عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (پنجم)
پنجم
عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ
اور
اہل اقتدار
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✦ علماء دین کا مقام و اہمیت
✦ علمائے حق و علمائے رُشد
✦ فتنہ پرداز عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا دور
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی تعریف
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کی پہچان احادیث کی روشنی میں
✦ اللّٰہ سے بغاوت اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اَلْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ
✦ گمراہ علماء دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہیں
✦ قربِ قیامت کے نزدیک علماء حق کا قحط اور عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا سر اُٹھانا
✦ نافرمان و باغی اور ظالم اہل اقتدار سے تعلق و خاموشی
✦ عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ کا انجام
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
(قسط پنجم)
اے وارثین انبیاء! حکمرانوں کی قربت سے بچو! امام دیلمی ؒ حضرت ابو الاعورؓ سے اورامام بیہقی ؒ قبیلہ بنی سُلیم کے ایک فرد سے روایت کیا ہے کہ اس نے کہا رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ایا کم وابواب السلطان، ”خبردار! حاکم کے دروازوں پر نہ جانا“۔
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”خبردار! حکمران کے پاس نہ بیٹھنا، اس لیے کہ اس (کے پاس بیٹھنے) سے (تم اپنا) دین کھو بیٹھو گے۔ اور خبردار! اس کی اعانت نہ کرنا، اس لیے کہ اس کے حکم سے خوش نہ ہوگے“۔ (امام دیلمی ؒ)۔ حضرت علیؓ نے فرمایا:حاکم کے دروازوں پر جانے سے بچو۔ (امام بیہقی ؒ)
حضرت عبید بن عمیرؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کے حاکم سے قرب میں اضافہ ہو گا، اس کی اللّٰہ سے دوری میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا“۔ (الزھد: امام ہناد بن سری ؒ)۔ حضرت انسؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”جو شخص صاحبِ اقتدار کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے، اللّٰہ تعالیٰ اس سے دونوں بازؤں کے پھیلاؤ کے برابر دور ہوجاتے ہیں“۔ (امام دیلمیؒ)
اما م بخاری ؒ نے اپنی کتابِ تاریخ میں اور امام ابن سعدؒ نے ”طبقات“ میں نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود ؓ نے فرمایا: ”آدمی حکمران کے پاس اپنے دین کے ہمراہ جاتا ہے لیکن جب نکلتا ہے تو اس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں ہوتا“۔ امام ابوداؤد ؒ، امام نسائی ؒ، امام بیہقیؒ اور امام ترمذیؒ حضرت عبداللّٰہ بن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جنگل میں رہے گا اس کا دل سخت ہو جائے گا، اور جو شکار کے پیچھے بھاگے گا وہ (دین کے کاموں سے) غافل ہو جائے گا، اور جو حکمرانوں کے دروازوں پر حاضر ہوگا وہ فتنے میں مبتلا ہوجائے گا''۔
امام حاکم ؒ حضرت عبداللّٰہ بن حارثؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میرے بعد بادشاہ آئیں گے، فتنے ان کے دروازوں پریوں (ڈیرے جمائے) ہوں گے جیسے اونٹوں کی قیام گاہ پر (اونٹ بیٹھے) ہوتے ہیں۔ وہ جسے بھی (دنیا کے سامان میں سے) کچھ دیں گے، اسی کے برابر اس کے دین میں سے بھی لے لیں گے“۔
امام احمد بن حنبل ؒ، امام بزار ؒ اور امام ابن حبان ؒ حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”آئندہ کچھ امراآئیں گے،پس جو شخص ان کے پاس گیا (ایک اور روایت کے الفاظ ہیں: ’اور ان کے دروزوں پر منڈلاتا رہا‘) اور ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کی، اور ان کے ظلم (کے کاموں) میں ان کی مدد کی تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ہرگز حوض (کوثر) پر نہیں آئے گا (اس کے برعکس) اور جو شخص نہ ان کے پاس گیا (ایک اور روایت کے الفاظ ہیں ’اورنہ ہی ان کے دروزوں پر منڈلاتا رہا‘) نہ ان کے ظلم میں ان کی مدد کی اور نہ ہی ان کے جھوٹ کی تصدیق کی تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ حوض پر آنے والا ہے“۔
امام ابو عمرو الدانی ؒنے کتاب الفتن میں حسن سے روایت کیا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”یہ امت اس وقت تک اللّٰہ تعالیٰ کی حفاظت میں اور اس کے سایۂ رحمت میں رہے گی جب تک کہ اس کے قاری (یعنی علماء) اس کے امراسے نہ لپٹیں گے“۔ امام دیلمی ؒ حضرت عبداللّٰہ بن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺنے فرمایا: ”آخری زمانے میں ایسے علما ہوں گے جو لوگوں کو آخرت کی طرف راغب کریں گے اور خود راغب نہ ہوں گے، لوگوں کو دنیا سے بے رغبتی کی تعلیم دیں گے اور خود بے رغبت نہ ہوں گے، اور امراء (حکام) سے میل ملاپ رکھنے سے منع کریں گے اور خود اس سے باز نہ آئیں گے“۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: ”اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ترین مخلوق حاکم کا درباری عالم ہے۔حضرت ابو ہریرہؓ ہی ایک اور حدیث روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”اگر تم کسی عالم کو حاکم سے بہت زیادہ میل ملاپ رکھتے دیکھو، توجان لو کہ وہ چور ہے“۔(مسند الفردوس: امام دیلمیؒ)۔ امام ابوداؤد ؒ،امام بیہقی ؒ اورامام احمد بن حنبل ؒکی حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کردہ حدیث میں آگے یہ الفاظ بھی آتے ہیں: ”اور جتنا کوئی شخص حاکم کا قرب اختیار کرے گا اتنا ہی وہ اللّٰہ سے دور ہوتا جائے گا“۔ اب ہم خود اپنے اطراف کا جائزہ لیں کتنے درباری زر خرید علماء نظر آئیں گے، جن نالائقوں کے کارناموں سے علماء حق بھی کہیں نہ کہیں بدنام ہورہے ہیں۔
حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ میرے پاس اس حالت میں آئے کہ ان کے چہرے پر غم کے آثار نمایا ں تھے، انہوں نے میری داڑھی پکڑ کر فرمایا ”انا للّٰہ وانا الیہ راجعون! کچھ دیر پہلے میرے پاس جبریل ؑ آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کی اُمّت آپ کے بعد کچھ زیادہ نہیں، بس تھوڑی ہی مدت میں فتنے میں مبتلاء ہو جائے گی۔ میں نے پوچھا: وہ کس وجہ سے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ ان کے علما اور امراء کی وجہ سے۔ امراء عام لوگوں کے حقوق روکے رکھیں گے، اور (لوگوں کوان کے حقوق) نہیں دیں گے، اورعلما‘ امراء کی خواہشات کے پیچھے چلیں گے‘۔ (ترمذیؒ)
حضرت عبداللّٰہ بن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ”میری اُمّت میں سے کچھ لوگ دین میں تفقہ (سمجھ بوجھ) حاصل کریں گے، قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے ہم امراء (حکام) کے یہاں جاتے ہیں تاکہ ان کی دنیا سے بھی کچھ لے لیں اور اپنے دین کو بھی بچا رکھیں، حالانکہ یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں، جس طرح ببول کے درخت سے کانٹوں کے سوا کچھ نہیں ملتا، اسی طرح ان امراء کی قربت سے بھی خطاؤں کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا“۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد میری اُمّت میں ایک ایسا گروہ پیدا ہوگا جو قرآن پڑھے گا اور دین میں تفقہ حاصل کرے گا۔ شیطان ان کے پاس آئے گا اوران سے کہے گا کہ کیسا ہو اگر تم لوگ حاکم کے پاس جاؤ؟ وہ تمہاری دنیا کا بھی کچھ بھلا کردے گا اور تم لوگ اپنے دین کو اس سے بچائے رکھنا! جب کہ ایسا ہو نہیں سکتا، کیونکہ جس طرح ببول کے درخت سے کانٹوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح ان کی قربت سے خطاؤں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا“۔
حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ نبیئ رحمتﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قرآن پڑھ لے اور دین میں تفقہ حاصل کرلے،اور پھر حاکم کے دَر پر اس کی خوشامد کرنے اور اس کی دولت (بٹورنے) کی لالچ میں جائے تو وہ (اس راہ میں) جتنے قدم اٹھائے گا، اتنا ہی جہنم میں گھستا چلا جائے گا“۔ اسی سے ملتی جلتی ایک حدیث ہے جس کے راوی حضرت عبداللّٰہ بن عمر ؓ ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا:”جس نے قرآن پڑھا اور دین کی سمجھ بوجھ حاصل کی، اور پھر صاحب اقتدار کے پاس اس کے مال و دولت کی لالچ میں گیا تو اللّٰہ اس کے دل پر مہر لگا دیں گے، اور (آخرت میں) اسے ہر روز دو ایسے عذا ب دیے جائیں گے جو اس سے پہلے اسے نہ دیے گئے ہوں گے“۔ (’الثواب‘، امام ابو الشیخ ؒ)
حضرت ابودرداءؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا:”جو شخص ظالم حکمران کے پاس خود اپنی مرضی سے گیا، اس کی خوشامد کرنے کے لیے اس سے ملاقات کی اور اسے سلام کیا تو وہ اس راہ میں اٹھائے گئے قدموں کے برابر جہنم میں گھستا چلا جائے گا، یہاں تک کہ وہ وہاں سے اٹھ کر اپنے گھر لوٹ آئے۔ اور اگر وہ شخص حکمران کی خواہشات کی طرف مائل ہوا یا اس کا دستِ بازو بنا تو جیسی لعنت اللّٰہ کی طرف سے اس (حاکم) پر پڑے گی ویسی ہی لعنت اس پر بھی پڑے گی، اور جیسا عذاب دوزخ اُسے ملے گا ویسا ہی اِسے بھی ملے گا“۔
حضرت عبد اللّٰہ بن مسعودؓ سے ایک حدیث مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں سب سے پہلے جو نقص پیدا ہواتھا وہ یہ تھا کہ ان میں سے ایک شخص دوسرے شخص سے ملاقات کرتا تھا تو یہ کہتا تھا کہ: اے فلاں! اللّٰہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جو تم کر رہے ہو اس کو چھوڑ دو، اس لیے کہ یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اس کی اسی شخص سے اگلے روز دوبارہ ملاقات ہوتی تھی اور وہ اپنے سابق حال پر قائم ہوتا تھا۔ لیکن یہ چیز مانع نہیں ہوتی تھی اُس (پہلے شخص) کے راستے میں کہ وہ اس کا ہم پیالہ اور ہم نشین بنے۔ جب انہوں نے یہ روش اختیار کی تو اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں کو آپس میں مشابہ کردیا۔
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”جو عالم بھی صاحب اقتدار کے پاس اپنی مرضی سے گیا (اور اس کی ظلم میں معاونت کی) تو وہ اسے جہنم میں دیے جانے والے ہرقسم کے عذاب میں شریک ہوگا“۔
امام حسن بن سفیان ؒ نے اپنی ’مسند‘ میں، امام حاکم ؒ نے اپنی کتابِ تاریخ میں، نیز امام ابو نعیم ؒ، امام عقیلی ؒ اور امام دیلمی ؒ نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”علماء‘ اللّٰہ کے بندوں کے درمیان رسولوں کے (ورثے کے) امین ہوتے ہیں، جب تک وہ حاکم کے ساتھ نہ گھلیں ملیں۔ پس اگر وہ حاکم کے ساتھ گھلے ملے تو بلا شبہ انہوں نے رسولوں سے خیانت کی۔ تو (جو علماایساکریں) تم ان سے خبردار رہنا اور ان سے علیحدہ ہو جانا“۔
امام عبد اللّٰہ بن مبارک ؒ فرمایا: ”دین میں جو بھی خرابی بھی آتی ہے وہ تین اطراف سے آتی ہے، بادشاہوں کی طرف سے، علمائے سوء یعنی بُرے علما کی طرف سے اور بُرے صوفیوں کی طرف سے“۔
حضرت اسحٰقؒ نے فرمایا:'' وہ عالم کتنا قبیح ہے جس کی مجلس میں جایا جائے تو وہ موجود نہ ہو، اور جب پوچھا جائے تو پتہ چلے کہ وہ حکمران کے پاس گیا ہے۔ میں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ'' اگر تم کسی عالم کو حکمران سے ملتا دیکھو تو اس کے دین پر بے دریغ شک کا اظہار کرو''۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں حکمران کے یہاں گیا اور جب نکلنے کے بعد اپنا محاسبہ کیا تو اپنے نفس کو قصوروار نہ پایا، حالانکہ میں حکمرانوں سے نہایت سختی سے پیش آتا ہوں اور ان کی خواہشات کے برخلاف چلتا ہوں ''۔حضرت محمد سلمہ ؒ نے فرمایا: ''غلاظت پر بیٹھی مکھی ان حکمرانوں کے در پر بیٹھے قاری (یعنی عالم) سے اچھی ہے ''۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”بلا شبہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ترین (ایک اور روایت کے مطابق’حقیر ترین‘) مخلوق وہ عالم ہے جو حکومتی اہلکاروں سے میل جول رکھتا ہے“۔ (التحذیر من علماء السوء: حافظ ابو فتیان دہستانی ؒ، تاریخِ قزوین: امام رافعی ؒ)۔ امام اوزاعیؒ نے فرمایا: ''اللّٰہ کے یہاں اس عالم سے زیادہ مبغوض کوئی نہیں جو سرکاری کارندوں سے ملنے جاتا ہو''۔ جب کہ آج امت کے نام نہاد علماء کو باطل پرستوں کے سرغنوں کی نشست کی زینت بنتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ کئی ویڈیوز و تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔ بابری مسجد کے معاملات کے وقت، مسلم تنظیموں پر قدغن لگانے گذارشات کے وقت۔ کیا یہ ضمیر فروش ہمارے علماء ہوسکتے ہیں۔
ابو نعیم ؒ اور ابن عساکر ؒ نے روایت کیا ہے کہ: کسی حکمران نے ابو حازم ؒ کو بلایا تو وہ چلے گئے جب کہ اس حکمران کے پاس افریقی ؒ، زہری ؒ اور کئی دیگر علماء بھی موجود تھے۔ حکمران نے کہا: ''اے ابو حازم! کچھ فرمائیں ''۔ ابو حازم ؒ نے فرمایا: '' حکمرانوں میں سے بہترین وہ ہے جو علماء سے محبت کرے ا ور علماء میں سے بد ترین وہ ہے جو حکمرانوں سے محبت کرے۔ گزرے زمانے میں جب حکمران علماء کو بلاتے تھے تو وہ نہیں آتے تھے،ا ور جب ان سے مسئلہ پوچھتے تھے تو علماء انہیں رخصت نہ دیتے تھے۔ حکمران علماء کے یہاں ان کے گھر تک جاکر ان سے مسئلہ دریافت کرتے تھے۔ اس میں حکمرانوں کی بھی خیر تھی اور علماء کی بھی۔ جب یہ حال کچھ لوگوں نے دیکھا تو کہا: بھلا ہم کیوں نہ علم حاصل کریں تاکہ ہم بھی ان کی طرح ہوجائیں۔ پس انہوں نے علم حاصل کیا اور حکمرانوں کے پاس جاپہنچے۔ پھر انہیں علم سنایا اور ان کو رخصتیں دیتے گئے۔ اس طرح علماء نے حکمرانوں کو برباد کیا اور حکمرانوں نے علماء کو ''۔
حضرت فضیل بن عیاض ؒ سے روایت کیا کہ آپ ؒ نے فرمایا:'' اگر اہل علم اپنی عزت برقرار رکھتے اپنے دین کی حفاطت پر حریص ہوتے، علم کو عزت بخشنے، اس کی حفاظت کرتے، اور اسے وہی مقام دیتے جو اللّٰہ نے دیا ہے تو ضرور جابر وں کی گردنیں ان کے زیر دست ہوجاتیں، لوگ ان کی پیروی کرنے لگتے اور اپنے کام سے کام رکھتے، اور اسلام اہل اسلام باعزت رہتے۔ لیکن انہوں نے خود کو ذلیل کیا اور اپنی دنیا بچانے کی خاطر اپنے دین میں کمی کی پرواہ نہ کی۔ انہوں نے اپنا علم دنیا داروں کو خوش کرنے میں لگایا تاکہ ان کے ہاتھ میں جو (مال و دولت) ہے وہ حاصل کر سکیں، اس طرح وہ ذلیل ہوئے اور لوگوں کی نظروں میں گر گئے''۔
(جاری••••• 5-6)
Comments
Post a Comment