Baraan e Rahemat aur Masala e

بارانِ رحمت اور مسئلہ آب
      
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
             بارانِ رحمت اور مسئلہ آب
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040

     يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا. (هود: 52)
    (وہ تم پر مُوسلادھار بارِش بھیجے گا۔)

     چار سوں نظریں دوڑائیں تو مون سون کے خوشگوار موسم نے اپنی مُوسلادھار برساتی بوندوں کے ذریعے اپنے گہرے قدم ممبئی و اطراف کے علاقوں میں جمائے ہیں۔ شدید بارش سے ممبئی، تھانہ اور کوکن کے بڑے حصّے متاثر ہوئے ہیں۔ موسم باراں (یعنی بارش کے موسم) کو اللّٰہ کی رحمت کہا جاتا ہے۔ لیکن عصر حاضر میں یہی برسات کا خوش نما و خوبصورت موسم رحمت کی بجائے زحمت بنتا جارہا ہے۔ طوفانی بارش یا  monsoon fury کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر شہری علاقے ہی ہوتے ہیں۔ ہم اچھی طرح سے واقف ہیں کہ زندگی کا وجود روشنی، پانی اور ہوا کے بنا محال ہے۔ پانی کا ایک اہم ذریعہ بارش ہے، لیکن کبھی کبھی یہی ساون رُت کسی بڑے نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہے۔

     بارش کا موسم کتنا حسین خوشگوار، دلکش اور سُہانا ہوتا ہے ہر طرف لہراتا ہوا سبزہ آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتا ہے۔ بارانِ رحمت اللّٰہ کی جانب سے مخلوق کے لیے انعام ہے۔ کتاب اللّٰہ میں بارش کا کئی جگہ ذکر ملتا ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے یہ بارش ہی ہے جس سے مردہ زمین جی اُٹھتی ہے اور انواع و اقسام کے پھلوں سے انسانوں کی جھولی بھر دیتی ہے، لیکن رحمتوں بھری اس بارش کو ہم نے اپنے اعمال اور ناقص منصوبہ بندی سے زحمت بنا دیا ہے۔

اللّٰہ ربّ العزت کا سورۃ البقرہ میں فرمان ہے:

أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَّرَعْدٌ وَّبَرْقٌ.
(یا اُن کی مثال بادل سے برسنے والی بارش کی سی ہے، جس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (بھی) ہے۔)

سورۂ نور میں اللّٰہ ربّ العزّت نے فرمایا:

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا مِن بَرَدٍ.
(کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللّٰہ ہی بادل کو (پہلے) آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر اُس (کے مختلف ٹکڑوں) کو آپس میں ملا دیتا ہے، پھر اُسے تہ بہ تہ بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اُس کے درمیان خالی جگہوں سے بارش نکل کر برستی ہے۔ اور وہ اُسی فضا سے برفانی پہاڑوں کی طرح (دِکھائی دینے والے) بادلوں میں سے اولے برساتا ہے۔) (النور : 43)

آگے اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَأَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِم مِّدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْأَنْهَارَ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمْ. (انعام: 6)
(اور ہم نے اُن پر لگاتار برسنے والی بارِش بھیجی اور ہم نے اُن (کے مکانات و محلّات) کے نیچے سے نہریں بہائیں۔)

اللّٰہ نے کئی جگہ بارانِ رحمت کا ذکر کیا ہے، آخر میں قرآن کی ایک آیت پیش کرتا ہوں۔

يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا. (هود: 52)
(وہ تم پر مُوسلادھار بارِش بھیجے گا۔)

     مُوسلادھار بارِش کے نتیجے میں ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا ہے، لیکن وہیں ایسے علاقے ہوتے ہیں جہاں لوگ پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس جاتے ہیں۔

ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر
وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے

   بارش کا پانی سڑکوں پر بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے اور ہم اس پانی کو محفوظ اور ذخیرہ کرنے کا کوئی بندوبست بھی نہیں کر پاتے۔

     بارش نہ ہونے کی صورت میں مساجد یا کھلی جگہ پر نمازِ استسقاء ادا کی جاتی ہیں، اللّٰہ کے حضور عاجزی و انکساری کے ساتھ کثرت سے گڑگڑا کر دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ لیکن یہی بارانِ رحمت جب مون سون میں حد سے گزرنے لگتی ہیں تو بارش کے تھمنے کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ کہیں سوکھے کے نتیجے میں آسمان کو حسرت و یاس کے ساتھ تکنے والی نگاہیں، کہیں سیلاب سے پریشان حال نگاہیں۔

     شہر کی اہم شاہرائیں اور علاقے نہر و جھیلوں اور تالابوں کا منظر یاد دلاتے ہیں۔ آمد و رفت کے تمام ذرائع مثلاً لوکل ٹرین، بسیں، ٹیکسی، رکشا غرض یہ کہ تمام ذرائع نقل و حمل تھم سے جاتے ہیں، کہیں کوئی حرکت نہیں۔ سارا شہری انتظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ مُوسلادھار شدید بارش کی وجہ سے جگہ جگہ تعفن زدہ گندگی کا ڈھیر جس کی وجہ سے کوئی بھی وباء پھوٹنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ شہری علاقوں کی بجلیوں کو منقطع کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے شہری علاقوں کا بڑا حصّہ مفلوج ہو جاتا ہے۔ ہر سال ایک بڑا نقصان حکومت و انتظامیہ کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    اس تباہی و بربادی کی سب سے اہم وجہ ہمارا ناقص بلدیاتی نظام (local government system) ہوتا ہے۔ ہمارے علاقوں میں بیش تر تباہ کاری قدرتی آفات کی وجہ سے کم اور ناقص منصوبہ بندی سے زیادہ ہوتی ہیں۔ اسی نااہل بلدیاتی نظام کی ناقص منصوبہ بندی کے نتیجے میں شہر کا بیش تر حصّہ پانی میں ڈوب جاتا ہے۔

     محکمۂ موسمیات اور متعلقہ انتظامیہ اداروں کی شدید مُوسلادھار بارش کی پیشنگوئی کے خدشات و اعلانات کے بعد بھی حکومتی و بلدیاتی سطح پر صرف پیچ ورک کا ہی کام ہوتا ہے۔ تھوڑی سی بارش رحمت کی بجائے زحمت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

     بارانِ رحمت کی ابتداء بھی نہیں ہوتی ہے اور دوسری جانب ساون رُت قدرتی آفات کے مناظر بکھیرتی نظر آنے لگتی ہے۔ ہنگامی حالات اور سیلابی خطرے کا "ریڈ الرٹ" کا اعلان کرکے کچھ روٹین ورک کرواکے اس اہم ذمّہ داری سے رخصت کی راہیں ڈھونڈی جاتی ہیں۔ انتظامیہ کے ندی نالوں کی صفائی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ شہر کا ناقص اور تباہ حال بلدیاتی ڈھانچہ معمول سے زیادہ کی بارش کو برداشت بھی نہیں کرسکتا۔

     بارش کے نتیجے میں کروڑوں کیوسک پانی، قدرت ہمیں وافر مقدار میں فراہم کرتی ہے۔ لیکن ہمارے سیاسی، انتظامی اور بلدیاتی ادارے بحیثیتِ قوم نفاق اور تفریق کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بارش اتنی مقدار میں ہوتی ہے کہ اگر واقعی اس کے پانی کو بہترین پلاننگ کے ساتھ محفوظ کیا جائے تو پانی کی قلّت کے مسائل کو بہت جلد حل کیا جاسکتا ہے۔

     اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ برساتی پانی کی نکاسی کے لیے فطری ندی نالوں کے بارے میں صحیح منصوبہ بندی کی جائے۔ شہر میں تمام ڈسپوزل، پمپنگ اور لفٹنگ سٹیشنز کو مکمل طور پر فعال کرکے ماک ایکسرسائز کے ذریعے ہمیشہ تیار رکھا جائے۔

     وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ مشترکہ اور مربوط طور پر سیلاب طغیانی سے محفوظ رہنے کے اقدامات کریں، لیکن اکثر و بیشتر دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ مستقل بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کے بجائے ہنگامی اور نمائشی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اس تباہی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وفاق، صوبے اور بلدیات میں حکمراں جماعتیں اور افسر شاہی کی صرف بجٹ پر نظر رہتی ہے اور ساری سیاسی کش مکش کا مرکز و محور حکومتی فنڈ کی بندر بانٹ پر رہتی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات اور فنڈز کی تقسیم کا جھگڑا بہت پرانا ہے، جس سے عام عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

     مَدّ و جَزَر یا جوار بھاٹا (tide and ebb) یعنی چاند و سورج کی ثقلی قوّتوں اور زمین کی گردش کے مجموعی اثرات کی وجہ سے سمندری سطح کا اُتار چڑھاؤ کے باعث شہر کا پانی سمندر میں ضم نہیں ہوپاتا۔ آج بھی انگریزوں کے بنائے گئے میٹھی ندی سے ہوتے ہوئے شہر کے پانیوں کی نکاسی کا وہی ایک پرانا نظام زندہ ہے۔ جب کہ بڑھتی ہوئی بے ہنگم آبادی شہر اور شہر کے اطراف کے علاقوں کو کنکریکٹ کا بھیانک چنگل بنانے کی مہم میں کوشاں ہیں۔ اس کو کنکریکٹ کا جنگل بناتے ہوئے اس کے نکاسیٔ آب کے تمام ذریعوں پر ناجائز تجاوزات قائم کردی گئی ہیں۔

     پانی کے قدرتی نکاسیٔ آب کے ذرائع جو کہ ندی نالے ہوسکتے ہیں ان پر قانونی طور پر تعمیرات غیر قانونی ہیں۔ ساحلی علاقوں اور ڈیمس کے قریبی علاقوں پر کنسٹرکشن مافیا کا قبضہ ہونے کی وجہ سے پانی کی نکاسی یا ان علاقوں کی حفاظت کے سارے دروازے بند کردئیے گئے ہیں۔ اس دوران اگر کوئی اربن فلڈ کی صورتحال بنتی ہے، تو ہمیں نقصان کا خدشہ ہے کیونکہ نکاسیٔ آب کے تقریباً تمام ہی ذرائع ختم ہوچکے ہیں۔

      دیہی اور شہری علاقوں میں بستیوں کی تعمیر کرتے وقت برساتی پانی کے قدرتی نکاسی کے نظام کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ برسات کا یہ پانی ایک کثیر تعداد میں ضائع ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہر بڑے بڑے شہروں میں بارانِ رحمت' رحمت کی بجائے بارانِ زحمت بن جاتی ہے۔

     بہت سی ساحلی بستیوں کی طرح، ممبئی پانی سے تراشی گئی زمین پر کھڑا ہے۔ 18ویں اور 19ویں صدیوں میں برطانوی نو آبادیات نے چھوٹے چھوٹے جزیروں پر پہاڑیوں کو ہموار کیا، جسے اب دریائے میٹھی کا راستہ کہا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ملبے کو ہندوستان کے شمال مغربی ساحل پر ایک تنگ جزیرہ نما میں شامل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

      موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ طوفانی بارشوں کے تناسب میں اضافے کا ایک سبب موسمیاتی تبدیلی بھی ہے۔ شدید بارشوں کے باعث سمندروں و دریائوں میں پانی کی سطح میں اضافہ بھی آنے والے خطرات کا پیش خیمہ ہے۔ پانی کی سطح میں اضافہ کے پیش نظر ممبئی شہر دھیرے دھیرے سمندر کی گود میں جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ کچھ سالوں کے بعد ممبئی شہر کا ایک بڑا حصّہ شاید سمندر میں ضم ہو جائے۔

     آہستہ آہستہ موسمیاتی تبدیلی ہماری دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے۔ علمِ موسمیات (meteorology) کے ماہرین نے متنبہ بھی کیا ہے کہ شہر کا جنوبی سرے کا ایک بڑا حصّہ کچھ سالوں بعد پانی کے اندر ہوگا۔ سطح سمندر میں اضافے، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا سامنا کوئی نئی بات نہیں رہی۔ لیکن اس جانب منصوبہ بندی نہ ہوئی تو ایک بڑی تباہی ہمارا مقدر ہوگی۔

     ماہرین کے ایک اندازے کے مطابق اگر سمندروں کا بڑھنا بند نہ ہوا تو ممبئی، نوی ممبئی 2030 تک سمندر کی سطح سے نیچے ہو سکتے ہیں۔ ممبئی میں، تقریباً 998 عمارتیں اور 24 کلومیٹر سڑک کی لمبائی سمندر کی سطح میں ممکنہ اضافے سے متاثر ہوگی، اور تقریباً 2,490 عمارتیں اور 126 کلومیٹر سڑک کی لمبائی اونچی لہر کے دوران سطح سمندر کے ممکنہ اضافے سے متاثر ہوگی۔ جس کا نمونہ ہمیں ابھی سے نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔

     چند دہائیاں قبل تک ملک میں فی کس کے لئے پانچ ہزار کیوبک میٹر پانی دستیاب رہتا تھا۔ اب یہ شرح گھٹ کر 1486 کیوبک میٹر فی کس ہوگئی ہے۔ سال 2031ء تک یہ شرح مزید کم ہوکر فی کس 1367 کیوبک میٹر ہوجائے گی۔ نہ صرف پانی کی مقدار گھٹ رہی ہے، بلکہ اس کا معیار بھی متاثر ہورہا ہے۔

     ایک اندازے کے مطابق ملک میں زمینی پانی کی سطح سنہ 2007 اور سنہ 2017 کے درمیان 61 فیصد تک گِری ہے۔ ملک میں دُنیا کی مجموعی آبادی کا 18 فیصد حصّہ بستا ہے۔ دُنیا میں موجود مویشیوں کا بھی 18 فیصد حصّہ موجود ہے۔ لیکن یہاں دُنیا میں پائے جانے والے پینے کے پانی کے وسائل کا محض 4 فیصد موجود ہیں۔ پانی کے بالائے زمین وسائل کی تباہی اور زیر زمین پانی کے غلط استعمال کے نتیجے میں یہاں ہر گزرنے والے سال کے ساتھ پانی کی قلت شدید ہوتی جارہی ہے۔ آپ کو اس بات کا علم ہوگا کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا زیرِ زمین پانی نکالنے والا ملک ہے۔

     انڈیا میں سالانہ تقریباً چار کروڑ ہیکٹر میٹر بارش ہوتی ہے، لیکن زمینی پانی کا تقریبا 70 فیصد آلودگی کی وجہ سے انسانی استعمال کے قابل نہیں رہتا ہے۔ پانی کے معیار کے انڈیکس میں انڈیا 122 ممالک میں 120ویں نمبر پر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے پاس ہر سال دو لاکھ لوگ صرف پانی کی کمی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔

     گلوبل وارمنگ یا موسمیاتی تغیر کے باعث بارشوں میں اضافے اور سیلاب کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ "ہیٹ ویو" بھی "گلوبل وارمنگ" کا شاخسانہ ہے۔ اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔

انسانی زندگی کو پانی مہیا کروانے کے ذرائع:

     انسانی زندگی کو پانی مہیا کروانے کے کئی ذرائع ہیں، جو دنیا میں مختلف موقع محل کے تحت کام میں لائے جاتے ہیں۔ ان میں ابھرے ہوئے ذرائع ڈیم، کنویں، رین واٹر ہارویسٹنگ، پٹ، اسٹیپ ویلز، ڈی سیلی نیشن، جیو تھرمل سیسٹم

ڈیم:

      ڈیم کو پانی محفوظ کرنے کا کارگر و مؤثر سسٹم سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً 48 ہزار بڑے آپریشنل ڈیمز پوری دنیا میں موجود ہیں۔ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی، زراعت، توانائی کے حصول اور سیلاب سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے آج بھی مزید ڈیموں کی تعمیر ضروری ہے۔

      ملک کی عوام اور تمام ادارے انتہائی مہنگے داموں میں بجلی کا بل ادا کرتے ہیں۔ بجلی کا مسئلہ مزید کشیدگیوں کا باعث بنے گا۔ بجلی کی مزید پیداوار کے لئے ہمیں نئے ڈیموں کی تعمیر کرنی ہوگی، آج واقعی ہمیں بہت سے ڈیموں کی ضرورت ہے، اگر یہ کام ہم نہ کرسکے تو ہماری اولادوں کا کیا مستقبل کیا ہوگا اس پر بھی ہمیں سوچنا ہوگا! ورنہ یہ نئ نسلیں صرف ہمارا مرثیہ ہی پڑھتی رہیں گی۔ اگر ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی تباہی کی تقدیر نہ لکھیں تو ساون رُت کبھی بھی زحمت نہیں بن سکتی۔ دنیا میں سستی ترین بجلی پانی سے ہی پیدا کی جاتی ہے اگر ہم نے پانی کو ذخیرہ کرنے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہوتا اور کے لئے کوئی ٹھوس پلاننگ کی ہوتی تو آج توانائی کا بحران بھگتنا نہ پڑتا۔

رین واٹر ہارویسٹنگ:

     بارش کے پانی کو کچھ خاص طریقوں سے اکٹھا کرنے کے عمل کو رین واٹر ہارویسٹنگ کہتے ہیں۔ اس کی مدد سے زمین کے نیچے کے پانی کی سطح بڑھ جاتی ہے۔

پٹ:

     پٹ یعنی گڈھے کھدوانے کے بعد اس میں نیچے کی طرف فلٹر میڈیا لگوایا جاتا ہے۔ یہ اینٹ، چارکول یا ایکٹی ویٹڈ کاربن اور ریت سے مل کر بنتا ہے۔

اسٹیپ ویلز:

     ہندوستان میں باؤڑی یا باؤلیوں (سٹیپ ویلز) کی قدیم ٹیکنالوجی کا استعمال تھا۔ جس کے خاطر خواہ فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ خندقوں کی طرح کھودے گئے تھے لیکن پھر گیارھویں صدی سے پندرھویں صدی کے درمیان ترقی کرتے ہوئے یہ آہستہ آہستہ تعمیراتی انجینیئرنگ کے شاندار نمونے بن گئے۔ شاید اسٹیپ ویلز کا یہ قدیم نظام بھی موجودہ دور میں پانی کے بحران کے حل کا ذریعہ بن جائے۔

     اسی نوعیت کی باؤڑی دہلی میں 14 ویں صدی کی حضرت نظام الدین درگاہ کے احاطے میں موجود ہے۔ تاریخی شہر اورنگ آباد کے اطراف و اکناف میں آج بھی اس قسم کی باؤڑیاں زندہ ہیں۔ باؤلیوں کی بحالی شاید انڈیا کے پانی کے بحران کو حل نہ کرسکے، لیکن یہ مقامی سطی پر پانی کی قلت کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ڈی سیلی نیشن:

     ڈی سیلی نیشن ایسا طریقہ ہے جس میں کھارے پانی سے نمک اور دیگر معدنی اجزا کو نکال کر اسے پینے اور انسانی استعمال کے قابل بنا یا جاتا ہے۔ اس طریقۂ کار کو سیم لگی زرعی زمین سے نمک نکال کر اسے قابل کاشت بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ طریقۂ کار انسانی استعمال کے لیے تازہ پانی کے حصول کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ میٹھے پانی کے حصول کے دیگر طریقوں کی نسبت یہ تھوڑا منہگا طریقہ ہے۔ سعودی عرب اس طریقے پر عمل کر کے میٹھا پانی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔

جیو تھرمل توانائی سے پانی کا حصول:

     یونان اپنے جزیرے میں زمین کے اندر آتش فشانی چٹانوں سے نکلنے والی حرارت کو پانی میں تبدیل کر رہا ہے۔ اس طریقۂ کار کے تحت گرم پانی کو زیر زمین نصب پائپوں سے گزارا جاتا ہے اور گرم پانی سے نکلنے والی بھاپ دیواروں پر موجود چھوٹے سوراخوں سے ایک جگہ جمع ہوکر صاف پانی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ بعد ازاں اس پانی کو جمع کرکے پینے اور زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ طریقہ ہمارے ملک کے کارآمد ثابت نہ ہو پائے گا کیونکہ ہمارے پاس آتش فشانی چٹانوں کا سلسلہ موجود نہیں ہے۔

سورہ الحجر میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً.
(اور ہم ہواؤں کو بادلوں کا بوجھ اُٹھائے ہوئے بھیجتے ہیں، پھر ہم بادلوں سے پانی اُتارتے ہیں۔) (الحجر: 22)

     حقیقت تو یہی ہے کہ ابر رحمت تو ربّ کی رحمت سے برستے ہیں، جس کے نتیجے میں پیاسی زمین سیراب ہوتی ہے، ہر طرف سرسبز و شاداب کردینے والے مناظر نظر کو خیرہ کر دیتے ہیں۔ لیکن انسانوں کی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث بارش سے ہونے والی تباہی و بربادی کی خبریں پڑھ کر بعض اوقات دل دہل سا جاتا ہے، شدید بارش سے نمٹنے کے لیے کوئی پلاننگ نہ ہونے کے سبب صورتحال ہر برس انتہائی گمبھیر ہو جاتی ہے۔ معیشت کو وسیع پیمانے پر نقصان ہوتا ہے۔ بارش کے نتیجے میں ہونیوالے جانی و مالی نقصان کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے کارآمد منصوبہ بندی اور ایک ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ ورنہ موسمیاتی تغیرات سے بچنا مشکل سے مشکل ہوتا جائے گا۔

     قدرت یہ نہیں دیکھتی کہ کس کا کھیت سرسبز و شاداب ہے اور کس کا کھیت بنجر ہے؟ کہاں سیوریج کا نظام بہتر ہے اور کہاں خراب؟ کہاں یہ بارش رحمت بنے گی اور کہاں زحمت؟ بارش اہل زر کے محلات پر بھی برستی ہے اور غریب کی کُٹیا پر بھی۔ برستے وقت کسے محروم نہیں کرتی، سب پر یکساں نظر عنایت کرتے ہوئے برستی ہے۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اس بارش کو اپنے لئے رحمت بنائیں یا زحمت!!!

                     (08.07.2022)
           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
      Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══ •••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○


Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam