پَرْچَم

 •پَرْچَم•

        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
                          •پَرْچَم•
     اِفْراطِ غَم سے رُوح کا پَرْچَم جُھکا ہوا
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════

      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁

     حضرت عبدُاللّٰہ ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں، حضور نبیِّ کریمﷺ نے فرمایا: جب شبِ قدر آتی ہے تو اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرِیلؑ سبز (ہَرا) جھنڈا لئے فرشتوں کی بہت بڑی فوج کے ساتھ زمین پر تشریف لاتے ہیں اور اس جھنڈے کو  کعبتہ اللّٰہ پر لہرا دیتے ہیں۔ (مسند احمد، ج۳، ص۶۰۶، ح ۱۰۷۳۹)

      تاریخ بینی سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ میں عَلَم، جھنڈے اور پَرْچَم کا سب سے پہلے استعمال قوموں و قبیلوں کے مابین جنگوں و معرکوں میں فوجوں کی شناخت کے لئے کیا جاتا رہا ہے۔ میدان جنگ میں پَرْچَم کو عسکری روابط کے لئے استعمال کیا گیا اور یہ سلسلہ دور جدید میں بھی جاری ہے۔

     موجودہ دور میں آج اسی پَرْچَم کو کھیل کود کے میدانوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی عالمی تقریب یا کھیل کود کے مقابلے میں دو یا دو سے زائد ممالک کے شہری مدمقابل ہوں تو اپنے اپنے ملکوں کے جھنڈوں کو سربلند کرنے میں جت جاتے ہیں۔

     مؤرخین کے مطابق انسانی دنیا میں سب سے پہلے قومی پَرْچَم کا رواج مصر سے ثابت ہوتا ہے۔ اہل مصر جنگوں کے موقع پر مختلف رنگوں کی لکڑی کی تختیاں ساتھ لے کر نکلتے تھے، جن پر علامتیں و نشانات بنے ہوتے تھے۔ اہل روم نے جنگ کے موقع پر پَرْچَم رکھنے کا طریقہ مصریوں سے سیکھا لیکن اس میں یہ تبدیلی کی کہ تختیوں کی بجائے کپڑے کا استعمال شروع کیا۔ اس طرح پَرْچَم کی موجودہ شکل رومنوں کی رہین منت ہے۔ اہل روم کی جانب دیدہ بازی اور حرصا حرصی کی نقول نے دنیا بھر کے دیگر ممالک کو اپنے ملک یا علاقے میں پَرْچَم کا رواج قائم کرنے پر مجبور کردیا۔ بعد ازاں چین اور ہندوستان میں باقاعدہ طور پہ جھنڈے لہرانے کا چلن شروع ہوا۔ لہٰذا آج دنیا میں ہر ملک کا اپنا ایک خاص قسم کا پَرْچَم موجود ہے۔

      قبیلۂ قریش کے پرچم کا نام عقاب تھا جو سیاہ رنگ کا تھا۔ جنگوں میں یہ پرچم اٹھانے کا اعزاز بنو عبدالدار کے ذمّہ تھا۔ عرب قبائل میں جب بھی جنگیں ہوتیں۔ لڑنے والے سپاہی مسلسل اپنے اپنے پرچم پر نظر رکھتے۔ جب تک پرچم میدان جنگ میں دکھائی دیتا رہتا۔ وہ لڑتے رہتے۔ پرچم کے گرنے کو پسپائی کی علامت سمجھا جاتا۔ جس قبیلے کا پرچم گر جاتا۔ اس کے جنگجو شکست قبول کرکے منشتر ہو جاتے۔

      لغوی اعتبار سے پَرْچَم کپڑے کے اس ٹکڑے کو کہا جاتا ہے، جو مخصوص رنگ یا ڈیزائن سے مزین ہوتا ہے۔ پَرْچَم کو بطور علامت، استعارہ یا تزئین کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

     اسلام میں پَرْچَم کا رواج ہجرت کے آغاز کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ اس کے بعد مختلف مواقع پر جھنڈوں کا استعمال ہوا۔ عرب روایات کے مطابق جنگ میں لشکر کی ثابت قدمی اور بلند حوصلے کے لئے جھنڈا ضروری ہوتا تھا، اور اسے روایت کو اسلام کے آنے کے بعد اور فرضیت قتال کے بعد قائم رکھا اور خود آپﷺ نے بھی مہاجرین اور انصار کے الگ الگ جھنڈے رکھے ہوئے تھے۔

     اسلام میں عَلَم یا پَرْچَم کا آغاز ہجرت کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ مکہ سے ہجرت فرما کے جب آپﷺ مدینہ منورہ کی طرف جارہے تھے تو حضرت بریدہؓ بن حصیبؓ نے خواہش کا اظہار کیا کہ اللّٰہ کے نبیﷺ کے مدینے میں داخل ہوتے وقت آپ کے پاس جھنڈا ہونا چاہۓ، تب آپﷺ نے اپنا عمامہ اتار کر نیزے پر باندھ کر حضرت بریدہؓ کو دیا۔ امن اور سلامتی کی پہچان یہ جھنڈا اسلام کا پہلا جھنڈا تھا۔

     ہجرت کے بعد اور جنگ بدر سے پہلے مسلمانوں اور کفار کے درمیان جو معرکے ہوئے۔ ان میں بھی مسلمان دستوں کو پرچم دے کر بھیجا گیا۔ یہ مختلف پرچم تھے۔ روایات کے مطابق اس وقت مسلمانوں کی جمعیت کے پاس دو طرح کے پرچم ہوتے۔ ایک سفید رنگ کا جسے کے لیے "لوائ" کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ یہ پوری فوج کی نمائندگی کرتا۔ دوسرا "الرأیۃ" جو مخصوص دستوں کی نمائندگی کرتا۔

     جب غزوہ بدر کا مرحلہ درپیش آیا تو مسلمانوں کی جمیعت کے پاس چار طرح کے الرأیۃ تھے۔ انصار کے مشہور قبائل بنو خزرج اور بنو اوس کے اپنے اپنے الرأیۃ تھے۔ جو بالترتیب الحباب بن المنذرؓ اور سعد ابن معاذؓ نے اٹھا رکھے تھے۔ مہاجرین کا پرچم مصعب بن عمیرؓ کے ہاتھ میں تھا۔ جب کہ حضرت علیؓ نے نبی اکرمﷺ کا الرأیۃ عقاب اٹھا رکھا تھا۔

     سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ فتح مکہّ والے دن رسول اللّٰہﷺ نے حضرت زبیرؓ کو  ایک جھنڈا دے کر حکم فرمایا کہ وہ مکہ کے بالائی حصّہ کی طرف سے داخل ہوکر مقام حجون میں اس جھنڈے کو گاڑ کر اسی مقام پر سرکار دو عالمﷺ کا انتظار کریں اور رسول اللّٰہﷺ کے آنے تک وہیں رہیں، بعد میں اس مقام پر ایک مسجد تعمیر ہوئی جسے "مسجد الرأیۃ" کہا جاتا ہے، یعنی "جھنڈے والی مسجد"۔ اس کے علاوہ اور بہت سی روایات میں بھی اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ فتح مکہ والے دن آپ کے ساتھ جھنڈا تھا، بعض میں سیاہ (کالے) جھنڈے کا ذکر ہے اور بعض روایات میں سفید جھنڈے کا ذکر بھی آتا ہے۔

     جنگوں میں جھنڈے کا سرنگوں ہونا شکست تسلیم کرنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے تاریخ میں مذکور سیاسی و مذھبی جنگوں میں محض جھنڈے کو سربلند رکھنے کے رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر رسول دوعالمﷺ کی زندگی میں سن ۸ ھجری میں جنگ موتہ کا وقوعہ پیش آیا، جس کے لئے سرکار دوعالم نے تین علم بردار مقرر فرمائے۔ ان میں سے ایک حضرت جعفر طیارؓ بھی تھے، آپؓ نے پرچم کو گرنے سے بچانے کے لیے وہی کیا۔ جو غزوہ احد میں مصعب بن عمیرؓ نے کیا تھا۔  حضرت جعفر طیارؓ نے پرچم اسلام کی حفاظت کا وہ نمونہ دکھایا جو پوری دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔ لڑائی کے دوران آپؓ کا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو آپؓ نے جھنڈے کو اپنے بائیں ہاتھ میں تھام لیا، جب بایاں بھی کٹ گیا تو آپؓ نے جھنڈے کو کٹے ہاتھوں سے اپنے سینے سے لگا لیا مگر جھنڈے کو زمین پر گرنے نہ دیا اور اسی حالت میں آپؓ نے جام شہادت نوش کیا پَرْچَم آپ کے سینے پر تھا۔ (سیرۃ النبویہ از ابن ھشام جلد ۴ صفحہ ۲۰)

     حضرت جعفر طیارؓ کی شہادت پر نبی اکرمﷺ نے فرمایا، جبرائیل نے مجھے مطلع کیا ہے کہ اللّٰہ نے جعفر کو دو پر عطا کیے ہیں، جس سے وہ جنت میں پرواز کرتے ہیں۔ اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر

     سفید عَلَم تاریخ اسلام میں اہمیت رکھتا ہے۔ روایت ہے کہ کفار مکہ سے پہلی جنگ، غزوہ بدر میں سفید عَلَم ہی اسلامی فوج کا بنیادی عَلَم تھا۔ نبی کریمﷺ نے یہ عَلَم حضرت معصبؓ بن عمیر کو عطا فرمایا تھا۔ ختم المرسلینﷺ کے آگے دو سیاہ پَرْچَم لہرا رہے تھے، ایک حضرت علیؓ کے ہاتھ میں تھا جو ام المومنین بی بی عائشہ صدیقہ ؓ کی چادر سے بنایا گیا تھا اس پَرْچَم کا نام عقاب تھا۔ دوسرا پَرْچَم ایک انصاری صحابی نے اٹھایا ہوا تھا۔ عالمی سطح پر آج بھی سفید جھنڈا امن و تعاون کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

     غزوہِ احد میں بھی پرچم مبارک مصعب ابن عمیرؓ کے سپرد کیا گیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مصعب ابن عمیرؓ بنوعبدالدار میں سے تھے۔

      موجودہ مسلم ممالک کا مختصر تاریخی جائزہ لیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ بیسویں صدی میں جب مسلم دنیا میں ایک کے بعد ایک خود مختار ریاستیں وجود میں آگئیں تو ضروریات اور مروجہ روایات کے مطابق مسلم ممالک کے جھنڈے بھی مقرر ہوئے، اب یہ جھنڈے نہ صرف ممالک کی پہچان بن گئے ہیں، بلکہ ان ممالک کے نظریاتی مَظْہَر و اَساس بھی ہیں، چونکہ ہر ملک کا جھنڈا خواہ اسلامی ملک ہو یا غیر اسلامی ملک ہو اس ملک کا پَرْچَم اس کے آئین اور نظریے کا مظہر ہے، اس لیے ہر ملک کے جھنڈے کو اہمیت اور زبردست تقدس حاصل ہوتا ہے، ہر سرکاری عمارت اور تقریب پر اس کا لہرایا جانا، اس کو سلامی پیش کرنا، حکمرانوں اور افواج کی جسد خاکی پر اس کا رکھنا اور اس کی بے حرمتی کو جرم قرار دینا یہ سب اسی کے شواہد ہیں۔

     مندرجہ بالا گفتگو سے عَلَم، جھنڈے اور پَرْچَم کی شرعی تاریخی حیثیت تو واضح ہو جاتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ پَرْچَم کی تعظیم و توقیر اور تکریم کے لئے کیا ہم اپنے ایمان و عقیدے پر آنچ آنے دینگے۔ نہیں بالکل نہیں!!! پرچم کسی بھی ملک کا ہو، مسلمان اس کے باشندے ہونے یا نا ہونے کی حیثیت سے عزت و احترام اور تقدس کی نگاہوں سے وہی مقام دیں گے، جس کا وہ حق رکھتے ہیں، مگر اس کے لئے اپنے دین و ایمان اور عقیدے کا کبھی سودا نہیں کریں گے۔

     جھنڈے کے سامنے کھڑا ہونا یا سلامی پیش کرنا ایک قومی یا فوجی عمل ہے، اس کی اجازت ہے۔ جھنڈے کے سامنے شرکیہ گیت گانے کی مذہب اسلام میں اجازت نہیں ہے۔ ایسا کرنے سے سخت گناہ ہوگا۔ اللّٰہ تعالیٰ تمام گناہ معاف کرے گا مگر شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔

     کسی بھی ملک کا جھنڈا اور پرچم اس ملک کی عزت، بلندی اور شان کا نشان ہوتا ہے، لہذا اگر دیگر خرافات مثلاً: میوزک، مخلوط ماحول وغیرہ سے بچتے ہوئے کوئی ملکی حمیت میں جھنڈے کو عزت و احترام دے اور اسے دین سمجھ کر نہ کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن نہ کرنا زیادہ بہتر ہے،  یہ ملحوظ رہے کہ یہ محض رسمی چیز ہے، فوجی طریقہ ہے، اسلامی طریقہ نہیں ہے اور نہ ہی سلف صالحین سے اس کا کوئی ثبوت ہے، لہذا اس کو دین سمجھ کر نہ کیا جائے اور نہ ہی نہ کرنے والوں پر نکیر کی جائے۔

     ویسے تو پَرْچَم، جھنڈا یا عَلَم کا مطلب علامت یا نشان ہوتا ہے اور اوپر کی سطروں میں کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے اس کا استعمال گروہوں کے مابین جنگوں میں فوجوں کی شناخت کے لیے کیا جاتا تھا لیکن اب یہ ہر ملک اور قوم کا شناختی و امتیازی نشان اور اس کی عزت و وقار کی علامت ہوتا ہے۔ لیکن اس سے آگے بڑھ کر کسی بھی ملک کا پَرْچَم اُس ملک کے نظریے کو بیان کرتا ہے اور ملکوں کی طرح سیاسی جماعتیں بھی نظریات کی بنیاد پر اپنا پَرْچَم تشکیل دیتی ہیں۔

     ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک کا قومی پَرْچَم، اس ملک کی عزت اور وقار کی علامت، قومی ثقافت و تاریخ کا مظہر اور اس ملک کی پہچان اور شناخت ہوتا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قومی پَرْچَم متعین کردہ سائز، خاص تناسب اور مخصوص رنگوں کے کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک ایسی علامت کا نشان ہوتا ہے جو مختلف قسم کے پوشیدہ پیغامات کا پرتیک ہوتی ہے۔ دنیا میں بیشتر افراد کسی بھی ملک کے قومی پَرْچَم کی شناخت تو رکھتے ہیں، لیکن ان میں پوشیدہ رازوں اور پیغامات سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ جھنڈا صرف جھنڈا نہیں اس میں بہت باریکیاں ہیں جن کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

    ان ہی باریکیوں کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا کے تمام ممالک نے اپنا اپنا جھنڈا تیار کروایا۔ کئی ممالک کے جھنڈے بامقصد، جاذِبِ نَظَر اور دلکش و خوبصورت بھی ہیں۔ نیوز میکس نامی امیریکن نیوز ایجنسی نے ایک سروے کروایا کہ لوگ دنیا کے کن جھنڈوں کو خوبصورت اور جاذب نظر سمجھتے ہیں۔ سروے کے ذریعے دس ممالک کے جھنڈوں کا انتخاب ہوا۔ اس فہرست میں سب سے خوبصورت جھنڈا برطانیہ کا قرار پایا، اس کے بعد دوسرے نمبر پر امریکہ کا جھنڈے، تیسرے پر کینیڈا، چوتھے پر آسٹریلیا، پانچواں پر اسپین، چھٹی پر برازیل، ساتویں پر پاکستان، آٹھویں پرتگال، نویں میکسیکو کے جھنڈے اور ٹاپ ٹین کی فہرست میں 10 ویں نمبر پر ہندوستان کا شمار ہوتا ہے۔

     برصغیر پاک و ہند پر مختلف سلطنتوں نے حکومت کی جن میں مغل، مراٹھا، درانی، سکھ اور برطانیہ کی سلطنت شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا اپنا اپنا جھنڈا تھا اور پھر "برطانوی راج" آیا جس میں ایک جھنڈا تھا جس میں برطانوی سرخ نشان اور مرکز میں دائیں طرف ہندوستان کا ستارہ تھا۔

     آج مسلمانوں سے حب الوطنی کی سندیں مانگی جاتی ہیں، اور بیچارہ مسلمان سجدہ ریز ہوکر وطن کی محبت کے اظہار میں بعض اوقات بےدینی کا مظاہرہ کر بیٹھتا ہے۔ مگر ان سب حرکات و سکنات کے باوجود ملک کی سب سے بڑی مذہبی آبادی ہونے کے بعد بھی مساوی حقوق سے محرومی ہی مقدر ہوتی ہے۔ جب کہ ہم جانتے ہیں کہ ملک کے پَرْچَم اور ترانوں کو بنانے میں بھی مسلمانوں کا ایک بہت بڑا کردار رہا ہے۔ 

     جب ملک کے پَرْچَم کو تیار کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، اس کمیٹی میں بدرالدین فیاض طیب جی نے تجویز پیش کی کہ مجوزہ قومی پَرْچَم پر "اشوک چکر" دے دیا جائے۔ کیونکہ موہن داس گاندھی جھنڈے پر چرخے کے نشان پر بضد تھے، کیونکہ وہ چرخے کو خود انحصاری کی علامت سمجھتے تھے۔ یہاں بھی ایک مسلمان کی ہی حکمت و مصلحت نے ایک اختلاف کو دفن کردیا۔

     اشوک چکر مشہور حکمران، اشوک اعظم (دور حکمرانی 268 تا 232 قبل مسیح) کا حکومتی نشان تھا۔ یہ اس کے کئی احکامات اور دور اشوک میں تعمیر ہونے والے مجسموں پر ثبت ملتا ہے۔ اشوک چکر بذات خود "دھرم چکر" سے ماخوذ تھا، اس کے باوجود مذہبی رواداری کا درس دیتے ہوئے ایک مسلمان نے دھرم چکر کی تجویز پیش کی۔ اس کے بعد بھی یہ گلا ہے کہ مسلمان وفادار نہیں۔

      ہندوستان کا جھنڈا تین رنگوں پر مشتمل ہے۔ زعفرانی، سفید اور سبز۔ بیچ میں ایک گول پہیہ سا بنا ہے جسے اشوک چکرا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس اشوک چکرے میں چوبیس ڈنڈے لگے ہیں۔ زعفرانی رنگ جرات اور مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ سفید رنگ اور اشوک چکرا امن اور سچائی کی علامت ہے جبکہ سبز رنگ ترقی اور خوشحالی دکھاتا ہے۔

     حب الوطنی کا ثبوت مانگنے والوں کے لئے کیا یہ بات کافی نہیں کہ ایک مسلمان خاتون کو اپنے ہاتھوں سے بھارت کا پہلا قومی جھنڈا تیار کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ملک کی آزاد فضاء میں پہلی بار 15 اگست 1947ء کو پنڈت جواہر لعل نہرو اور آئین ساز اسمبلی میں جھنڈا فہرانے کا شرف بھی ایک مسلمان خاتون بیگم ثریا بدرالدین کو ہی حاصل رہا جو اپنے دور کی ایک عمدہ مصورہ اور بنت کار تھیں۔

     حقیقتاً امت مسلمہ ہند نے ہندوستان کی سیاسی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی اور تہذیبی تاریخ کی تشکیل میں ایک بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ لیکن اب قوم پرست مذہبی و سیاسی لیڈران کی زیر قیادت ہندو احیاء پرست حکومت ہندوستان سے مسلمانوں کا نام و نشان فنا کرنا چاہتی ہے۔ کب تک مسلمانوں کو برباد کرنے کا عمل جاری رکھو گے؟ آخر مسلمانوں کی کون کون سی چیزوں کو مٹاؤ گے!

     جس طرح مسلمانوں کی اکثریت کے دلوں میں اسلام کی محبت ماہِ رمضان کی آمد پر جاگتی ہے، ٹھیک اسی طرح عوامی سطح پر اگست کے مہینے میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ آج یوم آزادی بھی سال میں ایک بار آنے والے تہوار کی مانند ہی لگتی ہے۔ اگست کے شروع ہوتے ہی یومِ آزادی کے موقع پر سجائی جانے والی اشیاء جن میں مختلف سائز کے جھنڈے اور جھنڈیاں، انواع و اقسام کے بیجز، کلائی بینڈز، ہئیر بینڈز، قومی پَرْچَم والی ملبوسات شرٹس، ٹوپیاں، کُرتے، شلوار قمیص، وغیرہ وغیرہ کے سٹال لگے نظر آتے ہیں۔ اگست قریب آتے ہی جھنڈوں اور جھنڈیوں کی بہاریں آجاتی ہیں۔ زعفرانی، سفید اور سبز روشنیوں سے شہر کو سجایا جاتا ہے۔ خواتین، بچے، بڑے، بوڑھے سب خرایداری میں لگ جاتے ہیں۔ یوم آزادی کے ایک یا دو دن پہلے گلی محلے، عمارت، دکان، دفاتر، تعلیمی ادارے اور سواری و گاڑیاں سجانے کا رواج برسوں سے چلا آرہا ہے۔ ان کاموں میں بڑی بڑی رقمیں صرف ہوتی ہیں، کیا ہم ان رقموں کو معاشرے کے تعمیری کاموں میں صرف نہیں کرسکتے؟

      ہمیں یوم آزادی کے ساتھ، آزادی کی اس روح کو بھی برقرار و محفوظ رکھنا چاہیے، جس کے لئے انگریزوں کو بھگایا گیا تھا۔ وہ آزادی جو ہمیں پلیٹ میں رکھ نہیں دی گئی یا بطورِ تحفہ پیش نہیں ہوئی۔ اس کے لئے ہمارے اسلاف نے گراں قدر کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔ جانوں کی قربانیاں مال و اسباب کا لٹ جانا سہاگنوں کے سہاگ کا اجڑ جانا سب کچھ ہمارے ساتھ ہوچکا ہے۔ مگر ہماری اس نئی نسل کو کچھ معلوم ہی نہیں۔ انھوں نے کتابوں میں پڑھا ہے۔ مگر بہ چشمِ خود دیکھا نہیں۔ وہ بڑے جو کہیں کہیں زندہ ہوں گے۔ مگر زیادہ تر دنیا چھوڑ چلے ہیں۔ آزادی کی تقریب مناتے مناتے 75 سال ہوگئے ہیں۔ نئی نسل ان تکالیف سے واقف نہیں ہے۔

      افسوس صد افسوس ہم پَرْچَم کے احترام و تقدس میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ ہم نے اپنے معبود خانوں کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے تختۂ مشق بنا دیا۔ توحید پرستوں کو اپنے اس عمل کو جائز قرار دینے کی شرمناک گفتگوں کو برداشت کیا۔ ملت اسلامیہ کے زکوٰۃ کے مصارف سے بنائے گئے دینی مدارس و دینی اداروں کو سربسجود ہوتے ہوئے دیکھا۔ دینی مدارس کے اساتذہ و طلباء کو دیوانہ وار سڑکوں پر دوڑتے دیکھا۔ حکومت الٰہیہ اور اقامتِ دین کے بنائے گئے مراکز کو بھی حالات کے دھارے میں بہتا دیکھا۔ ہمارے دل و دماغ اتنے بےحس و ماؤف ہوں گے یہ کبھی نہیں سوچا تھا۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے دین و ایمان اور عقیدے کی حفاظت فرمائے۔

      اللّٰہ ربّ العالمین کے وہ گھر جنہیں ہم مساجد اللّٰہ کہتے ہیں، جہاں اللّٰہ کی کبریائی سے روکنے کے لئے سارے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے، کبھی مساجد کو دہشت گردی کے اڈے کہا گیا، جہاں اذان جیسے مقدس کلمات پر پابندی عائد کرنے کے حربے استعمال کیے گئے۔ اللّٰہ ربّ العزّت کے ان مقدس مقامات پر پَرْچَم کشائی سمجھ میں نہیں آئی۔

      ہم یوم آزادی کا جشن منانے کے خلاف نہیں ہیں، پَرْچَم کشائی ہونی چاہئے لیکن مساجد اللّٰہ کا گھر ہیں، جو خالص عبادت کے لئے ہیں، مساجد کا استعمال سیاسی کاموں کے لئے کرنا ان کے وقار اور عظمت کے خلاف ہے، جو کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے۔ مساجد میں سیاسی نعروں یا سیاسی نظریات کے اظہار سے اجتناب کرنا بہتر ہے، کیونکہ اس سے مساجد عبادت گاہ کی بجائے سیاسی اکھاڑوں میں بدلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

     اگر یہ روایت شروع ہوگئی تو اس سے مساجد کو بہت نقصان پہنچے گا، مدارس کا معاملہ الگ ہے اور مساجد کا معاملہ الگ، مساجد کا استعمال صرف عبادت کے لئے ہونا چاہئے نہ کے سیاسی مفاد کے لئے۔

     مدارس میں پہلے سے ہی یوم آزادی کے موقع پر پَرْچَم لہرایا جاتا رہا ہے لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے جب کسی مسجد کے میناروں اور داخلی دروازوں کے اوپر قومی پَرْچَم فہرایا جا رہا ہے۔ یہ ابتدائی مرحلہ ہے، یہ ابتداء بہت دور تک مسلمانوں کو لے جائے گی۔ اب اس کو سیاسی پینترے بازی کہا جائے یا حب الوطنی جو بھی ہو یہ معاملہ عوام میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

     پَرْچَم کی عظمت اگر دل میں رہے اور آدمی کو اپنے پَرْچَم پر فخر ہو تو خیر مضائقہ نہیں، لیکن ادھر کئی سالوں سے اس کے لئے سلامی اور جھکنا اہل اسلام کے لئے اشکال کا باعث بن گیا ہے۔ جھنڈے کے سامنے کھڑا ہونا یا سلامی پیش کرنا ایک قومی یا فوجی عمل ہے، اس کی اجازت ہے۔ البتہ جھکنا درست نہیں ہے؛ اس لیے کہ شریعت میں جھک کر تعظیم سے روکا گیا ہے۔ فتاویٰ شامی میں ہے:
"وفي المحیط أنه یکره الانحناء للسلطان وغیره". [ردالمحتار: ٦/ ٣٨٣]

      مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی صاحب فرماتے ہیں کہ "جھنڈا لہرانا درست ہے، اور اہل علم نے اس کو جائز قرار دیا ہے، البتہ اس موقع پر ایسا عمل کرنا جس سے جھنڈے کی غیر معمولی تعظیم ظاہر ہوتی ہو، جیسے دونوں ہاتھ جوڑنا یا جھکنا جائز نہیں ہے"۔ (کتاب الفتاوی:۱/۲۸۲)

      حضرت مفتی کفایت اللّٰہ فرماتے ہیں: "جھنڈے کو سلامی مسلم لیگ بھی کرتی ہے اور اسلامی حکومتوں میں بھی ہوتی ہے، وہ ایک قومی عمل ہے، اس میں اصلاح ہوسکتی ہے، مگر مطلقاً اس کو مشرکانہ فعل قرار دینا صحیح نہیں ہے"۔ (کفایت المفتی:٩/ ٣٧٨)

      حضرت مفتی عبد الرحیم فرماتے ہیں: "یہ محض سیاسی چیز ہے اور حکومتوں کا طریقہ ہے، اسلامی حکومتوں میں بھی ہوتا ہے، بچنا اچھا ہے۔ اگر فتنہ کا ڈر ہو تو بادلِ ناخواستہ کرنے میں مواخذہ نہیں ہوگا"۔(فتاوی رحیمیہ۱۰/۱۸۰)

     جھنڈے کے آگے سر جھکانے سے اجتناب کیا جائے، کیونکہ اللّٰہ تعالی کے علاوہ کسی چیز کے سامنے سر جھکانے سے شریعت میں منع کیا گیا ہے۔ بعض جگہوں پر رات کو آتش بازی کا اہتمام کیا جاتا ہے، جو شرعاً ناجائز ہے، ہر مسلمان کو اس سے بچنا لازم ہے۔ موسیقی، ناچ اور گانے بجانے وغیرہ منکرات سے مکمل اجتناب کیا جائے، کیونکہ یہ کبیرہ گناہ ہیں۔

      یہ بھی ایک قومی المیہ ہے کہ یوم آزادی کےموقع پر مجاہدین آزادی کو یاد کیا جاتا ہے مگر علمائے کرام کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جنھوں نے ملک کی آزادی کے خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ کالا پانی، نینی تال کے جیلوں میں بھی ہر طرح کی اذیتیں جھیلیں اور جانثاری اور سرفروشی کی وہ مثالیں قائم کیں جن کی نظیر ملنا مشکل ہے۔اس یوم آزادی پر علمائے کرام کو خراج عقیدت پیش کریں اور ان کے کارناموں سے سبق حاصل کریں۔

     قومی پَرْچَم کو فخر کے ساتھ سلامی دیتے ہوئے، ہم مسلسل علمائے کرام مولانا احمد اللّٰہ شاہ مدراسیؒ، مولانا رحمت اللّٰہ کیرانویؒ، مولانا فضلِ حق خیرآبادیؒ، ٹیپو سلطانؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ کے ساتھ ساتھ ان انقلابیوں سمیت دیگر لاتعداد حریت پسندوں کی بے پناہ قربانیوں نے قومی پَرْچَم کو وقار کے ساتھ لہراتے رہنے کا حق دلایا ہے۔

     جہاں بلڈوزرز کے ذریعے اہل ایمان کے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہو، جہاں صرف ملبہ ہی ملبہ ہو وہاں کیسے پَرْچَم کشائی کی تقریب ہو؟ کون سی نمایاں جگہ پر پرچم کشائی کی جائے؟

     جن شہروں اور مقامات کو مسلمان ہونے کی صورت میں ہدفِ ملامت بنایا جارہا ہو، وہاں کیسے تقاریب منائی جائے؟

     جہاں مسلمانوں کی تہذیبی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہو، جہاں ناموں کی تبدیلی زور و شور سے جاری ہو، جہاں موب لینچینگ کا سلسلہ شدید سے شدید ہو، جہاں مویشیوں کے لئے انسانوں کا بےرحمانہ قتل ہو، جہاں عفت مآب بیٹیوں کے حجاب سے باطل کی نیندیں حرام ہو، جہاں حق گوئی کی سزا زنداں کے در و دیوار ہو، وہاں ظاہری خوشی تو منائی جاسکتی ہے مگر باطنی خوشی کا کیا؟

      ہوا میں بلندی پر اڑنے کے علاوہ، پَرْچَم فخر، قیادت اور قوم کی علامت ہے۔ یہ ایک قوم کی تاریخ اور شناخت کو باقی دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اور اس کی مکمل تصویر کشی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ایک ملک کی قومی، سیاسی، اقتصادی اور سماجی اقدار کی نمائندگی کرتا ہے جس نے ایک عظیم قوم کی بنیاد رکھی۔

      پَرْچَم کسی بھی مذہب و ملک، گروہ یا جماعت، کسی بھی قوم یا تنظیم کے نظریے کا عکاس ہوتا ہے۔ پَرْچَم سے دنیا کے تمام ممالک کی مذہبی و سیاسی سرگرمیوں اور کھیلوں کی ٹیموں کو پہچان ملتی ہے۔ پَرْچَم کسی بھی قوم کی آزادی، عظمت اور استحکام کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔

     سکے کے دو پہلو ہوتے ہیں دوسرے پہلو کو بھی دیکھنا ہوگا۔ مسلمان کسی بھی معاملے میں حق شناس اور فرض شناس ہوتا ہے۔ اسے ثابت کرنا نام و نمود کا شائبہ ہوگا۔ حب الوطنی میں مسلمان کم نظر نہیں آتے۔ لیکن اس کے برعکس وہ لوگ جو شک و الزامات کے گھیرے میں مسلمانوں کو الجھائے رکھتے ہیں ان کے معاملات کیا ہیں اسے بھی دیکھنا ہوگا۔

     کرناٹک کے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رہنما کلڈکا پربھاکر بھٹ کا کہنا ہے کہ اگر ہندو متحد ہوجائیں تو بھگوا جھنڈہ ملک کا قومی پَرْچَم بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن بھگوا جھنڈا ہمارا قومی پَرْچَم بن سکتا ہے۔ (دی وائر 24 مارچ 2022)

     اس بیان بازی کے پیچھے کی سوچ، ذہنیت اور نظریہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ 1947ء میں جب آئین اجلاس میں ترنگے کو اپنایا گیا تھا تب آر ایس ایس نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اس وقت ان کی میگزین 'آرگنائیزر' میں ایک آرٹیکل شائع کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ "آپ ترنگا ہندؤں کو زبردستی تھما تو دیں گے لیکن ہندو کبھی اس کو اپنائے گا، وہ اس کی کبھی عزت نہیں کرے گا۔"

     آر ایس ایس ہیڈ کوارٹر پر کئی سالوں سے ترنگا نہیں لہرایا گیا۔ آر ایس ایس کی سوچ و وچار نے ہمیشہ سے ترنگے اور آئین کی مخالفت کی۔ انہوں نے کبھی آئین کو دل سے نہیں اپنایا اور آج یہی لوگ دوسروں کو دیش بھکتی اور دیش دروہ کے سرٹیفیکیٹ تقسیم کررہے ہیں۔

     کلیان سنگھ کے تابوت پر ترنگے کے اوپر بی جے پی کا جھنڈا رکھ کر قومی ترنگے کی بے حرمتی کی گئی۔ جب کہ قانون یہ کہتا ہے کہ قومی پَرْچَم پر کوئی دوسرا پَرْچَم نہیں لگایا یا رکھا جائیگا۔ کئی عمارتوں اور آفسوں میں ہم قومی پَرْچَم کی بے حرمتی دیکھی ہیں، جہاں زعفرانی جھنڈا اونچائی پر ہوتا ہے، اور قومی پَرْچَم اپنی تربت پر آنسو بہارہا ہوتا ہے۔

      دہلی کی ایک عدالت نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے خلاف بین الاقوامی یوگا ڈے کے موقع پر اور ان کے دورہ امریکہ کے دوران قومی پَرْچَم کی "توہین" کرنے کی شکایت کا نوٹس لیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر قومی پَرْچَم کی "توہین" کرنے کی شکایت بھی درج کرائی گئی ہے۔

      جولائی 2022ء کو کوچی کے ارمپنم میں قومی پَرْچَم کوڑے کے ڈھیر سے ملا۔ مقامی لوگوں نے کوسٹ گارڈ کے جھنڈے، لائف جیکٹس اور رین کوٹ پر مشتمل کچرے کے ڈھیر کے درمیان قومی پَرْچَم کی کئی اکائیاں پائی اور پولیس کو اطلاع دی۔

      جنوری 2022ء میں امریکی کمپنی ایمیزون کے شاپنگ پلیٹ فارم پر ہندوستانی ترنگے کے تھیم والے جوتے، ٹی شرٹس اور فیشن کے دیگر لوازمات چھاپ کر قومی پَرْچَم کی بے حرمتی کا جرم کیا تھا، مگر نہ ہی ایمیزون پر پابندی عائد کی گئی اور نہ ہی کوئی قانونی چارہ جوئی کی گئی۔ اسی طرح سے قومی پَرْچَم کی بے حرمتی کے کئی واقعات ہیں جو منظر عام پر لائے ہی نہیں گئے کیونکہ ان کا تعلق حکمراں پارٹی کے افراد سے ہیں۔ آخر یہ دوہرا معیار کیوں؟

      پَرْچَم کی بے حرمتی کے روک تھام کے لیے ایک قانون بھی بنایا گیا ہے (Prevention of Insults to National Honour Act, 1971) جس میں لکھا گیا ہے کہ قومی ترنگے کی اگر کوئی بھی بے حرمتی کرتا ہے تو وہ ایک قانونی جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔ قانونی دائرہ کی اس شق کے تحت آخر ان تمام لوگوں پر کاروائیاں نہیں ہوتی؟ اور یہی غلطی اگر مسلمانوں سے سرزد ہو جائے تو پورے ملک میں کہرام برپا ہوجاتا ہے۔

     یہ پَرْچَم صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں۔ یہ آزادی اور اتحاد کی علامت ہے۔ اس پَرْچَم کی عزت تمام لوگوں پر لازم ہے۔ جو لوگ ملک کے جھنڈے کی عزت نہیں کرسکتے وہ اس ملک کی آزادی و اہمیت کا کیا احساس کریں گے۔ جن کے نزدیک بھگوا جھنڈا ہی سب کچھ ہو وہ کہاں ملک و قوم کے حق میں مفید ثابت ہوں گے۔

      دین اسلام دنیا کے تمام انسانوں کو صرف ایک پَرْچَم تلے جمع کرتا ہے، جس کا تعلق صرف خدا سے ہے اور کسی ملک، حکومت، قوم، قبیلے یا کسی شخص سے اس کی کوئی نسبت نہیں ہے۔ اسلام ایک آفاقیت اور عالمگیریت والا مذہب ہے۔ اسلام نے تہذیب کے آزر کے ترشوائے بتوں کو پاش پاش کیا ہے۔ موجودہ دور میں نئے نئے صنم بنائے جارہے ہیں، جس کے بارے میں علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں۔    ؎

  یہ بُت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہے
  غارت گرِ کاشانۂ دینِ نبَوی ہے
  بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے
  اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے
  نظّارۂ دیرینہ زمانے کو دِکھا دے
  اے مصطفَوی خاک میں اس بُت کو ملا دے!

   آئیے! ہم سب مل کر تعصب و نفرت کی عینک کو صاف کریں، تعصب و نسلی تفاخر کی تفریق کو ختم کرنے، نفرت و عدم مساوات کا خاتمہ کرنے اور اپنی روز مرہ زندگی کو بہترین اقدار کی روشنی میں گزارنے کا عزم کریں۔  ؎

     ان ہاتھوں میں نور کا پَرْچَم دے
     مرے علم کو وسعت عالم دے

                     (18.08.2022)
           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam