Paidal safar e Hajj
پَیدَل سَفَر حَجّ
┄┅════❁﷽❁════┅┄
╗═════•❁ا۩۩ا❁•═════╔
پَیدَل سَفَر حَجّ
╝═════•○ ا۩۩ا ○•═════╚
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
2 جون 2022ء کیرالہ سے اپنے پَیدَل سَفَر حَجّ کا آغاز کرنے والے بلند عزائم، مضبوط ارادوں اور پختہ حوصلوں کے مالک 30 سالہ شہاب چوٹور جنہوں نے اپنے قلیل زاد سفر کے ساتھ ایک طویل سفر رخت سفر باندھا۔ روزانہ 25 کلومیٹر کا سفر تقریباً 280 دنوں میں 8640 کلومیٹر کا ہدف پورا کرکے 2023ء میں اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ جائیں گے۔ ان شاء اللّٰہ
ہر مقام پر لوگوں کا ایک جم غفیر ان کا پرتپاک استقبال کررہا ہے، دعاؤں کے نذرانے پیش کئے جارہے ہیں۔ واقعی یہ روح پرور مناظر نگاہوں کے سامنے گھوم رہے ہیں۔ میں نے بھی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا واقعی ایک عجیب سی کیفیت طاری ہورہی ہے، جذبات و احساسات بار بار مجبور کر رہے تھے کہ میں بھی برادر شہاب کا اس متبرک سفر کا ساتھی بن جاؤں۔ مگر کچھ ذاتی مسائل کی بنیاد پر اپنے آپ کو روکے رکھا۔
بہرحال یہ روداد آپ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج جب میں نے سمیع اللّٰہ خان صاحب کا ایک بہترین مضمون ارسال کیا تو کچھ رفقاء کی پوسٹ نے مجبور کیا کہ اس موضوع پر کچھ اظہارِ خیال کیا جائے۔
لوگوں نے ان کے اس پَیدَل سَفَر حَجّ کی نیت کو ٹارگیٹ بنا کر یہ الزام لگایا کے یہ ریا کاری کا شائبہ ہے۔ کچھ نہ کہا اسلام میں اس طرح سے حج کے کوئی احکام ہی نہیں ہیں۔ مختلف لوگوں نے مختلف قسم کی باتیں کیں۔ اور اب یہ سلسلہ مزید کشیدگیوں کا باعث بنتا جارہا ہے۔
دلوں کا حال تو اللّٰہ ہی بہتر جانتا ہے۔ وہ تو بندہ اور رب کا معاملہ ہے، مگر ہم ہیں کہ زبان کے ذریعے کسی کی دل آزاری کا غلط استعمال کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ ہمیں کوئی فرق نہیں پڑھتا کہ اس بندۂ خدا کے دل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
نبی کریمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ: "جو شخص حج کا ارادہ کرے تو وہ عجلت کا مظاہرہ کرے۔" (ابوداؤد: 1734)
ایک جگہ ارشاد نبوی ہے: "حج میں عجلت کرو، کیوں کہ پتہ نہیں کونسی حاجت درپیش ہوجائے۔" (کنز العمال: 11888)
روایت میں ہے کہ: جو شخص حج کا ارادہ کرے تو بجلد حج کی ادائیگی کر ے؛ کیوں کہ کبھی اس کو کوئی مرض لاحق ہوسکتا ہے، اس کی کوئی چیز گم ہوسکتی ہے یا اس کو کوئی حاجت درپیش ہوسکتی ہے۔ (السنن لکبری للبیقی، حدیث: 8478)
ان احادیث کی روشنی میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے جب بھی حج کی سعادتوں کی ادائیگی کا خیال جائے اگر اس وقت ہی سفر حج کا رخت سفر باندھا جائے، نیکیوں کے اس سفر کو شروع کرنے کے نتیجے میں نیتوں کے طفیل اللّٰہ ربّ العزّت اجر عطا فرمائیں گے۔ اس بات کا احساس بھی ہے کہ عصر حاضر میں ملکی سرحدی حد بندیاں راہ کا روڑا بن سکتی ہیں، مگر ہمارا عقیدہ بھی کہ مسبب الاسباب اللّٰہ کی ذات ہے، وہی ہمارا کارساز و مددگار ہے، وہ کوئی نہ کوئی راہ ضرور نکال لے گا۔
آج کے دور میں سفر حج، آسانیوں اور آرائشوں کے نتیجہ میں اتنا مہنگا ہوتا جارہا ہے کہ شاید آنے والے دنوں میں اس عظیم سعادت سے بہرہ ور ہونے کے لئے لوگ بحالت مجبوری یہی پَیدَل سَفَر حَجّ کا طریقہ اختیار کریں۔
موجودہ دور میں سفر حج اتنا مہنگا ہوگیا ہے کہ غریب طبقے کے لئے اس کی ادائیگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ ان حالات میں شاید شہاب چوٹور کا پَیدَل سَفَر حَجّ مستحسن اقدام لوگوں کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔
قرآن مجید میں سورۃ الحج آیت نمبر 27 میں اللّٰہ ربّ العالمین فرماتے ہیں:
"وَاَذِّنۡ فِى النَّاسِ بِالۡحَجِّ يَاۡتُوۡكَ رِجَالًا وَّعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ يَّاۡتِيۡنَ مِنۡ كُلِّ فَجٍّ عَمِيۡقٍ ۔"
(اور لوگوں کو حج کے لیے اِذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دُور دراز مقام سے پیدل اور اُونٹوں پر سوار آئیں۔)
اب ذرا حج کے لغوی معنی کا مطالعہ کریں، حج کے لغوی معنٰی "کسی عظیم الشان چیز کی طرف قصد کرنے کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں مخصوص زمانے میں مخصوص فعل سے مخصوص مقام کی زیارت کرنے کو حج کہتے ہیں۔ اصطلاحِ شریعت میں مخصوص اوقات میں خاص طریقوں سے ضروری عبادات اور مناسک کی بجاآوری کے لئے بیت اللّٰہ کا قصد کرنا، کعبہ اللّٰہ کا طواف کرنا اور میدانِ عرفات میں ٹھہرنا "حج" کہلاتا ہے۔ امام ابن ہمامؒ فرماتے ہیں، حج ان خاص افعال کا نام ہے جو حج کی نیت سے احرام باندھنے کے بعد ادا کئے جاتے ہیں اور وہ افعال فرض طواف اور وقوفِ عرفات ہیں جن کو ان مقررہ وقتوں میں ادا کرتے ہیں۔
اس سے زیادہ بدنصیبی کیا ہوگی کہ انسان اِسْتِطاعَت رکھنے کے بعد بھی حج سے محروم رہے۔ استطاعت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے طاقت، ہمت، دسترس یا مالی حیثیت، شریعت کی اصطلاح میں استطاعت سے مراد حج کی سعادت حاصل کرنے کے وسائل ہیں۔ حضرت آدمؑ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے سینکڑوں مرتبہ پیدل چل کر ہی زیارت کی۔
"اخرج ابن خزیمۃ وابوالشیخ فی العظمۃ والدیلمی عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ان ادم اتی ہذا البیت الف اتیۃ لم یرکب قط فیہن من الہند علی رجلیہ۔"
(ابن عباسؓ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آدمؑ نے بیت اللّٰہ شریف کا ملک ہند سے ایک ہزار مرتبہ پیدل چل کر حج کیا۔ ان حجوں میں آپ کبھی سواری پر سوار ہوکر نہیں گئے۔)
ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عبداللّٰہ بن عباسؓ شدید بیمار ہوگئے، انہوں نے اپنی اولاد کو بلایا اور ان سب کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے رسولِ کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: جو مکہ سے پیدل حج کرے یہاں تک کہ مکہ واپس لوٹ جائے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے لیے ہر قدم پر سات سو نیکیاں لکھتے ہیں، اور ہر نیکی حرم کی نیکیوں کے برابر ہے۔ کہا گیا: حرم کی نیکیاں کیا ہیں؟ فرمایا: ہر ایک نیکی کے بدلہ ایک لاکھ نیکی ہے۔ (گویا ہر قدم پر سات کروڑ نیکیاں ہیں)
نیز حضرت ابن عباسؓ پیدل حج نہ کرنے پر بہت افسوس کا اظہار بھی کرتے تھے، اس کے علاوہ متعدد صحابۂ کرامؓ سےاس طرح پیدل حج کرنا منقول ہے، لہذا اگر کوئی عذر نہ ہو، استطاعت ہو، اور پیدل سفر سے حج کے باقی مناسک متاثر نہ ہوں تو مکہ مکرمہ پہنچ کر یہ فضیلت حاصل کرنی چاہیے۔
میرا ناقص مطالعہ نظروں کے سامنے پیدل سفر حج کے ضمن میں مزید جواز پیش کرتا ہے۔ اگر میں غلط ہوں تو اللّٰہ تعالیٰ مجھے معاف کرے اور میری اصلاح فرمائے۔
مکہ معظمہ سے تین دن سے کم کی راہ والوں کے لیے سواری شرط نہیں، اگر پیدل چل سکتے ہوں تو ان پر حج فرض ہے، اگرچہ سواری پر قادر نہ ہوں اور اگر پید ل نہ چل سکیں تو اُن کے لیے بھی سواری پر قدرت شرط ہے۔ (عالمگیری، ردالمحتار)
میقات سے باہر کا رہنے والا جب میقات تک پہنچ جائے اور پیدل چل سکتا ہو تو سواری اُس کے لیے شرط نہیں۔ (منسک، ردالمحتار)
پیدل کی طاقت ہو تو پیدل حج کرنا افضل ہے۔ حدیث میں ہے: ''جو پیدل حج کرے، اُس کے لیے ہر قدم پر سات سو ۷۰۰ نیکیاں ہیں۔'' (ردالمحتار)
فقیر نے پیدل حج کیا پھر مالدار ہوگیا تو اُس پر دوسرا حج فرض نہیں۔ (عالمگیری)
رسول اللّٰہﷺ نے باوجود فضیلت اور ثواب بیان کرنے کے خود سواری پر بیٹھ کر اس لیے حج ادا کیا کہ تمام لوگ آپﷺ سے حج کے مناسک سیکھ لیں، اور آپﷺ کا عمل دیکھ کر آپﷺ کی اقتدا کریں، اس لیے آپﷺ کے حق میں یہی افضل تھا۔
آج کے تیز رفتار سفری سہولیات کے دور میں بھی بعض لوگ محض محبت اور عقیدت میں طویل سفر طے کرکے پیدل حج کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اسلام میں پیدل حج پر جانا جائز ہے بشرط یہ کہ شہرت اور نمود نمائش مقصود نہ ہو۔
دراصل ہمارے پاس اس معاملے کو ایک عجیب نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے، جب کہ دنیا میں آج بھی کئی ممالک سے لوگ استطاعت کے مطابق پیدل یا سائیکل وغیرہ کے ذریعے اس فریضہ کو انجام دیتے ہیں۔
برطانیہ میں 25 سال سے مقیم ایک عراقی نژاد آدم محمد بھی ایک ایسے ہی حاجی ہیں جنہیں ساڑھے چھ ہزار کلومیٹر طویل سفر میں تقریباً 11 ماہ لگے۔ آدم محمد نے بتایا کہ ’میں تقریبا 25 سال سے برطانیہ میں مقیم ہوں، کرونا کی وبا کی وجہ سے کرفیو لگنے کے بعد میں قرآن پڑھنے اور سمجھنے میں مشغول ہوگیا اور قرآن کے ڈیڑھ سال کے گہرے مطالعے کے بعد میں ایک دن نیند سے بیدار ہوا تو دل میں ایسی آواز آئی گویا کوئی کہہ رہا ہو کہ تم پیدل مکہ شریف حج کے لیے چلو۔‘
ایسے کئی واقعات ہیں، جنہیں فلحال تو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ خیر اللّٰہ تعالیٰ سے دعاءگو ہوں کہ شہاب بھائی کے اس پَیدَل سَفَر حَجّ کو آسان بنائے اور جلد از جلد انہیں ان کی منزل مقصود پر پہنچائے۔ ان کے ہونے والے فریضہ حج کو شرفِ قبولیت بخشے اور اس حج کو حج مبرور (حج مقبول) بنائے۔ (آمین)
(23.07.2022)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment