عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (سوم)
سوم
عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ
اور
اہل اقتدار
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✦ علماء دین کا مقام و اہمیت
✦ علمائے حق و علمائے رُشد
✦ فتنہ پرداز عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا دور
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی تعریف
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی پہچان احادیث کی روشنی میں
✦ اللّٰہ سے بغاوت اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اَلْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ
✦ گمراہ علماء دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہیں
✦ قربِ قیامت کے نزدیک علماء حق کا قحط اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا سر اُٹھانا
✦ نافرمان و باغی اور ظالم اہل اقتدار سے تعلق و خاموشی
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا انجام
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
(قسط سوم)
عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی پہچان احادیث کی روشنی میں:
احادیث رسولﷺ میں عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی مختلف پہچان بتائی گئی ہے۔ جس کامطالعہ لازمً کرنا چاہئے، اسی کے بات سمجھ میں آئے گا کیسے بھیڑ کی خالیں پہن کر اُمّت مسلمہ کو کھوکھلا کرنے کی کیسے سازشیں رچی جاتی رہی ہیں۔ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی شناخت اور نشانیوں میں سے ایک نشانی خشیت الٰہی سے محرومی جس کا سبب وہن کی بیماری کا پیوست ہونا، یعنی دنیا سے رغبت اور موت کا خوف ہے۔ وہن کی وجہ سے قلب و دماغ سے علم کا نور فنا ہو جانا ہوتا ہے۔
''کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو اور تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو، تو کیا تمہیں سمجھ نہیں؟ اور جیساکہ شبِ معراج رسول اللّٰہﷺ کو جن عذاب و ثواب کے مشاہدات کرائے گئے، اُن میں سے ایک یہ تھا، آپﷺ نے فرمایا:“ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ اُن کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جارہا ہے، میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں، انہوں نے کہا: (یا رسول اللّٰہ!) یہ آپ کی امت کے وہ خطباء (علماء) ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور اپنے آپ کو فراموش کر دیتے ہیں۔ (سنن الکبریٰ، بیہقی)
لوگوں کو تو وہ راہ راست کی تعلیم دیں گے مگرخود راہ راست پر عمل پیرا نہ ہونگے۔ جیسا کہ، قرآن پاک میں اللّٰہ ربّ العزت فرماتا ہے: أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَکُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْکِتَابَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ· (سورۃ البقرۃ: آیت:44)
وہ علمائے حق یا جاہلوں میں اپنی برتری کا اظہار مطمح نظر رکھیں گے جیسا کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: جس شخص نے علم اس لیے حاصل کیا تاکہ علماء سے مقابلہ کرے یا کم علم لوگوں سے جھگڑا کرے یا لوگوں کو علم کے ذریعہ اپنی طرف مائل کرے، اللّٰہ تعالی ایسے شخص کو جہنم میں داخل کریگا۔ (ترمذی،مشکوۃ المصابیح: ۳۴)
لیکن کچھ علماء ہیں جو دین کا سودا کرتے ہیں ان کے بارے میں اللّٰہ فرماتا ہے، ”بے شک جو لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے معاوضے میں متاعِ قلیل وصول کرتے ہیں، کچھ شک نہیں کہ وہ اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں۔ قیامت کے دن اللّٰہ ان سے بات بھی نہیں کرے گا،نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اختیار کی اور مغفرت چھوڑ کر عذاب کو چن لیا،سو کتنے باہمت ہیں آگ کا عذاب سہنے کے لیے“۔ (البقرۃ: 173-175)
اللّٰہ سے بغاوت اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ:
آج کچھ علماء کو اسلامی بیداری کی لہر کو دبانے کے لئے اسلام پسند تحریکی فکر کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہاہے، حد تو یہ ہوگئی ہے کہ ایک طرف اسلام کو نافذ کرنے والوں کو وہ آئے دن حدف ملامت بنارہے ہیں مگر انہیں جس کنویں سے پانی مل رہا ہے ان کے خلاف ان کے حلق سے آواز بھی نہیں نکلتی ہے ایسا لگتا ہے ان کی زبان پر آبلے پڑ گئے ہیں۔ انہیں ّ سعودی عربیہ میں اسلام کو رسوا کرنے والے حکمراں نظر نہیں آتے۔ انہیں عفت مآب صنف النساء کو ترقی کے نام پر ہر قسم کی آزادی دینا دیکھائی نہیں دیتا۔ حق بات کہنے کی پاداش میں علماء حق کو جیلوں میں ڈالنا اور ان کے ساتھ بدترین ظلم کرنا کیوں دیکھائی نہیں دیتا؟ بلکہ ان حکمرانوں کے غیر اسلامی کاموں کے لئے یہ علماء دلیل و جواز پیش کرتے ہیں۔
شاید ایسے ہی علماء کے لئے رحمت اللعالمینﷺ نے فرمایا تھا، سیدنا ابوذرؓ کہتے ہیں میں رسول اللّٰہﷺ کے ساتھ تھا، آپﷺ نے فرمایا:مجھے اپنی امت کی بابت دجال سے بھی زیادہ ایک چیز کا ڈر ہے آپﷺ نے تین بار یہی بات ارشاد فرمائی۔ سیدنا ابور ذرؓ کہتے ہیں،میں نے پوچھا: اے اللّٰہ کے رسولﷺ آپ کو اپنی امت کی بابت دجال سے بھی زیادہ کس چیز کا خوف ہے، فرمایا: گمراہ ائمہ۔ (مسند امام احمد)
میرے بعد ایسے امام ہونگے جو میری راہ پر نہیں چلیں گے اور نہ میری سنتوں پر چلیں گے بلکہ ان میں ایسے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کے جسم ضرور انسانوں کے ہوں گے لیکن ان کے دل شیاطین کے ہوں گے۔ (مسلم)
ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا۔ آخری زمانہ میں ایسے لوگ نکلیں گے جو دین کے ساتھ دنیا کو طلب کریں گے۔ نرمی ظاہر کرنے کے لئے لوگوں کے لئے بھیڑ کی کھال پہن لیں گے ان کی زبان شکر سے زیادہ شیریں ہوگی اور ان کے دل بھیڑیوں جیسے ہوں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا وہ میرے ساتھ مغرور ہوتے ہے اور کیا وہ مجھ پر جرأت کرتے ہے میں اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان لوگوں پر ایسا فتنہ مسلط کروں گا جو عقلمند آدمی کو حیران کردے گا۔ (ترمذی)
اسی طرح نام نہاد مسلم حکمرانوں اور ان کے آلہئ کار کی خدمت میں ایک حدیث پیش کرتا ہوں۔ وہ ظالموں کا ٹولہ جو اپنی عاقبت بھول کر وقت کے فرعون صفت حکمرانوں یا اہلِ اقتدار کے کتے بن کر نہتے عوام پر، بوڑھوں پر، بچوں اور عورتوں پر ظلم کررہے ہیں۔ حضرت عبداللّٰہ ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ: ”ظالموں کے مددگار اوران کے آلہِ کار (جو ظلم کرتے ہیں) قیامت کے دن جہنم کے کتے ہوں گے“۔
عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اَلْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ:
سیدنا ثوبانؓ کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: '' میں اپنی امت پر گمراہ کن اماموں (حاکموں) سے ڈرتا ہوں اور جس وقت میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو ان سے قیامت تک نہ اٹھائی جائے گی"۔ (ابو داؤد،ترمذی)
نیز بعض احادیث مبارکہ میں بعد کے زمانوں کے ان علماء کا بھی تذکرہ ہے جو اُمّت مسلمہ کو اس کے فرضِ منصبی یعنی جہاد فی سبیل اللّٰہ جیسی عظیم عبادت سے روکیں گے، اس کے لئے مختلف دلائل و جواز پیش کریں گے۔ کہا جائیگا کا یہ زمانہ تہذیب و تمدن، سائنس و ترقی اور ٹیکنالوجی، جدید ذرائع ابلاغ کا دور، دنیا کے گلوبلائزیشن کا دور ہے!! جہاد و قتال تو پچھلی دنیا کی بات تھی، جہادجیسے عظیم فریضے کو ہمیں ترک کرنا ہوگا، اب دنیا بہت آگے بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں قتل و قتال کی بات کرنا، گردنیں مارنے اور پور پور پر ضرب لگانے کا تذکرہ چھیڑنا، غنیمت چھیننے اور ذمی بنانے کے عزائم رکھنا، قیدی پکڑنے اور غلام و لونڈیاں بنانے کے احکامات یاد دلانا کیونکر مناسب ہوسکتا ہے؟ اسلامی تعلیمات کو لبرل ازم میں تبدیل کرنے کی آوازیں اٹھیں گی۔ لوگوں میں قادیانی، پرویزیت، وحیدی و غامدی وغیرہ وغیرہ فکروں کو عام کیا جائے گا۔کچھ زر خریدوں کے ذریعے قاسمیت، سلفیت کو بدنام کرنے حربے استعمال کئے جائیں گے۔ ایسے حالات میں علماء حق کو ہی آگے آنا ہوگا۔ اور ملّت کی اس ڈوبتی کشتی کو کنارے لگانا ہوگا۔کیونکہ اللہ کے حضور پہلے باز پرس علماء کی ہی ہوگی!!!
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”جب تک آسمان سے بارش برستی رہے گی تب تک جہاد ترو تازہ رہے گا۔ اور لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جب ان کے علما یہ کہیں گے کہ یہ جہاد کا زمانہ نہیں ہے۔ لہٰذا ایسا دور جس کو ملے تو وہ جہاد کا بہترین زمانہ ہوگا۔ صحابہ ؓ نے پوچھا:یا رسول اللّٰہﷺکیا کوئی ایسا کہہ سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں وہ جس پر اللّٰہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور تمام انسانوں کی لعنت ہو!“۔ (السنن الوردۃ فی الفتن: امام ابن حماد)۔ کنز العمال کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ بھی نظر آئیگا: اولئک ہم وقود النار، یہی لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے“۔
چنانچہ ان ہی وجوہات کی بناپر حاکم وقت کی قربت اور ان کی مجالس سے دور رہنے کا حکم دیا ہے۔ سوائے ایک فریضہ کی ادائیگی کے، عالم دین کو حاکم وقت کے دربار میں جانے کی اجازت ہے۔ وہ ہے ’کلمہ حق‘ اپنی جان، مال، عہدہ، مسندوں کے چھن جانے کے خوف کے باوجود۔ قرآن و سنّت کی بنیادوں پر دین اسلام کی تبلیغ و ترویج کا فریضہ انجام دینے والے اہل حق علماء کو کس جرم کی پاداش میں پابند سلاسل کیا گیا، انہیں کون قید و بند کی اذیتوں کو برداشت کرنے کے لئے مجبور کررہا ہے۔ کیا یہ اپنے آپ کو سلفی کہنے والے علماء کو نظر نہیں آتا۔ کیوں اصحابِ سلف و خلف کو بدنام کر کررہے ہو۔ کچھ تو اللّٰہ کا خوف کرو۔ آپ خیر و عافیت کی زندگی بسر کریں اور غلبۂ دین کی سعی و جہد میں مصروفِ عمل حضرات کو خارجی خارجی کے القاب سے نوازتے رہیں۔ کبھی ظالم کے اور اس کے ظلم کے لئے حلق سے آواز ہی نکالتے۔ غلبۂ دین کی راہ کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہے، ابتلاء و آزمائش کے ختم نہ ہونے والے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ امام ابن ماجہ ؒ اور امام ترمذی ؒ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: افضل الجھاد کلمۃ عدل، کلمۃ حق عند سلطان جائر۔ ”افضل ترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ عدل و کلمۂ حق کہنا ہے“۔
ظالم حکمراں کے سامنے حق بات کہنا جہاد افضل کہا گیا ہے، مگر آخر کیوں علماء کرام اور دانشورانِ ملّت ظالموں اور فاسدوں کے خلاف لب کشائی سے اپنے آپ کو بچا رہے ہیں۔ باری ہر ایک کی آئے گی فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کی مقابلہ کرتے ہوئے آئے گی اور کسی کی راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے آئے گی۔ یہ آندھی جو چل پڑی ہے اس سے نہ کوئی عبادت خانے، نہ کوئی اسلامی اجتماعیت، نہ کوئی شخص بحثیتِ مسلمان محفوظ رہے سکے گا، اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو پھر چراغ کو بجھنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ احمد فراز کا شعر ہے:
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
لازماًظالم کوظلم سے روکنا اُمّتِ مسلمہ کا فرضِ منصبی ہے۔ اس سے علماء بھی بری نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺفرماتے تھے لوگ جب ظالم کا ہا تھ نہ پکڑیں (خاموش رہیں یا اس سے تعاون کریں) تو اللّٰہ تعالی بہت جلد اپنا ہمہ گیر عذاب ان پر مسلط کر دیتا ہے۔ (مسنداحمد۔ ترمذی ابواب الفتن)
ظالم و جابر حکمرانوں کے ظلم و استہزاء کے ذریعے بھی اللّٰہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو آزماتا ہے، اور اسی آزمائش کی بھٹی سے انہیں کندن بناتا ہے۔ کیا ہر زمانے میں علماء حق نے اعلائے کلمتہ الحق کے لئے ہر قسم کی صعوبتیں برداشت نہیں کیں؟ امام احمد بن حنبلؒ کو کوڑے مارے گے، امام ابو حنیفہؒ کو زنداں میں ڈالا گیا اور امام شافعیؒ کو برسر منبر قتل کیا گیا۔ امام جعفر صادقؒ، امام مالکؒؒ اور مجدد الف ثانیؒ کا اپنے وقت کے جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کی صدا کو بلند کرنا اور اس کے طفیل پابند سلاسل کیا جانا، ہمارے دور کے علماء کے لئے بھی ایک نمونہ ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج ہم لوگ انہیں علماء حق کی فہرست میں شمار کرتے ہیں ان کا نام احترام و تعظیم اور تکریم کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان پر فتوے لگانے والے درباری علماء صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے ان کا نام لینے والا کوئی نہیں، ذکر آتا بھی ہے تو لعنت و ملامت کے ساتھ۔ ان شاء اللّٰہ! آج بھی یہ درباری علماء ذلیل و رسواء ہونگے۔ بس اس لمحے کا انتظار ہے۔
ایک زمانے تک ہمارے علمائے حق نے وقت کے ظالم حکمرانوں یعنی انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ مولانا رضا علی خان عابدی، مجدد دین و ملّت امام احمد رضا خاں ؒ کے دادا بزرگوار، 1857ء میں علامہ فضل حق خیر آبادیؒ، مولانا لیاقت اللّٰہ الہٰ آبادیؒ، مولانا احمد اللّٰہ مدراسیؒ وغیرہ وغیرہ علماء نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا، اور انگریزوں کے تسلّط کے خلاف مجاہدین کے ساتھ میدان جہاد میں بھر پور حصہ لیا۔
یہ بات بالکل عیاں ہے کہ جو کوئی جہاد کا فریضہ انجام دیگا، اس کے لئے ابتلاء و آزمائش، جان و مال کا خطرہ تو لاحق ہوگا ہی۔ چنانچہ امام حاکم ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”شہداء کے سردار حضرت حمزہ بن عبد المطلب ؓ ہیں اور دوسرا وہ شخص جس نے ظالم حکمران کو اچھائی کا حکم دیا اور برائی سے روکا اور اس (حاکم) نیاس شخص کو قتل کر دیا“۔ یہی حالات ہمارے دور میں دہرائے جارہے ہیں، چاہے وہ نام نہاد مسلم ممالک ہو یا غیر مسلم ممالک۔
آج کے حالات میں خصوصاً مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے ممالک میں علماء حق کی بڑی تعداد کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے دیکھ کر امام ابن تیمہؒ کا قول یاد آرہا ہے، امام ابنِ تیمیہؒ سے پوچھا گیا کہ اہل حق کہاں ملے گے، تو انہوں نے فرمایا قید خانوں میں یا جہاد کے میدانوں میں۔
(جاری ••••• 3-6)
Comments
Post a Comment