امّت کی نادان بہنوں و بیٹیوں کے نام
•امّت کی نادان بہنوں و بیٹیوں کے نام•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
•امّت کی نادان بہنوں و بیٹیوں کے نام•
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
بروز بدھ 28/فروری 2006ء صبح جب میرے ایک رفیق نے مجھے فون پر گفتگو کے درمیان یہ کربناک خبر سنائی کہ’ایک اور ملّتِ اسلامیہ کی بیٹی نے ایک غیر مسلم کے ساتھ گھر سے فرار ہو کر شادی (زنا) کرکے فتنۂ ارتداد کا شکار ہوگئی ہے‘..... یہ سن کر طبیعت کا عجیب حال ہوگیا، دماغ ماؤف ہوگیا، افسردگی اور قنوطیت کی چادر نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ کئی سوال ذہن میں موجیں مارنے لگے۔ کیا واقعی ہمارا معاشرہ اب پستی کے اس اندھیرے کنویں میں اُتر چکا ہے کہ ہمیں نہ اللّٰہ کے احکام نہ رسولﷺ کے ارشادات، نہ خاندانی عزّت و ناموس نہ اخلاقی قاعدوں اور ضابطوں کا پاس و لحاظ رہا؟؟ کیا واقعی ہمارا معاشرہ اتنا کھوکھلا، اتنا پست، اتنا فحش، اتنا عریاں اور اتنا بے حس ہوگیا ہے؟؟؟ کیا واقعی وقتی لذّت کا حصول اور عیش کوشی ہمارے معاشرے پر ایسی غالب آگئی ہے کہ اس میں ڈوب کر ہمیں کچھ بھی یاد نہیں رہتا؟؟؟؟
بات چل رہی ہے ان نادان بیٹیوں اور ناتجربہ کار نو عمر بہنوں کی جو محبت کے نام پر عفت و عصمت، حتیٰ کہ ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ جو عشق کے دلدل میں اُتر کر سب کچھ بھول جاتی ہیں؟ مذہبی تعلیمات، معاشرتی و خاندانی اقدار، اخلاقی نزاکتیں، عفت و عصمت کے تقاضے اور چھوٹے چھوٹے بہن بھائی سب کچھ ہی بھول جاتی ہیں۔ خوبصورت اور پُر کشش جملوں سے بُنے گئے جال میں پھنس جاتی ہیں، صرف صورت کو معیار بنا لیتی ہیں اور سیرت و اخلاق کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ نہ ماضی کو دیکھتی ہیں نہ مستقبل کو، نہ خاندانی روایات کو نہ اسلامی تعلیمات کو، نہ بوڑھے والدین کو نہ معصوم بھائی بہنوں کو، ان کی نظر اپنی خواہشات پر ہوتی ہیں اور حال کے خوش کُن منظر پر وہ عجلت میں کئے گئے فیصلے کے تحت گھر کی چوکھٹ سے باہر قدم رکھ دیتی ہیں۔ وہ ماں بھی یاد نہیں رہتی جس نے معصوم جان کو درد کے ساتھ جنا، پھر اسے پال پوس کر جوانی کی دہلیز تک پہنچایا۔ حسبِ توفیق تعلیم و تربیت دی، اپنے کانوں کی بالیاں اور ہاتھوں کی چوڑیاں اتار کر رکھ دیں کہ بیٹی کے کام آئیں گی۔ وہ بوڑھا باپ یاد نہیں رہتا جسے جوان ہوتی ہوئی بیٹی کی فکر گھُن کی طرح کھائے جارہی ہے۔ سوتے میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے، ذرا سی آہٹ پر اس کی آنکھ کھل جاتی ہے، وہ نہیں چاہتا کہ اس کی بیٹی کے اُجلے دامن پر چھنگلیا کے ناخن کے برابر بھی کوئی دھبا لگے۔ وہ اپنی بیٹی کے لئے بہترین شریکِ سفر کے انتخاب کے لئے مارے مارے پھرتا ہے۔ نامعلوم وہ کتنے خاندانوں کے بارے میں تحقیق کر چکا ہے اور اس کی نظریں کتنے چہروں کو تاڑ چکی ہیں....... لیکن بیٹی پر جان نچھاور کرنے اور اس کی خاطر راتوں کی نیند حرام کرنے والے والدین کے جذبات و احساسات پر ایک دن اچانک یہ اطلاع بجلی بن کر گرتی ہے کہ بیٹی نے گھر سے فرار ہوکر ”لو میرج“ کر لی ہے۔
باپ اس کی حرکت پر تلملاتا ہے، تڑپتا ہے، ہاتھوں کی انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتا ہے، اس کا دل کہتا ہے کہ تربیت میں ضرور کوئی کمی رہ گئی ہوگی ورنہ یہ سیاہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور یہ المناک خبر نہ سننا پڑتی۔ ماں چھپ چھپ کر روتی ہے، وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی، اس کی عزت خاک میں مل کر رہ گئی ہے، اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس کی کوکھ سے ایسی بیٹی جنم لے گی جو فسق و فجور کے اندھے کنویں میں چھلانگ لگا اپنے ایمان کا سودا کر دے گی۔ بہن بھائی جدائی پر خون کے گھونٹ پیتے ہیں، انہیں اپنی بہن سے کم از کم ایسے انتہائی اقدام کی توقع نہ تھی۔ اب ہونا تو یہ چاہئے کہ ایسی ناعاقبت اندیش بہنوں اور بیٹیوں کو سرزنش کی جائے، انہیں سمجھایا جائے، اس مذموم حرکت کے عواقب اور نتائجِ بد ان کے سامنے بیان کئے جائیں۔ انہیں بتایا جائے کہ مسلمان بیٹی گھر سے فرار نہیں بلکہ رخصت ہواکرتی ہیں، یہ تو غیر مسلموں کے اطوار ہیں، یہ تو اس دجّالی تہذیب کی پروردہ حیاباختہ دوشیزاؤں کے انداز ہیں جہاں بلوغت کے بعد بیٹی کو ناقابلِ برداشت بوجھ سمجھتے ہوئے گھر سے باہر دھکیل دیا جاتا ہے، پھر وہ ”بوئے فرینڈ“ کی تلاش میں نامعلوم کتنی بار لٹتی اور کتنے ہوس پرست بھنوروں کے ہاتھوں دھوکہ کھاتی ہے لیکن بار بار لُٹنے اور دھوکہ کھانے کے باوجود اکثر وہ ”اپنا گھر“ بسانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔
عزیزات! تمہارا تعلق تو ایک مسلمان معاشرہ کے ساتھ ہے، عصرِ حاضر میں وہ معاشرہ دیمک خوردہ ہی سہی مگر بہرِ حال اس کی اپنی تہذیب و ثقافت ہے، اپنی پہچان اور مخصوص روایات ہیں۔ بیٹی کو رخصت کرنے کا اپنا ایک طریقہ اور سلیقہ ہے، بے شک شریکِ زندگی کے انتخاب میں تمہاری پسند نا پسند کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے مگر نرم گرم چشیدہ والدین کا تجربہ، ان کی محبت اور ان کی رائے بھی تو کوئی وزن رکھتی ہے، وہ تمہارے خیر خواہ ہیں بد خواہ نہیں، دوست ہیں دشمن نہیں، تمہیں سُکھی دیکھنا چاہتے ہیں دکھی نہیں۔ تمہاری مسکراہٹ ان کے دل کو خوشی سے بھر دیتی ہے اور تمہارے آنسو انہیں تڑپا دیتے ہیں۔ تم نے جس راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے یہ ذلت کا راستہ ہے عزت کا نہیں، مستقبل کی تباہی کا سبب ہے اس کی تعمیر کا ذریعہ نہیں۔
پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے ہماری بہنوں اور بیٹیوں کے دل و دماغ میں جو فتور بھرا ہے اس نے انہیں آئیڈیل ازم کی بیماری میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان میں سے کئی ایک سڑکوں، بازاروں، پارکوں، کلبوں، پارٹیوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آئیڈیل کی تلاش میں ماری ماری پھرتی ہیں اور پھر وہ خاندانی پس منظر، عملی اور اخلاقی کمزورویوں کو پرکھے بغیر ظاہری چمک دمک سے متاثر ہوکر اور دوچار ملاقاتوں کے بعد ”جیون ساتھی“ کا انتخاب کر لیتی ہیں۔
دیکھا جائے تو اس عبس اور فحش و عریاں، فسق و فجور، اور ارتداد کے پیچھے وہ والدین ذمہ دار ہوتے ہیں، جو بیٹی کی آزادی، بے حجابی، عریانیت، غیر مردوں سے اختلاط، تنہا پارٹیوں میں جانے اور بلا امتیاز جنس حلقہ احباب بڑھانے پر کبھی معترض نہیں ہوتے، لیکن جب شرم و حیاء کا جنازہ ان کے گھر سے اٹھتا ہے تو رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ ذمہ دار وہ مصلحین بھی ہیں جو غیر ضروری مسائل کے پیچھے پڑ کر یا تن آسانی، خویش پروری اور زر اندوزی کی ہوس میں مبتلا ہوکر معاشرتی اصلاح کے فریضہ سے غافل ہوگئے ہیں۔ یہ ان کی غفلت ہی کا نتیجہ ہے کہ ایمان و عقیدہ، شرم و حیاء جیسے الفاظ بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں، زنا آسان اور نکاح مشکل ہوگیا ہے، جہیز اور اس جیسی دوسری بہت ساری لایعنی رسوم نے نبی اکرمﷺ کی آسان ترین سنّت کو مشکل ترین بنا دیا ہے۔ جب تک مرد و زن کے بے حجابانہ اختلاط پر پابندی نہیں لگائی جائے گی، عفت و عصمت کی اہمیت دلوں میں نہیں بٹھائی جائے گی، معاشرتی مصلح اور مبلغ اپنا کردار ادا نہیں کریں گے، نکاح کو جاہلی اور خود ساختہ خاندانی رسوم کی زنجیروں سے آزاد نہیں کروایا جائے گا، جذباتیت کا شکار کئی بہنیں، بیٹیاں خاندان سے، مذہبی اقدار سے بغاوت کرتی رہیں گی، عارضی بندھن قائم ہوتے رہیں گے، خول اترتے رہیں گے، تلخیاں سر اٹھاتی رہیں گی، شہوات کے گھروندے ٹوٹتے رہیں گے، نوخیز کلیاں جرمِ بے گناہی کی آگ میں جلتی رہیں گی۔۔۔۔
جب ہر طرف عریانیت اور فحاشی ہو، سڑکوں پر حیا باختہ حسن اور بے حجاب بجلیاں ہوں۔ رسالوں اور اخبارات میں نیم عریاں بلکہ عریاں تصویریں ہوں، ٹی وی کی اسکرین پر ہیجان انگیز مناظر ہوں، شہوانی جذبات کو بھڑکانے والی فلمیں اور ڈرامے ہوں۔ اسکول کالج سے لے کر گلی کوچوں اور گھروں تک مخلوط محفلیں ہوں۔ (کہاں ہیں لڑکیوں کی تعلیم کا نعرہ دینے والے ماہرِ تعلیم؟؟) جب شرعی پردہ کو قدامت پرستی قرار دے کر ترک کر دیا جائے اور لعنتی دجّالی تہذیب کے طور طریقے اپنانے میں فخر محسوس کیا جائے، جب شادی جیسے بندھن کو مشکل سے مشکل تر بنا دیا جائے اور اس کی راہ میں جہیز، معیار اور رسوم و رواج کی بلند دیواریں کھڑی کر دی جائیں۔ رشتے کا معیار سیرت و اخلاق کی بجائے زر، زمین، فلیٹ، کار اور Jobs کو بنا لیا جائے۔ ہاں! جب شہوت کی آگ بھڑکانے اور اس کے شعلے بلند سے بلند تر کرنے میں ہر امکانی کوشش تو کی جائے........ مگر اس کی تکمیل کی راہ میں ناجائز رکاوٹیں کھڑی کی جائیں تو پھر فحاشیت، عریانیت اور فتنۂ ارتداد سے بھرپور یہ مناظر ہمیں دیکھنے ہی پڑیں گے۔
ان حالات میں ہر حسّاس مسلمان پر عموماً اور اہلِ علم پر خصوصاً یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہمیں اس مسئلہ کا حل دجّالی عینک لگا کر نہیں، اسلامی شریعت کا چراغ روشن کر کے سوچنا ہوگا۔ ہمیں ان مخلوط مجلسوں، تعلیم گاہوں،تفریح گاہوں اور پارکوں پر نظر رکھنی ہوگی جہاں گناہ کے جراثیم پنپتے اور بدکاری کے بیج نشوونما پاتے ہیں۔
ہمیں نکاح کو آسان سے آسان تر بنانا ہوگا، نکاح کو آسان بنائے بغیر بدکاری کا راستہ روکنا ناممکن ہے، جب فطرت کے تقاضوں کی تکمیل کے جائز راستے بند کئے جائیں گے تو ناجائز راستوں کے فروغ کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
ہمیں اپنے گھروں سے اس دجّالی فتنہ کیبل کنیکشن کو، جس کے ذریعہ فحش اور عریاں فلموں اور ڈراموں کو گھر گھر پہنچا کر ذہنوں کو پراگندہ اور مقدس رشتوں کو پامال بنانے کی ترکیبیں بتائی جا رہی ہیں، جس کے مضر اثرات ہماری نسلوں پر مرتب ہو رہے ہیں، اسے اپنے گھروں سے نکالنا ہوگا۔ الیکٹرونک میڈیا پر جس قسم کے پروگرام پیش کئے جاتے ہیں ان کی جو تفصیلات بعض ناظرین اور اخبارات و رسائل کے واسطہ سے پڑھنے اور سننے میں آتی ہیں، ان کی بناء پر خیال ہوتا ہے کہ جن والدین نے گھروں میں فحاشی اور عریانیت کے یہ اڈّے قائم کر رکھے ہیں، انہوں نے شاید اپنے ہاتھوں سے اپنی اولاد کے ایمان اور شرم و حیاء کا گلا گھونٹ دینے کا عزم کر رکھا ہے۔ ایک حسّاس مسلمان کو چاہئے کہ وہ جیسے مال و متاع کے ڈاکوؤں کو دیکھ کر ”بچاؤ! بچاؤ!“ کی آوازیں بلند کرتا ہے یونہی ان غارت گرانِ ایمان و حیاء سے بھی ”الحذر، الحذر“ کہتا ہوا دور سے دور بھاگ جائے۔
ہمیں چاہئے کہ گھر سے خاندان تک، محلّے سے بازار تک اور شہری سطح سے ملکی سطح تک اس امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضہ کو زندہ کریں، اس فریضہ کا احیاء فرد اور معاشرہ کی نیک بختی کا ضامن ہے، اس کے احیاء سے امّت میں خیر اور صلاح کے جذبات پرورش پائیں گے اور شر و فساد کے عوامل کا ازالہ ہوگا اور ایسی صالح فضاء بنے گی جس میں فضائل و آداب کے پھولوں کا کھلنا آسان ہوگا، اس امّت کے افضل الامم ہونے کا راز اسی فریضہ کی ادائیگی میں مضمر ہے۔
سورۃ النساء میں ہے: ”تم بہترین امّت ہو جسے لوگوں کے لئے برپا کیا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔“
سورۃ توبہ میں ایسے مخلص اور مجاہد مؤمنوں کے نو اوصاف بیان کئے گئے ہیں، جن کی جانیں اور اموال اللّٰہ نے جنّت کے بدلے خرید لئے ہیں، ان نو اوصاف میں سے دو وصف یہ ہیں: ”وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہیں“۔ انسانیت کے عظیم خیر خواہ اور ہمارے آقا حضرت محمدﷺ نے متعدد احادیث میں امّت کو اس فریضہ کی ادائیگی کرتے رہنے کی تاکید فرمائی ہے، یہاں تک فرمایا فریضہ کی ادائیگی کرتے رہنے کی تاکید فرمائی ہے، یہاں تک فرمایا کہ اگر تم نیکی کا حکم نہیں دو گے اور برائی سے نہیں روکو گے تو تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔ (ابنِ ماجہ)
آپﷺ نے بنی اسرائیل کی ہلاکت اور ان پر اللّٰہ کی لعنت کی پہلی وجہ بھی یہی بیان فرمائی ہے کہ وہ منکرات کا ارتکاب ہوتے دیکھتے تھے لیکن ان سے منع نہیں کرتے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ اللّٰہ کے کچھ مخلص بندے آج بھی حالات اور مفادات سے متاثر ہوئے بغیر اس فریضہ کو زندہ رکھے ہوئے ہیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ جیسے منکرات کی اشاعت کرنے والوں نے اپنے سارے وسائل جھونک دیئے ہیں اسی طرح اہلِ حق بھی ان کے سدِّباب کے لئے وہ سب کچھ کر گزریں جو ان کے بس میں ہے۔ اگر علماء اور دیندار طبقے نے اس فریضہ کے احیاء کی سنجیدہ اور اجتماعی کوشش نہ کی تو فواحش اور فتنۂ ارتداد کی آگ ان کے دامن کو بھی جلا ڈالے گی، ایمان کے لٹیرے ان پر بھی حملہ آور ہوں گے اور گناہوں کی بیماریاں ان کے اہل و عیال کو بھی ادھ مرا کردیں گی اور اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ ایسا ہوچکا ہے تو ہم اس دعویٰ کی کلّی تردید ہر گز نہیں کر سکتے......!!!!
دیکھئے جب کچرا گھر کے باہر ہوتا ہے تو جلد سے جلد اسے ہٹانے کی کوشش ہونی چاہئے ورنہ اس کی بدبو کبھی نہ کبھی ہمارے گھر کو بھی پراگندہ کر دیتی ہے۔
برائی کے سدِّباب کے لیے ہمیں اگر قوت کا بھی استعمال کرنا پڑے تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ برائی کے خلاف جہاد ایمان کا تقاضا ہے۔ کیونکہ ہمارے آقا محمدﷺ نے فرمایا ”تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے تو اسے طاقت سے بدل ڈالے۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو پھر زبان سے (اس کے خلاف) جہاد کرے اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو کم از کم پھر اپنے دل میں ہی اس سے نفرت کرے اور یہ آخری کیفیت نہایت کمزور ایمان (کی نشانی) ہے“۔ (مسلم، ترمذی و ابوداؤد)
(28.02.2006)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment