شہداء کی عظمت و مقام

شہداء کی عظمت و مقام

         ┄┅════❁﷽❁════┅┄
╗══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╔
   🌌✨ شہداء کی عظمت و مقام ✨🌌

                ✨✍۔مسعود محبوب خان ✨
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

     جو لوگ اللّٰہ کی راہ میں سعی و جہد، اقامتِ دین، حکومت الٰہیہ اور کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا کی پاداش میں پابند سلاسل اور قید و بند کی سعوبتیں برداشت کرنے کے بعد تختۂ دار پر لٹکا دئے جائیں وہ بھی شہید کے زمرے میں شامل کئے جاتے ہیں۔ صـ
کسی سے رابطے اتنے شدید ہو گئے ہیں
کہ ہم لڑے بھی نہیں اور شہید ہو گئے ہیں

     بالآخر اللّٰہ کے فرمان کے مطابق جن سعید نفوس نے اپنی زندگی کے جوانی کےحسین و دلکش لمحات و ایام ابتلاء و آزمائش میں گزارے ان کے لئے اللّٰہ تعالیٰ نے کامیابیوں اور کامرانیوں کی وعیدیں سنائی ہیں۔

اِن تَنصُرُو اللّٰہَ یَنصُرُکُم وَیُثَبِّت اَقدَامَکُم- (محمد:7)
"اگر تم اللّٰہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا"-

     ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ شہادت ایک عظیم رتبہ اور بہت بڑا مقام ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں جن کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوتی ہے۔ شہادت کے فضائل سے قرآن وحدیث بھرے ہوئے ہیں اور اسلامی تعلیمات کی رو سے ایک مسلمان کی حقیقی و دائمی کامیابی یہی ہے کہ وہ اللّٰہ کے دین کی سربلندی کی خاطر شہید کردیا جائے، لہٰذا ایک مومن کی تو دلی تمنا یہی ہوتی ہے کہ وہ اللّٰہ کی راہ میں شہادت سے سرفراز ہو۔ شہداء کو اپنے پروردگار کے مقرّب ترین ہونے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔

     لہذٰا شہید فی سبیل اللّٰہ کے ضمن میں اللّٰہ ربّ العالمین کا فرمان ہے:
"اور جو لوگ اللّٰہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مُردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا"۔ (سورة الْبَقَرَة: 155)

     "موت کا لفظ اور اس کا تصوّر انسان کے ذہن پر ایک ہمّت شکن اثر ڈالتا ہے۔ اس لیے اس بات سے منع کیا گیا کہ شہداء فی سبیل اللّٰہ کو مردہ کہا جائے، کیونکہ اس سے جماعت کے لوگوں میں جذبۂ جہاد و قتال اور روح جاں فروشی کے ماند پڑ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس کے بجائے ہدایت کی گئی کہ اہل ایمان اپنے ذہن میں یہ تصوّر جمائے رکھیں کہ جو شخص اللّٰہ کی راہ میں جان دیتا ہے، وہ حقیقت میں حیات جاوداں پاتا ہے۔ یہ تصوّر مطابق واقعہ بھی ہے اور اس سے روح شجاعت بھی تازہ ہوتی اور تازہ رہتی ہے۔" (تفسیر تفہیم القرآن)

     موت کے بعد اللّٰہ تعالیٰ شہداء کو زندگی عطا فرماتا ہے، ان کی ارواح پر رزق پیش کیا جاتا ہے، انہیں راحتیں دی جاتی ہیں، ان کے عمل جاری رہتے ہیں، ان کا اجر و ثواب بڑھتا رہتا ہے، حدیث شریف میں ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے بدن میں جنّت کی سیر کرتی اور وہاں کے میوے اور نعمتیں کھاتی ہیں۔ ایمانداروں کی روح جنّتی پرند کی شکل میں جنّت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے اوپر گذر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللّٰہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر شہادت کی موت دے۔

     دوسرے مقام پر ارشادِ ربانی: "جو لوگ اللّٰہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے ربّ کے پاس رزق پا رہے ہیں"۔ (سورہ آل عمران: 169)

     اللّٰہ ربّ العالمین کی راہ میں شہید ہونے والوں کی قبروں میں ان کی روحیں لوٹا دی جاتی ہیں اور وہاں اللّٰہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ جنّت کے پھلوں کی خوشبوئیں انہیں آتی ہیں جن سے ان کے مشام جان معطر رہتے ہیں۔ فرشتے اپنے پروں سے شہید پر سایہ کئے ہوئے ہیں۔

     حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: شہدائے کرام جنّت کے دروازے پر نہر بارق پر سبز قبہ میں ہیں اور ان کا رزق انہیں صبح و شام پہنچتا ہے۔ (مسند احمد، مستدرک، طبرانی)

     حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب بندے قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے کھڑے ہوں گے تو کچھ لوگ اپنی تلواریں گردنوں پر اٹھائے ہوئے آئیں گے، ان سے خون بہہ رہا ہوگا، وہ جنّت کے دروازوں پر چڑھ دوڑیں گے، پوچھا جائے گا یہ کون ہیں؟ جواب ملے گا یہ شہداء ہیں جو زندہ تھے اور انہیں روزی ملتی تھی۔ (طبرانی)

      جب شہید جنّت میں جائیں گے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں گے تو کہینگے کہ کاش اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصّہ دار بنتے پس نبی کریمﷺ نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللّٰہ تعالیٰ نے ان سے کہہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبیﷺ کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہونگیں۔

     سدیؒ نے اس سلسلے میں بیان فرمایا ہے: "شہید کا جو کوئی عزیز، دوست مرنے والا ہوتا ہے شہید کو پہلے سے اس کی اطلاع کردی جاتی ہے کہ فلاں شخص اب تمہارے پاس آرہا ہے، وہ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے، جیسے دنیا میں کسی دور افتادہ دوست سے بعد مدت ملاقات کی خوشی ہوتی ہے۔" (معارف القرآن: ج۲، ص:۲۳۷)

     شہادت کا مقام نبوت کے مقام سے تیسرے درجے پر ہے۔ انعام یافتہ جماعتوں میں سے تیسری جماعت حضرات شہداء کرام کی ہے۔ "سورۃ النساء" میں اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے شہدائے کرام کو ان لوگوں کے ساتھ بیان کیا ہے، جن پر اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا خاص فضل و کرم اور انعام و اکرام فرمایا اور انہیں صراطِ مستقیم اور سیدھے راستے کا معیار و کسوٹی قرار دیا ہے۔

     چناںچہ ارشادِ خداوندی ہے:"جو کوئی اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی (ایمان اور صدقِ دل کے ساتھ) اطاعت کرتا ہے، پس وہ (روزِ قیامت) ان لوگوں کے ساتھ ہوگا، جن پر اللّٰہ تعالیٰ نے (اپنا خاص) انعام فرمایا ہے، جو کہ انبیاءؑ، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں اور یہ کتنے بہترین ساتھی ہیں"۔ (سورۃ النساء)

     آیت مبارکہ میں راہِ خدا کے جاں باز شہیدوں کو انبیاءؑ و صدیقین کے بعد تیسرا مرتبہ عطا کیا گیا ہے۔

     حضرت انس بن مالکؓ رسول اللّٰہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: جو شخص بھی جنّت میں داخل ہوتا ہے وہ پسند نہیں کرتا کہ دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور اسے دنیا کی ہر چیز دے دی جائے، مگر شہید (اس کا معاملہ یہ ہے) کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ لوٹ جائے اور دس مرتبہ قتل کیا جائے۔ (راہِ خدا میں بار بار شہید کیا جائے) (صحیح بخاری و مسلم، بیہقی)

    حضرت عبداللّٰہ بن ابی اوفیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: جان لو! کہ جنّت تلواروں کے سائے میں ہے۔(صحیح بخاری)

     حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص بھی اللّٰہ کی راہ میں زخمی ہو اور اللّٰہ ہی جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے، وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون کا فوارہ بہہ رہا ہوگا، رنگ خون کا اور خوشبو کستوری کی۔ (صحیح بخاری و مسلم)

    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: شہید کو (راہِ خدا میں) قتل کی اتنی تکلیف بھی نہیں ہوتی، جتنی کہ تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے تکلیف ہوتی ہے۔ (ترمذی، نسائی، دارمی)

     حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ﷺنے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، میری یہ آرزو اور تمنا ہے کہ میں اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں قتل (شہید) کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر شہید کیا جاؤں۔ (صحیح بخاری، مشکوٰۃ المصابیح)

     ویسے تو شہداء کے مقام و مراتب، فضیلت و افادیت سے اسلامی تعلیمات بھری پڑی ہیں، ہمیں اس کا مطالعہ لازماً کرنا چاہئے۔  صـ

شہید پر جو عنایتیں ہیں، کتاب و سنت کو اُٹھا کے دیکھو

     تاکہ ہم زندگی میں اس چاشنی و لذت سے محظوظ ہوتے رہیں اور ہمیں موت بھی آئے تو اللّٰہ کی راہ میں آئے، اور ہماری روحیں بھی جنّت میں سبز پرندوں میں ودیت کی جائیں، ہم بھی ان کے بدن میں جنّت کی سیر کرتے پھریں۔ کاش! یہ حسین و جمیل لمحات ہماری آرزؤں و تمناؤں کا مرکز و محور ہو۔ (آمین)

شہید کا ہے مقام کیسا؟ افق کے اُس پار جا کے دیکھو
حیاتِ تازہ کیا مزے ہیں؟ ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو

یہ حسنِ فانی کی کیا طلب ہے؟ خدا کے عاشق بنو تو تب ہے
گلاب بن کے مہک اٹھیں گے، جگر پہ یہ زخم کھا کے دیکھو

     اللّٰہ ربّ العالمین! ہمیں غازیوں کی زندگی اور شہیدوں کی موت نصیب فرمائے۔ (آمین ثم آمین یا ربّ العالمین)

                     (20.02.2022)
       ©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam