ورزش یا ترک ایمان

"ورزش یا ترک ایمان"

        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
                ورزش یا ترک ایمان
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
 
     یہ واقعی قابلِ افسوس بات ہے کہ یوگا جیسی دھارمک ورزش کو ہم سمجھ ہی نہیں پائے ہیں۔ افسوس اور صد افسوس اس وقت ہوتا جب تحریک اسلامی کے فعال کارکنان بھی یوگا جیسی دھارمک ورزش کے لئے راستہ ہموار کرنے لگیں۔ عام انسان اگر لاعلمی کی بنیاد پر یہ راگ الاپے تو کوئی بات نہیں، مگر تحریک اسلامی کا باشعور طبقہ اس کی حمایت میں بیان بازی کرے، واقعی یہ ہمارے جیسے مسلمانوں کے لئے غور و تدبر کا مقام ہیں۔

     آج صبح صبح موبائیل کے ذریعے سے فیس بُک کے پیج پر آوارہ گردی کے وقت یوگا کے ضمن میں کچھ پوسٹ پر نظر پڑی تو واقعی محسوس ہوا کہ ہمارے compromising nature نے ہمیں کس عمیق گہرائی میں لاکھڑا کردیا ہے۔ ہم کیوں اسلامی اصولوں پر اپنی جماعتوں و اداروں کی فلاح و بہبود اور حفاظت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کیا ہماری اسلامی فکر اتنی ماؤف ہو گئی ہے کہ باطل قوتیں جیسا چاہ رہی ہیں ویسا ہکالے لے جارہی ہیں۔ ہم کیوں اپنی دینی و مذہبی فکر و نظر کو پیش نہیں کر پارہے ہیں۔ 

     بات چل رہی تھی یوگا پر!!! غلبۂ دین کی سعی و جہد کی پاداش میں جب ہم پابند سلاسل ہوئے، اور زنداں میں داعیانہ کردار ادا کرنے موقع ملا، اس وقت کا ایک واقعہ آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ جیل میں قیدیوں کے لئے یوگا کا اہتمام کیا گیا، مگر اس یوگا شیبیر (کیمپ) میں کچھ ہی شرکاء نے شرکت کرنا شروع کی، جب کے جیل میں کل 6 بیریکس تھے اور ہر بیریک میں کم از کم دو سو افراد کا قیام تھا۔ تعداد کم ہونے کی وجہ سے جیلر کو تشویش ہوئی، اس نے غالباً دو دن بعد یوگا پر پروچن کا انعقاد کیا۔ جس میں یوگا کے گروجی اور ان کے ساتھ ان کی ٹیم کے کچھ افراد نے، جس میں ایک ایڈوکیٹ خاتون بھی تھیں، شرکت کی۔

     اس نشست میں یوگا کی غرض و غایت، یوگا کے فوائد بیان کئے گئے اور اس میں شرکت کی اپیل کی گئی۔ جب جیلر کی گفتگو شروع ہوئی تو اس سے رہا نہیں گیا، اس نے مجھے اور میرے ایک عزیز ساتھی کو نام لے کر کھڑا کیا اور سوال کیا کہ آپ کو یوگا میں کیا آپتتی (اعتراض) ہے۔ ہم نے اس سے سوال کیا کہ آپ کو خوش کرنے والا جواب دیں، یا حقیقت کی ترجمانی کرنے والا جواب دیں۔

     ہم نے جواب دیا کہ یوگا پر اسٹارٹ تو اینڈ (ابتداء سے انتہا) ہمیں آپتتی ہے۔ اس نے کہا یہ تو ایک ایکسرسائز (ورزش) ہے۔ اسے جواب دیا گیا کہ مانتے ہیں یہ ورزش کی ایک شکل ہے، مگر اسے دھارمک روپ آپ لوگوں نے دیا ہے۔ اس نے کہا وہ کیسے؟ اسے جواب دیا گیا آپ دوران یوگا میڈیٹیشن' دھیان (حالتِ استغراق) کے وقت کہتے ہو "اوم" کہو، ہم یہ نہیں کہہ سکتے، ہمارے فیتھ (عقیدے) کا معاملہ ہے۔ آپ سوریہ نمسکار کرواتے ہو، جو کہ ہم نہیں کرسکتے، ہم لوگ اپنے سروں کو صرف ایک ایشور کے آگے جھکاتے ہیں۔ سوریہ نمسکار کے وقت تو ہم مسلمانوں کو سجدہ کرنا بھی حرام ہوتا ہے۔ تو ہم سوریہ کو کیسے نم کرسکتے ہیں؟ یوگا کے اوقات کے وقت ہماری نمازوں کا وقت بھی ہوتا ہے۔ اس طرح کے قابلِ اعتراض معاملات کو باقاعدہ درج کروایا گیا۔ جس کے نتیجے میں جیلر کی جانب سے flexibility پر بات ہوئی۔

     دوسرے روز یوگا کے گروجی نے ہم سے ملاقات کرکے ایک اچھی گفتگو کی۔ ہم نے یوگا اور نماز پر ان سے گفتگو کی، ارکان نماز بتائے گئے۔ انہیں یوگا کے آسَن سے compair کیا گیا۔ ہم نے انہیں بتایا کی ہم لوگ نماز کے ذریعے میڈیٹیشن اور ورزش کے حرکات و سکنات 1400 سوسال سے دن میں پانچ مرتبہ انہیں بلا ناغہ کرتے ہیں۔ وجرآسن جسے یوگا کی مشقوں میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔  یہ آسَن دھیان (Meditation) کے ابتدائی مرحلے کا بھی ایک حصہ ہے۔ ہم نے گروجی کو بتایا کہ ہماری نمازوں کے ارکان میں سے یہ رکن بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں بیٹھ کر اللّٰہ سے لو لگاتے ہیں، دعاؤں کا ورد ہوتا ہے۔

     ہم نے انگلش میں "یوگا و صلاۃ" نامی کتاب اسے available کروائی۔ ماشاء اللّٰہ! اس کے خاطر خواہ اثرات مرتب ہوئے۔ یہاں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کوئی تصویر نہیں گھما رہا ہوں، بلکہ اپنی زندگی کے ایام کی روداد بیان کررہا ہوں۔

     یہ ایک چھوٹی سی روداد آپ کے سامنے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج سے 14 سال پہلے ایک جیلر نے کہا تھا 'یوگا ایک ورزش ہے'۔ آج دوبارہ ویسے ہی جملے نظروں کے سامنے اور کانوں کو سننے مل رہے ہیں۔ یوگا ورزش و Art of living کا نام ہے۔ اللّٰہ ہمیں دین کے سہی فہم و شعور اور مومنانہ فراست سے نوازے۔

     اپنی تاویلات کو پیش کرنے والوں کو یوگا کی تاریخ، اس کی غرض و غایت، اس کے حرکات و سکنات، اس کے آسن، اس کی مشقوں کو انجام دیتے وقت کے کلمات کا عرق ریزی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ بات صاف طور پر واضح ہو جائے گی۔

     استغراق (meditation) کے لئے کیا عوامل درکار ہیں؟ اس پر بھی غور و خوض کرنا چاہیے۔ استغراق بذات خود بہت اچھی چیز ہے، لیکن اس وقت جب وہ شریعت کے تابع ہو، ورنہ بہت سی ضلالتیں اور گمراہیاں یہیں سے وجود میں آتی ہیں۔ اس کے بعد فیصلہ کرنا چاہئے کہ یوگا عبادت کا نام ہے یا ورزش کا نام ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں یوگا ذہنی و جسمانی صحت کا نام یوگا ہے۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ یوگا انسان اور ایشور کی روح کے اتحاد کا نام ہے۔

     آتما، پرمآتما اور جسم کے ملن کو بھی یوگا سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ واضح اور صاف جھوٹ ہے کہ یوگا ورزش کا ہی حصّہ ہے۔ یوگا کے ضمن میں ان کی مذہبی کتابوں کے منتروں اور اشلوک کا مطالعہ کریں تو سمجھ میں آتا ہے کہ یوگا صرف ورزش نہیں بلکہ ایک خاص عبادت کا نام ہے۔

     سمادھی' یعنی روح اور جسم کی ہم آہنگی کی ایک حیرت انگیز شکل۔ سمادھی' یوگا کی مکمل حالت کا مظہر ہے۔ زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے ایک دوہے سے ہی اسے سمجھتے ہیں۔ ہندی کے شاعر کبیر اس حالت کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں: 'جب جب ڈولوں تب تب پری کرما، جو جو کروں سو سو پوجا'۔ (یعنی جب جب ہلوں تب تب طواف اور جو جو کروں وہ سب عبادت)۔ اب یہاں پر کس کی پری کرما اور کس کی پوجا، یہ سمجھنا ہوگا؟

     اللّٰہ کے رسولﷺ نے واضح طور پر فرمایا کہ: کوئی بھی سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرے، اس لئے کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔

     طلوعِ شمس سے لے کر سورج ایک نیزہ بلند ہونے تک، نصف النہار سے پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد تک، عصر کے بعد سورج زرد پڑ جانے کے بعد سے لے کر سورج غروب ہو جانے تک سجدہ کرنا ممنوعہ قرار دیا گیا ہے۔ مذکورہ ممنوعہ اوقاتِ نماز کی وجہ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ ہے کہ مشرکین و مجوس ان اوقات میں آفتاب کی پرستش کرتے تھے اور اس کو سجدہ کرتے تھے، چنانچہ ان کی مشابہت سے بچنے کے لیے اس سے منع کیا گیا۔

     کہیں ہم غیر شعوری طور پر امت کو ورزش کا نام دے کر شرک کرنے پر مجبور تو نہیں کررہے ہیں۔ ہمیں کسی بھی مذہب کو ہدف نہیں بناتے مگر کوئی ہمارے ایمان و عقیدے کو داؤ پر لگائے تو صبر کا پیمانہ چھلک اٹھتا ہے۔ یوگا کی مشقوں کے ذریعے اگر ذہنی و جسمانی صحتمندی اور ورزش کے عمل کروانا مقصود ہیں، تو یہ ساری چیزیں بدرجہ اولیٰ ہمارے پاس نماز و ذکر میں موجود ہیں۔ آخر کیوں اتنا زور دے کر کوئی چیز کو دوسروں پر بھی لاگو کیا جارہا ہے۔

     اہل ایمان اور باطل پرستوں میں توحید اور شرک کا ہی فرق ہے!!! عصرِ حاضر کا المیہ یہ ہوگیا ہے توحید پرستوں کو شرک سمجھانا پڑھ رہا ہے۔ ہمیں بتائیں کہ کیا عاجزی سے ہاتھ جوڑ کر سوریہ دیوتا کو سوریہ نمسکار کے آسن کا نام دیتے ہوئے سجدہ ریز ہونا شرک نہیں؟؟ شاید یہ بات ہم ناقص العقلی اور ناقص المطالعے کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں، اگر کوئی قرآن و حدیث کی بنیادوں پر اس سوچ و فکر کو غلط ثابت کرتا ہے، تو واقعی دلائل و جواز پیش کریں۔ ہم اپنی اصلاح ضرور کریں گے۔ مگر خدارا! دین و ایمان اور عقیدے کو رسوا نہ کریں۔ اگر یہ بھی فناء ہو جائے تو زندگی میں بچتا کیا ہے۔ اللّٰہ سے دعا ہے کہ شرک سے ہماری حفاظت فرمائے اور جب بھی موت آئے ایمان کی حالت میں موت آئے۔ (آمین)
           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
      Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══ •••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam