•نِفاق• Hypocrisy

 •نِفاق• Hypocrisy

        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
                           •نِفاق•
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════

      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
                📱09422724040

الحمد للّٰہ ربّ العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد قال اللّٰہ تعالیٰ فی القرآن المجید۔ اعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم۔ بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم۔

وَمِنَ النَّاسِ مَن یَقُولُ آمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الآخِرِ وَمَا ہُم بِمُؤْمِنِیْنَ (8) یُخَادِعُونَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ آمَنُوا وَمَا یَخْدَعُونَ إِلاَّ أَنفُسَہُم وَمَا یَشْعُرُونَ (9) فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضاً وَلَہُم عَذَابٌ أَلِیْمٌ بِمَا کَانُوا یَکْذِبُونَ (10) (سورۃ البقرہ: 8-10)

”بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللّٰہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں۔ وہ اللّٰہ پر ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں۔ مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللّٰہ نے اور زیادہ بڑھا دیا اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک سزا ہے۔“

اسی طرح دوسری جگہ منافقوں کی سازشوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے اللّٰہ ربّ العالمین فرماتے ہیں:

”کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اس غرض کے لئے (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں اور (اللّٰہ کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں اور اہلِ ایمان میں پھوٹ دالیں، اُس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے اللّٰہ اور اس کے رسول کے خلاف برسرِ پیکار ہوچکا ہے، وہ ضرور قسمیں کھا کھا کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا، مگر اللّٰہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں۔ (سورۃ التوبہ: 107)“

نِفاق کے لغوی مفہوم:

عربی زبان میں سرنگ کو " نفق" کہتے ہیں۔سرنگ جس میں ایک طرف سے داخل ہوا جاتا ہے اور دوسری جانب سے باہر نکلا جاتا ہے، منافق بھی دائرۂ اسلام میں ایک طرف سے داخل ہوتا ہے اور دوسری جانب سے نکل جاتا ہے، اسی لئے وہ منافق کہلاتا ہے۔

اسی ”ن ف ق“ سے ایک لفظ بنا ہے۔ عربی زبان میں ”نافقاء“ گوہ کے چوہے کے اس بل کو کہتے ہیں جس میں دو سوراخ ہوتے ہیں، پاجامے کا نیفہ ”نیفق“ کہلاتا ہے جس کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ ایک گھسنے کا دوسرا نکل بھاگنے کا۔ 

منافقت کیاہے؟:

منافق اسے کہتے ہیں جس کے دل میں ایمان نہ ہو لیکن وہ ایمان کا مدّعی اور ایمان کا دعوے دار ہو‘ گویا وہ اپنے آپ کو مسلمانوں میں شامل کراتا ہو‘ حالانکہ اس کا دل نورِ ایمان سے خالی ہو۔ سر سری مفہوم میں منافق وہ ہے جس کے دو رخ ہیں۔ وہ ایمان سے بھی ایک تعلق رکھتا ہے اور کفر سے بھی۔ چنانچہ منافقین کے بارے میں فرمایا گیا:

وَاِذَا لَقُوۡا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡاۤ اٰمَنَّا ۖۚ وَاِذَا خَلَوۡا اِلٰى شَيٰطِيۡنِهِمۡۙ قَالُوۡاۤ اِنَّا مَعَكُمۡۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَهۡزِءُوۡنَ ۔

جب یہ اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، اور جب علیٰحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمھارے ساتھ ہیں اور اُن لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں۔ (سورۃ البقرہ: 14) 

منافقین کی اس نفسیاتی کیفیت کو سورۃ النساء میں اس طرح بیان فرمایا گیا:

مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰ لِكَ لَاۤ اِلٰى هٰٓؤُلَاۤءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰٓؤُلَاۤءِ‌ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلً۔

(کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اُس طرف ۔ جسے اللّٰہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔) (سورہ النساء: 143)

اس دو رخے عمل کا نقشہ قرآن نے سورہ النساء میں جو کھینچا ہے وہ بڑا فکر انگیز ہے۔ اللّٰہ کا فرمان ہے کہ:

”بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے‘پھر انہوں نے کفر کیا‘ پھر ایمان لائے‘ پھر کفر کیا‘ پھر وہ کفر میں بڑھتے چلے گئے‘ اللّٰہ تعالیٰ ان کو بخشنے والا نہیں ہے اور نہ ہی انہیں راہ یاب کرنے والا ہے۔ (اے نبیﷺ!) ایسے منافقوں کوآپ بشارت سنا دیجئے کہ ان کے لئے بڑا درد ناک عذاب ہے۔“

یہ ہے مرضِ نِفاق کے شکار انسان کی باطنی کیفیت کا نقشہ کہ کچھ آگے بڑھا‘ پھر پیچھے ہٹا‘ پھر حالات بہتر ہوئے اور آسانی ہوئی تو سرگرمی کے ساتھ کچھ پیش قدمی کی‘ لیکن پھر کہیں کوئی مشکل مرحلہ آگیا تو پسپائی اختیار کرلی۔ نِفاق کا یہ سارا معاملہ دراصل قلب کی دنیا سے یعنی انسان کے باطن سے متعلق ہے۔ ورنہ ظاہری طور پر منافقین مسلمانوں ہی میں شمار ہوتے تھے۔

اسی ضمن میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں، جس کے لئے اللّٰہ نے مندرجہ ذیل آیت کا نزول فرمایا۔۹/ ہجری۔ نوجوان و نوخیز صحابیٔ رسول عمیر بن سعدؓ جو 10/ سال کی عمر میں دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ جنگِ تبوک میں تیاری کے وقت کا واقعہ۔ صحابہؓ اور صحابیات ؓ کے ایمان افروز واقعات کی روداد جُلاس بن سوید کو سنائی۔ روداد سننے کے بعد ایک ایسی جلی کٹی بات کہی کہ جسے سن کر نوجوان صحابی عمیرؓ حیران و سشدر رہ گئے۔ جُلاس بن سوید نے کہا کہ ’اگر محمدﷺ دعوئے نبوت میں سچّے ہیں تو پھر ہم تو گدھوں سے بھی زیادہ بدتر ہیں۔“ (نعوذ باللّٰہ من ذالک)۔ یہ بات سن کر عمیرؓ کے دل میں خیال آیا کہ اگر جلاس کی اس دل آزار بات سے پہلوتہی اختیار کی گئی اور اس پر پردہ ڈالا گیا تو یہ صریحاً اللّٰہ اور رسولﷺ کے ساتھ خیانت ہوگی اور اس طرزِ عمل سے ان منافقوں کو تقویت ملے گی جو درِ پردہ اسلام کو مٹانے کے لئے آپس میں مشورے کرتے رہتے ہیں، اگر راز کو افشاء کر دیا تو پھر اس شخص پہ گراں گزرے گا جسے میں والد کا درجہ دیتا ہوں۔ عمیر بن سعد ؓ نے جُلاس بن سوید سے کہا کہ:

”بخدا! روئے زمین میں رسول اللّٰہﷺ کے بعد آپ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ عزیز تھے۔ لیکن آج آپ نے ایک ایسی بات کہہ دی ہیکہ اگر لوگوں کے سامنے اس کا تذکرہ کرتا ہوں تو آپ رسوا ہو جائیں گے۔ اگر خاموش رہتا ہوں تو امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہوں۔ اس طرح میں اپنے آپ کو تباہ و برباد کر بیٹھوں گا، میں تو یہ بات رسول اللّٰہ کو بتانے جا رہا ہوں اب آپ اپنا انجام سوچ لیں۔“

عمیرؓ نے رسول اللّٰہﷺ کو ساری روداد جاکر بیان کردی۔ اللّٰہ کے رسولﷺ نے جلاس بن سوید کو بلا کر باز پرس کی، جلاس غصّے میں آگ بگولا ہوکر کہنے لگا، حضور میں بالکل سچا ہوں، میں اللّٰہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں، کہ عمیرؓ نے میرے متعلق جو کچھ آپ کو کہا وہ بالکل جھوٹ ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے عمیر ؓ کی طرف دیکھا چہرہ غصّے سے سرخ اور آنکھوں سے زار و قطار آنسو جاری ہے اور بے خودی کے عالم میں بارگاہِ الٰہی میں یہ دعا کرتا ہے۔

الٰہی! میری بات اپنے نبی علیہ السلام پر واضح فرما دے.........، الٰہی! میری بات اپنے نبی علیہ السلام پر واضح فرما دے.........
اسی وقت اللّٰہ کے رسولﷺ پر وحی کا نزول ہوا اور یہ آیت کریمہ تلاوت کی۔

”یہ لوگ اللّٰہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے۔ وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کر نہ سکے، یہ ان کا سارا غصّہ اسی بات پرہے کہ اللّٰہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کر دیا ہے۔ اب یہ اپنی اس روش سے باز آئیں تو انہی کے لئے بہتر ہے اور اگر یہ باز نہ آئے۔ تو اللّٰہ ان کو درد ناک سزا دے گا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور زمین میں کوئی نہیں جو ان کا حمایتی اور مددگار ہو۔“ (سورہ التوبہ: 74) 

یہ ہے اس دو رُخے پن کا وہ ایک ظاہری سا نقشہ کہ جس کی مناسبت سے اس لفظ ”نفق“ اور ”نافقاء“ کا استعمال ہوا ہے۔

لیکن ذرا غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس میں جو اصل جذبہ کار فرما ہے وہ جان و مال کے بچاؤ کا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں ”منافق کی نگاہ اپنے مرکوز ہوتی ہے اور مومن کی نگاہ اپنے جہاد کے گھوڑے پر“۔ جہاد فی سبیل اللّٰہ سے کنی کترانے اور اس سے دامن بچانے کا نتیجہ ہے نِفاق۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے‘ بقول علامہ اقبال ؒ  کہ   ؎
تو بچا بچا کے نہ رکھ اِسے‘ ترا آئینہ  ہے وہ آئینہ کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں!
نِفاق کی علامتیں، منافقوں کی قسمیں اور ان کا انجام:

ہر دور میں مسلمانوں کی صفوں میں ایسے لوگ شامل ہوتے رہے ہیں، جو بظاہر زبان سے اسلام کا اظہار کرتے تھے مگر ان کا باطن مومن نہیں بلکہ منافق ہوتا تھا۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے کافروں سے زیادہ مضر اور خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔ اسی لئے اللّٰہ نے ان کے لئے جو سزا متعین کی ہے وہ جہنم کے طبقات میں سب سے نیچے کا درجہ یعنی یہود و نصاریٰ، مشرکوں اور کافروں سے بھی نیچے کا درجہ۔ قرآن میں اللّٰہ فرماتے ہیں:

اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِى الدَّرۡكِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ‌ ۚ وَلَنۡ تَجِدَ لَهُمۡ نَصِيۡرًا ۔ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاَصۡلَحُوۡا وَاعۡتَصَمُوۡا بِاللّٰهِ وَاَخۡلَصُوۡا دِيۡنَهُمۡ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ؕ وَسَوۡفَ يُـؤۡتِ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَجۡرًا عَظِيۡمًا‏ ۔

”یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مددگار نہ پاؤ گے، البتہ جو ان میں سے تائب ہو جائیں اور اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کرلیں اور اللّٰہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللّٰہ کے لئے خاص کردیں، ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں اور اللّٰہ مومنوں کو ضرور اجرِ عظیم عطاء فرمائے گا۔“ (سورۃ النساء: 145 تا 146)

اگر ہم قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اُس وقت منافقوں کی بہت سی قسمیں تھیں۔

اِذَا جَآءَكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ ‌ۘ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَـكٰذِبُوۡنَ‌ ۔ اِتَّخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۔

”اے نبیﷺ جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقیناً اللّٰہ کے رسول ہیں“۔ ہاں، اللّٰہ جانتا ہے کہ تم ضرور اس کے رسول ہو، مگر اللّٰہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اس طرح یہ اللّٰہ کے راستے سے خود رُکتے اور دنیا کو روکتے ہیں۔ کیسی بُری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔“ (سورۃ المنافقون: 1-2)

اس طرح کے منافقین صرف حضور پاکﷺ کے زمانہ میں نہیں تھے بلکہ ہر زمانہ میں رہے ہیں اور حضورﷺ کی پیشن گوئی کے مطابق آخری زمانہ میں بھی رہیں گے، ایسے خطرناک منصوبہ کے ساتھ اور ایسی معصوم شکل و صورت میں ملیں گے کہ صرف مومنانہ فراست ہی ان کو پہچان سکتی ہے۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت کے مطابق رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا:

”تمہارے درمیان ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی نمازوں کو دیکھ کر تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھنے لگو گے، ان کے روزوں کو دیکھ کر تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھنے لگو گے، ان کے عمل کو دیکھ کر تم اپنے عمل کو حقیر سمجھنے لگو گے، وہ قرآن کی تلاوت کریں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔“

دوسری قسم منافقوں کی وہ تھی جو مفاد پرستی کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوئے تھے ان کا منصوبہ اسلام کو مٹانے کا نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کے ردّ عمل سے محفوظ رہنا اور اسلام کے نام پر مالی اور سماجی فوائد حاصل کرنا تھا، قرآن پاک میں ایسے منافقوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے۔

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوۡذِىَ فِى اللّٰهِ جَعَلَ فِتۡنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِؕ وَلَئِنۡ جَآءَ نَـصۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكَ لَيَـقُوۡلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمۡ‌ؕ اَوَلَـيۡسَ اللّٰهُ بِاَعۡلَمَ بِمَا فِىۡ صُدُوۡرِ الۡعٰلَمِيۡنَ ۔ وَلَيَـعۡلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَيَـعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ -

”لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللّٰہ پر، مگر جب وہ اللّٰہ کے معاملہ میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللّٰہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا۔ اب اگر ترے ربّ کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللّٰہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے؟ اور اللّٰہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہی ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون۔“ (سورۃ العنکبوت: 10-11)

یہ دوسرے قسم کے منافقین اگرچہ اتنے خطرناک تو نہ تھے مگر تھے منافق کیونکہ اسلام پر ان کو یقین نہ تھا اور نہ مسلمانوں سے ان کو محبت تھی، بس مفاد پرستی تھی جو ان کو اسلام کا دم بھرنے پر مجبور کرتی تھی، اس طرح کے منافقین آج بھی ہیں اور ہر زمانہ میں رہیں گے۔ اللّٰہ ربّ العالمین نے اپنے رسولﷺ کو ان سے سختی سے نمٹنے کا حکم دیا تھا اور ان کو کفار کے زمرہ میں شامل کیا تھا۔

”اے نبی ﷺ! کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔“

نِفاقِ عقیدہ کے علاوہ ایک نِفاقِ عمل بھی ہے، انسان فکر و عقیدہ کی سطح پر اسلام قبول کرتا ہے مگر اس کے اعمال ایسے ہوتے ہیں جو ایمان اور عقیدہ کے منافی ہوتے ہیں، ایسا شخص اسلام کا دل سے انکار نہیں کرتا مگر عمل سے اظہار بھی نہیں کرتا۔ اس عملی نفاق کی بہت سی علامتیں ہیں۔

رسول اللّٰہﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ منافق کی چار علامتیں ہیں (۱) جب بولے تو جھوٹ بولے (۲) جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے (۳) جب بحث کرے تو گالی گلوچ پر اتر آئے (۴) اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔

اب میں اور آپ اپنے آپ کو کٹہھرے میں رکھ لیں، اس کی طرح تعلیمات و ہدایات کو سننے مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کانوں کی لذت لیں اور چلے جائیں، اپنے ضمیر میں عدالت لگائیں اور جائزہ لیں، اور دیکھیں کہ کہیں ہمارے اندر ان خصلتوں میں سے کوئی غلیظ خصلت تو نہیں آئیں۔

حضرت عبداللّٰہ ابن عمر ؓ کے پاس ایک شخص آتا ہے اور کہتاہے کہ ہم لوگ جب اپنے حاکم کے پاس جاتے ہیں تواس کی پسند کی بات کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو اس کے خلاف بات کرتے ہیں، یہ سن کر حضرت عبداللّٰہ ابن عمر ؓ نے فرمایا: ”ہم اسے رسول اللّٰہﷺ کے عہد میں نِفاق میں شمار کرتے تھے۔“

عملی نِفاق کی اور بھی بہت سی علامتیں ہیں مثلاً نمازوں سے غفلت برتنا، مسلمانوں سے کنارہ کشی کرنا، انفاق اور جہاد سے جی چرانا، چرب زبانی اور ملمع سازی سے کام لینا، موقع پرستی کرنا، ضرورت کے وقت حق کا ساتھ نہ دینا، بھلائی کے کاموں سے کھسک جانا، قول و عمل میں تضاد ہونا، دو رخی پالیسی اختیار کرنا وغیرہ وغیرہ۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سب تو برائیاں ہیں.......... نِفاق کس طرح ہوسکتی ہیں؟ نِفاق اور گناہ میں فرق اتنا ہے کہ گناہ گار گناہ کرتا ہے تو شرمسار ہوتا ہے اور احساس جرم میں مبتلا رہتا ہے، جب کہ نفاق کا مرتکب گناہ کرتا ہے اور شرمندہ نہیں ہوتا بلکہ ڈھٹائی سے کام لیتا ہے، گناہ گار گناہ سے توبہ کرتا ہے اور نِفاق عمل کا مرتکب تاویل کرتا ہے اور اسے حق بجانب ٹھہراتا ہے۔

نِفاق کا اصل سبب:

یہ بات ذہن نشین کیجئے کہ مکّی دور میں جو لوگ ایمان لائے ان کی غالب اکثریت ان لوگوں پر مشتمل تھی جو اسلام اور پیغمبرِ اسلامﷺ کی حقّانیت کو پوری طرح قلبی و ذہنی طور پر تسلیم کرنے کے بعد ایمان لائے تھے۔ لیکن یہ صورت حال بعد میں برقرار نہ رہی۔ مدنی دور کے ابتدائی کچھ سالوں کے بعد حالات تیزی سے بدلنے لگے۔ مدینہ منورہ میں اللّٰہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺ کو تمکن فی الارض یعنی غلبہ عطا فرمایا، اور مدینہ کے دو بڑے قبیلے اوس و خزرج ایمان لے آئے۔ اب یہ بات نہیں رہی کہ جو ایمان لائے اس کو شدائد اور مصائب سے سابقہ پیش آیا ہو، لہٰذا کچھ کمزور طبائع نے بھی ہمت کی اور حالات کو ساز گار دیکھتے ہوئے اسلام قبول کرلیا۔ لیکن جیسے جیسے ایمان کے عملی تقاضے سامنے آنے لگے‘ جان اور مال کھپانے کے مطالبے شدت پکڑنے لگے تو ضعیف الارادہ اور کم ہمت لوگوں کے لئے اسلام اور ایمان کے راستے پر چلنا مشکل ہو گیا۔ اس منظر نامہ کی عکاسی سورۃ الصف کے دوسرے رکوع میں نظر آتی ہے۔ 

نِفاق کا نقطۂ آغاز:

نِفاق کے سلسلے میں قرآن میں دو بلیغ تمثیلیں آئی ہیں۔ پہلی سورۃ الحج میں فرمایا گیا کہ:

وَمِنَ النَّاسِ مَن یَعْبُدُ اللَّہَ عَلَی حَرْفٍ (سورۃ الحج: 11)
”کہ لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کنارے رہ کر اللّٰہ کی بندگی کرنا چاہتے ہیں۔“ 

أَوْ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَاء ِ فِیْہِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ یَجْعَلُونَ أَصْابِعَہُمْ فِیْ آذَانِہِم مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ واللّہُ مُحِیْطٌ بِالْکافِرِیْنَ (19) یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ أَبْصَارَہُمْ کُلَّمَا أَضَاء  لَہُم مَّشَوْاْ فِیْہِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَیْْہِمْ قَامُواْ وَلَوْ شَاء  اللّہُ لَذَہَبَ بِسَمْعِہِمْ وَأَبْصَارِہِمْ إِنَّ اللَّہ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدِیْرٌ  (20)

”یا ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہورہی ہو۔ اس میں تاریکی ہو، کڑک ہو اور چمک ہو۔ یہ کڑکے کی وجہ سے، موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونسے لے رہے ہوں، حالانکہ اللّٰہ کافروں کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ بجلی کی چمک ان کی آنکھوں کو خیرہ کئے دے رہی ہو۔ جب جب ان کے لئے چمک جاتی ہویہ چل پرتے ہوں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہو رک جاتے ہوں۔ اگر اللّٰہ چاہتا تو ان کے کانوں اور آنکھوں کو سلب کر لیتا۔ بیشک اللّٰہ ہر چیز پر قادر ہے۔“

ان تمثیلاتِ قرآنی میں ایک خاص انسانی کردار کا مکمل نقشہ موجود ہے۔ جب حالات سازگار اور موافق ہوئے تو ایمان اور اسلام کے راستے پر چلتے رہے‘ لیکن جب آزمائش کا وقت آیا، جہاد اور قتال فی سبیل اللّٰہ کی کڑک اور گھن گرج سنائی دی‘ جان و مال کے ایثار کا کٹھن مطالبہ سامنے آیا تو ٹھٹھک کر کھڑے ہوگئے۔ یہ کیفیت درحقیقت مرضِ نفاق کا نقطۂ آغاز ہے۔ البتہ یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اس کیفیت کے ابتدائی مراحل کو قرآن نِفاق قرار نہیں دیتا۔

 نِفاق سے پہلے ایک منزل ضعفِ ایمان کی ہے کہ ایمان ابھی اس درجے پختہ نہیں ہوا کہ انسان کا عمل پورے طور پر اس کے تابع ہوسکے۔ لیکن ضعفِ ایمانی کی اس کیفیت کا یہ ایک لازمی امر ہے کہ انسان اپنی خطا کا اعتراف کرتا ہے، جھوٹے بہانے نہیں کرتا بلکہ اپنی غلطی اور کوتاہی کو صاف تسلیم کرتا ہے۔ جب تک یہ صورت برقرار رہے اسے نفاق نہیں کہا جاسکتا، بلکہ اسے ضعفِ ایمان سے تعبیر کیا جائے گا۔ لیکن اس سے اگلا قدم یہ ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں پر پردے ڈالنے لگے‘ جھوٹے بہانوں کا ساتھ لے، تو یہاں سے یوں سمجھئے کہ نفاق کی سرحد شروع ہوگئی، مرضِ نِفاق کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگیا۔ قرآن مجید نے نفاق کو بھی ایک روگ اور مرض سے ہی نوازا ہے۔ سورۃ البقرہ کے دوسرے رکوع میں فرمایا:

فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ فَزَادَہُمُ اللّہُ مَرَضاً۔۔۔۔۔۔
”ان کے دلوں میں ایک مرض ہے‘ پس اللّٰہ نے اس مرض میں اضافہ فرما دیا۔“
نِفاق سے بچاؤ کا ذریعہ:

ظاہر بات ہے کہ نِفاق ضد ہے ایمان کی۔ اس پہلو سے مؤمن کے مقابلے میں منافق کا لفظ آتا ہے‘ گویا حقیقت کے اعتبار سے ایمان کی ضد نِفاق ہے اور قانونی اعتبار سے کفر! بلکہ کہیں اگر اس کی چھوت لگ گئی ہو۔ لہذٰا اگر کوئی شخص اپنے آپ کو نِفاق سے بچانا چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ کبھی اس مرض کی چھوت اسے لگے تو اس کے علاج اور معالجے کی تدبیر کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اسے مستحکم رکھنے کی فکر کرے۔ اور ایمان کی آبیاری، اس کی تقویت اور اس کو سر سبز و شاداب رکھنے کا حقیقی اور مؤثر ذریعہ ذکرِ الٰہی کے سوا اور کوئی نہیں! اللّٰہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان پہنچتا ہے۔ تلاوتِ قرآن کریم اور نماز ذکر کی اعلیٰ ترین صورتیں ہیں۔

اور اگر کہیں مرض نِفاق کی کوئی چھوت تمہیں لگ گئی ہو‘ انفیکشن بڑھ گیا ہو، اس مرض نے دل میں کچھ جڑیں جمالی ہوں تو اب اس کا علاج کرنا ہوگا اور وہ علاج ہے انفاق فی سبیل اللّٰہ! یہی انفاق دراصل منافقت کا تیر بہدف علاج ہے۔ اللّٰہ کی راہ میں جان و مال خرچ کرو، لگاؤ اور کھپاؤ! دل کی دنیا کو اس مال کی محبت اور اس کی نجاست سے پاک و صاف کرو! علامہ اقبالؒ کہتے ہیں ؎

یہ مال و دولت و دنیا، یہ رشتہ و پیوند
  بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللّٰہ 

اس کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ اللّٰہ نے جو کچھ مال و دولت عطاء کی ہے اسے زیادہ سے زیادہ اللّٰہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ مال و دولت کی محبت کو دل سے نکالنے اور نفس کے تزکیہ کے لئے انفاق فی سبیل اللّٰہ کا عمل بہت ہی کارگر اور مفید ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔

 قرآن نے نِفاق اور مال و دولت کا نقشہ کھینچا ہے، ”کہ کچھ لوگ ہیں کہ جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ اگر ہمیں کشادگی اور غنا عطا فرمائے اور مال و دولت سے نوازے تو ہم اس کی راہ میں صدقہ و خیرات کریں گے‘ لیکن جب اللّٰہ نے انہیں وہ سب کچھ دے دیا جو انہوں نے مانگا تھا تو اب وہ اس میں بخل سے کام لے رہے ہیں اور اللّٰہ کی راہ میں صدقہ و خیرات پر آمادہ نہیں ہیں۔“ 

قرآن کا فرمان ہے کہ ”تو اس بد عہدی کی پاداش میں اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نِفاق پیدا کر دیا۔“

انفاق کے متعلق عام تصور تو یہی ہے کہ اس سے مراد ہے انفاقِ مال۔ لیکن اس مفہوم میں خاصی وسعت پائی جاتی ہے۔ کسی کام میں اپنی جان‘ اپنی صلاحیتوں اور قوتوں کو کھپانا اور اوقات کا صرف کرنا،............ انفاق کا لفظ ان سب کو محیط ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو نِفاق سے محفوظ رکھے۔ (آمین)

 اَلّٰلھُمَّ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ۰
صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ ۰

           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•
           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam