"اَذان" کی پہچان__ عربی یا علاقائی زبان"

"اَذان"  کی پہچان__ عربی یا علاقائی زبان"
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
                  "اَذان" کی پہچان
                عربی یا علاقائی زبان
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

           ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)

  وَاِذَا نَادَيْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ. (المائدة: 5:58)
  "اور جب تم نماز کے لیے (لوگوں کو بہ صورتِ اَذان) پکارتے ہو۔"

     تاریخی روایات میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ معراج کے سفر یعنی "لیلۃ الاسراء" کے وقت رسول اللّٰہﷺ نے فرشتوں کو "اَذان" دیتے ہوئے سنا تھا۔ اس اَذان کے بعد ہی رسول اللّٰہﷺ نے انبیائے کرامؑ کی امامت کرتے ہوئے نماز پڑھائی تھی۔ یعنی اَذان کے سب سے پہلے کلمات آپ نے معراج کی رات کو ہی سن لئے تھے۔ لہٰذا وہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہوئے کلمات ہیں۔ حضرت عبد اللّٰہ بن زیدؓ اور حضرت عمر فاروقؓ نے بھی خواب میں انہیں کلمات کو سنا۔

     "اَذان" عربی زبان کا لفظ ہے اور اُذُن کی جمع ہے، جس کے معنٰی ہیں 'كان' (سننے کا عضو)۔ اَذان کے لغوی معنیٰ ہے، خبردار کرنا۔ "اَذان" سنتِ مؤکدہ ہے، جو واجب کے قریب اور دین کی امتیازی علامت کے ساتھ، دین کے شعائر میں سے ہے۔ اَذان دینِ اسلام کی مکمل دعوت بھی ہے۔

     اَذان کے ذریعے دنیا کے ہر گوشے میں اللّٰہ ربّ العالمین کی کبریائی و بڑائی، توحید و رسالت کی گواہی کا ببانگ دہل اعلان ہوتا ہے۔ اَذان کے الفاظ اِسلام کے بنیادی عقائد ہیں، پھر اسلام کی سب سے اہم بھلائی و نیکی والی عبادت یعنی نماز کی دعوت بھی ہے۔ غرض اَذان پورے دین کا خلاصہ اور نچوڑ ہے، اِس لیے اس کو "الدعوۃ التامۃ" مکمل دعوت کہا گیا ہے۔

     عربی زبان میں عبادتوں کے فرائض و واجبات انجام دینے سے مسلمانوں میں آفاقیت، عالمگیریت و مرکزیت کا رجحان پروان چڑھتا ہے۔ جس کا ایک بہترین مظہر اَذان بھی ہے۔ ایک عالمگیر مذہب کا یہ تقاضا ہے کہ اس کے پیروکاروں میں بنیادی چیزیں مشترک ہوں، وہ ایک محاذ و ایک صف کا مظاہرہ کریں۔ اَذان اور نماز میں پڑھی جانے والی دعائیں اور کلمات ایسی چیزیں ہیں جنھیں بنیادی قرار دیا جاسکتا، جس سے ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جسے ہم بنیان مرصوص کہہ سکتے ہیں۔ اس قسم کے معاشره کی تشکیل ایک واحد زبان کے بغیر ممکن نہیں ہے، جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق و اتحاد ہو، اور اہل فن کی نظر میں عربی زبان دنیا کی جامع و کامل و ترین زبانوں میں سے ہے، اس لئے مسلمانوں کی بین الاقوامی زبان اور اَذان و نماز کی زبان کی حیثیت سے اتحاد و اتفاق کی علامت ہے۔

     ہم دیکھتے ہیں پوری دنیا میں اَذانِ فجر کا سلسلہ ختم بھی نہیں ہوپاتا ہے کہ ظہر کی اَذان مسجدوں کے مناروں سے بلند ہونے لگتی ہے، بالکل اسی طرح پانچوں نمازوں کے وقت اللّٰہ کے منادیوں کی آوازیں ہر وقت فضاء میں گونجتی رہتی ہیں۔ کیا یہ عربی زبان اور اسلام کی آفاقیت، عالمگیریت و مرکزیت کی دلالت پیش نہیں کرتیں۔ داعیانہ اوصاف رکھنے والوں کے لئے یہ نکتہ بھی دعوت دین کی راہ میں کارگر و مفید ثابت ہوگا۔

     اگر اسلام ایک علاقائی، نسلی یا قومی مذہب ہوتا تو کسی کیلئے اس کے اپنے علاقے، خطہ، نسل یا قوم کی زبان میں عبادات و مذہبی معاملات کو نمٹانے کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ مگر ایک عالمگیر مذہب کے تقاضے قطعی مختلف ہوتے ہیں، جس کے پیروکار سینکڑوں علاقائی زبانیں بولتے ہیں جو دنیا کے مختلف علاقوں میں آباد مختلف گروپوں کیلئے بھی باہم ناقابل فہم ہیں۔

     رسول اللّٰہﷺ، اصحابِ رسولؓ، صحابۂ کرامؓ کے بعد تابعینؒ اور تبع تابعینؒ نے ہمیشہ عربی زبان میں ہی اسلامی عبادات کے احکام ادا کئے ہیں۔ جب کہ بعض صحابۂ کرامؓ کی مادری زبان عربی کے علاوہ دوسری تھی مگر تاریخ میں ایک واقعہ بھی نہیں ملتا جس میں عربی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں کسی صحابی نے اَذان، اقامت، نماز، خطبہ جمعہ دیا ہو۔

     مفسر قرآن حضرت عبداللّٰہ بن عباسؓ نے بعض مقاصد کے لئے اپنے پاس ترجمان رکھے تھے، مگر اپنی حیات مبارکہ میں ایک مرتبہ بھی انہوں نے خطبہ عربی کے علاؤہ کسی غیر عربی زبان میں نہیں دیا۔ اور نہ ہی اس موضوع پر اپنی آراء قائم کرکے کوئی حجت تمام کردی۔ حضرت ابوہریرہؓ نے عجمی علاقہ میں رہنے کے باوجود نہ کبھی مخاطبین کی رعایت میں عجمی زبان میں خطبہ دیا یا خطبہ کے درمیان عجمی زبان استعمال کی۔

     علماء کرام نے تحریر فرمایا ہے کہ تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام پھیرنے تک جو کچھ نماز میں پڑھا جاتا ہے، بلکہ نماز سے قبل یعنی اَذان و اقامت کا بھی عربی زبان میں ہی پڑھنا ضروری ہے۔ "شرحِ مؤطا" میں شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ تحریر کیا ہے کہ خطبہ عربی زبان ہی میں ہونا چاہئے۔ امام نوویؒ نے اپنی کتاب الاذکار میں تحریر کیا ہے کہ خطبہ کے شرائط میں یہ بھی ہے کہ وہ عربی زبان میں ہو۔

     بعض دانشورانِ ملت یہاں تک کہتے ہیں کہ جب مخاطبین عربی عبارت کو نہیں سمجھتے تو عربی زبان میں خطبہ پڑھنے سے کیا فائدہ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ذکر کیا گیا کہ خطبہ میں وعظ ونصیحت سے زیادہ اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر یعنی عبادت ہے، اور عبادت میں اپنے عقلی گھوڑے دوڑانے کے بجائے صرف انہیں امور پر انحصار کرنا چاہئے جن کا ثبوت حضور اکرمﷺ سے ملتا ہے۔ نیز اگر یہ اعتراض خطبہ پڑھنے پر عائد ہوتا ہے تو نماز، قرأتِ قرآن، اَذان و اقامت اور تکبیرات نماز وغیرہ سب پر یہی اعتراض ہونا چاہئے بلکہ قرأت قرآن پر بہ نسبت خطبہ کے زیادہ عائد ہونا چاہئے کیونکہ قرآن کے نزول کا تو مقصد ہی لوگوں کی ہدایت ہے اور عمومی طور پر ہدایت کے لئے صرف تلاوت کافی نہیں ہے بلکہ اس کا سمجھنا بھی ضروری ہے، مگر دنیا کا کوئی بھی عالم نماز میں عربی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں قرأت قرآن کی اجازت نہیں دیتا۔

     جب خطبوں و قرأت کے ضمن میں ہمارے اسلاف کا یہ معمول رہا ہے تو اَذان، نماز و دیگر اذکار کے متعلق تو اس سے بھی زیادہ سخت موقف رہا ہوگا۔ خطبہ ذکر الٰہی کا نام ہے۔ خطبہ نام ہے وعظ و نصیحت کا جو نماز جمعہ یا عیدین کے موقع پر لوگوں کو مخاطب کرکے سنائے جاتے ہیں۔ جمعہ کی نماز میں دونوں خطبوں کا خالص عربی میں پڑھنا مسنون و متوارث ہے، عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں خطبہ ثابت نہیں ہے۔ خطاب تبلیغ اسلام یا دعوت اسلام کا بہترین ذریعہ ہے مگر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

     نماز میں سورۃ الفاتحہ، تلاوت قرآن اور رکوع و سجدہ کی تسبیحات وغیرہ کی طرح جمعہ اور عیدین کا خطبہ بھی صرف عربی زبان میں ہونا چاہئے۔ حالانکہ خطبہ میں وعظ و نصیحت سے زیادہ اللّٰہ کا ذکر مقصود ہوتا ہے۔ اگر یہ ذکر مقامی ترجموں کے ساتھ ہوں تو سامعین کا خشوع و خضوع دوبالا ہو جاتا ہے۔

     احکام شرعیہ کی بنیاد عقل یا چشم تصور پر نہیں کہ وہ کس کو صحیح یا غلط سمجھتی ہے بلکہ قرآن کریم میں وارد احکام اور صحابۂ کرامؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ وغیرہ سے منقول حضور اکرمﷺ کے اقوال و افعال یعنی احادیث نبویہﷺ پر ہے۔

     ایک تجویز نما تحریر نظروں سے گذری، جو گذشتہ دو دنوں سے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر گردش میں ہے، جس میں محترم جناب محی الدین غازی صاحب (مدیر ماہنامہ 'زندگی نو' و سکریٹری 'تصنیفی اکیڈمی' جماعت اسلامی ہند اپنی ذاتی تجویز کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "مسجدوں سے ہندی اور علاقائی زبان میں اَذان سنانے کے تین بڑے فائدے ہیں۔"

     یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صرف ہندوستان کی ہی مثال لی جائے تو ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں 122 بڑی زبانیں اور 1599 چھوٹی زبانیں استعمال کی جاتی ہیں۔ کیا یہ ممکن ہوسکے گا کہ اَذان کے کلمات یا الفاظ کے معنی و مطلب اور اس کی روح کا سہی مفہوم ادا ہوپائے گا۔ کیا واقعی اس عمل سے زیادہ سے زیادہ لوگ اَذان سے مانوس اور مستفیض ہوں جائیں گے؟ اور اپنے اندر کی عداوتوں اور نفرتوں سے توبہ کرلیں گے۔ کیا اس طرزِ عمل سے ملک میں دعوتی سرگرمیوں کے لئے مواقع فراہم ہونگے؟ میری نظر میں اس طرح کے نظریہ یا تجویز کے فائدے کم نقصانات زیادہ ہونگے۔ کیونکہ عربی کی لُغت (Vocabulary) میں الفاظ کا ذخیرہ اِنسانی زندگی سے تعلق رکھنے والی ہر کیفیت، فعل اور روّیے کے اِظہار کے لئے موزوں ترین لفظ مہیا کرتا ہے۔ عربی زبان میں ہی یہ ممکن ہے کہ فعل (Verb) کی شکل مذکر اور مؤنث کے لئے بدل جاتی ہے۔

     اَذان کے ہندی انوواد (ترجمہ) کے ایک لفظ ایشور کو ہی لے لیجیے، ماہرِ لسانیات جانتے ہیں کہ ایشور کبھی اللّٰہ کا ترجمہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ایشور کئی بھی ہو سکتے ہیں اور بڑے چھوٹے بھی۔ جیسے پرمیشور یا پرم پرمیشور۔ تو جس لفظ کی تصغیر بھی ہو اور تکبیر بھی اور واحد بھی ہو اور جمع بھی وہ اللّٰہ کے بدل کے طور پر کیسے استعمال ہو سکتا ہے۔ سیدھیشور، وینکیٹیشور، رامیشور، تریمبکیشور انہیں کن کن معنی میں لیئے جائیں گے۔

      موصوف آگے تین بڑے فائدے کے ضمن میں رقمطراز ہیں کہ "مسلمانوں کو اَذان کا مطلب سمجھ میں آئے گا اور ان کے ایمان کی بار بار تجدید ہوگی۔"

     اَذان کے بعد لوگوں کو اگر اس پر بھی اشکال کھڑا ہوگا کہ نماز میں قرأت عربی میں کیوں کی جاتی ہے، جب کہ ہندوستانی نمازی عربی سمجھ نہیں پاتے؟ اسے بھی مختلف علاقائی تراجم کے ساتھ ادا کیا جائے۔ کیا ایسا کرنے سے مسلمانوں کے تجدید ایمان میں مزید اضافہ ہوگا؟

      امام ابوحنیفہؒ کی مثال پیش کی جاتی ہے، جب کہ معلوم ہونا چاہیے کہ امام ابوحنیفہؒ نے ابتداء میں عجمیوں کے خیال سے خطبہ و نماز کے بارے میں یہ قول اپنایا تھا کہ عجمی زبان میں خطبہ و نماز کا ادا کرنا درست ہے، تاہم بعد میں اس سے انہوں نے رجوع کرلیا۔ (جس کا تذکرہ فقہ کی معروف کتابوں المرغنانی کی ہدایہ اور الحسکفی کی در المختار میں ملتا ہے)۔ بعد میں انہوں نے اجماع امت سے اتفاق کیا کہ "معمول کے حالات میں نماز میں کلمات عربی میں ہی ادا کئے جانے چاہئیں، حالات کے مطابق مستثنیات تو بہرحال موجود ہیں، مثلاً یہ کہ کسی نومسلم کو قبولِ اسلام کے بعد نماز کی ادائیگی کیلئے ضروری کلمات یاد کرنے میں کچھ وقت لگے گا اور اس دوران وہ کلمات جس زبان کی اسے تفہیم ہے اس میں ادا کرسکتا ہے۔

     موجودہ دور میں ہمارے وحیدیت و غامدیت نما دانشورانِ ملت دینی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے ذہنوں میں مختلف قسم کی نئی نئی باتیں پیدا کرتے رہتے ہیں تاکہ امت مسلمہ کا یہ دینی، عالمی و آفاقی اتحاد بھی باقی نہ رہے اور امت انتشار کا شکار رہے۔ آج اَذان جیسی عبادت کو ہدف بناکر اپنی بات رکھی جارہی ہے، کل خطبوں کو بعد میں نماز کو نشانہ بنایا جائے گا، ماضی کے ادوار میں دانشورانِ ملت نے مصطفی کمال اتاترک پاشا جیسے نام نہاد مسلمان ہی کی شکل میں ہمارے سیاسی اتحاد یعنی "خلافت" کو ختم کیا۔

     اَذان و نماز کے بارے میں کمال اتاترک نے یہ فتنہ پیدا کیا تھا کہ نماز ترکی زبان میں ہونی چاہیے، بلکہ اَذان کے کلمات بھی ترکی زبان میں ادا کئے جانے چاہیے۔ جس کے سبب 1933ء میں عربی زبان میں اَذان دینے اور سر عام قرآن مجید پڑھنے پر پابندی عائد کردی۔ اَذان و تلاوت ترکی زبان میں دی جانے لگی۔ جس کے نتیجے میں ترکی سے عربی کو بے دخل کیا گیا، عربی کی بے دخلی ہی کا نتیجہ ہے کہ وہاں ایک لمبے عرصے تک اسلام بیزاری کی لہر نے اپنے قدموں کو جمائے رکھا۔ اس پس منظر میں دینی و دنیوی دونوں طرح کے مصالح متقاضی ہیں کہ اَذان کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے، اَذان جیسی عبادت کو کسی دوسری زبان میں نہ دیا جائے۔ کیا حالات اتنے ناسازگار ہوگئے ہیں کہ اس سنّتِ نبویﷺ کی نبوی و معراجی شکل کو ہی بدلا جائے۔

     ہم جانتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ اور ہمارے اسلاف نے مختلف زبانیں اور مختلف تہذیبوں والے بڑے بڑے علاقے فتح کئے۔ لیکن کہیں بھی اس سنّتِ نبویﷺ کو نہیں بدلا، بلکہ ان عجمی مسلمانوں نے خود کو اس لائق بنایا کہ نماز و خطبہ اور قرآن وحدیث کو عربی زبان ہی میں سمجھیں، لیکن آج ہم اس کے برعکس ان کو بدل کر اپنی زبان میں سننا چاہتے ہیں اور خود اپنے کو اس لائق بنانے کی ادنیٰ بھی کوشش نہیں کرتے۔ افسوس کی بات ہے کہ تھوڑے سے دنیاوی فوائد اور جان و مال کی حفظ و امان کے لئے غیروں کی زبان بڑی محنت سے سیکھی جاتی ہے، لیکن ایک بڑے دینی مقصد کے تحت عربی زبان سیکھنے کی ادنیٰ کوشش سے بھی گریز ہے اور رسول اکرمﷺ کے اس ارشاد گرامی کی جانب مطلق توجہ نہیں ہے:
فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین تمسکوا بھا وعضوا علیھا بالنواجذ۔
(تم پر میرا اور خلفاء راشدین کا طور طریق لازمی ہے۔ اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو۔)
محسنِ انسانیتؐ کا یہ بھی فرمان ہے کہ،
  "إیاکم ومحدثات الأمور۔"
  (نئی نئی باتوں سے دور رہو۔)

     محترم غازی صاحب نے ایک فائدہ یہ بھی گنوایا کہ "تمام لوگوں تک اسلام کی دعوت روزانہ بار بار پہنچے گی۔"

     اَذان کو عربی زبان میں پڑھنے کی بنیادی جواز یہ ہے کہ اَذان اسلام کی عبادت اور خاتم النبیینﷺ کی سنت هے، ہم جانتیں ہیں کہ عبادتیں توفیقی هوتی هیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ اَذان جو اسلام کا نعره و شعار ہے، تمام صدیوں اور زمانوں کے دوران کمی بیشی کے بغیر ہمیشہ کے لئے اسی صورت میں باقی رہے۔ اگر یہ طے پائے کہ ہر شخص اپنی مادری زبان میں اذان پڑھے، تو اس میں الفاظ کے کمی و بیشی ہونے اور تحریف و بے بنیاد مطالب خرافات کی ملاوٹ کا امکان بڑھ جاتا ہے اور ممکن ہے ان تبدیلیوں کے نتیجے میں اصل اذان مکمل طور پر فراموش کی جائے گی اور اس کے گہرے معنی و مفہوم کے اثرات و نتائج آنے والی نسلوں تک منتقل نہیں ہوپائیں گے۔

     موصوف آگے مزید فرماتے ہیں کہ "اَذان کے خلاف شر پسندوں کی ساری کوششیں دم توڑ دیں گی۔"

     اَذان کی مخالفت کا معاملہ آج کا نہیں ہے، یہ تو اللّٰہ کے رسولﷺ کے دور سے ہی نظر آتا ہے۔ قرآن مجید سورۃ المائدہ آیات نمبر 89 تا 90 میں فرمایا گیا "جب تم نماز کے لیے منادی (اَذان) کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اُڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔"

     جب کہ وہ معاشرہ گہرائی و گیرائی کے ساتھ اَذان کے معنی و مفہوم سے آشنا تھا۔ پھر آخر اَذان کی مخالفت کیوں؟ ہم جانتے ہیں کہ باطل قوتوں کی مخالفت و عداوت اسلامی تعلیمات و احکامات سے ہیں۔ آپ کتنا بھی جمہوری، پر امن اور آئینی رہیں، کتنا بھی مذہبی رواداری کا مظاہرہ کریں وہ اسلام  سے دشمنی سے باز نہیں آنے کے، ان کا شیوہ اور خصلت ہی یہی ہے۔ ان کا بغض و عناد، ان کی عداوت و نفرت، انہیں یہ سب کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ مخالفین اس لیے اَذان کی مخالفت نہیں کررہے کہ انہیں اَذان کے معنی و مطلب نہیں پتہ ہیں بلکہ وہ اسلام کی مخالفت اس لئے کررہے کہ انہیں نفرت ہے تو مذہب اسلام سے ہے۔

      انھیں تو ہماری اسلامی شناخت سے، اسلامی ناموں سے، آپ کی نمازوں سے، آپ کے شرعی قوانین، آپ کی داڈھی سے، آپ کے برقعہ و حجاب سے، اردو نام والے علاقوں سے، مساجد سے اعتراض ہے۔ ان کی نگاہوں میں مساجد کے گنبد و مینار آنکھوں میں شہتیر کی طرح چبھنے ہیں۔ اگر ہم نے ہر جگہ مدانہت و مفاہمت کا راستہ اختیار کیا، تو ہمیں اتنا تبدیل کر دیا جائے گا کہ ہماری اسلامی، دینی اور ملی شناخت ہی ختم ہوجائے گی۔ کیوں ہم اپنے آپ کو تبدیل کرکے اپنی دینی و ملی شناخت کو فنا کردیں۔

     اگر آپ کی تجویز صحیح ہے تو طارق فتح جیسے دین بیزار شخص کو بھی اس بات پر فخر ہوگا کہ اس نے صحیح تجویز دی تھی کہ ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے اسلامی ناموں کا ہندی نام کرن کرنا چاہئے۔ کسی کا نام محمد شاہ ظفر ہے تو وہ محمد کم کردے اور راجا وجے رکھے، کوئی شمس ہے تو وہ اپنا نام بدل کر سوریہ رکھ دے۔

      ویسے تو اَذان کے لئے 3 سے 4 منٹ کا وقت درکار ہوتا ہے۔ ان اوقات کو بھی اسلام دشمنوں نے برداشت نہیں کیا۔ اب ترجمہ والی اذان کا وقت بڑھا کر 6 سے 8 منٹ کیا جائے، جس سے اعتراضات کرنے والوں کے لئے مزید irritation کا سبب ہم مہیا کررہے ہیں۔

     محترم کی تجویز یہ ہے کہ "عربی اَذان دی جائے اور اس کے ساتھ ہندی اَذان سنائی جائے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے ہندی میں اَذان سنادی جائے، بعد میں عربی میں اَذان دے دی جائے..... اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عربی میں اَذان بغیر لاؤڈ اسپیکر کے دی جائے اور ہندی میں لاؤڈ اسپیکر سے دی جائے۔"

     جو لوگ علمِ زبان (Linguists) کے ماہر ہیں وہ بتاتے ہیں کہ جتنی بلاغت، فصاحت، اظہاریت اور اسلوب (Diction) عربی زبان میں ہے اِتنی خصوصیات دنیا کی کسی اور زبان میں نہیں ہیں۔ اور آپ ایسی زبان کو سیکینڈری درجے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ آپ خود فرما رہے ہیں کہ عربی زبان کی اَذان بغیر لاؤڈ اسپیکر اور ہندی لاؤڈ اسپیکر میں، عجیب معاملہ ہے۔

     اللّٰہ ربّ العالمین! کی جانب سے اَذان کے الفاظ، نزولِ وحی اور نزولِ قرآن کا سلسلہ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ سیِّدُنا مُحَمّدﷺ پر عربی زبان میں ہی ہوا ہے۔ ہمیں یہ اختیار کس نے دیا کہ عربی زبان کی اَذان کو ببانگ دہل نہ دیتے ہوئے دوسری زبان کو اس پر ترجیح دیں۔ تاہم اَذان کے تراجم مختلف زبانوں میں ہوسکتے ہیں، انسانوں نے تراجم بھی کئے ہیں مگر یہ ترجمہ اس روحانی سفر کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ روحانی سفر اصل عربی کو ذریعہ بناکر ہی ممکن ہے۔

     دارالافتاء، جامعہ العلوم اسلامیہ، اَذان کی شرائط کے تحت فتویٰ جاری کیا کیا جس میں کہا گیا کہ، اَذان وقت میں ہونا، عربی زبان میں ہونا، کلمات میں ترتیب کا پایا جانا اور پے درپے ہونا یعنی درمیان میں بات چیت نہ کرنا۔

     موصوف آگے فرماتے ہیں کہ "ہم ایک انقلابی فیصلہ لیں اور اذان کی صورت میں دین کا پیغام ملک کے سارے انسانوں تک پہنچا دیں۔ مسجدوں سے ملک کی سبھی زبانوں میں اذانیں سنائی جائیں،......."

     کیا اسلام کی تبلیغ و ترویج اور اشاعت کا اب یہی طریقہ مناسب رہ گیا ہے کہ اب ہم اپنی عبادتوں کی زبان عربی کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں کو بھی ترجیح دیں۔ حالانکہ عربی زبان کی برابری دنیا کی کوئی زبان نہیں کرسکتی۔ عربی زبان کے مقابلے میں اُس وقت کی مشہور زبانیں (فارسی، چینی، سنسکرت، عبرانی، رومن لاطینی اور مصِری) نہ ہی الفاظ کا اِتنا ضخیم ذخیرہ رکھتی تھیں اور نہ ہی اُن کی صرف و نحو (Grammer) اتنی ترقی یافتہ تھی کہ وہ ہر قسم کے اِظہار کے لئے مکمل ہوتی۔

     دعوت کا منہج کیا ہو؟ اس پر ہمارے اسلاف نے بے شمار کتابیں لکھیں ہیں، لیکن کہیں بھی اس قسم کا نایاب و مجرّب طریقہ یا تجویز نظروں سے نہیں گذری۔ جو موجودہ دور میں پیش کی جارہی ہیں۔

      اب چشم تصور میں یہ منظر بھی لایا جائے کہ اگر ہم کسی ایسے ملک یا علاقے میں جہاں لوگ مسجد نما عمارت میں نہ سہی مگر ایک مقدس جگہ جمع ہوکر نماز ادا کرتے ہوں، وہاں سے اگر ہمارا گزر ہو اور علاقائی و مقامی زبان میں اَذان لاؤڈ اسپیکر پر سنائی دے، ایسی زبان جس ہماری واقفیت نہ ہو، اس وقت ہمارا کیا رویہ ہوگا اس منظر کو بھی تصور کی نگاہوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں مسجد کی حئیت و تعمیر ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ مسجد نظر ہی نہیں آتی، اب وہاں سے عربی زبان میں اَذان کے علاؤہ کسی دوسری زبان میں صدائیں بلند ہوں تو ہمارا کیا حال ہوگا۔

     محی الدین غازی صاحب کو یہ بات ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے کہ ان کا شمار ہندوستان کی ایک بڑی تحریک اسلامی کے ذمہ دار کی حیثیت سے ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس جماعت کے ماہنامہ ترجمان mouth organ کے مدیر کی حیثیت سے اپنی خدمات پیش کررہے ہیں۔ ان حالات میں احساس ذمہ داری بڑھ جاتی ہیں۔ لوگ آپ کو ایک فرد کی حیثیت سے نہیں دیکھتے ہیں، بلکہ اجتماعیت کے ذمّہ دار کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اس لئے کسی بھی حساس موضوع پر تجویز و آراء کو پیش کرتے وقت کافی غور و خوض سے کام لینا چاہیے۔ ویسے بھی تحریک اسلامی کے افراد ہمیشہ نشانہ پر رہتے ہیں، کیوں ایسے موضوع پر ہم لب کشائی کریں جس سے انتشار و نقصان زیادہ ہو اور فائدہ کم!!!

     ایک وقت ایسا بھی آیا کہ چشمِ تصور نے وہ منظر بھی دیکھا کہ اَذان کی اہمیت و افادیت کو زندہ رکھنے کے لئے، اَذان کی تکمیل تک 22 اہل ایمان سعید نفوس نے موت کو گلے لگا لیا۔ واقعی  13جولائی 1931ء کو دی گئی اَذان دنیا کی واحد اَذان ہے، جسے مکمل کرنے کے لئے 22 افراد نے جانوں کے نذرانے دیتے ہوئے شہادت کو گلے لگایا۔ اور آج ہم ہیں کہ جانوں کو بچانے کے لئے، حکمت و مصلحت کے نام پر، دعوت و تبلیغ کے نام پر اسلامی عبادات میں تبدیلی لانے والے دلائل پیش کررہے ہیں۔

     دیگر زبانوں میں اذان ترجمے سنانے کے آئیڈیا پر محترم سرفراز بزمی (راجستھان) کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

جو ربط روح و بدن کا ہے جسم وجان کا ہے 

وہی  اذان   سے   قرآن   کی  زبان   کا    ہے 

نہ جان اس کو  زمیں زاد  کی کوئی تخلیق

زمیں  کا  فیض نہیں  ہے  یہ  آسمان  کا ہے 

زبان  غیر  سے  کیوں  شرح   آرزو  کیجائے 

سوال  دین  محمد     کی   آن   بان  کا  ہے 

وہ  کفر  سوز  ہر  اک  ساز  بھول جائینگے 

تفنگ  و  تیغ  کے  انداز   بھول    جائینگے

پھٹے ہے جس  سے شبستان  کفر  کا سینہ 

ہمارے  بچے  وہ    آواز    بھول   جائینگے

اذاں  سے  روح  بلالی  نکال    مت   دینا

کہ  دل  اذان  کے  الفاظ  بھول  جائینگے

اذاں  میں روح  بلالی  اسی  زبان  سے ہے 

اذاں کے تیر میں طاقت اسی کمان سے ہے 

کہاں  ہے شرک کی بستی  کہاں  خدا والے 

یہ  فرق  اے دل  ناداں  اسی اذان سے ہے 

رہین  منت      روح     بلال   ہے     بزمی 

جو ربط  ارض  بخارا  کو اصفہان سے ہے 


           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
                    (20.04.2022)
       Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══ •••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○



Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam