عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (ششم)

ششم
عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
                عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ
                            اور
                        اہل اقتدار
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════

      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
                09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✦ علماء دین کا مقام و اہمیت
✦ علمائے حق و علمائے رُشد
✦ فتنہ پرداز عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا دور
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی تعریف
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی پہچان احادیث کی روشنی میں
✦ اللّٰہ سے بغاوت اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اَلْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ
✦ گمراہ علماء دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہیں
✦ قربِ قیامت کے نزدیک علماء حق کا قحط اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا سر اُٹھانا
✦ نافرمان و باغی اور ظالم اہل اقتدار سے تعلق و خاموشی
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا انجام
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
                        (قسط ششم)

مندرجہ بالا احادیث مبارکہ سے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ُامّت کے علماء کا حاکم وقت سے میل جول بڑھانا، اس کے درباروں کے چکر لگانا، ان کے ذریعے سے دنیا کے فوائد حاصل کرنا اور اس کے باوجود یہ سمجھنا کہ ہمارے دین اور ایمان محفوظ رہے گا، ان کے ساتھ ان کی مجلسوں میں شرکت کرنا اور عوام الناس کو ان کی اطاعت و فرماں برداری کے درس دینا جب کہ اُن میں ظلم و ستم، اللّٰہ اور اس کی عطا کردہ شریعت کے خلاف احکامات کا اجرا ہو۔ ایسا طرز عمل اللّٰہ کے بہت بڑے غیض وغضب کو دعوت دینے والا اور جہنم کا راستہ آسان کرنے والی بات ہے۔

عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا انجام:

اللّٰہ ربّ العالمین نے قرآن میں جہاں جہاں کسی بھی قسم کے معاملے میں نیک و صالح کاموں کی بشارتیں دی ہیں، وہیں بدی اور نافرمانی کرنے والوں کو اس کے انجام بد سے ڈرایا بھی ہے۔ ٹھیک اسی طرح علماء کرام کے لئے بھی دونوں پہلوؤں کو واضح انداز میں بیان کردیا گیا ہے۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:
پھر جب وہ ہنگامۂ عظیم برپا ہوگا، جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا، اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی، تو جس نے سرکشی کی تھی، اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی، دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔  (سورۃ النازعات: 34 تا 39)

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں حضورﷺ نے فرمایا: تَعَوَّذُوا بِاللَّہِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ قَالَ وَادٍ فِی جَہَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْہُ جَہَنَّمُ کُلَّ یَوْمٍ مِاءَۃَ مَرَّۃٍ قُلْنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَنْ یَدْخُلُہُ قَالَ الْقُرَّاءُ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِہِمْ (ترمذی: باب ماجاء فی الریاء والسمعۃ: حدیث ۲۳۰۵)
اللّٰہ تعالی سے جُبّ الْحزن سے پناہ طلب کرو، صحابۂ کرامؓ نے پوچھا جُبّ الْحزن کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہنم کی ایک وادی ہے جس سے روزانہ سو مرتبہ خود جہنم پناہ مانگتی ہے،صحابۂ کرامؓ نے پوچھا یا رسول اللّٰہﷺ اس میں کون جائیں گے؟ فرمایا اپنے عملوں کی ریا اورنمود کرنے والے قاری جائیں گے۔اسی روایت سے متعلق عمران القصیر کہتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جہنم میں ایک وادی ہے جس سے خود جہنم روزانہ چار سو بار پناہ مانگتی ہے اس خوف سے کہ اسے اس میں نہ ڈال دیا جائے کہ وہ اسے کھاجائے،یہ وادی اللّٰہ نے ریاکاروں کے لئے تیار فرمائی ہے۔(کتاب الزہد امام احمدؒ)

حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”حاکم کے دروازوں سے اور ان کے دربانوں سے بچو، کیونکہ جو ان (دروازوں) سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، وہ اللّٰہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ دور ہوتا ہے، اور جو کوئی کسی حاکم کو اللّٰہ پر ترجیح دیتا ہے تو اللّٰہ اس کے دل میں ظاہری و باطنی فتنہ ڈال دیتے ہیں، اس سے تقویٰ چھین لیتے ہیں اور اس کو حیران و پریشان چھوڑ دیتے ہیں“۔

حضرت بکر بن خنیس نے فرمایا جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم روزانہ سات سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے پھر اس وادی میں ایک کنواں ہے (جب الحزن) اس سے یہ وادی اورجہنم روزانہ سات سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے پھر اس کنویں میں ایک سانپ ہے جس سے یہ وادی، جہنم اور وہ کنواں پناہ مانگتے ہیں اس میں سب سے پہلے نافرمان قاریوں کو ڈالا جائے گا تو وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار بت پرستوں سے بھی پہلے ہمیں اس میں ڈالا جارہا ہے؟ تو انہیں کہا جائے گا عالم جاہل کے برابر نہیں ہے۔ (مراد ان قراء سے وہ علماء اور قراء ہیں جو دین کا علم رکھنے کے باوجود خدا کے نافرمان ہوں گے اور علم کو دنیا کے کمانے کا ذریعہ بنایا ہوگا اور ظالم حکمرانوں کی حمایت کرتے اور ان سے حاجتیں مانگتے ہوں گے)

تفسیر ”الدرالمنثور فی التاویل بالماثور“ میں ابن ابی الدنیا ؒ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ مالک بن دینار ؒ نے فرمایا: ”مجھ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ آخری زمانے میں ایک ہوا چلے گی اور اندھیرا چھا جائے گا۔ پس جب لوگ گھبرا کر اپنے علماء کے پاس پہنچے گے تو انہیں مسخ شدہ حالت میں پائیں گے“۔

ملک میں حکومتی سطح پر ہونے والی دہشتگردی، عبادتوں پر پابندیاں، ویران ہوتی مسجدیں، بلڈوزرز سے اجڑتے گھر، معصوم و بے گناہوں کو پابند سلاسل کرنا، دینی و ملی شخصیات و جماعتوں پر پابندیاں، لٹتی عصمتیں اور پامال ہوتی عزتیں غیرت مند ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔ آخر کب تک امت مسلمہ کے علماء و دانشوران شطر مرغ کی طرح ظلم و جبر اور دہشت گردی دیکھ کر آنکھیں بند کرکے کب تک ریت میں منہ ڈھسائے بیٹھے رہیں گے؟ ہم کب تک اُمّت کے مظلوم و بے گناہوں کی لاشوں اور مسمار ہوتے عبادت خانوں، درسگاہوں اور گھروں کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے؟ اپنے حقوق لینے کے لیے کب ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کریں گی؟

مفکر اسلام مولانا علی میاں ندویؒ کا چشم کشا اقتباس آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، "حضرات! آپ علماء کرام ہیں، آپ زعماء قوم ہیں، آپ میں بڑے بڑے خطیب و مقرر ہیں، آپ انجمنوں کے بانی اور اس کے ستون ہیں، پہلی بات یہ ہے (یعنی آپ کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ اس کی فکر اور کوشش کریں) کہ اس سر زمین کی اسلامیت باقی رہے، یہ آپ کے ذمہ واجب ہے، کل حشر کا میدان ہوگا اور رسولﷺ تشریف رکھتے ہوں گے، اور اللّٰہ تبارک و تعالیٰ عدالت کی کرسی پر ہوگا، اور رسول اللّٰہﷺ کا ہاتھ ہوگا، اور آپ کا گریبان یا دامن ہوگا، آپ سے سوال ہوگا کہ اللّٰہ نے اس سرزمین کو دولت اسلام سے مشرف کیا، اولیاء کرام کو وہاں بھیجا وہ اپنے کو خطرے میں ڈال کر اس وادی میں پہونچے انہوں نے خدا کا کلام اور پیغام وہاں کے باشندوں کو پہونچایا، پھر ہم نے اسلام کے پودے کو تن آور اور بار آور اور پر ثمر درخت بنایا اوروہ درخت سینکڑوں برس تک سرسبز شاداب اور پر ثمر وسایہ دار رہا، ہزاروں مسجدیں بنیں، سینکڑوں مدرسے خانقاہیں قائم ہوئیں، جلیل القدر علماء ومحدثین وفقہاء پیدا ہوئے؛ لیکن تمہاری ذرا سی غفلت وسستی یا اختلاف وانتشار یا کوتاہ نظری وکم نگاہی سے اسلام کا یہ باغ خزاں کی نذر ہوگیا"۔ (خطبات علی میاں، ص204:،ج:5)

قَحْطُ الرِّجال کا وقت ہے، علمائے سؤء ہر طرف اور علمائے حق خال خال نظر آرہے ہیں۔ ان کو پہچاننے کے لئے مؤمن کی فراست چاہئے جو ہم میں ہے نہیں۔ اسی لئے صالح علماء کو چاہیے کہ ان درباری علماء اور علماء سؤء سے تعلقات میں اجتناب کریں، جو باطل پرستوں اور استعمار کے ایجنٹ، شیطان کے کارندے اور تفرقہ و اختلاف کا موجب بنتے ہیں۔ آج موجودہ نام نہاد علماء کے منافقانہ رؤیہ سے کہیں علماء اور عوام کے درمیان لمبی خلیج حائل نہ ہوجائے، اس کے لئے علماء حق کو باطل پرستوں سے نبردآزما ہونے کے لئے میدان میں قدم رکھنا ہوگا۔ متفکر و فعال علمائے اسلام کو محاذ سنبھالنا ہوگا ورنہ کہیں کف ملامت یا افسوس مقدر نہ بن جائے۔ ڈر لگتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے جیسا، علماء کرام سے ہمارا علمی، فکری اور عملی تعلق منقطع نہ ہوجائے۔ علماء و عوام کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کے لئے علماء حق کو منظر عام پر آنا ہی ہوگا۔ اہل علم علماء حضرات کے جانے کے بعد تو علماء کا قَحْطُ الرِّجال نظر آرہا ہے۔ علماء حق کی ویسی بہادر و جری قیادت و رہبری سے امت مسلمہ محروم نظر آرہی ہے۔

حاکموں اور علماء کی اطاعت شریعت یعنی امر بالمعروف ونہی عن المنکرکی حد تک جائز ہے شریعت کی حد کے باہر نہیں۔ اگر وہ ان حدوں کو تجاوز کرتے ہیں تو ان کا حکم ماننا اپنے کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ کچھ حلقوں میں علماء کرام کی اس حد تک تعظیم و توقیر کی جاتی جیسے کہ ربّ کی جاتی ہے۔ کہاں کہاں تو لوگ سجدہ ریز ہوتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ تعظیم، توقیر، عظمت اور سجدہ کا حق توصرف اللّٰہ کی ذات سے ہی وابستہ ہے۔ اسی طرح کے عمل کا نمونہ یہود و نصاریٰ کے احبار و رہبان نے دنیا کے سامنے پیش کیا اور اپنے علماء و پیشواؤں کو اپنا ربّ تسلیم کرلیا۔

ٹھیک اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دینی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ رسول اللّٰہﷺ کا وہ فرمان بالکل پورا ہوا کہ تم ہو بہو پہلے لوگوں کے نشان قدم پر چل پڑو گے، پھر ہر گروہ کے اپنے پیشوا کی غلط باتوں پر ڈٹ جانے سے مسلمانوں میں ایسا شگاف پڑا جو قرآن و حدیث کی طرف واپس آنے کے بغیر کبھی پر نہیں ہوسکتا۔ ”اِتَّسَعَ الْخَرْقُ عَلَی الرَّاقِعِ“ کی صورت پیدا ہوگئی ہے کہ شگاف پیوند لگانے والے کی بساط سے بھی زیادہ کھلا ہوگیا۔

حضرت علی المرتضیٰ ؓ راویت کرتے ہیں کہ سرکار دو عالمﷺ نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللّٰہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔

یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔

حقیقی عالم کے وجود کی قلت ہے اور یہ پورے عالم اسلام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، کیوں کہ حدیث میں آیا ہے کہ جب اللّٰہ تعالیٰ اس دنیا سے علم اٹھانا چاہیں گے تو یکایک نہیں اٹھائیں گے، بلکہ دھیرے دھیرے علمائے کرام کو اٹھائیں گے، جس کی وجہ سے علم خود بخود اٹھ جائے گا، نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا اور معاملہ جاہلوں کے ہاتھ میں آجائے گا، ان سے دینی مسائل پوچھے جائیں گے اور وہ اپنی رائے سے مسائل بتائیں گے، نتیجتاً خود بھی گم راہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گم راہ کریں گے۔
قرآن کریم اللّٰہ کی جانب سے بھیجا ہوا نسخۂ کیمیا ہے، یہ کتابِ ہدایت ہے، اللّٰہ کی معرفت اور اس تک پہنچنے کا اس سے بہترین ذریعہ اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ انسان اس کتاب سے رہنمائی حاصل کرتا رہے۔ قرآن مختلف انداز میں اور مختلف نشانیاں بیان کر کے اللّٰہ کی ذات و صفات اور قدرت کاملہ کا تعارف کراتا ہے، لہٰذا اس کتاب کا جتنا زیادہ مطالعہ کیاجائے اتنی ہی اللّٰہ کی معرفت حاصل ہوگی اور اللّٰہ کی جتنی زیادہ معرفت حاصل ہوگی اتنا ہی بندہ اللّٰہ سے ڈرے گا۔ ہمیں آج صرف اور صرف اللّٰہ کی محبت اور اس کے ڈر و خوف کی ہی ضرورت ہے۔ اس کتاب کا پڑھنا اور پڑھانا علمائے کرام کا خاص مشغلہ ہے، جس کی وجہ سے یہ اللّٰہ کے بندوں میں اللّٰہ سے سب سے زیادہ ڈرتے ہیں، خود اللّٰہ تعالیٰ اس کی گواہی دیتا ہے: إنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ العُلَمَاءُ (سورۃ الفاطر: 28) حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے ہی اللّٰہ سے ڈرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اللّٰہ نے کئی مقامات پر ان کو تحفہئ قدرو منزلت سے نوازا ہے، بنی آدم میں ایک اعلیٰ مقام عطاء فرمایا ہے، حتیٰ کہ اللّٰہ نے جب اپنی شان وحدانیت (کلمہ توحید) کے لیے گواہ بنانا چاہا تو جہاں گواہی کے لیے اپنی ذات کا انتخاب فرمایا وہیں فرشتوں اور بنی نوع انسان میں سے صرف علماء کو گواہی کے لیے منتخب کیا، جو یقیناً انتہائی شرف و فضل کی بات ہے شَہِدَ اللّٰہُ أَنَّہُ لا إلٰہَ إلاہُوَ وَالْمَلٰءِکَۃُ وَأُولُوا العِلْمِ قَاءِماً بِالقِسْطِ، لاإلٰہَ إلا ھُوَالعَزِیْزُ الْحَکِیْم (سورۃآل عمران:18) اللّٰہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی اللّٰہ نہیں، یہی شہادت فرشتوں اور سب اہل علم نے دی ہے، وہ انصاف پہ قائم ہے، اس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی اللّٰہ نہیں ہے۔

آخر میں سورہ الکہف کی آیت پیش کرتا چلوں، جس میں اللّٰہ نے رہنمائی فرمائی کہ کیسے لوگوں کے ساتھ رہیں۔ جن کی صحبت ہمیں راہ راست پر لے جاسکتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور اپنے آپ کو اُن کے ساتھ رکھا کریں جو اپنے پروردگار کو صبح و شام پکارتے ہیں اور اُسی کے چہرے (رضامندی) کے ارادے رکھتے ہیں، خبردار! آپ کی نگاہیں اُن سے نہ ہٹنے پائیں کہ دنیوی زندگی کے پیچھے لگ جائیں۔دیکھنا! اُس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے۔“ (سورۃ الکہف: 28)

اللّٰہ ہمیں نیک اور صالح علماء کی صحبت عطاء فرمائے،  عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور ان کے شر انگیز فتنوں سے ہماری حفاظت فرمائے۔ (آمین)

                          (ختم شدہ)

                     (04.10.2022)
            مسعود محبوب خان (ممبئی)

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam