عالم ِ اسلام۔۔۔ لہو لہو
•عالم ِ اسلام۔۔۔ لہو لہو•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
•عالم ِ اسلام۔۔۔ لہو لہو•
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
الحَمدَ لِلّٰہِ نحمَدُہ ونَستعینُہ و نسَتَغفِرُہ ونَتوبُ اِلیہ‘ ونعوذبِاللہ مِن شُرورِ أنفسِنا ومِن سےّاتِ أعمالِنا‘ مَن یھدِہ اللہ ُ فلا مُضِلَّ لہُ ومَن ےُضلِل فلا ھادِی لہ، وأشھَدُأن لاالٰ ہَ اِلَّااللّٰہُ وَحْدَہ لا شریکَ لہُ وأشھَدُأنَّ مُحَمَّداً عبدُہ ورَسُولہ……
يُرِيۡدُوۡنَ لِيُطْفِئُوا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَ فۡوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ o هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ o
(یہ لوگ اپنے مُنہ کی پُھونکوں سے اللّٰہ کے نُور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللّٰہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نُور کو پُورا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اسے پُورے کے پُورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔) (الصف: 8 تا 9)
آخر ایسی کیا وجہ ہے جس نے ایمان پر رہنا مشکل سے مشکل تر بنا دیاہے؟ ایسی کیا متاعِ مسلم ہے جسے مٹانے کے لئے دنیا کی ساری قومیں مرنے مارنے پر تل پڑی ہیں؟ کوئی تو ایسی متاعِ مسلم ہے، کچھ تو ایسی دولت ہے، کہیں تو وہ جوہر ہے جس نے مسلمان کو عالمی مظالم کا تختۂ مشق بنا لیا ہے۔ آخر مسلم نسل کشی پر عالمی قوتوں کا سارا زور کیوں صرف ہورہا ہے؟ جواب تک رسائی کے لئے مسلم نسل کُشی کا سرسری جائزہ اور پھر متاعِ مسلم کی ماہیت کو سمجھنا مفید ہوگا۔
آئیے!سب سے پہلے بنی اسرائیل کا ذکر کرتے ہیں، جنہیں صدیوں در بدر کی ٹھوکریں کھا کر سایۂ اسلام میں پناہ ملی۔ یہ یہاں سے نکالے گئے..... وہاں سے نکالے گئے...... اور پھر وہی اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے احسان فراموشی کا مظاہرہ۔ یورپ میں عیسائیوں نے انہیں ghettos کی اچھوت مخلوق بنا چھوڑا تھا۔ جب اسلام کشتیاں جلا کر ان کی مدد کو پہنچا، تقریباً چھ صدیوں تک اسلام کے سایۂ سلامتی میں یہودی تہذیب و تمدّن کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا، یہودی سائنس دانوں سے یہودی فلسفیوں تک سب اس قابل ہوسکے کہ یورپ کو پاپائیت کی تاریکیوں سے نکال کر روشن خیالی اور پھر نشاۃِ ثانیہ تک فکری نمو کا ارتقاء ممکن بناسکیں۔ سقوطِ غرناطہ 1492ء وہ پہلا موقع تھا جب مسلمانوں کا زوال ہی ہسپانیہ کے یہودیوں پر عتاب بن کر گرا۔ اس دوران بھی مشرق میں یہودی اسلامی ریاست میں توانا ہورہے تھے۔ غرض اسلام کی رواداری نے یہودیت کی بقاء کا سامان کیا، ورنہ در بدری بھی ابدی نیند میں کہیں گم ہوچکی ہوتی۔
مجاہدِ بیت المقدس صلاح الدین ایوبی ؒ کی معیت میں ہی یہودیوں کو سر زمین فلسطین دیکھنے کی توفیق میسر آئی۔ یورپ میں جہاں جہاں مسلم عملداری نہ تھی وہاں وہاں سے یہودیت دھتکاری گئی۔ 1421ء میں ویانا (آسڑیا) اور لینز سے نکالے گئے۔ 1424ء میں کولون والوں نے بے دخل کردیا۔ 1439ء میں آئسبرگ، 1442ء میں بویریا سے، اور 1452ء میں موراویا سے نکالے گئے۔ یہودیوں کو بے وطن اور ملک بدر کرنے کی ایک لمبی داستان ہے۔ صرف اسلام ہی سلامتی کا وہ واحد پیغام تھا جو ہر جگہ یہودیوں کی بقاء کا سامان کرتا رہا۔ یہاں تک کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد بھی بھولے بھٹکے یہودیوں کو فلسطین میں کسی حقارت اور تعصب کاسامنا نہ کرنا پڑا۔ مگر وہ بنی اسرائیل ہی کیا جو احسان مند ہو جائیں! اپنے تاریخی کردار سے وہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور اپنے تاریخی محسنوں کو مٹانے پر تل گئے۔ فلسطین اور پھر پوری دنیا میں یہودیوں کے ہاتھوں بالواسطہ اور بلا واسطہ مسلم نسل کشی کوئی راز نہیں۔ تفصیل کا یہ معاملہ محتاج نہیں۔ شہادتوں کے اعداد و شمار ممکن نہیں۔
یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا، فلسطین میں یہودیوں کی دہشت گردی، بوسنیا میں سرب دہشت گردی، میانمار میں بدھشٹ وحشت گردی، چیچنیا سے افغانستان تک مسلم نسل کشی کی تفصیلات الگ ہیں، وضاحت کی یہ معاملہ محتاج نہیں۔ کیا عراق پر پابندیوں کے نتیجے میں پانچ سال سے کم عمر کے پانچ لاکھ بچوں کی شہادتوں کا معاملہ کسی قتل عام سے کم نہیں، اسی طرح لاکھوں نومولود فلسطینی شہیدوں اور غزہ میں اسرائیلی ناکہ بندی سے شیر خواروں کی اموات جس میں آئے دن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ محصور علاقے میں شرح اموات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ادوایات اور خوراک کی کمی کے باعث زندگیوں کو خطرہ بڑھتا ہی جارہاہے۔ بنیادی ضروریات کے فقدان نے تمام شعبۂ زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ ٹھیک اسی طرح لاکھوں نومولود افغان شہداء بھی اس عالمی مسلم نسل کشی کا المناک حصّہ ہیں۔ اس مسلم نسل کشی میں اقوامِ متحدہ کے اداروں سمیت تقریباً تمام عالمی ادارے اپنا اپنا حصّہ ڈال رہے ہیں۔
یہ سب آخر کیوں؟ کیا مسلمان دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت ہیں؟ ہرگز نہیں! کیا مسلمان دنیاکی سب سے بڑی عسکری قوت ہیں؟ ہرگز نہیں! کیا مسلمان ریاستیں دنیا کی سب سے قابل رہائش یا فلاحی ریاستیں ہیں؟ ہرگز نہیں! پھر اس عالمی دشمنی کا سبب کیاہے؟ الاستاذ سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس الجھن کو دور کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ دنیا میں دو ہی فلسفۂ حیات کار فرما ہیں: ایک اسلام، دوسرا جاہلیت۔ یعنی دنیا میں دو ہی تہذیبیں موجود ہیں، اسلام اور جاہلیت۔ اسلام کو جاہلیت کبھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کر سکتی۔ اسی لئے یہ کشمکش حق و باطل ازل سے ابد تک جاری و ساری رہے گی۔
عرب بہار:
اسلامی ممالک قدرتی وسائل کے لحاظ سے روئے زمین کے زرخیز ترین علاقے ہیں جنہیں استعماری طاقتیں ہر دور میں حریص نظروں سے دیکھتی رہی ہیں چنانچہ یہ علاقہ ہمیشہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بھی رہا ہے۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد واحد سپر پاور کی حیثیت سے دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لئے امریکا نے پہلے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا شوشا چھوڑا پھر اپنے استعماری عزائم کو اس نے ”عظیم تر مشرق وسطیٰ“ کا نام دیا، پھر اس میں ترمیم کرکے اسے ”مشرقِ وسطیٰ کی تشکیل نو“ کہا گیا اور اب ”اقوام کی قدرتی حدود“ نام سے عرب ممالک کو چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کرنے کا ایک اور منصوبہ تشکیل دیا جارہا ہے۔
تازہ منصوبہ ”اقوام کی قدرتی حدود“ سے مراد یہ ہے کہ عرب خطے میں جو قوم، فرقہ اور نسل جہاں رہتی ہے، وہاں اس کے لئے الگ ریاست قائم کی جائے۔ مثال کے طور پر کرد ایک قوم ہے جو ترکی، شام اور عراق کے بعض حصوں میں آباد ہے، وہ جس جغرافیائی علاقے میں آباد ہے، وہاں ان کے لئے الگ ریاست قائم کی جائے۔ اسی طرح شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے جہاں اور جس ملک میں رہتے ہیں، وہاں ان کے لیے الگ ریاست تشکیل دی جائے۔ تازہ منصوبے کی تکمیل کے لئے دوا لگ طریقے اختیار کیے جارہے ہیں۔ پہلا عرب خطے میں فرقہ بندی، گروہ بندی، نسلی اور لسانی امتیاز کو ہوا دینا۔ دوسرا اس خطے کو قضیوں میں الجھانا۔ قضیوں میں الجھانے کا مطلب مختلف مسائل پیدا کرکے انہیں پیچیدہ بنانا جیسے فلسطین کا قضیہ، شام کا قضیہ، سنّی شیعہ قضیہ، یمن کا قضیہ اور ایران وغیرہ کا قضیہ۔
”اقوام کی قدرتی حدود“ کے نام سے پیش کئے جانے والے اس نئے منصوبے میں بھی وہی ممالک شامل ہیں جن کو پرانے منصوبے میں شامل کیا گیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ خطے سے ”ناپسندیدہ“ عناصر کا پہلے صفایا کیا جائے گا جو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم میں کسی طرح بھی رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔ جب جدید مشرق وسطیٰ کی تشکیل مکمل ہوگی تو یہ امریکی مخالف جذبات سے پاک ہوگا، اس میں مزاحم قوتوں کا تصفیہ ہوچکا ہوگا اور اسرائیل آزادانہ طور پر پھل پھول سکے گا۔
اسلامی ممالک میں ظاہراً مسلمانوں کو فلاح کی علم بردار مگر سخت انتہاہ پسند تنظیموں کا عملاً راج ہے۔ سامراجیوں کے ستائے ہوئے مسلمان بالآخر ایسی ہی تنظیموں میں پناہ لے کر سکون محسوس کررہے ہیں۔یعنی ایک انتہا سے دوسری انتہاء کی طرف رخ ہورہا ہے۔ عالمِ اسلام کے لئے اصل راہِ نجات، قرآن کریم، نبی اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ اور راہِ اعتدال میں ہے۔ کسی بھی انتہا کا شکار ہو جانا اس کے لئے موت کا پیغام ہے۔ آج اگر ایک طرف اسلام کی تمام بنیادی اصطلاحات: جہاد، اسلامی ریاست، اسلامی خلافت، امیر المومنین، خلیفتہ المسلمین، حتیٰ کہ قرآن کریم اور رسولِ رحمتﷺ کو مذاق و استہزاء کا نشانہ بنایا جارہا ہے، تو دوسری طرف جہاد، شریعت، اسلامی حدود اور قوانین کو اپنے ہر مخالف کا صفایا کردینے کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ بزعم خود امیر المومنین کی بیعت سے انکار کو ارتداد اور ہر مرتد کو قابلِ گردن زدنی قرار دیا جارہا ہے۔
خود یہ امر بھی انتہائی باعثِ حیرت ہے کہ اس کے تمام تر ظلم و ستم کا اصل نشانہ خود مظلوم مسلمان ہی بنتے ہیں۔ کیا ہم نہیں دیکھ رہے ہیں کہ، شامی آمر بشار الاسد جیسا درندہ اور اس کی فوج ان سے محفوظ رہتی ہے، لیکن اس سفاک ڈکٹیٹر سے برسرِ پیکار مظلوم عوام اور ان کی مزاحمتی تحریک کو وہ چُن چُن کر موت کے گھاٹ اُتار رہے ہیں۔ غزہ کے محصور و بے کس عوام کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، حماس کی لیڈر شپ پر حملے کئے جارہے ہیں، وہ لوگ صہیونی ناجائز ریاست کے بارے میں خاموش کیوں ہیں؟
عالمِ اسلام کے معروف دانشوروں کے پاس داعش کے متعلق تاثرات اچھے نہیں ہیں۔ ابھی ابھی داعش کے متعلق خبر آئی ہے کہ ”لیبیا داعش کے ہاتھوں عالم دین سمیت 23/ افراد شہید ہوئے ہیں۔ ان میں اکثریت داعش کی اطاعت قبول نہ کرنے والے قبیلے الفرجان کے لوگوں کی ہے۔ مزید ایک اور خبر نظروں سے گذری کہ داعش نے 15 روز میں 2000 عراقیوں کو ذبح کر دیا ہے۔
داعش کے بار ے میں عالمِ اسلام کے معروف اسکولرس کے تجزیہ و تاثرات یہ ہے کہ داعش تنظیم کو امریکہ اور اسرائیل نے مضبوط کیا ہے۔ داعش کا سیدھا فائدہ امریکہ اور اسرائیل کو ہی ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش کی قیادت عراقی جیلوں میں پروان چڑھی۔
ان سب باتوں کا تفصیلی نچوڑ یہی ہے کہ عرب خطے میں یہ سب شرو فساد‘ منظم انتشار‘ امریکی منصوبے کا ایک حصّہ ہیں۔ طے شدہ اہداف اور ضروریات کے مطابق مختلف مہروں کو استعمال میں لایا جاتا رہے گا۔ ان کے خلاف جنگ بھی لڑی جائے گی اور انہیں باقی بھی رکھا جائے گا اور بالآخر پورے خطے کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔
آج یمن میں سعودی عرب اور ایران ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں انہیں اپنی روایت اور وتیرہ تبدیل کرکے اپنی ہی باتوں کو غلط کہنا پڑ رہا ہے۔ سعودی عرب نے مصر میں منتخب آئینی حکومت کو گرانے میں وہاں کی فوج (باغی) کی برملا حمایت کی۔ اس نے مصری فوج کی امداد کی اور مرسی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی قابض فوجی جرنیل کی حمایت اور امداد کو جاری رکھا ہے۔ سعودی عرب نے مرسی حکومت کا خاتمہ کیوں کیا؟ یہ ایک الگ اور تفصیل طلب بحث ہے، لیکن بہر حال ماضی میں حکومتوں کے قیام اور انہیں گرانے میں سعودی عرب نے بھی مروجہ سیاست کے مطابق اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اس کے مقابلے میں شام میں ایران نے سنّی اکثریت کے بر خلاف مسلک کی بنا پر اقلیتی حکمرانوں کی مدد کی۔ عرب بہار کے نتیجے میں جہاں ہر ملک میں تبدیلی واقع ہوئی وہیں شام میں بشار الاسد مظالم کی انتہاء کے باوجود بالآخر اپنے اقتدار کو کیسے محفوظ بنا سکا؟
مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہوتا نظر آرہا ہے وہ مسلمانوں کی تباہی کا بھیانک منظر ہے مسلمان' مسلمان کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ عراق تو ٹکڑے ٹکڑے ہو کررہ گیا ہے۔ یمن میں مکمل خانہ جنگی کی کیفیت ہے، وہاں مسلمانوں کی آپس میں قتل و غارت گری عروج پر ہے اور لیبیا کے تو تمام کلمہ گو مسلمان اپنے بھائیوں کے خون کے دریا میں ڈوب رہے ہیں، شام جس طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی ٹکڑے ہونے کو ہے۔ جب کہ لبنان تو مکمل تباہی کے گڑھوں میں دفن ہوچکا ہے اور اردن کی بربادی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مصر میں بھی ٹوٹنے کا عمل تیز رفتاری سے جاری ہے۔ سارے شرق اوسط کے ممالک فرقوں، مسلکوں میں بٹ کر تباہ و برباد ہورہے ہیں۔
باطل اپنے منصوبے کی تکمیل کے لئے اپنی چالیں چل رہا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ اپنی تدبیر کررہا ہے۔ رسول اکرمﷺ کی حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک مسلمان، یہودیوں کے ساتھ دریائے اردن کے قریب جنگ نہیں کریں گے، اس جنگ میں مسلمانوں کو یقینی فتح ہوگی“۔ حدیثِ پاک کے راوی کہتے ہیں کہ ”اللّٰہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ دریائے اردن کہاں ہے؟“ اس وقت اردن نامی کوئی خطہ دنیا میں نہیں تھا۔
اخوان المسلمون:
”خون اب تک تازہ ہے“
جن مسلمان ممالک پر فوجی دہشت گرد آمر مسلط ہیں ان میں عالمِ اسلام کا ایک اہم ترین ملک مصر بھی شامل ہے۔ مصر کے پہلے منتخب صدر کو بر طرف کرنے کے بعد مصر کی حکومت نے آج سے دو برس قبل احتجاج کرنے والے مظاہرین کا قتل عام کیا تھا۔ مصر میں جابرانہ اور استبدادی حکومت کے باوجود اخوان المسلمون اور مصری عوام نے سانحہ رابعہ عدویہ کے دو برس مکمل ہونے کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے۔ مصر کے فوجی آمر جنرل عبدالفتاح السیسی کے حکم پر پولس اور سیکورٹی اداروں نے رابعہ عدویہ پر دھرنا دینے والے احتجاجی مظاہرین کا قتل عام کیا تھا۔ انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہونے والی مصری حکومت کے مظالم پر، امریکا، یورپ، جمہوریت کے دعویدار تمام ممالک سمیت اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے اس ظلم و درندگی اور بربریت کی خاموش حمایت کی ہے۔ مصر میں اخوان المسلمون کے سیاسی قائدین کو عدالتوں کے ذریعے سزائے موت سنائی جارہی ہیں جن میں مصر کے پہلے منتخب آئینی صدر محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع بھی شامل ہیں۔ مصر کے واقعات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ امریکا اور مغرب کے حکمران اپنے ہی شہریوں کی آواز کو کچلنے کے لئے سفاکی و درندگی کی کس انتہا تک پہنچ سکتے ہیں۔ مصر کے واقعات نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے علم بردار مغرب اور امریکا کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی بھی کھول دی ہے اور یہ قوتیں کسی بھی ملک میں اسلام کے نام پر سیاسی تبدیلی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ لیکن اس سے بڑا ستم یہ ہے کہ خود کئی مسلم ممالک نے باغیوں سے تعاون کیا اور فوجی حکومت کو مستحکم کرنے کے لئے خزانے کے دروازے کھول دیے۔ مصر میں اسلامی حکومت کے قیام اور استحکام سے وہ مسلم ممالک کے حکمران خوف زدہ ہوگئے تھے جہاں آمریت قائم ہے۔ اور وہ امریکا کے باجگذار بھی ہیں۔
آج جب کہ مصر میں اخوان المسلمون کو کچلنے کے لئے نئے سیاہ سیسی قانون کو منظوری دے دی گئی ہے، ساتھ ہی ساتھ میڈیا پر قدغن لگانے کے لئے بھی نیا قانون متعارف کرایا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر کسی کو اخوان میں شامل ہونے کا مجرم پایا گیا تو اسے 10/سال قید کی سزا سے گذرنا ہوگا۔ نئے قانون کے تحت غلط رپورٹنگ پر کم ازکم 2/لاکھ پاؤنڈ اور زیادہ سے زیادہ 5/لاکھ پاؤنڈ تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔
اخوان کی اولو العزمی ہے کہ بدترین جبر و تشدد کے دو برس گزر جانے کے بعد بھی ان کی تحریک ختم نہیں کی جاسکی۔ ابھی حال ہی میں سیسی کے خونی انقلاب کی دوسری سال گرہ بلکہ ’برسی‘ منائی گئی۔ اس موقع پر ایک کوشش اخوان کے اندر غلط فہمیاں اور اختلافات پیدا کرنے کی بھی ہورہی ہے۔ کچھ جذباتی نوجوانوں کو پُر امن تحریک سے مسلح جدوجہد کی طرف ڈھکیلنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ لیکن! کوشش بھی کوئی نئی بات نہیں، بلکہ پرانا ابلیسی ہتھکنڈا ہے اور الحمد اللّٰہ! اخوان اس سے نمٹنا خوب جانتے ہیں۔
روہنگیا:
برمی حکومت کے مظالم کا شکار روہنگیا مسلمان ایک نئی پریشانی سے دوچار ہیں۔ برما سے نکل کر مسکن کی تلاش میں دیگر ممالک جانے والے روہنگیا خاندانوں کی لڑکیوں کو اہلِ خانہ سے چھین کر ملائیشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور بنگلہ دیش میں فروخت کیا جارہا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ میں اس سنگین المیہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا ہے ملائیشی، انڈونیشی اور تھائی سرحدوں پر اسمگلروں نے بردہ فروشی کے مراکز قائم کر دیئے ہیں، جہاں سے مجبور و بے کس روہنگیا لڑکیوں کو کھلے عام فروخت کیا جارہاہے۔ کیا اُمّت مسلمہ میں محمد بن قاسمؒ جیسے افراد نہیں رہے؟
کریمیا:
چنگیز خان کی اولاد تاتاری وسط ایشیاء میں صدیوں سے آباد ہیں۔ انہوں نے 922ء عیسوی میں اسلام قبول کیا اور ترکی رسم الخط چھوڑ کر عربی رسم الخط اختیار کرلیا۔ 1241ء میں چنگیز خان کے پوتے باکو خان نے تاتارستان کے نام سے ریاست قائم کی جو تا دیر قائم رہی۔ 1920ء میں کمیونزم اور سوویت یونین نے انہیں پھر سے جکڑ لیا، اور تاتاریوں کی آزادی پسند قیادت کو قتل کر دیا گیا۔ 1944ء میں تاتاریوں کی 75 فیصد آبادی کو آدھے گھنٹے کے نوٹس پر لاریوں میں بھر کے سائبریا اور دیگر علاقوں میں بکھیر دیا گیا۔ 1970ء تک تاتاریوں کے لئے روسی کلچر اور روسی زبان لازمی تھی۔
1990ء میں سوویت یونین ٹوٹا تاتاریوں نے آزادی کا اعلان کرتے ہوئے اپنا قانون نافذ کر دیا۔ بعد ازاں یہ چھوٹا سا علاقہ کریمیا، یوکرین میں شامل ہوگیا۔ مگر دوبارہ روسی قبضے کے بعد ان کے حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور ان کی شناخت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
گذشتہ برس کریمیا پر قبضے کے بعد سے روس مسلم تاتاریوں کے خلاف اشتعال انگیز کاروائیاں کررہا ہے۔ ان کی جان و مال اور عزتیں محفوظ نہیں، تعلیمی ادارے بند کئے جارہے ہیں۔ روسی فوجیں قبروں کو مسمار کر دیتے ہیں۔ گھروں اور دکانوں پر قبضہ کیا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی قازقستان، تاجکستان، ترکمانستان، ترکی اور شام میں تاتاریوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ان کی اکثریت سنّی مسلمان ہے۔
بھارت:
بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایگزیکیٹو کونسل نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب کم کرنے کے لئے سفارشات تیار کرلی ہیں۔ ہندو تنظیموں کے تعاون سے تیار کی گئی سفارشات میں فیملی پلاننگ لازمی قرار دینے، ہندوؤں کو اسلام قبول پر قانونی پابندی، مسلمان مردوں پر دوسری شادی کرنے کی پابندی اور مسلمان مردوں و خواتین کی جبری نس بندی سمیت ان کے لئے ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں مختص کو نہ ختم کرنے اور مساجد و مدارس کے قیام پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان:
مذہبی‘ سیاسی‘ گروہی‘ طبقاتی کشمکش سے قطع نظر ہر طبقے نے اس ملک کو تباہ کرنے میں اپنا حصّہ ادا کیاہے‘ جس کی وجہ سے وہاں انفرادی اور اجتماعی زندگی سے سکون رخصت ہوچکا ہے۔ حکمرانوں کا کون سا عمل ایسا ہے جو خالق کائنات کے غصّے کو بھڑکانے والا نہیں ہے۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آخرت کا حساب تو بہت دور ہے‘ دنیا میں ہمارا حساب لینے والا کوئی نہیں۔ وہ اس بات کو بھولے ہوئے ہیں کہ ساری قدرت اور اختیارات اللّٰہ کے پاس ہیں۔ پاکستان میں اجتماعی زندگی میں پیش آنے والے تمام واقعات اللّٰہ کو ناراض کرنے والے ہیں اور وہ اس دنیا میں بھی قوموں کو سزا دیتا ہے‘ وہ قہار و جبّار اپنے آخری رسولﷺ کے ذریعے آخری کتاب میں اپنے بندوں کو تنبیہ کر چکا ہے کہ:
”کہو‘ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کردے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کردے‘ یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کررہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں۔“ (سورۃ الانعام: 65)
سیلاب‘ قحط سالی‘ گرمی کی لہر‘ زلزلہ‘ وبائی بیماریوں کی صورت میں آسمانی و زمینی عذاب بھی مسلط ہے اور بم دھماکے‘ خودکش حملے اور گروہوں میں تقسیم کر دینے کے عذاب کی ایک شکل ہیں۔ اس ملک میں دشمنوں کو ایسے گمراہ اور ذہنی مریض مل گئے ہیں جو آپس کی جنگ کو تیز کرنے اور بھڑکانے کا سبب بن رہے ہیں۔ اللّٰہ گروہوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے لڑا کر ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا رہا ہے، اس عذاب سے اس وقت تک نجات نہیں ملے گی جب تک اجتماعی جرائم سے توبہ نہیں کی جائے گی۔
افغانستان:
8/ جولائی 2015ء کو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مری میں پاکستان کی معاونت سے مذاکراتی عمل کی میز سجائی گئی۔ ان مذاکرات میں تین بنیادی باتوں پر اتفاق ہوا ہے:
(1) فریقین میں اعتماد کا فروغ،
(2) امن کے لئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق (3) فریقین میں مصالحت کے طریقۂ کار پر زور۔
ابھی تو آیا ہے زنداں، توقع ہے دار آئے:
یہ کوئے جاناں ہے ہم سفیرو، عزیز ہو سر تو لوٹ جاؤ ابھی تو آیا ہے زنداں، توقع ہے دار آئے
غلبۂ دین کے پیرو کاروں کے لئے دار و رسن کی سعوبتوں کو انگیز کرنے کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔ بنگلہ دیشی اقتدار پر قابض ناگن حسینہ واجد، انسانی لہو کے جام پر جام پی رہی ہے۔ ہزاروں علماء، طلبہ، سیاسی کارکنوں کے خون کی ہولی کھیلنے کے ساتھ، جس نے گذشتہ عرصے کے دوران تحریکِ اسلامی کے مرکزی رہنماؤں عبدالقادر ملّا اور محمد قمرالزّماں کو پھانسی دی۔ اب اس عمل میں تیزی لائی جارہی ہے۔ اس خونیں کھیل کے لئے نام نہاد، ”عالمی جنگی جرائم کا ٹریبونل“ قائم کیا گیا ہے، جسے دنیا کے کسی باضمیر فرد نے عدالت تسلیم نہیں کیا ہے۔ اسی کے ذریعے بنگلہ دیش میں تحریک اسلامی کی لیڈر شپ کو تہہ تیغ کیا جارہا ہے۔
16/ جون کو اکثر مسلمان ممالک میں شعبان کی 29/ تاریخ تھی، رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کا دن تھا۔ بدقسمتی سے عین اسی روز کچھ بدنصیب اپنا نام مزید ظلم و ستم ڈھانے والوں میں لکھوا رہے تھے۔ قاہرہ کی عدالت میں ملک کے منتخب و آئینی صدر محمد مرسی اور اخوان کے مرشدِ عام ڈاکٹر محمد بدیع سمیت اخوان کے درجنوں قائدین جمع تھے اور انہیں ایک بار پھر سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی جارہی تھیں۔ حالانکہ کمرۂ عدالت میں انصاف کرنے کا حکم دینے والی آیت قرآنی بھی جلی حروف میں لکھی تھی، لیکن مصر کے جج، احکامِ الٰہی کے نہیں، بلکہ ’مصری فرعون‘ کے احکام پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ سب سزا یافتہ اپنے اپنے پیشہ ورانہ میدان کے شہ دماغ ہیں۔ صدر محمد مرسی انجینیرنگ میں پی ایچ ڈی، مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع میڈیکل یونی ورسٹی کے پروفیسر، نائب مرشدِ عام کامرس میں پی ایچ ڈی اور عالم عرب کے چوٹی کے کامیاب ترین ماہرینِ اقتصادیات میں سے ایک ہیں۔ یہی نہیں بلکہ درجنوں کی تعداد میں یہ سب نابغہ روز گار دلوں میں قرآن بسائے، دن رات قرآن کی محبت میں گذارنے والے حفاظ کرام بھی ہیں۔ تمام سزا یافتگان نے سزائے عمر قید و سزائے موت کے فیصلہ سن کر تکبیر تحمید اور تہلیل بلند کی، اللّٰہ اکبر ولللّٰہ الحمد لاٰ اِلٰہ اِلاّ اللّٰہ۔
مصر میں ایمنسٹی انٹر نیشنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق صدر محمد مرسی کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد دو سال میں مصر‘ عوامی مظاہروں سے، عوام کو پابندِ سلاسل کرنے کی منزل تک آگیا ہے۔ شائع ہونے والی رپورٹ بڑھتے ہوئے ریاستی جبر کی نشاندہی کرتی ہے۔ 30/ جون کو اس رپورٹ کی اشاعت کے ساتھ مصر میں ہونے والے ان مظاہروں کو دو برس ہوگئے، جن کے زیادہ تر شرکاء آج جیل میں ہیں۔ ایک رپورٹ کے حوالے سے قریباً 41000افراد گرفتار ہوئے، ملزم بنے یا مجرم قرار دیے گئے۔ ان میں سے اکثر مقدمات غیر منصفانہ تھے، جن میں سیکورٹی فورسیز کے بیانات کو ہی شواہد قرار دیا گیا۔
حال ہی میں مصری فوج کے 26 اعلیٰ افسران کو اخوان المسلمون کا حامی قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ اس حوالے سے اخوان المسلمون کی حمایت کا الزام لگا کر 500 سے زائد فوجی افسران کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔جن میں سے 100 کو مقدمات چلائے بغیر مخلتف نوعیت کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
امیریکن سائیکولوجیکل ایسوسیشن American Psychological Association (APA) کے ڈاکٹروں نے پیشہ وارانہ اخلاقیات کے پرخچے اڑائے، جنگی قیدیوں پر غیر انسانی تشدد کی نہ صرف منظوری دی بلکہ الزامات لگنے پر جھوٹی تردید کا سہارا بھی لیا۔ واٹر بورڈنگ اور وحشیانہ تشدد کے دیگر طریقوں کی تجاویز امریکی ماہرین نفسیات نے خود فوج کو فراہم کیں۔ صرف دو ماہرین نفسیات ایسے تھے جنہوں نے اس جرم عظیم کا صلہ 81 ملین یعنی آٹھ کروڑ دس لاکھ ڈالر کی صورت میں وصول کیا۔
امریکہ اور اس کے حواریوں کی فوجی اور نفسیاتی طاقت زنداں کی زندہ روحین نہ کچل سکی ہیں اور ان شاء اللّٰہ! نہ کچل سکیں گیں۔ گوانتا نامو، ابو غریب، بگرام جیل اور قندھار کے اندھیر خانے نورِ خدا کو بجھا نہ سکے ہیں، یہ نور اذیت بھرے کٹہروں میں زندگی کی شمعیں روشن کرتا رہا ہے، یہاں تک کہ نگرانی پر مامور فوجیوں نے بھی اس نور کا مشاہدہ کیا ہے، ضمیر کی خلش محسوس کی ہیں۔ جسمانی طور پر اذیت بھرے کٹہروں میں بند کردیا جائے تب بھی روحانی بالیدگی سے شخصیت میں پُر سکون ملکوتی حسن اور ٹھہراؤ قائم رہتا ہے۔
ہمارے ملک میں بھی خونِ مسلم سے رقم کی گئی کئی داستانیں اُمّت کو آج بھی لہو لہان کر رہی ہیں۔ اس کی ایک مثال 1987ء کا ہاشم پورہ کیس ہے، جس کا فیصلہ گزشتہ کچھ ماہ پہلے ہی سامنے آیا ہے۔ عشرت جہاں کیس جس میں اعلیٰ سیاسی قیادت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ سہراب الدین کیس، صادق جمال کیس، خواجہ یونس کیس، مولانا خالد مجاہد کیس، آئی ایس افسر ضیاء الحق کیس، ملیانہ انکاؤنٹر کیس، دہلی جامعہ ملیہ کا بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کیس سمیت کئی کیسیز میں بے گناہ مسلمانوں کو فرضی مقابلوں میں شہید کیا جاچکاہے۔
کیا کبھی کسی نے سنا کہ پھانسی کا قیدی اپنی آخری رات پر سکون نیند سویا۔ انسانی تخیل میں سب سے خوف ناک تو موت ہی ہے۔ لیکن جس کی لو موت و حیات کے مالک سے لگ جائے پھر اس کی حالت کچھ مختلف ہوجاتی ہے۔ یہی تو وجہ ہے کہ سزائے موت کا وقت اور تاریخ مقرر ہونے کے باوجود ایک قیدی جسے حال ہی میں پھانسی کے مرحلے سے گذار کر ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا گیا ہے، انتہائی پر سکون انداز میں رات کو سوگیا تھا۔ یہ شاید تاریخ میں کم ہی ہوا کہ موت کے پھندے کو سامنے دیکھ کر بھی کسی کو سکون کی نیند آجائے۔ ؎
تا حشر زمانہ تمہیں مکار کہے گا
تم عہد شکن ہو، تمہیں غدار کہے گا
نام اونچا زمانے میں ہر انداز رہے گا
نیزے پہ بھی سر اپنا سرفراز رہے گا
اللّٰہ ہمیں ہمیشہ ان مظلوموں کے شانہ بشانہ کھڑا رکھے، جو کمزور پا کر دبا لئے گئے ہیں۔ بے گناہ قیدی جو چاہے مصر کی جیلوں میں ہوں یا فلسطین میں، بنگلہ دیش، اراکان اور افغانستان کے زندان خانوں میں یا خود ہمارے اپنے ملک میں........ ہمیں ان کی آزادی کے لئے ہر دروازے پر دستک دینا ہوگی۔ ایسا نہ ہوا تو خدانخواستہ ایک روز سب ہی کو ایسے روز بد دیکھنا پڑ سکتے ہیں۔ والعیاذ بااللّٰہ۔
مسلمانوں کے لیے اس صورت سے بچنے کی بس ایک یہی صورت ہے کہ اللّٰہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لیں، تفرقہ میں نہ پڑیں، اللّٰہ کا رنگ اختیار کریں، اور سلامتی کے فروغ میں ہر ممکن ذریعے سے پیش رفت کریں۔ عالم اسلام کو مشترکہ معاشی منڈی اور مشترکہ دفاعی نظام بنانے کی ضرورت ہے۔ اُمّت کی وحدت ایٹم بم سے زیادہ طاقتور ہے۔ جب تک ہم اہلِ حق بنیانِ مرصوص نہیں بن جاتے، دنیا کی باطل قوتوں کی سازشوں کے شکار ہوتے رہیں گے۔ عالمی سازشوں کا ہدف کیا ہے، ان کا ہدف بالکل واضح ہے اور وہ ہے اس دنیا پر ایک شیطانی عالمگیر حکومت کا قیام۔ اس کے لیے وہ ہر طریقۂ کار استعمال کررہے ہیں۔ وہ جو بھی کر رہے ہیں، کم از کم اپنے مقصد کے ساتھ مخلص تو ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم کیا کررہے ہیں؟ اس پر فکر بھی کیجئے اور کچھ کرنے کا عزم بھی۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہوشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھئے۔
ان شاء اللّٰہ! ظالم و جابر، صہیونیت و امریکہ کے غلام،، کرپٹ اور فساد زدہ حکمران آج نہیں توکل قصۂ پارینہ بن جائیں گے۔ باقی وہی بچے گا جو رحمتہ اللعالمینﷺ کے عطا کردہ نظام کے سائے تلے اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔ عوام سے بھی انصاف کرے گا اور خود اپنی ذات سے بھی انصاف کرے گا۔ اب ایک نیا عالمی اسٹیج تیار ہورہا ہے جس کی حتمی صورت بہت جلد پوری دنیا دیکھ لے گی۔ روحِ اقبال پکار پکار کر کہہ رہی ہے......
”جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پیر مررہاہے!“
ربّ کا فرمان کسی صورت غلط نہیں ہوسکتا:
وَ کَلِمَتہُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا
(اللّٰہ کا کلمہ ہی سر بلند ہو کر رہنا ہے)
(29.08.2015)
شاہی مسجد، اورنگ آباد۔
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment