حیا و حجاب ختم ... تو ہم بھی ختم!!
حیا و حجاب ختم ... تو ہم بھی ختم!!
┄┅════❁﷽❁════┅┄
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
+919422724040
قرآن مجید میں اللّٰہ ذوالجلال والاکرام کا فرمان ہے کہ "ﻳَﺎ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲُّ ﻗُﻞْ ﻟِﺄَﺯْﻭَﺍﺟِﻚَ ﻭَﺑَﻨَﺎﺗِﻚَ ﻭَﻧِﺴَﺎﺀِ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﻴﻦَ ﻳُﺪْﻧِﻴﻦَ ﻋَﻠَﻴْﻬِﻦَّ ﻣِﻦْ ﺟَﻠَﺎﺑِﻴﺒِﻬِﻦَّ ۚ ﺫَٰﻟِﻚَ ﺃَﺩْﻧَﻰٰ ﺃَﻥْ ﻳُﻌْﺮَﻓْﻦَ ﻓَﻠَﺎ ﻳُﺆْﺫَﻳْﻦَ ۗ ﻭَﻛَﺎﻥَ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻏَﻔُﻮﺭًﺍ ﺭَﺣِﻴﻤًﺎ. (ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﺰﺍﺏ: 59)
اے نبیﷺ! اپنی ازواج سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔
ماہ جون 2021ء میں ایک مضمون بعنوان "اسلاموفوبیا، اسباب اور سدباب" قلمبند کیا تھا، جس میں اسلاموفوبیا کی مندرجہ ذیل تعریف بیان کی تھی۔ "اسلاموفوبیا ایک ذہنی اختراع اور نفسیاتی مرض ہے، اس مرض میں مبتلا مریض ہر مخصوص چیز یا صورتحال یا اجنبی چیز کو دیکھ کر ڈر اور خوف محسوس کرتا ہے۔ ماہرین کی رائے یہ بھی ہے کہ اس بیماری میں مبتلا ہونے والا ذہنی طور پر مریض، نفسیاتی طور پر انتقام پسند، اخلاقی طور پر بزدل، جذباتی طور پر درندہ صفت، نظریاتی طور پر متعصب اور جنونی ہوتا ہے۔ اسلاموفوبیا مسلمانوں سے نفرت کرنے، تعصب برتنے کا نام ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلاموفوبیا تعصب کی ایک قابل قبول شکل ہے۔ اکثر غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اسلام کا خوف داخل ہوتا ہے اس کو "اسلاموفوبیا" کہا جاتا ہے۔
اسلاموفوبیا کے بھوت نے باطل پرستوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ اس کے اثرات ہمارے ملک میں بھی آئے دن شدت سے نظر آنے لگے ہیں۔ انہیں اپنے وجود کو تسلیم کروانے کے لئے ظلم و جبر، استہزاء و اذیت کا سہارا لینا پڑھ رہا ہے۔ کہیں مکاری، کہیں بزدلانہ حملے، کہیں مظلوم و کمزوروں پر ظلم، کہیں ملت اسلامیہ کی بیٹیوں پر تعلیمی اداروں میں پابندی، کہیں تنہا مسلمان کو شرپسندوں کے ذریعے اذیتیں پہنچا کر ہلاک کردینا ایسے واقعات آئے دن ہماری نگاہوں سے روز گذرتے ہیں۔
صبر و برداشت کی بھی حدیں ہوتی ہیں، مظلوم خاموشی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا ہے کہ ڈر و خوف کے نتیجے میں ردّعمل نہیں کرے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ہر چیز کا وقت متعین کر رکھا ہے۔ جیسا کہ اسدالدین اویسی کی موت کا وقت معین نہیں تھا، اسی لئے اللّٰہ نے باطل قوتوں کے شر سے حفاظت فرما دی۔ واقعی اسدالدین اویسی پر قاتلانہ حملہ بزدلی، شکشت خوردگی اور مایوسی کی علامت ہے یہ حملہ جس کی صرف مذمت پر اکتفا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔
ملک میں نفرت و عداوت اور تعصب و نسلی امتیاز کی جو بساط ہندو احیاء پرستوں نے مسلمانوں کے خون سے سجائی تھی آج وہ خود بھی اس بساط پر گردش ایام کا شکار ہیں۔ مہاراشٹر کے لاتور میں ایک دلت نے مندر میں بھگوان کو پرسن کرنے کی خاطر ناریل پھوڑا، اس عظیم جرم کی پاداش میں نسلی عصبیت کے شکار برہمن ازم کے ٹھیکیداروں نے ان کا سماجی بائیکاٹ کیا۔ کیا یہی ہمارا ترقی یافتہ ملک ہے۔ حالانکہ اس واقعے سے مسلمانوں کا کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔ مگر اللّٰہ ربّ العالمین نے ہمیں مستضعفین کی مدد کے لئے بھیجا ہے۔ اور جب تک ظالم کا ہاتھ پکڑا نہ جائے، تب تک ظلم کیسے مٹے گا۔
'سلی ڈیلز' اور اب 'بُلّی بائی' کے واقعات بھی اسلاموفوبیا کے ہی اثرات ہیں، جس کی وجہ سے باحیاء خواتین کو شرانگیز عناصر کے ذریعے فحاشیت و عریانیت کے بازار میں لاکر کھڑا کرنے مذموم کوشش کی گئی۔ بُلّی بائی نے مسلم خواتین کی توہین نہیں کی ہے بلکہ اس ذلیل، جاہل اور عصمت دری کے کلچر کی حقیقت دنیا کو بتادی ہے جس میں خواتین کو صرف استعمال کی چیز سمجھا جاتا ہے۔
حال ہی میں کچھ مٹھوں، آشرموں کے اور پھر بہار کے مظفرپور کے شیلٹر ہوم میں معصوم بچیوں کے ساتھ کئے جانے والے سلوک کا پردہ فاش ہوا ہے، کیسے دھرم کے نام پر سیکس ریکٹ کا غلیظ کاروبار عبادت گاہوں سے ہوتا رہا ہے، اس نے تو انسانیت کو بھی شرمسار کر دیا ہے۔ چند روز قبل ’می ٹو‘ مہم کے تحت خواتین نے اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کو اجاگر کیا ہے، اس مہم نے اچھے اچھوں کی قلعی کھول کر سیاسی و مذہبی افراد کو برہنا کردیا ہے۔ آسارام باپو، باباگرمیت، بابا نارائین، سنت رام پال، بابا رام رحیم، ساکشی مہاراج، سبرا منیم سوامی، بابا پریمانند، کرپالوجی بابا اس طرح کے ہائی پروفائل باباؤں کی ایک لمبی فہرست ہے، جنہوں نے آستھا اور دھرم کے نام پر اپنی دکانیں چمکا رکھی تھیں۔
طلوع اسلام سے قبل مختلف ادیان میں عورت کے بارے میں دل دہلانے والے شرمناک اور افسوسناک عقائد و افکار تھے۔ مکتبِ جاہلیت کے پروردہ انسان نما درندوں نے جنسیت کی بناء پر عورت کے مقام کو نیچے گرا دیا تھا۔ بیٹی کی پیدائش پر باپ کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا۔ سنگ دل باپ شرم و عار محسوس کرکے بے رحمانہ انداز میں اپنی معصوم کلی کو زندہ درگور کرتا تھا۔ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جب اسلام کا نور چمکا تو آپﷺ نے عورت کو عزت، وقار، رتبہ اور مقام و منزلت بخشا۔ مساوات، برادری اور برابری کا نظریہ پیش کیا۔ جنسیت، حسب و نسب رنگ اور نسل کو مرد و عورت کے درمیان برتری و بلندی کا میعار قرار نہیں دیا۔
اسی طرح رحمت اللعالمینﷺ نے عورت کے متعلق باطل نظریات کا شیرازہ بکھیرتے ہوئے یہ اعلان بھی کر دیا کہ: "دنیا بہترین متاع ہے اور بہترین متاع نیک عورت ہے"۔ دین اسلام نے یونانیوں کے غلط افکار کو حرف غلط کی طرح مٹاتے ہوئے ماں کے قدموں کے نیچے جنت رکھ کر عورت کو ذلت کے گڑھے سے اٹھا کر بام ثریا تک پہنچا دیا اور مزید رسولِ رحمت عالمﷺ نے عورتوں کے حقوق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: جو اپنی بیٹیوں کی اچھی طرح پرورش و تربیت کرے یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائیں تو قیامت کے دن وہ میرے ساتھ ہوگا جیسے دو انگلیاں ساتھ ساتھ ہیں۔
فطرت کا تقاضا ہے ہر قیمتی چیز ملفوف ہوتی ہے۔ اسے لوگوں کی نظروں سے بچایا جاتا ہے، تاکہ اس کی قدر و قیمت میں کمی نہ ہو۔ عام طور پر حجاب کا لفظ نقاب کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، حجاب کا لفظ عربی زبان کے لفظ حجب سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں کسی کو کسی چہرہ تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا۔ ہر مبارک و مقدس چیز غلاف میں لپیٹ کر محفوظ کی جاتی ہیں۔ عورت بھی اللّٰہ ربّ العزّت کی ایسی تخلیق ہے جسے غلاف یا پردے سے ڈھانکنے کی تلقین آئی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنی ایک رباعی میں فرمایا۔ "اللّٰہ خالق ہے اور حجابوں میں ہے، اس نے اپنی صفت تخلیق صرف عورت کو عطاء کی ہے، اس لئے اسے بھی حجاب میں رہنا چاہئے اور اپنے اس اعزاز پر فخر کرنا چاہئے"۔
گذشتہ کچھ عرصہ سے حجاب اور نقاب کو دنیا میں مسلمانوں کی ثقافت کی علامت قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ملک میں ہندوتوا کے دعویدار کسی مسلمان خاتون کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے کہ وہ اپنے سر یا منہ پر نقاب ڈالے۔ حجاب باطل پرستوں کے ذہن و دماغ پر خوف و دہشت کی علامت بن گیا ہے۔
کرناٹک میں نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت اقتدار میں ہے۔ "بیٹی پڑھاؤ' بیٹی بچاؤ" کے بوسیدہ نعروں نے اس زیر اقتدار حکومت نے ان کی قلعی کھول دی ہے۔ آج ملک میں مسلمانوں کے بعد سب سے زیادہ متاثر بھی خواتین ہی رہی ہیں۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا ملک جدید دور میں زمانۂ جاہلیت کی بدترین مثالوں کی آماجگاہ بنتا جارہا ہے۔ ہندی اخبار "نو بھارت ٹائمز" کے مطابق اب بھی بھارت میں لاکھوں ہندو لڑکیوں کو "دیوداسیاں" بنا کر بہت سے مندروں میں رکھا گیا ہے اور ان بد قسمت لڑکیوں کو ہر قسم کے جسمانی اور ذہنی استعمال کے بعد ادھیڑ عمری میں جانوروں سے بھی بدتر حالت میں عبادت گاہوں کے تہہ خانوں میں پھینک دیا جاتا ہے جہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، نہ ہی ان کو علاج مہیا کیا جاتا ہے اور ان تہہ خانوں میں یہ بد قسمت خواتین ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دیتی ہیں۔
ریاست کرناٹک میں ہی تقریباً 90 ہزار سے زائد خواتین ایسی ہیں، جنہیں دیوداسی بنا کر مندروں اور پروہتوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ دیوداسی کا مطلب "بھگوان کے لئے وقف خواتین" ہے۔ ریاستی حکومت کے ذریعہ 2008ء میں کئے گئے سروے اور کرناٹک اسٹیٹ ویمن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے اعداد و شمار میں دیوداسیوں کی تعداد تقریباً 40,600 ہے۔ مگر 2018ء میں ایک غیر ملکی غیر سرکاری تنظیم اور کرناٹک اسٹیٹ ویمن یونیورسٹی کے ذریعہ کی گئی تحقیق میں کرناٹک میں 90 ہزار دیوداسیاں پائی گئیں، جس میں سے جنوبی کرناٹک کی 20 فیصد سے زیادہ دیوداسی 18 سال سے کم عمر کی ہیں۔
اسی کرناٹک میں ایک سرکاری کالج میں مسلم طالبات کو حجاب یا سر پر اسکارف پہن کر آنے پر مہینے بھر سے کلاس روم کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھنے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے۔ طالبات کا کہنا ہے کہ حجاب کے ساتھ ہم تعلیمی ادارے میں داخل نہیں ہوسکتے۔ ایک طالبہ نے بتاتا کہ حجاب پہننے کی پاداش میں فرش پر بٹھا کر ذلیل و رسواء کرکے جبرا حجاب کو اتارا گیا۔ اس اذیت ناک عمل کے بعد بھی امت مسلمہ کی غیور و خوددار بیٹیوں کا آج بھی یہی موقف ہے کہ "ہم کسی طرح بھی نہیں جھکنے والے ہیں"۔
طالبات نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ حجاب ان کے عقیدے کا حصّہ ہے اور اسے پہننا قانون کے تحت ضمانت یافتہ حق ہے۔ انتظامیہ نے مبینہ طور پر ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے مختلف "دباؤ کے حربے" استعمال کیے ہیں۔ اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ بھی ریاست کرناٹک میں ہی واقع ہوا، جہاں ایک اور تعلیمی ادارے میں مسلم طالبات پر حجاب کی پابندی کی گئی ہے۔
کچھ روز قبل ایک واقعہ آر آر ایس کے مرکز، شہر ناگپور میں رونما ہوا۔ حجاب کی اہمیت و افادیت بتاتی ہوئی مسلم بچیوں اور خواتین کو شرانگیز عناصر کے ذریعے عوامی مقامات پر روکنا اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا اسلام کے خلاف ان کے زہریلی سازشوں کا پیش خیمہ ہیں۔
میری اسلامی، روحانی عفت مآب ماؤں اور بہنوں! دین اسلام نے جو آپ کو مقام و مرتبہ دیا ہے اسے سمجھیں۔ تہذیب جدید کے سراب کی گندی تہذیب پر چل کر اپنے خاندان، اپنی زندگی اور اپنے گھروں کو برباد نہ کرنا، کیونکہ دین اسلام تمہارے حقوق کا پاسبان ہے۔ اسلام کے نزدیک صنفِ نازک اللّٰہ تعالیٰ کے لُطف و جمال اور صفتِ تخلیق کی مظہر ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ شیطان جب کسی سماج کو تباہ کرنا چاہتا ہے، تو سب سے پہلا وار، عورت کی صفتِ حیا ہی پر کرتا ہے۔ یہی اس کی اوّلین اور پسندیدہ چال ہے، جو اُس نے حضرت آدمؑ اور بی بی حوّاؑ پر آزمائی اور اس جال میں آج تک حضرتِ انسان کو پھنساتا چلا آ رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد اسلام اور اسلام کی علامات، خاص طور پر حجاب کے خلاف عدو اسلام کے متعصبانہ رویّوں اور میڈیا نے بھرپور مہم جاری رکھی ہوئی ہے اور بدقسمتی سے اس کا اس طور جواب بھی نہیں دیا گیا، جیسا کہ حق تھا، مگر شرق و غرب میں بیدار ہوتی نوجوان نسل نے اب اقدام کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کی ایک علامت حجاب کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ جوں جوں حجاب کی مخالفت میِں تیزی آتی رہے گی، حجاب مہم کی اہمیت میں بھی اتنا اضافہ بڑھتا رہے گا۔
حجاب مسلمان عورت کا سوٹ، اس کا وقار ہے اور یہ لباس اعلان کرتا ہے کہ اس خاتون کے ساتھ عزّت واحترام سے پیش آیا جائے۔ حجاب، زبردستی اور جبر کا نام نہیں، بلکہ محبّت، ترغیب، تعلیم و تربیت کا نام ہے کہ عورت کی عزّت و احترام میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
ضروری ہے کہ خواتینِ اسلام پردہ کو لازم پکڑلیں، مغربیت، جدیدیت اور شیطانیت کے فریب میں نہ آئیں اور کسی طرح دور حاضر کے ماحول میں اپنے کو نہ ڈھالیں تاکہ آپ کی زندگی خراب نہ ہو۔ آپ کی عزت و عظمت اور عصمت محفوظ رہے اور ذلت و رسوائی سے بچ جائیں۔ اور معاشرے میں عزت کا مقام حاصل ہو جائے اور آپ کی آغوش میں جو اولاد پرورش پائے وہ بھی شرم و حیا کا پیکر بنے اور اسلامی تہذیب اور اسلامی تمدن میں ڈھل جائے۔
حجاب سے متعلق اس غلط فہمی کو بھی دور کرنے کی ضرورت ہے کہ 'اسلام عورتوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنا چاہتا ہے'۔ اللّٰہ ربّ العالمین نے صلاحیتوں کے لحاظ سے مرد و زن میں کوئی تخصیص نہیں رکھی۔ البتہ اسلام، ترقی کی آڑ میں میں صالح و پاکیزہ تمدن کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ وہ مرد و زن کے اختلاط، مخلوط سرگرمیوں کا مخالف ہے۔ اسلام ایسے تمدّن کا خواہاں ہے جہاں ہر بری اور فحش نگاہ سے عورت محفوظ ہو۔ انہیں تحفظ اور مضبوط حصار حاصل ہو۔ اس پاکیزہ تمدّن کے اظہار کا اہم ذریعہ حجاب ہے جو عورت کو قیمتی ہونے کا احساس دلاتا ہے۔
اسلام دشمن قوتوں کا دعویٰ ہے کہ اُن کے معاشرے میں عورت آزاد ہے، وہ جہاں چاہے جاسکتی ہے، جب، جیسا اور جتنا چاہے کپڑا پہن سکتی ہے، وہ سب کے سامنے بے حجاب، نیم برہنہ اور بعض اوقات برہنہ آسکتی ہے اور سب اُس کو جی بھر کر دیکھ سکتے ہیں۔ عورت کی یہ آزادی دراصل اُس کی بربادی اور تباہی کا باعث بنتی ہے۔
دین اسلام میں حجاب کسی کو زبردستی نہیں کروایا جاتا اور یہ حجاب، جسے باطل قوتیں جبر اور قید کی علامت سمجھتے اور سمجھاتے رہے، اب یہی حجاب مسلمان عورت کی آزادی کی علامت بن کر ابھر رہا ہے۔ حجاب ہماری خواتین کا وقار، ان کا افتخار اور اعتبار بنتا جارہا ہے۔ خواتینِ اسلام اُسی آخری آسمانی ہدایت کی طرف لَوٹ رہی ہیں، جس میں انہیں بشارت دی گئی ہے کہ "ایک نبی کریمﷺ انہیں اُن بوجھوں سے نجات دینے آئے ہیں، جنہیں معاشرے نے تمہارے اوپر لاد دیا تھا اور تمہیں اُن زنجیروں سے آزاد کروانے آئے ہیں، جنہوں نے تمہیں جکڑ لیا تھا۔‘‘
پردہ و حجاب کی مخالفت کرنے والوں کو ان کے مذہب میں خواتین پر ہو رہے ناروا سلوک، ظلم، تشدّد، بربریت، جنسی استحصال، نا انصافی، زیادتیوں اور غیر منصفانہ عمل کو ختم کرنے کے لئے کمر کسنا شروع کر دینا چاہئے جہاں مذہب کی آڑ میں خواتین استحصال ہوتا ہے۔ دھرم شاسترا، سمرتیوں، پرانوں اور رزمیہ داستانوں کے عہد میں عورت کی حالت کا جائزہ لینا چاہیے، عصبیت و نفرت کی عینک اتار کر اسلام کی تعلیمات کا ایمانداری سے جائزہ لیجئے، ان شاء اللّٰہ! تمہیں تمہارے ظلم و جبر کا جواب نظر آجائے گا۔
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
(07.02.2022)
©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
○○○○○○○○○
*حیا و حجاب ختم… تو ہم بھی ختم!!*
*ازقلم:مسعود محبوب خان (ممبئی)*
+919422724040
https://bit.ly/35RG3Hb
Comments
Post a Comment