Live in relationship
•لِیو اِن ریلیشن شِپ - تَجارِب اور نَظَرِیات•
Live in Relationships - Experiences and Theories
┄┅════❁﷽❁════┅┄
╗══════•❁ا۩۩ا❁•═══════╔
•لِیو اِن ریلیشن شِپ•
تَجارِب اور نَظَرِیات
╝══════•○ ا۩۩ا ○•═══════╚
🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
مُتَعَفِّن و بدبودار، غلیظ و گھناؤنی شیطانی دَجَّالی تہذیب جسے دیکھ کر حیوان بھی پناہ مانگے، آج اس طرح کی تہذیب انسانی معاشرے میں سرایت کرچکی ہیں۔ ہمیں اس عفونت زدہ سڑاند اور بدبودار تہذیب کو روکنا ہوگا، ورنہ کل ہمارا اسلامی پاک و پاکیزہ مسلم معاشرہ بھی آلودہ اور متاثر نہ ہو جائے۔ دَجَّالی فتنوں اور شیطانی ذُرّیت سے آگاہ کرنا انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام اور رسولوں ؑ کا طریقہ کار رہا ہے، حدیث سے ثابت ہے کہ ہر نبیؑ و رسولؑ نے اپنے اپنے دور میں اپنی اپنی قوموں کو دَجَّالی فتنوں سے آگاہ کیا ہے۔
آج جب کے دَجَّالی تہذیب کی تبلیغ و ترویج کے ذریعے مرد و زن میں فطری اور خلقی شرم و حیاء اور عفت و عصمت کو تار تار کیا جارہا ہے۔ اسی کا شاخسانہ ہے کہ بہو، بیٹیوں، ماؤں، بہنوں اور بیویوں کو پردۂ عفت سے نکال کر آوارہ نَظروں کو خِیرَہ کَرنے کے لیے وقفِ عام کیا جارہا ہے۔ ایسے قبیح اعمال میں ملوث لوگوں کی دُنیوی وجاہت و اقبال مندی کو دیکھ کر متوسط طبقے کی نظریں بھی للچا جاتیں ہیں۔
نظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صنّاعی مگر جھُوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
رفتہ رفتہ تعلیم، ملازمت اور ترقی کے بہانے وہ تمام اِبلیسی و دَجَّالی مناظر سامنے آنے لگے ہیں، جن کا تماشا اور بھیانک نتائج آج ہم بھی دیکھ رہے ہیں۔
''لِیو اِن ریلیشن شِپ'' دراصل ایک معاہدے کا نام ہے۔ لِیو اِن ریلیشن شِپ غیر شادی شدہ بالغ مرد اور عورت کا باہمی رضامندی کے ساتھ طویل مدتی یا مستقل بنیادوں پر رومانوی یا جنسی طور پر مباشرت و تعلقات قائم کرنے کا غیر فطری و غیر طبیعی اور ناجائز عمل ہے۔ جنسی تعلق قائم کرنے اور قانونی رشتے کے بغیر ایک ساتھ رہنے کو بھی ''لِیو اِن ریلیشن شِپ'' (Cohabitation) یا "ہم باشی" کہا جاتا ہے۔ اس طرح کے رشتوں کو سماجی طور پر مبہم اور جنسی استحصالی رشتوں کے طور پر کہا جاتا ہے اور اس پر بدنما داغ لگایا جاتا ہے۔
شادی کی قانونی پابندیوں کے بغیر، جوڑے جو ناجائز طریقے سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں انہیں اکثر جسمانی گھریلو تشدد اور بعض اوقات بے وفائی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو انہیں جسمانی و مالی طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہ بچوں پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ لِیو اِن ریلیشن شِپ اکثر شادی کرنے کے لیے دباؤ بڑھاتی ہے حالانکہ اس ناجائز عمل سے ازدواجی دباؤ کو کم کرنا تھا۔ یہ دباؤ پارٹنر، دوستوں یا خاندان کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ شراکت داروں کو ازدواجی اور وراثت میں ملنے والی جائیداد پر حقوق اور حکام کی کمی، جنازے اور تدفین کے انتظامات، انشورنس معاہدوں کے تحت کوریج یا فوائد کی اہلیت کی کمی اور اس کے برعکس چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک اور نقصان یہ ہے کہ ٹوٹی ہوئی مصروفیتیں اکثر جذباتی اور نفسیاتی اثرات کا باعث بنتی ہیں جیسے دبے ہوئے، چڑچڑے، نظر انداز اور یہاں تک کہ دل ٹوٹ جانا۔ لِیو اِن ریلیشن شِپ ٹوٹنے میں ڈپریشن بھی اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ یہ رشتہ کسی بھی لمحے ختم ہوتا ہے۔
لِیو اِن ریلیشن شِپ عدم مطابقت بھی لاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ جو چیزیں لوگوں کو دل لگی ہوتی ہیں وہ بعد میں پریشان کن بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی ساتھی کو ڈیٹنگ کے دوران ایک بار دوسرے کا خشک مزاح مل جاتا ہے تو ساتھ رہتے ہوئے کم دلکش ہوتا ہے۔ معاشرے کی طرف سے اس عمل کو اب بھی منفی روشنی کے طور پر دیکھا جاتا ہے کیونکہ وہ اب بھی اسے مذہبی، اخلاقی، طبقاتی وجوہات وغیرہ پر ممنوع سمجھتا ہے۔
ممبئی میں، 22-28 سال کی عمر کے تقریباً 50% جوڑے لِیو اِن ریلیشن شِپ میں ہیں۔ لیکن، 70% 2؍ سال کے اندر ٹوٹ جاتے ہیں۔2011ء-2012ء کے دوران لِیو اِن ریلیشن شِپ میں ٹوٹ پھوٹ کے کیسز کی تعداد 30؍ تھی، جو اپریل 2012ء سے مارچ 2013ء کے درمیان بڑھ کر 42؍ ہوگئی۔ ڈاکٹر گیلینا روڈس کے مطابق، ''1970ء سے پہلے، شادی سے باہر ایک ساتھ رہنا غیر معمولی تھا، لیکن 1990ء کی دہائی کے آخر تک کم از کم 50% سے 60% جوڑے شادی سے پہلے ایک ساتھ رہتے تھے''۔ امریکہ میں لِیو اِن ریلیشن شِپ کے ساتھ رہنے میں اضافہ، 1960ء میں تقریباً 450,000 سے 2011ء میں 7.5؍ ملین تک پہنچ گیا۔ 2012ء تک، امریکہ میں تمام پیدائشوں میں سے 41% غیر شادی شدہ خواتین کی تھیں۔
وہ حکمت ناز تھا جس پر خردمندانِ مغرب کو
ہوَس کے پنجہ خُونیں میں تیغِ کارزاری ہے
کوورا ایپ پر ایک سوال پوچھا گیا کہ ''لِیو اِن ریلیشن شِپ'' (شادی کے بغیر ساتھ رہنا) کتنا درست ہے۔ اکثریت نے اس کے حق میں رائے دی۔ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ شادی انسانوں کا بنایا ہوا طریقہ کار ہے۔ بدلتے زمانے میں انسان اگر کوئی نیا طریقہ کار وضع کرلے تو اس میں برائی کیا ہے۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ طلاق کے بڑھتے واقعات نے شادی کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے تو 'لِیو اِن ریلیشن شِپ' کو قبول کرنے میں کیا مضائقہ ہے۔
3؍ سال قبل نیوز 18؍ میں ایک سروے رپورٹ نظر سے گزری، جو ایک نیوز ایپ اِن شارٹ کے ذریعے کیا گیا تھا۔ سروے رپورٹ حیران کن ہے جس کے مطابق ہندوستان میں 80؍ فیصد لوگ شادی کے بغیر ساتھ رہنے یعنی لِیو اِن ریلیشن شِپ کو پسند کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آدھے فیصد سے بھی کم اس طرح کی زندگی گزارتے ہیں۔
جب ان کے ساتھ رہنے کی وجوہات کا سروے کیا گیا تو، زیادہ تر جوڑوں نے وجوہات درج کیں جیسے کہ ایک ساتھ زیادہ وقت گزارنا، سہولت پر مبنی وجوہات اور اپنے تعلقات کی جانچ، جب کہ چند لوگوں نے یہ وجہ بتائی کہ وہ شادی پر یقین نہیں رکھتے۔ رہائش کے انتہائی زیادہ اخراجات اور آج کی معیشت کے تنگ بجٹ بھی ایسے عوامل ہیں جو جوڑے کو صحبت کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
آج کل تمام شادیوں میں سے 60% صحبت کی مدت سے پہلے ہوتی ہیں۔ محققین کا مشورہ ہے کہ جوڑے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مطابقت کو جانچنے کے لیے شادی کی کوشش کرنے کے طریقے کے طور پر ایک ساتھ رہتے ہیں، جب کہ ان کے پاس قانونی مضمرات کے بغیر رشتہ ختم کرنے کا اختیار بھی موجود ہے۔ 1996ء میں، ''تمام جوڑے میں سے تین چوتھائی سے زیادہ نے اپنے ساتھیوں سے شادی کرنے کا ارادہ کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے اکثر نے صحبت کو شادی کے لیے پیش کش کے طور پر دیکھا۔'' ایک ساتھ رہنے والے جوڑوں کی رہائش، ذاتی وسائل، دوسروں کے ساتھ گہرے تعلقات کو خارج کر رہے ہیں اور 10% سے زیادہ ساتھ رہنے والے جوڑوں کے بچے ہیں۔ ''بہت سے نوجوان بالغوں کا خیال ہے کہ شادی سے پہلے اپنے تعلقات کو جانچنے کا ایک اچھا طریقہ ہے''۔ جو جوڑے اکٹھے رہنے سے پہلے شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا جن کی صحبت سے پہلے منگنی ہوتی ہے وہ عام طور پر ایک ساتھ رہنے کے دو سال کے اندر شادی کر لیتے ہیں۔ جوڑے کی صحبت کی حالت اکثر شادی یا ٹوٹ پھوٹ پر ختم ہوتی ہے۔
لِیو اِن ریلیشن شِپ کے ساتھ رہنے پر عصری اعتراضات میں غیر ازدواجی اتحاد کی مذہبی مخالفت، جوڑوں پر شادی کے لیے سماجی دباؤ اور بچوں کی نشوونما پر لِیو اِن ریلیشن شِپ کے ممکنہ اثرات شامل ہیں۔
لِیو اِن ریلیشن شِپ، ہم جنس تعلقات جیسے اعمال اسلامی صحیفے کے تحت ممنوع ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے غیر شادی شدہ اجنبی مرد اور عورت کا باہم ایک ساتھ رہنا، ایک دوسرے سے بات چیت کرنا ناجائز و حرام ہے، اسلام میں یہ عمل زنا کے سنگین زمرہ میں آتا ہے۔ لِیو اِن ریلیشن شِپ کے نام سے آج کل جو معاملہ چل رہا ہے، وہ سراسر ناجائز ہے اور پورے معاشرے کے لیے نہایت مہلک ہے۔ اسلام نے شادی کو سنت رسولؐ قرار دیا ہے۔ کسی عذر کے بغیر مجرد رہنے کو ناپسند کیا گیا ہے۔ شادی کا بار، طلاق و رشتے کی تلخیاں برداشت کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی ہے اس لیے اس طرح کے بزدل لوگ لِیو اِن ریلیشن شِپ کو ترجیح دیتے ہیں۔
اسلامی نظریہ میں، لائیو ان ریلیشن شپ کا تصور، جہاں غیر شادی شدہ افراد رسمی شادی کے معاہدے کے بغیر ساتھ رہتے ہیں، عام طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ اسلام ایک مرد اور عورت کے درمیان ایک مقدس معاہدہ کے طور پر شادی پر بہت زور دیتا ہے، جو مذہبی اور قانونی تقاضوں سے منظور شدہ ہے۔ یہ شادی کا معاہدہ دونوں شراکت داروں کے ساتھ ساتھ یونین سے پیدا ہونے والے بچوں کے لیے حقوق، ذمہ داریاں اور تحفظات فراہم کرتا ہے۔
قرآن اور حدیث (پیغمبر اسلام کے اقوال و افعال) عفت، حیا، اور ان مردوں اور عورتوں کے درمیان مناسب حدود کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں جن کا گہرا تعلق نہیں ہے۔ اس طرح، شادی سے باہر صحبت کا رواج ان اصولوں سے متصادم ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی قانونی نظام ازدواجی تعلقات کو منع کرتا ہے یہ جوڑے اس وقت تک ساتھ نہیں رہتے جب تک وہ شادی شدہ نہ ہوں۔ اسلامی قوانین تعلقات کے حوالے سے بہت سخت ہیں اور ایسے قوانین کو توڑنے پر سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر 2005ء میں انڈونیشیا نے ایک قانون تجویز کیا جس کے تحت جوڑے کو ایک ساتھ رہنے پر سزا دی جا سکتی ہے۔ سزا 2؍ سال قید اور 30؍ ملین روپے ہے۔ یہ پولیس کو ان لوگوں کے گھروں پر چھاپہ مارنے کا اختیار بھی دے گا جو ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔
تاہم، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات کی تشریحات مختلف علماء اور برادریوں کے درمیان مختلف ہو سکتی ہیں، اور اس جیسے مسائل پر مختلف آراء ہو سکتی ہیں۔ بہر حال، اسلامی نظریہ کے اندر مرکزی دھارے کا نظریہ یہ ہے کہ شادی مردوں اور عورتوں کے لیے گہرے تعلقات بنانے اور خاندانوں کی تعمیر کے لیے ایک مناسب اور منظور شدہ طریقہ ہے۔
لِیو اِن ریلیشن شِپ سراسر عورت کی عزت نفس پر حملہ ہے اور اس کے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں۔ شادی کی صورت میں معاشرے میں عورت کو جو عزت و مقام حاصل ہوتا ہے اور اس کے حقوق کا تحفّظ ہوتا ہے وہ لِیو اِن ریلیشن شِپ میں ممکن نہیں بلکہ اس تحفّظ پر ایک حملہ ہے اور عورت کی حیثیت ایک رکھیل سے بھی گئی گذری ہو جاتی ہے۔ ایسی عورت جسے نِکاح کے بغیر گھر میں رکھا جائے، یعنی غیر منکوحہ عورت، جِس سے مُستقل زنا شوئی کے تعلقات ہوں اسے رکھیل یا داشْتَہ کہا جاتا ہے۔ لِیو اِن ریلیشن شِپ کی وجہ خواتین کی حق تلفی ہو رہی ہوگی۔ گذشتہ دنوں راجھستان حقوق انسانی کمیشن نے ریاستی حکومت سے لیو اِن ریلیشن شپ کے بڑھتے رجحانات کو روکنے کے لیے اور سماج میں خواتین کی باعزت زندگی کے حق کو محفوظ کرنے کے لیے قانون بنانے کی سفارش کی ہے۔ اسی کے پیشِ نظر لِیو اِن ریلیشن شِپ پر پابندی کی مانگ بھی کی گئی ہے۔
عدالتوں نے بھی مزید کہا کہ اگرچہ اس ملک میں سماجی طور پر ناقابل قبول ہے، لیو اِن یا شادی جیسا رشتہ نہ تو کوئی جرم ہے اور نہ ہی گناہ اور شادی کرنا یا نہ کرنا، یا ہم جنس پرست تعلقات رکھنا ایک انتہائی ذاتی فیصلہ ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ عدالتوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس موضوع پر قانون سازی کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح کے رشتے کے ٹوٹنے کی وجہ سے عورت کو ہمیشہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کی بنچ نے مختلف ممالک کی مثالیں بھی دیں جنہوں نے ایسے تعلقات کو تسلیم کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور مناسب قانون سازی کرنا چاہیے یا ایکٹ میں مناسب ترمیم کرنی چاہیے، تاکہ اس قسم کے رشتوں سے پیدا ہونے والی خواتین اور بچوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے، حالانکہ ایسا رشتہ کسی قسم کا نہیں ہو سکتا۔ شادی کی نوعیت میں رشتہ۔ عدلیہ کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات عملی طور پر ہیں۔
مرکز کی سرکار جس نے عورت کے تحفّظ کے نام پر طلاقِ ثلاثہ قانون بنا دیا اور خاطی مردوں کے لئے 3؍ سال کی غیر منطقی سزا بھی تجویز کر دی ہے، کیا اس معاملہ میں بھی کاروائی کرے گی اور عورتوں کو تحفّظ فراہم کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لئے بل پیش کرے گی۔ جسٹس جی ایس سنگھوی اور اے کے گنگولی کی بنچ کا کہنا ہے کہ ترمیم کے عمل کے ذریعے ایسی سماجی تبدیلیوں کو بیان کرنے میں قانون اپنا وقت لیتا ہے۔ وہ یہی وجہ ہے کہ بدلتے ہوئے معاشرے میں قانون جامد رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہندو قانون کی ترقی سے یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ کبھی جامد نہیں تھا اور وقت کے ساتھ بدلا ہے۔ مختلف وقتوں میں بدلتے ہوئے سماجی طرز کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے۔
تعدد ازدواج (کثرت ازدواج) کو آخر کیوں قانونی درجہ نہیں دیا گیا؟ جب کہ لِیو اِن ریلیشن شِپ کو قانونی تحفظ فراہم کردیا گیا اور ہم جنسی یا ہم باشی کو قانون کا جامہ بھی پہنایا گیا۔ یہ سارے اقدامات یکساں سول کوڈ کو اختیاری بنانے کے لئے ہی بڑی عیاری کے ساتھ کئے گئے جو راست شریعت سے متصادم ہیں۔
معاشرہ اب بھی لِیو اِن ریلیشن شِپ کو ایک بہت بڑا ممنوع اور قبیح عمل سمجھتا ہے، جبکہ 47% اپنے ساتھی کے ساتھ رہنے سے شادی کو بہتر سمجھتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس ریلیشن کو ایک جائز شادی کے طور پر تسلیم کیا جس میں عدالت نے ایک جوڑے کے 50؍ سالہ لِیو اِن ریلیشن شِپ کو قانونی جواز فراہم کیا۔
دنیا کے مختلف ممالک کی رو سے یہ جرم نہیں کیونکہ کسی فرد کا جنسی رجحان اس کا انفرادی اور فطری معاملہ ہے۔ یہ تعلق کچھ عرصے کے لیے ہو سکتا ہے، لمبے عرصے تک جاری رہ سکتا ہے اور کچھ جگہوں پر یہ تا حیات جاری رہتا ہے۔ لِیو اِن ریلیشن شِپ میں عام طور سے یہ خوبی ہوتی ہے کہ اس میں مرکوزیت صرف دو شخصوں کے باہمی تال میل پر ہوتی ہے۔ اس میں خاندانوں کی وابستگی یا تو بالکیہ مفقود ہوسکتی ہے یا یہ دخل برائے نام ہوتا ہے۔ چونکہ قانونی بندش کا پہلو اس میں کم ہوتا ہے، اس لیے فریقین میں تفریق کی صورت میں قانونی داؤ پیچ اور مقدمے بازی بہت کم ہوتی ہے۔ لِیو اِن ریلیشن شِپ زیادہ تر کم وقت کے لیے ہوتے ہیں۔ لوگ کچھ وقت کے لیے ساتھ ہوتے ہیں، جیسے کہ چند مہینے اور کچھ سال۔ لِیو اِن ریلیشن شِپ کے مشارکت دار اکثر ایک رشتے کے ٹوٹنے کے بعد دوسرے رشتے داری میں بندھ جاتے ہیں۔ اس قسم کے رشتوں کے حامی لوگ ان میں قانونی پیچیدگیوں کے نہ ہونے ساتھ ساتھ ٹوٹنے کے بعد کڑواہٹ کی کمی کو اس کی خوبی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
لِیو اِن ریلیشن شِپ قدیم ثقافت و تہذیب:
رسمی شادی کے بغیر ساتھ رہنے یا اکٹھے رہنے کے تصور کی جڑیں قدیم ثقافتوں اور تہذیبوں میں ہیں۔ کچھ معاشروں میں، یہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ عام اور سماجی طور پر قابل قبول تھا۔ مثال کے طور پر، قدیم روم میں، "کونٹوبرینیئم" کہلانے کا رواج تھا جہاں جوڑے بغیر قانونی شادی کے ایک ساتھ رہ سکتے تھے۔ اسی طرح، قدیم ثقافتوں میں، "گندھروا ویواہ" کے تصور نے جوڑوں کو بغیر رسموں یا رسموں کے باہمی رضامندی سے شادی کرنے کی اجازت دی، جو کہ جدید دور کے ساتھ رہنے کی طرح ہے۔ لہذا، اگرچہ "لائیو اِن ریلیشن شپ" کی اصطلاح جدید ہو سکتی ہے، لیکن یہ خیال خود تاریخی نظیر رکھتا ہے۔
لِیو اِن ریلیشن شِپ محض مغربی دنیا کی تخلیق نہیں ہے، یہ عوامی مخالفت کے باوجود روایتی معاشروں میں بھی موجود ہیں۔ قدیم ثقافت میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، لیکن کیا یہ حقیقت میں لِیو اِن ریلیشن شِپ ہیں یا محض اخلاقی طور پر درست وجوہات کی بنا پر جنسی تعلق ہے، اس بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنا مشکل ضرور ہوسکتا ہے۔ ہندو قانون کے تحت، شادی ایک رسم ہے۔ قدیم ثقافت میں، گندھاروا ویواہ جدید لِیو اِن ریلیشن شِپ کے مترادف اور خیال سے ہم آہنگ ہے۔ گندھاروا ویواہ، جسے محبت کی شادی یا باہمی رضامندی سے شادی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جہاں شراکت دار اپنے جذبات اور انتخاب کی بنیاد پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ یہ قدیم افسانوں میں پیش کیے گئے پیچیدہ رشتوں اور اخلاقی مخمصوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
اگرچہ اس طرح کے ویوا کو کچھ لوگ رومانوی اور آزاد خیال سمجھ سکتے ہیں، لیکن یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ قانونی اور سماجی اثرات پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جائیداد کے حقوق، وراثت اور قانونی شناخت سے متعلق۔ لہذا، اس طرح کے ویوا پر غور کرنے والے افراد کو ان کے مخصوص ثقافتی اور قانونی تناظر میں قانونی اور مضمرات سے آگاہ ہونا چاہیے۔
بہت سے معاشروں میں، روایتی شادیوں سے باہر پیدا ہونے والے بچوں کو سماجی بدنامی یا شناخت کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان افسانوں میں پیش کیے گئے قدیم ہندوستانی معاشرے کے تناظر میں، ایسے بچے واقعی پسماندہ ہوتے ہیں یا اپنے غیر روایتی والدین کی وجہ سے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ کہانیاں مختلف ثقافتی اور تاریخی سیاق و سباق میں رشتوں اور والدینیت کے تئیں معاشرتی اصولوں اور رویوں کی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
جدید طریقوں اور قدیم روایات کے درمیان مماثلت دیکھنا دلچسپ ہے، جیسے جھارکھنڈ کے قبائل میں "ڈھوکو" کا تصور۔ یہ مشق گندھاروا ویوا کے خیال کی بازگشت کرتی ہے، جہاں شادی کی رسمی رسومات یا سماجی منظوری سے قطع نظر جوڑے باہمی رضامندی کی بنیاد پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ "ڈھوکو" کی اصطلاح منفی معنی رکھتی ہے، لیکن یہ خاندانی اعتراضات کے باوجود ایک ساتھ رہنے کا انتخاب کرنے والے جوڑوں کی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ثقافتی طریقوں کی لچک اور عصری حالات کے مطابق ان کی موافقت کو نمایاں کرتا ہے۔
اس رشتے سے پیدا ہونے والے بچوں کو بھی سماجی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ہندوؤں کے معاشرے میں بچوں کی ناک اور کان چھیدنا ایک روایت ہے لیکن "ڈھوکو" کی شادیوں سے پیدا ہونے والے بچوں کو چھدوانے کی اجازت نہیں ہے۔ نتیجے کے طور پر، وہ کبھی بھی سماجی طور پر تسلیم شدہ اور قبول نہیں ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود، روایتی شادی کے ڈھانچے سے باہر پیدا ہونے والے بچوں کے لیے سماجی قبولیت اور شمولیت سے متعلق چیلنجز برقرار رہ سکتے ہیں۔
اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے کوئی متفقہ نظریہ نہیں ہے کہ اس قسم کے ویواہ میں عمر کے ساتھ ساتھ کمی کیوں آئی ہے۔ ایک نظریہ کا دعویٰ ہے کہ جیسے جیسے خوشحالی اور دولت میں اضافہ ہوا، والدین نے اپنے بچوں کی سرگرمیوں اور سماجی زندگی پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ قدیم زمانے کا پجاری طبقہ، جنہوں نے برہما شادیوں اور مذہبی تقریبات کو انجام دیا، وقت کے ساتھ ساتھ ایسے قوانین وضع کیے جو زیادہ تر قدیم ترین ثقافتوں کے لیے بغیر قانونی شادی کے جوڑوں کو نامناسب (اپرستا) قرار دیتے تھے، کیونکہ روایتی شادیاں ان کی آمدنی کا ذریعہ تھیں اور بغیر قانونی شادی کے جوڑوں نے انہیں غریب یا فرسودہ بنا دیا۔
بغیر قانونی شادی کا رواج جدید دور میں زیادہ وسیع ہوتا جارہا ہے، خاص طور پر ڈیٹنگ کے اصولوں اور تعلقات کے بارے میں رویوں میں تبدیلی کی وجہ سے۔ جدید شہری علاقوں میں، جہاں افراد کو ذاتی مطابقت اور پیار کی بنیاد پر اپنے شراکت داروں کا انتخاب کرنے کی زیادہ آزادی ہے، بغیر قانونی شادی کے ویواہ دوبارہ زندہ ہونے کی صورت میں ہے۔
یہ بحالی شادی اور رشتوں کے حوالے سے زیادہ آزاد خیال رویوں کی طرف تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جوڑے تیزی سے روایتی طے شدہ شادیوں کی بجائے باہمی رضامندی اور محبت پر مبنی اتحاد کا انتخاب کرتے ہیں۔ بغیر قانونی شادی افراد کو اپنی ترجیحات اور خواہشات کی بنیاد پر شراکت داری قائم کرنے کی آزادی فراہم کرتی ہے، جو سماجی اصولوں اور اقدار میں ایک اہم ارتقاء کی نشاندہی کرتی ہے۔
بچوں کی شرعی حیثیت (Legitimacy of Children):
ایک اور نقصان جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہ ہے اس ریلیشن سے پیدا ہونے والے بچوں کی سماجی و قانونی حیثیت۔ اگرچہ عدالت ایسے رشتوں سے پیدا ہونے والے بچوں کو جائز تسلیم کرتی ہے لیکن مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے رشتوں سے پیدا ہونے والے بچے بڑے ذہنی تناؤ سے گزرتے ہیں اور وہ بچپن کا لطف نہیں اٹھا پاتے جس کا ہر بچہ اس ممنوع رشتے کی وجہ سے مستحق ہوتا ہے جو لِیو اِن ریلیشن شِپ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اِس ریلیشن سے پیدا ہونے والے بچوں کو سماجی بدنامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ رشتوں کے بارے میں سماجی رویوں کی تشکیل ثقافتی اصولوں، مذہبی عقائد اور تاریخی روایات سے ہوتی ہے۔
لِیو اِن ریلیشن شِپ کے ذریعے غیر ازدواجی والدین بچے کی نشوونما کے لیے ایک نامناسب ماحول ہے۔ بچوں کی نشوونما پر لائیو ان ریلیشن شپ کے ذریعے غیر ازدواجی والدین کے اثرات مختلف عوامل پر منحصر ہوتے ہیں، بشمول رشتے کا استحکام، معاون خاندانی ڈھانچے کی موجودگی، اور مجموعی ماحول جس میں بچے کی پرورش ہوتی ہے۔
ایک مطالعہ نے کم تعداد کی مہارتوں اور ساتھ رہنے والے جوڑوں کے بچوں کے ساتھ زیادہ جرم کا تعلق ظاہر کیا۔ ابھی حال ہی میں لِیو اِن ریلیشن شِپ کا بدترین شاخسانہ نظروں سے گذرا، لیو ان پارٹنر خاتون کی 13؍ سالہ لڑکی کو مستقل بناتا رہا ہوس کا نشانہ، رنگے ہاتھ گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ لِیو اِن ریلیشن شِپ کے بھیانک انجام ایک واقعہ، جے پور میں رونما ہوا اس قبیح رشتے میں رہنے والی ماں کے ناجائز تعلقات سے برہم ہو کر بیٹے نے ماں اور عاشق کے اقدام قتل کو انجام دے ڈالا۔ کیونکہ آج بھی مہذب معاشرہ اس رشتہ کو اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھتا ہے، چاہے وہ بچہ ہو یا بوڑھا۔ اس رشتہ نے معصوم بچے کو قاتل بنا دیا!!
1946ء میں، کامنی دیوی بمقابلہ کامیشور سنگھ، میں پٹنہ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ گندھاروا شادی سے پیدا ہونے والے شوہر اور بیوی کا رشتہ پابند ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ شوہر گندھاروا شکل میں شادی شدہ اپنی بیوی کی مالی دیکھ بھال کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا۔ اسی سے ملتا جلتا فیصلہ سپریم کورٹ کا ملاحظہ فرمائیں، سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے بغیر شادی کے پیدا ہونے والے بچوں کو بھی باپ کی جائیداد میں حقدار قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر کوئی عورت اور مرد طویل عرصے تک ساتھ رہتے ہیں تو اسے شادی سمجھا جائے گا اور اس رشتے سے پیدا ہونے والے بچوں کو بھی باپ کی جائیداد میں حق ملے گا۔
لِیو اِن ریلیشن شِپ میں پیدا ہونے والے بچے ولدیت یا زچگی کے قانونی تصور کے حقدار نہیں ہیں۔ انہیں خون کے ٹیسٹ اور قانونی ذرائع سے اپنی ولدیت یا زچگی کا تعین کرنا چاہیے۔
"لچکداری"، لِیو اِن ریلیشن شِپ کی پہچان ہے لیکن بہت سی خامیاں بعض اوقات رشتے کو پھاڑ دینے کا سبب بنتی ہیں۔ جہاں رشتے سے باہر نکلنا بھی ایک حامی کے طور پر لیا جاتا ہے یہ بہت سے معاملات میں ایک نقصان کا کام بھی کرتا ہے کیونکہ کچھ لوگوں کو یقین کی چھلانگ لگانے اور اپنی اپنی زندگی میں کافی تبدیلیاں کرنے کے بعد ٹوٹنا بہت مشکل لگتا ہے، لیکن پھر دوبارہ یہ نقصان خاص طور پر لِیو اِن ریلیشن شِپ سے نہیں جڑا، یہاں تک کہ شادیوں کو بھی ٹوٹ پھوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے!
مشہور ٹینس کھلاڑی کے ساتھ لِیو اِن ریلیشن شِپ معاملہ میں سیشن عدالت کے حکم کے خلاف بالی ووڈ اداکار کی سابقہ ماڈل بیوی کی اپیل سماعت کے لئے منظور کر لی ہے۔ عورت نے سیشن عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے جس میں اس نے شادی کے بغیر ٹینس کھلاڑی کے ساتھ رہ رہی عورت کو بیوی کا درجہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ٹینس کھلاڑی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کبھی اس عورت سے شادی نہیں کی اور ایسے میں وہ ان کی بیوی نہیں ہیں۔ ایسے میں وہ عورت کسی طرح کے الاؤنس کی حقدار نہیں ہیں۔
ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ سب سے بڑا نقصان سماجی بدنما داغ ہے جس سے لِیو اِن ریلیشن شِپ جوڑوں کو گزرنا پڑتا ہے۔ رہنے کے لیے مناسب جگہ تلاش کرنے سے لے کر اپنے اردگرد کے لوگوں کی طرف سے مسلسل فیصلہ کیے جانے تک یہ جوڑے بڑی ذہنی پریشانی سے گزرتے ہیں۔
لِیو اِن ریلیشن شِپ کا سب سے بڑا نقصان خاندانوں اور دوستوں کی طرف سے تعاون کی کمی بھی ہے۔ یہ جوڑے کو بہت زیادہ ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے اور بعض اوقات ان کے تعلقات کے تنزلی کا سبب بھی بنتا ہے۔ لِیو اِن ریلیشن شِپ کے معاملے میں ایک اور کنکشن جس کا ازالہ کیا جا سکتا ہے وہ ہے عزم کی کمی۔ کچھ جوڑوں کے لیے یہ ایک فائدہ مند صورت حال بھی ہو سکتی ہے لیکن اگر ساتھی اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر رہا تو یہ سب سے بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔
ایک سیاستدان اور اداکارہ نے اپنے سابق شوہر سے کافی وقت سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ایک بچے کو جنم دیا ہے جس کو لے کر وہ کافی سرخیوں میں رہی، ایک لمبے عرصے تک بچے کے والد کا نام بتانے سے پرہیز کیا گیا، اور بلآخر لِیو اِن ریلیشن شِپ میں رہنے والے شخص کا نام برتھ سرٹیفکیٹ پر آہی گیا۔ آخر ایسے رشتے کس کام کے جسے معاشرہ قبول ہی نہ کرتا ہو؟ اور دنیا کے سامنے ایسے رشتے بتانے میں شرمندگی و تکلفات کا سامنا کرنا پڑتا ہو؟
ایک زمانے میں مشہور غیر ملکی کرکٹر سے بغیر شادی کئے بیٹی کو جنم دینے والی اداکارہ خاتون کا اپنی متعلقہ بیٹی کو مشورہ دینا کہ ''شادی سے اچھا ہوگا، لِیو اِن ریلیشن شِپ میں رہو، اتنا پیسہ خرچ کرو شادی کرو شادی میں، پھر اتنی محنت بھی کرو، اتنا تام جھام کرو اور اس کے بعد آپ طلاق لے لو''۔
لِیو اِن ریلیشن شِپ میں رہنے والے جوڑوں کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے سے شادی کریں۔ اگر دونوں صرف شادی کرنے کے لیے تیار ہیں تو وہ اگلا قدم اٹھاتے ہیں اور ہندوستان میں سادہ شادی یا کورٹ میرج کر سکتے ہیں۔ لیکن مہینوں یا سالوں تک لِیو اِن ریلیشن شِپ میں رہنے کے بعد اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے شادی نہیں کر سکتے یا وہ ایک دوسرے کے لیے اچھے میچ نہیں ہیں، وہ ایک دوسرے کے لیے نیا پارٹنر تلاش کرنے کے لیے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اس طرح کے تعلقات میں کوئی سماجی ذمہ داری نہیں ہے۔ لہذا وہ اس کا غلط استعمال کر سکتا ہے اور شراکت داروں کو تبدیل کر سکتا ہے۔
لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ حالاتِ طلاق میں عورت کو تحفّظات، اخلاقی و سماجی ہمدردی حاصل ہوتی ہے۔ اس برعکس لِیو اِن ریلیشن شِپ میں عزت و آبرو دونوں محفوظ نہیں رہتی، نگاہ بد ہمیشہ ان کا پیچھا کرتی رہتی ہیں۔ لِیو اِن ریلیشن شِپ دراصل یہ بے حیائی و بے شرمی کا ایسا شیطانی عمل ہے، جس کے ذریعے صنف نازک کا سراسر استحصال ہی مقصود ہے۔
لِیو اِن ریلیشن شِپ کے ذریعے تعصب کی فضا:
نفرت کی فضاء پروان چڑھانے والا زر خرید میڈیا، جسے ہر مسئلہ میں اسلام ہی نظر آتا ہے، لیو اِن ریلیشن شِپ کے معاملے میں بھی کچھ اسی نوعیت کا کردار ادا کررہا ہے۔ ایک واقعہ کرناٹک کے بیلگام میں 28؍ ستمبر 2021ء کو ریلوے ٹریک سے ایک 24؍ سالہ سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کیا ہوا نوجوان ارباز آفتاب ملا کی مسخ شدہ لاش برآمد کی گئی، جو شہر میں کار ڈیلر تھا۔
نوجوان کی والدہ و اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسے بین مذہبی تعلقات کے سبب قتل کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں لڑکی کے والد، اس کے بھائی اور ہندو تنظیموں سے وابستہ لوگوں پر شک ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مگر اس معاملے کو فلش کردیا گیا؟ اس واقعے کو لوجہاد کے نام سے اس لئے نہیں گرمایا گیا کیونکہ ہلاک ہونا والا مسلم تھا۔ ہم ارباز کے طرف دار نہیں ہے، کیونکہ اس نے بھی جو کام کیا تھا اس کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
