عالم اسلام کی موجودہ صورتحال
•عالمِ اسلام کی موجودہ صورت حال•
(ایک تجزیاتی مطالعہ)
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
•عالمِ اسلام کی موجودہ صورت حال•
(ایک تجزیاتی مطالعہ)
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
شاہی مسجد، اورنگ آباد۔
◆ 3/تیسرا انتفاضہ جاری ہے
◆ ترکی
◆ فرانس
◆ لیبیا:(جس پر نئی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں)
◆ داعش ایک معمہ
◆ افغانستان
◆ اسپین
◆ بنگلہ دیش: (شہادتِ حق سے جامِ شہادت تک)
◆ انقلابی و اقدامی تحریروں پر پابندی
◆ مسلم فوجی اتحاد
◆ خلافت کی واپسی قریب ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِےْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُِہ وَنَعُوْذُ بِاللہ ِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَےِّءَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ ےَّھْْدِہِ اللہ ُ فَھُوَ الْمُھْتَدْ وَمَنْ ےُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَہُ وَلِےًّا مُّرْشِدَا وَأَشْھَدُاَنْ لَااِلٰٰہَ اِلَّااللہ ُوَحْدَہُ لَاشَرِےْکَ لَہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُولَہٗ۔
اَمَّابَعْدُ
وَمَا لَـكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ هٰذِهِ الۡـقَرۡيَةِ الظَّالِمِ اَهۡلُهَا ۚ وَاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ۙۚ وَّاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ نَصِيۡرًا۔ (75) اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِۚ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا (76)
”آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللّٰہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کررہے ہیں کہ خدایا! ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے۔ جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیاہے، وہ اللّٰہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں۔“ (سورۃ النساء: 75 تا 76)
گذشتہ کچھ عرصے سے عالمی سیاست میں تیزی کے ساتھ مسلسل تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ تمام تبدیلیوں کا مرکز مسلمان ممالک اور اُمّت مسلمہ ہے‘ شام کے بحران نے مرکزی اہمیت حاصل کرلی ہے۔ روسی صدر کی جارحانہ سیاست اور شام پر بمباری اور پیرس حملے نے ہر عالمی سیاسی منظر نامے میں نئی پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں۔
افغانستان میں امریکی، تاریخ کی طویل جنگ جسے ”وار آن ٹیرر“ کہا جاتا ہے‘ آخری مرحلے پر ہے۔ افغانستان کے بعد امریکہ نے عراق پر بھی قبضہ کیا تھا‘ جس کے بارے میں اعتراف کرلیا گیا ہے کہ حملے کا جھوٹا جواز بیان کیا گیا تھا یعنی عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ بحیرۂ روم میں تارکینِ وطن کے ڈوبنے کی دردناک خبریں سامنے آنے کے بعد دنیا رو پڑی، جب کہ اس کے برعکس عرب ممالک کے حکمرانوں پر بدستور بے حسی چھائی ہوئی تھی۔ تیل کی دولت سے مالامال خلیجی ممالک کے پاس وہ وسائل اور انفرا اسٹرکچر موجود ہے جو اس طرح کے حالات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوسکتاہے، لیکن عرب ممالک نے جنگ زدہ مہاجرین مسلمان بھائیوں کو جو کہ بشار الاسد کے ظلم سے محفوظ ہونے کے لئے ہجرت کر رہے تھے انہیں پناہ دینے سے بھی انکار کر دیا۔ اس سے بڑی بے غیرتی اور بے حسی کا مظاہرہ اور کیا ہوسکتا ہے!
ہم اس رحمت اللعالمین اور محسنِ انسانیت کے اُمتی ہیں جس نے دورانِ جنگ بھی انسانی حقوق کی پامالی برداشت نہیں کی۔اللّٰہ کے رسولﷺ نے جنگ کے موقع پر صحابہؓ کو واعض و نصیحت کیں کہ”مقدسات“ یعنی کسی بھی مذہب کی عبادت گاہوں، ان کی کتب اور ان کے تمام دینی شعائر کو جنگی دست برد سے محفوظ رکھا جائے۔ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے حقوق بتائے۔ محمدﷺ نے اسلام کا بنیادی اصول بیان کرتے ہوئے واضح طورپر یہ فیصلہ سنایا کہ اسلامی ریاست میں ہر غیر مسلم کو اس کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی حاصل ہے۔ آپﷺ نے جنگ کے بھی اصول و ضوابط سکھائے۔ لیکن اس کے برعکس آج مغرب مساجد کو نشانہ بنارہاہے، قرآن کی بے حرمتی کی جارہی ہیں، مسلمان خواتین کی عزت و عصمت کو ہدف بنایا جا رہا ہے، مسلمان چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو منظم انداز میں قتل کیا جارہا ہے۔
یہ وہ منظرنامہ ہے جو ہر جانب سے عالم اسلام پر خطرناک خبروں کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں۔ ہوائی باتیں حقیقتیں بن رہی ہیں۔ اعمال کے سیاہ دھبّے ظلمتِ شب طاری کررہے ہیں۔ منافقین کے جتھے، کفار کے لشکر شبِ خون میں مگن ہیں۔ عالم صہیون، عالمی قوتوں اور علاقائی نسل پرستوں کی منافرت کو وحشت میں جھونک چکا ہے۔صہیونی ارادوں پر سے پردہ اُٹھ چکا ہے۔ تاریخ ’بنی اسرائیل‘ پر حجت تمام کرنے جارہی ہے۔ عرب و فارس کے نسل پرستوں کی نیتیں سامنے آچکی ہیں۔ یہ صاف ہے کہ اسلامی تہذیب پر عرب و فارس نسل پرست، سرمایہ دار اور کمیونسٹ یکبارگی چاروں طرف سے حملہ آور ہیں۔ معصوم مسلمانوں کی لاشوں کا دستر خوان لگا ہے، اسرائیل میزبان ہے۔ اسلامی تہذیب کے جو فرزند آزمائشوں کی بھٹیوں سے سرخ رو نکلیں گے، وہی خطرناک خبروں کو پسپا کرسکیں گے۔ یہ بھٹیاں مصر کی جیلوں سے بنگلہ دیش کے تختۂ داروں تک بھڑک رہی ہیں، سرخ شعلے بھی نوا ہیں۔
اللّٰہ کے رسولﷺ نے فرمایا ”ایک دور ایسا آئے کہ اسلام پر چلنا، ہتھیلی پر آگ لے کر چلنے کے برابر ہو جائیگا.....“
حدیث شریف میں آیا ہے کہ: ”اسلام غربت کی حالت میں شروع ہوا ہے اور پھر ایک زمانہ آئے گا جب وہ ویسا ہی ہوجائے گا۔ تو جو لوگ اس کی غربت دور کرنے کی کوشش کریں وہ لائقِ ستائش اور لائقِ بشارت ہیں۔“ (مسلم شریف)
”جب لوگ ظالم کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیج دے“۔ (حدیث)
◆ 3/ تیسرا انتفاضہ جاری ہے:
دنیا کے جبر وستم کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے والے فلسطینیوں کے یکم/ اکتوبر 2015ء سے جاری تیسرے انتفاضہ کو شروع ہوئے دو ماہ ہوچکے ہیں۔ دنیا بھر کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس اسرائیل نہتے فلسطینیوں کی آواز دبانے میں ناکام ہوچکا ہے۔ دنیا بھر کا اسلحہ فلسطینیوں پر استعمال کرنے کے باوجود فلسطینیوں کی مسقتل مزاجی اور جہاد سے محبت کو توڑنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ ان دو مہینوں میں فلسطینیوں نے 175 کاروائیوں میں 20 سے زیادہ صہیونیوں کو جہنم واصل کرتے ہوئے 300 کے قریب کو شدید زخمی کردیا۔
فلسطینیوں کی جدوجہد ایک تابناک تاریخ ہے، جو صرف اور صرف ہمیں مسلمانوں کی تاریخ میں سے ہی مل سکتی ہے۔ اس وقت فلسطینی ایک ایسے عفریت کے آگے بند باندھے ہوئے ہیں جسے اگر کھلا چھوڑ دیا گیا تو ان کے ’پروٹوکول‘ کے مطابق پوری دنیا پر ان کی حکومت ہوگی۔ اسرائیلی جو اپنے آپ کو خدا کی پسندیدہ مخلوق اور اُمت تصور کرتے ہیں۔ اسی خداکی پیدا کردہ مخلوق پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑ چکے ہیں کہ ہٹلر کا قتل عام اور عالمی جنگوں کے تمام مظالم ایک طرف اور اسرائیلیوں کے فلسطینیوں پر مظالم ایک طرف۔ اس وقت بھی اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ہم فلسطین کو ایک میٹر زمین بھی واپس نہیں کریں گے۔ 2/دسمبر کو معذروں کا عالمی دن منانے والوں نے فلسطینیوں کے معذروں جن کی تعداد 38/ ہزار بتائی جاتی ہے، شاید ہی انہیں کسی نے یاد کیا ہوگا؟ پیرس حملے پر پوری دنیا، جس طرح سے واویلا مچا رہی تھی، وہ فلسطین، شام و عراق اور برما میں مسلمانوں پر ہونے والے وحشیانہ مظالم اور مسلمانوں کی نسل کشی پر کیوں آنکھیں موندے، پاؤں پسارے لیٹے رہی۔ فلسطینی ایک عزم و جرأت کے ساتھ اس وقت کے فرعون کے سامنے کھڑے ہیں اور عالمِ اسلام کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کون فرعونِ وقت کے سامنے اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی ہمّت کرتا ہے۔
◆ ترکی:
ترکی میں ہونے والے عام انتخابات میں اسلام پسند صدر طیب اردگان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیو لپمنٹ پارٹی نے واضح طور پر برتری حاصل کرکے 550 میں سے 316 نشستوں پر، مغربی مبصرین کے تجزیوں کے برعکس تنہا حکومت بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جونہی یہ بڑی خبر ترک میڈیا کی زینت بنیں‘ استنبول‘ انقرہ اور قونیہ سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سٹرکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے اللّٰہ اکبر کے فلک شگاف نعرے لگائے اور کامیابی پر ربّ کریم کا شکر ادا کیا۔ ہم نے پرنٹ اور الیکٹرانک کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ یہ اردگان کی نہیں، بلکہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی جیت ہے۔ یہ اسرائیلی مظالم کا شکار فلسطینیوں کی جیت ہے۔ یہ بشار الاسد اور اس کے اتحادیوں کے ظلم کا شکار شامی عوام کی فتح ہے۔ یہ سیسی کی آمریت کا شکار مصری عوام کی فتح ہے۔ برطانوی اخبار گارجین کے مطابق پرجوش کارکنوں کا کہنا تھا کہ اب ترکی طیب اردگان کی رہنمائی میں مسلمانوں کے حقوق کا بہتر تحفّظ کرسکے گا اور اس سے آگے بڑھ کر مغربی سازشوں کا مقابلہ کرسکے گا۔
نئی حکومت نے آتے ہی یورپ کو ایشیاء سے ملانے والی آبنائے باسفورس کو روسی جہازوں کے لئے بند کردیا ہے۔ اس بندش کے نتیجے میں روسی معیشت کو اس قدر شدید نقصان پہنچے گا، جتنا روسی پابندیوں سے ترک معیشت کو نہیں پہنچ سکتا۔
◆ فرانس:
فرانس کی خارجہ پالیسی نیٹو اور یورپ کی خارجہ پالیسیوں کی نسبت آزاد ہے اور وہ امریکہ سے مختلف پالیسی بھی رکھتاہے۔ فرانس کے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات عام طور پر بہتر رہے ہیں۔ یہ بھی ہے کہ یورپ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی فرانس میں ہے۔ تاہم فرانس میں نسلی اور مذہبی تعصب بھی اپنی انتہا پر ہے۔ فرانس، یورپ کا پہلا ملک ہے جس نے حجاب پر پابندی لگائی ہے۔ فرانس میں ہی گستاخانہ خاکے شائع ہوئے ہیں اور اس میگزین کے دفتر پر حملہ بھی اسی وجہ سے ہوا۔ فرانسیسیوں کا مسلمانوں کے ساتھ تعصّب اور ان کے ساتھ سماجی طور پر امتیاز برتا جاتا ہے۔ دوسری طرف برطانوی و امریکی اخبارات کے مطابق فرانس میں دہشت گردی سے دو روز پہلے تک اسرائیل اور یورپ کے تعلقات میں کشیدگی پائی جارہی تھی۔ اسی ہفتے کے شروع میں یورپی یونین نے ایک نیا قانون منظور کیا تھا جس کے تحت یورپ نے ان تمام اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا تھا جو 1976ء کی چھ روز جنگ کے دوران اسرائیل کے زیر قبضہ آنے والے فلسطینی علاقوں میں تیار کی جاتی تھیں۔ پیرس حملوں سے دودن قبل اسرائیلی اخبار نے خبر دی تھی کہ فرانس میں مقیم یہودی اسرائیل آنا چاہتے ہیں۔ لیکن دہشت گردانہ حملوں نے اسرائیل کو فرانس کے قریب آنے کا موقع فراہم کردیا۔
تاہم مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن میری ہوز ٹامسن اور ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد جیسے عالمی رہنما نے بلواسطہ طور پر اسرائیل کو حملوں کا ذمہ دار ٹہرایا ہے۔ دوسری جانب امریکہ و اسرائیل نے بھی تحقیقات میں فرانس کو مدد فراہم کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ان کی اس ”مدد“ کے فرانسیسی تحقیقات پر اثرات کیا ہوں گے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ تاہم اسرائیلی اور امریکی ایجنسیوں کے اس معاملے میں ملوث ہونے کا واضح مطلب یہی ہے کہ وہ تحقیقات کو ایک خاص رخ دینے کی کوشش کریں گی۔ اسرائیلی وزیراعظم پیرس حملوں کے بعد اپنے بیانات میں اس دہشت گردی کا رشتہ اسلام اور اُمّتِ مسلمہ سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب کہ امریکی صدر نے اسے انسانیت پرحملہ قرار دے کر پیرس حملوں کو عالمی مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے (جب کے عقل کے ان اندھوں کو فلسطینی، برما اور شام کے بے گناہوں کا خون نظر آتا)۔ جس کے بعد مسلمانوں کو یہ تشویش لاحق ہوگئی ہے کہ امریکہ ”دہشت گردی کے خلاف ایک اور جنگ“ شروع کرنا چاہتا ہے۔
دہشت گردی کا یہ واقعہ اصل میں فرانس کے خلاف نہیں ہوا ہے بلکہ یورپ اور شمالی امریکا میں بسنے والے مسلمانوں کے خلاف ہوا ہے۔ وزارتِ داخلہ فرانس کے حوالہ سے انکشاف ہوا ہے کہ پیرس حملوں کے بعد کی جانے والی تحقیقات کے نتیجے میں دارالحکومت سمیت ملک بھر کی 160/مساجد کو بند کردینے کے احکامات دیدیئے گئے ہیں۔ 500/ سے زائد باریش مسلمان نوکریوں سے فارغ کردیا گیا ہے۔ کئی نسلوں سے بسنے والے مسلمان عملاً اپنے ہی ملک میں نکو بن کررہ گئے ہیں۔ مسلم تنظیم کلکٹو اگینسٹ اسلاموفوبیا کے نزدیک ’مسلمانوں کی پیرس حملوں کے بعد زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ جب کہ حکومت کی جانب سے یہ رویہ باور کرایا جارہا ہے کہ پیرس یا فرانس میں مسلمان ہونا ایک جرم ہے۔‘ اس کا پہلا اور براہِ راست اثر شام اور لیبیا سے ہجرت کرنے والے ان مہاجرین پر پڑا ہے جو یورپ میں پناہ کے متلاشی ہیں۔ اب یورپ کے ہر ملک کے دروازے ان پر بند کردیئے جارہے ہیں اور جو لوگ کسی یوروپی ملک میں پناہ حاصل کرچکے ہیں، انہیں باہر نکالنے کی ایک منظم مہم شروع ہوچکی ہے۔ دہشت گردی کے ان واقعات کا ذمّے دار کوں ہے؟ دیکھنے میں یہ سوال آسان ہے اور اس کا جواب بھی اتنا ہی آسان ہے۔ داعش اس کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے۔ مگر کیا ایسا ہی ہے؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں ہے۔ دہشت گردی کے ہر واقعے کے پسِ پشت کون ہیں؟ کیا اس کی ذمّے داری قبول کرنے والے اصل محرک ہیں یا جھوٹے لوگ؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہمیں ہر دہشت گردی کے واقعے کے پیچھے بوجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ان سوالات کے جواب مل جائیں تو معاملہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
دہشت گردی کے ہر واقعے کے پسِ پشت جھوٹ نکلتا ہے۔ گزشتہ ایک صدی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی چھان بین کی جائے تو پتا چلتا ہے کہ ان واقعات کے پسِ پشت وہی لوگ تھے جنہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ مثلاً پرل ہاربر کے معاملے کو ہی دیکھا جائے، جس کے بعد امریکا دوسری جنگِ عظیم میں شامل ہوگیا تو پتا چلتا ہے کہ معاملہ وہ نہیں تھا جو پیش کیا گیا۔ اسی طرح نائن الیون کے واقعے کودیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ بھی جھوٹ کا پلندہ تھا۔ دہشت گردی ہر واقعے کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی مسلم ملک انتہائی آرام سے نیو ورلڈ کے چنگل میں آجاتا ہے۔
تاریخ ایسے شواہد سے بھری پڑی ہے جن میں دہشت گردی کی کاروائی کرکے اسے دشمن کے نام سے موسوم کردیا گیا ہو اور پھر جواز بناکر مقصد حاصل کیا گیا ہو۔ دہشت گردی کی ایسی کاروائیوں کو انگلش میں بوبی ٹریپ (Bobby Trap) کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
اصل ہدف مسلمانوں کے خلاف مخاذ گرم کرنا نہیں ہے بلکہ اصل ہدف پولرائزیشن پیدا کرنا ہے۔ ایک طرف یورپ اور امریکا میں بسنے والی غیر مسلم آبادی اور دوسری جانب پوری دنیا کی مسلم آبادی!
فرانسیسی صدر فرانسواولاند (Francois Nicolas Hollande) نے داعش کی جانب سے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے پہلے ہی داعش کا نام کیوں لے لیا؟ کیتھولک مسیحی فرقے کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے اسے تیسری عالمی جنگ کا آغاز قرار دیا ہے، آخر کیوں؟ فرانس کے ہی ایک بڑے اخبار لی فگارو نے حملہ آوروں کو ”کمانڈو“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی تربیت یافتہ تھے؟
یقینا فرانس میں بہنے والے بے گناہوں کے خون کا احتساب ہونا چاہئے۔ لیکن فرانس کے ہی انسانیت سوز واقع پر کیوں لوگوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے، جس نے الجزائیر کی جنگ آزادی میں 1954ء سے 1962ء تک قریباً آٹھ سال تک لڑنے والے1,62,000 (ایک لاکھ باسٹھ ہزار) الجزائیری جاں بحق ہوئے تھے۔ گو اس خونریز جنگ کو پچاس سال سے زیادہ ہوگئے ہیں جس میں الجزائیریوں نے فرانسیسی فوج کے ظلم و ستم سہے ہیں۔
امریکی صدر بش کے "Axis of Evils" ڈاکٹرائن نے آج کی صورت حال دانستہ طور پر پیدا کی۔ کیونکہ امریکہ کا مقصد یہ تھا کہ مشرق وسطیٰ کا نیا نقشہ اس طرح ترتیب دیا جائے کہ گریٹر اسرائیل کا خواب پورا ہو جائے۔ اس حوالے سے سات مسلم ممالک کو تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ ان ممالک کو ایک ایک کرکے نشانہ بنایا جائے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسی منصوبے پر عمل ہو رہا ہے۔ لیکن شام میں امریکہ کو امید نہیں تھی کہ وہ وہاں پھنس جائے گا۔ عراق میں شیعہ حکومت قائم کرکے اہلِ سنّت کو ان سے لڑادیا گیا۔ لیکن ایران اور حزب اللّٰہ کی حمایت کی وجہ سے شام کی حکومت کی مدد کے لئے روس سامنے آگیا، جس کی وجہ سے شام کی حکومت کا حشر لیبیا جیسا نہیں ہوا۔
داعش نے پہلے ترکی میں دھماکے کیے اور اب وہ یورپ میں داخل ہوگئے ہیں۔ مغرب نے جس آگ کو بھڑکایا تھا، اس آگ سے اب ان کی اپنی انگلیاں جل رہی ہیں۔ یورپ کی تنگ نظری بھی اب سامنے آئے گی۔ شام و عراق کے مہاجرین پر یورپ کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ جب کہ دیگر مسلمانوں کے لئے بھی امیگریشن قوانین میں سختی آئے گی۔پیرس حملے یورپ کا سب سے بڑا خوفناک واقعہ ہے۔ ممکن ہے کہ یہ یہودی لابی نے کرایا ہو تاکہ شامی و عراقی مہاجرین کو خطرہ سمجھا جائے اور یورپ میں انتقام کا جذبہ بڑھے۔
◆ لیبیا: (جس پر نئی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں)
کچھ عرصہ قبل جب سے طرابلس کی حکومت پر داعش کے بڑھتے ہوئے اثر کی خبریں آئی ہیں مغربی قوتوں کو لیبیا کے بارے میں سخت پریشان کر دیا ہے۔ پچھلے ایک برس میں داعش نے لیبیا میں بڑی مضبوطی سے قدم جمالیے ہیں اور اب اس نے لیبیا میں تیل کے ذخائر اور تنصیبات پر قبضہ کرنے کے لئے منظم پیش قدمی شروع کردی ہے۔ لیبیا میں اس وقت تیل کی دولت کا اندازہ 46/ارب بیرل سے لگایا جاتا ہے اور ساڑھے سولہ لاکھ بیرل یومیہ تیل نکالا جاتاہے۔ شام اور عراق میں تیل سے داعش کو پہلے ہی 4/کروڑ ڈالر ماہانہ کی آمدنی ہورہی ہے جو اس کی ایک بڑی طاقت ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ داعش کے منہ کو تیل لگ گیا ہے اور اب اس کی نظریں لیبیا کے تیل پر ہیں۔
عام خطرہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان غیر ملکی فوجوں کی لیبیا میں آمد کے خلاف بڑے پیمانے پر مزاحمت کی جائے گی جس کے نتیجے میں خونریز خانہ جنگی بھڑک سکتی ہے۔ اس صورت میں بلاشبہ مغربی ممالک لیبیا میں فوجی مداخلت کریں گے اور پھر ایک بار تباہ شدہ لیبیا نیٹو کی فوجی کاروائی کا نشانہ بنے گا۔
◆ داعش ایک معمہ:
اسلامی ممالک میں ظاہراً مسلمانوں کو فلاح کی علم بردار مگر سخت انتہاہ پسند تنظیموں کا عملاً راج ہے۔ سامراجیوں کے ستائے ہوئے مسلمان بالآخر ایسی ہی تنظیموں میں پناہ لے کر سکون محسوس کررہے ہیں۔یعنی ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف رخ ہو رہا ہے۔ عالمِ اسلام کے لئے اصل راہِ نجات، قرآن کریم، نبی اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ اور راہِ اعتدال میں ہے۔ کسی بھی انتہاء کا شکار ہو جانا اس کے لئے موت کا پیغام ہے۔ آج اگر ایک طرف اسلام کی تمام بنیادی اصطلاحات: جہاد، اسلامی ریاست، اسلامی خلافت، امیر المومنین، خلیفتہ المسلمین، حتیٰ کہ قرآن کریم اور رسولِ رحمتﷺ کو مذاق و استہزا کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو دوسری طرف جہاد، شریعت، اسلامی حدود اور قوانین کو اپنے ہر مخالف کاصفایا کردینے کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ بزعم خود امیر المومنین کی بیعت سے انکار کو ارتداد اور ہر مرتد کو قابلِ گردن زدنی قرار دیا جا رہا ہے۔
خود یہ امر بھی انتہائی باعثِ حیرت ہے کہ اس کے تمام تر ظلم و ستم کا اصل نشانہ خود مظلوم مسلمان ہی بنتے ہیں۔ کیا ہم نہیں دیکھ رہے ہیں کہ، شامی آمر بشار الاسد جیسا درندہ اور اس کی فوج ان سے محفوظ رہتی ہے، لیکن اس سفاک ڈکٹیٹر سے برسرِ پیکار مظلوم عوام اور ان کی مزاحمتی تحریک کووہ چُن چُن کر موت کے گھاٹ اُتار رہے ہیں۔ غزہ کے محصور و بے کس عوام کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، حماس کی لیڈر شپ پر حملے کئے جارہے ہیں، وہ لوگ صہیونی ناجائز ریاست کے بارے میں خاموش کیوں ہیں؟
داعش کے بار ے میں عالمِ اسلام کے معروف اسکولرس کے تجزیہ و تاثرات یہ ہے کہ داعش تنظیم کو امریکہ اور اسرائیل نے مضبوط کیا ہے۔ داعش کا سیدھا فائدہ امریکہ اور اسرائیل کو ہی ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش کی قیادت عراقی جیلوں میں پروان چڑھی۔
داعش اپنے نام کی طرح ایک باقاعدہ ریاست ہے، جس میں حکمرانی اور نظم و نسق کے تقریباً تمام عناصر موجود ہیں۔ داعش کی طرف سے جاری کردہ آئندہ پانچ سال کے نقشوں کے مطابق یہ تنظیم اس عرصے میں یورپی ملک اسپین سے لے چین تک کو اپنی خلافتی حدود کے زیرِ نگیں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ داعش کے درمیانی اور بالائی سطح کے کمانڈروں کی تعداد لگ بھگ ایک ہزار ہے اور یہ سب ٹیکنیکل، ملٹری اور سیکورٹی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ جب کہ انہیں ان کے عہدوں اورذمّہ داریوں کے مطابق 300 تا 2000 امریکی ڈالر ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ تیل کی فروخت سے حاصل شدہ 10 تا 30 لاکھ ڈالر کی یومیہ آمدنی بھی داعش کے خزانے میں جمع ہوتی ہے۔ ایک محتاط تخمینے کے مطابق داعش کے خزانوں اور اثاثوں کی مالیت 2 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ چکی ہے، جس میں تیزی سے اور مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ داعش کی آمدنی کا ایک بڑا حصّہ ان تاریخی نوادرات کی بلیک مارکیٹ میں فروخت سے حاصل ہوتاہے، جو انہیں اپنے زیر قبضہ آثارِ قدیمہ سے مالا مال علاقوں سے ہاتھ لگتے ہیں۔ داعش انہیں فروخت کرکے کروڑوں ڈالر کماتی ہے۔
اس وقت صرف عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے تین اہم روایتی فوجی ڈویژن کام کررہے ہی، جن میں پچاس ہزار تک فوجی موجود ہیں۔ جب کہ اسنائپرز، خودکش اسکواڈ اور اسپیشل آپریشن کمانڈوز سمیت کئی اقسام کے فوجی شعبۂ جات بھی داعش میں فعال ہیں۔ داعش اس وقت 25/ ممالک میں تیار کیاجانے والا اسلحہ استعمال کر رہی ہے۔ عراقی صحافی کے مطابق داعش جنگجوؤں کے پاس امریکی، روسی اور برطانوی ساختہ بکتر بند گاڑیوں اور جاپانی کاڑیوں کی بڑی کھیپ موجود ہیں۔ داعش کے پاس جاسوس ڈرونز، بکتر شکن میزائیل، اینٹی ایئر کرافت شولڈر فائر میزائیل اور ٹینک بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مختلف رینج کے جدید میزائلوں کاوسیع ذخیرہ بھی داعش کے پاس موجود ہے۔ امریکہ خاموشی سے داعش کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں اور مختلف عراقی شہروں پر یلغار کے دوران داعش سے اسلحے کے ذخائر پر قبضہ کرانا، امریکی پالیسی ہی کا حصّہ رہاہے۔
داعش کی غیر معمولی تیز رفتار پیش رفت کے نتیجے میں دنیا بھر میں اس کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ سے باہر کے ممالک خصوصا مغربی دنیا اس کے متعلق خاصی سطحی معلومات اور خیالات رکھتی ہے۔ داعش نے شام اور عراق میں آناً فاناً کئی بڑے علاقے پر قبضہ کیا ہے اس سلسلے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں کہ داعش کے پیچھے کون سی قوتیں ہیں اور ان کا اصل مقصد کیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی طوفانی پیش رفت کے پیچھے شام اور خاص طور پر عراق میں سنیوں کی بغاوت کار فرما ہے جو صدام حسین کے زوال کے بعد سے اقتدار سے محرومی کا شکار رہے ہیں۔ کچھ دفاعی ماہرین نے یہ رائے ظاہر کی کہ داعش کی کامیابی کے پیچھے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی خفیہ ایجنسیوں کی امداد کار فرما ہے۔ گو بعض حلقوں کی طرف سے یہ دعویٰ کیاگیاکہ داعش کے قائد ابراہیم البدری عرف خلیفہ ابوبکر بغدادی سی آئی اے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے تربیت یافتہ ہیں۔ اس دوران یہ خبر بھی آئی تھی کہ شام میں اسرئیل کے مقبوضہ علاقے جولان کی پہاڑیوں کے آس پاس داعش کے اتحادیوں کو اسرائیلی فوج مدد دے رہی ہیں اور ان تنظیموں کے زخمی فوجیوں کو اسرائیل کے ہسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔ پچھلے دنوں عراقی فوج نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے موصل سے چار غیر ملکیوں کوگرفتار کیاہے جو داعش کے فوجی مشیر ہیں ان میں تین امریکی اور اسرائیلی اور ایک عرب ہے۔اس خبر کو مغربی میڈیا نے Blackwash کر دیا۔ یہ خاموشی نہایت معنی خیز ہے لیکن یہ عقدہ کھلتا جارہا ہے کہ داعش کے پیچھے کون سی قوتیں کار فرما ہیں۔
داعش جِسے آج ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کرکے مسلم ممالک کی گھیرا بندی کی جارہی ہے، اس کو بھی امریکہ نے 2006ء میں بغداد میں تخلیق کیا تھا۔ داعش کو 2011ء میں شام میں لانچ کیا گیا تاکہ القاعدہ کو ختم کیا جاسکے۔ لیکن داعش اس سے بھی بڑی طاقت بن کر ابھر آئی اور اس نے شمال مشرقی عراق اور شام کے بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا ہے، جہاں گیس اور پٹرول کے بڑے ذخائر ہیں۔ لیکن امریکہ اس کی اب بھی ضرورت سمجھتا ہے کہ یہی ایک طاقت ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں اس کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔
داعش کے خلاف متحدہ محاذ بنا کر اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کی جنگ میں Ultimately فائدہ آخر کس کو ہوگا؟ ناٹو اور روس اپنی انتہائی طاقت کا استعمال کرکے بھی افغانستان میں طالبان، شیشان، ازبک تحریک اسلامی (Islamic Movement of Uzbekistan) کا قلع قمع نہیں کرسکے، بلکہ ایسی تحریکوں کے خلاف بیرونی طاقتیں جتنی قوت استعمال کرتی ہیں اس وہ زیرِ زمین چلی جاتی ہے، ان کے پیروؤں کو مظلوم سمجھ کر عوام کوان سے ہمدردی ہوجاتی ہے اور ان میں سے اکثر یا تو ان کی صفوں میں شامل ہو جاتے ہیں یا ان سے ہمدردی اور تعاون کرنے لگ جاتے ہیں، اس طرح وہ تحریک ختم ہونے کے بجائے اپنی قوم میں جڑ پکڑ لیتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ داعش کے خلاف بھر پور جنگ میں داعش کو فائدہ ہو یا نہ ہو لیکن بشارالاسد جیسے ظالم کا اقتدار شام پر قائم ہوجائیگا، جسے شام کے عوام ہرگز قبول نہیں کریں گے، چنانچہ مزاحمت جاری رہے گی، جس سے داعش کو تقویت حاصل ہوگی۔
◆ افغانستان:
امریکہ افغانستان کے معاملے میں خود اپنی ہی بنائی مشکلات میں قبر کھود رہا ہے۔ کیونکہ 2001ء کے بعد سے وہ افغانستان سے نہ القاعدہ کو ختم کرسکا اور نہ ہی طالبان کو کمزور کرسکا۔ انہیں القاعدہ کے سر براہ اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کا ڈرامہ بھی رچانا پڑا۔ لیکن وہ یہ ثبوت نہ دے سکا کہ مارے جانے والے اسامہ بن لادن ہی تھے یا کوئی اور۔ اسی طرح انہیں یہ بھی نہیں معلوم ہوسکا کہ ملا عمر ڈھائی سال پہلے ہی وفات پاچکے ہیں۔ یہ امریکہ کی انٹیلی جنس کی بڑی ناکامیوں میں سے ایک ہے۔ افغانستان میں ان کی مشکل یہ ہے کہ انہوں نے عراق میں القاعدہ کو کمزور کرنے کے لئے داعش کو قائم کیا، اس میں بڑی تعداد میں یورپی نوجوانوں کو شامل کرایا۔ آخر کیوں داعش نے افغانستان میں اپنے محاذ کو شروع کر دیا ہے؟ کیوں افغانستان میں داعش کے ریڈیو کو افغان حکومت اور افغان انٹیلی جنس کی سرپرستی حاصل ہے؟ کیا انہیں اسرائیل و اس کے حواری نظر نہیں آتے؟ ایک بات جو واضح ہو گئی کہ ملا عمر کی وفات کی خبر کے انکشاف کے بعد مغربی میڈیا نے یہ سمجھا تھا کہ طالبان مختلف خانوں میں بٹ جائینگے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور اب طالبان نے اپنی قوت کا اظہار کر دیا ہے۔ اسے داعش کا
خطرہ دکھا کر طالبان کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جارہی کہ وہ آئندہ مذاکرات میں زیادہ سخت مطالبات نہ رکھیں۔
◆ اسپین:
یورپ کے قلب میں مسلمانوں کے زریں عہد حکومت کی یاد گار جامع مسجد، مسجد قرطبہ کو کلیسائے روم/ویٹیکن کے دباؤ پر Church میں تبدیل کرنے کی کوششیں عروج پر پہنچ گئیں ہیں۔ اسپین کی عیسائی حکومت نے تاریخی جامع مسجد قرطبہ کے مینار پر کلیسائی گھنٹیاں نصب کردی ہیں اور کچھ دن بعد اس مسجد کو مکمل طور پر کلیسا میں تبدیل کرکے یہاں عیسائیوں کی عبادات شروع کر دی جائیگی۔ مسجد قرطبہ کو گرجا بنانے کی تازہ کوششوں پر مسلمانانِ عالم کی تشویش کو اجاگر کرنے کیلئے اس بار 12 ممالک (جس میں امریکہ، برطانیہ، ترکی، فرانس، پرتگال، آئرلینڈ، چلی، جرمنی، کینیڈا، مراکش، اسپین اور سویڈین وغیرہ بھی شامل ہیں) کی 50 یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے 120 دانشوروں اور ماہرین تعلیم نے کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کی جانب سے اسپین کی حکومت کو لکھے جانے والے خطوط میں واضح کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی عظیم یادگار مسجد کو کلیسا میں تبدیل کرنے کا اقدام غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے اور اس عمل سے اجتناب برتا جائے۔
اسلامی تعمیر کا شاہکار کہلائی جانے والی یہ تاریخی مسجد آٹھویں صدی عیسوئی میں اموی حکمران عبدالرحمن الداخل نے تعمیر کروائی تھی۔ اسپینی کلیسائی نمائندوں کا کہنا یہ ہے کہ جامع مسجد قرطبہ کو مسلم حکمراں عبدالرحمن الداخل نے ایک ایسے مقام پر تعمیر کیا تھا جہاں قدیم زمانے میں عیسائیوں کا ایک چرچ قائم تھا۔ لیکن اس دعوے کی تائید میں کسی محقق یا تاریخ داں نے کوئی بیان یا تاریخی دستاویزات پیش نہیں کی ہیں۔ مراکشی تاریخ داں اور اسلامی فن تعمیر پر ید طولیٰ رکھنے والے محقق سعید الغنوشی نے اس دعوے کے جواب میں ایک تجزیہ لکھا جس میں بتایا گیا ہے کہ جب عبدالرحمن الداخل نے اسپین میں ایک مخصوص علاقے پر قبضہ کیا تو ایک کلیسا کے ساتھ ملحق جگہ پر مسلمانوں نے ”ویس گوتھ عیسائیوں“ کے معزز پادریوں سے اجتماعی نماز کی اجازت طلب کی۔ یہ اجازت ملنے پر مسلمانوں نے گرجا کے احاطے میں ایک مخصوص مقام پر نماز کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کردیا اور جب 754 عیسوی میں پورا اسپینی خطہ مسلمان حکمران عبدالرحمن کے ہاتھ آگیا تو ان کے وزیر اور معتمد خاص امیہ بن یزید نے امیر کی اجازت سے عیسائی معززین اور کارڈینل حضرات سے کئی ملاقاتیں کیں اور ان سے درخواست کی کہ یہ گرجا اور اس سے متصل جگہ عالیشان مسجد کی تعمیر کے لئے مسلمانوں کو دے دی جائے تو وہ اس کی منہ مانگی قیمت ادا کریں گے۔ اس پر عیسائی معززین اور مذہبی رہنماؤں نے باہمی مشاورت کے بعد امیہ بن یزید کو یہ زمین دینے کی منظوری اس شرط پردی کہ امیر عبدالرحمن کی جانب سے نہ صرف اس زمین کے عوض عیسائی کلیسا کے منتظمین اور لاٹ پادریوں کو ایک خطیر رقم ادا کی جائے گی بلکہ اس شہر کے تین اطراف مخصوص مقامات پر عیسائی کلیسا کی انتظامیہ کو تین گرجا گھروں کی تعمیر کے لئے زمین‘ اجازت اور تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اس پر عبدالرحمن الداخل نے اثبات میں جواب دیا اور یوں مسلمانوں سے نہ صرف اس زمین پر موجود ایک عدد گرجا کا قانونی قبضہ حاصل کیا بلکہ اس شہر میں ایک کے بدلے تین گرجوں کی تعمیر کی اجازت، فنڈز اور زمینیں بھی فراہم کیں۔
15/ ویں صدی عیسوی میں جب اسپین عیسائیوں کے قبضہ میں آیا تو انہوں نے اس میں ایک گرجا تعمیر کیا، لیکن انہوں نے خود اس پر تاسف کا اظہار کیا کہ اس سے مسجد کی خوبصورتی میں فرق آیا ہے۔ بعد ازاں یہاں مسلمانوں کے داخلے اور اذان و نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی گئی، جو آج تک برقرار ہے۔ لیکن مفّکرِ اسلام اور شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے 1931ء میں اسپین کے دورے میں جامع مسجد قرطبہ میں نماز کی ادائیگی کا شرف حاصل کیا تھا۔
بنگلہ دیش: (شہادتِ حق سے جامِ شہادت تک)
اللّٰہ کی کتاب کہتی ہے کہ”جو لوگ اللّٰہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ مت کہو یہ زندہ ہیں تمہیں اس کا شعور نہیں“۔ شہید کی موت‘ قوم کے لئے حیات ہوتی ہے۔ کیا وہ لوگ مر جاتے ہیں، ہمیشہ کے لئے ختم ہوجاتے ہیں، جنہیں پھانسیاں دے دی جاتی ہیں، جن کا جرم صرف ایک ہوتا ہے کہ وہ اس زمین پر اللّٰہ کی کبریائی بیان کرتے ہیں، اسلام کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور روئے زمین کا نظام بھی اس کے مطابق چلانے کا مطالبہ اور اس کی جدوجہد کرتے ہیں۔ پھانسیاں دینے والے شاید یہی سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ زبانیں بند کرکے، دین کے نفاذ کے لئے اُٹھنے والے قلم کو روک کر۔ وہ قدم جو اللّٰہ کی راہ میں غبار آلود ہوئے ہیں ان قدموں میں بیڑیاں ڈال کر، اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرکے کبھی بھی باطل اپنے مقصد میں، کہیں بھی کامیاب نہیں ہوا ہے۔ شہیدوں کا خون کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتا۔ علامہ اقبالؒ نے کبھی کہا تھا کہ ؎
ملا کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور
لیکن ملا عبدالقادر اور علی احسن مجاہد نے بتادیا کہ اگر ملا اور مجاہد دونوں میدان کے ملا اور مجاہد ہوں تودونوں کی اذاں اور شہادت ایک ہی ہوتی ہے۔ ملا کی اذاں اور مجاہد کی شہادت ایک ہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خانقاہی ملا نہیں تھے بلکہ میدانِ جہاد کا ملا تھے اور مجاہد بھی میدانِ جہاد کا مجاہد پھر دونوں کی اذاں و شہادت ایک ہی ہوگی۔ دونوں بزرگ بنگلہ دیشی رہنما قرآن کی تلاوت پڑھتے ہوئے تختۂ دار کی جانب پہنچے۔ جب ان کی گردنوں میں پھندا ڈالا گیا تو انہوں نے بلند آواز میں نعرۂ تکبیر بلند کیا۔نمازِ جنازہ میں صرف قریبی اعزہ کو شرکت کی اجادت دی گئی۔ ہزاروں افراد کوسیکورٹی فورسز نے قبرستانوں کے باہر گن پوائنٹ پر روک دیا تھا۔ حالانکہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والے سہ فریقی معاہدے کو دنیا کے سامنے لانا چاہئے جس میں فریقین نے جنگی جرائم کے نام پر کسی بھی قسم کی انتقامی کاروائی نہ کرنے اور پکڑ دھکڑ اور سزائیں دینے کی مخالف کی تھی۔
اگرچہ دنیا بھر میں اس ظلم پر شدید ردِّعمل کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم 40/ممالک کے علماء کی عالمی تنظیم ”رابطہ علمائے اہلِ سنّت“ استنبول نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے: ”بنگلہ دیش میں حکومت غیر انسانی، غیر قانونی اور غیر اسلامی اقدامات کرتے ہوئے محب وطن افراد اور تحریکِ اسلامی کے قائدین کے خلاف انتقامی رویّہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صلاح الدین قادر اور علی احسن محمد مجاہد کا خون تمام مسلم ممالک، اسلامی تنظیموں اور پوری ملتِ اسلامیہ کی گردن پر ہے، جنہوں نے اس عرصے میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔ ہم ہر صاحبِ فکر اور ہر ذمّہ دار فرد سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بنگلہ دیش کے ان مظلوم مسلمان بھائیوں کی معاونت کے لئے ہر ممکن اقدام کریں“ (الجزیرہ نیٹ، 23/نومبر 2015ء)۔
موجودہ حالات بتا رہے ہیں کہ اللّٰہ کے دین کے داعیوں کا قافلہ آزمائشوں سے ہوتا ہوا، زنداں خانوں میں اپنی عمریں کھپانے کے بعد اب یہ دار و رسن سے ہوتا ہوا تختۂ دار تک پہنچ گیا ہے۔ بہ ظاہر بنگلہ دیش کے حالات سخت خراب ہیں اور سیکولر فسطائیت کی گرفت بھی نظر آتی ہے۔ مگر ان شاء اللّٰہ! ظلم کی یہ سیاہ رات زیادہ طول نہیں کھینچ سکے گی۔
◆ انقلابی و اقدامی تحریروں پر پابندی:
برطانیہ میں مسلمانوں کے اسکولوں، مساجد، مدارس اور فلاحی تنظیموں کی کڑی نگرانی اور ان کے نصاب کو قادیانی جماعت کے تابع کرنے کی خاطر 40/ صفحات پر مشتمل حکمت عملی تیار کرکے پارلیمنٹ میں پیش کر دی گئی ہے۔ قادیانی نائب وزیر انسداد انتہا پسندی نے اکتوبر کے اوائل میں برطانوی پارلیمنٹ میں ایک پالیسی پیش کی ہے، جس کو انہوں نے "Counter Terrorism Strategy" کا نام دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اپنے ایک انٹرویو میں اس نے کہا ہے کہ ”اس پالیسی کا مقصد مسلمانوں اور نازیوں سمیت تمام انتہا پسندوں کو ہینڈل کرنا ہے“۔ اس پالیسی میں انتہاء پسندی اور دہشت گردی کو مسلمانوں اور ان کی دینی تعلیمات سے جوڑتے ہوئے صفحہ 21 میں بیان کیا گیا ہے کہ ”موجودہ انتہاء پسندی اور فساد کی جڑ حسن البناء شہیدؒ اور سیّد ابو الاعلیٰ مودودی کا تصور دین ہے، جسے سیّد قطب شہیدؒ نے تکفیری رنگ دیا ہے۔ اس کا سد باب کرنا ضروری ہے“۔ اسی طرح انتہا پسندوں کی شناخت کے طور پر اپنی فطرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قادیانی وزیر نے اس دستاویز میں اسلامی اصطلاحات کو انتہا پسندی سے منسلک کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا گیا ہے کہ لفظ ”جہاد“، ”کفر“ اور ”کافر“ استعمال کرنے والے انتہا پسند اور بعد میں دہشت گرد ہوسکتے ہیں۔ جب کہ یہودیوں پر سازش کا الزام لگانے اور شریعت یا شرعی قوانین کی بات کرنے والوں کو بھی انتہاء پسند قرار دیا گیا ہے۔
اسی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سعودی عرب کی وزاتِ تعلیم نے اپنے زیر انتظام تمام تعلیمی اداروں کو نوٹس جاری کیا ہے جس میں انہیں اخوان المسلمون کے بانی حسن البناء شہیدؒ، سیّد قطب شہیدؒ برصغیر کے ممتاز عالم دین مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی ؒ(جنہیں خود سعودی عرب کی جانب سے پہلا شاہ فیصل ایوارڈ دیا گیا تھا)، مالک بن نبی، عبدالقادر عودہ، مصطفیٰ السباعی، انور الجندی، حسن الترابی اور قطر میں مقیم مصری عالم دین علامہ یوسف القرضاوی سمیت کئی دوسرے مصنفین کی بھی بعض کتب پر ضبطی اور پابندی عائد کی گئی ہے۔
یہ تمام تفصیلات شاید آپ کو موضوع سے ہٹ کر نظر آئے، مگر یہی وہ حالات ہیں جو ہمیں اپنے موضوع پر لے جاتے ہیں۔ کیا ہمارے یہاں ایک بڑا طبقہ حسن البناء شہید ؒ اور سیّد ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی فکر و نظر کا قائل نہیں ہے۔ یقینا قائل ہے تو کیا یہ حالات یہاں نہیں بنائے جاسکتے، اسی لئے خبر کے پیچھے کی خبر کو سمجھیں اور اپنا لائحہ عمل طے کریں۔!
مسلم فوجی اتحاد:
1974ء میں پاکستان میں ہونے والی سربراہ کانفرنس میں ذوالفقار علی بھٹو اور سعودی فرماں روا شاہ فیصل نے مشترکہ طور پر اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ تمام اسلامی ممالک کو مل کر اپنی مشترکہ فوجی قوت بنانی چاہئے اور ساتھ ہی اسلامی ممالک کے لئے مشترکہ بینک کا قیام بھی عمل میں لایا جائے۔ اس تاریخی کانفرنس کے بعد اسلامی ممالک کے اہم رہنماؤں کو ان کے اپنے ممالک میں فوجی بغاوت یا خانہ جنگی میں الجھا دیا گیا اس طرح مسلم امّہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا گیا اور ان تمام کاروائیوں میں امریکا ہی کا مسلم مخالف ایجنڈا کار فرما تھا‘ اب امریکا‘ افغانستان‘ عراق‘ لیبیا اور مصر میں مکمل ناکامی کے بعد شام میں بھی بری طرح اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہار رہا تھا۔ دوسری جانب صدام حسین سے کویت کو نجات تو مل گئی اور صدام حسین کا خاتمہ بھی ہوگیا لیکن امریکی اور برطانوی فوجی کاروائیوں کے نتیجے میں آج عراق کی جو صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ بغداد کے جنوب میں کیمپ بوکا (Camp Bucca) میں بغدادی نے اپنا مکمل بیس بنایا اور پھر داعش قائم کیا اور اس کا مرکز یہی کیمپ ہے۔ اس سارے عمل میں صدام حسین کے دور کی اہم شخصیات اس گروپ کا حصّہ ہیں۔ اب زمینی حقائق کیا ہیں؟ یہ تو کسی صورت حال کے بعد ہی معلوم ہوسکتے ہیں۔
لیکن داعش کے خلاف جو مؤثر قوتیں لڑرہی ہیں ان میں صرف حزب اللّٰہ اور اسد کی وفادار سرکاری فوج کا ایک بڑا حصّہ ہے جس کو روس کی فضائیہ کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ داعش کا ابھرتا ہوا کردار کوئی حادثاتی پیداوار نہیں‘ یہ سارا کیا دھرا امریکا کا اپنا وہ کردار ہے جو وہ عراق میں ادا کرتا چلا آرہا ہے۔ عراق میں امریکی حملے کے نتیجے میں انتہاء پسندی نے زور پکڑا اور پھر یہ انتہاء پسندی کبھی القاعدہ اور اب داعش کے نام سے جانی جاتی ہے۔ امریکا جو انتہائی خفیہ انداز میں اپنا ایجنڈا مسلم اُمّہ میں پورا کرنا چاہتاہے اس کے تحت ایران اور روس کے خلاف عالم اسلام میں اتحادی گروپ تشکیل دینا ہے۔ مسلم فوجی اتحاد میں اکثریت ان ممالک کی ہیں جو سنّی مسلم آبادی پر مشتمل ہیں۔
یہ مسلم امّہ کی بدقسمتی ہے کہ اسلام کے اندر اسلام دشمنوں نے خود ہی فساد پھیلانے کی بنیاد رکھی ہے۔ امریکا نے موجودہ حالات میں مسلم ممالک میں پائی جانے والی افراتفری اور بے چینی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیعہ سنّی مسئلے کو حکومتی سطح پر زندہ کر دیا ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ سعودی قیادت میں مسلم دنیا دہشت گردی کے خلاف عسکری محاذ کے ساتھ ابلاغی اور فکری محاذوں پر بھی پوری جنگ لڑے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ اسلامی دنیا اس وقت مختلف ناموں اور مذہبی نظریات کے حامل مسلح دہشت گرد گروپوں، شر و فساد پیدا کرنے والے عناصر اور امن و استحکام کے دشمنوں میں گھری ہوئی ہے۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کی ان تمام شکلوں کو ختم کرنا مسلم دنیا کی اجتماعی ذمّہ داری ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع کا حالیہ بیان غور طلب ہے جس میں انہوں نے بڑے واضح طور پر کہاہے کہ اس اتحاد کا مقصد داعش کے مقابلے کے لئے سنّی مسلم قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا اور ان کے کردار کو وسعت دینا ہے۔ یہ تمام تر حکمت عملی امریکا کی ہے امریکی اتحاد کے تحت جن مسلم ملکوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے، یہ مسلمانوں کے لئے خطرناک حربہ اور ایسی چال ہے کہ جس میں پھنس کر مسلم اُمّہ خود اپنے لیے مسائل پیدا کرلے گی۔ امریکا نواز حکمرانوں نے خود ہی اپنے اتحاد کوپارہ پارہ کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے جس میں مذہبی منافرت کے بیج بوئے جارہے ہیں۔
فروری 1974ء میں لاہور میں اسلامی ممالک کا سربراہ اجلاس مسلم اُمّہ کی یک جہتی اور وحدت کا کھلا ثبوت تھا اور عالمِ اسلام اپنے دفاع اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے ٹھوس حکمت عملی پر متفق ہوچکا تھا۔ لیکن یہ تاریخی اجتماع امریکہ کو ناگوار گزرا اور عالم اسلام کو فرقوں میں تقسیم کرنے اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑوانے کی حکمت عملی امریکی CIA نے وضع کی اور پھر آہستہ آہستہ مسلم اُمّہ کے اہم کرداروں کو صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دیا گیا۔ یقینا آج کے حالات 1974ء سے مختلف ہیں لیکن اسلامی ممالک میں ان حالات کو کن طاقتوں نے پیدا کیا اور ان کے عزائم کیا ہیں؟ ذرا سوچیں اور خود فیصلہ کریں۔
اُمّتِ مسلمہ کا المیہ بیدار مغز اور جرأت مند قیادت کا فقدان ہے۔ باطل قوتیں اقتدار پر ایسے ہی لوگوں کو فائز دیکھنا چاہتی ہیں، جنہیں آسانی سے وہ اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرسکیں۔ اللّٰہ کی اپنی مشیت ہوتی ہے۔ وہ کب اس صورت حال کو بدلے گا، اسی کے علم میں ہے۔ ہم بحیثیتِ مجموعی ان حالات کو بدلنے کے لئے اللّٰہ کی طرف رجوع کریں تو حالات بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ سوچ اور عمل کی تبدیلی ضروری ہے۔ محض خواہشات اور رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوتا۔
عالم اسلام کے معروف صحافی عمر ابراہیم اپنے ایک مضمون میں بیان کرتے ہیں کہ ”ایک مشکوک واقعہ ہوتا ہے۔ مسلمان شکار کیے جاتے ہیں۔ ان کی لاشوں پر مشکوک کہانی گھڑی جاتی ہے۔ اس کہانی کو داعش کی سند عطاء کی جاتی ہے۔ دہشت گرد کو جنگ میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے مشکوک واقعات ہی مشرقِ وسطیٰ میں صہیونی جنگ کا ایندھن ہیں، ان واقعات کا فائدہ صرف اور صرف اسلامی تہذیب پر مسلط جنگ کو پہنچتا ہے۔ مسلمان قتل کیے جاتے ہیں، مسلمان ہی قاتل بنائے جاتے ہیں۔ یوں اپنے تئیں تہذیبِ اسلامی کے دن کم کئے جاتے ہیں۔ مگر دیارِ مغرب کے رہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے، تو اس کا وقت بھی وقت کے پھیرے میں آجاتاہے۔ درحقیقت فطرت کی ریاضی میں انصاف ہی جمع در جمع منافع بخش ہے، جس کا حصول صبر و استقامت سے مشروط ہے۔
◆ خلافت کی واپسی قریب ہے:
یہ تمام حالات ہمیں بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا اپنی اصل کی طرف رواں دواں ہے۔ یعنی خلافت علیٰ منہاج النبوۃ۔ اس کے قیام کے سلسلے میں پیغمبرﷺ نے خوش خبری دی ہے۔امام احمدکی مسند میں روایت ہے کہ پیغمبرﷺ نے فرمایا:
تکون النبوۃ فیکم ماشاء اللّٰہ أن تکون ثم یرفعھااذاشاء أن یرفعھاثم تکون خلافۃ علی منھاج النیوہ فتکون ما شاء اللّٰہ اَن تکون ثم یرفعھااذاشاء اللّٰہ أن یرفعھاثم تکون ملکاعاضافیکون ماشاء اللّٰہ أن یکون۔ثم یرفعھااذاشاء۔أن یرفعھا ثم تکون ملکا جبریۃ۔فتکون ماشاء اللّٰہ أن تکون ثم یرفعھا اذا شاء أن یرفعھا ثم تکون خلافۃ علی منھاج النبوۃ۔
ترجمہ: تمہارے درمیان نبوت ہوگی جب تک اللّٰہ چاہے گا۔ پھر جب اللّٰہ اسے اٹھانا چاہے گا اٹھالے گا۔پھر خلافت علی منہاج النبوت ہو گی جب تک اللّٰہ چاہے گا پھر جب اللّٰہ چاہے گا اسے اٹھا لے گا۔پھر کاٹ کھانے والی بادشاہت ہوگی جب تک اللّٰہ چاہے گا پھر جب اللّٰہ چاہے گا اسے اٹھا لے گا۔ پھر جبر و قہر کی بادشاہت ہوگی جب تک اللّٰہ چاہے گا۔ اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج النبوت ہوگی۔
یہ حدیث پیغمبرانہ نشانیوں میں سے ایک ہے کیونکہ مستقبل کی خبر دیتی ہے۔ بیان کردہ واقعا ت میں سے اکثر گزر چکے ہیں۔ نبوت، خلافت علی منہاج النبوۃ، کٹکنی بادشاہت اور جبر کی بادشاہت واقع ہو چکی ہے۔ اب صرف آخری ٹکڑا یعنی دوبارہ خلافت علی منہاج النبوۃ کا بحال ہونا باقی ہے۔
ایک دوسری حدیث میں نبیﷺ نے یہ بیان فرمایا کہ خلافت کی حدود کتنی وسیع ہونگی اور اس کی کیا کیا فتوحات ہونگی۔ امام احمدؒ اور الدارامی نے ابو قبیل کی روایت بیان کی ہے کہ:
کنا عند عبداللّٰہ بن عمرو بن العاصؓ، وسُئل ای المدینتین تفتح اولاً القسطنطنیہ او رومیۃ؟ فد عا عبداللّٰہ بصندوق لہ خلق‘ قال: فاخرج منہ کتاباً قال: فقال عبداللّٰہ: بینما نحن حول رسول اللّٰہﷺ نکتب‘ اذ سئل رسول اللّٰہﷺ ای المدینۃ تفتح أولاأقسطنطنیہ أورومیۃ؟ فقال رسول اللّٰہﷺ مدینہ حرقل تفتح أولأ یعنی قسطنطنیہ۔
ترجمہ: ہم عبداللّٰہ بن عمرو بن العاصؓ کے پاس تھے تو پوچھا گیا کہ کون سا شہر پہلے فتح ہوگا قسطنطنیہ یا روم؟ تب عبداللّٰہ نے اپنا ایک پرانا صندوق منگوایا‘ اس میں سے ایک تحریر نکالی پھر کہا: جب ہم رسول اللّٰہﷺ کے چاروں طرف بیٹھے لکھ رہے تھے تو آپ سے پوچھا گیا کہ کون سا شہر پہلے فتح ہو گا قسطنطنیہ یا روم؟ تو آپﷺ نے فرمایا ہرقل کا شہر پہلے فتح ہوگا یعنی قسطنطنیہ۔“
یہ حدیث بتاتی ہے کہ مسلمان اٹلی کا پایۂ تخت روم فتح کریں گے جو پوپ کا صدر مقام اور عیسائیت کا مرکز ہے اور خلافت واپس ہوگی اور باقی رہے گی۔ اہل ایمان کو اللّٰہ پر کامل بھروسہ اور اعتماد ہونا چاہیے کہ اللّٰہ کی نصرت ضرور حاصل ہوگی اور خلافت ضرور قائم ہوگی۔
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہِ رب العالمین۔
شاہی مسجد، اورنگ آباد۔
(27.12.2015)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
📱09422724040
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment