ جائے تب بھی ان کو اس عمر میں تنہائی کا عذاب جھیلنا پڑتا ہے ظاہر ہے عمر کے اس حصے میں اکیلے گھر میں رہنا اور اپنے وسائل کا انتظام کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مجبوراً اولاد اپنے والدین کو وریدھاآشرم کی نظر کردیتے ہیں۔ جہاں والدین سالہا سال اپنی اولاد کا چہرہ دیکھنے کو تڑپتے رہتے ہیں۔
والدین کے حقوق، ان کے ساتھ حسنِ سلوک، ان کی خدمات، ان کی فرمانبرداری وغیرہ، اس سلسلہ میں قرآن کریم کی آیات مبارکہ کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ آئیے! اس پر سرسری نظر ڈالتے چلیں۔
والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس اُن میں سے کوئی ایک یا دونوں بُوڑھے ہوکر رہیں تو انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جِھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو۔ اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور دعا کیا کرو کہ "پروردگار، ان پر رحم فرما جس طرح اِنہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا"۔ (القرآن: سورۃ الإسراء)
والدین کے حق کو اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی بندگی اور اطاعت کے فوراً بعد ذکر فرمایا، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے۔قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں "اور تمہارے رب نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو۔" (بنی اسرائیل: 23)
سورۃ النساء میں اللّٰہ ربّ العزّت کا ارشاد ہے، "اللّٰہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور (اپنے) والدین سے احسان (نیک سلوک) کرو"۔
حقوق العباد میں سب سے عظیم حق والدین سے حسنِ سلوک کا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن و احادیث کے ذریعے والدین کے حقوق اور حسنِ سلوک کی خصوصی تاکید فرمائی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حقوق میں سب سے اولین مقام والدین کے حق کو مقدم رکھا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں کہ "ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرے۔" (سورۃ الاحقاف: ۱۵)۔
دنیا کے تمام انسانوں کو اپنے والدین کے حقوق ادا کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ والدین کے حقوق کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ "اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اللّٰہ کے علاوہ کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو"۔
اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اگر وہ (تیرے والدین) میرے ساتھ شرک کرنے کے لئے جس کا تیرے پاس علم نہیں تجھے مجبور کریں، تو ان کی اطاعت نہ کر اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہ۔ (لقمان: ۱۵)
قرآن میں ہی ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجز و انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اللّٰہ کے حضور) عرض کرتے رہو، اے میرے ربّ! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا اللّٰہ تعالیٰ نے جہاں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے وہیں پر ان کے لیے دعا کرنے کی تعلیم بھی ارشاد فرمائی ہے۔ والدین کی خدمت ہمارا فرض ہے ان کی دن رات خدمت کرکے بھی ہم ان کی محبّت، شفقت، محنت اور قربانیوں کا حق ادا نہیں کرسکتے۔
حضرت عروہ ؒ سے کسی نے پوچھا کہ اللّٰہ نے قرآن میں والدین کے سامنے جھکے رہنے کا حکم دیا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ تو انھوں نے فرمایا کہ اگر وہ کوئی بات تیری ناگواری کی کہیں تو ترچھی نگاہ سے بھی ان کو مت دیکھ کہ آدمی کی ناگواری اول اس کی آنکھ سے پہچانی جاتی ہے۔ اور فرمایا کہ ان کے سامنے ایسی روش اختیار کر کہ تیری وجہ سے ان کی دلی رغبت پوری کرنے میں فرق نہ آئے اور جس چیز کو والدین پسند کریں تو وہ ان کی خدمت میں پیش کرنے میں کنجوسی مت کرنا۔
آئیے! والدین سے متعلق احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائيں۔
سیدنا عبداللّٰہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ: میں نے نبیﷺ سے پوچھا کہ اللّٰہ کے نزدیک کون سا کام سب سے زیادہ پسندیدہ ہے؟ فرمایا: نماز اپنے (اول) وقت پر پڑھنا.
(میں نے)پوچھا: پھر کون سا عمل (پسندیدہ) ہے؟ فرمایا: والدین سے نیکی کرنا، پوچھا: پھر کیا ہے؟ فرمایا: اللّٰہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ (صحیح البخاری: ۵۲۷ و صحیح مسلم: ۸۵)
نبیﷺ نے عبداللّٰہ بن عمرو بن العاص ؓ کو حکم دیا تھا کہ: جب تک تمہارا باپ زندہ ہے اُس کی اطاعت کرو اور اُس کی نافرمانی نہ کرنا۔ (مسند احمد ۲؍۱۲۵ح ۲۵۳۸و سندہ صحیح)۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ: ربّ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور ربّ کی ناراضی، والد کی ناراضی میں ہے۔ (الترمذی: ۱۸۹۹ و سندہ صحیح)۔ ؏
مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود بھی وہ جلتا رہا
میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائیں میں
ایک آدمی نے رسولﷺ سے پوچھا کہ: میں کس کے ساتھ اچھا برتاؤ کروں؟ فرمایا: اپنی ماں کےساتھ، پوچھا: پھر کس کے ساتھ؟فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، پوچھا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، اس نے پوچھا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا: پھر اپنے باپ کے ساتھ۔ (البخاری: ۵۹۷۱ و مسلم:۲۵۴۸)۔ جاہمہ السلمی ؓ کو آپﷺ نے حکم دیا کہ پس اپنی ماں کی خدمت لازم پکڑو، کیونکہ جنت اُن کے قدموں کے نیچے ہے۔ (سنن النسائی ۶؍۱۱ح۳۱۰۶و اسنادہ صحیح)
منور رانا کا ایک شعر ہے۔ ؏
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
ابی بن مالک العامری ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے والدین یا ان میں سے ایک (والد یا والدہ) کو (زندہ) پائے پھر اس کے بعد (ان کی خدمت نہ کرنے کی وجہ سے) جہنم میں داخل ہوجائے تو اللّٰہ نے اسے اپنی رحمت سے دور کردیا اور وہ اس پر ناراض ہے۔ (مسند احمد۴؍۳۴۴ح۱۹۲۳۶ وسندہ صحیح)
نبی کریمﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتادوں؟ صحابۂ کرام ؓ نے عرض کیا: اے اللّٰہ کے رسولﷺ! ضرور بتائیں، فرمایا: اللّٰہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ (البخاری:6521)
حضرت ابوہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، اس شخص کی جس نے بڑھاپے کی حالت میں اپنے والدین کو پایا۔ ان میں سے ایک کو یا دونوں کو اور پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں نہ گیا۔(مسلم)
ایک مرتبہ سرور کونین رحمت العالمینﷺ نے ممبر پرچڑھتے ہوئے تین مرتبہ آمین فرمایا: بعد ازاں صحابۂ کرام ؓ میں سے کسی نے سوال کیا یارسول اللّٰہﷺ ! کیا بات ہے آپﷺ نے خلاف معمول تین مرتبہ آمین فرمایا: اللّٰہ کے رسولﷺ نے فرمایا: جب میں ممبر پر چڑھ رہا تھا، اپنا ایک قدم ممبر پر رکھا تو جبرئیل علیہ السلام نے کہا: اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جس کو اس کی زندگی میں والدین یا دونوں میں کوئی ملے ہوں اور اس نے انہیں راضی نہیں کیا۔ تو میں نے آمین کہا۔ (الخ)
مجاہد ؒ نے فرمایا کہ اگر والدین بوڑھے ہوجائیں اور تمھیں ان کا پیشاب دھونا پڑجائے تو بھی” اف“ مت کہنا کہ وہ پچپن میں تمہارا پیشاب پاخانہ دھوتے تھے۔ اللّٰہ ربّ العزّت نے بڑھاپے کی حالت کو خاص طور سے اس لیے ذکر فرمایا کہ والدین کی جوانی میں تو اولاد کو نہ”ہوں“ کہنے کی ہمت ہوتی اور نہ ہی جھڑکنے کی، جوانی میں بدتمیزی اور گستاخی کا اندیشہ کم ہوتا ہے، البتہ بڑھاپے میں والدین جب ضعیف ہوجاتے ہیں اور اولاد کے محتاج ہوتے ہیں تو اس وقت اس کا زیادہ اندیشہ رہتا ہے۔ پھر بڑھاپے میں عام طور سے ضعف کی وجہ سے مزاج میں چڑچڑاپن اور جھنجھلاہٹ پیدا ہوتی ہے، بعض دفعہ معمولی باتوں پر بھی والدین اولاد پر غصّہ کرتے ہیں، تو اب یہ اولاد کے امتحان کا وقت ہے کہ وہ اس کو برداشت کرکے حسنِ سلوک کا مظاہرہ کرتے ہیں، یا ناک بھوں چڑھا کر بات کا جواب دیتے ہیں۔
والدین کی فرمانبرداری، ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی خدمت کے لئے اولاد کو ہمیشہ پیش پیش رہنا چاہئے، یہاں تک کہ وہ جہاد اور ہجرت پر بھی اسے ترجیح دے إلّا یہ کہ جہاد فرض عین ہو۔
عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی اللّٰہ کے نبیﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میں ہجرت اور جہاد پر آپ سے بیعت کرنا چاہتا ہوں اور اللّٰہ سے اجر کا طالب ہوں۔ آپﷺ نے پوچھا: تیرے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں، بلکہ دونوں زندہ ہیں۔ آپ نے اس سے پوچھا: کیا تو واقعی اللّٰہ سے اجر کا طالب ہے۔ اس نے کہا: ہاں! آپ نے فرمایا: پھر تو اپنے والدین کے پاس لوٹ جا اور ان کی اچھی طرح خدمت کر۔ (بخاری و مسلم)
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کی عمر دراز کی جائے اور اس کے رزق کو بڑھا دیا جائے اس کو چاہئے کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔
(مسند احمد بن حنبل)
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ "والدین کے ساتھ حسنِ سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ تم ان کے سامنے اپنے کپڑے بھی مت جھاڑو، کہیں کپڑوں کا غبار اور دھول ان کو لگ نہ جائے"۔
رسول اکرمﷺ نے فرمایا: "جنت کی خوشبو پانچ سو برس کی مسافت سے محسوس ہوگی لیکن والدین کی نافرمانی کرنے والے اس سے محروم رہیں گے۔‘‘ (طبرانی)
والدین اپنی اولاد کی پیدائش سے لے کر اُس کی تعلیم و تربیت اور معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل بنانے تک اہم کردار ادا کرتے ہیں، زندگی کے ہر لمحہ لمحہ پر اُس کی راہنمائی کا فرض ادا کرتے ہیں، زمانے کے ہر مشکلات و مصیبت سے نجات دلانے کے لئے اپنی زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ جب وہی اولاد بڑی ہوجاتی ہے تو والدین کو تنہا چھوڑ دیتی ہے۔ حالانکہ اُس وقت اُن کو اُس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔والدین اپنی اولاد کی پرورش، تعلیم و تربیت اس امید پر نہیں کرتے ہیں کہ جب وہ بوڑھے ہوجائیں تو ان کی اولاد ان کا سہارا بنے، یہ ہماری خام خیالی ہے۔ حقیقت میں وہ اپنے حصّے کا فرض و حقوق ادا کرتے ہیں، ان کی خدمات اور صلہ رحمی کا حق اولاد زندگی بھر ادا نہیں کر سکتے۔
والدین كے ساتھ حسن سلوک، خدمت گذاری اور اطاعت و فرماں برداری اولاد کی اولین ذمہ داری ہے۔ انسان اپنے والدین کی چاہے کتنی ہی خدمت کر لے مگر وہ ان کا بدلہ اتار ہی نہیں سکتا۔ سعادت مندی کی بات یہ ہے کہ اولاد والدین کی خدمت کرتی رہے اور اسے اپنی خوش قسمتی اور سعادت سمجھے اور اللّٰہ کا شکر ادا کرتا رہے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے کسی نے پوچھا کہ میں نے خراسان سے اپنی والدہ کو اپنے کندھے پر اٹھایا اور بیت اللّٰہ لایا اور اسی طرح کندھے پر اٹھا کر حج کے مناسک ادا کروائے، کیا میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کردیا؟ تو عبداللّٰہ بن عمر ؓ نے فرمایا: ”نہیں ہر گز نہیں، یہ سب تو ماں کے اس ایک چکر کے برابر بھی نہیں جو اس نے تجھے پیٹ میں رکھ کر لگایا تھا۔
اللّٰہ تعالی نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیاہے:﴿وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَانًا﴾ یعنی ان کے ساتھ انتہائی تواضع و انکساری اور اکرام و احترام کے ساتھ پیش آئے، بے ادبی نہ کرے، تکبر نہ کرے، ہر حال میں ان کی اطاعت کرے، إلّا یہ کی وہ اللّٰہ کی نا فرمانی کا حکم دیں تو پھر ان کی اطاعت جائز نہیں۔
ابو اسید الساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ یارسول اللّٰہﷺ! والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ان کے لئے کرسکوں؟ آپﷺ نے فرمایا۔ ہاں کیوں نہیں۔ تم ان کے لئے دعائیں کرو، ان کے لئے بخشش طلب کرو، انہوں نے جو وعدے کسی سے کر رکھے تھے انہیں پورا کرو۔ ان کے عزیز و اقارب سے اسی طرح صلہ رحمی اور حُسن سلوک کرو جس طرح وہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ان کے دوستوں کے ساتھ عزت و اکرام کے ساتھ پیش آؤ۔ (ابوداؤد کتاب الادب باب فی برالوالدین)
رفاعہ بن ایاس ؒ کہتے ہیں کہ ایاس بن معاویہ ؒ کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ رونے لگے، کسی نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو؟ تو انھوں نے فرمایا میرے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہوئے تھے، اب ایک (والدہ کی وفات پر) بند ہوگیا ہے، اس لیے رو رہا ہوں۔ کس قدر خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے والدین زندہ ہیں اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرتے ہیں اور ان کے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
اللّٰہ جلَّ شانہُ نے والدین کے لئے دعائیں سکھائیں ہیں، زندگی میں کا معمول بنالیں اور جب بھی وقت ملے ان دعاؤں کا ورد کرتے رہیں۔ تمام نماز کے بعد والدین کے لیے دعا کرنے کا معمول بنالیں۔ ان دعاؤں میں سے بہت پیاری اور آسان سی دعا یہ ہے:
رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً۔ (الإسراء: 24)
اے ہمارے ربّ! تو میرے والدین پر رحم فرما جیسا کہ انھوں نے بچپن میں (رحمت و شفقت کے ساتھ) میری پرورش کی ہے۔
رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ۔ (إبراهيم: 41)
اے ہمارے ربّ! روز حساب تو میری، میرے والدین کی اور تمام ایمان والوں کی بخشش فرما۔
رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا)۔ (نوح: 28)
”اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا۔
اللّٰہ تعالیٰ تمام لوگوں کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللّٰہ تعالیٰ ان بے بس و بے کس ضعیف والدین کی مدد فرمائے۔ انہیں اولاد کی وہ تمام خوشیاں نوازے جس کے وہ بھی حقدار ہے۔ ان کی اولاد کو وہ شعور و فہم نوازے جس سے وہ والدین کی رضامندی اور خدمت کا فریضہ انجام دے سکے۔ اللّٰہ تعالیٰ والدین کا سایہ ہم پر تادیر سلامتی کے ساتھ قائم رکھے۔(آمین ثم آمین یا ربّ العالمین)
وآخردعوانا أن الحمدلله ربّ العالمين۔
02.11.2021
©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
○○○○○○○○○
*وریدھاآشرم اور اسلام*
*ازقلم: مسعود محبوب خان (ممبئی)*
+91 9422 724040
https://bit.ly/3EHHAMo
Comments
Post a Comment