دہلی پولیس نے ایک نوجوان آفتاب امین پونا والا کو گرفتار کیا، جس نے اپنی لِیو اِن ریلیشن شِپ میں رہنے والی اپنی 26؍ سالہ معشوقہ شردھا کا 18؍ مئی 2022ء کو گلا گھونٹ قتل کرکے اس کی لاش کے 35؍ ٹکڑے کئے اور پھر 18؍ دنوں کے دوران ان ٹکڑوں کو شہر کے مختلف مقامات پر پھینک دیا۔ یہ انسانیت سوز اور دل دہلا دینے والا واقعہ دہلی کے مہرولی میں پیش آیا تھا۔ پولیس تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ آفتاب اور شردھا میں اکثر شادی کے معاملے پر جھگڑا رہتا تھا۔ یعنی ناجائز رشتہِ میں بندھنے کے بعد بھی اس رشتے پر اعتماد نہیں؟
تحقیق ہونی چاہئے آفتاب پونہ والا مسلمان بھی ہے یا نہیں، صرف نام مسلمانوں جیسا ہونے سے انسان تھوڑی مسلمان ہوتا ہے، جب اس کا عمل اس بات کا گواہ ہے کہ اسلام سے اس کا کچھ بھی تعلق نہیں۔ گناہ گار کا مذہب جو کچھ بھی ہو، اسے تعصب کی عینک لگا کر نہیں دیکھنا چاہئے۔ آفتاب پونہ والا کو سخت سے سخت سزا ہونی چاہئے وہ مسلم ہو، پارسی ہو، بوری ہو، یا سندھی ہو، کیونکہ اس ظالم نے انسانیت کا بھی قتل کیا ہے۔ اسے مذہبی رنگ نہیں دینا چاہئے۔ اس انسانیت سوز قتل عام کو لو جہاد کا نام دے کر ملک میں نفرت و عداوت کی فضاء پروان چڑھا کر عام عوام کو تختہ مشق بنانا، اس مظلوم بیٹی شردھا کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ظالم کو اس کے کیفر کردار تک پہنچانا امت مسلمہ کا فرض منصبی بھی ہے۔
آج کے دور میں بھی مرد کنواری عورتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ لہٰذا، خواتین کے لیے یہ مشکل ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ کچھ عرصے بعد غیر محفوظ محسوس کریں گے خاص طور پر لڑکیاں کیونکہ ان کے رشتے کا مستقبل غیر یقینی رہتا ہے۔ زیادہ تر وقت، لِیو اِن ریلیشن شِپ بزرگوں کی اجازت کے خلاف جاتی ہے۔ یہ آس پاس رہنے والے لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ بریک اپ کی صورت میں، رشتے سے باہر آنا بہت مشکل ہو جائے گا اور اس وجہ سے، ڈپریشن کا باعث بن سکتا ہے۔
اللّٰہ نے نکاح کو آسان بنایا ہے اور تمام خرافات و نقصانات سے محفوظ بنایا ہے، جو لِیو اِن ریلیشن شِپ میں پائی جاتی ہے۔ شرعی نکاح کا کیا حکم ہے؟ طلاق ابغض المباحات کیوں ہے؟ طلاق کا مسنون طریقہ، طلاقِ رجعی، طلاقِ بائن اور طلاقِ مغلظہ کیا ہے؟ یہ تمام باتوں کا لازمی علم ہر مسلمان کو ضرور حاصل کرنا چاہئے۔ طلاق کی صورت حال کے ضمن میں رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا کہ جائز ہے، آخری درجہ کی چیز ہے، بڑی مجبوری کی چیز ہے جو حرام چیزوں سے اور زندگی کو تلخ بننے سے بچانے کے لئے بہت مجبوری سے دل پر پتھر رکھ کر اختیار کی جاتی ہے۔
جنسی بے راہ روی نے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ ایسے میں حیاء و ایمان کی حفاظت کے لئے والدین، بھائیوں، شوہروں اور بیٹوں کی ذمّہ داری ہے کہ جو چیز اسلامی غیرت کے خلاف ہو، اسے کسی بھی شکل میں برداشت نہ کریں، بلکہ اس کی اصلاح کے لیے فکر مند ہوں۔ حدیث میں آتا ہے، ''حیاء اور ایمان لازم و ملزوم ہیں، جب ایک جاتا ہے تو دوسرا بھی چلا جاتا ہے''۔
اسلام میں لائیو ان ریلیشن شپ کے تصور کو عام طور پر قبول نہیں کیا جاتا ہے کیونکہ یہ مذہب کی تعلیمات کے خلاف ہے، جو مباشرت تعلقات کے لیے مناسب فریم ورک کے طور پر شادی پر زور دیتا ہے۔ اسلام میں شادی کو ایک مقدس رشتہ اور خاندان اور معاشرے کی تعمیر کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ لہذا، شادی کے بغیر صحبت عام طور پر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ تاہم، مسلم دنیا کے افراد اور طبقوں کے درمیان تشریحات اور طرز عمل مختلف ہو سکتے ہیں۔
اللّٰہ ربّ العالمین! ہمیں صحیح معنوں میں تمام اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو شیطانی دَجَّالی تہذیب کے زہریلے اثرات سے محفوظ فرمائے اور آخرت میں حضور اکرمﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ (آمین)
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہوگا
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(18.11.2022)
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
🏠 ال افشان، 7/4، شیلیش نگر، ممبرا،
تھانہ- 400612، مہاراشٹر، الہند۔
📧masood.media4040@gmail.com
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment