موجودہ عید ...... فریبِ دید

موجودہ عید ...... فریبِ دید

╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
     ✨  موجودہ عید ...... فریبِ دید  ✨
  
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚ 
               🍁 مسعود محبوب خان 🍁
              📞9422724040

     "عید" یعنی ایک مذہبی یادگار تقریب، ایک سالانہ جشن یا سالگرہ۔ "عید" ایک وسیع اصطلاح ہے، دراصل عید سے مراد جشن کے طور پر منایا جانے والا وہ دن ہے، جس دن کسی فرد یا قوم و ملّت اللّٰہ کے اذن سے مشکلات سے نکل کر راحتوں اور خوشیوں کی طرف پلٹ کر آتے ہیں۔ اور انسانی فطرتی آلودگیوں کے ختم ہونے کے بعد پہلے کی طرح روحانی قدرتی پاکیزگی کے لوٹ کر آنا، یا کسی زحمت کے ختم ہونے کے بعد اللّٰہ‎ کی نعمت کا پلٹ کر آنے کا نام عید ہے۔ جو کہ خوب جشن و خوشی منانے کا دن ہے اور یہی اللّٰہ‎ تعالیٰ کے فرمان کا مفہوم بھی ہے کہ جب انسان اللّٰہ‎ کے فضل و کرم سے نوازا جائے تو اللّٰہ‎ کا شکر ادا کرتے ہوئے اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے احکامات کے اندر رہتے ہوئے خوب خوشی منائے۔ انسانی تاریخ کے مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہر دور میں ہر قوم اور ملّت، ہر مذہب اور ثقافت سے تعلق رکھنے والے انسان مختلف تہواروں کی شکل میں عید مناتے آئے ہیں۔

     تاریخ انسانیت کی پہلی عید حضرت آدمؑ کی توبہ قبول ہونے وقت منائی گئی۔ اس کے بعد ہابیل و قابیل کے مابین جنگ کے اختتام پر منائی گئی۔ نار نمرود جب سرد ہوئی تو قوم ابراہیمؑ نے اس روز عید منائی۔ جس دن موسیٰ ؑ نے اللّٰہ کے اذن سے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و جبر سے نجات دلائی تو ان کی قوم نے اس دن عید منائی، جس کا نام یوم الزینۃ (زینت والا دن) رکھا۔ فضل الٰہی کے طفیل مچھلی کے پیٹ سے چھٹکارے کے اظہارِ تشکر کے لئے قوم یونس ؑ نے اس دن عید منائی۔ قوم عیسیٰ ؑ آپ کی یوم پیدائش کو عید کے طور پر خوب تزک و احترام کے ساتھ مناتے ہیں۔

     عید کا آغاز 624ء میں ہوا۔ خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی مکّہ مکرمہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد اہل یثرب کے منائے جانے والے جشن کو دو عیدین مطلب عید الفطر اور عید الاضحی سے تبدیل کردیا گیا۔ سنہ ۲ ہجری میں جب پہلی بار ماہ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو پہلی رمضان المبارک کے اختتام پر فاتحِ عالمؔؐﷺ نے اہل یثرب کو مخاطب کرکے فرمایا کہ: "ہر قوم کے لئے عید ہوتی ہے، تم بھی مختلف تہواروں کی شکل میں عیدیں مناتے تھے، اللّٰہ تعالیٰ نے تمہاری عیدوں کو ان دو عیدوں سے بدل دیا ہے، اب تم ہر سال شان سے عید الفطر اور عیدالاضحیٰ منایا کرو، یہی مسلمانوں کی عیدیں ہیں"۔

     عید الفطر رمضان المبارک کے روزوں کے اختتام پر اسلامی ہجری کیلنڈر (قمری سال) کے یکم شوال کے چاند نظر آنے کے بعد اللّٰہ‎ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے ان کی ماہ رمضان کے روزوں، عبادات، اذکار، تلاوت قرآن کریم اور قیام اللیل کے بدلے خصوصی انعام اور تحفے کے طور پر دیا جانے والا مسرت و شادمانی اور قلبی سکون دینے والا دن ہے۔ جو پوری دنیا کے مسلمان خوشی اور شکرانے کی غرض سے انتہائی تزک و احترام اور مسرت سے مناتے ہیں۔

     رَمَضانُ الْمُبَارَک رَحمت و مغفرت اور جہنَّم سے آزادی کا مہینہ ہے، لہٰذا اِس رحمتوں اور برکتوں بھرے مہینے کے فوراً بعد ہمیں عید سعید کی خوشی منانے کا موقع فراہم کیا گیا ہے اور عید الفطر کے روز خوشی کا اِظہار مستحب ہے۔ اب ان خوشیوں کے لمحات کو منانے کے بھی آداب و احکام ہمارے اسلاف و اکابر نے ہمیں سکھائے ہیں۔ آج کل گویا خوشیوں کا اظہار صِرف نئے نئے کپڑے پہننے اور عمدہ کھانے تناول کرنے کو ہی مَعَاذَ اللّٰہ عید سمجھ بیٹھے ہیں۔ ذرا غور تو کیجئے!ہمارے اسلاف و اکابر نے بھی تو آخر عید کے مبارک لمحات و ساعتوں کو منایا ہوگا۔ آخر ان کے طریقہ کار میں اور ہمارے طریقہ کار میں کتنا زمین و آسمان کا فرق ہے۔ انہوں نے دنیا کی لذتوں سے کوسوں دُور رہتے ہوئے، خواہشاتِ نفس کی مخالفت کرتے ہوئے خوشیوں اور مسرتوں کے ان لمحات کو کتنا حسین بنا دیا کہ آج وہ لوگ ہماری زرین تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ سچی بات تو یہی ہے کہ عید اُن خوش بخت مسلمانوں کا حصہ ہے جنہوں نے ماہِ صیام، رَمَضانُ المُبارک کو رَوزوں، نمازوں اور دیگر عبادتوں میں گزارا۔ اسی لئے یہ عید اُن کے لئے اللّٰہ ربّ العالمین کی طرف سے مزدوری ملنے کا دِن ہے۔

     عیدین کی راتوں کا شمار بھی اُن دس راتوں میں ہوتا ہے کہ جن میں عبادات کا اجّر و ثواب بہت زیادہ ہے یہ دعاؤں کی قبولیت کی راتیں ہیں، بخشش و نجات کی راتیں ہیں، انعام و اکرام نازل ہونے کی راتیں ہیں، مصائب سے چھٹکارے کی راتیں ہیں۔ دنیا و آخرت میں ُسرخروئی کی راتیں ہیں۔ محدثین اور علما و کرام کے مطابق عید الفطر کی رات مزدوری حاصل کرنے کی رات ہے اس رات اللّٰہ تعالیٰ روزوں، راتوں کے قیام، عبادات، زکوٰۃ، صدقات، خیرات اور دوسری نیکیوں کا زیادہ سے زیادہ اجّر عطا فرماتا ہے، مگر اچھنبے کی بات ہے کہ چاند کا اعلان ہوتے ہی مسلمانوں کی اکثریت "مزدوری" اجّر و اکرام، اس کی رحمتوں، نعمتوں اور برکتوں سے بے نیاز ہوکر خرافات میں کھو جاتی ہے، ماہ رمضان کا تقدس کہیں بھی نظر نہیں آتا۔ بعض بازاروں میں بے ہودگی کے وہ مناظر نظر آتے ہیں کہ جیسے شیطان کے چیلے اپنے "سرغنہ" کی رہائی کا جشن منا رہے ہیں۔

     حضرت علی مرتضٰیؓ فرماتے ہیں کہ "ہماری عید اس دن ہے، جس دن ہم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو"۔

     شیخ عبد القادر الجيلانیؒ فرماتے ہیں:
خلق گَوید کہ فر د ا روزِ عید اَسْت خوشی دَررُوحِ ہر مؤمن پدید اَسْت
دَراں رَوزے کہ بااِیماں بمیرم مِرادَر مُلک خودآں رَوزِ عید اَسْت
یعنی "لوگ کہہ رہے ہیں، "کل عید ہے! کل عید ہے!" اور سب خوش ہیں۔ لیکن میں تو جس دِن اِس دنیا سے اپنا اِیمان سلامت لے کر گیا، میرے لئے تو وُہی دِن عید ہوگا"۔

     اسلامی تاریخ میں سیرتِ صحابہ و سلف صالحین سے کئی حسین و جمیل واقعات نظروں سے گزرتے ہیں، جس یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی عید کیسی گذرتی تھیں۔ کچھ واقعات کا تذکرہ کرنا بے حد سود مند ہوگا۔

      یوم عید چند حضرات امیرُ الْمُؤمِنِین سیِّدُنا عمر فاروقؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جہاں چشم فلک نے وہ منظر دیکھا کہ حضرت عمرؓ دروازہ بند کرکے زَار و قطار رو رہے ہیں۔ حیرانی کے عالم میں عرض کیا: امیرُ الْمُؤمِنِینؓ! آج تو عید ہے جو کہ باعث مسرت و خوشی منانے کا دِن ہے، خوشی کی جگہ یہ رونا کیسا؟ آپؓ نے آنسو پونچھتے ہوئے فرمایا: یہ عید کا دِن بھی ہے اور وَعید کا دِن بھی۔ جس کے نَماز و روزے مقبول ہوگئے بلا شبہ اُس کے لئے آج عید کا دِن ہے، لیکن جس کے نَماز و روزے رَد کرکے اُس کے منہ پر مار دیئے گئے اُس کے لئے تو آج وَعید کا دِن ہے، میں تو اِس خوف سے رو رہا ہوں کہ آہ! مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں مقبول ہوا ہُوں یا رَد کردیا گیا ہوں۔ یہ وہی امیرُ الْمُؤمِنِین سیِّدُنا عمر فاروقؓ جنہوں نے عید کے روز اپنے بیٹے کو پرانی قمیص میں زیب تن دیکھا تو رَو پڑے۔ سلام ہے ایسی قیادت اور تربیت پر!!!

      عید کے روز ان کی شریکِ حیات حضرت فاطمہ عید کے لئے ان سے پیسوں کا تقاضہ کرتی ہیں، آپ آنکھوں میں آنسوں رکھ کر فرماتے ہیں میں کہاں سے لاؤں پیسے؟ فاطمہ فرماتی ہیں کہ بیت المال کے نگراں سے پیشگی رقم لے لیں، عمر بیت المال گئے..... بیت المال کے نگران کے سامنے دست سوال دراز کیا..... وہ بھی عمر کا اپنا ہی تو مقرر کردہ تھا..... سوال سن کے بے تاثر، رسان سے لہجے میں بولا: "اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آپ اگلی تنخواہ کے وقت تک زندہ رہیں گے۔۔۔۔۔ امت کا پیسہ ہے، میں کیونکر اس میں اختیار سے تجاوز کروں"۔ عمر بن عبدالعزیزؒ گھر واپس لوٹ کر آتے ہیں اور فاطمہ سے معذرت چاہتے ہیں۔

     عید کے روز حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نماز عید کے بعد گھر تشریف لائے تو بیٹیاں عید ملنے کے لئے حاضر ہوئیں، حیرت کی بات یہ کہ انہوں نے اپنے منہ دوپٹے سے ڈھکے ہوئے تھے، امیرالمؤمنین نے حیران ہوکر پوچھا کہ بیٹا کیا ماجرا ہے؟..... بیٹی نے جواب دیا کہ اباجان آج گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہ تھا لہٰذا ہم نے روٹی کے ساتھ کچے پیاز تناول فرمائے ہیں، جس کی بو منہ میں موجود ہے ہمیں اچھا نہ لگا کہ اس بو سے آپ کو تکلیف ہو۔..... یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمانے لگے "بیٹا! میں چند دن کی زندگی کے لئے ہمیشہ کی آخرت برباد نہیں کرسکتا اور نہ تمہیں حرام کا لقمہ کھلانا چاہتا ہوں"۔

     جی ہاں یہ وہی عمر بن عبدالعزیزؒ ہیں جن کا اقتدار و اختیار لاکھوں لاکھ مربع میل پر پھیلا ہوا تھا، لیکن آخر کیوں ان کے گھر کی عید ہمارے لئے نمونہ نہیں ہیں؟ صد قربان جاؤں ان کے اس عمل پر!!!

     ایک حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا نمونہ تھا کہ وہ اپنے عزیز و اقارب سے پائی پائی کا محاسبہ کرتے ہیں، اور آج کے اہل اقتدار و صاحب منصب افراد جب لوگ حکومت پاتے ہیں تو اپنا گھر بھرتے ہیں۔ عزیزوں رشتہ داروں کو نوازتے ہیں جو ممکن رعایت ہے اپنے دوستوں اور طرف داروں کے لیے روا رکھتے ہیں۔ اللّٰہ ربّ العزّت! ایسا محاسبہ موجودہ دور کے مسلمانوں اور ان قیادت میں بیدار کر دے۔

     سَیِّدُنا عبدُ الرَّحمٰن بِن عَمْرْو اَوْزاعیؓ بَیان کرتے ہیں کہ عِیْدُ الفِطْر کی شب دروازے پر دَستک ہوئی، دیکھا تو میرا ہمسایہ کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا: کہو بھائی !کیسے آنا ہوا؟ اُس نے کہا: "کل عید ہے لیکن خرچ کے لئے کچھ نہیں، اگر آپ کچھ عنایت فرما دیں تو عزت کے ساتھ ہم عید کا دِن گزار لیں گے"۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: ہمارا فلاں پڑوسی آیا ہے اُس کے پاس عید کے لئے ایک پیسہ تک نہیں، اگر تمہاری رائے ہو تو جو ۲۵ دِرہم ہم نے عید کیلئے رکھ چھوڑے ہیں اس کو پیش کر دیں ہمیں اللّٰہ تَعَالٰی اور دیدے گا۔ نیک بیوی نے کہا: بہت اچھا۔ چنانچہ میں نے وہ سب دِرہم اپنے ہمسائے کے حوالے کردئیے، وہ دُعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر کسی نے دروازہ کَھٹ کَھٹایا۔ میں نے جونہی دروازہ کھولا، ایک آدمی آگے بڑھ کر میرے قدموں پر گر پڑا اور رو رو کر کہنے لگا، میں آپ کے والد کا بھاگا ہوا غلام ہوں، مجھے اپنی حرکت پر بہت ندامت لاحق ہوئی تو حاضر ہوگیا ہوں، یہ ۲۵ دینار میری کمائی کے ہیں، آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں قبول فرما لیجئے، آپ میرے آقا ہیں اور میں آپ کا غلام۔ میں نے وہ دِینار لے لئے اور غلام کو آزاد کردیا۔ پھر میں نے اپنی بیوی سے کہا: اللّٰہ تعالیٰ کی شان دیکھو! اُس نے ہمیں دِرہم (چاندی کے سکّے) کے بدلے دِینار (سونے کے سکّے) عطا فرمائے۔

      حضرت سَیِّدُنا عبدُاللّٰہ ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ: جب عیدُ الْفِطْر کی مبارَک رات تشریف لاتی ہے تو اِسے "لَیْلَۃُ الْجَائِزۃ" یعنی "اِنعام کی رات" کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللّٰہ ربّ العزّت فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے، چنانچہ وہ فرشتے زمین پر تشریف لاکر سب گلیوں اور راہوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اِس طرح ندا دیتے ہیں: "اے اُمَّتِ مُحمّدﷺ! اُس ربِّ کریم کی بارگاہ کی طرف چلو! جو بہت زیادہ عطا کرنے والا اور بڑے سے بڑا گناہ معاف فرمانے والا ہے"۔ پھر اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں سے یوں مخاطب ہوتا ہے: "اے میرے بندو! مانگو کیا مانگتے ہو؟

     محسنِ انسانیتؐ نے فرمایا: "جس نے عیدین کی رات (یعنی شبِ عیدالفطر اور شب عِیدُ الْاَضْحٰی) طلبِ ثواب کے لئے قیام کیا، اُس دن اُس کا دِل نہیں مرے گا، جس دن (لوگوں کے) دِل مرجائیں گے"۔

     لائقِ عذاب کاموں کا اِرْتکاب کرکے "یومِ عید" کو اپنے لئے "یومِ وَعید" نہ بنائیے۔ اور یاد رکھئے! عید اُس کی نہیں، جس نے نئے کپڑے پہن لئے، عید تو اُس کی ہے جو عذابِ الٰہی سے ڈر گیا۔ ہم جانتے ہیں کہ شیطان پر عید کا دِن نہایت گراں گزرتا ہے لہٰذا وہ شیاطین کو حکم صادِر کر دیتا ہے کہ تم مسلمانوں کو لذاتِ نفسانی میں مشغول کردو! ایسا لگتا ہے، فی زمانہ شیطان اپنے اِس حربے میں کامیاب نظر آرہا ہے۔

     عید کی آمد پر ہونا تو یہ چاہئے کہ عبادات و حسنات کی کثرت و بہتات کے ذریعے اظہار تشکر کے نذرانے بارگاہِ خداوندی میں پیش کرتے۔ مگر افسوس! مسلمانوں کی اکثریت نے عید سعید کا حقیقی مقصد ہی بھلا دیا ہے۔ آج عید کے روز ہمارے معاشرے میں رَقص و سُرُود کی محفلیں گرما کر فحاشیت و عریانیت کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے۔ گناہوں بھرے مَیلوں ٹھیلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، فِلموں ڈِراموں کا اِہتمام کیا جاتا ہے اور دل کھول کر وَقْت و دولت دونوں کو خِلافِ سُنَّت و شریعت اَفعال میں برباد کیا جاتا ہے۔ اِس مُبارَک دن کو کس قدر عبس و غلط کاموں میں گزارا جانے لگا ہے۔ اِن خلافِ شرع باتوں کے سبب ہوسکتا ہے کہ یہ عید سعید نا شکروں کے لئے "یومِ وَعید" بن جائے۔

     وہ افراد جنہوں نے روزے نہ رکھے ہوں، جنہوں نے ماہ صیام مکمل نافرمانیوں میں گذارا، سیاسی افطار پارٹیوں میں بغیر روزے رکھے حرام خوری کا نوالہ اپنے پیٹ میں اتارا، بجائے عبادات کے ساری ساری راتیں آوارہ گَردیوں میں گزاری، اپنے جسم و رُوح کو دِن رات گناہوں میں ملوث رکھا ہو اور بروز عید فحش و عریاں، نئے اور مہنگے ملبوسات یا "ڈیزائینر سوٹ" ملبوث کرکے اپنے تکبر و غرور کی جھوٹی نمائش کرنے لگا۔ ایسے لوگوں کی مثال نجاست بھرے جسم پر گویا چاندی کا وَرَق چڑھا دیا گیا ہو۔

      نماز عید، دوستوں اور عزیزوں کے گھروں میں خصوصی میل ملاپ، سیر و تفریح، روایتی میٹھے پکوان، عطریات کا استعمال، نئے ملبوسات، عیدی اور دیگر تحائف کا تبادلۂ وغیرہ ہوتا ہے۔ مگر کیا عید کا پیغام یہیں تک ہوتا ہے۔ یا اس پیغام کے پیچھے کوئی عظیم پیغام چھپا ہوتا ہے۔

      موجودہ دور میں جس طریقے سے عید منائی جاتی ہے، اس میں دین کا رنگ نہایت ماند پڑگیا ہے۔ بھائی چارے اور اجتماعیت کے مناظر دور دور تک نظر نہیں آتے۔ اجتماعیت کی بجائے انفرادیت کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔ عید کے دن بھی بہت سارے لوگ اُداس اور تنہا نظر آتے ہیں، رمضان المبارک میں پیدا ہونے والا تقدس، نادار افراد کا احساس، عبادات، بھائی چارہ اور عبادت کا جذبہ ایک دن میں کافور ہوجاتا ہے۔ یہ اس وجہ سے ہورہا ہے کہ شاید ہماری زندگیوں سے برکت اور نصرت اٹھ چکی ہے، نفسا نفسی، خود غرضی اور انفرادیت نے عید کی خوشیوں کو بھی ماند کردیا ہے، ہر طرف بے جا اسراف کے مناظر نظر آتے ہیں مگر اپنے آس پاس بے بس و بے کس اور مجبور افراد کے لئے کسی کے پاس بھی سوچنے کا وقت نہیں ہے۔

     عید ایک اجتماعی دینی و مذہبی تقریب ہے، مگر آج ہم منتشر و تنہا ہوچکے ہیں۔ خود نمائی اور جھوٹی شان و شوکت نے ملّت کے درمیان تفریق اور بھی گہری کردی ہے۔ اب عید کے تہوار پر ایک طرف دولت کی نمائش نظر آتی ہے دوسری طرف محرومیاں، سسکیاں اور آہیں سنائی دیتی ہیں۔ شام و فلسطین، برما (میانمار) و اویغور، خرگون و دلی اور ملک کے وہ علاقے جہاں مسلمانوں کی بستیوں کو ماہ رمضان میں ڈھا دیا گیا، ان تمام علاقوں کے مظلوم مسلمانوں کی خوشیوں اور مسرتوں کے بارے میں ہم نے کچھ سوچا؟

     عید خوشی کا دن ہے، مسرت کے اجتماعی اظہار کا نام ہے۔ جس میں تمام افراد شرکت فرما کر، اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسانات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑی مسرت اسی بات میں ہوتی ہے کہ اس کی خوشی و مسرت میں بھی رضائے الٰہی کا حصول مطلوب ہو۔

     میری مخلصانہ و مؤدبانہ التماس کا مقصد یہ نہیں کہ ہم عید نہ منائیں، عید تو سنت رسولؐ ہے اور ہمارے دینی شعائر میں سے ہے۔ مگر ان خوشیوں کا اظہار کرتے وقت احکامِ الٰہی، سیرتِ طیبہ، سیرتِ صحابہ کرام اور سیرتِ سلف صالحین کو سامنے رکھیں، اور اس کی اتباع کریں۔ حقیقت میں عید اسی کی ہے، جو دوسروں کی عید کا سبب بنے۔ عزیز و اقارب اور پڑوس میں نظریں دوڑائیں اور ان کی تسکین کا ذریعہ بنیں۔ عید کی خوشیوں میں اپنے اردگرد یتیم، نادار، مساکین اور مستحقین کا خیال رکھیں۔ عید کے پر مسرت موقع پہ اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرکے اپنی ملّت کے سر کو فخر سے بلند کرنے کی سعی و جہد کریں۔ عید کا دن اسلامی اجتماعیت اور اتحاد و اتفاق کا آئینہ دار بھی ہے۔

     اُمّتِ مسلمہ کو دِل کی گہرائیوں سے عید کی مبارک باد قبول ہو۔ دُعا ہے کہ ربِّ کریم ہم سب کی تمام عبادات، نیک اعمال اور روزوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے۔ ہم پر اپنا رحم، کرم اور فضل فرمائے۔ مسلمانوں کو نیک ہدایت دے، رسول اللّٰہﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللّٰہ تعالی سے دعا ہے کہ اس ماہ مقدس میں ہم سے جو تقصیر ہوئی ہے اسے عفو و درگزر فرمائے۔ (آمین)
«تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ»
(اللّٰہ تمہارے اور ہمارے نیک اعمال قبول فرمائے)۔

          ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
               +919422724040
                   (01.05.2022)
      Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══ •••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam