Tasawwuf aur Jihad

حصّہ دوم .

╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
        ✨ اسلامی تَصَوُّف اور جہاد ✨
  ✨Islamic mysticism and Jihad✨
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

                    (قسط 12)

     ہمارے اسلاف نے امت کو فقر کی سان چڑھا کر باطل قوتوں کے مدمقابل معرکۂ آرائی کے لئے شمشیر بے نیام بنا کر میدان جہاد میں لاکھڑا کیا۔ یہی وہ قوت و توانائی تھی جو میدانوں میں ہمیں ثابت قدم رکھتی تھی۔ لیکن آج درآمد شدہ اہل تَصَوُّف کے صُوفِيّاء حضرات کے پاس "جہاد بالسیف" کے متعلق مختلف قسم کے نظریات جنم لے چکے ہیں۔ وہ ''جہاد بالسیف'' کو قبول نہیں کرتے ہیں، بلکہ وہ کہتے ہیں کہ معاشرے کی نت نئی 'رسومات' کو اپنا کر اُس کو دین میں داخل کریں۔ ان حضرات کے نزدیک صُوفِيّ‎ ازم امن پسند ہے اور وہ جہاد کے عنصر پہ کام اس لئے نہیں کرتا کہ تلوار کا استعمال تو اہل زر کا شیوہ رہا ہے، فقر و استغنا کرنے والا تو فاقہ کش اور درویش ہوتا ہے، جنہیں صُوفِيّ‎ بھی کہا جاتا ہے۔ صُوفِيّ‎ تو تبلیغ اور واعظ و نصیحت کرسکتا ہے۔ حالانکہ یہ فکر قرآنی تعلیمات کے بالکل منافی ہے۔

     جب کہ سورہ المائدہ آیت 54 میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اے ایمان والو! جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھرے گا، تو اللّٰہ تعالیٰ عنقریب ایسے لوگوں کو لے آئیں گے، جو اللّٰہ کو محبوب ہوں گے اور انہیں اللّٰہ سے محبت ہوگی، مسلمانوں پر وہ مہربان ہوں گے اور کفار کے لیے سخت ہوں گے، وہ اللّٰہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللّٰہ تعالیٰ کا فضل ہے، وہ جسے چاہے دیتا ہے اور اللّٰہ وسعتوں کا مالک اور سب کچھ جاننے والا ہے"۔

     "جہاد و تَصَوُّف" بے سکوں و مضطرب انسانیت کے لئے شجر سایہ دار ہے۔ "جہاد اور تَصَوُّف" کی منزلیں ایسی دشوار گزار ہیں کہ منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے ایک ہادی و رہبر کی ضرورت پڑتی ہے۔ جسے جہاد کے حلقہ میں "امیر المومنین" اور تَصَوُّف کے حلقہ میں "پیر و مرشد" کہا جاتا ہے۔ اصطلاح صُوفِيّائے کرامؒ میں جب انسان کا دل پاک و صاف ہو جاتا ہے تو وہ مختلف منزلوں سے گزرنے کے بعد وجد اور استغراق کے مرحلوں سے گزر کر ذات الہٰی کا قرب حاصل کر لیتا ہے۔ یہ بڑا بلند مقام ہے اور اسے "فناء فی اللّٰہ" کہتے ہیں، تَصَوُّف کی ایک بہت مشہور و معروف اصطلاح "فناء فی اللّٰہ" ہے۔ اس کی تشریح انتہائی پیچیدہ اور پرخطر ہے۔ بعض صُوفِيّائے کرامؒ کا دعویٰ ہے کہ‎ اس کے بعد بھی ایک مقام ہے، جسے مقام "بقاء باللّٰہ" کہتے ہیں۔ بقول شاعر ؎
  عشق میں لازم ہے اول ذات کو فانی کرے
  ہو  فناء  فی  اللّٰہ  دائم  یاد  یزدانی  کرے

     "جہاد و تَصَوُّف" کی راہ میں اپنی "فناء فی اللّٰہ" کے ذریعے "بقاء باللّٰہ" کا حصول ہے۔ صُوفِيّائے کرامؒ کا طریقہ "فناء و بقاء" سے عبارت ہے۔ یہی روحانی تجربہ اس کا امتیازی پہلو ہے۔ تَصَوُّف میں خواہشاتِ نفسانی کو فناء کیا جائے تو "محبتِ الٰہی" نصیب ہوتی ہے۔ محبت کیا ہے؟ محبت دراصل دل سے اُٹھنے والے اس جذبے کا نام ہے جو اپنے اندر بے انتہا طاقت رکھتا ہے۔ یہ ایسا جذبۂ محرکۂ ہے، جو انسان کو بڑے سے بڑا کام کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے، اگر اسے پتہ چل جائے کہ اس کام سے اس کا محبوب کتنا خوش ہوگا۔ اس بات سے ہم سب واقف ہیں کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے اسی کی رضا کے مطابق کام کرنا چاہتا ہے اور اسی لیے وہ مشکل سے مشکل کام کرنے پر بخوشی تیار ہو جاتا ہے۔ اور ایسا کرتے ہوئے نہ تو اسے کسی قسم کی تھکن کا احساس ہوتا ہے اور نہ اس کام کے راستے میں آنے والی مشکلات کا، نہ تو وہ اگر مگر کے چکر میں پڑتا ہے اور نہ نفع نقصان کے بارے میں سوچتا ہے۔ بس اس کے محبوب کی رضا اسی میں ہوتی ہے تو وہ یہ کام کر جاتا ہے۔​

     "جہاد فی سبیل اللّٰہ" یا "جہاد بالسیف" کے عمل میں اپنی جان کو "رضائے الٰہی" کے حصول کی خاطر فناء کیا جائے تو مقامِ صدیقیت اور شہادت نصیب ہوتی ہے۔ یعنی خود کو مٹانا اللّٰہ تعالیٰ کی خاطر اور اللّٰہ تعالیٰ کے دین کی خاطر۔ یہ اصول "جہاد و تَصَوُّف" دونوں کا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ اس تصور کو فناء کرنے کی غرض سے باطل قوتوں نے اپنے مفادات اور سازشوں کے تحت دونوں میں تفریق پیدا کرکے ایک بڑا خلاء پیدا کردیا ہے۔ ٹھیک اسی قسم کا خلاء سیاست اور مذہب، دینی اور عصری علوم کے درمیان پیدا کیا گیا۔

     عصرِ رواں میں ایک بڑی مہم پر نہایت سرگرمی سے کام ہورہا ہے۔ مہم یہ ہے کہ أُمَّت مسلمہ کے جذبۂ جہاد کو سرد کردیا جائے اور اس پوری اسکیم کے لیے جو خوبصورت اصطلاح وضع کی گئی ہے اس کا نام ہے "اعتدال پسندی" و "صُوفِيّ ازم"۔ ہاتھوں میں لوہے کے کڑے اور برہنہ غلیظ پا نہ جانے کس اسلام اور سلسلہ صُوفِيّہ کی عکاس ہیں۔ اللّٰہ اسلام کو ایسے ملنگوں اور جعلی پیروں سے محفوظ رکھے۔

     تاریخ کے ابواب گواہ ہیں کہ مجاہدین اور صُوفِيّائے کرامؒ کا راستہ کبھی ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف نہیں رہا، دونوں ایک دوسرے کے کام میں ہمیشہ معاون و مددگار رہے ہیں۔ چاہے وہ داغستان کی امام شامل کی جہادی تحریک ہو، چاہے وہ نور الدین زنگیؒ یا موسیٰ بن نصیرؒ کے رُوحانی پیشوا ہوں، چاہے وہ جہاد افغانستان ہو، دنیا بھر میں پھیلی جہادی تحریکات کے ساتھ اپنا اہم کردار ادا کرتے ہوئے آپ کو کسی نہ کسی رُوحانی اور اہل تَصَوُّف کی شخصیات کو پائینگے۔

     ایک جگہ فرمایا {قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَیُخْزِھِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْن}۔
"ان سے جنگ کرو، تاکہ اللّٰہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے، انہیں رسوا کرے، ان کے خلاف تمہاری مدد کرے، اور مؤمنوں کے دل ٹھنڈے کر دے۔" (سورۃ توبہ: آیت: ۱۴)

     ایسی ہی بے شمار آیتیں جو اس طرح کا پیغام ہمیں دیتی ہیں۔ یہاں طوالت سے بچنے کے لئے آپ سے گذارش کروں گا کہ قرآن مجید میں جہاد و قتال والی آیتوں کا مطالعہ کریں۔

آیت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
     "قُلْ إِنْ کَانَ أٰبَاؤُکُمْ وَأَبْنَآؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَأَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا أَحَبَّ إِلَیْْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَأْتِیَ اللّٰہُ بِأَمْرِہٖ وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ"۔

     "(اے رسولﷺ! مسلمانوں سے) کہہ دیجئے کہ اگر تمہیں اپنے باپ اور دادا اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور رشتے دار اور وہ تجارت جس کے ماند پڑے جانے سے تم بہت ڈرتے ہو، اور وہ مکانات جنہیں تم بہت عزیز رکھتے ہو، اگر ان میں سے کوئی چیز بھی تمہیں اللّٰہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ پیاری ہے تو پھر انتظار کرو، یہاں تک کہ اللّٰہ کا فیصلہ صادر ہو جائے اور یاد رکھو کہ اللّٰہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا"۔

آپ نے ارشاد فرمایا:
     "من أحب للّٰہ وأبغض للّٰہ و أعطٰی للّٰہ ومنع للّٰہ فقد استکمل الإیمان"۔
     "جس شخص کا یہ حال ہو کہ وہ اللّٰہ ہی کے لیے محبت کرے اور اللّٰہ ہی کے لیے بغض رکھے اور اللّٰہ ہی کے لیے دے اور کسی کو کچھ دینے سے اللّٰہ ہی کے لیے ہاتھ روکے تو اس نے اپنے ایمان کو کامل کر لیا"۔

     جہاد کا مقصد جنابِ نبیٔ اکرمﷺ  نے "اعلائے کلمة اللّٰہ" اور  قرار دیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو جس کا مطلب عملی طور پر یہ ہے کہ انسانی معاشرے میں حکم اور قانون کا درجہ انسانی خواہشات اور ظن و گمان کو نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کے احکام اور آسمانی تعلیمات کو حاصل ہونا چاہئے اور کلمة اللّٰہ کی اسی سربلندی کے لئے قرآن کریم اور جناب نبی اکرمﷺ نے آسمانی مذاہب کی ان دینی معرکہ آرائیوں کے تسلسل کو باقی رکھا ہے تاکہ کسی دور میں بھی انسانی خواہشات اور عقل و گمان کو وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات پر غلبہ حاصل نہ ہونے پائے اور انسانی معاشرے پر اللّٰہ تعالیٰ کے احکام کی عملداری کے جس مشن کے لئے حضرات انبیائے کرام مبعوث ہوتے رہے ہیں، اس میں تعطل واقع نہ ہو چنانچہ نبی اکرمﷺ نے ایک ارشادِ مبارک میں یہ کہہ کر اس جدوجہد کے قیامت تک جاری رہنے کا اعلان فرما دیا ہے کہ:
"الجهاد ماض إلی يوم القيامة"۔

     جلال الدین رومیؒ ایک زبردست ردعمل کے ساتھ منظر عام پر آئے۔ انہوں نے قرآن کی روح پرور تعلیمات کے مطابق زندگی کو عمل، حرکت اور جہاد سے تعبیر کیا۔ ایک روشن اور بلند نصب العین کے حصول کے لیے دلوں میں تڑپ پیدا کی اور سخت کوشی کی تعلیم دی۔ عزت و عظمت کا درس دیا، یونانی حکمت و فلسفہ کو بے معنی ثابت کیا اور ترک دنیا کو اسلام کے منافی قرار دیا۔

فناء فی اللّٰہ کی تہہ میں خدا کا راز مضمر ہے۔  جسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں آتا۔

وہ مرد نہیں جو ڈر جائے ماحول کے خونی منظر سے
اس حال میں جینا لازم ہے جس حال میں جینا مشکل ہے

زخموں سے بدن گلزار سہی تم اپنے شکستہ تیر گنو
خود تر کش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے​

     جہاد فی سبیل اللّٰہ میں شرکت سے تَزْکِیَۂ نفس کا اعلی مقام نصیب ہوتا ہے۔ کیونکہ جہاد ہی سب سے بڑا زہد ہے اور سب سے بڑی مشقت ہے۔ اللّٰہ کی راہ میں جان کو قربانی کے لئے پیش کرنا۔ اور جنگ کے میدان میں اترنا کوئی آسان کام نہیں۔ ان دونوں کے درمیان بعض مطابقات اور موافقات بھی ہیں۔ مثلاً۔

(۱) دونوں کام مشکل ہیں۔ جہاد بھی اور تَزْکِیَۂ نفس بھی۔ مگر دونوں بے حد ضروری ہیں۔
(۲) دونوں میں کامیابی کے لئے ذکر اللّٰہ کی کثرت کا حکم ہے۔ ذکر اللّٰہ کی کثرت تَزْکِیَۂ نفس کے لئے بھی ضروری ہے۔ اور جہاد میں کامیابی کے لئے بھی۔
فاذکرو اللّٰہ کثیر العلکم تفلحون•
(۳) دونوں کام مقام عشق سے تعلق رکھتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ سے سچا عشق ہو تو تَزْکِیَۂ کا اعلیٰ مقام نصیب ہوتا ہے۔ اور اللّٰہ تعالیٰ سے سچی محبت اور عشق ہو تو جہاد میں اعلی کامیابی ملتی ہے۔

شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ نے بیعت اور اس سے متعلقہ مباحث کے موضوع پر ایک بے مثل کتاب "القول الجمیل فی بیان سواء السبیل" تحریر کی ہے اس کتاب میں شاہ ولی اللّٰہ صاحب نے بیعت کی حقیقت، اس کی اقسام، سنّت سے اس کا ثبوت اور دیگر متعلقہ مسائل و مباحث پر بالتفصیل روشنی ڈالی ہے۔ اس کتاب میں بیعت کی متعدد اقسام ذکر کی گئی ہیں، جامعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام اقسام کو تین قسموں میں ذکر کیا جاسکتا ہے۔ (۱) بیعت خلافت (۲) بیعت طریقت (۳) بیعت جہاد، بیعت خلافت اسلام کے شروع دور تک باقی رہی بعد ازاں جب نظام خلافت کمزور ہو یا بالکل ختم ہوگیا تب یہ بیعت رفتہ رفتہ ختم ہوگئی اور جب تک اس بیعت کا طریقہ رائج رہا اس وقت "بیعت طریقت" اس بنا پر رواج نہ دی گئی تاکہ بیعت خلافت سے اشتباہ پیدا ہوکر خلفاء و اہل حکومت سے ٹکراؤ کی صورت پیدا نہ ہو، مگر جب یہ نظام ہی اہل سلطنت سے رخصت ہوگیا تب صُوفِيّائے کرامؒ اور صاحبان اصلاح و تربیت نے "سنت بیعت" کو قائم رکھتے ہوئے "بیعت طریقت" کو جاری کیا۔ اس سے قبل صُوفِيّائے کرامؒ کے ہاں "خرقہ" کو بیعت کا قائم مقام ٹھہرایا گیا تھا۔

بیعت کی تیسری قسم بیعت جہاد ہے۔ یہ بیعت بھی نبی کریمﷺ سے ثابت ہے اور اس بارے میں متعدد احادیث موجود ہیں ۔

"بیعت جہاد" کی مشروعیت، اہمیت اور افادیت و بقاء واضح ہوچکی ہے۔ نیز بیعت جہاد کی اہمیت کا اندازہ خود جہاد کی اہمیت سے لگایا جاسکتا ہے۔ جب جہاد کی اہمیت کا یہ حال ہے کہ اسے اسلام کی چوٹی کا عمل قرار دیا گیا، قرآن کریم کی متعدد مکمل سورتیں اسی جہاد کے احکامات پر مشتمل ہیں، خود نبی کریمﷺ نے اپنے آخری صرف 10 سالوں میں ۲۷ غزوات میں حصّہ لیا اور ۵۶ سرایا روانہ کیے۔ جہاد کا مقصودِ اصلی  رسوم و قواعدِ کفریہ کو محو کر کے اعزازِ اسلام اور اعلاءِ کلمۃ اللّٰہ ہے، اسلام میں مسلمانوں کی ذلت اور حقارت کسی صورت میں  بھی قابلِ برداشت نہیں ہے۔

غمیں نہ ہو کہ پراگندہ ہے شعور  تیرا
فرنگیوں کا ہے یہ افسوں، قم باذن اللّٰہ
                         (جاری)
{masoodkhan.media@gmail.com}
       ©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
                      ○○○○○○○○○

╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
        ✨ اسلامی تَصَوُّف اور جہاد ✨
  ✨Islamic mysticism and Jihad✨
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

                       (قسط 13)

      حضرات صُوفِيّائے کرامؒ کی تعلیمات کو غلط پیرائے میں ڈھال کر ’’جہاد و تَصَوُّف‘‘ اور ’’مجاہد و صوفی‘‘ کو ایک دوسرے کے مدمقابل لایا گیا اور مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ اصل اسلام وہ ہے، جو صُوفِيّاء بیان کرتے ہیں جس میں جہاد کا دور، دور تک کوئی تصور نہیں اور حقیقی اسلام تو بس محبت، امن و آشتی اور سلامتی کی دعوت دیتا ہے، قتل و قتال کی اس میں کوئی گنجائش ہی نہیں۔

آج کل پوری دنیا میں جس "صُوفِيّ ازم" کا شور ہے، اس کے نام پر میلے، فیسٹول، ناچ، گانے، موسیقی، بھنگڑے، نشہ بازی، فحاشیت و عریانیت اور بے حیائی کے جو مناظر ہیں اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے؟ اس کا قرآن و سنّت میں کہاں ثبوت ہے؟ چند جنگلی جانور جمع ہو کر اپنی نفسانی ہوس پوری کرتے ہیں اور اسے "صُوفِيّ ازم" کا نام دے دیتے ہیں، دراصل یہ لوگ مسلمانوں کو دین اسلام کی حقیقی راہ سے ہٹانا چاہتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ ان کے شرور سے اہل ایمان کی حفاظت فرمائے۔

"صُوفِيّ ازم" کے لبادے میں ایک جدید تصوف کا پرچار سرکاری سطح پر کیا جارہا تھا، جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ امت کے سامنے تصوف کی ایسی تشریح پیش کی جائے جو جہاد سے انکاری ہو، مسلمان چونکہ أولیاء اللّٰہ سے محبت رکھتے ہیں اور ان کی تعلیمات کو دل میں جگہ دیتے ہیں، اس لئے لامحالہ وہ اس "صُوفِيّ اِزم" کا شکار ہوکر جہاد کا انکار کر بیٹھیں گے اور اگر انکار نہ بھی کیا تو کم از کم جہاد کے بارے میں ان کا وہ عقیدہ اور وہ عقیدت باقی نہ رہے گی جو شرعاً مطلوب ہے۔

حقیقتاً "تَصَوُّف اور جہاد" ان دونوں میں نہ تو کوئی تضاد ہے اور نہ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کا قائم مقام ہے، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حلقۂ تَصَوُّف میں شمولیت کے بعد جہاد فی سبیل اللّٰہ سے اعلان برأت کر دیا، اور راہ جہاد اختیار کرنے پر اصلاحِ نفس یا تَزْکِیَۂ نفس سے قطع تعلق کر دیا۔ ان دونوں میں باہمی تضاد بھی نہیں کہ… جہاد، تَصَوُّف کا مخالف ہو… یا تَصَوُّف جہاد کا… دونوں ضروری کام ہیں اور دونوں کا میدان الگ، الگ ہے… تَزْکِیَۂ نفس اور تصحیحِ نیت ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے… خواہ وہ مجاہد ہو یا نہ ہو… اور جہاد اسلام کا مستقل اور محکم فریضہ ہے… کوئی تَصَوُّف کے کسی اعلیٰ ترین مقام پر پہنچ کر بھی اس مقام کی وجہ سے جہاد سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا… ہاں یہ دونوں کام ایک دوسرے کے معاون ضرور ہیں، نفس کا تَزْکِیَۂ ہو جائے اور وہ پاک صاف ہوجائے تو وہ جلد جہاد کی طرف لپکتا ہے اور جہاد فی سبیل اللّٰہ میں شرکت سے تَزْکِیَۂ نفس کا اعلیٰ مقام نصیب ہوتا ہے کیونکہ جہاد ہی سب سے بڑا زہد ہے اور سب سے بڑی مشقت جان کو قربانی کے لئے پیش کرنا اور جنگ کے میدان میں اترنا کوئی آسان کام نہیں۔

تَصَوُّف یہی تو ہے کہ ربّ العزّت سے محبت و الفت ہو اور اسی کی طرف رغبت، اسی کی بارگاہ کا شوق، اسی کی عظمت کا استحضار، اسی کی شان سے قلب میں ہیبت، اسی کے
فیصلے پر راضی، اسی کی ذات پر بھروسہ، اسی کی طرف رجوع، اسی کی بارگاہ میں فریاد، اسی کے کرم پر نظر، اسی کے فضل کی طلب، اسی کی رحمت کی امید، اسی کے دیدار کا اشتیاق، اسی کی خوشنودی کی کوشش، اسی کی ناراضی کا ڈر، اسی کی یاد میں فناء اور اسی کے ذکر سے بقاء ہو۔

سردست اس وقت ہمارا موضوع ان مقاصد میں سے دو مقصد ہیں تَزْکِیَۂ و تَصَوُّف جس کو احادیث مبارکہ میں احسان کہا گیا ہے اور اظہار دین جو فریضہ جہاد کی شکل میں ادا ہوا گویا اللّٰہ تعالیٰ نے نوع انسانی کی انفرادی اصلاح کے لیے آپ کو تَزْکِیَۂ و تَصَوُّف کا کام سونپا اور اجتماعی ہدایت کے لیے اور اجتماعی ہدایت کے راستہ کو ہموار کرنے کے لیے دعوت و تبلیغ اور فریضہ جہاد کو اتارا گویا یہ دونوں ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں دونوں لازم اور ضروری ہیں تَصَوُّف سے غفلت افراد کی دینی و اخلاقی انحطاط کا باعث ہے اور فریضہ جہاد کا ترک کر دینا اجتماعی ذلت و خواری کا ذریعہ ہے، جب تک امت مسلمہ میں یہ دونوں ذمّہ داریاں ادا ہوتی رہیں امت مسلمہ عروج کا سفر کرتی رہی مگر جیسے ہی ان دو شعبوں میں تہاون، پس وپیش سے کام لیا گیا عروج سے زوال کا سفر شروع ہوگیا اور ان دونوں میں باہم اس طرح ارتباط اور تعلق ہے کہ دونوں اپنی ضرورت کا احساس دلاتی ہیں مثلا جب تک جہاد جاری و ساری رہے گا خانقاہوں اور مدارس میں افردی قوت اور باصلاحیت افراد کی کھیپ پہنچتی رہے گی اور جب تک خانقاہیں آباد رہیں گی میدان جہاد کو باعمل اور صالح افراد میسر آئیں گے جن کی برکت سے میدان جہاد میں نصرت کا نزول ہوگا اور نئے مفتوحہ علاقوں کے لیے تربیت یافتہ اور خوف خدا رکھنے والے قائدین میسر آئیں گے لیکن اگر جہاد کا دروازہ بند کردیا جائے تو خانقاہ والوں کی چار دیواری خطرہ میں پڑجائے گی اور اگر تزکیہ کی طرف بے اعتنائی کی گئی تو جہاد فساد بن جائے گا اور نفسانی لڑائیوں اور خون ریزیوں کا نہ ختم ہونے والا طویل سلسلہ شروع ہوجائے گا خلاصہ یہ ہوا کہ ان دونوں میں ایک فطری رشتہ ہے اب آئیے سیرت کے آئینہ میں جھانک کر دیکھتے ہیں کہ تاج دار ختم نبوت نبی کریمﷺ نے تَصَوُّف اور جہاد کی ذمہ داری کو کس طرح انجام دیا اور ہمارے لیے ان کی سیرت میں کیا نقوش اور نمونے ہیں؟

     اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سچے حبیب، ولی اور صُوفِيّ‎ کی ایک علامت اور تجرید مختص ہوتی ہے کہ وہ "جہاد" کے بہت بڑے شیدائی ہوتے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ حبیب، ولی اور صُوفِيّ‎ بنتا ہی تب ہے جب وہ پوری طرح نبی کریمﷺ کا پیروکار ہو اور نبی کریمﷺ کی شان یہ ہے کہ آپﷺ کے ناموں میں جہاد کی گونج سنائی دیتی ہے۔ آپﷺ نے خود فرمایا:
"بُعِثْتُ بِالسَّیْفْ"۔ (مسند أحمد)
مجھے تلوار کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے۔

حضرت عبداللّٰہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا "بُعِثْتُ بِالسَّیْفْ" کہ میں تلوار دے کر بھیجا گیا ہوں تاکہ ایک اللّٰہ کی عبادت ہو۔
آگے فرمایا:- "وجعل رزقی تحت ظل رمحی" کہ میرا رزق میرے نیزے کے سایے کے نیچے رکھ دیا گیا ہے۔ (مسند احمد :۸۶۸۴)

"نبی السیف" (تلوار والے نبی):
تبع بادشاہ کو مدینہ کی تباہی سے بچانے کی تلقین کرتے ہوئے یہودی علماء نے کہا تھا کہ یہ مدینہ آخری نبی محمدﷺ کا دارالہجرت ہوگا اور آپ کی صفات میں یہ بات کہی کہ "سیفہ علیٰ عاتقہ" کہ تلوار آپ کی گردن پر رہے گی۔

      "نبی الملحمۃ" (بڑی جنگ والے نبی)، رسول الملاحم (سخت جنگوں والے نبی):-
آں حضرتﷺ کے متعدد نام ہیں بعض اہل علم نے اس پر مستقل کتابیں تحریر فرمائی ہیں، آپﷺ کے ان ناموں میں سے ایک نام "نبی الملحمۃ" بھی ہے۔ (احکام القرآن لابن العربی المالکی)

     امام بیہقی نے اپنی کتاب شعب الایمان میں ایک حدیث کے تحت تحریر فرماتے ہیں کہ امام حلیمی نے فرمایا کہ آں حضرتﷺ کو "نبی الملحمۃ" اس وجہ سے کہا جاتاہے کہ جہاد کا فریضہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ پر فرض قرار دیا اور جہاد تا قیامت جاری و ساری رہے گا اور یہ تما م علاقے یا تلوار کی دھار پر فتح ہوئے یا تلوار کے خوف نے ان کو فتح کیا سوائے مدینہ منورہ کے کہ اس کو قرآن نے فتح کیا۔

ایک موقع سے فرمایا گیا، "صاحب الجہاد" (جہاد والے نبی)، کہیں الضحوک، القتّال (بہت زیادہ ہنس مکھ، بہت زیادہ لڑنے والا)، سیدنا سیف المخرم (کانٹے والی تلوار)،
سیدنا سیف الاسلام (اسلام کی تلوار)، سیدنا الغازی (غزوہ کرنے والے)، سیدنا صاحب السرایا (لشکروں کو بھیجنے والے)، سیدنا المشیعﷺ (غازیوں کو وداع کرنے والے)،
سیدنا المشرّدﷺ (کافروں کو سخت سزا دینے والے)، سیدنا ذوعزۃ (کافروں پر زبردست)،
سیدنا الشدید (زورآور)، سیدنا اجر الناس صدر ا (جہاں بھر سے زیادہ جرأت مند)،
سیدنا اثبت الناس (جہاں بھر سے زیادہ ثابت قدم)، سیدنا المحرض (جہاد پر رغبت دلانے والے)، سیدنا المرابطﷺ (جہاد کی تیاری کرنے والے)، سیدنا الرامیﷺ (ٹھکانے پر تیر مارنے والے)، سیدنا المنتقمﷺ (انتقام لینے والے)،
سیدنا المتمکنﷺ (غلبہ پانے والے) کہہ کر تخاطب کیا گیا۔

     اور اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیّت پر مطمئن کرو جو اپنے ربّ کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں، اور اُن سے ہر گز نگاہ نہ پھیرو۔ کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟ کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔ (سورۃ الكهف: 28)

     یاد رکھیں کہ تصوف (جسے تزکیہ و احسان بھی کہتے ہیں) کا تعلق نام سے نہیں، کام سے ہے، قال سے زیادہ حال، قول سے زیادہ عمل، ظاہر سے زیادہ باطن اور قالَب سے زیادہ قلب سے ہے اور اسی کی طرف آیت میں  یُرِیْدُوْنَ وَجْهَه (رب کریم کی خوشنودی کے طلب گار ہیں) کے الفاظِ کریمہ سے اشارہ ہے۔ حدیث مبارک میں بھی دل کی اصلاح، پاکیزگی، ظاہری اعمال کے لئے محور و مدار اور نیکی و بدی کی بنیاد ہونے کا بڑا خوب صورت بیان ہے چنانچہ حدیث پاک میں فرمایا گیا:
     "الا وان فی الجسد مضغة اذا صلحت صلح الجسد كله، واذا فسدت فسد الجسد كله، الا وهی القلب"
     (سن لو! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اگر وہ سدھر جائے تو سارا جسم سدھر جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا بدن بگڑ جاتا ہے، سن لو! وہ دل ہے۔ (بخاری، 1 / 13)

جہاد اور تصوف میں اتنا سا فرق ہے جتنا دل اور شہ رگ میں۔ ذرا دیکھیے یہ آیت کریمہ و جلیلہ، ارشاد ہوتا ہے:۔

"اَلَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا"

وہ لوگ جو ہم میں جہاد کرتے ہیں ہم انہیں اپنے رستے کی ہدایت کرتے ہیں۔

یعنی وہ لوگ جو ہمیں تلاش کرنا چاہتے ہیں ہم انہیں اپنی طرف راستہ دکھاتے ہیں۔

عاشق دل ہی نہیں دیتا، سر دیتا ہے، وہ دیوانہ بن کر اپنے محبوب کو ہر پل تلاش کرتا ہے۔ وہ پروانہ بن کر خود کو وار دیتا ہے۔ یہ سب جہاد ہی تو ہے۔ سر دینا، خود کو وارنا۔ جان دینا، مر جانا، قربان ہو جانا۔ یہ سب جہاد ہی تو ہے۔ ایک سوال ہے، آخر کوئی سر کیوں دے گا…؟ آخر کوئی اپنی جان کیوں گنوائے گا…؟ لیکن کیا آپ نے کبھی پروانے سے پوچھا ہے کہ وہ خود کو شمع پر نثار کیوں کر دیتا ہے…؟

جہاد اور تصوف کا مقصود و منتہا ایک ہی ہے، اور راستہ و منزل بھی ایک ہی۔

✿ تَصَوُّف اور اَلْجِھَادُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ:

     عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِيِّﷺ قَالَ: لِکُلِّ نَبِيٍّ رَھْبَانِیَّۃٌ وَ رَھْبَانِیَّۃُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ الْجِھَادُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔
     سیِّدُنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبیٔ کریمﷺ نے فرمایا: ہر نبی کی رہبانیت ہے اور اس أُمَّت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللّٰہ ہے۔ (مسند أحمد: ۱۳۸۴۴)

     شیخ ابو نصر سراج طوسی مزید ایک قول نقل فرماتے ہیں کہ صوفی وہ لوگ ہیں جو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کو خوب پہچانتے ہیں، اس کے احکام کا علم رکھتے ہیں، جو کچھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علم میں ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں، اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ان سے جو کام لینا چاہتا ہے یہ اس کو پورا کرنے کے لیے ثابت قدمی دکھاتے ہیں، پختہ عمل کی بدولت وہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سے کچھ پا لیتے ہیں اور جو کچھ ملتا ہے اس کی وجہ سے فناء ہو جاتے ہیں اور ایسا ہوتا ہی رہتا ہے کہ ہر پا لینے والا آخرکار فناء ہو جایا کرتا ہے۔

     فناء فی اللّٰہ اور جہاد فی سبیل اللّٰہ کے متعلق رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا:
     عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: إِیْمَانٌ بِاللّٰہِ تَعَالٰی، وَ جِھَادٌ فِيْ سَبِیْلِہِ۔
     سیِّدُنا ابوذرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللّٰہ کے رسولﷺ! کون سا عمل افضل ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ (مسند أحمد: ۲۱۶۵۷)

     عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لَوَدِدْتُ أَنْ أُقَاتِلَ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَأُقْتَلَ، ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلَ، ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلَ، ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلَ، وَلَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ، مَا تَخَلَّفْتُ خَلْفَ سَرِیَّۃٍ تَخْرُجُ أَوْ تَغْزُو فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَ لٰکِنْ لا أَجِدُ سَعَۃً فَأَحْمِلَھُمْ، وَلا یَجِدُوْنَ سَعَۃً فَیَتَّبِعُوْنِيْ، وَلا تَطِیْبُ أَنْفُسُھُمْ أَنْ یَتَخَلَّفُوْا بَعْدِي، أَوْ یَقْعُدُوا بَعْدِيْ۔
     سیِّدُنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ اللّٰہ کے راستے میں جہاد کروں پس شہید کیا جاؤں، پھر مجھے زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، پھر زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، پھر زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، اور اگر میں مؤمنوں پر گراں نہ سمجھتا تو میں کسی ایسے لشکر سے پیچھے نہ رہتا جو اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ ان کو سواریاں دوں اور ان کے پاس بھی اتنی وسعت نہیں کہ وہ خود تیاری کر کے میرے ساتھ چلیں اور مجھ سے پیچھے رہ جانا بھی ان کے نفسوں کو گوارا نہیں ہے۔ (مسند أحمد: ۱۰۵۳۰)

     عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: لا ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلٰکِنْ جِھَادٌ وَ نِیَّۃٌ، وَ إِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا۔
     سیِّدُنا عبد اللّٰہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: فتح مکّہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، البتہ جہاد اور نیت ہے اور جب تم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو تم نکل پڑو۔ (مسند أحمد: ۳۳۳۵)

     اسی بات کو مشہور و معروف صوفی حضرت ابو الحسن قناد الْجَوَّاد سے جب صوفی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: صوفی وہ ہوتا ہے جو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے حقوق کی ادائیگی کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہتا ہے۔

     عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ قَالَ: اَلْجِھَادُ عَمُوْدُ الإسْلامِ وَ ذُرْوَۃُ سَنَامِہِ۔
     امام الفقہاء سیِّدُنا معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: جہاد اسلام کا ستون اور اس کے کوہان کی چوٹی ہے۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۹۷)

      عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ : عَلَیْکُمْ بِالْجِھَادِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فَإِنَّہُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یُذْھِبُ اللّٰہُ بِہِ الْھَمَّ وَالْغَمَّ۔
      سیِّدُنا عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: تم جہاد فی سبیل اللّٰہ کا اہتمام کرو، کیونکہ یہ جَنَّت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اللّٰہ تعالیٰ اس کے ذریعے رنج اور غم ختم کر دیتا ہے۔ (مسند أحمد: ۲۳۰۹۶)

     عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: قَالَ (عُثْمَانُ) بْنُ عَفَّانَ وَ ھُوَ یَخْطُبُ عَلٰی مِنْبَرِہِ: إِنِّيْ مُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا کَانَ یَمْنَعُنِيْ أَنْ أُحَدِّثَکُمْ إِلاَّ الضِّنُّ عَلَیْکُمْ، وَ إِنِيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ یَقُوْلُ: حَرَسُ لَیْلَۃٍ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ لَیْلَۃٍ یُقَامُ لَیْلُھَا، وَ یُصَامُ نَھَارُھَا۔
     سیِّدُنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے، وہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ انھوں نے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرنے والا ہوں، میں نے خود وہ رسول اللّٰہﷺ سے سنی ہے، پہلے مجھے وہ حدیث بیان کرنے سے روکنے والی چیز تم پر بخل تھا، رسولﷺ نے فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں ایک رات کا پہرہ ہزار راتوں کے قیام اور ان کے دنوں کے روزوں سے افضل ہے۔ (مسند أحمد: ۴۳۳)

  عام طور پر صوفیائے کرام کا رجحان نوافل و مستحبات کی طرف زیادہ رہتا ہے؛ لیکن حضرت مجدد فرماتے ہیں کہ ایک فرض کا مقررہ وقت پر ادا کرنا ہزار نوافل سے بہتر ہے، اور فرماتے ہیں کہ چاہے وہ نوافل اخلاص کے ساتھ ہوں تب بھی فرض کے مقابلے میں کچھ اعتبار نہیں۔ حضرت امیر المومنین عمرؓ فاروق رضی اللہ عنہ کا واقعہ نقل کرتے ہیں کہ صبح کی نماز با جماعت ادا فرما کر فارغ ہوئے، دیکھا کہ ایک شخص ان کے اصحاب میں سے جماعت میں موجود نہیں، دریافت فرمایا تو معلوم ہوا کہ اکثر شب بیدار رہنے اور نوافل ادا کرنے کی وجہ سے اس وقت سوگئے۔ فرمایا کہ اگر تمام رات سوتے اور صبح کی نماز جماعت سے ادا کرتے، اس شب بیداری سے بہتر تھا۔

     عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ۔ تَرْفَعُ الْحَدِیْثَ۔ قَالَتْ: مَنْ رَابَطَ فِيْ شَيْئٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْمُسْلِمِیْنَ، ثَلاثَۃَ أَیَّامٍ، أَجْزَأَتْ عَنْہُ رِبَاطَ سَنَۃٍ۔
     سیدہ ام درداءؓ ‌سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کے کسی سرحدی علاقوں میں سے کسی علاقے پر تین دن کا پہرہ دیا تو یہ اس کو ایک سال کے رباط سے کفایت کرے گا۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۸۰)

     عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِﷺ: مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، کَمَثَلِ الصَّائِمِ نَہَارَہُ وَالْقَائِمِ لَیْلَہُ حَتّٰی یَرْجِعَ مَتٰی یَرْجِعُ۔
     سیِّدُنا نعمان بن بشیرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: اللّٰہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے، یہاں تک کہ مجاہد لوٹ آئے، وہ جب بھی لوٹے۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۹۱)

     عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہﷺ یَقُوْلُ: مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَھُمَا حَرَامٌ عَلَی النَّارِ۔
     سیِّدُنا جابر بن عبد اللّٰہؓ ‌سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: جس کے پاؤں اللّٰہ کی راہ میں غبار آلود ہوگئے، وہ آگ پر حرام ہو جائیں گے۔ (مسند أحمد: ۱۵۰۱۰)

      عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ یَعْدِلُ الْجِھَادَ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: لا تُطِْٰیْقُوْنَہُ۔ مَرَّتَیْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ: قَالُوْا: أَخْبِرْنَا فَلَعَلَّنَا نُطِیْقُہُ؟ قَالَ: مَثَلُ الْمُجَاھِدِ فِيْ سِبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآیَاتِ اللّٰہِ، لا یَفْتُرُ مِنْ صِیَامٍ وَلا صَلاۃٍ، حَتّٰی یَرْجِعَ الْمُجَاھِدُ إِلٰی أَھْلِہِ۔
      سیِّدُنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ صحابۂ کرامؓ نے کہا: اے اللّٰہ کے رسولﷺ! ہمیں ایسے عمل کے بارے میں بتلا دیں جو جہاد فی سبیل اللّٰہ کے برابر ہو؟ آپﷺ نے فرمایا: تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ دو یا تین بار ایسے ہی فرمایا، لوگوں نے کہا: آپ بتلا تو دیں، شاید ہم میں اس کی طاقت ہو؟ آپﷺ نے فرمایا: مجاہد کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو لگاتار روزہ رکھنے والا ہو اور اللّٰہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ مسلسل قیام کرنے والا ہو، نہ وہ روزے سے اکتاتا ہو اور نہ نماز سے، یہاں تک کہ مجاہد اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ آئے۔ (مسند أحمد: ۹۴۷۷)

     عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ مُکَاتَبًا لَھَا دَخَلَ عَلَیْھَا بِبَقِیَّۃِ مُکَاتَبَیتِہِ، فَقَالَتْ لَہُ: أَنْتَ غَیْرُ دَاخِلٍ عَلَيَّ غَیْرَ مَرَّتِکَ ھٰذِہِ، فَعَلَیْکَ بِالْجِھَادِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: مَا خَالَطَ قَلْبَ امْرِیٍٔ مُسْلِمٍ رَھَجٌ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ إِلاَّ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ النَّارَ۔
      سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ ان کا مکاتَب اپنی مکاتبت کا بقیہ حصہ لے کر ان کے پاس آیا، انھوں نے کہا: اب کے بعد تو نے مجھے پر داخل نہیں ہونا، تو جہاد فی سبیل اللّٰہ کو لازم پکڑ، کیونکہ میں نے رسول اللّٰہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان کے دل کے ساتھ اللّٰہ کے راستے کا غبار ملے گا، اللّٰہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام قرار دے گا۔ (مسند أحمد: ۲۵۰۵۵)
بقول علامہ اقبالؒ  ؎
  ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
  جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
  موت کے آئینہ میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
  زندگی اور بھی تیرے لیے دشوار کرے
  دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے
  فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

                         (جاری)
{masoodkhan.media@gmail.com}
       ©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
                      ○○○○○○○○○

╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
   🌌✨ اسلامی تَصَوُّف اور جہاد ✨🌌✨Islamic mysticism and Jihad✨
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

                    (قسط 10)

✿ مجاہدین اور صُوفِيّائے کرام - اسلام کی ترویج و ترقی کا عظیم راز:

     حقیقت یہ ہے کہ برصغیر ہند میں مسلمانوں کی آمد کا ذریعہ صُوفِيّائے کرامؒ یا مجاہدین اسلام رہے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس  بچپن سے یہ بات ذہنوں میں ڈالی گئی کہ اس علاقے میں اسلام کی تبلیغ و تشہیر کا ذریعہ صُوفِيّائے کرامؒ کی دعوت تھی، جس کی وجہ سے ہندوستان کی ایک بڑی تعداد نے دائرۂ اسلام میں پناہ لی۔ یہ کہاں تک درست ہے کہ برصغیر میں اشاعتِ اسلام کا سہرا صُوفِيّائے کرامؒ پاکیزہ ہستیوں کے سر ہے۔ جب کہ حقیقتاً تاریخی حیثیت کچھ اور ہی انداز میں ہمارے سامنے آتی ہے۔

     رسول اکرمﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد مسلمان مالابار اور جنوبی سواحل کے دیگر علاقوں میں آنے جانے لگے۔ مسلمان چونکہ بہترین اخلاق و کردار کے مالک اور کاروباری لین دین میں دیانتدار واقع ہوئے تھے۔ لہذا ملابار کے راجاؤں، تاجروں اور عام لوگوں نے ان کے ساتھ رواداری کا سلوک روا رکھا۔ چنانچہ مسلمانوں نے برصغیر پاک و ہند کے مغربی ساحلوں پر قطعی اراضی حاصل کرکے مسجدیں تعمیر کیں۔ (یاد رہے کہ اس وقت خانقاہوں کی تعمیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا) اور اپنے دین کی تبلیغ میں مصروف ہوگئے۔ ہر مسلمان اپنے اخلاق اور عمل کے اعتبار سے اپنے دین کا مبلغ تھا نتیجہ عوام ان کے اخلاق و اعمال سے متاثر ہوتے چلے گئے۔ تجارت اور تبلیغ کا یہ سلسلہ ایک صدی تک جاری رہا یہاں تک کہ مالیبار میں اسلام کو خاطر خواہ فروغ حاصل ہوا اور وہاں کا راجہ بھی مسلمان ہوگیا۔ جنوبی ہند میں فروغ اسلام کی وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں جنوبی ہند مذھبی کشمکش کا شکار تھا۔ ہندو دھرم کے پیروکار بدھ مت اور جین مت کے شدید مخالف اور ان کی بیخ کنی میں مصروف تھے۔ ان حالات میں جب مبلغین اسلام نے توحید باری تعالیٰ اور ذات پات اور چھوت چھات کی لایعنی اور خلاف انسانیت قرار دیا، تو عوام جو ہزاروں سال سے تفرقات اور امتیازات کا شکار ہورہے تھے۔ بے اختیار اسلام کی طرف مائل ہونے لگے۔ چونکہ حکومت اور معاشرہ کی طرف سے تبدیلی مذھب پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ لہٰذا ہزاروں غیر مسلم مسلمان ہوگئے۔

     اسلام تو برصغیر ہند میں زمانۂ رسالت مآبﷺ میں ہی دو مختلف ذرائع کے حوالے سے داخل ہوچکا تھا۔ ایک ذریعۂ تجارت اور دوسرا ذریعہ جہاد۔ سیاسی تعلقات کی ابتداء حضرت عمرؓ کے دور سے شروع ہوئی جب کہ مسلمان 636ء میں بمبئی کے قریب تھانہ پر حملہ کرچکے تھے۔ پھر یہ سلسلہ بہ وجوہ روک دیا گیا اور دوسرا لشکر عبداللّٰہ بن عمرؓ ربیع کی قیادت میں روانہ کیا گیا جو کرمان اور سیستان کو فتح کرتا ہوا مکران پہنچا اور مکران و سندھ کی متحدہ فوج کو شکست دی۔ اس کے بعد سرحدِ ہندوستان کے حالات دریافت کرنے کے لیے حاکم بن جبالہ کی قیادت میں مسلمانوں کو بھیجا گیا۔  ؎

  تم ہی سے اے مجاہدو جہاں کا ثبات ہے
  تمہاری مشعلِ وفا فروغِ شش جہات ہے

     گورنر حجاج بن یوسف کے دور میں ناموَر مسلم فاتح، عظیم جرنیل، غازی محمد بن قاسمؒ کے ذریعے اسلام نے "باب الاسلام" سرزمین سندھ پر دستک دی۔ 711ء میں حجاج بن یوسف نے غازی محمد بن قاسمؒ کو 16 سال کی عمر میں بارہ ہزار کا لشکر دیکر بہن سے شادی کرنے والے راجہ داہر کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا۔

     چھٹی صدی عیسوی کے اختتام اور ساتویں صدی کے ابتداء میں "کیرالا" کے راجہ چیرامن پیرومل اسلامی نام "تاج الدین" نے عرب تاجر "شیخ سیقو الدین" کی اسلامی طرز زندگی اور ان کی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا تھا۔ انہیں راجا چیرامن کے نام پر کیرالا میں ایک مسجد ہے، جس کو حضرت مالک بن دینارؓ نے سن " 629 عیسوی" "مطابق 8 ہجری" نے قائم فرمایا تھا۔

     برصغیر ہند و پاک میں اسلام جن ذرائع سے آیا، اس میں سے ایک ذریعہ، اللّٰہ کے دین کے غلبے کے لئے جہاد کرنے والے مجاہدین کی قربانیوں کا بھی ہے، ایک ذریعہ صُوفِيّائے کرامؒ و اہل تَصَوُّف کے بزرگانِ دین کا بھی ہے، ایک ذریعہ مفسرین و محدثین کا بھی ہے، ایک اور بڑا ذریعہ مسلم تاجروں کا بھی رہا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں عربوں کے تجارتی مراکز میں سراندیپ، مالدیپ، مالابار، کارومنڈل، گجرات اور سندہ قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ جنوبی ہند اور ساحلی علاقوں میں بھی جابجا عرب تاجروں کی نو آبادیات موجود تھیں۔

      جو راجا سنہہ دیو کا وزیر امیر شاہ مرزاسواتی نے، 735ھ (1335ء) میں پہلی بار کشمیر میں ایک آزاد مسلم حکومت قائم کی۔ اس نے شمس الدین کا لقب پسند کیا۔ وہ مذہبی تفریق کے بغیر ہندو اور مسلمانوں سے یکساں برتاؤ رکھتا تھا، اس لیے اس کی حکومت کے قدم بہت جلد مستحکم ہوگئے۔ مرزاشاہ سواتی کا پوتا سکندر ایک مذہبی آدمی تھا۔ اس کے دربار میں علماء و فضلاء کی کثرت تھی۔ اس نے جہاد کے ذریعے مزید علاقے بھی فتح کیے۔ جہادی مہمات کے باعث اسے 'بت شکن' کہہ کر یاد کیا جانے لگا۔

     ہمارے اچھے اچھے دانشوران کو یہ کہتے سنا کہ ''اہل تَصَوُّف خصوصاً ہندوستان کے صُوفِيّائے عظامؒ نے اسلام کو وہ رونق بخشی اور بجائے تیر و تلوار کے محض حسن عمل اور اخلاق محمدیﷺ کے ذریعے اس کی وہ اشاعت کی کہ ہندوستان کے 7 کروڑ مسلمانوں میں 6 کروڑ یقیناً ان ہی بزرگوں کے فیوض و برکات کا نتیجہ ہیں۔''​ یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ یہاں صرف صُوفِيّائے کرامؒ کے ذریعے اسلام پھیلا۔ یہ واقعی غلط بیانی کا مظاہرہ ہوگا۔
                         (جاری)
       ©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
                      ○○○○○○○○○

╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
   🌌✨ اسلامی تَصَوُّف اور جہاد ✨🌌✨Islamic mysticism and Jihad✨
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

                    (قسط 11)

     آئیے! مزید تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں، جس سے یہ بات بھی واضح ہو جائے گی کہ جہاد اور تَصَوُّف کے ذریعے کتنے فیوض و برکات اہل اسلام کو حاصل ہوتے رہے ہیں۔ برصغیر ہند و پاک میں اسلامی تَصَوُّف پہلی بار غزنویؒ عہد میں وادی سندھ میں آیا۔ محمود غزنویؒ ایک سپہ سالار اور فاتح کی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ علم و فن کی سرپرستی کے اعتبار سے بے نظیر حکمران تھا۔ ایسا فاتح جس نے کٹھن محاذوں پر جنگیں لڑیں اور موسموں کو بھی شکست فاش دی۔ اگرچہ غزنویؒ دور کے آغاز سے بھی بہت پہلے تَصَوُّف اسلامی دنیا میں مقبول ہوچکا تھا۔

     محمود غزنویؒ ہمارے مجاہدین اور فاتحین میں بلند مقام رکھتے ہیں اور ہند کو عالم اسلام کے حق میں مسخر کرنے میں ان کے حملوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہندوستان پر ان کی فوج کشی کے دوران اس وقت کے چشتیہ سلسلہ کے سب سے بڑے بزرگ حضرت خواجہ ابو محمد چشتیؒ بذات خود اپنے سینکڑوں مریدوں کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوئے اور لڑائی میں عملاً حصہ لیا۔ حضرت خواجہ ابو محمد بن ابو احمد چشتیؒ آپ کا لقب نصح الدّین اور اپنے وقت کے اولیاء کبراء اور مشائخ نامدار میں سے تھے۔ بڑے عظیم الشان اور بلند رتبہ ولی اللّٰہ تھے، آپ نے خرقۂ خلافت اپنے والد بزرگوار سے حاصل کیا۔ محمود غزنویؒ کی تحریک کے مرہون منت ہی دوسرے علمائے دین کے ساتھ صُوفِيّائے کرامؒ بھی مفتوجہ سر زمین پر تشریف لائيں اور مفتوجہ علاقوں میں اشاعت اسلام کا فریضہ سر انجام دیں۔ چنانچہ برصغیر ہند و پاک کے پہلے صُوفِيّ‎ جن کا نام تذکروں میں ملتا ہے، وہ "اسماعیل بخاریؒ" ہیں، محمود غزنویؒ نے جنہیں 1005ء میں اپنے ساتھ یہاں لےکر آئے تھے۔ جب محمود غزنویؒ خود 1001ء سے ہندوستان پر لشکر کشی انجام دے رہے تھے۔ حضرت عثمان علی ہجویریؒ کو لاہور میں دعوت دین کے کام کے مختص کروانے والے بھی محمود غزنویؒ ہی تھے۔ صُوفِيّائے کرامؒ کے ذریعے مفتوحہ علاقوں کو مرکز بنا کر خدمات حاصل کرنا یہ سب محمود غزنویؒ کی کاوشوں کا ثمرہ رہا ہے۔

     سلطان شہاب الدّین محمد غوریؒ کو ہندوستان پر لشکر کشی کی دعوت ہی سلطان الاولیاءؒ حضرت معین الدّین اجمیری چشتیؒ نے دی تھی۔ بعض مصدقہ تاریخی روایات کے مطابق خود حضرت معین الدّین اجمیریؒ نے بھی اپنے مریدوں کے ساتھ سلطان غوریؒ کے پرچم تلے جہاد میں عملاً حصہ لیا تھا اور اسی کے نتیجے میں اس خطہ میں پہلی مسلم ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔

     غازی و مجاہد، صُوفِيّ‎ و درویش قسم کے متقی حکمراں، اکھنڈ بھارت کے تصور کو عملاً پیش کرنے والے، اورنگ زیبؒ جن کی جنگی داستانیں پڑھنے کے بعد رشک ہوتا ہے۔ اورنگ زیبؒ کے شہر اورنگ آباد میں فنی مہارت و تاریخی شاہکار اور تاریخی شناخت کا نمونہ "پن چکی" کے مشہور صُوفِيّ‎ عبدالقادر خادم الاولیاء بابا شاہ سعید پلنگ پوشؒ کے نوادرات اور اشیاء کو محفوظ کرکے رکھا گیا ہے، اس میں نایاب قسم کے تیر، تلوار اور نیزے کا کلیکشن موجود ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صُوفِيّ‎ کے ساتھ ساتھ وہ مجاہد بھی تھے۔ تقریباً 3 سو سالہ قدیم لائبریری کی تاریخ کے متعلق جان کاروں کا دعویٰ ہے کہ یہ اپنے دور میں ایشیا کی سب سے مقبول ترین لائبریری تھی۔

     سہروردی سلسلے سے تعلق رکھنے والے شیخ بہاؤ الدین ذکریا (وفات 1262ء) دہلی کے مملوک خاندان (خاندانِ غلاماں) کے سلطان التمش کے انتہائی قریب تھے اور انہیں شیخ الاسلام کا سرکاری عہدہ بھی دیا گیا تھا۔ جب گورنرِ ملتان ناصر الدین قباچہ نے سلطان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تو بہاؤ الدین ذکریا نے سلطان کا ساتھ دیا۔ واقعتاً سلسلۂ سہروردیوں نے ہمیشہ حکمرانوں پر مذہبی طور پر صحیح فیصلے لینے کے لیے اثر انداز ہونے کی کوششیں کی ہیں۔

     عموماً یہ بات مشہور ہے کہ مغل بادشاہ جہانگیر کا نام شیخ سلیم چشتی کے نام پر رکھا گیا تھا۔ ان کے پردادا بابر کا نام ظہیر الدین بابر بھی نقشبندی شیخ خواجہ عبیداللّٰہ  احرار (وفات 1490ء) کے نام پر رکھا گیا تھا۔ شیخ کے بیٹے نے بعد میں بابر سے ازبکوں کے خلاف سمرقند کا دفاع کرنے کے لیے کہا۔ بابر نے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد شیخ خواجہ احرار سے شفاء یابی کی دعا کے لئے شیخ کی ایک تصنیف کو شعری زبان میں منتقل کیا۔

     جب بابر اپنے وطن وسطی ایشیاء کی سرزمین پر کنٹرول کھو بیٹھا اور ہندوستان اس کی نئی سلطنت بنا، تو وہ اور اس کے بعد آنے والوں نے وسط ایشیائی نقشبندی سلسلوں مثلاً احراروں، جبیریوں اور ذہبیوں سے قریبی و مضبوط تعلقات رکھے۔ یہ تعلقات صرف روحانی سطح پر نہیں بلکہ مغل دربار میں اہم فوجی اور انتظامی عہدے بھی نقشبندی شیوخ کی نسلوں کی نسلوں کے پاس رہے۔

     بابر اور ہمایوں، دونوں ہی کی ایک ایک بیٹی کی شادی نقشبندی شیوخ کی اولادوں کے ساتھ کی گئی تھی۔ دونوں بادشاہوں نے خود بھی خراسان کے علاقے جام سے تعلق رکھنے والے شیوخ کے خاندان میں شادی کی۔ اکبر کی والدہ حمیدہ بانو (مریم مکانی) نامور شیخ احمدِ جام (وفات 1141ء) کے خاندان سے تھیں۔

     ہندوستان میں مغل شہزادوں اور بادشاہوں نے کئی دیگر روحانی سلسلوں مثلاً چشتیوں اور قادریوں کے ساتھ بھی اہم تعلقات قائم کیے۔ خاص طور پر سلسلہ شطاریہ (جس کی ابتداء فارس میں ہوئی) نے بڑھتے بڑھتے کچھ مغل بادشاہوں پر خاصا اثر و رسوخ حاصل کرلیا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ مغل حکمرانوں کے اندر عام رجحان تھا کہ وہ اپنے روحانی رہنماؤں کے لیے تعریفی کلمات لکھا کرتے تھے۔ مثلاً، دارا شکوہ نے اپنے روحانی رہنما حضرت میاں میر (وفات 1635) اور دیگر قادری شیوخ کے تذکرے لکھے ہیں۔ دارا شکوہ کی بہن جہاں آراء نے بھی دہلی کی چشتی شیوخ کے بارے میں لکھا ہے۔

     صوفیائے کرام و عرفاء کے لیے شاہی عقیدت اتنی زیادہ تھی کہ کچھ مغل حکمرانوں نے ہندوستان سے باہر اپنے ہم منصبوں کی طرح ہی نامور شیوخ کی قبروں کے ساتھ دفن ہونے کی خواہش کی۔ مثال کے طور پر اورنگزیب کو ایک چشتی شیخ زین الدین شیرازی (وفات 1369ء) کے ساتھ دفن کیا گیا۔ دہلی میں محمد شاہ کی قبر بھی ایک اور چشتی شیخ نظام الدین اولیاء (وفات 1325) کی قبر کے ساتھ ہے۔

     موجودہ دور کے ایرانی آذربائیجان میں اردبیل کا صفویہ روحانی سلسلہ اس کی ایک اہم مثال ہے۔ 2 صدیوں کے دورانیے میں اس سُنّی صوفی سلسلے نے خود کو ایک لڑاکا قوت میں تبدیل کرلیا۔ قزلباش مریدوں کی اپنی فوج کی مدد سے پہلے صفوی حکمراں شاہ اسمٰعیل اول نے 16ویں صدی کے ایران میں ایک پائیدار شیعہ سلطنت قائم کی۔

     موجودہ دور میں دیکھیں تو سندھ میں پیر پگارا کے حروں نے برٹش دور میں ایک اور مثال پیش کی کہ کس طرح پیر کے مرید ایک تربیت یافتہ لڑاکا قوت بن سکتے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں مشائخ کی ایسی دوسری مثالیں تلاش کرنا مشکل نہیں جنہوں نے سلطانوں پر جنگیں چھیڑنے کے لیے زور دیا یا جو عسکری مہمات میں سلطانوں کے ساتھ رہے یا پھر جنہوں نے اپنے مریدوں کو اپنے پسندیدہ حکمرانوں کی افواج میں لڑنے کی ترغیب دی۔ کچھ کے بارے میں تو مانا جاتا ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر مسلح جنگوں میں شرکت بھی کی تھی۔

     مغلوں کے انحطاط و زوال کے دور میں جب جنوبی ہند کے انتہا پسندانہ اور جنونی ہندوازم کا پرچم اٹھائے شمالی ہند کے مسلمانوں کو ملیامیٹ کرنے کے لیے طوفانی یلغار کی صورت میں آگے بڑھ رہے تھے تو ان کے مقابلہ میں دہلی کی مسلم قوت کو کمزور دیکھتے ہوئے اس وقت کے سب سے بڑے صُوفِيّ‎ اور فلسفی عالم حضرت شاہ ولی اللّٰہ دہلویؒ نے قندھار کے والی احمد شاہ ابدالیؒ کو لشکر کشی کی دعوت دی تھی اور اسی دعوت پر احمد شاہ ابدالیؒ نے پانی پت کے تاریخی میدان میں مخالفین کو شکست فاش دے کر شمالی ہند کے مسلمانوں کو جنونیوں کی یلغار سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا تھا۔

     مجاہدین اسلام کے ساتھ، صُوفِيّائے کرامؒ پورے ملک میں مبلغِ اسلام اور مبلغِ انسانیت بن کر ابھرے اور توجہ، توکّل، تَزْکِیَۂ نفس، فقر، توبہ، شریعت، ذکر و فکر اور عرفانِ الٰہی کے دیگر موضوعات کا درس دے کر تَزْکِیَۂ نفس کے ذریعے درویشانہ ماحول کو استحکام بخشا۔

     ہندوستان میں تَصَوُّف و جہاد کا ایسا عجیب امتزاج و اجتماع ملتا ہے جس کی نظیر دور دور ملنی مشکل ہے، اس سلسلہ میں حضرت سید احمد شہیؒد کا تذکرہ تحصیل حاصل ہے کہ ان کی یہ جامعیت مسلمات میں سے ہے اور حد تواتر کو پہنچ چکی ہے، ان کے رفقائے جہاد اور ان کے تربیت یافتہ اشخاص کے جوش جہاد، شوق شہادت، محبت دینی، بغض فی اللّٰہ کے واقعات قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ کرتے ہیں، جب کبھی ان کے مفصل واقعات سامنے آئیں گے تو اندازہ ہوگا کہ یہ قرنِ اول کا ایک بچا ہوا ایمانی جھونکا تھا، جو 13 ویں صدی میں چلا تھا اور جس نے دکھا دیا تھا کہ ایمان، توحید اور صحیح تعلق باللّٰہ اور راہ نبوت کی تربیت و سلوک میں کتنی قوت اور کیسی تاثیر ہے اور بغیر صحیح روحانیت اور اصلاح کے پختہ جوش و جذبہ اور ایثار و قربانی اور جانسپاری کی امید غلط ہے۔

     حقیقت یہ ہے کہ مجاہدات و ریاضات، تَزْکِیَۂ نفس اور قرب الٰہی سے عشق الٰہی اور جذب و شوق کا جو مرتبہ حاصل ہوتا ہے، اس میں ہر رونگٹے سے یہی آواز آتی ہے۔ ہمارے پاس ہے کیا جو فدا کریں تجھ پر مگر یہ زندگی مستعار رکھتے ہیں، اس لیے روحانی ترقی اور کمال باطنی کا آخری لازمی نتیجہ شوق شہادت ہے اور مجاہدے کی تکمیل جہاد ہے۔ (سیرت سید احمد شہیؒد)

فی العلوم العربیة، ولہ تالیف فی وجوب نبذ تلک العادات القدیمة المخالفة للشرع، إسمہ اقامة البرھان علیٰ ارتداد عرفاء طاغستان)“․

     انیسویں صدی عیسوی میں جب عالم اسلام پر فرنگی "تاتاریوں" یا صلیب کی یورش ہوئی تو ان کے مقابلہ میں عالم اسلام کے ہر گوشہ میں جو مردان کار سر سے کفن باندھ کر میدان میں آئے، وہ اکثر و بیشتر شیوخ طریقت اور اصحابِ سلسلۂ بزرگ تھے، جن کے تزکیہ نفس اور سلوک راہ نبوت نے ان میں دین کی حمیت، کفر کی نفرت، دنیا کی حقارت اور شہادت کی موت کی قیمت دوسروں سے زیادہ پیدا کر دی تھی، الجزائر (مغرب) میں امیر عبدالقادر نے فرانسیسیوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور 1832ء سے 1847ء تک نہ خود چین سے بیٹھے، نہ فرانسیسیوں کو چین سے بیٹھنے دیا، مغربی مؤرخین نے ان کی شجاعت، عدل و انصاف، نرمی و مہربانی اور علمی قابلیت کی تعریف کی ہے۔ یہ مجاہد عملاً و ذوقاً صُوفِيّ‎ و شیخ طریقت تھا۔ امیر عبدالقادر پورے عالم و ادیب، عالی دماغ اور بلند پایہ صُوفِيّ‎ تھے، صرف نظری طور پر نہیں، بلکہ عملاً اور ذوقا بھی صُوفِيّ‎ تھے۔

    1813ء میں جب طاغستان پر روسیوں کا تسلط ہوا تو ان کا مقابلہ کرنے والے نقش بندی شیوخ تھے، جنہوں نے علم جہاد بلند کیا اور اس کا مطالبہ اور جدوجہد کی کہ معاملات و مقدمات شریعت کے مطابق فیصل ہوں اور قوم کی جاہلی عادات کو ترک کر دیا جائے۔

    مسلسل تاریخی شہادتوں کی موجودگی میں یہ کہنا کہاں تک صحیح ہو گا کہ تعطل و بے عملی حالات کے مقابلہ میں سپر اندازی اور پسپائی تَصَوُّف کے لوازم میں سے ہے، اگر اس دعوے کے ثبوت میں چند متصوفین اور اصحاب طریقت کی مثالیں ہیں تو اس کے خلاف بڑی تعداد میں ان ائمہ فن اور شیوخ طریقت کی مثالیں ہیں، جو اپنے مقام اور رسوخ فی الطریقہ میں بھی اول الذکر اصحاب سے بڑھے ہوئے ہیں۔

     اگر تَصَوُّف اپنی صحیح روح اور سلوک راہ نبوت کے مطابق ہو اور یقین و محبت پیدا ہونے کا باعث ہو (جو اس کے اہم ترین مقاصد ونتائج ہیں) تو اس سے قوت عمل، جذبۂ جہاد، عالی ہمتی، جفاکشی اور شوق شہادت پیدا ہونا لازمی ہے، جب محبت الٰہی کا چشمہ دل سے ابلے گا، تو روئیں روئیں سے یہ صدا بلند ہوگی۔

     اس جہاد کے علم بردار طاغستان کے علماء اور طریقۂ نقش بندیہ کے (جو طاغستان میں پھیلا ہوا ہے) شیوخ تھے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نفسیاتی پہلو سے غور کیجیے گا تو معلوم ہوگا کہ یقین اور محبت ہی وہ شہپر ہیں ، جن سے جہاد و جدوجہد کا شہباز پرواز کرتا ہے، مرغوبات نفسانی، عادات، مالوفات، مادی مصالح و منافع، اغراض و خواہشات کی پستیوں سے وہی شخص بلند ہو سکتا ہے اور ﴿لکنہ أخلد إلی الارض واتبع ھواہ﴾ کے دام ہم رنگ زمین سے وہی شخص بچ سکتا ہے، جس میں کسی حقیقت کے یقین اور کسی مقصد کے عشق نے پارہ کی "تقدیر سیمابی" اور بجلیوں کی بیتابی پیدا کر دی ہو۔

     مندرجہ بالا بحث اور مباحثے کے ذریعے یہ بات تو واضح ہوہی گئی ہوگی کہ حلقۂ تَصَوُّف سے منسلک پیر و مشائخ اور ان کے مریدین نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور ترویج و ترقی کے لئے کن کن خدمات کو انجام دیا ہے۔  ؎

ملّا کی شریعت میں فقط مستیِ گفتار
صُوفِيّ‎ کی طریقت میں فقط مستیِ احوال وہ مردِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رگ و پئے میں فقط مستیِ کردار

اَولیاءُ اللّٰہ یعنی اللّٰہ کے دوست وہ ہیں جنہیں دیکھنے سے اللّٰہ یاد آجائے۔ (سنن کبریٰ للنسائی، 10 / 124، حدیث: 11171) ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسولُ اللّٰہﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تم میں بہترین لوگ کون ہیں؟" صحابۂ کرام نے عرض کیا: ضرور بتائیے۔ فرمایا: "تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جنہیں دیکھ کر اللّٰہ یاد آجائے"۔ (ابن ماجہ)

                         (جاری)
       ©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
                      ○○○○○○○○○

╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
   🌌✨ اسلامی تَصَوُّف اور جہاد ✨🌌✨Islamic mysticism and Jihad✨
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

                    (قسط 08)

یہ وہی تصوف ہے ، جسے ناکارہ اور کاہل ملنگوں نے بھنگ کے نشے میں عشق الٰہی سے موسوم کرکے برصغیر کے روحانیت پسند مزاج کو بری طرح متأثر کیا۔ یہ وہی تصوف ہے جس نے مسلماں کو راکھ کا ڈھیر بنا کر رکھ چھوڑا ہے۔ یہ وہی تصوف ہے جو انسان کو خدا تک نہیں لے جاتا بلکہ ایک ایسے اندھے کنوئیں میں پھینک دیتا ہے جہاں ذلت و رسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہیں۔

✿ کاذب صُوفِيّ اور آئمہ کرامؒ کا ردعمل:

  واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
  برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
  رہ گئ رسم آزاں روح بلالی نہ رہی
  فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی

     (۱) حضرت جنید بغدادیؒ ہمیشہ فرماتے رہتے:
عِلْمُنَا هَذَا مُقَيَّدٌ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ. فَمَنْ لَمْ يَحْفَظِ الْقُرْآنَ، وَيَكْتُبِ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَتَفَقَّهْ: لَا يُقْتَدَى بِهِ۔ (ہمارا یہ علم کتاب و سنت میں مقید ہے، لہٰذا جس نے قرآن حفظ نہیں کیا، اور احادیث نہیں لکھیں، اور ان کی فقہ (سمجھ) حاصل نہ کی ہو، تو وہ اس (علمِ تَصَوُّف) میں اس کی اقتداء (پیروی) نہیں کی جاتی۔)

     وَقَالَ غَيْرُهُ مِنَ الْعَارِفِينَ: كُلُّ حَقِيقَةٍ لَا تَتْبَعُهَا شَرِيعَةٌ فَهِيَ كُفْرٌ.
اور دیگر عارفین کا کہنا ہے: ہو وہ حقیقت (کا علم) جو شریعت کے پیچھے نہ چلے تو وہ کفر ہے۔ {مدارج السالکین (امام ابن قیمؒ):3/136}

     (۲) قَالَ الْإِمَامُ مَالِكٌ: مَنْ تَفَقَّهَ وَلَمْ يَتَصَوَّفْ فَقَدْ تَفَسَّقَ، وَمَنْ تَصَوَّفَ وَلَمْ يَتَفَقَّهْ فَقَدْ تَزَنْدَقَ، وَمَنْ جَمَعَ بَيْنَهُمَا فَقَدْ تَحَقَّقَ۔
{مرقاة المفاتيح:1/335}

امام مالکؒ نے فرمایا: جس نے (علم) فقہ حاصل کیا، مگر (علم) تَصَوُّف حاصل نہ کیا اس نے فسق (گناہ) کیا۔ جس نے (علم) تَصَوُّف حاصل کیا، مگر (علم) فقہ حاصل نہ کیا وہ زندقہ (کفر) کیا۔ جس نے ان دونوں (علوم) کو جمع کیا پس وہ محقق ہوا۔

      (۳) ان ائمہ میں علامہ ابن تیمیہؒ حنبلی (المتوقفیٰ784ھ) بھی شامل ہیں۔ وہ اگر ایک طرف جھوٹے و جعلی صُوفِيّوں کی مذمت کرتے ہیں تو دوسری طرف صحیح و اصلی صُوفِيّأ کرامؒ کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتے ہیں جن پر حضرت کی کئی کتب مثلاً: رسائل ابن تیمیہؒ، فتاویٰ ابن تیمیہؒ اور الفرق بین اولیاء الرحمان و اولیاء الشیطٰن شاہد ہیں۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:
وَقَدْ انْتَسَبَ إلَيْهِمْ طَوَائِفُ مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ وَالزَّنْدَقَةِ؛ وَلَكِنْ عِنْدَ الْمُحَقِّقِينَ مِنْ أَهْلِ التَّصَوُّفِ لَيْسُوا مِنْهُمْ۔
یعنی جعلی، جھوٹے اور زندیق بدعتی لوگ اپنے آپ کو صُوفِيّأ کرامؒ میں شمار کرتے ہیں لیکن محقق صُوفِيّأ کرامؒ کے نزدیک وہ ان میں سے نہیں ہیں۔ {مجموع الفتاویٰ: 11/ 18 کتاب التَصَوُّف}

آگے مزید لکھتے ہیں:
الصُّوفِيَّةُ "ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ" صُوفِيَّةُ الْحَقَائِقِ وَصُوفِيَّةُ الْأَرْزَاقِ وَصُوفِيَّةُ الرَّسْمِ.
صُوفِيّوں میں تین طرح کے لوگ ہیں پھر ان میں اصلی و محققین صُوفِيّأ کی تعریف و توصیف کرکے باقی دو قسموں پر رد کرتے ہیں۔ {مجموع الفتاویٰ:11/ 19، کتاب التَصَوُّف}

     یہی حال تَصَوُّف کا بھی ہوا۔ جب باطنی زندگی کو ظاہری سے الگ کر لیا گیا تو شریعت و طریقت کی تفریق پیدا ہوگئی۔ دنیا پرستی سے گریز کو رہبانیت کی شکل دے دی گئی۔ مجاز پرستی، پیر پرستی، قبر پرستی، نغمہ و سرور کو روحانی ترقی کا لازمی جزء قرار دیا گیا۔ بیشک یہ سب گمراہیاں تَصَوُّف سے پیدا ہوئیں۔ ( تاریخ مشائخ چشت: پروفیسر خلیق احمد نظامی: صفحہ: ١١)۔
                         (جاری)
       ©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
                      ○○○○○○○○○

╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
   🌌✨ اسلامی تَصَوُّف اور جہاد ✨🌌✨Islamic mysticism and Jihad✨
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

                     (قسط 09)

✿ اسلامی تَصَوُّف میں غیر اسلامی نظریات کی ترویج:

صوفیہ کرام کی طرف لوگوں نے باطل عقائد بھی منسوب کئے ہیں۔

شیخ الاسلام وھابیہ لکھتے ہیں کہ اہل معرفت صوفیہ میں سے کسی ایک کا بهی یہ عقیده نہیں ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس میں یا اس کے علاوه دیگر مخلوقات میں حلول و اتحاد کر گیا ہے، اور اگر بالفرض اس طرح بات ان اکابر شیوخ کے بارے میں نقل کی جائے تو اکثر اس میں جھوٹ ہوتا ہے، جس کو اتحاد و حلول کے قائل گمراہ لوگوں نے ان صوفیہ کرام کی طرف منسوب کیا ہے، صوفیہ کرام اس قسم کے باطل عقائد سے بری ہیں۔
(مجموع الفتاوى: جلد 11: ص 75-74)

صوفیہ کرام عقیدہ حلول سے بری ہیں۔

صوفیہ کرام جو امت کے نزدیک مشہور ہیں وه اس امت سچے لوگ ہیں وه حلول و اتحاد وغیرہ کا عقیده نہیں رکہتے بلکہ لوگوں کو اس سے منع کرتے ہیں اور اہل حلول کی رد میں صوفیہ کرام کا کلام موجودہے ، اور حلول کے عقیده کو ان نا فرمان یا فاسق یا کافر لوگوں نے اختیار کیا جنہوں نے صوفیہ کرام کے ساتھ مشابہت اختیارکی اور ظاہری طور پر ولایت کے دعوے کیئے الخ ۔
.(. مجموع الفتاوى جلد 15 ص 427.).

علم تصوف کوئی عجمی چیز نہیں بلکہ خالص مکی اور مدنی چیز ہے۔ البتہ جاہل صوفیاء کی وہ باتیں جو کتاب و سنت کے خلاف ہوں ہمیشہ رد کی جائیں گی۔
امام ابو القاسم قشیری فرماتے ہیں: "شریعت کی ہر وہ بات جس کی تائید حقیقت سے نہ ہو وہ غیر مقبول ہے اور حقیقت کی ہر وہ بات جو شریعت کی قیود میں نہ ہو حاصل کرنے کے قابل نہیں ہے"۔
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں: "طریقت کی ہر وہ بات جسے شریعت رد کر دے زندقہ اور کفر ہے"۔
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں: "وہ ریاضتیں اور مجاہدے جو تقلید سنت سے الگ ہوکر اختیار کیے جائیں معتبر نہیں ہیں"۔

     اللّٰہ ربّ العزّت نے امام احمد بن حنبلؒ کے ذریعے یہ بتایا کہ قرآن اللّٰہ کا کلام ہے جس نے اللّٰہ کے کلام کو مخلوق کہا اس نے کفر کیا۔ امام احمد بن حنبلؒ نے فتنہ خلقِ قرآن کے سلسلے میں بڑی دلیری سے حکومت وقت اور مخالفین کا سامنا کیا اس میں امام احمدؒ کو بڑی صعوبتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ امام احمدؒ نے خلقِ قرآن کے باطل نظریہ کو طشت از بام کرکے رکھ دیا۔ امام احمدؒ کا تعلق بھی نظامِ تَصَوُّف سے تھا۔ امام احمدؒ بھی مسائل تَصَوُّف حضرت ابونصر بشر حافیؒ سے حل کراتے تھے۔ آپؒ امام شافعیؒ کے شاگرد ہیں۔ زہد و استغناء ایسا مثالی تھا کہ جذبہ جہاد سے ہر وقت معمور رہتے۔ آپؒ فوج کے ایک سپاہی بھی تھے۔

     دیگر ایسی کتب میں کتاب اللمع فی التَصَوُّف (شیخ ابو سراج الطوسیؒ)، کشف المحجوب (شیخ ابوالحسن علی ہجویریؒ)، تاریخ ِتَصَوُّف (مولانا عبدالماجد دریا آبادیؒ)، احیاء العلوم (امام ابوحامد الغزاؒلی)، عوارف المعارف (شیخ شہاب الدین سہروردیؒ)، لوائح جامی (مولانا عبدالرحمن جامیؒ) وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

ہمارے دلوں میں علمی، دینی اور جہادی رونقیں ہمیشہ روشن رہیں۔ آمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔

         (۱ جمادی الآخر، ۵ جنوری ۲۲۰۲؁ء)
       ©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
                      ○○○○○○○○○

صحابۂ کرامؓ (ٱلتَّصَوُّف)  ٱلصُّوفِيَّة‎ صُوفِيّاء۔ صُوفِيّائے کرامؒ

صَوَفَ، صُوفِيّت، شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت، عرفان، مراقبہ آتماگیان، درویشی، سلوک

آج کے دور پر فتن میں ضرورت اس بات کی ہے کہ خانقاہیں اپنا مؤثر کردار ادا کریں اور اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انسانیت کیلئے اخلاقی اور روحانی بالیدگی کا سامان مہیا کریں۔
خوشا مسجد و مدرسہ خانقاہے
کہ در وے بود قیل و قال محمدؐ
(مسجد، مدرسہ اور خانقاہ کیا ہی اچھی جگہیں ہیں جہاں سے ہمارے پیارے رسول کریمﷺ کے قول و عمل کو اجاگر کیا جاتا ہے)

فنا اور بقا کے روحانی تجربات کو مرکزی مقام دیا جاتا ہے۔ حضرت جنید بغدادیؒ کے نزدیک "تَصَوُّف فنا فی اللّٰہ اور بقا باللّٰہ کا نام ہے"۔

صحبتِ صالح ترا صالح کند
صحبتِ طالح ترا طالح کند

اللّٰہ رب العالمین تک رسائی کے دو طریقے شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ نے اپنی کتاب "حجتہ اللّٰہ البالغہ" میں بتائے ہیں، پہلا طریقہ انبیاء کرام کا اور دوسرا طریقہ مجذوبین صوفیہ اور متالھین فلاسفہ کا۔

    "شطح" سے مراد ایسی بات ہے جس میں بڑائی کا اظہار اور دعویٰ پایا جائے اور یہ سالکین کی لغزشوں میں سے ایک لغزش ہے۔ بعض صُوفِيّاء کے نزدیک ''شطحیات'' سے مراد وہ اقوال ہیں جو شرع کے خلاف ہوں اور کسی صُوفِيّ سے حالت وجد میں اُن کا اظہار ہوا ہو۔ "شطحات" کی پہلی قسم انا الحق، سبحانی، لیس فی جبتی سوی اللّٰہ اور انا لوح محفوظ جیسے کلمات آتے ہیں۔ یہ الفاظ سالک کی زبان سے اس وقت ادا ہوتے ہیں، جب وہ اپنے آپ کو خدا یا اس کی کسی صفت سے متحد سمجھتا ہے۔
                         (جاری)
       ©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
                      ○○○○○○○○○
صُوفِيّائے کرامؒ، صُوفِيّ‎، تَصَوُّف

صُوفِيّ‎ ہے وہ بے علم ہو جو بستی سے اپنی
کس کام پڑھا تو نے جو یوں علم تَصَوُّف

یہ مسائل تَصَوُّف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

ایمان کی تازگی اور پرہیزگاری تب ہی آتی ہے جب اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل ہو جائے اور یہ معرفتِ خداوندی اولیاء کرام کی صحبت کے بغیر بہت مشکل ہے۔

کی مخالفت ہوئی یا منشا شریعت کی عین تکمیل؟ حضرت اکبر نے اس مقام اور اس منزل کی توضیح اپنے مخصوص انداز میں کی ہے #
        شریعت در محفل مصطفیٰ
        طریقت عروج دل مصطفیٰ
        عبادت سے عزت شریعت میں ہے
        محبت کی لذت طریقت میں ہے
        شریعت میں ہے صورت ”فتح بدر“
        طریقت میں ہے معنی ”شق صدر“
        شریعت میں ہے قیل و قال حبیب
        طریقت میں حسن و جمال حبیب
        نبوت کے اندر ہیں دونوں ہی رنگ
        عبث ہے یہ ملا و صُوفِيّ‎ کی جنگ

اختصاص (specialization)
احسان (excellence)

نیت، اخلاص، توبہ، صبر، شکر، توکل، حسنِ خلق، خوف، رجاء، فقر، زہد، تفکر، مراقبہ، محاسبہ، مجاہدہ، محبت، استقامت، دعاء

عرفانی نظریات اور فلسفیانہ نظریات، کشفی نظریات و کشفی علوم کا دائرہ،

فقر و تفکر

مصادر و مراجع:-

قرآن و سنّت کا بغور مطالعہ، خلفائے راشدین ؓ کی سیرت پر غور و فکر اور پہلی تین ہدایت یافتہ صدیوں کے حالات پرکھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صُوفِيّوں کے ہاں شخصیت پرستی، مردوں کی عبادت، خود ساختہ وظائف و اوراد، اور خرافات کی نشر و اشاعت سب کچھ باطل پر مبنی ہے، باقی ہدایت دینے والی ذات اللّٰہ کی ہے، اسی نے فرمایا: "وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ"۔ (جس کو اللّٰہ نور سے نہ نوازے، اس کے لئے کوئی نور نہیں ہے۔) {النور:40}

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam