مِیڈِیا ٹِرائِل، حقیقت و اہداف کے آئینہ میں

•مِیڈِیا ٹِرائِل، حقیقت و اہداف کے آئینہ میں•

{Media Trial, in the mirror of reality & targets}

        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
•مِیڈِیا ٹِرائِل، حقیقت و اہداف کے آئینہ میں•
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════

      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
                📱09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✦ اسلام میں ذَرائِع اِبْلاغ کےاساسی اصول و اقدار:
✦ مِیڈِیا ٹِرائِل کا تعارف:
✦مِیڈِیا ٹِرائِل اور مسلم شخصیات:
✦مِیڈِیا ٹِرائِل اور دینی جماعتیں:
✦ مِیڈِیا ٹِرائِل اور عدالتیں:
✦میڈیا اور ملکی منظرنامہ:
✦مسلمانوں کا لائحہ عمل:
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•

✦اسلام میں ذَرائِع اِبْلاغ کےاساسی اصول و اقدار:
(The basic principles and values ​​of media in Islam)

اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے ہر مرحلے و شعبے میں زندگی گذارنے کے اصول و ضوابط بتائیں ہیں۔ انہیں میں سے ذَرائِع اِبْلاغ یا مِیڈِیا (means of communication) کے بھی اصول و ضوابط متعین کئے ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:
''اِن جَآءَ کْم فَاسِقْ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنْوا''
(اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے‘ تو تحقیق کر لیا کرو‘۔ سورۃ الحجرات: 6)

محسنِ انسانیتؐ کا فرمان ہے: ''کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سُنی سُنائی بات کو بیان کردے''۔ (صحیح البخاری، مقدمہ، حدیث: 9)

"ذَرائِع اِبْلاغ یا مِیڈِیا" سے مراد وہ تمام ذرائع ہیں جن کی مدد سے ہم اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ وہ ذریعے یا وسیلے جن سے خیالات اور اطلاعات وغیرہ عام لوگوں تک پہنچائی جائیں۔ عام زبان میں ''مِیڈِیا'' کا مختصر سا تعارف یہ ہے"اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے مختلف طریقے"۔ اصلاً تو یہ لفظ "مِیڈِیم" (وسیلہ، واسطہ، ذریعہ، طریقہ) کی جمع ہے لیکن اب اسم جمع کی حیثیت سے 'اِبْلاغ عامہ' کے ذرائع کے معنی میں مستعمل ہے۔ اخبارات و رسائل، ریڈیو، ٹیلی ویژن، فلم اور انٹرنیٹ اور انٹرنیٹ سے جڑے ہر Applications وغیرہ سب مِیڈِیا کی تعریف میں شامل ہیں۔ ایک زمانے میں مِیڈِیا مشن و مقصد کا رول ادا کرنے کا ذریعہ تھا۔ مگر آج مِیڈِیا مشن نہیں 'پروفیشن' ہے۔ پرانے ادوار میں یہی مِیڈِیا ہی تھا جو عوام کی آواز بلند کیا کرتا تھا اور عوامی حقوق کی بات کیا کرتا تھا، لیکن آج مِیڈِیا کا مقصد سوشل ریفارم نہیں محض سماج کی فوٹو گرافی ہے۔ حقیقتاً مِیڈِیا تو ویسے بھی پوری دنیا میں یہودیوں اور ہندوستان میں براہِ راست یا بالواسطہ برہمنوں کے تسلط میں ہے یا دوسرے لفظوں میں صہیونی (Zionist) فکر اور برہمنی نیتوں (Policies) کے آدھین ہے۔ سب سے بڑا المیہ تو یہ ہے کہ موجودہ مِیڈِیا ہاؤسز پر کارپوریٹ گھرانوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔ مِیڈِیا اب کاروبار ہے۔ مِیڈِیا ہاؤس بزنس ایمپائرز چلا رہے ہیں۔ وہ اپنی سرمایہ کاری کا منافع بھی چاہتے ہیں۔

آج مِیڈِیا میں معروضیت، غیر جانب داری Objectivity پر طول طویل بحثیں ہوتی ہیں لیکن نتیجہ کوئی نہیں برآمد ہوتا۔ کیونکہ تمام بلند بانگ دعوؤں کے باوجود مِیڈِیا میں آج جس چیز کا مکمل فقدان ہے وہ یہی 'معروضیت' ہے۔ سبب یہی ہے کہ نام نہاد غیر جانبداری کو مقدس گائے تو بنا دیا گیا ہے لیکن عملاً منافقت کا سکہ چلتا ہے۔ مِیڈِیا کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مسائل کی شاخوں کو بنیاد بنا کر پیش کرتا ہے۔ اور ان ہی شاخوں میں الجھتا رہتا ہے اور مسلمانوں کو بھی الجھائے رکھتا ہے۔ آج کے دور میں مِیڈِیا ٹِرائِل کا بڑا ہنگامہ ہے۔ آئیں! جائزہ لیتے ہیں کہ یہ مِیڈِیا ٹِرائِل آخر کس بلا کا نام ہے؟

✦ مِیڈِیا ٹِرائِل کا تعارف:
(Introduction of Media Trial)

ذَرائِع اِبْلاغ یا مِیڈِیا میں کسی تنازع یا مقدمے پر رائے زنی کر کے اپنی طرف سے فیصلہ صادر کرنے کا عمل "مِیڈِیا ٹِرائِل" کہلاتا ہے۔ Media on trial کے نام سے مِیڈِیا.... نے تحقیقات و تفتیش کے نام پر کھوج لگانے کا جو طریقہ ایجاد کیا ہے وہ آخر ہے کیا؟ دیکھئے جہاں تک مِیڈِیا کا معاملہ ہے اسے پورا اختیار ہے کہ کوئی بھی خبریں یا scam ہو اس کو بے نقاب expose کریں، مگر مِیڈِیا کا یہ کام نہیں ہے کہ کسی کا تمسخر اڑایا جائے، کسی کی تضحیک کی جائے، کسی کا reputation taring کیا جائے یا کسی بے گناہ ملزم کو مجرم بنا کر پیش کیا جائے۔ جب تک court کا فیصلہ نہ آجائے تب تک کوئی بھی کسی کو مجرم یا گنہگار نہیں کہہ سکتا۔ ملزمین جن پر الزامات لگتے ہیں انہیں ملزم ہی دیکھائیں نہ کہ مجرم۔ مجرم ثابت کرنے کا، کسی کو guilty ٹہرانے کا کام صرف عدالت کا ہے، مِیڈِیا کو اپنے سچ اور facts کو لانا چاہئیے، ان کو اچھے ڈھنگ سے رکھنا چاہئے۔ اور رکھتے وقت اس چیز کا دھیان رکھنا چاہیئے کہ وہ جس procedure کی پیروی کر رہے ہیں وہ کتنا سود مند ہے۔ کہیں Trail on media کے ذریعہ کسی کی زندگی تو برباد نہیں ہو رہی ہے۔ کئی معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ مِیڈِیا کی پولیس یائی brieffing پر کئی لوگوں کی زندگیاں، career داؤ پر لگ گئی ہیں۔ تکلیف اس وقت ہوتی ہے کہ مِیڈِیا court trial سے پہلے ہی media on trial میں ہی سیدھے سادے لوگوں کو دہشت گرد اور مجرم بنا کر پیش کرتا ہے۔ ذَرائِع اِبْلاغ کا یہ طریقہ کار اس قدر جھوٹ اور فریب پر مبنی ہوتا ہے کہ بقول فیض:  ؎

وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہیں

وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

مِیڈِیا Investigation تک آپ کو دیکھا سکتا ہے، لیکن matter court میں subjudice ہوگیا تو وہاں مِیڈِیا کی حدیں محدود ہوجاتی ہیں۔ مِیڈِیا میں ایک بڑا چیلنج ہے کہ کس طرح کھوج و تفتیش کی حفاظت کی جائے، اس کی شفافیت کی حفاظت، judgemental ہونے کی بجائے، فیصلہ دینے کی بجائے، مقدمہ چلانے کی بجائے، کسی کی کردار کشی کرنے کی بجائے، چیزوں کو شناخت کیا جائے اور عوام کے سامنے پیش کردیا جائے، عوام خود ہی اتنی سمجھدار ہو چکی ہے کہ اس معاملہ میں فیصلہ لے سکتی ہے۔

الیکٹرانک مِیڈِیا چینلز کے ایئر کنڈیشنز اسٹوڈیو میں بیٹھ کر تنقید کر لینا بہت آسان ہے۔ جس نے جرم کیا ہو، اسے سزا بھی ملنی چاہیے مگر ہر کوئی الزام کے ثابت ہونے تک معصوم ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کا مِیڈِیا ٹِرائِل کرنا اور سزائیں تجویز کرنا کسی کی ذاتی خواہش تو ہو سکتی ہے مگر سنجیدہ جرنلزم نہیں۔ یہ بیچارے لاچار ہیں صرف نیوز روم میں بیٹھ کر نفرت ہی پھیلا سکتے ہیں اور اس کے علاؤہ ان کے بس میں کچھ ہے بھی نہیں، تو وہ اب ''کھسیانی بلی کھمبا نوچے" اس مثل کے مطابق خواہ مخواہ کے لئے پریشان بنے ہوئے ہیں۔

  عصر حاضر میں مِیڈِیا ٹِرائِل "رائٹ ٹو پرسنل لیبرٹی" چھیننے کا بھی کام کر رہا ہے۔ مِیڈِیا ٹِرائِل کے نتیجے میں بے گناہوں کی معاشرے میں شبیہ خراب ہو جاتی ہے۔

ہم مانتے ہیں کہ Constitution میں مِیڈِیا کو اپنی بات پیش کرنے کی آزادی ہے، تو دوسری طرف artcile 121 میں rights to live and liberty ہے، انہیں اپنی نجی زندگی میں گوپنیتا کا حق ہے، انہیں بھی fare trials کا حق ہے۔ ایک گناہ ہوتا ہے اور گنہگار کہہ کر لوگوں کے چہرے دیکھائے جاتے ہیں، پریس کی پوری briefing دیکھائی جاتی ہے، مقدمے سے پہلے ہی اسے بلاتکاری (زانی)، درندہ، دہشت گرد اور گنہگار و مجرم ثابت کر دیا جاتا ہے، مِیڈِیا کا اس طرح کا رول غیر مناسب اور غیر منصفانہ ہے۔ مِیڈِیا کا کام ذمہ داری، سمجھ داری، ایمانداری کے ساتھ ساتھ کام کرنے کا ہے۔

  عالمی سطح پر بھی بڑی بڑی طاقتیں انسانی حقوق و آزادی کے نام پر مِیڈِیا ٹِرائِل کے ہتھیار کو استعمال کرکے چھوٹے چھوٹے ممالک کا استحصال کرتے ہیں۔جیسے امریکہ دنیا بھر کے غیر مطیع ممالک کے خلاف پہلے مِیڈِیا ٹِرائِل کے ذریعے عالمی سطح کی بدنامی کا اہتمام کرتا ہے اور پھر اس مِیڈِیا مہم کے ذریعے پیدا کردہ ماحول کا فائدہ اٹھا کر ایسے ممالک کو بلیک میل کرکے اطاعت پر مجبور کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوسکے اور ٹارگٹڈ ممالک عالمی سطح کی یتیمی کا شکار ہو تو پھر فوجی حملہ کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے۔ لیکن اگر ٹارگٹ ملک پر دیگر عالمی پلیئرز کی حمایت کے سبب حملہ ممکن نہ ہو تو پھر اقتصادی و سفری پابندیاں عائد کرکے اس ملک کی ترقی کا سفر روک دیتا ہے۔

✦مِیڈِیا ٹِرائِل اور مسلم شخصیات:
(Media trial & Muslim personalities)

  مسلمانوں کی مذہبی قیادتوں، بے گناہ ملزم وغیرہ کے متعلق گمراہ کن پروپیگنڈے اور مِیڈِیا ٹِرائِل کے ذریعے کی گئی کردار کشی متعصبانہ عمل ہے۔ متعصب مذہبی و سیاسی لیڈران اور جماعت کی ایما پر سیاسی و مذہبی انتقام کا نشانہ مسلمانوں کو بنانا بزدلی کی علامت ہے۔

مِیڈِیا ٹِرائِل کے ذریعے بے گناہوں کو پابند سلاسل کروا کر کیسے ان کا مستقبل اور روزگار کو داؤ لگایا جاتا ہے اس کی تازہ مثال ریاست گجرات کا یہ کیس ہے، جس میں 127 مسلمانوں کو 19 سال کیس چلانے کے بعد ’باعزّت بری‘ کیا گیا۔ مقدمے میں جن لوگوں کو ملزم بنایا گیا تھا ان میں اکثر ڈاکٹرز، انجینیئرز اور ٹیچرز تھے۔ باعزّت بری ہونے والے ایک بے گناہ ملزم کی روداد سنئے، ''ہم لوگوں کو ایک سال تک قید رکھا گیا۔ جیل سے رہائی ملی تو نوکری نہ مل سکی۔ میں نے گرفتاری سے چند ماہ قبل ہی گجرات یونیورسٹی سے جرنل ازم کے کورس میں ٹاپ کیا تھا۔ کسی بھی مِیڈِیا ہاؤس نے مجھے نوکری نہیں دی''۔

مِیڈِیا ٹِرائِل کے نتیجے میں کئی سالوں تک زنداں میں داعیانہ کردار ادا کرنے والے یحییٰ کاما کوٹی کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ یحییٰ کاما کوٹی بنگلور میں WIPRO IT Sector میں کام کرنے والا غریب گھرانے کا پڑھا لکھا کیرالہ کا ایک نوجوان جسے خونخوار دہشت گرد کہہ کر گرفتار کیا گیا اور بالآخر 10/ سال بعد اس کو باعزّت بری کر دیا گیا۔ لیکن گرفتاری کے وقت مِیڈِیا کے coverage کو دیکھیں تو معلوم ہوتا کہ مِیڈِیا کا ایک بڑا حصّہ کتنا unfare اور کتنا biosed ہو کر مِیڈِیا ٹِرائِل کے ذریعے ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والے فرد کو دہشتگرد بتا کر 10 سال جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ کیا یہ مِیڈِیا کی ذمّہ داری نہیں کہ اس کے معاملے کو fair coverage ملتا؟

مِیڈِیا نے بغیر کسی تحقیقات کے سلمان پر ملک مخالف سازش دہشت گرد سرگرمیوں اور ممنوعہ عسکری تنظیموں میں نوجوان کی بھرتی کے بے بنیاد الزامات عائد کئے۔ سلمان خورشید کے والدین نے اپنے لڑکے کی رہائی کیلے اے ٹی ایس اتر پردیش، عدلیہ اور ریاستی پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے قومی میڈیا کی جانب سے کئے گئے مِیڈِیا ٹِرائِل پر افسوس کا ا ظہار کیا اور کہا کہ مِیڈِیا نے بغیر کسی ثبوت، تحقیقات، عدالتی کاروائی اور حقیقت سامنے آنے سے قبل ہی سلمان کو دہشت گرد اور فدائین قرار دے دیا جو صحافت کے اصولوں کی منافی ہے۔ اس سے ان کو تکلیف پہنچی ہے اور معاشرے میں ان کے عزت کو زبردست نقصان پہنچا ہے جس کی بھرپائی کرنا مشکل ہے۔

مبلغین اسلام کو مِیڈِیا ٹِرائِل کے ذریعے ہدف بنا کر یا تو ان پر قدغن لگائی گئی یا پھر انہیں پابندِ سلاسل کر دیا گیا۔ جس پر کئی بیانات بھی جاری ہوتے رہے ہیں۔ اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مِیڈِیا ٹِرائِل پر مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) نے مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک عدالت اپنا فیصلہ نہیں دیتی کسی کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
  (The News Minute, 13 July 2016)

مبلغین اسلام و داعیانہ کردار ادا کرنے والے مولانا محمد کلیم صدیقی صاحب اور عمر گوتم و مفتی جہانگیر کی گرفتاری کے بعد مِیڈِیا ٹِرائِل کی کہانی بھی بڑی عجیب ہے۔ دراصل معاملہ ملک کی سیکورٹی یا مسلم شخصیات سے کسی خطرے کا نہیں بلکہ مکمل سیاسی ہے اور مذہب و مسلک کے نام پر عوام کو اس قدر الجہائے رکہنے کا ہے۔ مِیڈِیا ٹِرائِل سے ان کے آزاد اور منصفانہ مقدمے کی سماعت کا حق بھی متاثر ہو رہا ہے۔

ٹھیک ایسا ہی معاملہ امیر تبلیغی جماعت مولانا محمد سعد صاحب، افتخار گیلانی، عمر خالد، مالیگاؤں بلاسٹ کیس، دہلی کی جامع مسجد بلاسٹ کیس، حیدرآباد مکّہ مسجد کا معاملہ، اکثر دھام کا معاملہ، دہلی فساد کا معاملہ اور اس طرح کے دیگر معاملات کا بھی ہے۔

  مسلمانوں کا بیان دیش کے خلاف اور آئین کے خلاف محسوس ہوتا ہے، اور اس پر فوراً مِیڈِیا ٹِرائِل شروع ہو جاتا ہے، دوسری جانب ایوان کے احاطے میں آئین کے خلاف اور دستور کے خلاف نعرے بازی ہوتی ہے وہ دکھائی نہیں دیتا، وہاں سانپ سونگھ جاتا ہے۔

✦مِیڈِیا ٹِرائِل اور دینی جماعتیں:
(Media trial & Religious Organizations)

  کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے ضمن میں ایک خاص ذہنیت کے تحت تبلیغی جماعت کے نیک و صالح افراد، مراکز میں مقیم جماعتوں اور فی سبیل اللّٰہ میں نکلی ہوئی جماعتوں کو ہدف بنا کر انہیں تشدد، ظلم و جبر کا شکار بنایا جاتا ہے۔ مولانا سعد صاحب جیسے دیندار و متقی شخصیت اور تبلیغ جماعت کے مرکز سے مقامی سطح کے ذمّہ داران پر جھوٹے الزامات لگا کر مِیڈِیا ٹِرائِل کا کنگار و کھیل کھیلا جاتا ہے۔

  حجاب کیس اب ملک بھر میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس کو کرناٹک کے اڈپی کی چھ طالبات ہائی کورٹ میں لے گئی تھیں۔ مگر اس دوران سیاست اور مِیڈِیا ٹِرائِل کے سبب ان طالبات کے لیے بھی زندگی مشکل بنا دی گئی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان طالبات کے ساتھ ان کے والدین کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

  مِیڈِیا ٹِرائِل کے ذریعے مسلمان فرد یا شخصیت کے خلاف زہر افشانیوں، رکیک اور سطحی بیان بازیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ چل پڑھتا ہے۔

  مِیڈِیا ٹِرائِل کے ذریعے باطل پرست عناصر ہیجانی کیفیت پیدا کرکے مسلمانوں کو بدنام زمانہ ثابت کرنا چاہتی ہیں۔ یقینی طور پر مسلم مذہبی شخصیات ایک بہانہ ہیں اور اس کے در پردہ سبھی مسلمان اور مسلم جماعتیں، تنظیمیں اور ادارے نشانہ ہیں۔ مسلم مذہبی شخصیات کے خلاف مِیڈِیا ٹِرائِل خطرناک سازش کا شاخسانہ ہے، فسطائی طاقتوں نے انتہائی منظم طریقے سے اس کے نفاذ کے لئے تانے بانے بنے تھے۔

✦ مِیڈِیا ٹِرائِل اور عدالتیں:
(Media trial and Courts)

عدالتوں کی جانب سے مِیڈِیا ٹِرائِل جیسے تعصب و نفرت کے جذبات بونے والے تماشے یا سرکس پر قدغن لگانے کے باوجود زیر التوا کیسز اور بے گناہ ملزمین پر تبصرہ ہوتا ہے، مِیڈِیا ٹِرائِل مرچ مصالحہ لگا کر، لوگوں کا ذہن بنا کر بے گناہوں کو سزاوار بنا دیتا ہے۔ مِیڈِیا ٹِرائِل ہمارے معاشرے کی بڑی بدقسمتی کا مظہر ہے۔ قانونی چارہ جوئی یا جوڈیشل ٹِرائِل سے پہلے مِیڈِیا ٹِرائِل شروع کردیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اکثر و بیشتر معصوم و بے گناہوں کو نفرت و عصبیت کی دھکائی ہوئی آگ کا ایندھن بننا پڑھتا ہے۔ بار بار ہونے والی خلاف ورزیوں اور اس کے نتیجے میں سماجی بدامنی کی وجہ سے مِیڈِیا کے سخت ضابطوں اور جوابدہی کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ مِیڈِیا ٹِرائِلز عدلیہ کے منصفانہ کام اور آزادی کو متاثر کرتے ہیں۔

مِیڈِیا ٹِرائِل میں ملزم کو قصور وار قرار دینے پر کورٹ برہم عمر خالد کی شکایت پر کورٹ نے ذَرائِع اِبْلاغ کو ضوابط پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ جنوری 2021ء میں مِیڈِیا کی نفرت انگیز مہم کے خلاف عمر خالد کی پٹیشن پر چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ''کسی کے بے قصور ہونے کے تاثر'' کو مِیڈِیا ٹِرائِل کے ذریعہ تباہ نہیں کیا جاسکتا۔ واضح رہے کہ قانون کا یہ بنیادی اصول ہے کہ جب تک جرم عدالت میں ثابت نہ ہو جائے ملزم بے قصور تصور کیا جاتا ہے مگر حالیہ دنوں میں ہندوستانی مِیڈِیا نے مقدمے کی شنوائی سے قبل ہی ملزم کو مجرم بنا کر پیش کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے جولائی 2022ء کو مِیڈِیا کے لیے ایک وارننگ لفظ شامل کیا کیونکہ عدالت نے نوٹ کیا کہ مِیڈِیا آج کل غلط معلومات اور ایجنڈے پر مبنی ڈبیٹ کر رہا ہے اور یہ ایک ''کنگار و عدالت'' چلانے کے مترادف ہے۔ عدالت نے ایجنڈے پر مبنی ڈبیٹ کے حالیہ رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک اور سوشل مِیڈِیا نے خاص طور پر ٹول کٹس کے استعمال سے مسئلہ کو کئی گنا بڑھا دیا گیا ہے۔ ’لاییو لاء‘ کے مطابق عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ حال ہی میں مِیڈِیا ہائی پروفائل فوجداری مقدمات میں عدلیہ کی پاکیزگی سے آگے نکل گیا ہے۔

ممبئی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اسے یہ جان کر حیرت ہوئی ہے کہ الیکٹرک مِیڈِیا پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران مِیڈِیا ٹِرائِل کے عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مِیڈِیا اپنی حدود عبور نہ کرے۔ ممبئی ہائی کورٹ کے بقول مِیڈِیا میں اب صف بندی ہو گئی ہے۔ ماضی میں صحافی حضرات ذمہ دار اور غیر جانبدار ہوتے تھے۔ اگر آپ ہی تفتیشی آفیسر، استغاثہ اور جج بن جاتے ہیں تو ہمارا کیا فائدہ؟

جسٹس کرشنا پہل کی ایک ڈویژن بنچ نے مزید مشاہدہ کیا کہ مِیڈِیا کا کام سماج تک تک خبریں پہنچانا ہے، لیکن بعض اوقات، انفرادی خیالات خبروں پر حاوی ہو جاتے ہیں اور اس طرح سچائی پر منفی اثر پڑتا ہے۔عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت میں مقدمے کی سماعت سے قبل مِیڈِیا میں مشتبہ ملزم کی ضرورت سے زیادہ تشہیر یا تو منصفانہ ٹِرائِل کو متاثر کرتی ہے یا اس کے نتیجے میں مشتبہ ملزم کو قطعی مجرم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

جسٹس پاردی والا نے کہا کہ ڈیجیٹل مِیڈِیا ٹِرائِل کی وجہ سے نظام انصاف کے عمل میں بے جا مداخلت ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس کی بہت سی مثالیں بھی دیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سوشل مِیڈِیا پر ایسے لوگوں کا غلبہ ہے جو آدھی سچائی سے واقف ہیں اور قانون کی حکمرانی، شواہد، عدالتی عمل اور اس کی موروثی حدود کی سمجھ سے محروم ہیں۔ سنگین جرائم کے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس پاردی والا نے کہا کہ سوشل اور ڈیجیٹل مِیڈِیا کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے، ٹِرائِل ختم ہونے سے پہلے ہی ملزم کی غلطی یا بے گناہی کے بارے میں ایک قیاس قائم کر دیا جاتا ہے۔

چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹٹ دنیش کمار نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں پریس اور مِیڈِیا کو چوتھا ستون بتایا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اپنا کام احتیاط سے کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو تعصب کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے اور اسی طرح کا خطرہ ہے 'مِیڈِیا ٹِرائِل'۔

  مِیڈِیا پر چیف جسٹس آف انڈیا، این وی رمن کی باتیں باعث تشویش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’معاملوں کو طے کرنے میں مِیڈِیا ٹِرائِل ایک رہنما فیکٹر نہیں ہو سکتے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مِیڈِیا کنگار و کورٹ چلا رہے ہیں، کبھی کبھی تجربہ کار منصفوں کو بھی معاملے پر فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘ ان کا ماننا ہے کہ ’غلط جانکاری اور ایجنڈا سے چلنے والے مباحثے جمہوریت کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔

   مِیڈِیا پر جانبدارانہ رائے عدالتی فیصلے پر اثر انداز ہوئی ہے، عدالت نے مِیڈِیا پر جاری مباحثوں سے متاثر ہو کر فیصلہ دیا۔ آخر کیا وجہ کہ وزیر اطلاعات و نشریات یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ''نجی مِیڈِیا کو 'مِیڈِیا ٹِرائِل' پر خود کا جائزہ لینا چاہیے''۔

   مِیڈِیا ٹِرائِل سے انصاف کی فراہمی میں مداخلت ہوتی ہے جس سے رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جو تحقیر عدالت کے مترادف ہے۔ اگر مِیڈِیا ہی تفتیشی آفیسر، استغاثہ اور جج بن جاتے ہیں تو عدالتوں کے نظام اور اس کے وجود کیا فائدہ رہے جائے گا؟

  یہاں پر چند بات قابل غور ہے کہ مِیڈِیا کا مسلمانوں کے تئیں یہ دہرا رویہ کب تک روا رہے گا؟ اور کب تک یہ معصوم ذہنوں کو متنفر اور طبیعت کو آلودہ کریں گے؟ اگر حقیقت نمائی کا اتنا ہی شوق ہے تو آپ تصویر کے دونوں پہلو پر بات کرو! صرف ایک جہت دکھلا کر لوگوں کو متنفر کیوں کر رہے ہو؟

یہ بات صحیح ہے کہ مِیڈِیا کو زیادہ active نہ ہونے دیا جائے یا پھر مِیڈِیا بہت ساری چیزوں کا پردہ فاش کر سکے اس کے لئے مِیڈِیا ٹِرائِل کا الزام اس پر لگایا جاتا ہے۔ لیکن کئی بار ایسا لگتا ہے مِیڈِیا proceding چلا رہا ہے، یا یہ ثابت کرنا چاہ رہا ہے کہ یہی لوگ مجرم و گنہگار ہیں۔ اس طرح کئی cases ہیں مثلاً افتخار گیلانی کا case، اوما کھرانہ کی کیس، دہلی کی جامع مسجد بلاسٹ کا کیس، حیدرآباد مکّہ مسجد کا معاملہ، مالیگاؤں بلاسٹ، اکثر دھام کا معاملہ ان تمام چیزوں کو دیکھیں تو جس طرح مِیڈِیا نے مِیڈِیا ٹِرائِل کے ہتھیار کے ذریعے ایک طرفہ فیصلہ سنا دیا کہ یہ لوگ ہی مجرم ہیں۔

  صحافت کے متعلق گاندھی جی کا کہنا تھا کہ ''صحافت کا اصل کام عوام کی ذہنی تربیت ہے نہ کہ اس کو غیر ضروری خیالات سے بھر دینا''۔ آج مِیڈِیا کا معاملہ اس کے vice versa ہوگیا ہے۔ ذہنی تربیت کی بجائے ذہنی تناؤ، اضطرابی کیفیت اور غیر ضروری خیالات کا انسائیکلوپیڈیا موجودہ مِیڈِیا کا طریقہ کار ہوگیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ آج کا مِیڈِیا نوم چومسکی کے پروپیگنڈہ ماڈل پر کام کر رہا ہے۔ مِیڈِیا ٹِرائِل میں شفافیت اور غیر جانبداری کو بالائے طاق رکھ کر ایک خاص فکر یا رجحان کو عام کرنے کی کوشش پر زور دیا جاتا ہے۔

یورپین ممالک میں ہوتا یہ ہے کہ اگر کوئی کیس چل رہا ہے تو ایک level تک followup ہوتا ہے یا جانچ ہوتی ہے،اس کے بعد اگر زیرِ تجویز subjudice معاملہ ہوگیا تو وہاں کی پولس وہاں کی ایجنسیز بھی پلانٹ نہیں کرواتی ہیں اور کوئی بات leak نہیں کرتی ہیں، اور جب کبھی وہاں violation ہوا ہے تو کئی بار وہاں کے بڑے بڑے اخبارات سزا یافتہ ہوئے ہیں۔ کیا واقعی ہماری تحقیقی و تفتیشی ایجنسیاں بھی اپنے غیر منصفانہ رویہ کے لئے responsible ہیں۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے مجرموں اور گواہوں کو پولس تھانہ لیجاتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، پولس آفسر یا ان کے پی آر او وغیرہ کی پریس ریلیز آجاتی ہے۔ سارا مواد ایجنسیوں (آئی بی، سی بی آئی، پولس اور دیگر) کے ذریعہ ہی مِیڈِیا کو feedup کرایا جاتا ہے۔

  ہندوستانی مِیڈِیا کے سرکردہ کھلاڑی، حکمرانی کرنے والی بی جے پی - آر ایس ایس کے اتحاد کے وفادار، کھلم کھلا جعلی خبریں، نفرت اور تعصب پھیلاتے ہوئے مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر ہندوستان کے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

  نیوز چینلز متعصبانہ رپورٹنگ اور معاشرے میں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کے لیے بدنام ہے۔ ان کے صحافی اور اینکرز معمول کے مطابق جعلی خبریں پھیلانے اور ملک کی 200 ملین سے زائد مسلم کمیونٹی اور اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔  وہ درحقیقت اسلاموفوبیا کو پروان چڑھاتے ہیں۔ جیسا کہ کسی نے بجا طور پر تبصرہ کیا، "ہندوستانی مِیڈِیا صحافت نہیں کر رہا بلکہ مسلمانوں کے خلاف جہاد (مقدس جنگ) کر رہا ہے۔ یہ ہائنا کی طرح کام کرتا ہے"۔

مِیڈِیا اور اس کے مقلدین آنکھ بند کرکے مِیڈِیا ٹِرائِل کے ذریعے مسلمانوں پر بے بنیاد الزامات کی بوچھار کر کے مسلمانوں کو فنڈامنٹلزم، دہشت گردی اور رجعت پسندی کے الزامات سے نوازتے ہیں اور باقی تمام لوگ بھی ان ہی چبائے ہوئے لقموں اور ادھ کچرے اور غیر مستحکم افکار و خیالات کی جگالی کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ مسلم مسائل کا پورا ڈھانچہ، مانگنے طلب کرنے اور مطالبہ کرنے کی مہمل روش پر اور مطالبہ نہ پورا ہو تو (جو زیادہ تر نہیں ہوتا) بے تکے اور غیر مطلوبہ احتجاج کی باطل سیاست پر ٹکا ہوا ہے۔

  غلط و چھوٹی رپورٹنگ کے ضمن میں نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹینڈرڈس اتھاریٹی (این بی ایس اے) نے انگریزی نیوز چینل اور دو کنڑا نیوز چینلوں پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لیے تبلیغی جماعت کو مورد الزام ٹھیرانے کی خبر نشر کرنے کی پاداش میں جرمانہ عائد کیا تھا۔ اس طرح کے غیر معمولی معاملات نہیں کے برابر ہی نظر آتے ہیں۔

✦مِیڈِیا اور ملکی سطح کا منظر نامہ:
(Media and country level scenario)

  ہندوستان کے سائز کا تعلق اس کے مِیڈِیا کے منظر نامے سے بھی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ضمن میں 31 مارچ 2018ء تک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 1,18,239 سے زیادہ اشاعتیں رجسٹرار آف اخبارات کے پاس رجسٹرڈ تھیں، جن میں صرف 36,000 سے زیادہ ہفتہ وار رسالے شامل ہیں۔ ملک میں 550 سے زیادہ ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز ہیں اور وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق، 2021ء تک 892 سے زیادہ سیٹلائٹ ٹی وی چینلز ہیں۔ جو ملک میں بولی جانے والی تمام اہم زبانوں کا احاطہ کرتے ہیں اور جس کے تحت 197 ملین گھرانوں کے پاس ٹیلی ویژن ہیں۔ بشمول 380 سے زیادہ جو ٹیلی ویژن چینلز کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ "خبریں اور حالات حاضرہ" نشر کرتے ہیں۔

   ہندوستان میں کام کرنے والی نیوز ویب سائٹس کی تعداد محض ناقابلِ فہم ہے۔ جون2021ء تک ہندوستان میں مجموعی طور پر 398 نیوز چینلز ہیں۔ یہ نیوز چینلز 14/زبانوں میں روزانہ کا coverage دیتے ہیں۔ براڈ کاسٹنگ کنٹینٹ کمپلینٹ کاؤنسل (BCCC) میں مجموعی طور پر 27,676 شکایات کا ازالہ کیا گیا، جس میں 5,262 مخصوص شکایات بھی شامل ہیں۔

     ریڈیو کے شعبے میں، ملک کے سرکاری کنٹرول والے براڈکاسٹر آل انڈیا ریڈیو (AIR) کی ریڈیو کی خبروں پر ملک گیر اجارہ داری ہے۔ AIR دنیا کا سب سے بڑا ریڈیو نیٹورک ہے، جس میں زبانوں اور سماجی، اقتصادی گروہوں کے وسیع میدان شامل ہیں۔ ہندوستان میں ایف ایم ریڈیو اسٹیشن چلانے والے نجی نشریاتی اداروں کے پاس موسیقی اور تفریحی مواد فراہم کرنے کا لائسنس ہے لیکن انہیں خبریں بنانے سے روک دیا گیا ہے۔

   مِیڈِیا اونر شپ مانیٹر اور ملک میں میڈیا فیلڈ میں کن لوگوں کی اجارہ داری ہیں، اس پر مختصراً نظر دوڑاتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ زیادہ تر سرکردہ مِیڈِیا کمپنیاں بڑے بڑے صنعتی گروہوں کی ملکیت ہیں، جو اب بھی بانی خاندانوں کے زیر کنٹرول ہیں اور جو مِیڈِیا کے علاؤہ صنعتوں کی ایک وسیع صف میں سرمایہ کاری بھی کررہی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ آج تمام زبانوں کے میڈیا چینلز کی بڑی تعداد کو باطل پرستوں کے حواریوں نے آلۂ کار بنا دیا ہے۔ جھوٹی خبروں اور مِیڈِیا ٹِرائِل کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں یہ بات انجیکٹ کروائی گئی کہ مسلمان شدت پسند، دہشت گرد، غیر تعلیم یافتہ جاہل، دوسروں پر جبر و استہزاء کرنے والے، عورتوں پر ظلم کرنے والے، امن و انصاف کے دشمن ہیں۔ آج لوگ مسلم معاشرہ اور مسلمانوں کو قریب سے دیکھنے کے بعد بھی اسی جھوٹی اور پرفریب نگاہوں سے پرکھتے آرہے ہیں۔ یہ بہت ہی خطرناک زہر ہے، اس کے مضر اثرات و نقصانات مسلمانوں پر اثر انداز تو ہو ہی رہے ہیں مگر مسلمانوں کے ساتھ ملک کی آنے والی نسلوں کو بھی تباہ و برباد کردے گا۔

   مِیڈِیا کی ملکیت کا ارتکاز (جسے میڈیا کنسولیڈیشن یا مِیڈِیا کنورجینس بھی کہا جاتا ہے) ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت آہستہ آہستہ بہت کم افراد یا تنظیمیں ذرائع ابلاغ کے بڑھتے ہوئے حصص کو کنٹرول کرتی ہیں۔

  مِیڈِیا کارپوریشنز کے لیے ملکیت ایک اہم عنصر ہے۔ جائیداد کی ملکیت کا مسئلہ بہت اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر مِیڈِیا کی آزادی اور نشریاتی پالیسیوں کے لحاظ سے۔  میڈیا کی ملکیت میں، جس کا دنیا میں عام طور پر مشاہدہ کیا جاتا ہے، افراد اور تنظیموں کے کنٹرول پر بڑے کثیر القومی گروہوں کا غلبہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے، مِیڈِیا کی ملکیت کا ایک "کراس انٹیگریشن" ہے۔

   مودی کی حالیہ انتخابی جیت ایک حیرت انگیز طور پر سخت مِیڈِیا اسپیس کے اندر واقع ہوئی ہے، جس میں ریڈیو کی خبروں میں ریاست کی اجارہ داری اور انتہائی مرتکز علاقائی اخباری منڈیوں پر مشتمل ہے جو کہ بہت کم طاقتور مالکان کے زیر کنٹرول ہیں، جن میں سے کچھ کی مضبوط سیاسی وابستگی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مواد کی پیداوار اور اس کی تقسیم تیزی سے یکجا ہوتی جا رہی ہے اور، دوبارہ، چند لوگوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہو رہی ہے۔ ملکیت کے ارتکاز (Concentration) سے متعلق مِیڈِیا کے قوانین بکھرے ہوئے، غیر مربوط اور بڑی حد تک غیر موثر ہیں۔ اس لیے بھی کہ TV کی درجہ بندی غیر شفاف اور صنعت کی ملکیت ہے۔ نتیجتاً، ہندوستان کے حجم سے قطع نظر، بہت کم تعداد میں کمپنیاں اور جماعتیں ملک کے مِیڈِیا کے منظر نامے پر حاوی ہیں۔

   ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی مِیڈِیا مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔ تاہم، مِیڈِیا کی ملکیت کا ارتکاز (Concentration) ظاہر کرتا ہے کہ مٹھی بھر لوگ ہندوستانی مِیڈِیا کے مالک اور کنٹرول کرتے ہیں۔ ہماری تحقیقی ملکیت کے ڈھانچے کو پکڑتی ہے اور مِیڈِیا تکثیریت کی عکاسی کرتی ہے۔ مِیڈِیا کا کاروپریٹ سیکٹر، مالکان اور سیاسی آقاؤں کے امتزاج سے ایجنڈا سیٹنگ تھیوری اور ہائپوڈرمک نیڈل تھیوری کے ذریعے کیسے ذہن سازی کا مواد انجیکٹ کیا جاتا ہے۔

    وہ لوگ جو ایجنڈا سیٹنگ تھیوری سے نابلد ہیں ان کو سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی
ہے کہ ایجنڈا سیٹنگ تھیوری کے تحت میڈیا زمینی حقائق کی بجائے ایک اسکرپٹ کے تحت کام کرتا ہے۔ ایجنڈا سیٹنگ اور ایجنڈا بلڈنگ میں کیا فرق ہے؟ ایجنڈا سیٹنگ تھیوری عوام اور پالیسی ایجنڈا ترتیب دینے میں مِیڈِیا کی طاقت پر زور دیتی ہے، جب کہ ایجنڈا بنانے کا نظریہ مِیڈِیا اور دیگر ذرائع یا معاشرے کے درمیان عام طور پر عوام کی تعمیر اور پالیسی ایجنڈا۔

  اگر ایجنڈا سیٹنگ تھیوری اور اس کے بنیادی جزو فریمنگ اور پرائمنگ کا اطلاق کیا جائے تو باآسانی الیکٹرانک مِیڈِیا کا کردار واضح ہوتا ہے۔ ایجنڈا سیٹنگ سے مراد نیوز مِیڈِیا کی وہ صلاحیت ہے جو عوامی ایجنڈے کی ترجیحات پر اثر انداز ہوتی ہے اور نسبتاً غیر ترجیحی موضوعات کو عوامی ایجنڈا بنانے کے لئے کسی خاص موضوع کو پیش کرنے کا طریقہ کار "فریمنگ" (framing) کہلاتا ہے اور اسی خاص موضوع پر مسلسل رپورٹنگ یا مواد کی تشہیر "پریمنگ" کہلاتا ہے۔ جس کے باعث عوامی ایجنڈے میں حقیقی مسائل نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ فریمنگ قارئین کی توجہ کسی حقیقت، کسی واقعے یا کسی کہانی کے بعض پہلوؤں کی طرف مبذول کر سکتی ہے جب کہ اسے اس کے دوسرے حصوں سے دور کر سکتی ہے۔

   ہائپوڈرمک نیڈل تھیوری، جسے (جادو) بلٹ تھیوری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ماس کمیونیکیشن تھیوری کا ایک نظریہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مِیڈِیا ان پیغامات کے ذریعے سامعین کی رائے کو متاثر کرنے کے قابل ہے جو ذاتی طور پر افراد تک پہنچتے ہیں۔

    مِیڈِیا (جادو کی بندوق) نے اپنے علم کے بغیر پیغام کو براہ راست سامعین کے سر میں پھینک دیا۔  یہ پیغام سامعین کے ذہن سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فوری رد عمل کا باعث بنتا ہے جسے "میجک بلٹ تھیوری" کہا جاتا ہے۔ مِیڈِیا (سوئی) پیغام کو سامعین کے ذہنوں میں داخل کرتا ہے اور یہ پیغام کی طرف سامعین کے رویے اور نفسیات میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ سامعین غیر فعال ہیں اور وہ مِیڈِیا پیغام کے خلاف مزاحمت نہیں کرسکتے ہیں جسے "ہائپوڈرمک نیڈل تھیوری" کہا جاتا ہے۔

   آج مِیڈِیا کے شعبہ میں مسلمانوں کے خلاف انہیں نوعیت کی تھیوریز کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں ہمارا کیا لائحہ عمل ہو، ہمیں سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔ حالات کے پس منظر میں چند مشورے آپ کی پیش خدمت ہیں، امید کرتا ہوں کسی حد تک کارگر ثابت ہوں گے۔

✦مسلمانوں کا لائحہ عمل:
(Action plan of the Muslims)

   مندرجہ بالا ان تازہ حالات و حقائق کی روشنی میں غور کریں کہ مسلمانوں کا ذرائع ابلاغ کے شعبے میں آئندہ لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے۔ علمائے کرام، دانشورانِ ملت، اکابرین قوم اور عمائدین جماعت و تنظیموں نے وقت رہتے ہی اس میڈیا ٹرائل کے ذریعے چلائی جانے والی سازش کو بھانپ لینا چاہیے اور اس کے خلاف سینہ سپر ہو کر اس میدان میں قدم رکھ کر عوام کو آگاہ کرنا چاہیے کہ یہ ہو ہلا اور واویلا فتنہ و فساد سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ اس شعبے میں بحیثیت امت ہمیں ایک مضبوط لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔

  اب بھی وقت ہے اگر فاشسٹ طاقتوں کے خلاف صف آرا نہیں ہوئے تو امت کا یہ سفینہ اس کے خوفناک نتائج سے بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ آج اکابرینِ اُمت پر دہشت گردی اور جھوٹے پروپگنڈے کا مِیڈِیا ٹِرائِل چل رہا ہے کل شاید کسی اور ملی قیادت کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس خطرناک سازش پر قدغن لگانے کے لئے امت مسلمہ کے افراد کو ذرائع ابلاغ کے میدان میں مکمل تیاری کے ساتھ اپنے آپ کو پش کرنا ہوگا ورنہ یہ سلسلہ تو مزید دراز ہوتا جائے گا۔ ہیں۔

    جب ہم ملکی سطح کی مین اسٹریم مِیڈِیا کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کے برابر نظر آئے گی۔ شاید اسی وجہ سے ہم مِیڈِیا چینلز کے ڈیبیٹ یا بحث و مباحثے میں کم وقت میں مدلل جواب دینے یا اپنا مؤقف واضح کرنے سے قاصر رہتے ہیں، جس سے نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کا مؤقف کمزور پڑتا نظر آتا ہے بلکہ تضحیک و جگ ہنسائی مقدر بن جاتی ہیں۔

  مِیڈِیا ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کے تحت بھی اس بے مہار آزاد ہاتھی کو زنجیر سے باندھنا اشد ضروری ہے، ورنہ اس کا خمیازہ ملک کی عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ جس کے لئے جعلی خبروں، جعلی مِیڈِیا ٹِرائِل کو روکنے کیلئے حکومتی سطح پر نئے قانون سازی کے لئے  زور ڈالنا ہوگا۔ فیک نیوز کا قلع قمع کرنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ اس پر لگام کسی جائے۔

  پالیسی ساز ادارے مِیڈِیا کو متنبہ کرے کہ مِیڈِیا احتیاط کے ساتھ یہ یقینی کرے کہ معاملے میں جو بھی رپورٹ نشر ہوں، وہ قابل اعتبار ذرائع سے ہوں۔ ساتھ ہی ادارتی ٹیم یہ یقینی کرے کہ نشر ہونے والا مواد مصدقہ ہو۔ معاملے کو سنسنی خیز بنا کر پیش نہ کیا جائے، اور ایسی خبریں نہ دکھائی جائیں جس سے جانچ اور ملزم کے حقوق متاثر ہوں۔

  پولس کو ملزم کے خلاف درج ایف آئی آر سے جڑی جانچ کا کوئی بھی مواد، آڈیوز، ویڈیوز، تحریری شکل میں ڈاکیومنٹ اور ٹیلیفونک کنورژن وغیرہ، مِیڈِیا میں افشاں کرنے سے روکا جائے۔

  حکومت فوراً ایسے مِیڈِیا چینلز و ہاؤسز والوں کے خلاف کارروائی کرے جو جھوٹے پروپگنڈے اور مِیڈِیا ٹِرائِل کے ذریعے ملک کی عزت عالمی سطح پر داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اس عمل میں ملوث تمام لوگوں پر سخت سے سخت فوجداری مقدمات چلنا چاہئے۔ کیونکہ نیوز چینلز اور ان کے صحافیوں کا جرم بظاہر جتنا کم نظر آتا ہے وہ اس سے کئی گناہ بڑا اور سنگین نوعیت کا ہوتا ہے۔ کئی بے گناہوں کی زندگی اور معاشرے میں عزت و آبرو داؤ پر لگ جاتی ہے۔ آخر اس کا خمیازہ کون بھگتے گا؟؟

   مسلمانوں کو حالات حاضرہ سے لازماً واقفیت ضروری ہے۔ متعصبانہ و جانبدارانہ اور فرضی خبروں پر نظر رکھیں، ساتھ ہی ساتھ ان خبروں کے محاسبے یا جوابات دینے کے لئے خود کو اس نہج پر تیار کریں۔ اجتماعی طور پر مسلمانوں کی نمائندگی کے احساس کے ساتھ جامع و مدلل جواب دینے کے لئے ایک ٹھوس لائحہ عمل مرتب کریں۔ اس کے لیے ایک جامع جواب دینے والا بہترین اسٹرکچر کے ساتھ متحرک میکانزم تربیت دینا ہوگا، جو مسلمانوں کی بہتر طور پر نمائندگی کرسکے اور اس نظم کو قائم رکھنے کے لیے زیادہ مالی وسائل بھی درکار نہیں ہوگا۔

   مِیڈِیا کے اس ماحول میں کیا مسلمان یہ توقع کر سکتے ہیں کہ ان متعصب مِیڈِیا ہاؤسز اور ان کے مِیڈِیا ٹِرائِل سے ان کے کیس کی سماعت کی جائے گی؟ انہیں یا تو اس کو برداشت کرنا پڑے گا یا پھر اپنے مِیڈِیا جنات بنانے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ مسلمانوں میں مالی اور دیگر وسائل، تکنیکی مہارت اور صحافتی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔  صرف اپنے ٹی وی نیوز چینلز شروع کرنے کے لیے خلوص اور عزم کی ضرورت ہے۔

   اس سلسلہ میں ابتدائی مرحلے میں ایک پلیٹ فارم قائم کرنا ہوگا، جو ملک کے تمام اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل مِیڈِیا پلیٹ فارم پر مسلم مخالف خبروں پر نظر رکھے۔ یہ شعبہ حقائق کا پتہ چلانے والی ٹیم (Fact Checking Team) کی مدد کرے، جو تحقیق اور پیام رسانی کی بہتر صلاحیت رکھتی ہو تاکہ مسلمانوں کے تعلق سے کسی بھی قسم کے جھوٹے پروپیگنڈہ کا مناسب اور پیشہ ورانہ طریقہ سے جواب دیا جاسکے۔
مسلمان قیادت و دانشوروں کو ڈیبیٹ و ٹاک شوز میں بحث و مباحثہ کے جدید پیچ و خم کو سمجھنا ہوگا۔

   مِیڈِیا نگہبانی و پاسبانی کرنے والا شعبہ کو مختلف ریاستوں کے میڈیا شعبوں سے رابطہ استوار رکھنا ہوگا۔ سوشل مِیڈِیا پلیٹ فارم جیسے ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس اپ وغیرہ پر ہر مسئلہ، الزام یا غلط نمائندگی پر مدلل جوابات دینے کے لئے حقائق کی بنیاد پر تیز رفتاری کے ساتھ کام کرنے کے اہل لوگوں کی ٹیم اپنی خدمات انجام دینے کے لئے تیار رہے۔

   امت مسلمہ کی ترجمانی کرنے والے مقامی ریجنل زبانوں پر عبور رکھنے والے ذرائع ابلاغ سے وابستہ گروپس ترتیب دیئے جائیں، جو آسانی کے ساتھ کسی بھی مسئلہ یا موضوع پر اپنا دینی و ملّی موقف رکھ سکے۔ مِیڈِیا کے میدان میں مسلمانوں کے موقف کی ترجمانی کرنے والی ٹیم کو اپنے مدمقابل سے مدلل اور دو ٹوک گفتگو کرنے کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جائے۔

   دنیا بھر میں، جعلی خبریں ملک کو تباہ کرنے اور آمرانہ و فاشسٹ حکومتوں کے لیے اپنی مرضی کے مطابق کرنے کا ترجیحی طریقہ بن گیا ہے۔ دارالحکومت کے شہروں سے لے کر دور دراز کے اضلاع تک، جعلی خبروں کی تیاری اور پھیلانے کے لیے ایک وسیع انفراسٹرکچر تیار کیا گیا ہے۔ حکومتیں اور ان کی پسندیدہ کارپوریشنیں مل کر یہ کام کرتی ہیں۔ گمراہ کن معلومات دینے والے سربراہان مملکت کے بیانات صفحہ اول پر چھاپے جاتے ہیں اور پرائم ٹائم ٹیلی ویژن پر دکھائے جاتے ہیں اور جب غلط بیانی کی نشاندہی کی جاتی ہے تو ان اخبارات یا چینلز میں سے کسی میں بھی یہ جرأت نہیں ہوتی کہ وہ خبر دے کہ وزیراعظم یا حکومتی اہلکاروں نے جھوٹ بولا ہے۔

   پالیسی ساز اداروں کو چاہیئے کہ "جعلی خبروں" کی تشہیر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ترمیم شدہ قوانین کے تحت کسی کو بھی اس لعنت میں ملوث ہونے پر مستثنیٰ قرار نہیں دیا جائے۔ مِیڈِیا کی اس زبوں حالی کا تذکرہ مہاراشٹر کے شہر آکولہ کے شاعر عقیل ساحر نے اپنی نظم کے کچھ اشعار میں کیا ہے۔   ؎

جعلی خبر کا چار  سُو  بازار گرم ہے
ان نیوز رِیڈرُوں کو حیا ہے، نہ شرم ہے

چیخ و پُکار ان کی مکمل ڈِبیِٹ ہے
  مُدّا، ہو یا وِواد، سبھی ڈُپلِکیٹ ہے

   ضروری ہے کہ کسی شک و شبہے کے وقت مناسب طریقے پر اس کی تفتیش کی جائے اور بلا وجہ ڈرامائی انداز میں مِیڈِیا ٹِرائِل نہ کیا جائے۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ مِیڈِیا کو آزادی کی آڑ میں من مانی سے روکے اور اگر ان کو ہی جرم ثابت کرنے اور سزائیں سنانے کا اختیار حاصل ہے تو پہر عدالتوں کے قیام اور ان پر اتنے اصراف کا کیا فائدہ۔

خلافت موومنٹ سے لے کر بابری مسجد تک اور اردو سے لے کر مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کی بحالی کے مطالبے تک اور سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین سے لے کر راجا سنگھ و نپور شرما کے خلاف احتجاج تک.... جو کچھ ملک میں ہوا ہے، اس کا بیشتر حصّہ مطالباتی سیاست اور سستی و سطحی جذباتیت یعنی ”جوش بغیر ہوش“ والے غیر فطری طریقوں کا ثبوت ہے۔ ہمیں ہوش کے ناخن لینے ہوں گے، شعوری طور پر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ایک مستقل لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔

    متعصب و فاشسٹ حکومت اور موذی و جہازی مِیڈِیا کے اس بھنور میں پھنسا مظلوم مسلمان جب نکلنے کی سبیل تلاش کرتا ہے اور اپنی مذہبی، سماجی اور سیاسی قیادت کی طرف دیکھتا ہے تب ہمیشہ کی طرح مایوسی ہی اس کے ہاتھ لگتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ آج مسلم قیادت کو آگے بڑھ کر جرأت مومنانہ کا ثبوت دینا ہوگا، اگر موجودہ قیادت اس فریضہ کی انجام دہی کا بار نہیں اٹھا سکتی تو ملت کو تبدیلیٔ قیادت کی جانب پیش قدمی کرنی ہوگی۔

   موجودہ دور میں ہو یہ رہا ہے کہ مِیڈِیا جس رخ پر چاہتا ہے مسلمانوں کو اور صرف مسلمان ہی کیوں، پورے ملک کو جس رخ پر چاہتا ہے ڈال دیتا ہے اور مسلمان بے چارہ اپنی گوناگوں ذہنی و روحانی بیماریوں کی بدولت، مِیڈِیا پر، بلکہ کسی پر بھی، اپنی کوئی مثبت چھاپ نہیں چھوڑ پاتا سوا اس کے کہ اس پر لگا ہوا، انتہا پسندی کا الزام اور مضبوط ہو جائے۔ بہت سے کام خود کرنے کے ہوتے ہیں۔ بہت سے نتائج عملی اقدام سے مشروط ہوتے ہیں۔ جو چیز اپنی بے عملی سے گم ہوئی ہو یا چھن گئی ہو وہ صرف، مانگنے اور مطالبہ کرتے رہنے سے نہیں ملا کرتی۔ اسے چھیننا پڑتی ہے۔ ؎
یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھالے ہاتھ میں، مینا اسی کا ہے
                    (30.08.2022)
           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•
           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○


👇👇👇👇👇👇👇


https://bit.ly/3CVh9VG

  

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam